12 Sep, 2017 | Total Views: 252

شاہد جمیل

شاہد جمیل

گل بانو

 کون کہتا ہے آج اچھا ادب تخلیق نہیں ہورہا !!! آج اچھا ادب نہ صرف تخلیق ہو رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر اسے بہترین پزیرائی بھی مل رہی ہے ۔ اسی سلسلے میں آج ہم جس ادبی شخصیت کا تعارف آپ سے کروانے جا رہے ہیں ان تعلق نہ کسی گمشدہ اوراق سے ہے اور نہ ہی گمشدہ ادوار سے ، ان کا شمار عصرِ حاضر کے مایہ ناز ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ 9 کتابوں کے خالق جناب شاہد جمیل احمد آج ہمارے ساتھ شاملِ گفتگو ہیں آئیے سُنتے ہیں ان کے ادبی سفر کی روءِ داد خود ان کی زبانی !
السلام علیکم جناب ! ہم آپ کو اپنے گروپ مکالمہ میں خوش آمدید کہتے ہیں !
شاہدجمیل احمد : وعلیکم السلام !
سوال۔۔۔۔۔۔۔ شاہد جمیل احمد کو دو لائنوں میں کیسے بیان کریں گے؟
 جواب ۔۔۔۔۔۔میرا نام شاہدجمیل اور قلمی نام شاہد جمیل احمدہے ، کبھی کچھ کام بھی کرنا وگرنہ نام کا کیا ہے ، ہمارا بھی نہیں رہنا تمہارا بھی نہیں رہنا۔

سوال۔۔۔۔۔۔۔بچپن ، جوانی اور اب، کیا کھویا کیا پایا ؟
 جواب ۔۔۔۔۔۔میں نے گوجرانوالہ کے ایک دُور افتادہ گاوٗں میں آنکھ کھولی، سکول کی کوئی باقاعدہ عمارت نہ تھی ، ایک ٹہنے والے پہاڑی کیکر کے چھدرے سائے میں کلاس لگتی، ابھی ایک سال ہوا تھا کہ شدید بارشوں میں جوہڑ کنارے قائم یہ برائے نام سکول بھی بہہ گیا ، پھر دوسری اور تیسری جماعت میں تین میل دور ساتھ کے گاوٗں پیدل پڑھنے جاتا، پانچویں کا بورڈ کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ، مڈل سکول ہمارے گاوٗں سے آٹھ میل دور تھا ، کچا رستہ ، چلچلاتی دھوپ ، رگوں میں خون جماتی سردی ، ہرکولیس کا چھبیس کا سائیکل ، میں معصوم و ناتواں بچہ، بس کچھ مت پوچھئیے بڑی کٹھنائیاں برداشت کیں ، میری ماں اللہ بخشے کہا کرتی تھیں ، بیٹا پڑھنا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے، اسی شے کو نبھاتے ہوئے جوانی کب آئی اور کب گزر گئی پتہ نہیں چلا،اب بھی میرا یہی معمول ہے کہ بس کام میں جُتا رہتا ہوں، محنت کی عادت پڑ گئی ہے، میرے پاس کھونے کو کبھی بھی کچھ نہیں رہا، زندگی کچھ نہ کچھ پانے کی جدوجہد میں صرف ہوئی۔
سوال۔۔۔۔۔۔۔تعلیم کب ، کہاں سے حاصل کی اور دیگر مشاغل کیا رہے؟
 جواب ۔۔۔۔۔۔ گورنمنٹ ملت ہائی سکول گوجرانوالہ سے انیس صد پچاسی میں میٹرک اور گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاوٗن گوجرانوالہ سے انیس صدستاسی میں ایف ایس سی کی، اس دوران مجھے مطالعہ کا شوق ہوا ، لوگوں سے ، لائبریریوں سے کتابیں لے کر پڑھتا رہا ، مطالعے اور پڑھائی کی تمام تر مصروفیات کے باوجود ، گملوں ہی میں سہی پر باغبانی کا مشغلہ جاری رہا ، پودوں ، پرندوں سے ہمیشہ بہت محبت، قربت رہی۔ بعد ازاں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلہ ہوا اور یہیں سے انیس صد ترانوے میں ایم ایس سی(آنرز)،ایم فل تک کی تعلیم ایگریکلچرل انٹومالوجی میں مکمل کی، سروس میں آکردو ہزار پانچ میں ایم بی اے مارکیٹنگ کی ڈگری یونیورسٹی آف لاہور سے حاصل کی، پھر انسٹیٹیوٹ آف بینکرز پاکستان سے بینکنگ کے امتحانات پاس کئے، اب بھی باغبانی بدستور میرا مشغلہ ہے جبکہ پڑھنا لکھنا پیشن بن گیا ہے۔
سوال۔۔۔۔۔۔ آپ کے ادبی سفر کی شروعات کب ہوئی؟ اب تک کتنے افسانے اور ناول لکھے؟
 جواب ۔۔۔۔۔میں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، اب بھی شاعری کرتا ہوں، نظم و غزل، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد شاعری ہی کی طرح یہ بھی قدرتی طور پرہی محسوس ہوا کہ مجھے کہانی لکھنی چاہئیے، لکھنی شروع کی، لکھتا چلا گیا اور اب بنیادی طور پرافسانہ ہی میری اچھی یا بُری ، کم یا زیادہ پہچان کا باعث ہے۔جب میں گیاہویں جماعت میں گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ گوجرانوالہ میں تھا تو میری کئی نظمیں ، غزلیں اور نعتیں کالج کے ماہانہ ادبی رسالہ خبر و نظر میں شائع ہوئیں ، پہلی کہانی سنجوگ اسی کالج کے طلبا میگزین مہک میں شائع ہوئی، یہ انیس صد ستاسی کی بات ہے۔
 اب تک لکھے افسانوں کی بابت بات کروں تو ان کا تعدد لا تعداد ہے البتہ سو کے قریب شائع ہوئے اور یہ تعداد ہی یاد ہے ، ایک اردو ناول ہے۔
سوال۔۔۔۔۔۔ شاعری سمیت ، اب تک کتنی کُتب شائع ہوئیں تمام کتب تفصیل سے بیان کریں اور ان کے لکھنے کی وجوہات کیا رہیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔اب تک میری نو کتابیں شائع ہو چکیں ، تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
کتابیں: (1) آؤ فاختہ گھر چلیں، افسانے (اردو)
(2) جاگرن افسانے (اردو)
(3) سرخ گلاب افسانے (اردو)
(4) نی مائے پنجابی شاعری
(5) او یار پنجابی شاعری
(6) کبوتروں کا سپائی پلان ناول (اردو)
(7) کیسے ہوتے ہیں وہ خط مجموعہ خطوط
(8) جہنم اور صندل کی چھڑی کلیات اردو افسانہ
اور نویں کتاب ، پیچاک ، ہے! یہ بھی افسانوی مجموعہ ہے ۔
 میں افسانہ لکھتا نھیں، کہتا ہوں، میرے نزدیک تخلیق قدرتی عمل ہے ، شاعری ہو یا افسانہ ، اسے میکانکی انداز میں نہیں لکھا جا سکتا ، تخلیقی تجربہ و عمل مختلف ہو سکتا ہے لیکن یہ سب نیچرل ہے، کم از کم میں اسے ایسا ہی جان پایا ہوں ۔ میری دانست میں فکشن میں فکروتخیل کے پنپنے کے سب سے زیادہ امکانات و مواقع ہیں ،یہاں تخلیق کا کینوس بہت وسیع ہے، میں بنیادی طور پر شاید سائنس کا طالبعلم ہونے کی وجہ سے سنجیدہ سائنسی موضوعات اور اختلافات اور پھر سیاسی و نظریاتی مباحث کو ادب میں تخلیقی اُپج کے ساتھ پیش کرنے کا خواب دیکھتا تھا ، مجھے اپنے اس خواب کی تعبیر افسانے کی صورت میں وقوع پذیر ہوتی محسوس ہوئی ، یہی وجہ ھے کہ میں نے صنف افسانہ کا انتخاب کیا۔
 سوال ۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ !شاعر سے ان کا کلام نہ سنا جائے کیسے ہو سکتا ہے اپنی پسندیدہ ایک نظم یا غزل تو ضرور ہی پیش کریں :
جواب ۔۔۔۔۔۔۔
نظم " حیاتِ جاوداں "
ہمیں کچھوے کے پاوءں کی طرح
اپنی انا کے خول میں
فورا سمٹ جانے کی عادت ہو گئی ہے-
اگر دلدل کنارے کاوش و تدبیر کی خاطر
کبھی اپنی ضرورت بھی پڑے تو بھی
ہماری دستیابی واقعی مشکُوک ہو جائے۔
کہ ہم نے تو بدلتے منظروں سے جی چُرا کر
اپنی آنکھوں پرسیاہ عینک لگالی ہے- دھڑکتے دِل کو سائنسدان بن کر
ایک پُرزہ سوچ رکھا ہے-
کسی کچھوے طرح !
اپنی انا کے خول میں بیٹھے
تنفس کو حیاتِ جاوداں کا نام دیتے ہیں-
حیاتِ جاوداں !
کہ جس کی ساری جاودانی بھی کسی دلدل کے ! مخرُوطی کنارے پھیلنے تک ہے-
سوال۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعری کا آغاز کب سے ہوا اور کس بات نے شاعری کی جانب مائل کیا ؟
 جواب ۔۔۔۔۔۔۔انیس صدچوراسی کی بہار کے دن تھے اور نویں کلاس جب میں ہاتھ میں کتابیں تھامے پڑھائی کی غرض سے لیاقت پارک گوجرانوالہ میں پھولوں کی کیاریوں اور سبز روشوں کے آس پاس گھوم رہا تھا ، آج خلافِ معمول پڑھائی میں دل نہ لگا، دل کو عجب بے چینی لگی، اس روز پہلی باقاعدہ نظم کہی جو بہار کے موضوع پر تھی،نظم تو یاد نھیں رہی ، واقعہ یاد رہ گیا، اس سے دو تین سال قبل بھی میں چلتے پھرتے مصرعے موزوں کیا کرتا تھا لیکن یہ باقاعدہ شاعری نہ تھی۔
سوال۔۔۔۔۔۔ بینک کی نوکری اور افسانہ نگاری دو متضاد کیفیات کا نام ہے ، ان کو ایک ساتھ کیسے نبھایا؟
جواب ۔۔۔۔۔ میں نے زندگی میں دو دو نہیں بلکہ چار چار بظاہر متضاد کیفیات کے حامل کام سر انجام دئیے ، میری تعلیم پیور سائنسی نوعیت کی ہے جبکہ میری ملازمت بینکنگ اور اکاوٗنٹس سے متعلق ہے ، پھر ادب ایک الگ میدان ہے ،ان سب کے ساتھ گھر داری کے جھمیلے بھی ، ہوئے ناں چار مختلف اور متضاد کام۔ شروع میں میں یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں ادب کا استاد ہوتا تو بہت کامیاب ادیب بھی ہوتا لیکن جلد ہی میرا یہ خیال بدل گیا ، در اصل شاعری یا افسانہ نگاری بوریت کے ردعمل کے طور پرتخلیق پاتی ہیں اور بینکنگ کے شعبے میں مجھے بوریت کے بے بہا مواقع میسر آئے اور مجھے لکھنے کی تحریک ملتی رہی، انجامِ کار فائدہ ہی ہوا بہر حال۔
سوال۔۔۔۔۔۔ بڑی مباحث پڑھتے سنتے رہتے ہیں، آپ کے خیال میں افسانہ آخر ہے کیا؟
جواب ۔۔۔۔۔میرے نزدیک افسانہ مخصوص کیفیتِ ذہنی (( Special State of Mindd کا نام ہے جو بیان کرنے سے زیادہ محسوس کرنے سے تعلق رکھتی ہے اور انسان کوفکشن کے لطیف پیرائے میں سوچنے، محسوس کرنے اور انٹر پریٹ کرنے کی اہلیت عطا کرتی ہے، یہ ایک جانب تخلیق کار و افسانہ نگار تئیں عظیم کائناتی عملِ تخلیق سے منسلک کرتی ہے تو دوسری جانب قاری تئیں فکر و احساس کے کئی در وا کرتی محسوس ہوتی ہے، اس میں ہر دو یعنی لکھاری اور قاری کے لئے دعوتِ فکر بھی ہے ، انبساط بھی، غمی بھی ،حظ بھی ، ملال بھی ، شعور بھی، تعمیر بھی، تشکیل بھی،تحیر بھی اور جملہ معلومات بھی۔
سوال۔۔۔۔۔۔اتنی کامیاب زندگی کے بعد خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں، آسودہ یا نا آسودہ؟
 جواب ۔۔۔۔۔کامیاب ان معنوں میں کہ مجھے موروثی طور پر کچھ بھی بنا بنایا اور ہُوا ہوایا نہیں ملا، بنیادی ضروریاتِ زندگی کی چھوٹی اشیا سے لے کر معاشرے میں اپنے چھوٹے موٹے مقام تک مجھے سب کچھ خود بنانا اور کرنا پڑا، نظریاتی طور پر میں دولت ،اموال جمع کرنے کے قطعی حق میں نہیں، زندگی میں چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بھی اگر آسانی سے بہم ہو جائیں تو کافی ہیں ، میں نے زندگی کے گرم و سرد کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور میں ہمیشہ اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھتا ہوں اور خدا کا شکر ادا کرتا ہوں ، تاہم زندگی ہے تو مشکلات ، مسائل مسلسل آتے جاتے ہیں اس لئے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی آسودگی اور نا آسودگی کے ما بین ہی چل رہی ہے۔
سوال۔۔۔۔۔۔کوئی ایسا یادگار واقعہ جہاں سے زندگی نے نیا موڑ لیا؟
 جواب ۔۔۔۔۔میری زندگی میں ہوئے دو واقعات میری پوری زندگی کو محیط ہیں ، مختصر طور پر عرض کرتا ہوں ، پہلے واقعے میں ایک لیب ایکسیڈنٹ کے دوران کھولتی ہوئی الکلی ، سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ ( (Na OH میری آنکھوں اور چہرے پر گر گئی ، دو ماہ تک ہسپتال میں پڑا رہا،کچھ نہ دیکھ سکا اور ہیلن کیلر کی طرح فقط تخیل کی پرواز کے سہارے گزارا کیا ، ڈاکٹروں نے دوبارہ نظر کی بحالی بارے شکوک کا اظہار کیا، لیکن آہستہ آہستہ یہ مسئلہ ٹھیک ہو گیا اور یوں میں نے نا امیدی سے امید کو طلوع ہوتے دیکھا ، دوسرے واقعے میں ایک پراپرٹی گینگ نے میرا بینک کے قرضے سے بنایا ہوا گھر دورانِ فروخت ہتھیا لیا ،میں ایک بار پھر زیرو پر آگیا لیکن ہمت نہیں ہاری ، کیس لڑے ، تھانوں ، کچہریوں میں رسوا ہوا، اپنے حق کے لئے جدو جہد کی اور نئے سرے سے زندگی کی بنیاد رکھی،اس واقعے کے بعد مجھ میں مزید حوصلہ و ہمت در آئی۔
سوال۔۔۔۔۔۔۔آپ کے خیال میں آج کے افسانوں کی دوڑ ، نئے لکھنے والوں کو کھوج رہی ہے یا انہیں روندھتے ہوئے گزر رہی ہے؟
 جواب ۔۔۔۔۔۔میری دانست میں کوئی کسی کو نہ روندہ سکتا ہے اور نہ چِت کر سکتا ہے چہ جائیکہ مدِ مقابل خود ہی حوصلہ ہار جائے ، ہتھیار پھینک دے ، ادب کے میدان میں یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نئے لکھنے والے مستقل مزاجی سے پڑھنے لکھنے کی بجائے راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھُو لینے کی خواہش دل میں لیکر آگے بڑھتے ہیں ، ادب میں یہ فکر کسی طور کارگر نہیں ، یہاں بڑے تحمل ، بردباری اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے ، جس میں یہ نہیں ، وہ کوئی اور کام کرے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ خاص طور افسانے کی تخلیقی ٹرانس میں آنے کے لئے لمبے مشاہدے ، تجربے بلکہ مجاہدے کی ضرورت پڑتی ہے، پھر جو چاہے یہ صعوبت اُٹھا لے اور جتنی جلدی چاہے اُٹھا لے، آج کا افسانہ تو ویسے آج کے لوگ ہی لکھ رہے ہیں ، لکھ سکتے ہیں لیکن افسانہٗ جدید کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے میرا یہ ماننا ہے کہ اس کے موضوعات میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے ، جدید سائنسی ، فلسفیاتی ، نفسیاتی ، نظریاتی ، سیاسی اور زندگی کے بڑے مسائل کو فکشن میں پیش کرنے کی ضرورت ہے، جو بھی یہ کام کرے گا، وہی اچھا افسانہ لکھ پائے گا۔

 

 انٹرویو دیگر 

Comment Form