نسترن احسن فتیحی سے خصوصی مکالمہ



12 Sep, 2017 | Total Views: 476


نسترن احسن فتیحی


گل بانو

گل بانو۔۔۔۔۔۔۔ معنٰی کی بازیافت یا متن کی باز خوانی دنیا بھر میں ہو رہی ہے اور یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اب خواتین نے اپنے نقطہ نظر سے ادب کو پرکھنے کا آغاز کیا ہے جسے برصغیر میں نسائی یا تانیثی ادب کہا جا رہا ہے ۔ یوں تو خواتین ہزاروں برس سے لکھ رہی ہیں یہی کوئی عرصہ ۲۰ سال پہلے ہندوستان میں ایک کتاب انگریزی میں شائع ہوئی ’’ نسائی تحریروں کے پانچ ہزار برس ‘‘ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عورت اپنے تشخص کی جدو جہد شروع سے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ تمام معاشروں کا بخوبی مطالعہ کرتی ہے ۔ 
 اب آتے ہیں اس اس طرف کہ مر د ادیب عورت کو کیسا دِکھا رہا ہے ۔ اردو ادب میں راشد الخیری کے دور سے اب تک عورت کی مظلومیت کی داستانیں بیان کرنے والوں کی کمی نہیں رہی لکھنے والوں میں بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنھوں نے معاشرہ میں عورت کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے کا جواز مہیا کرنے کی کوشش کی ہومگر صدیوں پر محیط ترجیحات سے چھٹکارہ پانا آسان نہیں ۔ 
 عورت کو مکالماتِ افلاطون نہ لکھ سکنے کا طعنہ دینے والوں کو اب اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی بلکہ اس صورتِ حال کا مقابلہ اہلِ قلم کو مل کر کرنا ہوگا ۔
 یہ اور اس قسم کی تمام باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں نے آج کی نشست میں گفتگو کے لئے ایسی شخصیت کو دعوت دی ہے جنھیں فیمنزم پر عبور حاصل ہے اور ان کی شخصیت ایکو فیمنزم کے حوالے سے خاصی معروف ہوچکی ہے ۔
آج کے مکالمے کے آغاز سے پہلے ان کا کچھ تعارف پیش ہے
 
بحیثیت افسانہ نگار نسترن احسن فتیحی ادبی حلقوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں ۔اردو ادب کے لئے ان کی گراں قدر خدمات اور ان کا تعلیمی پس منظر قارئین ادب کے لئے ایک بہترین تجربہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
 آپ کا آبائی وطن ضلع سمستی پور ( بہار ) ہے بنیادی تعلیم سے لے کر گریجویشن تک کی تعلیم یہیں حاصل کی شادی کے بعد اعلیٰ تعلیم پنجاب یونی ورسٹی ( چنڈی گڑھ)میں حاصل کی آ پ کے شوہر پروفیسر علی رفاد فتیحی مشہور ماہر لسانیات ہیں ۔
نسترن فتیحی کا پہلا افسانہ ۱۹۹۱ میں تشنگی ‘‘ کے عنوان سے ’’شاعر ‘ ‘میں شائع ہوا تھا شاعر کے علاوہ ان کے افسانے ہندوستان اور پاکستان کے مختلف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں اس کے علاوہ ان کی کہانیاں ہندی رسائل کی زینت بنتی رہی ہیں ۔ آل انڈیا کی اردو سروس سے بھی ان کے افسانے نشر ہوئے ۔’’ فیض کی شاعری کا اسلوبیاتی مطالعہ ‘‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ بھی تحریر کیا جس پر آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ آ پ نے کئی تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں آپ نے ایک ناول ’’ لفٹ ‘‘ بھی تحریر کیا ہے جسے کافی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ایک اور ناول’’ نوحہ گر ‘‘زیرِ طبع ہے ۔ انڈیا کا مشہور ماہنامہ’ ثالث ‘میں آپ کے کئی افسانے شامل ہوچکے ہیں ۔نسترن احسن فتیحی کا بیانیہ سادہ مگر پُر کار ہے آپ کہانی کہنے کا ہنر جانتی ہیں ۔آپ کا افسانہ قاری کو اپنے حصار میں باندھے رکھتا ہے ۔ 
اب مکالمے کا آغاز کرتے ہیں !
گل بانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم ! نسترن جی کیسی ہیں آپ ؟
نسترن احسن فتیحی ۔۔۔۔۔۔ وعلیکم اسلام ! اللہ کا کرم ہے۔ گل ..آپ نے آج مجھے گھیر ہی لیا۔۔۔ 
گل بانو ۔۔۔۔۔۔۔ بالکل جناب Description: https://www.facebook.com/images/emoji.php/v7/f4c/1/16/1f642.png:) کچھ دنوں سے آپ کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کب ہاتھ لگیں اور ہمارے من کی مراد بر آئے ۔وقت دینے کا پیشگی شکریہ ۔ 
سوال  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ : سب سے پہلے میں آپ کی بات آپ سے ہی شروع کروں گی ۔ آپ کی شخصیت کا وہ کون سا پہلو ہے جو ، اب تک زمانے سے مخفی رہا ہے ؟
 نسترن احسن ۔۔۔۔۔۔میں بہت کھلی کتاب کی طرح ہوں گل میری شخصیت بظاہر جیسی ہے بہ باطن بھی ویسی ہی ہے ۔ کچھ مخفی نہیں... جو میرے مزاج سے مطابقت رکھتے ہیں وہی دوست بنتے ہیں ۔اجنبیوں سے جلدی گھل مل نہیں پاتی مگر جب پرکھ ہو جاتی ہے تو دوست بنتے دیر نہیں لگتی۔تصنع ، خوشامد،ڈپلومیسی جیسی باتوں کو سخت ناپسند کرتی ہوں ۔ جو عزت کرنا جانتے ہیں ان کی میں بہت عزت کرتی ہوں۔
گل بانو۔۔۔۔۔۔۔ نہایت عمد ہ خیالات اب مزید سوالات کی جانب بڑھتے ہیں ۔
سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ذات کا سب سے پسندیدہ عمل آ پ کے خیال میں ! اگر آپ لکھاری نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں ؟ 
 نسترن احسن ۔۔۔۔۔ مجھے تو اپنے ہر عمل میں ہمیشہ خامی نظر آتی ہے ۔مگرحق کے ساتھ کھڑ ے رہنے کی عادت کو میں کبھی کمزور نہیں پڑنے دیتی ،چاہے مجھے کتنا بھی خسارہ اٹھانا پڑے۔اگر لکھاری نہ ہوتی تب بھی میں فنون لطیفہ سے ہی جڑی ہوتی، کیونکہ مجھے پینٹنگ کا شوق تھا،مجھے میوزک کا شوق تھا۔مگر کسی شوق کو راہ نہ مل سکی ۔ یا راہ ملی تو ڈانٹ ڈپٹ کر راہ مسدود کر دی گئی ۔اس حوالے سے ایک واقعہ یاد آ گیا ...جب کالج میں گیارہویں میں داخلہ لیا تو وہاں میوزک کلاس ستار کی ہوا کرتی تھی( اور وہ اختیاری مضامین میں سے ایک تھا )، اسی وقت میری اردو کی کلاس کا پیریڈ ہوتا تھا مگر اس وقت وہاں کے اسکول کالج میں اردو اساتذہ نہیں ہوتے تھے کیونکہ مسلم لڑکیوں کی تعداد بہت کم تھی ،گویا میں اس وقت فارغ ہوتی اس لئے ستار کی کلاس کے باہر دروازے سے چھپ کر اس طرح کھڑی رہتی کہ ٹیچر کی نظر نہ پڑے مگر لڑکیوں کا ستار بجانا دیکھ سکوں ،ستار لیکر یوں بیٹھتے ہیں.. اس کو ایسے پکڑتے ہیں ، یہ انگلیاں ستار کے تاروں پر ایسے رکھو،مضراب سے تاروں کو یوں چھیڑو.. ایسے بہت سے مرحلے تھے جن پر لڑکیوں کو روز ڈانٹ پڑتی۔ پھر جب موقع ملتا،میں خالی وقت میں میوزک روم میں جا جا کرپریکٹس کرتی یہ بھید جلدہی کھل گیا اور ٹیچر کے سامنے طلبی ہوئی،وہ ایک بہت پیاری بنگالی لیڈی تھیں۔۔ مجھ سے پوچھا کہ میں ہر وقت میوزک روم میں کیوں پائی جاتی ہوں اور شوق ہے تو یہ سبجکٹ لیتی کیوں نہیں۔ میں نے صاف صاف بتا دیا گھر سے اجازت نہیں ملیگی، انہوں نے ایک مضراب میری طرف بڑھایا اور کہا ’’اتنے دنوں سے چھپ چھپ کر کیا پریکٹس کیا ہے ..کچھ سناؤ۔۔‘‘ میں نے سدھے ہوئے انداز میں ستار سنبھالا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور وہ سا ..رے ..گا ..ما .جو اس کلاس کی دوسری لڑکیوں کو سکھایا جا رہا تھا اسی کو ستار کے تاروں پر مضراب چلا کر دکھایا تو میری سدھی ہوئی رواں انگلیوں کو دیکھ کر وہ آب دیدہ ہو گئیں اور رجسٹر کھول کر میرا نام درج کر لیا ،ساری لڑکیاں اپنے لئے مضراب اپنے گھر سے لاتی تھیں میرے لئے میری ٹیچر لاتی تھیں ۔ کچھ دن گھرسے رازداری کے ساتھ کامیابی سے سیکھنے سکھانے کایہ سلسلہ چلا مگر میری شہرت بہت جلد گھر کے آنگن میں پہنچ جایا کرتی تھی۔ سو پہنچی ...تو پھر آگے کا احوال کیا بتاؤں ۔ گھر آکر میری ٹیچر نے بھی بڑی منت سماجت کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ بس لکھنے پر کبھی کسی کو اعتراض نہ ہوا کہ یہ بے ضرر سا شوق تھا۔
سوال ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایکو فیمنزم پر آپ کی کتاب آچکی ہے کچھ اس بارے میں بتائیں ۔ 
 جواب ۔۔۔۔۔۔۔ایکو فیمینزم کے فلسفیانہ اساس کا ماننا ہے کہ وہ قوتیں جو نسل، طبقاتی فرق، صنفی یا جنسی فرق ، اور جسمانی صلاحیتوں کی بنیاد پر استحصال کرتی ہیں وہ فطرت کے استحصال سے بھی نہیں گریز کرتیں۔ ایکو فیمینزم نسلی، طبقاتی، صنفی، جنسی، اور جسمانی استحصال کی شدت سے مخالفت کرتا ہے اور تمام ظلم اور جبر کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خاص طورپر عورت کے ساتھ جو ظلم روا رکھا جا رہا ہے اور اْن کو جس انداز میں اپنی آتش ہوس بجھانے کے لیے بطور کھلونا استعمال کیا جا تاہے ایکو فیمینزم کا فکری اساس اس کی مخالفت کرتا ہے۔ حقوق نسواں کے خواب کی تعبیر اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک فطرت کو استحصالی جابر قوتوں سے آزاد نہ کرا لیا جا ئے۔ اس کتاب میں عصری تانیثی افسانوں کے نسائی باغیانہ تیور کو اجاگر کیا گیا ہے، اور اس موقعے پر میں مرحوم پیغام آفاقی صاحب(آہ مرحوم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ گئے) کا ذکر ضرور کرونگی جنہوں نے اپنے فورم ’اکیسویں صدی فکشن ‘ پر ایکو فینزم پر مباحثے کی دعوت دی اور میں نے اس موضوع پر پڑھنا شروع کیا اس طرح ایک مضمون لکھ کر سوشل میڈیا پرچند دوستوں سے شیئر کیا ۔ان لوگوں نے نہ کہ صرف سراہا بلکہ اسے کتابی شکل میں لانے کی ترغیب دی ۔۔مفید مشورے دئے اور اس طرح یہ ایک کتاب ہو گئی ۔ میں ان دوستوں کا نام لینے کی یہاں پرضرورت نہیں سمجھتی مگر مجھے اپنے ایسے مخلص ادبی دوستوں پر ناز ہے ۔ایک بات اور ادب میں عورت عورت کا ورد اس قدر عام ہے ، کہیں اس سے ہمدردی کی صورت اسے ننگا کیا جاتا ہے ، تو کہیں اس کی نفسیات کو سمجھنے کے طور پر اور ایسا کرنے والے اسے صرف ایک جسم کے طور پردیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ بہ طور ذہن اسے تسلیم کرنے اور کروانے کا چلن عام ہی نہیں ہوا۔جب جی چاہا اسے لبادے سے ڈھانپ دیا جب جی چاہا اسے فن کے نام پر ادھیڑ کر رکھ دیا،تو آخرکب تک ہم عورتیں یہ سب کچھ ہضم کرتی رہیں اور کیوں ۔۔ ادب کو آج ضرورت ہے اس تجزیے کی ،کیونکہ خواتین آج بہترین ادب خود تخلیق کر رہی ہیں ۔اور ہمارے نقاد تو قراتہ العین حیدرکو بھی ان کے منصب سے گرانے سے نہیں چوکے۔ 
سوال۔۔۔۔۔۔اس سے کچھ آگے چلتے ہوئے یہ بتائیں کہ کیا خواتین صرف فیمنزم پر ہی اپنی توجہ ملحوظ رکھیں یا اس سے آگے بڑھ کر نئی جہات کی جانب قدم بڑھائیں اور اپنا راستہ متعین کریں ؟ 
 نسترن ۔۔۔۔۔۔جنس کی تفریق ہٹا کر بات کریں تو خواتین بھی مردوں کی طرح اشرف المخلوقات ہیں اس لئے انہیں اس دباؤ سے آزاد ہو کر جینا چاہئے کہ وہ مردوں سے کچھ الگ ہیں اور ایک انسان کی نظر سے دنیا اور اس کے مسائل کو دیکھیں.. تب صحیح مشاہدے اور تجزیے کی قوت پیدا ہوگی ۔ظلم،استحصال،جبر،گھٹن صرف عورتوں کا حصہ نہیں ہے۔ یہ ہر صنف،طبقے، نسل اور خطے میں روا ہے ۔۔ ادیب کا منصب یہ ہے
 کہ غیر جانب داری سے بلا تفریق انصاف کی آواز اٹھائے ۔منظر تب ہی صاف نظر آئیگا جب ہم خود کو صحیح جگہ پر فائیز کریں۔نئی جہات کی تلاش کا حق سب کو ہے بس اپنی توانائیوں کو صحیح سمت میں لگانا چاہئے۔
سوال  ۔۔۔۔۔۔۔ نئی خواتین لکھاریوں سے کس قسم کی توقعات ہیں اگر ان سے مایوس ہیں تو کوئی مشورہ ؟ 
 نسترن ۔۔۔۔۔۔۔ سوشل میڈیا پر آکر پتہ چلا کہ اردو میں ایک بڑی تعداد خواتین لکھاریوں کی بھی ہے۔جو بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔ لکھنا ایک ایسا مشق ہے جو زندگی کے مشاہدات اور تجربات سے جلا پاتا ہے ،نئی لکھاریوں سے صرف یہ کہونگی کہ ادب تخلیق کرنے کی پہلی شر ط یہ ہے کہ تمام سماجی اور سیاسی پس منظر سے واقفیت رکھیں۔اپنا رشتہ صرف قلم اور کاغذ سے استوار نہ کریں بلکہ انسانیت اور انسانی مسائل سے جڑیں،آنکھیں کھول کر ان حالات کا مشاہدہ اور تجزیہ کریں جو عصر حاضر میں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ بنے ۔ قوموں کی تاریخ سے بھی واقفیت ضروری ہے۔۔ تب کہیں جا کر تحریر میں گہرائی و گیرائی پیدا ہوتی ہے اور ہاں یہ ضرور یاد رکھیں کہ ادیب کی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے سماج اور انسانیت کے تئیں،اس لئے گھڑے ہوئے موضوع اور مسائل پر قلم اٹھانے سے بچیں۔۔ اچھے اچھے قلم کاروں نے زمینی حقیقت سے چشم پوشی کی اور گھڑے ہوئے مسائل پر اپنی توانائیاں ضائع کیں۔
 گل بانو۔۔۔۔۔۔۔ بہت زبردست بات ادیب کو اپنی ذمہ داریوں کا ادارک کرنا ہوگا ۔ تبھی قلم کا حق کماحقہ ادا ہو پائے گا ۔ 
سوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کب گراں گزری ؟ کوئی ناقابل فراموش واقعہ اس حوالے سے ہو تو بتائیے ۔
 نسترن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذاتی سطح پر اپنوں کی دائمی جدائی ۔۔ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے ۔۔ بظاہر زندگی معمول پر آ تو جاتی ہے مگر اندر کوئی گوشہ خالی ہو جاتا ہے اور اندر کا یہ خلا ء زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے ۔
سوال۔۔۔۔۔۔۔۔ لکھنے کی تحریک کب اور کیسے ہوئی ؟ پہلے پہل کس کی راہنمائی رہی ؟ 
 نسترن ۔۔۔۔۔۔۔۔ بچپن یا لڑکپن میں لکھنے کی باضابطہ تحریک نہیں ملی ،مگر اسکول میں کوئی پروگرام ایسا نہ تھا جس میں میں نے حصہ نہ لیا ہو، وہ دوڑ ہو، NCC کا پریڈ ہو،مصوری کا مقابلہ ہو یا کوئی مضمون نویسی کا مقابلہ ، میرا نام سر فہرست ہوتا اور گھر میں کسی کو نہیں بتاتی تھی ورنہ منادی ہو جاتی پھر انعام ملتا تو سرشاری میں داد لینے کی خاطر خود ہی جا کر بتاتی تو واحد مضمون نویسی کے مقابلے میں حصہ لینے اور انعام ملنے پر داد ملتی باقی چیزوں کے لئے ڈانٹ ڈپٹ،اس طرح عمر کے ساتھ عقل آتی گئی چونکہ باقی سارے راستے مسدود تھے تو اظہار نے اپنا ایک راستہ ڈھونڈھ لیا۔ شادی کے بعد وہ رہنمائی حاصل ہوئی کہ میری شخصیت ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی۔میری توانائیوں کو ایک صحیح سمت ملی .. میں نے اعلی تعلیم حاصل کی، لکھنے کی تحریک اور تعاون ملتا رہا ۔ اور اب تو علیگڑھ جیسے علمی گہوارے میں ہوں۔ اتنے نفیس لوگوں کے درمیان رہ کر مجھ جیسے ذرے میں بھی کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کا عزم پیدا ہو گیا ہے۔
سوال۔۔۔۔۔۔۔ ایک عورت میں تدبر و فراست اور خود اعتمادی یہ سب کس کی رہینِ منت ہوتی ہیں ؟ آج بھی خواتین کا استحصال اس بات کی گواہی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی اتنا بالغ نہیں ہوا کہ خواتین کے کام اور اس کے تدبر کو سرا ہ سکے ۔
 نسترن ۔۔۔۔۔۔۔ایک عورت کی یہ خصوصیات کسی اور کی نہیں اسی سماج اور خاندان کی رہین منت۔ جس میں وہ پرورش پاتی ہے۔ اس لئے اسی سماج میں باپ ، بھائی ، شوہر اور دوست اس میں یہ خود اعتمادی بحال کرتے ہیں تو کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اسے اس کے مرتبے سے گرا کر خوش ہوتے ہیں۔ ہاں المیہ یہ ہے کہ گرانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔مگر یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ایسے گرانے والوں سے خود کو کیسے محفوظ رکھیں۔ 
سوال۔۔۔۔۔۔ اپنی زندگی کے کچھ تجربات شئیر کیجئے جو نئے لکھنے والوں کے لئے مشعلِ راہ ہوں ۔ 
 نسترن ۔۔۔۔۔۔خود احتسابی کی صلاحیت پیدا کریں ، ہر لکھنے والے کو کسی کے بتانے سے پہلے خود معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی تحریر کہاں کھڑی ہے ۔اگر ایسا ہوا تو ہر تنقید ، تنقیص اور تعریف آپکو فائدہ پہنچائیگی اور ارتقاء کا عمل رکے گا نہیں۔میرا تو یہی تجربہ ہے۔ 
سوال ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی زندگی قابل رشک ہے پھر بھی ایک سوال ۔ اپنی زندگی سے کیا کھویا ؟ کیا پایا ؟
 نسترن ۔۔۔۔۔۔ اپنی حیات میں انسان صرف عمر کھوتا ہے...ہر پل ہر لمحہ.. مگر بدلے میں علم و فہم اور تجربہ حاصل کرتا ہے۔جس سے آپ اپنی شخصیت میں رنگ بھرتے ہیں اور ہمارے ہاتھوں میں اس رنگ کو بھرنے کے لئے جو برش ہوتا ہے اس کا نام عمل ہے۔شعوری اور لاشعوری طور پر کیا گیا ہر عمل یعنی اس برش کا ہلکا سے ہلکا اسٹروک بھی ہماری شخصیت پر اپنے نشان ثبت کرتا جاتا ہے اور اس طرح ہماری شخصیت کا خاکہ مکمل ہوتا جاتا ہے ۔اور وہی انسان کا کردار اور اس کی شناخت بن جاتا ہے۔ میں نے بھی ہر انسان کی طرح لمحے کھو کر تجربہ جمع کیا ہے ۔اور اچھے برے رنگوں سے اپنا خاکہ مکمل کر رہی ہوں.
سوال۔۔۔۔۔۔کیا آپ ۲۰۱۵ء اور۲۰۱۶ء کے شائع ہونے والے نسائی ادب سے مطمئن ہوئیں۔ 
 نسترن۔۔۔۔۔۔۔اس حد تک کہ خواتین بہت سرگرمی اور سنجیدگی سے اپنی تخلیقات سامنے لا رہی ہیں مگر ابھی بھی ان میں تنقیدی رجحان کی کمی نظر آتی ہے اور اس طرف بھی خواتین قلم کاروں کو توجہ دینی چاہیے۔
سوال ۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۷ء کی شروعات ہے ،نئے سال میں آپ کے تخلیقی منصوبے کیا ہیں ۔
نسترن ۔۔۔۔۔۔اپنی ان تخلیقات کو شائع کروانا جو ۲۰۱۶۶ء یا اس سے بھی پہلے کی محنت کا ثمر ہیں۔جس میں میرا ناول ’’نوحہ گر‘‘ اور ایک ناولٹ شامل ہے ۔ ایک مختصر سفر نامہ بھی ہے ۔ ایک فرہنگ بھی تیار کر رہی ہوں جسے ’’اردو کا ؤنسل ‘‘ میں پروجیکٹ کے طور پر جمع کیا ہے ، پہلے ناول ’لفٹ ‘کا سیکنڈ ایڈیشن بھی بہت جلد آنے والا ہے ۔اس کے بعد میں صرف اور صرف افسا نے اور ناول پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہوں ۔ مگر بہت ساری کتابیں جو ابھی مطالعے میں ہیں ان پر تبصرہ اور تنقید بھی کرنا چاہتی ہوں ۔ بس اللہ ہمت اور مہلت دے کہ سب کر سکوں۔
سوال۔۔۔۔۔ ۔ ہندوستانی خواتین کے ساتھ جو نا انصافیاں ہورہی ہیں ، ان کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے ۔ تو کیا آپ کی تخلیقات میں احتجاج کی لے ابھری ہے ۔ 
اپنے فن پاروں سے اس کی نشاندہی کیجئے ۔ 
 نسترن۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں، میرا ناول نوحہ گرانسانیت پر ظلم کے خلاف ایک احتجاج ہی ہے جو بہار کے نکسل علاقوں میں دو طر فہ رائج ہے۔ اس کے مرکزی کردار میں ایک عورت ہے ۔۔ کیونکہ عورت میں جو ایثار کا اور قربانی جزبہ ہوتا ہے وہ مرد میں نہیں ہوتا مگر مرد جب عورت کی پشت پر اس کی طاقت اور ہمت بن کر کھڑا ہو جائے تو اس جزبے کو اتنی طاقت ملتی ہے کہ چٹانوں سے بھی چشمے پھوٹ سکتے ہیں ۔ میرا یہ ناول گلیمرس نہیں ہے یہ بہت مظلوم لوگوں کی کہانی ہے جہاں اتنا درد ہے کہ میرا قلم اسے پوری طرح سمیٹ ہی نہیں سکا ۔مجھے ربندر ناتھ ٹیگور کی یہ نظم یہاں سنانے دیجئے جو مجھے بہت پسند ہے تو شاید میں اپنے ناول کا پس منظر سمجھا پاؤں۔
ثنا و تسبیح ترک کر دے
یہ کس کی تقدیس ہورہی ہے
تو جس کو معبد سمجھ رہا ہے
کسی بھی محبس سے کم نہیں ہے
تو اپنی آنکھیں تو کھول ناداں
کہ تیرا معبود سامنے ہے
جہاں پہ دہقاں کا ہل ہے چلتا
وہیں پہ موجود وہ ملیگا
جہاں پر پتھر کے ٹوٹنے میں
غریب مزدور کا پسینہ
مدام گھلتا ہی جا رہا ہے
وہاں بھی جلوہ اسی کا ہوگا
وہ سخت گرمی کی دھوپ ہو
یا پھوار ساون کی پڑ رہی ہو
لباس اس کا تم دیکھتے ہو
قدم سے سر تک ہے گرد اوڑھے
اتارو تقدیس کا لبادہ
شعار اپناؤ راستی کا
تم اس کے جیسا تو بن کے دیکھو
زمیں پر آؤ
نجات آخر کہاں ملیگی
ہمارے آقا نے
خود ہی کاندھوں پہ رکھ لیا ہے
جوا جو تخلیق کایہ ہنس کر
تو بندھ گیا ہے ہمارے دامن سے
تا قیامت
مراقبے سے اب آؤ باہر
اٹھا کے رکھو یہ عود و عنبر
ہوا ہی کیا جو تمہاری پوشاک
جا بجا سے مسک گئی ہے
کہ داغ دھبوں سے بھر گئی ہے
ملو تم اس سے
جو جانفشانی وہ کر رہا ہے
پسینہ اپنا بہا رہا ہے
ہے ساتھ دینا ہمیں اسی کا۔
رابیندر ناتھ ٹیگور، (ترجمہ سہیل احمد فاروقی)
 تو بس اس ناول کے مرکزی کردار نے ایسے ہی لوگوں کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔پھر کیا ہوا یہ ناول پڑھ کرہی سمجھ آئیگا ۔ انتظار کیجئے۔
 میں جبر اور استحصال کے مکروہ چہرے کو صرف ہندوستان کی سطح پر نہیں دیکھتی بلکہ انسانیت کے تناظر میں دیکھنے کی عادی ہوں ۔ اسی لئے میری آنے والی دونوں کتابیں ناول اور ناولٹ اس سلسلے میں اہم ہیں۔ جہاں تک خواتین پر ہونے والے مظالم کا ذکر ہے تو ۲۰۱۵ء میں عالمی منظر نامے پر ہونے والے ان گنت واقعات ابھی اپنے لکھے جانے کے منتظر ہیں۔میرا افسانہ ’’بین کرتی آوازیں‘‘ ایسے مظالم کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ تو ایران میں قصاص کے قانون کے رو برو آنے والی ریحانہ جباری کی پھانسی کی سزا کے دردناک واقعہ کے بعد اس کے خط کا انگریزی سے ترجمہ کرکے میں نے اردو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی تو پاکستان کی سبین محمود (جو بلوچوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں اور مظلوموں اور بے زبانوں کو اپنی آواز اٹھانے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہی تھیں)کے قتل پر ایک میٹا فکشن افسانہ لکھ کر میں نے سبین محمود کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی ۔
***
 
گل بانو۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ !بہت خوب نسترن جی ۔ آپ نے معاشرے کا عمیق گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور عمدہ گفتگو فرمائی ۔ 
نئے ادیبوں کو آپ کے اس مکالمے میں بہت کچھ حاصل ہوگا ۔
آپ سے ملاقات کر کے نہایت خوشی ہوئی ۔ 
 نسترن ۔۔۔۔۔۔۔ بہت شکریہ گل !

(بحوالہ مکالمہ فورم )

 

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.