رفی حیدر انجم



10 Dec, 2016 | Total Views: 270


صدف اقبال

رفی حیدر انجم صاحب نے۱۹۸۰ کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں ایک اہم مقامآ بنایا ہے ۔۔۔ انکا مجموعہ ’’ بے ارادہ ‘‘ بہت مقبول ہوا ۔۔۔ افسانہ کی سمت و رفتار پر انکی گہری نظر ہے اور مطالعہ وسیع بھی ہے ۔۔

انکے افسانہ بدن میں جو چنگاری ہے وہ قاری کے ذہن میں آگ لگا دیتی ہے ۔۔ اور آنکھوں میں لہو بن کر انکا افسانہ جم جاتا ہے ۔۔

ان کے ہاں جدت بھی ہے رعایت لفظی بھی ۔ وہ واقعات کو ایک لڑی میں پرونے کا ہنر جانتے ہیں ۔۔ سیاسی گراوٹ اور موجودہ سماج کی تلخیاں انکے افسانوں میں اُبھر کر سامنے آتیں ہیں ۔۔ مسلمانوں کی بدحالی ۔ فرقہ واریت ۔ انسانی رشتوں کے پامال ہونے کا درد جیسے موضوع کو یہ اپنے افسانوں میں برتتے ہیں ۔۔ غور و فکر کا ایک نیا در ہم پہ وا کر دیتے ہیں ۔۔۔

’’سفر ایک شہر کا‘‘ ’’ شاید نہیں ‘‘ ’’توتلاعباس ‘‘ ’’ بند کمرے کی موت ‘‘ ’’ خواب خواب کہانی ‘‘ ’’ ایک سفر رنج و شام ‘‘ ’’ ادھورا آدمی ‘‘ ایک گریزاں چہرہ ‘‘ ’’ سوکھی لکڑی ‘‘ ۔ وغیرہ انکی اہم کہانیاں ہیں ۔۔
رفی حیدر انجم کا اہم انٹرویو آپ قارئین کی نذز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ابتدایء حالات کے بارے میں بتایں ۔ آپ افسانہ نگاری کی طرف کیسے آئے؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔ میری پیدائش 6 اکٹوبر 1955 کو میرے نانیہال بھاگلپور (بہار) میں ہوئی لیکن عمر کا بیشتر حصہ ارریا (بہار) میں گزرا کیوں کہ میرے والد سرکاری نوکر تھے اور تاحیات اسی شہر میں رہے۔میں یہیں پلا بڑھا اور اسی چھوٹے سے شہر میں رہ کر تعلیم حاصل کی۔
1974 میں بی ـ اے پاس کرنے کے بعد میں نے برسوں بےروزگاری کا کرب جھیلا۔افسانہ نگاری کی ابتدا بھی انہیں محرومیوں اور ناآسودگیوں کے دنوں میں ہوئی ۔ میرے خاندان میں ادب کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ گھر کا ماحول وہی تھا جو ایک عام متوسط طبقے کے گھروں کا ہوتا ہے۔ 1982 میں میں نے آزاد طالب علم کی حیثیت سے اردو ادب میں ایمـ اے کیا اور 1985 میں ایک پرائویٹ کالج میں اردو کا لیکچرر مقرر ہوا۔1984 میں شادی ہو گئ تھی۔ کالج کی کمیٹی سے جو ماہانہ رقم ملتی تھی وہ ضروریات زندگی کے  لیےناکافی تھی۔
ادھر تقاضہء حیات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا جسے پورا کرنے کے لیےکسی متبادل روزگار کی تلاش لازمی ہو گئ ۔ کچھ خیرخواہوں کے اکسانے پر میں نے لائف انشیو رنس کارپوریشن کی ایجینسی لے لی حالانکہ یہ میری پسند اور مزاج کے موافق نہیں تھا۔ لیکن میں نے اسے ایک چیلینج کے طور پر لیا اور اس پروفیشن میں ایک لمبے عرصے کی جدوجہدکے بعد ضروریات زندگی کی عفریت پر قابو پا لینے میں کامیاب رہا۔
میرے اسکول آزاد اکیڈمی میں ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جس میں "ہما"اور "شبستاں" ڈائجسٹ کے علاوہ ابن صفی کے کئ ناول تھے۔ ہائر سیکینڈری پاس کرنے سے پہلے میں نے ابن صفی کے کچھ ناولوں کو پڑھ لیا تھا۔ان ناولوں کو پڑھتے ہوئے ایک مسرت آمیز حیرت کا احساس ہوتا تھا۔افسانوی زبان کے انوکھےپن کا احساس پہلے پہل انہی ناولوں سے ہوا۔اسی اسکول میں معروف افسانہ نگار مشتاق احمد نوری مجھ سے سینئر تھے اور ان کی افسانہ نگاری کے قصے مجھ تک پہنچتے رہتے تھے۔ مگر ان دنوں ان سے ملنے اور بات کرنے کی ہمت اس لیےنہیں ہوئی کہ میں فطرتآ شرمیلا ، ایک حد تک دبو اور اوسط درجے کا طالب علم تھا۔
1975 کے زمانے میں جب میرے پاس کچھ بھی کرنے کو نہیں تھا تو انہی خالی پہاڑ سے دنوں میں میری ملاقات پورنیہ (بہار) کے احسان قاسمی سے ہوئی جس کا ایک افسانہ "روبی" میں شائع ہو چکا تھا۔ احسان قاسمی میرے ہم عمر اور میری طرح بےروزگار تھے سو ان سے میری پکی دوستی ہو گئ۔ پورنیہ میں معروف ادیب و شاعر پروفیسر طارق جمیلی کے دولت کدہ پر ہر ماہ افسانوی نشست کا اہتمام ہوتا تھا جس میں احسان قاسمی کے ہمراہ میری بھی شرکت ہونے لگی۔ادب کی اس محفل میں افسانے پڑھے جاتے تھے اور ان افسانوں پر تنقید و تبصرے بھی کیے جاتے تھے۔اسی محفل میں میرے اندر افسانہ نگاری کے وائرس لاشعوری طور پر داخل ہونے لگے تھے۔
ستمبر 1975 میں میں نے پہلا افسانہ "شمع ہر رنگ میں" لکھا جو اگست 1977 میں کلکتہ کے ایک ادبی رسالہ "خوشبوےء ادب" میں شائع ہوا۔ اسی شمارے میں مظہرالزماں خان کی ایک بلا نقط کہانی شائع ہوئی تھی ۔ بغیر نقطے کے ان جملوں کو کہانی کی شکل میں پڑھ کر بڑا مزہ آیا اور مجھے لگا کہ جو کہانیاں اب تک رسالوں میں پڑھتا آیا ہوں ان میں تو کوئی کمال نہیں ۔ کہانی تو وہ ہوتی ہے جس میں اسلوب،ہیت اور تکنیک کو نئےتجربے سے گزارا گیا ہو۔ میرے اندر کی یہ سوچ جدت نگاری کی پہلی دستک تھی ۔

صدف اقبال ۔۔۔۔ آپ نے علامتی افسانے لکھے۔ آپ کی نظر میں علامتی،تجریدی اور تمثیلی افسانوں کا تجربہ کس حد تک کامیاب رہا؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے افسانہ لکھنا اور افسانہ پڑھنا ساتھ ساتھ شروع کیا۔میں ایک چھوٹے سے شہر میں رہتا ہوں جہاں ادبی رسالہ کے نام پر صرف "شاعر" (بمبئ) میسر تھا۔ "شاعر" میں علامتی/ غیر علامتی، تجریدی/ غیر تجریدی، نئے پرانے ہر طرح کے افسانے شائع ہوتے تھے ۔ آج بھی یہ رسالہ اپنی اسی روش پر قایم ہے ۔ میں نے سب کو پڑھا لیکن لکھا اپنی طرح کا۔یہ سوچ کر کبھی نہیں لکھا کہ مجھے علامتی،تجریدی یا تمثیلی افسانہ لکھنا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جدیدیت نے چپکے چپکے ذہن سازی کر دی تھی کہ تخلیق کار عصری ہسیت سے چشم پوشی نہیں کر سکتا۔
میں نے 1980 سے 1990 کے عرصہ میں تواتر سے افسانے لکھے جو مختلف ادبی و نیم ادبی رسالوں مثلا آج کل،الفاظ،حالی، توازن،مژگاں،ایوان اردو،زبان و ادب،روح ادب،نیا دور،مریخ،اسباق،بازگشت(ناروے)،ادب نکھار،ترسیل،قوس،جدید اسلوب،آواز، تخلیق نو، روبی،گلفام،فلمی ستارے وغیرہ میں شائع ہوتے رہے۔ "شاعر" کے افسانہ نمبر 1981 میں میرا ایک افسانہ "بند کمرے کی موت" کو مدیر افتخار امام صدیقی نے خصوصی نوٹ کے ساتھ شائع کیا تھا۔ میرے لیےافسانہ نگاری ایک لاشعوری عمل ہے جس کا آغاز شعوری طور پر ہوتا ہے۔خالص بیانیہ افسانوں میں بھی علامتیں ہو سکتی ہیں بشرطیکہ اس میں شعوری کوشش کو دخل نہ ہو۔علامتی اور تمثیلی افسانوں کا دور نہ کبھی ختم ہوا ہے اور نہ کبھی ہو سکتا ہے۔افسانے وہی ہو سکتے ہیں جن میں علامتوں اور استعاروں نے ایک جہان دیگر کا احساس کرایا ہو۔البتہ تجریدی افسانوں کے نام پر ایسے بہت سے افسانے لکھے گئےجس نے قاری کو بدگمان کیا اور ادب میں خس و خاشاک کا انبار بھی لگا۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔ اردو افسانہ بڑی حد تک خود کو دہرا رہا ہے یا محض تکنیک میں پناہ لے رہا ہے ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ افسانہ خود کو دہرا رہا ہے۔تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سائنس کی ترقی،نئی تکنالوجی،بدلتے ہوئےسماجی،سیاسی،اقتصادی ثقافتی منظر ناموں نے افسانوں کو نئے نئے موضوعات سے آشنا کرایا ہے۔ہر موضوع اپنا اسلوب اور تکنیک خود وضع کرتا ہے ۔ کسی خاص تکنیک کو افسانے کے لئے پیٹینٹ نہیں کیا جا سکتا۔انسانی تہذیب کی طرح افسانوں کے موضوعات،اسلوب اور تکنیک بھی اظہار کا آزادانہ ارتقائی سفر طے کرتے ہیں۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔ اردو کے ادیب و شاعر کو سماج میں وہ مقام کیوں حاصل نہیں جو دوسری ترقی یافتہ زبان کے ادیب و شاعر کو حاصل ہے ؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا تعلق براہ راست ادیبوں اور شاعروں کی ناقدری اور استحصال سے جڑا ہوا ہے۔ اگر فنکار پروفیشنل نہیں ہے تو سماج میں اس کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہے۔سماج کا تصور فرد سے ہے اور افراد کے لیےفن پارہ ذہنی آسودگی کا سبب ہو سکتا ہے مگر سماجی مرتبہ کا موجب تب تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ زبان و ادب معاش کا ضامن نہ ہو جائے ۔۔۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔۔کیا آج اردو افسانے کے موضوعات بدل گئےہیں؟ اگر ہاں تو کیوں؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔ موضوعات کبھی بدلتے نہیں ہیں ۔ ادب میں نئے نئے موضوعات کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کچھ موضوعات آفاقی نوعیت کے بھی ہیں مثلا تقسیم ، ہجرت، فساد ، حسن و عشق ، قدروں کا زوال ، انسانی فطرت کا تضاد ۔۔۔۔ ہر دور کا افسانہ نگار ان موضوعات کو ٹچ کرتا ہے ۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اسے افسانوں میں برتا کس طرح سے گیا ہے۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔ نئی نسل اور پرانی نسل کے افسانہ نگاروں میں کون سی باتیں مختلف یا مشترک ہیں؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرانی نسل سے کیا مراد ہے؟ اگر ترقی پسند تحریک سے وابستہ افسانہ نگاروں کی بات کریں تو اردو کے یادگار افسانے اسی دور میں لکھے گئے ہیں ۔ ان کے سیاسی اور سماجی مسائل مختلف تھے۔ ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد،طبقاتی کشمکش،توہمات و تعصبات،اصلاح معاثرہ،ناخواندگی، نئی تعلیم کی دستک،تنگ نظری،ایک بہتر آسودگی بھری زندگی کا خواب ۔۔۔۔۔ یہ تمام موضوعات ان افسانہ نگاروں کے مرکز و محور میں تھے۔مگر آزادی کے بعد یہ خواب چکنا چور ہو گیا ۔ نئی نسل کے سامنے خوابوں کی شکستگی تھی۔ ملک کی تقسیم،فرقہ وارانہ فساد،نئی صنعتی تہذیب کی آمد ان سب نے نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو ذات کے کرب سے آشنا کر دیا۔حالات بدلے تو اظہار کا وسیلہ بھی بدلا۔ہیت،اسلوب اور تکنیک میں تجربے بھی ہوئے ۔ علامتی،استعاراتی،تمثیلی،تجرباتی اور تجریدی افسانے بھی لکھے گئے۔ ناسٹلجیا اور شعور کی رو جدید تر اظہار کا ذریعہ بنیں ۔

صدف اقبال ۔۔۔ کیا کسی اچھے فنکار کے لیےکسی ازم یا تحریک سے وابستہ ہونا ضروری ہے؟

رفی حیدر انجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازم یا تحریک تخصیصی اصطلاح ہیں جو فنکار کے فہم و ادراک کو نظریاتی ادعائیت کا پابند بنا دیتا ہے جب کہ فنکار کا منتہی نجات پسندی کو ترجیح دیتا ہے۔ جینوئن فنکار کسی بھی طرح کے ازم یا تحریک سے وابستہ ہونا پسند نہیں کرتا ۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔ اردو کے مستقبل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اردو کی ریڈر شپ گھٹ رہی ہے اور نئ نسل اردو زبان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔تمام تر اندیشوں کے باوجود مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک زندہ زبان ہے۔ ہر زندہ زبان جہداللبقا کے اصول پر کارفرما ہوتی ہے۔ مردہ چیزیں موج کے ساتھ بہ جاتی ہیں مگر زندہ وجود موج کے مخالف سمت میں چلتی ہے۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کے مافیا گروپ کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو اردو کے غیر مافیا گروپ میں بھی نہیں ہوں۔ اگر ایسا کوئی مافیا گروپ ہے بھی تو وہ جدید اسلحے سے تہی دست ہی ہوگا۔ لہٰذایہ صرف شور مچا سکتے ہیں،محاذ پر ٹک نہیں سکتے ۔

صدف اقبال۔۔۔۔ آپ اپنی ادبی خدمات سے کس حد تک مطمئن ہیں؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے تیس سالہ ادبی سفر میں پندرہ سال کچھ نہیں لکھا۔ اس سے بڑی بے اطمنانی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ ادب کے منظر نامے پر متواتر حاضری ضروری ہے اور پھر میں نے ایسا کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا کہ لوگ مجھے یاد رکھنے پر مجبور ہو جائیں۔۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔ عہد حاضر میں اردو ادب کو کس حد تک معیار و وقار حاصل ہے اور کیا جو ادب تشکیل ہو رہا ہے ، آپ اس سے مطمئن ہیں ؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔ عہد حاضر میں بیدار ذہن کی ایک کھیپ سامنے آئی ہے ۔ گرچہ یہ تعداد میں کم ہیں مگر ان کے تخلیقی فن پارے متنوع اور معیاری ہیں اور کسی بھی ہندوستانی زبان کے ادبی اثاثے کے مقابل رکھے جا سکتے ہیں ۔ بےاطمنانی صرف اس بات کی ہے کہ اردو کے یہ ادبی اثاثے مارکیٹنگ کے جدید تکنیک سے لیس نہیں ہو پا رہے ہیں۔

صدف اقبال۔۔۔۔ ہندوستان میں اردو زبان کی آپ کی نظر میں کیا حیثیت ہے؟ اس کی ترویج و ترقی کے لیے کیا تبدیلیاں ہونی چاہئں ؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔ اردو زبان کی مقبولیت زیریں سطح پر محسوس کی جا رہی ہے لیکن اردو والے اس کا فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہیں ۔ اس کے ترویج و ترقی کے لیے اسے عصری تعلیم اور نئے تکنیکی نظام سے وابستہ کرنا ہوگا۔ ہر اردو داں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان کا تحفظ اس کی اپنی ذمہ داری ہے نہ کہ حکومت کی ۔ بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے مگر عام آدمی اس کا فائدہ اس لیےنہیں اٹھا پا رہا ہے کہ وہ خود اپنی زبان کے ابجد سے غافل ہیں اور اردو کے ملازم اپنی روٹی سینکنے میں لگے ہوےء ہیں ۔

ٓٓۤصدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے ہمعصر افسانہ نگاروں میں کسے پسند کرتے ہیں اور کیوں ؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔ میرے پسندیدہ ہمعصر افسانہ نگاروں کی ایک لمبی فہرست ہے مگر میں ان سب کو اس لیے نہیں پڑھ پاتا کہ یہاں وسائل کی کمی ہے اور میں مکھی پر مکھی مارنے کا قائل نہیں ہوں ۔ چونکہ مجھے آپ کے "کیوں" کا بھی جواب دینا ہے سو ان افسانہ نگاروں کا ذکر کر رہا ہوں جنھیں میں نے حال کے دنوں میں پڑھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشرف عالم ذوقی میرے ہمعصروں میں سب سے تیزرفتار ناول نگار اور تیز طرار افسانہ نگار ہیں۔ بالکل نئے اور چونکانے والے موضوعات کو فنی مہارت کے ساتھ پیش کرنے کی وجہ سے یہ مجھے پسند ہیں ۔ خورشید حیات کا ڈکشن متاثر کرتا ہے۔سید احمد قادری کے افسانے اپنے عصر کی سماجی،سیاسی اور ثقافتی سچائیاں بیان کرتے ہیں ۔ بظاہر سادہ بیانیہ میں علامت اور استعارے کا فنی رچاؤ ان کے افسانوں کی بڑی خوبی ہے ۔۔ اقبال حسن آزاد کو افسانے کی کرافٹ پر مہارت حاصل ہے۔ ابرار مجیب اپنے افسانوں میں علامتوں اور استعاروں کو خوبصورتی سے برتنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ اختر آزاد کا تجربہ و مشاہدہ کافی گہرا ہوتا ہے ۔ صدف اقبال پراعتماد ماجرا سازی لے کر افسانوی ادب میں وارد ہوئی ہیں اور ان کے اندر امکانات کی وسیع دنیا آباد ہے۔
میرے ہمعصروں میں قاسم خورشید،رحمان شاہی، شبیر احمد،اختر واصف،فخرالدین عارفی،احمد صغیر ،اسلم جمشید پوری بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں اپنی ایک منفرد شناخت بنا لی ہے ۔ میرے سینیئرز میں مشتاق احمد نوری،شموئل احمد، حسین ا لحق ، شوکت حیات،عبدالصمد، شفیع جاوید،انیس رفیع،صدیق عالم،فیروز عابد،سلام بن رزاق،غضنفر،اقبال مجید، سید محمد اشرف،صغیر رحمانی ۔۔۔۔۔۔ ایسے افسانہ نگار ہیں جو آج بھی تازہ دم ہیں اور مجھے ان سب کے افسانوں کی تلاش رہتی ہے۔

صدف اقبال ۔۔۔افسانوں میں حسن و عشق اور جنس کی کیا اہمیت ہے اور اسے کس حد تک برتنا چاہئے؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔۔ تزکرہ حسن و عشق اور مسئلہء جنس سے اردو کا کلاسیکی ادب بھرا پڑا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں بیشتر جنس کا اکیرا بیان ملتا ہے اور حسن و عشق کی خارجی باتیں کہی گئ ہیں۔ دراصل میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اردو ادب کے آفاقی موضوعات ہیں ۔ جذبہء حسن و عشق اور جنسی خواہش انسانی سرشت میں داخل ہے۔ جنس کو فن پارے میں برتنا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے اور یہ کسی کچے فنکار کے بس کی بات نہیں کہ اس کی حدیں بیشتر فحاشی سے جا ملتی ہیں ۔ عہد حاضر میں شموئل احمد ایسے فنکار ہیں جنہوں نے جنس کے اسرارو رموز کو نفسیاتی عوامل سے گزار کر انسان کے کریہ چہرے کو بحسن و خوبی بے نقاب کیا ہے ۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔فورم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔۔یہ کہاں تک اردو کی ترویج و ترقی میں معاون ہے؟

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔۔۔عالمی اردو افسانہ فارم سے میری وابستگی زیادہ دنوں کی نہیں ہے۔ پہلے میں ایک خاموش ممبر کی طرح اس فارم کی کارکردگی کو دیکھا کرتا تھا لیکن جب آپ نے مجھ جیسے آرام پسنداور کنج تنہائی میں رہنے والے شخص کو فعال کر دیا تو اب میں ڈنکے کی چوٹ پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ اردو ادب کے شائقین کا واحد عالمی فارم ہے جس سے وابستہ ہو کر ادیب اپنی خفتہ صلاحیتوں کو بیدار کر سکتا ہے ۔ نوواردوں کے لیے یہ ایک درس گاہ ہے ۔ یہ اپنی کاوشوں کو بڑی آسانی سے دنیا بھر میں پھیلا سکتے ہیں ۔ اس فارم میں افسانوں پر جو تنقید و تبصرے ہوتے ہیں ، وہ کسی اور جگہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔ تخلیق کے تعین قدر کا یہ اہم فریضہ اردو افسانہ فارم کا قابل تحسین کارنامہ ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ پرنٹ میڈیا پر حاوی ہو رہا ہے کیوں کہ یہاں ادبی اطلاعات بڑی سرعت سے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں ۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔ رفی صاحب آپکا بہت بہت شکریہ آپنے اپنا قیمتی وقت دیا

رفی حیدر انجم ۔۔۔۔۔ تمہارا بھی بہت شکریہ ۔ میں عالمی اردو افسانہ فورم کے لئے انٹرویو دے کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں ۔۔

(بحوالہ اردو افسانہ فورم)

 

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.