انا کو آنے دو



احمد صغیر


02 May, 2018 | Total Views: 262

سارا گاؤں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ گھروں سے اُٹھتے شعلے اب دھواں بن چکے تھے۔ گلیاں ویران تھیں‘ لوگ اپنے اپنے گھروں میں یوں چھپے بیٹھے تھے جیسے مرغیاں دربوں میں دبکی رہتی ہیں۔ آسمان کاکنارہ تک سیاہ مائل ہو چکا تھا اور ہر طرف خاموشی کی طویل چادر بچھی ہوئی تھی۔ پولس جیپ کی گڑگڑاہٹ ‘ سائرن اور سرچ لائٹ کی روشنی سے چند لمحوں میں سارا گاؤں روشن ہو گیا۔ پولس‘ گواہی اور ثبوت اکٹھا کرنے لگ گئی اور ایک بار پھر اَدھ جلے گھروں سے رونے اور چیخ و پکار کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔۔۔۔۔۔۔
بولنا سب ہی چاہتے تھے مگر خاموشی کی کیلیں سب کے ہونٹوں میں جیسے پیوست کر دی گئی تھیں۔ کتنے ہی نازک پھول مرجھا گئے تھے یا شاخ سے ٹوٹ کر بکھر گئے تھے‘ کتنوں کا تو آشیانہ ہی اُجڑ گیا تھا نہ پردہ‘ نہ رسّی‘ نہ طنابیں ......... کھلے آسمان کے نیچے کتنے ہی لوگ آچکے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھُلمتیا کے ذہن میں بہت سارے سوالات گونجتے رہے۔ وہ کھاٹ پر چپ لیٹی تھی۔ پھول سی اَدھ جلی بچی اُس کے بغل میں سوئی تھی جس کے زخم پر چند گھنٹہ قبل مرہم لگایا گیا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کبھی کبھی پھُلمتیا کو محسوس ہوتا کہ واقعی جینا بہت مشکل ہے۔ ایک ہی رات میں کیا سے کیا ہو گیا؟  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  
لیکن یہ کوئی ایک دن کا واقعہ تو تھا نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پھُلمتیا جلے ہوئے مکان کی طرف دیکھتی ہے۔ اُس پر کوئی تصویر موجود نہیں۔ تمام تصویریں خاکستر ہو چکی تھیں۔ فقط اُن کے نقوش باقی تھے۔ببنّا‘ رمنوا‘ دُکھیا‘ ہریا اور سُمنیا‘ گھر کے کتنے ہی افراد مارے گئے تھے اور یہ صرف ایک گھر کی بات نہیں تھی۔ کتنے ہی گھروں کے افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ پھُلمتیا تو گن بھی نہیں پائی تھی۔ کہتے ہیں پولس نے بہت سی لاشیں ہی غائب کر دیں۔
اُس نے دیکھا دم کٹا کتا پھر بھونک رہا تھا‘ ایک ہفتہ سے لگاتار وہ بھونک رہا تھا‘ اب اور کون سا حادثہ باقی ہے؟  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس نے سوچا۔ اب وہ اکیلی تھی ایک دم اکیلی۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ اور اُس پھیلے اندھیرے کا وہ ایک حصہ بنی ہوئی تھی۔ دل دھڑک رہا تھا‘ دھڑکے جا رہا تھا۔ ابھی تک خوف سے اُس کا بدن کانپ رہا تھا‘ کہیں اندھیرے میں وہ راستہ نہ بھول جائے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ؟
اس گاؤں سے اُٹھتی آگ کی لپٹوں کو آس پاس کے گاؤں والوں نے بھی دیکھا مگر ایک انجانی دہشت تھی کہ پورے علاقہ کے لوگوں کے دلوں کو دھڑکائے جا رہی تھی اور اس دہشت زدہ ماحول میں لوگوں کی نگاہیں خودبخود انّا کو تلاش کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مگر اسے تو اقتدار کے ذخیرہ اندوزوں نے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا تھا!
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھُلمتیا کو اچھی طرح یاد تھا کہ انّا کے آنے سے گاؤں والوں کی خود اعتمادی دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی وہ جہاں تہاں لوگوں کو جمع کرکے کہتا رہتا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’ساتھیو!
کب تک چپ چاپ ظلم سہتے رہوگے۔ دیکھو اپنے اپنے ویران گھروں کو‘ اپنے پریواروں کی چتاؤں سے چٹختی ہوئی چنگاریوں کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنسو انسان کو کمزور اور بزدل بنا دیتے ہیں۔ یہ ظلم غریبوں پر آج نہیں صدیوں سے ہوتے آرہے ہیں۔ ہرطرح سے شکار صرف غریب ہی ہوئے ہیں لیکن ہم اسی طرح ظلم سہتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ ساتھیو‘ آؤ میرا ساتھ دو‘ میں تمہیں راستہ دکھاتا ہوں پھر دیکھو کس طرح تمہاری یہ بظاہر اپاہج زندگی اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی ہے اور تم محض ایک رینگتے کیڑے نہ رہ کر ایک مکمل وجود بن جاؤ گے اور یہ وجود ہر طرح سے محسوس کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ‘‘
اور اناّ گاؤں کا ہر دلعزیز ساتھی بنتا چلا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نئی نئی باتیں ظہور میں آنے لگیں۔ اناّ سارا سارا دن گاؤں گاؤں پھرتا رہتا۔ اُس کا دماغ ہمیشہ نئی نئی باتیں سوچتا رہتا۔ پاؤں کی گردش بدستور جاری رہتی‘ معمولی معمولی بات پر وہ طوفان برپا کر دیتا جس کے باعث دوسرے لوگوں میں بھی احتجاج کی قوت بڑھ گئی تھی۔ بے چینی‘ قلبی بے چینی سلک اٹھی تھی‘ نہ جانے کب کہاں اناّ آ پہنچے اور .........‘
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  شام ہونے کو آئی تھی‘ دھوپ نڈھال سی آنگن سے رخصت ہو رہی تھی‘ جیسے ہی پھلمتیا نے گھر میں قدم رکھا اناّ کو چارپائی پر بیٹھاپایا۔ وہ حیرت زدہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ اُس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اناّ اور اُس کے گھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
’’آج ہم رات یہیں گزاریں گے‘ صبح ایک مہم پر جانا ہے۔باقی ساتھی پیچھے سے آ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘‘ اناّ نے اُسے اطلاع دی۔
پھُلمتیا بغیر کچھ کہے اندر چلی گئی تھی اور کھانے کا انتظام کرنے لگی تھی۔
آدھی رات تک وہ چھپّر پر نظریں جمائے سوچتی رہی۔ دور سے آے والی کسی بھیانک آندھی کا شور اُسے سنائی دیتا رہا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے دھندلے چاند کا دھندلا آسمان ڈوبتا اُبھرتا رہا۔ کس کس کی جان جائے گی۔ کتنے پرندے زخمی ہوں گے۔ اُس کے دل کی دھڑکنیں گھٹتی بڑھتی رہیں‘ وہ کھاٹ پر کروت بدلتی رہی۔ بالآخر وہ بے چینیوں کی کشاکش سے تھک کر چور ہو گئی اور رات کے کوئی تیسرے پہر نیند نے اُس کی بے قراری کو قرار دے ہی دیا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صبح نمودار ہوتے ہی وہ اُٹھ بیٹھی تھی اور جلدی سے اناّ کی کھاٹ تک پہنچی لیکن اناّ نہ جانے کس وقت چلا گیا تھا۔ وہ باہر آئی اور دور تک گاؤں سے باہر جانے کے راستہ کو تکتی رہی۔ اکاّ د کاّ لوگ آجا رہے تھے‘ بس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔‘ آج کیا ہونے والا تھا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ دیر تک اپنے آپ سے پوچھتی رہی اور جواب نہ پاکر مزید اُلجھتی رہی۔ سارا دن وہ گھر‘ صحن اور دہلیز کے چکر لگاتی رہی۔ اس کا دماغ سوچتے سوچتے تھک گیا۔ ذرا دیرٹھہر کر آرام بھی نہ کر پائی۔ گھر آنگن میں رہتے ہوئے بھی نہ جانے وہ کہاں کہاں بھٹکتی رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اناّ کی مہم کا کیا ہوا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اناّ کے بہت دشمن ہیں۔ سب کی نظروں سے اُسے بچنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمان کا کنارہ کتنا سرخ تھا۔ اسے محسوس ہوتا کہ لمحہ بھر میں آسمان سے خون کی بوندیں ٹپکنے لگیں گی۔ خون خون۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔  سارا منظر خون خون!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ 
دوپہر سے شام ہونے کو آئی۔ سرمئی اندھیرے کا وجود قریب آتا چلا گیا۔ سب آنے والی رات کو آنکھوں میں بسانے کے انتظام میں لگے تھے۔ پھُلمتیا صحن سے ہوتی ہوئی کمرہ میں داخل ہوئی۔ اُس نے چراغ روشن کر دیا۔ لمحہ بھر میں کمرہ روش ہو گیا تھا لیکن پھلمتیا کی آنکھوں میں نیند کی آہٹ تک نہیں تھی بس رہ رہ کر اُس کے ذہن میں ایک ہی نام ابھرتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1 اناّ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اناّ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ نام جو اب سارے گاؤں کی زبان پر تھا۔ پتہ نہیں وہ کہاں ہوگا؟
پچھلے ہی دنوں کی بات ہے۔ لکھیاؔ جو بابو صاحب کی حویلی میں برتن مانجھنے کا کام کرتی تھی حمل سے رہ گئی تھی۔ بہت پوچھے جانے پر اُس نے بابو صاحب کا نام بتا دیا۔ پھر کیا تھا۔ اناّ کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ گاؤں کی عزّت کی بات تھی۔ دو سو آدمیوں کے ساتھ بابو صاحب کی حویلی پر اُس نے دھاوا بول دیا اور حویلی کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عجیب آدمی ہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ سارا گاؤں اُس کا ہے اور وہ سارے گاؤں کا۔ وہ جو عہد کرتا ہے پورا کرتا ہے۔ کبھی وہ ایک جگہ نہیں ٹکتا۔ آج اس گاؤں میں تو کل دوسرے گاؤں میں۔ رات یہاں تو دن کہیں اور۔ اُس کے پیر میں گویا چرخی لگی ہوتی ے۔ ہنسی کبھی اس کے چہرے پر نمودار نہیں ہوئی‘ ہمیشہ تمتمایا ہوا چہرہ اور ساری دنیا کے نظام کو بدل دینے کا عزم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھاشن دیتا تو چہرہ کیسا سرخ ہو جاتا۔ وہ کیا کیا کہتا تھا ۔ سب بات تو پھُلمتیا کی سمجھ میں نہ آتی مگر کچھ جملے کہیں کہیں سے اُس کو یاد تھے۔ ایک مرتبہ اس نے کہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
’’یہ ساری ویوستھا سڑی گلی ہے‘ جس محکمے میں جائیے وہاں رشوت اور بھرشٹاچار پنپ رہا ہے۔ہر کوئی ہاتھ میں بھیک کا پیالہ لئے بیٹھا ہے اور ہم لوگ بھی اس کے پیالے میں کچھ نہ کچھ ڈالنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ہمیں یہ عادت بدلنی پڑے گی۔‘‘
تقریر ختم ہو گئی۔ چند جوشیلے نوجوانوں نے اناّ کو گود میں اُٹھا لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کامریڈ ’’اناّ کولال سلام......... لال سلام لال سلام!‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بڑا جوشیلا اور بدن میں خون کی رفتار کو تیز کر دینے والا منظر تھا۔ پھُلمتیا مجمع سے کنارے کھڑی سوچ رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔آج کسی آفیسر کی ضرور شامت آنے والی ہے .........
یہ آئے دن کا معمول تھا۔ جب کسی کے خلاف احتجاج کرنا ہوتا‘ وہ لوگوں کو جمع کرتا‘ جوشیلے بھاشن دیتا اور احتجاجی طریقے پر عمل کر بیٹھتا۔
کارو مستری کے پریوار کو بے دردی سے مار دیا گیا تھا۔ اس کا قصور بس یہی تھا کہ اس نے مکھیا کے خلاف کورٹ میں گواہی دی تھی۔ سچ بولنے کی اتنی بڑی سزا؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک سچ کے عوض پانچ پانچ لوگوں کی جانیں!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور دوسری صبح اناّ مہم پر نکلا تھا اور مکھیا کے ظالم ہاتھوں کا وجود ختم ہو گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ کیا اکیلا اناّ ساری دنیا سے لڑ پائے گا؟ دفعتاً اُس کا ذہن انّا پر آکر ٹھہر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب کیا ہوگا؟
اناّ کو ہر حادثہ کی خبر ہو جاتی ہے اور کسی نے اُس تک آج کے حادثہ کی خبر ضرور پہنچا دی ہوگی۔ اناّ پر کیا گزر رہی ہوگی یہ وہ اچھی طرح سمجھ رہی ہے۔ اگر وہ جیل میں نہ ہوتا تو کب کا یہاں پہنچ چکا ہوتا اور جن عدالت لگا کر کوئی نہ کوئی فیصلہ لے چکا ہوتا اور پھر کسی بڑے کانڈ کی خبر قومی اخباروں کی موٹی موٹی سرخیاں بن جاتیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ بہاؤ کہاں جا کر تھمے گا؟
کیا اکیلا اناّ اس نظام کو بدل دے گا یا ہر گھر میں ایک اناّ کا وجود اب لازمی ہے؟ ہر گاؤں ہر قصبے اور ہر گھر میں اناّ کی ضرورت ہے جو موجودہ نظام کو بدلنے میں معاون ہو سکے لیکن اس قدر اناّ آئے گا کہاں سے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ برسوں میں صرف ایک اناّ پیدا ہوتا ہے اور بس ایک دن میں اُسے ختم کر دیا جاتا ہے یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تو کیا ہر ماں کوایک اناّ.........؟
پھُلمتیا یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ دھیرے دھیرے واپس جاتی جیپ پر بیٹھے دو شخص جلے مکانات کو تمسخر سے دیکھتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
’’بڑے نکسلائٹ بنتے ہیں سالے‘ ایک ہی رات میں ٹھنڈے پڑ گئے!‘‘ 
پھُلمتیا اچانک سلگ اٹھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی او چلّا کر بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
’’اناّ کو آنے دو سالو‘ پتہ چل جائے گا!‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھُلمتیا کی آواز ٹھنڈا کرنے والوں تک پہنچی یا نہیں لیکن وقت کے گنبد میں اُس کی آواز دیر تک گونجتی رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اناّ کو آنے دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
اناّ کو آنے دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!
ll

Comment Form



اردو فکشن

© 2018 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.