ناصر صدیقی



04 May, 2018 | Total Views: 297


ناصر صدیقی


محمد اعظم یاد

معروف افسانہ نگار ناصر صدیقی کا انٹرویو
انٹرویو : محمد اعظم یاد

سوال ۔۔۔۔۔ آپ کہاں پیدا ھوئے اور کب پیدا ھوئے ؟
جواب ۔۔۔۔۔ میں بلوچستان کے کسی ساحلی اور چھوٹے قصبہ میں پیدا ہوا تھا۔1972 میں۔بعد میں کراچی شفٹ ہو گئے۔
سوال ۔۔۔۔۔ کسی ساحلی ؟ تو کیا آُ پ یقین ھے کہ آپ پیدا بھی ھوئے تھے ۔ آپ کا لاشعور کیا ( کہتا ھے ؟ (یہ سوال کرتے ھوئے میں شرارت سے مسکرا رھا تھا
جواب۔۔۔۔۔ہاہاہا،میں زندہ ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک بار پیدا بھی ہوا ہوں۔ میرا لاشعور افسانوں میں جاگتا ہے،عام زندگی میں نہیں۔ میں ایک حادثے کے طور پر افسانہ نگار بنا ہوں اور اس حادثہ میں بھی ایک "عورت" شامل ہے۔ لمبی کہانی ہے پھر سہی۔
سوال ۔۔۔۔۔ اچھا جب ھوش سنبھالا تو آپ کے ارد گرد کیا ماحول تھا ۔ کیسی ثقافت تھی؟
جواب ۔۔۔۔۔ گھر کا ماحول اسلامی نما تھا،ارد گرد بھی مقامی ثقافت کی سختیاں تھیں۔ میں علاقے کے ایک واحد مخلوط پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا جہاں استانیاں تھیں تو انھیں سے میرا لاشعور رنگین ہوتا گیا۔اور پھرایک"حادثہ" ہوا اور میں اپنی اس ہستی سے ملا جو میرے موجودہ لاشعور کی موجد بنی اور اسی کی ذات سے جنسی افسانے پھوٹنے لگے لیکن میرا ضمیر "گرمی" کو ٹھنڈک بھی پہنچاتا رہا۔
سوال ۔۔۔۔۔لاشعور رنگین ہوتا گیا۔اور ایک"حادثہ" ہوا ۔ اگر اس پر کچھ اوراظہار کر دیں تو ھم بھی آپ کے بچپن میں شامل ھو جائیں گے؟
جواب ۔۔۔۔۔ ہر ایک کے لاشعور میں اسکی ایک آئیڈیل عورت ہوتی ہے۔مجھے بھی یہی عورت ملی۔عمر میں مجھ سے سولہ سال بڑی تھی۔ میری اپنی قوم کی نہیں تھی۔ لیکن میں نے اسے تقدس کا درجہ دینا چاھا، لیکن بدمعاش لاشعور کا تقاضا کچھ اور تھا۔تو میرے اندر ایک جنگ ہونے لگی۔ معاشرتی سطح پر ہمارا رشتہ پاکیزہ رہا لیکن پھر وہ مجھ سےبچھڑ گئی تو اس کے رنج و غم میں ڈائری لکھنی شروع کی۔اور تب ڈائری میں کچھ افسانہ نما چیزیں بھی وارد ہوئیں اور پھر افسانے بننے لگے۔ اور وہی عورت پوری طرح ظاہر ہو گئی کہ میرے لاشعور میں اس کا کیا 
رشتہ تھا۔ میں شرمندہ نہ ہوا کہ میں عملی طور پر گنہ گار نہیں تھا۔ بعد میں کچھ اور عورتیں بھی آئیں لیکن تب میں جوان اور باشعور ہو چکا تھا اور ہر چیز کا احساس تھا تاہم افسانے میں ان کے کردار آتے گئے تو میں بھی بےباکی سے اور آزادنہ لکھتا گیا۔ لیکن اپنے کو لاشعور کے ہاتھوں گرفتار ہونے دیا ورنہ جھوٹ لکھتا سچ نہیں۔ ہاہاہا
سوال۔۔۔۔۔ناصر صدیقی اور سیکس ،یہ دونوں ہم معنی کیوں ہوگئے ؟ آپ کے نزدیک سیکس کی اہمیت کیا ہے؟؟
جواب۔۔۔۔۔اچھا سوال ہے(کاش منٹو زندہ ہوتے!) میں نے جو ابتدائی افسانے لکھے تھے ان میں سیکس یا عورت کا نام و نشاں تک نہیں تھا۔ بعد میں میرے افسانوں میں اسکی بھر مار ہوگئی ۔ وجہ،میں تو خوب جانتا ہوں کہ میں اپنے لاشعور کو جانتا ہوں۔ اپنے قارئین کے لئے صرف اتنا بتاتا ہوں کہ میں ایک شریف انسان تھا اور ہوں تو میری ساری جنسی گھٹن اور ناآسودگی میرے لاشعور میں بس گئی جسے ’’سالا‘‘ کہانی یا افسا نہ نے باہر لا کر مجھے’’رسوا‘‘ کر دیا۔ہاہاہا۔اب مجھے یہ رسوائی قبول ہے کہ حقیقت یہی ہے۔اب میں آخر جھوٹ کس طرح بول سکتا ہوں۔تو یہ صحیح ہے کہ ناصر صدیقی اور سیکس لازم و ملزوم سا ہو گئے ہیں۔لیکن سب افسانوں میں یہ ’’کہانی‘‘نہیں ہے۔ کچھ افسانے تو ،بقول کسی کے،’’ذہنی ورزش‘‘ بھی کراتے ہیں۔اس سوال کا دسرا حصہ کہ سیکس کی اہمیت کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ مجھ جیسے معصوم لکھاری کو کہانی یا افسانہ نے اپنی گرفت میں لے کر سیکس کا یاترا کرایا اور میں صرف ایک بے بس و لاچار افسانہ نگار بن کر وہ کچھ لکھتا رہا جو لاشعور کے لکھاری نے لکھایا۔ ظالم نے کہیں کا نہ چھوڑا۔سب کچھ اگلوا دیا تب اسے سکون ملا۔ وہ تو میری قسمت 
اچھی کہ لکھنے کے دوران fictional craftmanship اور میرا ضمیر یا super egبھی اپناکام ساتھ ساتھ کرتا گیا اور افسانے پوری طرح فحاش نہیں ہو گئے۔عام زندگی میں سیکس کی اہمیت سے مجھے کیا کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔سیکس زندگی ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہتا ہوں کہ سیکس کے لئے ’’وحشی‘‘بننا نہیں چاہیے۔ایک ’’انسان‘‘ہی بن کر اس نعمت سے خوب فائدہ اٹھانا چاہئے۔ویسے میرے افسانے جنسی سے زیادہ نفسیاتی کہلائے جانے چاہیے کہ میرے افسانے مجھے، بحیثیت ایک سماجی فرد یا انسان کے،نفسیاتی تجزئے کے روبرو آسانی سے پیش کر سکتے ہیں۔یعنی میراکیس ہسٹری بنایا جا سکتا ہے۔جو بھی ہو میرے تمام افسانوں میں ،بین السطور یا کھبی کھبی واضح طور پر انسانی المیہ،یا
عورت بیتی’’ دیکھی جا سکتی ہے جسے آفاقی ہمدردی یا انسانیت کا نام بھی دیا جا سکتاہے اور میرے خیال میں ادب کا آخری یہی ایک کام رہ جانے والا ہے ورنہ باقی سب کلشیے بن جاتے ہیں یا افسانے کی تاریخ کی کتاب کا ایک معمولی باب۔میرے افسانے پڑھتے ہوئے یہ ضرور یا د رکھا جائے کہ اسکا لکھاری یا راوی ایک سولہ اٹھارہ سال کی عمر کا ہے کیونکہ کہ میرا لاشعور ابھی نابالغ سا ہے جو جذباتی بھی ہے۔آپ کے سوال کا میرے پاس ’’فی الحال‘‘ یہی جواب ہے،ہاہاہا۔
سوال ۔۔۔۔۔اترائیاں ، چڑھائیاں اور جسمانی ساختوں کے اظہارکے بغیر آپ کا افسانہ مکمل ھی نہیں ھوتا ۔ تو ایسا کیوں ؟ اٹھارہ سالہ لاشعور کو تو ان سب چیزوں کو سوچ کر شرما جانا چاھیئے ۔ ؟
جواب ۔۔۔۔۔ کیا ایک اٹھارہ سال کا لڑکا،جو ایسے معاشرے میں قید تھا جہاں "عورت" دیکھنا اتنا آسان نہ تھا جب اسے کسی حادثےکے طور پر کچھ عرصے کے لئے اترائیاں،چڑھائیاں اور جسمانی ساختیں دیکھنے کو ملیں تو وہ شرما جائے گا یا اسکی جنسی فطرت جاگ جائے گی؟؟ میرا بچپن اور لڑکپن ایک بند اور باپردہ معاشرے میں گزرا تھا۔بعد میں ایک بڑے شہر نے بہت کچھ دکھلادیا اور بتلا بھی دیا،ہاہاہا
سوال :آپ کی توجہ کا مرکز عورت کا وجود تھا یا اس کی روح ؟، مسکراھٹ ،خوشی ، اوراس کا پیار ؟
جواب ۔۔۔۔۔ اچھا سوال ہے۔ شروع میں عورت کا وجود تھا۔ صحت مند وجود۔۔ جب کہ کچھ لوگ سلم بدن کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی مسلہ ہے،ہم 
مجبور ہیں۔ہاہاہا۔ بعد میں مجھے عورت کی مسکراہٹ اور آواز نے اپنی طرف کھنچا۔اور آخر میں عورت کی روح نے پکڑ لیا کہ عورت کی ایک خوبصورتی بلکہ اصل خوبصورتی اسکی روح ہوتی ہے جس کے حسن کو گہن نہیں لگتا۔
اور جہاں تک عورت کی خوشی اور پیار کا معاملہ ہے تو جب اسکی "روح" آپ کے پاس ہوگی یا آپ اسکی روح کی نبض پکڑنے میں کامیاب ہوگئے تو عورت اپنا سب کچھ آپ پر نچھاور کرتی ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔ تو کیا اس دوران کسی عورت نےاز خود بھی آپ کی طرف توجہ کی؟
جواب ۔۔۔۔۔ نہیں کسی نہیں توجہ نہیں دی،میں ہی توجہ دیتا رہا ۔ لیکن شریفانہ اور روایتی انداز میں ۔ سمجھ لیں سارا کھیل یک طرفہ تھا اور مجھے کچھ نہ ملا البتہ پاکیزہ رشتے بہت کما لیے۔
سوال ۔۔۔۔۔پہلا افسانہ کون سا لکھا اور افسانے ھی لکھنے کی طرف کیوں مائل ھوئے؟

جواب۔۔۔۔۔پہلا افسانہ"کمزور آواز"تھا جو اتفاق سے شائع بھی ہوا ۔افسانہ کیوں لکھتا ہوں تو اس کا جواب یہ کہ مجھے شروع ہی میں شاعری سے نفرت سی تھی۔ جب ڈائری لکھنی شروع کی تو نثر سے محبت ہو گئی اور افسانہ اسکا انجام بنا۔
سوال ۔۔۔۔۔آپ کو کس لکھنے والے نے سب سے زیادہ متاثر کیا ؟ 
جواب۔۔۔۔۔جب پہلا افسانہ لکھا تھا تو میں کسی بھی افسانہ نگار سے واقف نہ تھا۔ بعد میں رسالے پڑھنے لگا۔ تب میں کچھ افسانہ نگاروں سے متاثر ہونے لگا ، جن میں ضمیر الدین احمد نے بہت متاثرکیا،نیر مسعود،مشرف عالم ذوقی،شموئیل احمد،اسد محمد خان،سریندر پرکاش،بلراج مینرا،احمد ہمیش،انور سجاد اور پھر منٹو اور راجندر سنگھ بیدی نے بھی متوجہ کیا۔ مغربی ادب میں صرف کافکا کو پڑھا ہے لیکن اچھا نہیں لگا۔
سوال ۔۔۔۔۔ادبی دنیا میں کس کس سے دوستی ھے ؟ 
جواب۔۔۔۔۔ کسی سے بھی دوستی نہیں ہے۔البتہ جناب نصیر احمد ناصر صاحب کا احسان مند ہوں کہ انھوں نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی زندگی کا پہلا افسانہ اپنے رسالے"تسطیر۔لاہور" میں چھاپا۔ یہ 1998 کی بات ہے۔اسکے علاوہ جناب احمد ہمش نے اپنےرسالے"تشکیل" اور جناب مرحوم ڈاکٹر فہیم اعظمیٰ نے اپنےرسالے "صریر۔کراچی" میں میرے کئی افسانے چھاپ کر میری حاصلہ افزائی کی تھی۔چند انڈین رسالوں میں بھی میرے افسانے شائع ہو ئے ہیں۔
سوال ۔۔۔۔۔ کیا آپ کی شادی ھو گئی ھے ؟
جواب۔۔۔۔۔ جی ہاں دو "بیویاں" رکھتا ہوں۔ پہلی بیوی مجھ سے اٹھارہ سال چھوٹی ہیں جو دو چھوٹے چھوٹے بچوں کی اماں جی بھی ہیں۔ دوسری بیوی جو پاکستانی نہیں ہیں ہے مجھ سے 12 سال بڑی ہیں،ان پر کسی جن بھوت کا سایہ تھا تو انسانی ہمدردی اور رشتہ داری کی وجہ سے ان سےشادی کی۔ شادی کے بعد جن بھوت سارے بھاگ گئے اور اب ہم خوش و خرم کی زندگی گزار رہے ہیں
سوال ۔۔۔۔۔ پاکستان کے کون سے ایسے اھم مسائل ھیں جو آپ کو بھی تکلیف دیتے ھیں؟ جواب:پاکستان مسائل سے سلگ رہا ہے۔ مجھے فرقہ واریت زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ باقی تمام مسائل معاشی،سیاسی،سماجی،اور انتظامی ہیں جو اگر کوئی چاھے تو خلوص،نیک نیتی اور بہتر انتظامی امور سے حل ہو سکتے ہیں۔
سوال ۔۔۔۔۔ سارا دن کیسے گزارتے ھیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔میں ایک سرکاری جاب کرتا ہوں۔ 18 گریڈ کا ملازم ہوں۔انتہائی سادہ زندگی گزار رہا ہوں۔ سارا وقت سرکاری جاب اوور گھر والوں کو دیتا ہوں اور جو تھوڑا بہت وقت بچتا ہے اس میں اپنے ادبی کاموں کو دیکھتا ہوں اور فیس بک پہ آتا ہوں۔آج کل رسالے بھی کم پڑھتا ہوں۔ ٹی وی نہیں دیکھتا،انٹرنیٹ سے اخبار پڑھتا ہوں اورکرکٹ کی خبریں دیکھتا ہوں۔ فلمیں بھی نہیں دیکھتا لیکن نئی اور پرانی فلموں کی وسیع معلومات رکھتا ہوں۔
سوال ۔۔۔۔۔ کیا آپ ابھی بھی ناآسودہ ھیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔سماجی اور ازدواجی طور پر ناآسودہ بالکل نہیں ہوں۔ لیکن آئیڈیلی یا انسانی فطرت کا منہ زور گھوڑا ساری عمر دوڑسکتا ہے،یا یوں سمجھ لیں کہ اس جہاں کے رنگ و بو سے لپٹی ہر مورت آ پ کو اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ تو اس حوالے سے ایک "انساں"کھبی بھی آسودہ نہیں ہو سکتا۔جنسی حوالےسے کسی انسان کی "مکتی" آسانی سے نہیں ہوتی۔
سوال ۔۔۔۔۔کیا آپ نے پاکستان کے دیگر مسائل پر بھی افسانے لکھے ھیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ بہ حیثیت ایک اس سماج کے فرد کے،میرا یا کسی کا بھی ذاتی مسلہ ایک ملکی مسلہ بھی ہو تا ہے، اگر آپ پورےتناظر میں بات کرینگے تو جی ہاں! میں نے پاکستان کے دیگر مسائل پہ بھی افسانے لکھے ہیں۔ایک دو افسانے رسالہ"تسطیر" میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔ ویسے میرا "انسان" ایک آفاقی انسان ہوتا ہے۔ تو اسکے مسائل آفاقی ہوتے ہیں چاھے وہ میرے سماج میں بستا ہے یا کسی اور سماج کا حصہ ہو۔حتی کہ ایک جنگل کا انسان بھی میرا اپنا ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔ ایک ادیب کی کیا زمہ داری ھوتی ھے ؟ وہ معاشرے کو کس طرح بدل سکتا ھے؟

جواب۔۔۔۔۔ میں یہاں مختلف جواب دیتا ہوں۔ بحیثیت ایک ادیب، میں نے خود پر کھبی بھی کوئی سماجی بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ یہ میرا کام نہیں ہے۔ کم از کم ہمارے معاشرے میں اب تک ادب نے کوئی خاص اثر نہیں ڈالا ہے، جسے انقلابی کہا جا سکے۔آج بھی لوگ منٹو کو جنسی چٹخارہ کے لئے پڑھتے ہیں،یہ ہمارا حال ہے۔ میں اپنی کھتارسس کے لئے ادب لکھتا اور پڑھتا ہوں۔ حقیقی طور پہ میرےافسانون کا قاری صرف ایک ہوتا ہے،میں خود۔ یہ الگ بات کہ انسا ن چاہتا ہے کہ اسکی چیزیں دوسرے لوگ بھی دیکھ سکیں، تو اسی وجہ سے میرا ادب باہر نکلا ورنہ ساری عمر میرے رجسٹروں میں پڑا رہتا۔ میں ادب کو ایک آرٹ سمجھتا ہوں۔ ایک واعظ،پیغام یا نظریہ نہیں اس سے آپ اپنے معاشرے کا چہرہ بھی دیکھتے ہیں ،یہ الگ بات ہے اور شاید اسی بات نے ہم سب کو ایک جگہ پہ لا کھڑا کیا ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ اپنے افسانے میں معاشرے کن اھم مسائل کو مدنظر رکھتے ھیں ؟
جواب۔۔۔۔۔۔میرا مطالعہ اور مشاہدہ صرف اورصرف انسان ہوتا ہے ،تو میں کسی 'فرد' کو مدنظر رکھتا ھوں،اور یہ فرد مختلف کردار لے کر میرے افسانوں میں آتا ہےاوراسکی صنف بھی تبدیل ہوتی ہے۔
سوال۔۔۔۔۔آپ ایسے افسانے کیوں لکھتے ہیں کہ بعض اوقات آپ خود انکی تشریح نہیں کر سکتے؟
جواب۔۔۔۔۔میں افسانے لکھتا نہیں،مجھ سے لکھوایا جاتا ہے ،اور اس بات کا میرے پاس اچھا خاصا ثبوت ہے۔ لمبی بحث ہے ، تاہم اتنا ضرور بتاتا ہوں کہ افسانہ لکھنے کے بعد جب میں مسودے کو اپنی عام زندگی کی عینک سے دیکھتا ہوں تو حیرت میں پڑتا ہوں کہ کیا واقعی یہ سب میں نے لکھا ہے!!!ٓپ یوں سمجھ لیں کہ میں عام زندگی میں ایک مزدور،قلی ،موچی یا حلوائی ہوں،تو کیا آپ مجھ سے ایک پیچیدہ افسانہ لکھنے کی توقع کر سکتے ہیں؟؟نہیں نا؟ تو میرا عام زندگی کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ یہ سب لاشعور کی کارستانی ہے بھائی۔البتہ لکھنے کے بعد کچھ ترمیم 
ضرور کرتا ہوں۔اور یہ بھی سچ ہے کہ میرے کچھ افسانوں کی تشریح مجھ سے بھی نہیں ہو سکتی لیکن میں پھر بھی اتنی مشکل میں نہیں ہوتا ہوں جتنا ایک قاری۔
سوال۔۔۔۔۔افسانے لکھنے میں آپ کس سے متاثر ہیں؟
جواب۔۔۔۔۔میرا کسی سے متاثر ہونا کچھ بھی معنی نہیں رکھتا، افسانے تو مجھ سے لکھوائے جاتے ہیں۔البتہ شعوری طور سے میں ضمیر الدین احمد اور نیر مسعود کی طرح لکھنا چاہتا ہوں لیکن یہ سب میرے ہاتھ میں نہیں ہوتا ہے بھائی۔تو اب تک میرا اپنا اسلوب رہا ہے۔ مجھے اس بات سے بھی حیرانی ہے کہ کئی معتبر مدیر مجھے منٹو ثانی اور فرنچ افسانہ نگار موپاساں کا ایکسٹنشن بھی کہہ چکے تھے اور تب میں ان دونوں سے واقف بھی نہیں تھا۔ بعد میں کچھ جانکاری ملی۔ یہ بھی سچ ہے کہ مجھے آج بھی علامتوں اور استعاروں کا برتنا نہیں آتا ہے ۔ میں تو جانتا بھی نہیں کہ یہ کیا بلا ہیں ،لیکن یہ سب خود بخود میرے افسانوں میں در آتے ہیں۔ میں ذرا مختلف ہوں۔اور یہ بھی سچ ہے کہ میرے پاس کچھ ایسے افسانے بھی ہیں جو بے حد پیچیدہ یا ممکنہ طور پر اتنے متنازعہ ہوں گے کہ لوگ منٹو کو بھی بھول جائیں گے۔ یہ دعویٰ نہیں حقیقت ہے۔اور میرے نزدیک اردو افسانے کی بادشاہت میں منٹو حرف آخر نہیں ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔آپ کو زندگی میں کیا پسند ہے اور کیا پسند نہیں ہے؟
جواب۔۔۔۔۔اخلاقی طور پر مجھے جھوٹ سے ہر زمانے سے شدید نفرت رہی ہے۔ میں عبادات میں سستی کا شکار بے شک ہوں۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر اسلام بے حد پسند ہے لیکن اسے دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے کاخواہشمند نہیں ہوں۔ صرفٖ دعا ہی کر سکتا ہوں کہ اسلام کو ہر کوئی میری طرح سمجھے تو خوشی ہوگی۔ میری اب ایک ادنیٰ سی تمنا بھی ہے کہ میں افسانہ نگار کے طور پر عالمی سطح پر اتنا مشہور ہوجاؤں کہ لوگ میری طرف متوجہ ہوں ، تب میں اسلام کی باتیں کروں گا۔ مجھے یقین ہے لوگ میری بات ضرور سنیں گے۔آپ حیرت نہ ہوں 
جب میں یہ کہوں کہ میرے افسانے اسلامی ہیں۔ ہے نا حیرت کی بات! یہ لمبی بحث ہے پھر کھبی۔ میری زندگی سادہ ہے صرف ماضی کی حسرتوں کو پالتا ہوں۔اور وہ کیا ہیں؟ پاکستانی پرانی فلموں کے پوسٹراور فلمی اور غیر فلمی نغمے جن سے اتنا لگاؤ ہے کہ کچھ عجیب لگتا ہے۔اس کے علاوہ مجھے مشرقی نسوانی حسن بہت پسند ہے،خاص کر گھنیرے اور سیاہ زلفیں۔ میک اپ سے نفرت ہے،عورت کی سادہ اور فطری خوبصورتی کا دلدادہ ہوں چاھے سانولی ہو یا گوری۔ دوست اور گھر والے ہزار بار کہہ چکے ہیں کہ میں ذرا مختلف قسم کا شخص ہوں اب میں خود بھی ماننے پر مجبور ہوں کہ میں واقعی مختلف ہوں۔
سوال ۔۔۔۔۔۔ اکثر خواتیں آپ کے افسانے کی منظر نگاری کو پڑھنے کے بعد احتجاج بھی کرتی ھیں کہ آپ عورت کے جسم کے حصوں کا زکر کئے بغیر بھی افسانہ لکھ سکتے تھے ۔ تو آپ ان کو کیا کہیں گے؟
جواب۔۔۔۔۔میں نے افسانے قاری کے لئے نہیں لکھے تھے۔لیکن جب یہ قاری کے سامنے آگئے ہیں تو "عورت" نے اپنے کو قاری سے زیادہ ایک "عورت" گردانا ہے تو اسی وجہ سے وہ میرے افسانوں کی "عورت" کے، بقول اسکے، جسمانی استحصال پر اعتراض کرتی ہے۔ میری عورت منٹو کی عورت سے مختلف ہے،اور مجھے اتنی عزیز اور پیاری ہے کہ میں نے ہر افسانے میں اسکی "باطنی عزت نفس" کو محفوظ کیا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ دیکھنے والی آنکھ نہیں ہے اور اس کے کرب اور درد کو دیکھنے والی نگاہ مفقود ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔ منٹو اور آپ میں کیا قدر مشترک ھے ؟ 
جواب۔۔۔۔۔یہ بات کوئی قاری یا ناقد ہی بتا سکتا ہے کہ کیا قدر مشترک ہے۔ کیونکہ میں منٹو سے مقابلہ نہیں کر رہا نا ہی منٹو کو سامنے رکھ افسانے لکھتا ہوں۔ یہ اتفاق کی بات ہے،کہ جنس نگاری ہم دونوں کی ایک مشترک چیز بن گئی ہے،منٹو کے برعکس میں نے بہت سارے مختلف موضوع اور تکنیک کے افسانے بھی لکھے ہیں، جس سے میرا راستہ ان سے جدا ہوتا ہے۔آخری بات یہ کہ میں نہیں جانتا کہ "منٹو" کون ہیں اگرچہ جانتا ہوں کہ وہ کون ہیں ؟ہاہاہا
سوال ۔۔۔۔۔ لاشعور ایک فلٹر ھوتا ھے ۔ جو منفی چیزوں کو اپنے پاس رکھ لیتا ھے ۔ آپ کا لاشعور ایسے کیوں نہیں کرتا ھے ؟
جواب۔۔۔۔۔ میں نے اپنے لاشعور کو آزادانہ چھوڑ دیا کہ وہ اپنی منشا کے مطابق مجھ سے اپنا کام لے تو یہ فلٹر ہٹ گیا۔میں ایک لحاظ سے خود ہی اپنی تحلیل نفسی کرے لگا تھا،اور مجھے ایسی ایسی چیزیں ملیں کہ شرم سے میں حیرت زدہ رہ گیا۔تاہم اسکے باوجود میں نے یہ فلٹر دور رہنے دیا اور لاشعورایک قلم لے کر اپناسب کچھ کاغذ پہ لکھواتا گیا۔
سوال ۔۔۔۔۔آپ نے کہا کہ مجھے عورت کی"باطنی عزت نفس" بہت پیاری ھے ۔ آپ اپنے کسی افسانے کا حوالہ دے کر بتا سکتے ھیں کہ کہ آپ عورت کو عظمت کیسے بخشتے ھیں ؟
جواب۔۔۔۔۔ میرے تمام افسانوں میں مرد کا کردار عورت کے آگے بے حد کمزور ہے۔ تو یہ سب کس چیز کی دلیل ہے؟عورت چھپانے کی مخلوق ہے لیکن جب بھی اسے کوئی مرد دیکھتا ہے تو فطری طور پر اسکا ذہین عورت کے نقش و نگار کی بھول بھلیوں میں گھومنے لگتا ہے۔ میرے افسانوں کا معصوم’’میں‘‘ صرف اسکا سچا اظہار کرتا ہے ۔جھوٹ نہیں کہتا ہے، اور نہ منافقت کاسہارا لیتا ہے۔ تو اس میں برائی کیا ہے،صرف دیکھنے کی حد میں یہ سب کچھ ہے ،اور فطری بھی ہے،جبکہ کرداروں کی گفتگو میں کوئی بھی قابل اعتراض بات نہیں ہوتی ہے۔اور اگر کوئی 
کردار ہوس پرست ہے یا جنونی ہے تو فنی حوالے سے یہ امر ہے کہ وہ کچھ بھی’’ بک‘‘ سکتا ہے۔ اور اس میں ایک سچے لکھاری کا کوئی قصور نہیں ہوتا ہے۔ یہ بھی لمبی بحث ہے جی ۔ہاہاہا۔
سوال ۔۔۔۔۔ دین اسلام کیسے آپ کے افسانوں سے جھلکتا ھے ؟ اس کی کچھ وضاحت ھو جائے ؟
جواب۔۔۔۔۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور ایک لمبی بحث۔چونکہ میں اس حوالے سے اپنی ایک انتہائی ذاتی سوچ رکھتا ہوں تو میری باتیں یقینا! کچھ لوگوں کے نزدیک مضحکہ خیز ہوں گی لیکن مجھے اسکی پرواہ نہیں کہ مجھے اپنے سارے اعمال کا خود سامنا کرنا ہے۔ اور پھر ہر چیز کی شفافیت کسی کی نیت پر بھی ہے۔اسلام میں جوان بہن بھائی کو اکیلے رہنے کی ممانعت ہے۔ تو میری سوچ اسی نکتہ سے شروع ہو کر آگے جاتی ہے۔میرے افسانے’’وادی متکلم‘‘ میں ہوتے ہیں۔ افسانے کا حقیقی’’میں‘ ‘ اس’’ عورت‘‘ کو دیکھتا ہے اور بہت کچھ محسوس کرتا ہے تو اسلام کی کئی باتیں سماجی اور فطری طور سے جسٹیفائیڈ ہو تی ہیں۔ تو میرے افسانے اسلامی ہوئے یا نہیں؟
سوال ۔۔۔۔۔ کیا آپ سمجھتے ھیں کہ عورت کو عظمت نہیں بخشی گئی؟۔ باوجود اس کے اس کے پاؤں تلے جنت رکھ دی گئی اور مرد کو کہا گیا تیری جنت اس کے پاؤں کے نیچے ھے ۔
جواب۔۔۔۔۔مذہبی طور سے عورت کو بڑی عظمت بخشی گئی ہے۔ لیکن بہت سارے نادان مذہبی پیروکار اس عظمت کے پیچھے پڑے ہیں۔ اورعورت کے پاؤں کے نیچے کی جنت کو عورت کے جسم کی اسکرین پہ لا کر اور دیکھ اپنی اور عورت کی زندگی کو دوزخ بنا گئے ہیں۔ ہر معاشرے میں نیک و بد کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ تو اسے پورا نیک بنانے کے لیئے کسی نہ کسی سطح پرجد وجہد بھی جاری ہے۔ایک زمانہ آئے گا کہ سب’’ راضی‘‘ ہو جائیں گے۔ افسوس ہے کہ آج کل اعتراضی لوگ مذہب کے بجائے اسکے پیروں کاروں کے تعصب یا بد اعمالی کو دیکھ کر 
مذہب پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ بھئی، مذہب ہر زمانے سے صحیح راستے پر چلتا رہا ہے اسکے ماننے والے غلط راہ اختیار کرتے ہیں تو پورے مذہب کو لتاڑنا کہاں صحیح ہے؟؟؟
سوال ۔۔۔۔۔آپ نے پانچ سو سے زائد افسانے لکھے ۔ کیا کوئی کتاب بھی آئی ھے مارکیٹ میں ؟ یا جلد آرھی ھے ؟
جواب۔۔۔۔۔ میں ابھی کسی کتاب کے چھپنے کے حق میں نہیں ہوں۔ یار دوست بڑا زور دیتے ہیں۔ کچھ پبلیشروں سے بھی بات ہوئی تھی۔ تاہم مجھے جلدی نہیں ہے۔ باقی کوئی ایسا مسلہ نہیں کہ چھپ نہ سکے۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ مستقبل میں افسانے ھی لکھیں گے یا کہ ناول کی طرف بھی آئیں گے؟
جواب۔۔۔۔۔میرے افسانوں میں منظر نگاری اور جزیات نگاری نہیں ہے پھر بھی طویل ہوتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ یہ دونوں چیزیں شامل کروں تو آسانی سے ناول یا ناولٹ لکھ سکتا ہوں۔ بلکہ ایک ناولٹ لکھ بھی لیا ہے جسے میں خود نظر انداز کر بیٹھا ہوں۔ لیکن مجھے افسانہ لکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ تقدیر کہاں لے کر جائے گی۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ نئے لکھنے والوں کو افسانہ لکھنے کی کیا ترکیب بتانا چاھئیں گے؟

جواب۔۔۔۔۔نئے لکھنے والے صرف لکتے رہیں ترکیب کے چکر میں نہ پڑیں۔افسانہ اور اسکی تعریف ابھی ارتقاپذیر ہے تو کوئی بھی ترکیب یا صلح حرف آخر نہیں۔۔بس لکھتے رہیں ۔آپ کی تحریریں ادب کی کسی نہ کسی کھونٹی پہ خود بخود لٹک جائیں گی
سوال ۔۔۔۔۔ آپ کے خیال میں لوگوں کی جنسی گھٹن کی وجہ کیا بنتی ھے ؟ اور اس کا کیاحل ھے ؟ 
جواب۔۔۔۔۔سیکس ایک فطری بھوک ہے اور یہ تو لگنی ہی ہے۔اس کا آسانی سے نہ ملنا جنسی گھٹن کا سبب بنتا ہے۔ مذہبی طور سے اسکا حل تو صبر،روزہَ اور شادی ہے۔ باقی ہر راستہ اور طریقہ نا جائز۔ مذہب سے ہٹ کر کیا کوئی سوچ سکتا ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں! میں ہے تو سیکس کی فراوانی کے لئے ایک صحت مند معاشرہ کی ضرورت ہے۔اور میرے خیال میں ایک صحت مند معاشرہ مذہب سے صحیح طور سے منسلک ہو کر ہی بنتا ہے یہ الگ بات کہ آج کل لوگ مذہب کی بجائے کسی’’اور طرف‘‘دیکھتے رہتے ہیں ۔ تو ابھی یہ گھٹن جاری رہے گی ،اور
نہ جانے کتنی اور جانیں جائیں گی اور کیا کیا مشکلات پیش آئیں گی۔
سوال ۔۔۔۔۔ ابوالخلیل کی کہانی ابھی تک حل نہیں ھو پائی ۔ کچھ اس پر اظہار کیجئے کہ وہ کہانی اصل میں ھے کیا ؟
جواب۔۔۔۔۔ میری نظر میں ابو خلیل کی کہانی بہت سادہ ہے۔اس میں ایک مرد کا مضبوط کردار اور شخصیت ’’عورت کے حسن اور ’’جسم‘‘ سے فطری طور سے ٹکراتی ہے لیکن مرد کچھ حوالے سے سسرخ رو ہوجاتا ہے۔اور یہی ادا عورت پسند کرتی ہے۔دونوں طرف کا پلڑا برابر ہے۔البتہ اس کہانی کا اسلوب اور تکنیک کچھ نئی ہے۔اس کہانی کا خمیر میرے ماضی کے علاقے کی مٹی سے جڑا ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔ آخر میں قارئین کے نام اپنے پیغام میں کچھ کہنا چاھیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔ آج کل کا قاری ووٹراور فلمی پرستار کی حیثیت رکھتا ہے تو اسکی لکھاری کو بڑی ضرورت رہتی ہے۔لکھاری اگرجاودگرہے تو قاری بادشاہ گر ہے(ہاہاہا)۔میرا پیغام اپنے پیارے قارئین کے لئے یہ ہے کہ خدارا میرے افسانوں کے باطن میں اتر کر میرے کرداروں کو دیکھیں ورنہ اوپر اوپر جو کچھ نظرآتا ہے ان سے لطف تو اٹھایا جا سکتا ہے لیکن "اعتراض" بھی کیا جا سکتا ہے۔اب میں ہر افسانے کا نسخہ ساتھ ساتھ نہیں دے سکتا۔ تو بس جو بھی ہو یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ سارے شاد و آباد رہیں کہ افسانہ اور قاری کےعلاوہ ہم سب انسان اور ایک دوسرے کے پیارےہیں۔

(بحوالہ اردو افسانہ فورم)

 

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.