کھلے پنجرے کا قیدی



آدم شیر


30 May, 2018 | Total Views: 81

یہ موت کا گولا ہے یا پنجرہ ، ایک بہت بڑا پنجرہ، مَیں نہیں جانتا۔ ایک بار مجھے محسوس ہوا کہ یہ موت کا گول گول بڑا گولا ہے جس میں مَیں موٹرسائیکل چلا رہا ہوں۔ کبھی گھڑی کی سوئی کی طرح دائیں سے بائیں گھوم رہا ہوں اور کبھی موٹرسائیکل کو آڑھا ترچھا بھگا رہا ہوں۔ یوں اوپر نیچے موٹرسائیکل چلاتے ، دائیں بائیں گھومتے میرا دماغ گھوم جاتا ہے ۔ میں اِس گھن چکر سے نکلنا چاہتا ہوں مگر سرکس کا مالک کہتا ہے ، ’’اپنا شو پورا کرو۔‘‘ 
جب مجھے یہ پنجرہ لگتا ہے تب مَیں اِس کی سلاخیں دیکھتا ہوں۔ اِس میں سلاخیں صرف حصار بنانے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوئیں بلکہ پنجرے کے اندر بھی کئی سلاخیں ہیں، جنہوں نے مختلف خانے بنا رکھے ہیں۔ یہ صنعتی امیروں کا خانہ ہے۔ وہ بڑے بڑے تاجروں کا خانہ ہے۔ اِس میں سرکار کے کماؤ پوت رہتے ہیں۔ اُس میں سرکار خود رہتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی مَیں کہاں رہوں؟ میرے لیے جو خانہ بنایا گیا، یہ رہنے کے لائق نہیں۔ اِس کی سلاخیں گول گول پائپ والی نہیں ، چپٹی ہیں اور دونوں طرف تلوار کی سی دھار ہے۔ ان کو پکڑ کر ہلانا چاہوں تو ہاتھ زخمی ہو جائیں۔ ایک خانے سے دوسرے میں جانے کی کوشش کروں تو جسم کا کوئی حصہ سلاخوں سے گھائل ہو جائے ۔ زخمی ہوا تو ہسپتال جانا پڑے گا۔ ہسپتال میں بھی کئی خانے ہوتے ہیں۔ ایک خانہ اشرافیہ کے لیے ہوتا ہے اور دوسرے کے باہر لمبی قطاریں ہوتی ہیں جیسے لنگر تقسیم ہو رہا ہو۔ میں اِن قطاروں میں لگ گیا تو موت کے گولے میں موٹرسائیکل کون چلائے گا؟ یہ سوال بڑا بے تکا ہے۔ 
اکثر سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی تک نہیں بنتا جیسے مجھے ہسپتال سے ڈر لگتا ہے۔ شفاخانہ نہ ہوا قید خانہ ہو گیا، بھئی ،ڈر لگتا ہے۔ ابھی چند مہینے پہلے میں نے پنجرے سے باہر جھانک کر دیکھا تو ٹی وی چل رہا تھا ۔ پتلے خشک ہونٹوں پر سرخی کا لیپ کیے، گندمی رنگ کو گورا کرنے کے لیے کئی طرح کے پاؤڈر ملے ہوئے کالی لمبی پلکوں والی حسینہ خبر دے رہی تھی۔ بات کچھ یوں تھی کہ بہاولنگر کے سرکاری ہسپتال میں چاند کا چکر پورا ہونے سے پہلے پہلے سو سے اوپر بچوں کی زندگی پوری ہو گئی اورکوئی ذمہ دار نہ ٹھہرا۔ خیر اس خبر نے مجھے کچھ خاص نہیں چونکایا ۔ مجھے کیا، اور کسی کو بھی جھٹکا نہیں لگا۔ میں جس پنجرے میں رہتا ہوں، یہاں لوگ مرتے رہتے ہیں۔ 
اور ایک خبر، جس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے ، یہ تھی کہ وہاڑی کے سرکاری ہسپتال میں کسی ڈاکٹر نے غلط ٹیکا لگا دیا اور مریض مر گیامگر ڈاکٹر پر مقدمہ ہو گیا۔ دوسرے ڈاکٹروں نے مقدمے کو ظلم قرار دیا اور کام چھوڑ کر بیٹھ گئے جیسے کلرک قلم چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بہاولنگر کے ہسپتال میں دوا نے اثر کیا نہ دعا صحیح مقام پر پہنچی لیکن وہاڑی میں تو دہائی پر دہائی بھی کام نہ کر سکی۔ ڈاکٹروں کے منہ میں یوں انگلیاں داب کر ہسپتال کے باہر بیٹھ جانے سے تین بچے ہسپتال کے اندر مر گئے۔ اِس خبر پر کسی اور کو کچھ ہوا ہو یا نہ ہو، مجھے تھوڑا افسوس ہوا۔۔۔ صرف افسوس۔ اپنے دُکھ اتنے زیادہ ہیں کہ کسی اور کے لیے دُکھی ہونے کی ہمت کہاں بچی تھی۔ 
یہ تو ہوئیں دوسروں کی باتیں ، اب مَیں اپنی بات کرتا ہوں۔ ایک دن دفتر میں بے دلی سے کام کر رہا تھا۔ بے دلی سے اس لیے کہ چھوٹی عید پر تنخواہ ملی تھی اور چند دن بعد بڑی عید تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ تین چار مہینے پہلے ہی میری شادی ہوئی تھی۔ اب آپ خود ہی اندازہ کیجیے کہ میں ذہنی طور پر کہاں تھا اور میرا جسم کہاں۔۔۔ پنجرے میں یا موت کے گولے میں، جو بھی ہو ،دونوں ایک جیسے ہیں لیکن میرا دھیان ان دونوں سے بہت دور تھاکہ میرے موبائل فون پر پیغام کی اطلاع دینے والی مخصوص گھنٹی بجی۔ مَیں نے پتلون کی جیب سے موبائل فون نکالا اور بیگم کا پیغام پایا۔
’’آج ہم ہسپتال گئے تھے۔آپ گھر آئیں گے تو ایک خوشخبری دوں گی۔‘‘
میں خوشخبری کا راز جان گیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور پاؤں زمین سے اُٹھنے کو بے تاب ہوگئے لیکن میں نشست چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ مَیں دل لگا کر کام کرنے لگا کہ جلدی ختم ہو اور گھر جا سکوں۔ چند گھنٹے بعد دفتر سے نکلا۔ موٹرسائیکل کی گدی صاف کیے بغیر بیٹھا اور اتنی تیز بھگائی کہ مَیں موت کے گولے میں بھی نہیں بھگاتا۔ گھر کے باہر پہنچ کر زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ گھنٹی بجانا بھول ہی گیا۔ بیگم نے دروازہ کھولا۔ اُس کی چہرے پر خوشی ناچ رہی تھی جسے میں اپنے دل میں بجتے ساز کا نتیجہ سمجھا اور اُس کے پیچھے پیچھے اپنے کمرے میں آیا اور آتے ہی اُسے دبوچ لیا۔
ہمارے گھر میں بھوک نہیں ناچتی تھی لیکن خوشحالی کا رقص بھی نہیں دیکھا تھا۔ ہم بس ٹھیک تھے مگر بیگم کی خبر سے سب بدل گیا۔ میرے اندر یہ احساس گاجر کے جوس کی طرح خون بڑھانے لگا کہ میں مَیں نہیں رہا۔ میرا ایک اور وجود بن رہا ہے جو مجھ سے بہتر ہوگا۔ اُس کی آمد کے احساس نے قبل از وقت مجھے جکڑ لیا تھا اور اس قید سے زیادہ مسرت مجھے کبھی نہیں ملی تھی۔ 
دو مہینے اور دس دن میں اِس احساس سے دل کی دھرتی سیراب کرتا رہا۔ پھر پتا چلا کہ میری بیگم کے پیٹ میں کہیں شور گھس گیا ہے جس سے دھرتی بنجر ہونے لگی ہے۔ میں آدھی رات کو معائنہ کرانے ہسپتال گیا جس کی پرچی فیس ایک روپیہ تھی مگر اس کے پارکنگ سٹینڈ پر موٹرسائیکل کی فیس دس روپے تھی۔ استقبالیہ پر پرچی بنانے والے نے مجھے اس خانے کی طرف روانہ کیا جس کے باہر لکھا تھا۔
’’مردوں کا داخلہ منع ہے۔‘‘
میں نے بیگم اور اماں کو اُس خانے میں داخل کیا اور خود باہر انتظار کرنے لگا۔ دو منٹ بعد ہی دونوں باہر آ گئیں۔ ڈاکٹر نے مشینی معائنہ کرانے کی چٹ تھما دی تھی۔ ہسپتال کی لیبارٹری میں گئے تو معائنہ کرنے والی مشین خراب تھی۔ ڈاکٹرنے ایک اور خانے کی طرف ہمارا منہ کر کے اس زور سے دھکا دیاکہ ہم سیدھا دروازے پر رکے۔ مجھے پھر باہر روک دیا گیا۔ اب کی بار اماں کو بھی باہر رُکنا پڑا۔ بیگم تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں ایک رپورٹ لیے باہر آئی۔ اُس نے آتے ہی بتایا کہ اس خانے کی مشین بھی صحیح نہیں تھی، بس اندازے سے کام چلایا گیا ہے۔ 
ہم اندازے پر مبنی رپورٹ لے کر دوبارہ ڈاکٹر کے کمرے میں گئے تو پتا چلا وہ کہیں اور جا چکی ہے۔ ہم گھنٹہ بھر انتظار کے بعد گھر لوٹ آئے۔ دوسرے دن صبح صبح ہسپتال گئے۔ ایک بار پھر معائنہ کرانے کے لیے چٹ ملی۔ ٹیسٹ رپورٹ لانے کے بعد ڈاکٹر نے دوا لکھ دی اورسات دن کھانے کی ہدایت کی۔ایک گولی روزانہ صبح، دوپہر اور شام کو کھانی تھی اور دوسری گولی دن میں ایک مرتبہ نگلنا تھی۔
دوا لیتے ہوئے سات دن پورے نہیں ہوئے تھے کہ مرض پھیلتا معلوم دیا۔ چوتھے دن ڈاکٹرنی کے پاس گئے تو اُس نے کہا، ’’حالت جتنی بھی خراب ہو، دوا کھاتے جاؤ، سات دن کے بعد ہی معائنہ کروں گی۔ ‘‘ 
خدا خدا کر کے سات دن پورے ہوئے توہسپتال گئے۔ مخصوص خانے میں بیٹھی نرس نے ناک میں گھسیڑی انگلی نکال کر کہا، ’’ رات کو آئیں۔‘‘ رات کو گئے تو ڈاکٹر کی دوست ملنے آئی ہوئی تھی جسے آدھی رات کو بھی اپنے گھر چین نہیں تھا۔ ڈاکٹرنی پہلے اس سے گپیں ہانکتی رہیں اور پھر مزید گپیں ہانکنے کے لیے اس کے ساتھ ہو لی جبکہ ہم راہ تکتے رہ گئے۔
دوسرے روز رات کو ہسپتال گئے تو لیڈی ڈاکٹر نے پھر چٹ لکھ دی۔ معائنہ کرانے گئے تو پہلے سے خراب مشین اور زیادہ خراب ہو گئی تھی ۔ لیبارٹری والے نے صبح آنے کو کہا۔ صبح پہنچے تو مشین میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ہسپتال کے باہر ایک لیبارٹری سے معائنہ کرایا۔ ڈاکٹر کے پاس گئے تو اس نے رپورٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس زور سے اڑی کہ جیسے رپورٹ نہ ہو ، رشتہ کا پیغام ہو۔
ہم نے ایک سفارشی ڈھونڈا جس کے کہنے پر ڈاکٹر نے دوبارہ چٹ لکھ کر دی۔ سفارشی ہمارے ساتھ ہسپتال کی لیبارٹری میں گیا تو مشین خود بخود چل پڑی۔ معائنہ کرانے کے بعد رپورٹ لا کر ڈاکٹر کو دی۔ اس نے پرانی دوا کھانے کی ہدایت کرتے ہوئے پھر سات دن کے بعد آنے کو کہا۔ 
اس بار سات دن پورے ہوئے تو عجب بات ہوئی۔ آٹھویں دن ہسپتال گئے تو یہاں بھی ہڑتال چل رہی تھی۔ میں نے جیب ٹٹولی جس میں بتیس سو پچیس روپے موجود تھے۔ میں بیگم کو پرائیویٹ ہسپتال لے گیا۔ وہاں جا کر میری جیب خالی ہو گئی۔ نویں دن میرے پاس اس ہسپتال جانے کے پیسے نہیں تھے اور سرکاری ہسپتال میں ہڑتال ختم نہیں ہوئی تھی۔ دسویں دن سرکاری ہسپتال گئے تو میری بیگم لیڈی ڈاکٹر سے ملنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کی لیڈی ڈاکٹر سے تفصیلی بات چیت تین منٹ پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد معائنہ ہوا تو پتا چلا کہ کچھ باقی نہیں رہا۔ وہ ،جس نے میرے خواب پورے کرنے تھے، آنے سے پہلے ہی رخصت ہو گیا تھا۔ اُس کے یوں چلے جانے سے میں اور میری بیوی ایک دوسرے سے آنکھیں چرانے لگے۔ دو تین مہینے ہم ایک دوسرے سے منہ موڑ کر سوتے رہے۔ اس کے بعد وہ ہر رات میرا کندھا ہلا کر فرمائش کرتی۔
’’منہ میری طرف کریں۔‘‘
پھر ہم نے دوبارہ دو سے تین بننے کی کوشش کی جو یہاں آنے تک جاری تھی۔اب ملا جواب کہ مجھے ہسپتال سے کیوں ڈر لگتا ہے؟ ‘‘ کافی دیر سے لگاتار بولتے ہوئے راشد نے میز کی دوسری طرف کرسی پر بیٹھے ڈاکٹر حشام سے یوں کہا جیسے چھٹی جماعت کا بچہ ریاضی کا سوال حل کر کے اپنے باپ سے ذہانت پر داد کا طالب ہو۔ وہ زیادہ تر چپ رہتا تھا لیکن جب بولنے پر آتا تو زبان نہ رکتی جیسے اب قینچی کی طرح چل رہی تھی۔ 
’’ہاں۔ لیکن تم اب پھر ایک ہسپتال میں ہو۔‘‘ ڈاکٹر حشام نے اپنا چشمہ آنکھوں سے اتار کر میز پر رکھتے ہوئے جواب دیا جس پر راشد نے آنکھوں پر زور دے کر ڈاکٹر حشام کو یوں دیکھا کہ اُس کی آنکھیں تھوڑی تھوڑی میچ گئی تھیں۔ وہ کچھ دیر یونہی دیکھتا رہا ۔پھر پلکیں اوپر اٹھا کر بولا۔
’’ہاں۔ لیکن میں یہاں خود تو نہیں آیا، بھیجا گیا ہوں۔ ویسے بھی یہ ہسپتال نہیں۔ پاگل خانہ ہے۔‘‘ 
’’
پاگل خانہ بھی ہسپتال ہی ہوتا ہے۔ تم اپنی بیوی سے اتنی مار پیٹ نہ کرتے تو تمہیں یہاں نہ آنا پڑتا۔‘‘
’’
ہاں۔۔۔‘‘ راشد نے میز پر ناخن زور سے رگڑتے ہوئے اپنی پریشانیاں صاف کرنے کی کوشش کی۔ وہ ایک معمولی اخبار نویس ہوا کرتا تھا۔ ایک ماہر منشی کی طرح رات گئے تک خبروں کا حساب کتاب کیا کرتا۔ ہر چھوٹے آدمی کی خبر بڑی بنانے کی کوشش کرتا اور ایک دن خود خبر بن گیا۔ اُس نے اپنی بیوی کی اچھی خاصی چھترول کر دی تھی جسے ہسپتال داخل کرانا پڑاجہاں وہ کئی دن رہی ۔ جب وہ ہسپتال سے نکلی تب راشد کو اندر جانا پڑ گیا۔ اب اسے یہاں رہتے ہوئے تین مہینے ہونے کو تھے اور ڈاکٹر حشام اسے چھٹی دینے کے لیے ذہنی حالت جانچ رہا تھا۔ 
’’تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم نے اپنی بیوی کو کیوں مارنا شروع کیا؟‘‘
’’
پتا نہیں۔ شاید بچہ ضائع ہونے کی وجہ سے ۔‘‘راشد کی آواز کہیں دور سے آئی۔ 
’’تمہیں تھا کہ یہ اُس کی غلطی نہیں ؟‘‘ڈاکٹر حشام نے فٹ پوچھا۔
’’میرے دماغ کے کسی خانے میں اس کی صحیح وجہ موجود نہیں۔ کسی کا غصہ کسی پر نکل گیا۔‘‘ راشد نے میز پر ٹھوڑی ٹکاتے اور بانہیں پھیلاتے ہوئے جواب دیا تو ڈاکٹر حشام پل بھر کے لیے چونک گیا۔پھر اُس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے پوچھا۔
’’اچھا تمہارے دماغ کے خانے سے یاد آیا ، تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم کئی خانوں والے بڑے پنجرے میں ہو؟‘‘ ڈاکٹر حشام نے چشمہ میز سے اٹھا کر شیشے صاف کرنا شروع کر دیے۔ 
’’اس سوال کا جواب میں لکھ کر دینا چاہوں گا۔ مجھے کاغذ پنسل دو۔ کل جواب مل جائے گا۔‘‘ 
’’
تمہیں پنسل نہیں مل سکتی۔تم خود کو یا کسی اور کو نقصان پہنچا سکتے ہو۔ ‘‘ ڈاکٹر حشام نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔
’’اچھا تو یہ بات ہے۔ پھر ایسا کرو، ابھی کاغذ پنسل دو۔ تمہارے سامنے سب کچھ لکھ دوں گا۔ ‘‘ راشد کی اس سوچ پر ڈاکٹر کا قہقہہ لگانے کو جی چاہا لیکن کچھ سوچ کر مسکراہٹ تک محدود رہا اور اپنی جیب سے پین اور فائل سے کاغذ نکال کر راشد کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ راشد نے فوراً پین پکڑا ، اس کا منہ دیکھا جس میں ایک چھوٹی سے گیند تھی جو گھوم گھوم کر پیچھے سے پلاسٹک کے باریک پائپ سے سیاہی خود پر لپیٹ کر کاغذ پر منتقل کرتی ہے۔ راشد نے پین کو جھٹکا دیا اور کاغذ پر جھک کر لکھنے لگا۔ ڈاکٹر حشام اُسے تجسس بھری نگاہوں سے قلم گھساتے دیکھتا رہا راشد نے چند منٹوں میں صفحہ بھر دیا اور کاغذ کا رخ تبدیل کر کے حاشیے کے لیے بچی جگہ بھی پر کر دی۔ پھر اُس نے کاغذ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور اِس عمل کے بعد کاغذ میز پر رکھا، اُس کے اوپر پین رکھا اور دونوں کو ڈاکٹر کی طرف کھسکا دیا۔ ڈاکٹر نے جب پین پکڑ کر جیب میں لگایا تو راشد چھت کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں تازہ پھری سفیدی پر اناڑی ہاتھوں کے نشان دِکھ آ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے ایک نظر اُسے دیکھا اور جواب پڑھنے لگا۔
’’میں پنجرے میں ہوں۔ میں پنجرے میں کیوں ہوں؟ یہ سوال زیادہ اہم ہے لیکن یہ آپ کی سوچ سے اوپر کی بات ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ مجھے کیوں لگتا ہے میں ایک اتنے بڑے پنجرے میں ہوں جس کی کوئی حد نہیں۔ میں گھر سے نکلتا ہوں۔ موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے دو کلومیٹر بعد کوئی پولیس والا مجھے میری حفاظت کے نام پر روک لیتا ہے۔ طرح طرح کے سوال کرتا ہے۔ کاغذ دیکھتا ہے۔ پھر کمیٹی کھانے والی عورتوں کی طرح دو چار باتیں کرتا ہے ۔ یہاں سے دو تین کلومیٹر بعد پھر کوئی پولیس والا مجھے روک لیتا ہے۔ اگر کوئی پولیس والا مجھے میری حفاظت کے نام پر نہ روکے تو کہیں نہ کہیں کسی بڑے آدمی کی سواری کے نام پر سڑک بند ہوتی ہے۔ یوں سڑک میرے لیے پنجرہ بن جاتی ہے۔ میری بیوی گھر سے باہر نکلتی ہے تو حریص نگاہیں اسے قید کر لیتی ہیں۔ میں سرکاری ملازم نہیں ۔ چھوٹے چھوٹے اداروں میں نوکری کرتا رہا ہوں جہاں مجھ سے گدھے کی طرح کام لیا جاتا تھا جیسے میں کارکن نہیں، محض غلام ہوں۔ گھر واپس آتے ہوئے راستہ بھٹک کر فوج کی بنائی رہائشی کالونی میں گھس جاؤں تو لگتا ہے میں کسی اور ملک میں آ گیا ہوں۔ میں یہاں سے نکلنے کے لیے بے چین ہو جاتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں پنجرے کے ایسے خانے میں داخل ہو گیا ہوں جہاں میرا داخلہ ممنوع ہے۔ شارٹ کٹ کے چکر میں بیورو کریٹ کالونی کی راہ لوں تو ڈرتا ہوں کہ کوئی پوچھ نہ لے، ’’ہاں بھئی تیری ہمت کیسے ہوئی ادھر آنے کی؟‘‘ میرا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے وہ لوگ قانون بناتے ہیں جن کے علاقوں میں گھسنا بھی میرے بس سے باہر ہے۔ تو کیا میں پنجرے میں نہیں؟ گھر میں طرح طرح کی ضروریات دروازہ کھولے میرے اندر آنے کا انتظار کرتی ہیں اور ان سے نمٹتے نمٹتے میری ہمت جواب دے جاتی ہے۔ میرا آزاد ہونے کو جی چاہتا ہے۔ باہر نکلتا ہوں تو عجب افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کا راستہ کاٹ رہا ہے ۔ کچل کر پنجرے سے نکلنا چاہتا ہے۔ کسی نے خود پر سامان تعیش کا خول چڑھا رکھا ہے اور کوئی خود کو کپڑوں میں بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ ہر چوک میں چار پانچ لوگ بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ان کا گھیرا میرے گرد ایسے ہوتا ہے کہ میں خود کو پنجرے میں مقید پاتا ہوں۔ مجھے ڈبل ایم اے کرنے کے باوجود سرکارکلرک تک نہیں رکھتی اور ایک میٹرک پاس شخص سوئی گیس کے محکمے کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے۔ ایسی ناانصافی تو صرف پنجرے میں ہی ہو سکتی ہے۔ جب میں کوئی سچی بات کہنا چاہتا ہوں تو مجھے روک دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی میری پٹائی کر دی جاتی ہے ۔ مَیں کچھ کہنے سے ڈرتا ہوں تو کیا مَیں پنجرے میں نہیں؟ میں کچھ پانے کی جستجو سے ڈرتا ہوں۔ مجھے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھونے کا خوف رہتا ہے اور جب مَیں اِس خوف کے علاج کے لیے جاتا ہوں تو حکم ملتا ہے ، ’’آج ملاقات کا وقت نہیں۔‘‘ تو کیا میں قید نہیں؟ میں ایسے پنجرے میں ہوں جس کا دروازہ کھلا ہے لیکن اس پر دو پہرے دار کھڑے ہیں۔ایک نے اکڑی ہوئی شلوار قمیص پہن رکھی اور ہر وقت مونچھوں کو تاؤ دیتا رہتا ہے۔ دوسرے نے بدیسی لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور ہاتھ میں ایک لمبی چھڑی ہے جس کے ایک کونے پر لگا بٹن دبائیں تو دوسرے کونے سے سٹیل کی تیز دھار والی چھری نکل آتی ہے۔ ‘‘
ڈاکٹر حشام نے تحریری جواب پڑھاتو اُس کے چہرے پر الجھن اچھل کود کرنے لگی جس سے ڈر کر اُس نے عینک اتار کر میز پر رکھ دی اور راشد کو دھندلائی ہوئی نظروں سے دیکھا جو اب تک چھت کی سفیدی تکے جا رہا تھا۔ ڈاکٹر نے اپنی ٹھوڑی پکڑ کر چند لمحے راشد کا اوپر کو اٹھا ہوا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی۔ پھر میز پر رکھی فائل کھول کر اس میں کچھ لکھا اور کمرے سے نکل گیا۔ ڈاکٹر کے یوں چپ چاپ چلے جانے سے لاتعلق بیٹھا راشد چھت کی سفیدی تکتا رہ گیا جس پر اناڑی ہاتھوں کے نشان اور واضح ہو چکے تھے۔ 
چھ اکتوبر دو ہزار چودہ 
مطبوعہ چہار سو راولپنڈی

Comment Form



اردو فکشن

© 2018 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.