شوکت حیات



14 Apr, 2017 | Total Views: 398


شوکت حیات


محمد غالب نشتر

شوکت حیات سے مکالمہ

ستّر کی دہائی میں جن افسانہ نگاروں نے اپنی شناخت قائم کی اور افسانے میں بیش بہا اضافے کیے اُن میں شوکت حیات کا نام نمایاں ہے۔آپ نے کئی لا زوال افسانے تخلیق کیے جن میں بکسوں سے دبا آدمی،گھونسلا،گنبد کے کبوتر،سرخ اپارٹمنٹ،رانی باغ،پاؤں،ڈھلان پر رُکے ہوے قدم،چیخیں وغیرہ کے نام خصوصی طور پر لیے جا سکتے ہیں۔افسانوں کے علاوہ آپ نے ہم عصر افسانہ نگاروں کے حوالے سے کئی اچھے مضامین بھی تحریر کیے۔مثلاً سَن ستری اور نامیاتی افسانے:انحراف و تسلسل ، نامیاتیت اور نامیاتی افسانے ، امکانیت پسندی وغیرہ اسی ضمن کے مضامین ہیں۔ان مضامین میں انہوں نے ہم عصر افسانہ نگاروں کے حوالے سے اس بات پر اصرار کیا کہ ’’میں اور میرے ہم عصر افسانہ نگار انا میت پسند ہیں اور وہی افسانہ عصری و آفاقی ہے جو عصریت و آفاقیت کے امتزاج ،انجذاب اور وفاق سے سرشار ہو کر افسانے کی توانائی میں افسانے کا سبب بنتے ہیں‘‘۔
۲۰۱۰ء کے اوائل میں آپ کا افسانوی مجموعہ ’’گنبد کے کبوتر ‘‘کے نام سے ایجوکیشنل بک ہاؤس ،نئی دہلی نے شائع کیا۔یہ انٹرویو بھی مارچ ۲۰۱۰ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔  آپ نے کس طرح کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اور اس ماحول کا کتنا اثر قبول کیا ؟
شوکت حیات ۔۔۔۔۔  میری پیدائش یکم دسمبر ۱۹۵۰ء کو صدر گلی ،پٹنہ سٹی میں ہوئی۔میں نے جس گھر میں آنکھیں کھولیں،اُس گھر کا ماحول مذہبی تھا۔میرے دادا مناظر احسن گیلانی پڑھے لکھے اور قابل آدمی تھے ۔اُن کی علمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے Constitution بنا تے ہوئے اُن کو بھی مدعو کیا تھا۔دادا کے علاوہ والد صاحب کو بھی کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔اُن کی ایک ذاتی لائبریری بھی تھی جس میں کتابوں کی بھر مار تھی۔والد صاحب اپنے ساتھ بچوں کے ذوق کا بھی خیال رکھتے اور اُن کے لیے کہانیوں کی کتابیں اور ماہ نامے پابندی سے منگواتے۔نیرنگِ خیال،عالم گیر ،کھلونا،شمع،بیس ویں صدی ،ماہِ نو اور آج کل وغیرہ وہ رسائل ہیں جو والد صاحب کی لائبریری کی زینت تھیں۔والد صاحب کی اُسَ منی لائبریری سے مجھے بھی مستفید ہونے کا موقع ملا ۔ پڑھائی کی جانب اوربہ طورِ خاص اردو ادب سے رغبت پیدا ہوئی اور لکھنے کی طرف میرا رجحان یوں ہوا کہ پٹنہ سے دلی کے سفر کے دوران والد صاحب نے ایک ڈائری دی اور پورے سفر کی روداد لکھنے کو کہاجسے لکھنے کے بعد میرے اندر کہانیاں لکھنے کا شوق جاگا،سو مَیں نے افسانہ نگاری کی ابتدا کر دی۔ایک خاص بات اور یہ ہے کہ جب والد صاحب کا تبا دلہ دوسرے شہر میں ہوا تو ایک پریشانی یہ آن پڑی کہ لائبریری کو کس طرح منتقل کیا جاے۔آخر یہ طے ہوا کہ والدہ کے نام ایک لائبریری قایم کی جائے لہٰذا والد صاحب نے ’’قمر النسا لا ئبریری‘‘کے نام سے ایک کتب خانہ قایم کیا اور تمام کتابیں وہیں منتقل کر دیں تاکہ اردو ادب کا فروغ ہوسکے اور نوجوان،بچے اور عورتیں اُن کتابوں سے مستفید ہو سکیں۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔ وہ کون سی وجوہات تھیں جن کی بنا پر آپ افسانہ نویسی کا طرف راغب ہوے؟
شوکت حیات ۔۔۔۔۔ میرے والد ’’سید محفوظ الحق‘‘ کا انتقال میرے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔جس کی وجہ سے مجھے ایک خلا کااحساس ہوتا تھا اور ایک عجیب سی اداسی میرے ارد گرد چھائی رہتی تھی۔دِن میں تو اِس طرح کی بے چینی کم ہوتی لیکن جوں ہی آفتاب غروب ہونے کو ہوتا مَیں ڈپریشن کا شکار ہونے لگتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ میری زندگی کا تانا بانا بس یوں ہی چلتا رہے گا۔ان تمام وجوہات کی بنا پر میں نے آپ بیتی لکھنا شروع کیا جس سے افسانہ نگاری کی جانب راغب ہو ۔میں نے ابتدا میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں لیکن کچھ بزرگ افسانہ نگاروں نے یہ مشورہ دیا کہ ’’تمہارے اندر وہ خوبی موجود ہے جو ایک افسانہ نگار میں ہو تی ہے ‘‘۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تمہاری کہانیاں بچوں کے معیار سے بالا تر ہیں‘‘۔اُن بزرگ ادیبوں میں ظفر اوگانوی،سلطان اختر،ظہیر صدیقی وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔ آپ نے افسانہ نویسی کی ابتدا کب سے کی اور پہلا افسانہ کب شائع ہوا ؟
شوکت حیات : میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ڈائری لکھنے سے میرے اندر حرکت پیدا ہوئی اور مجھے طمانیت کا احساس ہونے لگا۔پھر میں نے سوچا کہ اگر انہی اوراق میں کچھ ترمیم کی گئی تو اس کی شکل افسانے کی سی ہو جاے گی،سو میں نے محنت و لگن سے افسانے لکھنے لگا۔میرا پہلا افسانہ ’’بکسوں سے دبا آدمی ‘‘،’’کتاب‘‘(لکھنؤ) سے ۱۹۷۰ء میں شایع ہواتو اگلے تین شمارے تک اس کی تعریف ہوتی رہی۔کسی معیاری رسالے میں پہلی کہانی کا چَھپنا میرے لیے مسرت کی بات تھی۔شمس الرحمن فاروقی،گوپی چند نارنگ،وہاب اشرفی،فضیل جعفری،مہدی جعفر اور نظام صدیقی وغیرہ نے مفید مشوروں سے نوازا۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔ عالمی ادب اور اردو ادب کے کن فن کاروں نے آپ کو متاثّر کیا ؟
شوکت حیات ۔۔۔۔۔ عالمی ادب میں کافکا،کامیو،چیخوف،موپاساں،ٹالسٹائی،دوستو فسکی اور خلیل جبران وغیرہ ایسے فن کا ر ہیں جن کی کہانیاں مَیں نے پڑھیں تو کچھ کے تراجم سے استفادہ کیا۔اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ عالمی ادب کے رجحانات سے واقفیت ہوئی۔اس کے علاوہ تکنیک سے بھی آگہی ہوئی۔اردو ادب میں منٹو اور بلراج مین را سے متا ثّر ہوا۔بلراج مین را نے تو ہماری حوصلہ افزائی بھی کی۔اِن دونوں سے متاثّر ہونے کے باوجود مَیں نے اپنے رنگ میں لکھنے کی کوشش کی۔کیوں کہ انسان کی اپنی شناخت خود سے ہوتی ہے۔اِن فن کاروں سے لکھنے کی ترغیب تو ملی البتہ مرعوب کبھی نہیں ہوا۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔ وہ کون سی پہلی کہانی تھی جو ناقدین اور قا رئین کے توجہ کا مرکز بنی ؟
شوکت حیات ۔۔۔۔۔ ۱۹۷۵ء میں ایک کہانی ’’بانگ ‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی جو ایمرجنسی اور فاشزم کے خلاف احتجاجی کہانی تھی۔چوں کہ میری کہانیاں ’’شب خون ‘‘ میں چھپتی تھیں لیکن جب میں نے یہ کہانی فاروقی صاحب کو بھیجی تو انہوں نے مصلحت کی بنا پر کہانی معذرت کے ساتھ واپس کردی۔اس کے بعد یہ کہانی ’’تناظر ‘‘دہلی میں شائع ہوئی۔کہانی شائع ہونے کے بعد مخالفت کی بھی شروعات ہوئی۔اسی مخالفت نے شہرت کی بھی کھڑکی بھی وا کردی۔اس کہانی کو کافی پسند کیا گیا۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس میں کہانی پن بھر پور موجود تھی جو کہ ستّر کی دہائی میں تقریباً ختم ہوچکی تھی ۔اس کہانی کے متعلق مہدی جعفر نے اس بات کا اظہار کیا کہ ’’بانگ ‘‘کہانی پن کی واپسی کا پیش خیمہ ہے۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔ آپ نے جس عہد میں لکھنے کی ابتدا کی وہ تجریدی افسانے کا دور تھا۔اس کے قبل ترقی پسندی کا چرچا تھا۔آپ نے دونوں تحریکوں سے انحراف کیا ۔اس کی کوئی وجہ ؟
شوکت حیات ۔۔۔۔۔ میرے عہد میں ’’شب خون‘‘ اور ’’آہنگ‘‘ دو ایسے رسالے تھے جنہوں نے جدیدیت کے فروغ کے لیے اور خاص طور سے تجریدی افسانوں کے لیے اپنے آپ کو مختص کر لیا تھا۔میرے افسانے اِن دونوں رسالوں میں چھپتے تھے۔شب خون میں میرے تجریدی افسانے چھپے جن میں سیاہ چادریں اور انسانی ڈھانچہ،وبا،لیٹر بکس کی تلاش،لا کے نام ایک خط،وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔اس ضمن میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر مہیب سنگھ نے جب ہندی میں ’’اردو کا آدھونک ساہتیہ‘‘کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تو اس میں ’’لا کے نام خط‘‘کا ہندی میں ترجمہ کرکے شامل کیا۔
میں نے ترقی پسندی اور جدیدیت کی ملی جلی تھیوری کو اختیار کیا۔کسی ایک تھیوری کے افسانے نہیں لکھے۔ایک فن کار کو ان تمام چیزوں سے ماورا ہو کر لکھنا چاہیے۔سو میں نے تجربے اور مشاہدے کی بنا پر نئے انداز کی کہانیاں لکھیں تو تھیوری کی سطح پر اس بات کا اعلان کیا کہ مَیں اور میری نسل جینیس افسانہ نگار نہ تو ترقی پسند ہیں اور نہ جدید۔وہ مابعد اور ہےئت و فکر کی سطح پر اِن دونوں سے الگ ہیں۔لہذا اُن کی الگ شناخت ہونی چاہیے۔اس شنا خت کو میں نے ’’انام نسل‘‘ اور ’’انامیت ‘‘ کا نام دیا۔ناقدوں اور دیگر حضرات سے مضمون لکھ کر گزارش کی کہ ہمیں ترقی پسند یا جدید افسانہ نگار کی حیثیت سے برانڈ نہ کریں بل کہ ہمیں نئی نسل کا فرد سمجھتے ہوے نئی شناخت کو تسلیم کریں۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔ بہار میں افسانہ نگاری کی موجودہ صورت حال پر آپ کس حد تک متفق ہیں ؟
شوکت حیات ۔۔۔۔۔ بہار میں افسانہ نگاری نے ابتدا ہی سے اردو ادب میں اپنی جڑیں جما رکھیں ہیں۔کرشن چندر اور منٹو کے زمانے میں سہیل عظیم آبادی ،اختر اورینوی،شکیلہ اختر جیسے جیّد افسانہ نگار تھے جو اُن کے ہم پلّہ تھے۔جوگندر پال اور اقبال مجید کے زمانے میں غیاث احمد گدی،ظفر اوگانوی،احمد یوسف اور کلام حیدری جیسے افسانہ نگار تھے۔میرے زمانے میں یعنی ۱۹۷۰ء کے بعد شفق،حسین الحق وغیرہ نے جس قومی سطح پر اپنی پہچان کرائی کہ نور الحسن نقوی کو اپنی کتاب ’’تاریخ ادب اردو ‘‘میں ہم لوگوں کا تذکرہ شامل کرنا پڑا۔ابھی تو بہار کو نہ صرف یہ کہ فکشن کا سب سے بڑا گڑھ مانتا ہوں بل کہ فکشن کی راج دھانی سے تعبیر کرتا ہوں۔ہمارے عہد کے بعد غضنفر،پیغام آفاقی، عبد الصمد،احمد صغیر،قاسم خورشید،صغیر رحمانی وغیرہ جس تیز رفتاری سے لکھ رہے ہیں اُس سے میرے اِس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ بہار اردو فکشن کی راج دھانی ہے۔

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.