10 Dec, 2016 | Total Views: 136

امجد جاوید

امجد جاوید

محمد زبر۔ مظہر پنوار

کوئی بھی تخلیق کار جب اپنی تخلیق کاری میں ، اپنی مٹّی کی مہک شامل کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اپنی دھرتی سے محبت کا بیّن ثبوت ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ اپنی دھرتی پر مضبوطی سے کھڑا ہو کر تخیل کے آسمان وزمین کی وسعتوں میں جھا نک رہا ہے اور اپنے مرکز سے جڑاہوا ہے۔امجد جاوید ایک ایسے ہی تخلیق کار ہیں ۔انہیں اپنے چولستانی ہو نے پر نہ صرف فخر ہے بلکہ وہ اپنی تخلیق کاری میں صحرا اور اس سے جڑے ہوئے استعارے اور علامتیں بھر پور انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے روہی ان کے اندر بس چکی ہے اور وہ چولستان کی وسعتوں میں کہیں کھو گئے ہیں۔ روہی کا ذکر ہو اور خواجہ غلام فرید سرکارؒ کا تذکرہ نہ ہو ، یہ ممکن نہیں ہے۔ امجد جاوید اپنے اظہار میں جا بجا خواجہ غلام فرید سرکارؒ ہی کا حوالہ دیتے ہیں۔جس طرح حضرت اقبال ؒ صحرا میں لالہ فام کھلنے کی بابت فرماتے ہیں، بالکل اسی طرح امجد جاوید بھی ادبی مراکز سے دور، جنوبی پنجاب میں ناول نگاری کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسے کوئی درویش کسی ٹیلے پر جنڈ کے درخت تلے اپنے ہی گیان دھیان میں مگن بیٹھا ہو ۔اس کی تخلیق کاری کو کون کس طرح لیتا ہے ، کس طرح دیکھتا اور پر کھتا ہے ، وہ اس معاملے میں بے نیاز ہے اور بس لکھتا چلا جارہا ہے ۔اب تک ان کے لکھے ہو ناولوں کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہوئی ہے۔ جن میں عشق کا قاف ، فیض عشق ، امرت کور، کیمپس ، سائبان سورج کا ، دھوپ کے پگھلنے تک ۔ جب عشق سمندر اُوڑھ لیا، ذات کا قرض ،قابل ذکر ہیں۔ان کے آخری ناول ’’ قلندر ذات‘‘ کے تین حصے شائع ہو چکے ہیں، اور یہ ناول ہنوز ابھی جاری ہے ۔امجد جاوید نے لکھنے کا آغاز ۱۹۸۸ء میں ایک کہانی لکھ کر کیا، جو ایک ڈائجسٹ رسالہ میں شائع ہوئی ، پھر اس کے بعد بقول خالد بن حامد ،’’ انہوں نے آنکھ نہیں جھپکی۔‘‘ وہ مسلسل لکھتے چلے جارہی ہیں۔ ۱۹۹۳ ء میں انہیں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے ابلاغیات میں ماسٹر کیا ۔یہاں انہیں سجاد پراچہ ، ریحان ساجد ، واجد خان اور شبیر بلوچ جیسے اساتذہ ملے ۔ عملی زندگی کا آغاز روزنامہ جنگ لاہور کیا۔ کہانی کے ساتھ ساتھ صحافتی لکھت بھی ان کی ہم سفر ہوئیں۔ مضامین، فیچر ، انٹر ویو، ان کے کریڈ ٹ پر آتے چلے گئے ۔ روزنامہ جنگ میں انہیں سب سے زیادہ عابد مسعود تہامی،عبدالرحمن جامی سے سیکھنے کا موقعہ ملا۔انہوں نے شروع شروع میں شاعری بھی کی لیکن جلد ہی وہ نثر ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ دو ٹی وی سیریل ، سکھاں اور پہچان ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ حاصل پور میں رسائل وجرائد کی اشاعت کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی ، ان کا نام سر فہرست ہوگا۔ ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نگار جناب امجد جاوید سے گفتگو ہوئی ، اس کا احوال پیش خدمت ہے۔

سوال ۔۔۔۔۔۔آپ کی ناول نگاری کا اہم ترین موضوع عشق اور تصوف ہے، ان ہی موضوعات پر لکھنے کی کوئی خاص وجہ ؟

جواب ۔۔۔۔۔۔اصل میں انسان کی جمالیات کیا ہے؟رب تعالی نے جس احسن تقویم پر انسان کو پیدا کیا ہے ، وہ کیا ہے ، اس کا ظہور کیا ہے اور کیسے ممکن ہے ؟ اسے ظاہر کرنے والی صرف ایک قوت ہے اور وہ عشق ہے۔ یہ قوت عشق ہی ہے جو ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے ۔ اس بحث سے قطع نظر کہ عشق مجازی کیاہے اور عشق حقیقی کیا ہے۔ عشق ایک قوت ہے ، جو انسان کے اندر کوظہور دیتی ہے۔ اورتصوف بزرگوں کا بتایا ہوا ایساطریقہ ہے ، جس سے انسان، انسانیت کے درجے پر فائز ہونے کی کوشش کے لئے اس طریقے کو زاد راہ کے طور پر اپناتا ہے۔یہ مسلسل عمل ہے، اوراس کے درجات ہیں۔ روحانیت باتوں سے نہیں آتی ۔یہ ریاضت ہے ۔روحانیت پوری سائنس ہے اور انسان کا لطیف ہونا ایک آرٹ ہے ۔ فنا فی اللہ وہی سمجھ سکے گا جو اس سائنس کو سمجھتا ہو اوراس کے مطابق اس ریاضت سے گذرا ہو۔ چونکہ میں بھی عشق اور تصوف کو سمجھنے کی کوشش میں ہوں،اس کا ایک طالب علم ہوں اور ابھی تک نو آموز ہوں۔ اس لئے یہ میرا پسندیدہ موضوع بن گیا۔ میں نے صرف انہی موضوعات پر نہیں لکھا، بلکہ میرے دوسرے موضوع بھی ہیں۔میں ان پر بھی لکھتا ہوں

سوال ۔۔۔۔۔۔ادبی مراکز سے دور ، مضافات میں بیٹھ کر تخلیق کاری میں کوئی مشکلات بھی ہوتی ہیں؟

جواب۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے ،کسی بھی شے کا کوئی مرکز تو ہو تا ہے ۔بنا مرکز کے تووہ قائم ہی نہیں رہ سکتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ادبی مراکز کی ہیت اور نوعیت تبدیل ہوئی ہے ۔ اور اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ذرائع رسل و رسائل ہیں، اب مضافات ، وہ پہلے والا مضافات نہیں رہا، اور نہ پہلے والے ادبی مرکز رہے ہیں، ان کی نوعیت اور ہیت بدل گئی ہے۔ اصل شے یہ ہے کہ تخلیق کار ، کیا تخلیق کر رہا ہے ۔ لمحوں میں ان کی تخلیق ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسی خواتین بھی لکھ رہی ہیں، جنہوں نے گھر سے باہر قدم نہیں نکالا، مگر ربّ تعالی نے انہیں بے پناہ عزت سے نوازا ہے۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی اچھی تخلیق تک اب قارئین کی رسائی ہے اور اسی طرح تخلیق کار کو بھی اپنے قارئین میسر ہیں۔ ادبی مراکز کی اب وہ پہلے والی اہمیت نہیں رہی۔

سوال ۔۔۔۔۔۔ لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ انہی ادبی مراکز میں ادبی تنظیمیں موجود ہیں ۔

جواب ۔۔۔۔۔۔ ادبی مراکز میں جو بھی ادبی تنظیمیں ہیں ، بلا شبہ وہ بہت اچھا کام کر رہی ہوں گی ۔ظاہر ہے ہر تنظیم اپنے ہی ارکان کو آگے لانے میں دلچسپی رکھتی ہوں گی۔ سوال یہ کہ کیا ان ادبی تنظیموں کے باعث ادبی خدمت کیسی ہو رہی ہے؟ آیا جو ہمارے اس وقت کے معاشرتی چیلنجز ہیں ان سے ہمارا تخلیق کار ان سے عہدہ براہ ہو رہا ہے ، یہ تنظیمیں ایسی نئی پود تیار کر رہی ہیں؟دائرہ در دائرہ بٹے ہیں یا کسی وحدت تک پہنچے ہیں؟ایسی ہی کئی باتیں ہیں۔ مضافات کی ادبی تنظیموں کی جہاں تک بات ہے، تو وہ بھی موجود ہیں اور فعال کردار ادا کر رہی ہوں گی۔ اصل میں ہمارے ہاں جو ادبی گروہ بندیاں ہی سب سے بڑی بے ادبی ہے اس نے نہ صرف ادبی فضا ، بلکہ نئے لکھاریوں کو بھی بہت متاثر کیا ہے ۔یہاں آ کر معیار بدل جاتے ہیں۔ تنظیم کا سربراہ بڑا ادیب یا شاعر سمجھا جاتا ہے ۔پھر جس طرح عہدے اسی طرح کا ادبی درجہ بنتا ہے ۔ستائش خوشامد اور ’’پی آر او کلچر‘‘ کو فروغ ملا، عہدوں کی بھاگ دوڑ میں بہت سارے کچلے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے ، جس نے بہرحال ادبی ماحول کو پراگندہ کیا

سوال ۔۔۔۔۔۔ آپ ڈائجسٹ کے لکھاری ہیں، اردو ادب میں ڈائجسٹ کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب ۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں جتنا حصہ ڈائجسٹ کا ہے ، شاید ہی کسی دوسرے ابلاغی ذریعہ کا ہوگا۔یہ بحث اب بہت پرانی ہو چکی ہے کہ ڈائجسٹ میں پیش کیاجانے والا مواد ادبی ہے یا نہیں، دیکھا یہ جانا چاہئے کہ ڈائجسٹ نے قلم کاروں کی کس قدر کھیپ اردو ادب کو دی ہے ۔ دراصل ڈائجسٹ کی اہمیت سے انکارادبی تعصبانہ رویہ ہے۔ جس طرح جدید دور نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیاہے ، ایسے میں ہمارا نقاد یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ وہ ادب کو کس جہت میں دیکھے ، کیونکہ ہمارا نقاد بھی ابھی پختہ کار نہیں ہوا ہے ۔ وہ پرانی قدروں پر ڈٹا رہے یا زندگی کی نئی حقیقتوں کا سامنا کرے ۔ایک بات جو قاری سمجھ ہی نہیں سکتا، وہ اگر ادب عالیہ ہے تو ابلاغی نقطہ نظر سے وہ اتنی اہم تحریر نہیں ہے ۔ لیکن وہی بات اگر انتہائی آسان انداز میں قاری تک پہنچا دی جائے تو وہ تحریر بامقصد ہے ۔

سوال ۔۔۔۔۔کہانی آپ کی بنیادی یا کہہ لیں پسندیدہ صنف ہے ، اس بارے آپ کیا کہیں گے ۔

جواب ۔۔۔۔۔۔ کہانی ہماری جبلت میں شامل ہے ۔بچپن سے کہانی ہمارے راسخ ہو جاتی ہے اور تمام عمر ہماری یہ دلچسپی نہیں جاتی ۔ کہانی وہ اہم ترین ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی اگلی نسل کو علم وحکمت اور دانش کا ورثہ منتقل کرتے ہیں۔آپ دیکھیں وہ اشعار دوام کو پہنچے ، جن میں ایک کہانی ہوتی ہے ۔ کہانی بھی اسی وقت تک کہانی رہتی ہے ، جب تک اس میں دلچسپی ہے ۔ کیونکہ یہ اس کا بنیادی عنصر ہے۔

سوال ۔۔۔۔۔۔ بعض کتابیں، خاص طور پر شاعری کے مجموعے منظر عام پر تو آتے ہیں، لیکن ان کا کوئی خاص معیار نہیں ہوتا، یہاں تک کہ بے وزن شاعری تک شائع ہو جاتی ہے ، ایسا کیوں ہے۔

جواب ۔۔۔۔۔۔ دیکھیں یہ بھی پیسے والوں کا معاملہ ہے ، کسی پبلیشر کو پیسے آتے برے

ا

نہیں لگتے۔ اسے جب ہم پیسے دیں گے تو وہ کتاب چھاپ دے گا۔ ہمارے ہی بھائی بند اسے ادبی شہکار گردان دیتے ہیں۔ میں اسے مثبت اندا ہی میں لوں گا حوصلہ افزائی کا یہ بہترین طریقہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن میری ایک رائے ہے کہ کوئی تو ایسا ادارہ ہو ،جو کسی بھی کتاب کی ادبی حیثیت و مقام کا تعین کرے ۔کسی یونیورسٹی کا شعبہ ہی سہی۔ اس سے یہ ہوگا کہ میرے جیسا نو آمواز بندہ جب لکھے گا تو یہ سوچ کر لکھے گا کہ اس کی ادبی حیثیت کیا ہو گی ۔

سوال ۔۔۔۔۔۔آپ کے پسندیدہ ادیب اور شاعر کون سے ہیں؟

جواب ۔۔۔۔۔۔ صرف ایک نام نہیں ہے، جیسے قدرت کے ہر پھول کو اپنی الگ الگ انفرادیت بخشی ہے ، بالکل ایسے ہی ہر لکھاری اور خاص طور پر اساتذہ اپنی انفرادیت کے باعث میرے لئے معتبر ہیں۔ اب جیسے اے حمید ، ان کی منظر نگاری، سعادت حسن منٹو کی کاٹ دار تحریر، کرشن چندر کی انسانیت پسندی، آغااشرف کی پرکاری، عنائت اللہ اور علی سفیان آفاقی کی داستان گوئی ،اختر حسین شیخ کا دبنگ انداز، شمیم نوید کی سلاست اور ایم اے راحت کا تخیلاتی ۔جدید دور میں علی نواز شاہ ، عمیرہ احمد،فیاض ماہی ، مدیحہ طارق، ہیں۔ اسی طرح شاعر ،حضرت اقبالؒ ، بیدم واثیؒ ، ناصر کاظمی،مظفر وارثی ،عباس تابش اور وصی شاہ پسند ہیں۔اسی طرح ڈرامہ نگاری میں عرفان مغل ،اور عمیرہ احمد ہیں۔

سوال ۔۔۔۔۔۔ موسیقی سے شغف ہے ؟ کیسی موسیقی سننا پسند کریں گے ۔

جواب ۔۔۔۔۔۔ مجھے موسیقی بہت پسند ہے ۔ اوریہ جو کہتے ہیں موسیقی روح کی غذا ہے ، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ ایسا کیوں ہے ، یہ بہرحال ایک الگ بات ہے۔لوک گیت اور اسکے پس منظر میں موسیقی میں ایک خاص اپنائیت کا احساس کار فرما ہوتا ہے ۔دھیمی موسیقی میں سر کیساتھ گایا ہوا نغمہ پسند ہے۔ کیونکہ ہر آواز ہر گیت کے ساتھاایک الگ تاثر رکھتی ہے ۔مجھے نور جہاں کے بعد نیرہ نور بہت پسند ہے، اے نیر، اور راحت فتح علی خاں۔ قوال مجھے عزیز میاں بہت پسند ہیں۔

سوال ۔۔۔۔۔۔ ایک روایتی سا سوال کہ کیا پیغام دینا چاہیں گے ۔

جواب ۔۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں کتاب پڑھنے کی روایت کو فروغ ملنا چاہئے ۔ قوموں کی ترقی علم کے حصول میں ہے ۔ کتاب سے جڑا ہوا رشتہ قوموں کو اوج کمال تک پہنچاتا ہے۔ اب یہ کام صرف حکومت کے ذمے ڈال دیا جائے تو زیادتی ہوگی۔ کتاب سے محبت ایک تحریک کی طرح ہونی چاہئے ۔کیونکہ اس وقت کتاب چھین لینے والی بہت ساری دوسری چیزیں موجودہیں۔جن کا ہماری نسل کو سامنا ہے۔ جن میں لکھنے کی صلاحیت ہے اور وہ لکھنا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔یہیں سے علم وفضل کی راہیں کھلتی ہیں۔

 انٹرویو دیگر 

Comment Form