مظہر الزماں



12 Sep, 2017 | Total Views: 228


مظہرالزماں


غالب نشتر

آئینہ کے پیچھے آئینہ کے آگے (محمد مظہرالزماں خاں سے مکالمہ) آج کل فکشن پر لکھنا کچھ اس قدر آسان ہوچکاہے کہ آپ کسی بھی فکشن نگار کو اٹھایئے اور پھر کسی بھی فکشن پر لکھے ہوئے کسی بھی مضمون کو لیجیے اورکاغذ قلم لے کر بیٹھ جائیے اور پھر صفحہ کے صفحہ سیاہ کرڈالیے اور کسی بھی رسالہ کو بھیج دیجیے۔ آپ کامضمون چھپ جائے گا اوراس طرح رسالہ کاپیٹ بھر جائے گا۔ لیکن بعض فکشن نگار ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی لکھت مشکل سے نابینا قارئین اور نابینا مدیروں کے اندر اترتی ہیں اور پھر دیر سے ہضم ہوتی ہیں۔ ایسے ہی مشکل فکشن نگاروں میں سے ایک ہمارے عہد کے معروف فکشن نگار محمدمظہر الزماں خان ہیں جن کی کہانیوں اور ناول کو پڑھ کر بیناقاری کی آنکھیں اور سر ڈوب جاتے ہیں کیوں کہ محمدمظہرالزماں خان کی کہانیاں ڈوب کر ابھر جانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان میں افکار ،اذکار اور علائم کابڑاہجوم ہوتاہے۔ کہانیوں میں بڑی ہلچل ہوتی ہے بقول ڈاکٹر وزیر آغا ’’محمدمظہر الزماں خان کی کہانیوں میں زمین سے آسمان تک علائم اور اشارے پھیلے ہوئے ہیں۔ ذہین قاری جب تک محمدمظہر الزماں خان کی کہانیوں کو ٹھہر ٹھہر کر اور بار بار نہیں پڑھتا، ان کے علائم، اشارے، استعارے صاف نظر نہیں آتے اور وہ سربستہ راز جو ان کی کہانیوں یا ناول میں موجود ہوتے ہیں ، کھلتے ہی نہیں۔چناں چہ میں ان سے اپنی گفت گو سے پہلے یہاں ان کی تازہ کتاب ’’شورہ پشتوں کی آماج گاہ‘‘ سے آسمان کی رائے جو ان کی اس کتاب کے ڈیسٹ کورپر موجود ہے، پیش کرتاہوں۔ ’’تمہاری کہانیاں میں پورے انہماک سے پڑھتا ہوں کہ تم لکھنے کے لیے اوپر سے اتارے گئے ہو۔ تمہاری تخلیقات میں اشارے ، علائم، اشیا، موسم، ماحول، حالات اور اسمات ، حاضر اور غائب، غائب اور حاضر کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ کیوں کہ تمام کائناتیں اور اس میں آباد ساری چیزیں جیسے دکھائی دیتی ہیں در اصل من وعن ویسی نہیں ہوتیں کہ ہر شے کے اندر کئی اسرار اور بے پناہ راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔ چناں چہ تمہاری بیش تر کہانیاں رازوں اور بھیدوں سے بھرا بستہ ہیں کہ ان میں افکار ، مسائل اور معنی کاایک بڑا ہجوم ہے اور پھر یہ مجھ سے جڑی ہوئی بھی ہیں۔ لہٰذا میں تمہاری کہانیوں کاراوی بھی ہوں اور قاری بھی ہوں کہ ان کا تعلق مجھ سے بھی ہے۔ دست خط (آسمان) قارئین! میں یہاں محمد مظہر الزماں خان سے روبرو گفت گو بیان کرنے سے پہلے ان کی کہانیوں سے چند جملے پیش کرنامناسب سمجھتاہوں۔ تاکہ ان سے میری بات چیت قارئین پر کچھ عیاں ہوجائے۔ ’’جب مسلخ میں کثرت سے خون بہتا ہے تو تاریخ حاملہ ہوجاتی ہے اور جغرافیہ کی آنتیں کٹ کر مختلف سمتوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ تب ایک نیا نظام عمل میں آتا ہے جو آگے چل کر پھر مکروہ ہوجاتا ہے کہ یہ ایک سلسلہ ہے کہ ہر ہار کے اندر ایک جیت پوشیدہ ہوتی ہے اور ہر جیت کے اندر ایک ہار چھپی ہوتی ہے‘‘۔ (اداس صدی کاکرب) ’’ یہ ساری دنیا ایک زچہ گھر ہی لگتی ہے کہ ہر طرف دردِزہ میں مبتلا عورتوں کی کرب انگیز ہاؤ ہٗو، جگہ جگہ گندے انڈوں کی زردیوں اور سفیدیوں پر بھنبھناتی ہوئی سرخ، سفید اور سیاہ نسل کی مکھیاں اور بے شرم مردوں کی نیفوں سے نکل کر سیپوں کو تلاش کرتی ہوئی کچی کچی چنگاریاں اور ہانپتے کانپتے ہوئے بوڑھے موسموں کی بیمار کہانیوں کے غلط اختتام اور ان ادھورے غلط اختتام کی تلاش میں بھٹکے ہوئے اجڑے پجڑے انہزام کردار۔ ہم سب بھٹک رہے ہیں اپنی ہی لکھی ہوئی غلط کہانیوں کے جھوٹے انجام کے گھنے جنگلوں میں‘‘۔ (خود کو تلاشتی کہان) ’’تھرتھراتی ہوئی داشتہ بنائی گئی زمین پر سیکڑوں مرد اور عورتیں اپنے اپنے مختلف رنگوں کے برتھ سرٹی فیکٹ بدل رہے ہیں‘‘۔ (خود کو تلاشتی کہانی) ’’وہ سب کی سب چادریں چھینی ہوئی بوسنیائی عورتیں تھیں جو اپنی کھرچی ہوئی رانوں اور اپنے ورم زدہ گھٹنوں کے درمیان اپنے حیادار سر ڈال کر اپنی اپنی شرمیلی زمینوں پر ابلیسوں کی جبراً تخم ریزی کو زیروزبر کرنے اپنے اپنی کوکھ سے چاروں سمتوں کو آواز دے رہی تھیں اورچاروں سمتوں کے خود ساختہ سفید زادے اپنی اپنی مسندگاہوں میں بیٹھے کہہ رہے تھے کہ ہمارے عشرت کدے ہمارے نیفوں میں موجود ہیں کہ ہم اپنے بالوں میں بھنور نہیں باندھ سکتے‘‘۔ (آسمان) ’’چیختی چلاتی زخم خوردہ زمینوں پر نصرانی اور عبرانی زخم اور آسمان کی کھلی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی مریم ؑ اور مریم ؑ کی آنکھ میں ٹھہری ہوئی آنسو زمین۔ ہر قدم پر ایک نیا روگ۔ خراب موسم۔ دن کو رات کرتا ہوا۔ تلوؤں میں آگ بھرتا ہوا، حافظوں کو غبار کرتا ہوا۔ سروں کو فگارکرتا ہوا، چہروں کو تار تار کرتا ہوا۔ رشتوں کومارکرتا ہوا۔ عریانیت کومعیار کرتا ہوا‘‘۔ (آسمان) ’’ہم سب کے سب اپنی اپنی ہتھیلیوں پر اتار کر کشتیاں، سمندر کوبُلا رہے ہیں کہ اب ہم محفوظ ہوچکے ہیں‘‘۔ (عرضِ حال) ’’جس نے علم کے ظاہر کودیکھا اس نے علم کے جسم کودیکھا اور جس نے علم کے باطن کو دیکھا اس نے علم کو علم کی ذات وصورت کے ساتھ دیکھا۔ (قسم) ’’ہوش علم الحواس ہے اور حواس علم الیقین ہے کہ علم، حواس کی باخبری ہے اور حواس، علم کی باخبری‘‘۔ ’’جن لوگوں نے زندگی بھر سوئی اور دھاگے کی صورت نہیں دیکھی آج وہ رفوگر بنے بیٹھے ہیں۔ جو خود سے واقف نہیں ہیں وہ آج خودی کی باتیں کررہے ہیں۔ جنہیں کنکریوں سے گفت گو کاسلیقہ نہیں آتا وہ پہاڑوں سے چھیڑ چھاڑ کررہے ہیں۔ جوبوند سے آنکھ نہیں ملاسکتے وہ سمندروں کو آنکھیں دکھارہے ہیں‘‘۔ (آخری رنگ) ایسے کئی جملے ہمیں محمدمظہر الزماں خان کی بیش تر کہانیوں میں نظر آتے ہیں۔ ان کی کہانیوں سے کئی اقوالِ زریں برآمد ہوتے ہیں۔ خصوصاً ہمارے اس بدعہد کے سیکڑوں مناظر انہوں نے بڑی معنویت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ محمدمظہر الزماں خان کی کہانیوں کا اگر ہم تنقیدی ، فنی اور گہرا تحقیقی مطالعہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اردو افسانے اور ناول کی تاریخ میں محمدمظہر الزماں خان کیوں ایک منفرد فن کار ہے۔ اس فن کار کی وہ کون سی فنی جہتیں ہیں جن کے سبب محمدمظہرالزماں خان کو اپنے معاصرین میں امتیاز اور انفرادیت کادرجہ دیا جاتاہے۔ بہ قول شمس الرحمن فاروقی: ’’محمدمظہر الزماں خان اپنے مختصر لیکن پے چیدہ اور شدید تاثر رکھنے والے افسانوں کے ذریعہ اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ وہ ان غوّاصوں میں سے ایک ہیں جو محض سیلاب کی سطح پر دھارے کے ساتھ بہنے والوں میں سے نہیں ہیں بل کہ اس کی تہہ میں بہتے ہیں تو سطح آب پر تلاطم نظرآتاہے۔بہ قول شمس الرحمن فاروقی ناول ’’آخری داستان گو‘‘ محمدمظہر الزماں خان کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ اردو فکشن میں کامیاب، طویل اورمنفرد مثال ہے۔ ڈاکٹر ہاجرہ پروین جنہوں نے محمدمظہر الزماں خان پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ رقم طراز ہیں کہ ’’نئے فکشن میں کسی فن کار نے اس نظریہ کے تحت کوئی فن پارہ تخلیق نہیں کیا۔ آخری داستان گو کو پڑھتے ہوئے Black Humourکا شدید احساس ہوتا ہے۔ محمدمظہر الزماں خان نے یہ تصنیف اپنے بے مثال تخیل کے سہارے تخلیق کی ہے۔ اس تصنیف میں ہمارے عہد کی تمام حقیقتوں کو اپنے تہذیبی روایات اور حکایتی فضا سے معمور کیا ہے۔ محمود ہاشمی کہتے ہیں کہ ’’محمدمظہر الزماں خان کے افسانوں میں جو زبان اور اسلوب ہے، وہ واضح کرتا ہے کہ فکشن میں لسانی اظہار کی سطح کیا ہونی چاہیے اور تہہ نشین مفاہیم کوکس طرح سطحِ آب پر لائے بغیر تحیّر، طلسم اور تمثیل کی روایت کاحامل بنایا جائے۔ محمدمظہر الزماں خان کے افسانے ہمارے عہد میں جدید افسانوی تہذیب اورتخلیقی تحرک کاایسا ہی اظہار ہیں جن پر اردو فکشن کی تاریخ کو آج بھی ناز ہے اور آنے والے عہد میں بھی یہ افسانے ہمارے ادبی تاریخ کامایہ ناز سرمایہ بنے رہیں گے چناں چہ محمدمظہر الزماں خان اور ان کا افسانہ ایک ایسی مثال ہے جسے ہم اردو فکشن کا مینارۂ نور تصور کرسکتے ہیں۔ اس طویل اظہار خیال کے بعد محمدمظہر الزماں خان سے میں نے جوگفت گو روٗبرو کی ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ میرے سوالات کی روشنی میں محمدمظہر الزماں خان کے افکار کو محسوس کیاجاسکے۔ ایک ابر آلود شام تھی، یہی کوئی پانچ ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا جب میں ان کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی تو وہ چند ہی لمحوں بعد میرے روبرو تھے۔ سفید شرٹ اور سیاہ دھاریوں والی پتلون پہنے، منھ میں پان دبائے ایک دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے ملے کہ ملنے کے وقت مقرر تھا۔بہ ہر حال ادھر ادھر کی رسمی بات چیت کے بعد میں نے سب سے پہلے جو سوال اُن سے کیاوہ یہ تھا:

محمدغالب نشتر:کیا آپ ادب میں روٗبرو قلم کار اور نقاد کی گفتگو کے قائل ہیں یا....؟

محمدمظہرالزماں خان: ادب میں فن کار اور نقاد میں روبرو مکالمہ ایک بہتر عمل ہے اس سے فن کار اور نقاد دونوں کے نظریات کھل کر سامنے آتے ہیں۔ اور دونوں اپنے اپنے خیالات پیش کرسکتے ہیں اور اس میں ادب کے قارئین اوراسکالر کوبھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور یہ بھی پتا چل سکتا ہے کہ فن کار یعنی قلم کار اپنے خیالات ،احساسات اور نظریات کو کس حد تک اور کہاں تک پہنچانے میں کامیاب ہوا ہے اور نقاد اس کے فن سے کہاں تک اور کس حد تک مطمئن اور غیر مطمئن ہے۔

محمدغالب نشتر:آپ کی کہانیوں کے بہت سے جملے فلسفیانہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً کہانی’ارضِ حال‘ میں آپ نے لکھا ہے کہ’’ اپنی اپنی ادھوری کہانیوں کے تاریک انجام سے ناواقف یہ ان گنت بلبلے نئی صدی کے نویں مہینے سے کیکٹیس کے گھنے جنگلوں میں داخل ہوگئے ہیں۔ اے شہنشاہِ تحیرات اب تری اگلی نشریات کا ویران کردینے والا خوف ہم سبھوں پر طاری ہے‘‘۔ (ارضِ حال) اسی طرح کہانی ’’سوانح حیات‘‘ میںآپ نے لکھا ہے کہ ’’یہ اونٹنی ہماری کہانی ہے۔ ہماری تاریخ ہے اور دونوں کہانیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں‘‘۔ ایک اور کہانی ’’سومت قصہ سنو‘‘ میں ایک شخص سفید گھر کی دیوار کو کھرچتا ہے تو اس کے اندر سے سیاہ مٹی دکھائی دیتی ہے۔ اس طرح ایک اور کہانی جس کا عنوان اس وقت مجھے یاد نہیں آرہا ہے ،میں آپ نے لکھا ہے کہ ’’ان کے اندر سے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں اور ان کے پاؤں سے زنجیروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اسی طرح کہانی ’’فصیلوں پہ لہو‘‘ میں آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج ہر طرف ایک انتشار کاعالم ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی مقام پر حالات بگڑ جاتے ہیں اورآدمی ایک دوسرے کاشکار کرنے لگتے ہیں ۔لیکن اس کہانی کے انجام کو میں نہیں پہنچ سکا کیوں کہ آپ نے تاش کاکھیل پیش کردیا ہے۔ اور تاش کھیلنے والے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ بادشاہ ہے۔ یہ رانی ہے اور یہ وزیر ہے۔ یہ کتنے اچھے تھے۔ اسی طرح ایک اور کہانی ’’ایک اور بن باس‘‘ میں آپ کیاکہنا چاہتے ہیں یعنی اس کی تھیم کیا ہے؟

محمدمظہرالزماں خان:کہانی ’’ارضِ حال‘‘ میں مَیں نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ نئی صدی کے نویں مہینے میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور اس کے ساتھیوں نے افغانستان پر جوحملہ کیا ہے اس کاانجام تاریک ہے۔ کیوں کہ افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ کیکٹیس کا ایک ایسا گھناجنگل ہے جس میں جو بھی داخل ہوتا ہے وہ لہولہان ہوے بغیر اس جنگل سے واپس نہیں نکل سکتا کہ ایک ناگ پھنی کو کاٹنے کے بعد کئی ناگ پھنیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور شہنشاۂ تحیرات خدا ہے۔ دوسری کہانی ’’سوانح حیات‘‘ وہ اونٹنی ہے جو مذبح کی طرف بغیر سوچے سمجھے چلی جارہی ہے اپنی موت کے اعلان کو گردن میں لٹکاے ہوے بے خبر ۔یہ مسلمانوں کی بے شعوری اور بے عقلی ہے۔ لہٰذا اونٹنی علامت ہے عہدِ حاضر کے مسلمانوں کی۔ جس طرح میری ایک کہانی ’’کوفہ پھیل رہاہے ‘‘میں خون آلود ’’توشہ‘‘مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے ۔اسی طرح میں نے اپنی ایک اور کہانی ’’سفاری پارک‘‘ میں بھی یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج دنیا کے تقریباً مسلمان ’سفاری پارک‘ کی گاڑی میں بیٹھے ہوے ہیں اور گاڑی چلانے والا رہبر نوآموز ہے یعنی مسلمانوں کے رہنما نادان ہیں اور چاروں طرف سے کُھلے درندے اس گاڑی پر حملہ کررہے ہیں ۔ تاہم ایک نئی صبح کی بشارت اس کہانی کے انجام میں رکھی ہے۔ چناں چہ کہانی ’’سومت قصہ سنو‘‘ میں سفید گھر، وائٹ ہاؤس ہے جو اوپر سے سفید اور اندر سے سیاہ ہے۔ اس کہانی میں اور بھی بہت سے اشارے موجود ہیں۔ کہانی ’’فصیلوں پہ لہو‘‘ میں یہ بتانے کی مَیں نے کوشش کی ہے کہ اس جمہوریت سے تو شاہی دورکہیں بہتر تھا کہ کم از کم اس عہد میں کچھ نہ کچھ عدل وانصاف، ادب وآداب تو باقی تھے۔ زندگی کے کچھ اصول اور طریقے تھے لیکن جمہوریت میں سب کچھ پامال ہوچکے ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ بادشاہ، یہ رانی اور یہ وزیر اچھے تھے۔ اب رہا ان کے اندر سے ہنسنے کی آوازوں کاسنائی دینا،تو عرض ہے کہ یہ خود ہماری ذات کاالمیہ ہے کہ ہم اپنے اندر بیٹھی ہوئی اصل کی آواز پر جو ہماری حماقتوں کامذاق اڑارہی ہیں، ہم محسوس تک نہیں کررہے ہیں۔ آپ دیکھیے کسی بھی مقام پر یعنی کھیل کا میدان، تماشا گاہ یاٹی وی پروگراموں میں تماشائی کیسی کیسی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ہوائیں مشتعل، آدمی پاگل، سارے موسم الٹے پاؤں والا معاملہ ہے آج۔ اب رہا پاؤں سے زنجیروں کی آوازوں کاسنائی دینا تو عرض کردوں کہ آج ہم آزادی کے باوجود مختلف مسائل کے قیدی ہیں اور ہمہ اقسام کی زنجیروں کے اسیر ہوچکے ہیں۔ اور دوسری کہانی ’’ایک اور بن باس‘‘ جس کی تھیم آپ کی سمجھ سے باہر ہے اس میں بابری مسجد کی شہادت کاالمیہ بیان کیاگیا ہے کہ بابری مسجد گرانے کے بعد خود سری رام چندر جی ایک رات آتے ہیں اور ہر گھر کے دروازے پر دستک دے کر کہتے ہیں کہ میں اپنے اصولوں کا پابند ہوں اور اپنے اصولوں سے منھ پھیرنے والوں سے منھ پھیر لیتاہوں کہ میں اپنے اصولوں کی خاطر پہلے بھی بہت کچھ تیاگ چکاہوں۔ لگتا ہے کہ کل یگ شروع ہوچکا ہے اور کل یگ کی کہانیاں شروع ہوچکی ہیں۔ لہذا میں ایک اور بن باس لیتاہوں۔

محمدغالب نشتر:شوریدہ زمین پردم بخود شجر۲۰۰۴ء ،آخری داستان گو۱۹۹۴ء(ناول)،دستکوں کا ہتھیلیوں سے نکل جانا۱۹۹۹ء، شورہ پشتوں کی آماج گاہ،۲۰۰۷ء میں آپ نے ایسے بے شمار جملے لکھے ہیں جو قارئین کی سوچ وفکر کو مہمیز کرتے ہیں۔ مثلاً’’ ایک شہر جو کبھی آباد تھا‘‘ میں آپ نے لکھا ہے: ’’جب ہم نے شہر ملامت میں قدم رکھا تو ہمیں یوں محسوس ہوا کہ ہمارے سروں پر اچانک اونگھ نے حملہ کردیا ہے اور جب بھی اونگھ سروں پر حملہ کرتی ہے، سرسوجاتے ہیں اور جب سر سوجاتے ہیں تو علم وعقل، تہذیب واخلاق، سچائی اور شجاعت اندھیروں میں غرق ہوجاتے ہیں‘‘۔’’جب اشیا کی اہمیت بڑھ جاتی ہے تو انسانوں کی قیمت گرجاتی ہے‘‘۔’’جب بچے نیند میں ڈرنے لگتے ہیں اور ڈراؤنے خوابوں سے چونک چونک کر اٹھنے لگتے ہیں۔ ان کے بستر اور زمین دونوں بدل دیناچاہیے کہ یہ زمین کے زوال کی نشانیاں ہیں‘‘۔’’ پورا آسمان اور پوری زمین دفعتاً روشن ہوگئی تھیں کہ زمین اور آسمان کی تمام کھڑکیاں کھل گئی تھیں اور تازہ صحت مند خوش بو دار ہوا کے فرحت بخش جھونکے ہر طرف چلنے لگے تھے کہ تمام کائناتیں مکمل ہوگئی تھیں اور ساری حقیقتیں ستاروں کی طرح روشن ہوچکی تھیں، اور مقدس پاؤں کے ہر نقش پر زعفران اگ رہا تھا کہ روشنی نے زمین اور آسمان کو لپیٹ لیاتھا‘‘۔ ایسے کئی جملے اور خصوصاً آپ کی کہانیوں کے انجام بڑے عجیب وغریب ہوتے ہیں۔ مثلاً ’’آخری داستان گو‘‘ ہی کے اختتام کولیجیے جس میں آپ نے الاؤ کے قریب ایک مارگزیدہ شخص کو پیش کیا ہے اور ہر ایک فرد آکر اسے اپنی اپنی کہانی سناتا ہے اور پھر مرجاتا ہے اور جب آخری کہانی کار اپنی کہانی سنانے جاتا ہے تووقت ہی ختم ہوجاتا ہے اور گھڑی کے کانٹے اپنی اپنی جگہ ٹھہر جاتے ہیں اس طرح کہانی کااختتام ہوجاتا ہے یعنی آگے کسی کے کہانی کہنے کی گنجائش ہی آپ نے باقی نہ رکھی۔ اور بہ قول بلراج کومل ’’آخر ی داستان گو‘‘ نے جہاں کہانی کو ختم کیاہے، ٹھیک اسی مقام پر ہم سب کو ایک نئی کہانی کاآغاز کرنا ہوگا۔ صرف اسی سعئ مسلسل سے ہی ہم اپنی موت پر فتح حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسی ہی بات احمد ہمیش نے بھی کی ہے۔ اور پروفیسر قاضی افضال حسین نے بھی کی ہے کہ ’’آخری داستان گو‘‘ Pasticheکی کس حد تک معقول مثال بن گیاہے۔ تاہم یہاں میں آپ کی ایک اور کہانی ’’کتاب الرائے‘‘ کے بارے میں عرض کرتاچلوں کہ یہ کہانی بین المتونیت inter textualityکی عمدہ مثال ہے۔ اس کہانی میں صدیوں پر پھیلی ہوئی انسانی فکر کی تاریخ کو آپ نے عہد حاضر تک پیش کیاہے۔ یعنی ہزارہا سالہ سلسلہ جب آپ میوزیم میں آکر ’’کتاب الرائے‘‘ میں اپنے خیالات درج کرتے ہیں اور پھر ہزارسال پہلے لکھی ہوئی اپنی رائے کو دیکھتے ہیں تودونوں میں کوئی فرق نہیں پاتے۔ چناں چہ آپ کی یہ کہانی اچھے اور خراب کرداروں کی داستا ن ہے لیکن کیااس کہانی میں ارسطو، سقراط، افلاطون، چنگیز خاں، سری رام چندر جی، کرشن جی سے لے کر شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ تک کی جو آرا آپ نے درج کی ہیں کیا یہ واقعی انہیں کی لکھی ہوئی ہیں؟

محمدمظہرالزماں خان:جی نہیں۔سواے شعرائے کرام کے اشعار کے اور امام شافعی وابن عربی کے ساری لکھائی میری اپنی تحریر ہے۔

محمدغالب نشتر:مگر اس کہانی میں عہد حاضر کے بعض اہم ترین نام چھوٹ گئے ہیں اور غیر ضروری نام شامل ہوگئے ہیں شاید یہاں کچھ مصلحت دوستی.... وغیرہم۔

محمدمظہرالزماں خان:شاید۔شاید۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔

محمدغالب نشتر:آج کی دنیا کا منظر نامہ آپ کو کیسا نظر آتاہے؟

محمدمظہرالزماں خان:لوگ آج جلتے ہوئے ہر الاؤ میں ہواڈال رہے ہیں۔

محمدغالب نشتر:پاکستان میں آپ کی کتابیں شائع ہوکر مقبول ہوچکی ہیں ۔ مثلاً ’’اس آباد بیاباں میں‘‘، ’’خوف کے حصار میں، اداس نسل کاآخری سفر‘‘، ’’آخری داستان گو‘‘، ’’شوریدہ زمین پر دم بخود شجر‘‘۔ کیا آپ کو ان کی رائلٹی وہاں سے ملتی ہے؟

محمدمظہرالزماں خان:بالکل نہیں۔ بل کہ میں نے خود اپنے برادر نسبتی متین اختر ہزاری سے خرید کر منگوائی ہیں۔

محمدغالب نشتر:آپ کی انگریزی میں ترجمہ ہوئی کتاب ’’سنسرشدہ نسل ‘‘The Censored Generation ریلائنس پبلی کیشنز ،دہلی سے ڈاکٹر ایس کے بھاٹیہ نے شائع کی ہے اورGoogle پر اس کی بڑی پبلسٹی کی جاتی ہے اور ہر مقام پر دست یاب ہے کیا اس کی رائلٹی بھی آپ کو نہیں ملتی؟
محمدمظہرالزماں خان:جی نہیں۔ جب کہ فروخت کے اعتبار سے اسے چار اسٹار ملے ہیں۔

محمدغالب نشتر:اردو کہانی پر پروفیسر گوپی چند نارنگ کے نظریات سے آپ کہاں تک مطمئن اور متفق ہیں؟

محمدمظہرالزماں خان:ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب نے کہانی کو ایک راستہ دکھایا ہے جو اصل راستے سے بھٹک اور بہک گئی تھی اوراس راستے پر چل رہی تھی جو کہانی کاراستہ ہی نہیں تھا بل کہ وہ جادونگری تھی۔ محمدغالب نشتر:حقانی القاسمی جیسے نوجوان اور باشعور نقاد نے آپ پر بہت عمدہ مضمون لکھا ہے۔ حقانی القاسمی کے تعلق سے آپ کیاکہتے ہیں؟

محمدمظہرالزماں خان:حقانی القاسمی ایک ذہین اور باشعور نقاد ہیں۔وہ تخلیق کے اندر اتر کردیکھتے ہیں اس کی جڑوں کو دیکھتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں ، کرداروں کی آوازوں اور کہانی کے علائم واشاروں کو سمجھ کر قلم اٹھاتے ہیں اور اپنی آواز میں بات کرتے ہیں۔ یہی انفرادیت ہے ان کی۔ اور میں ان کے علم کی عزت کرتاہوں۔

محمدغالب نشتر:ایک غیر ضروری سوال ذہن میں آرہا ہے۔ معذرت کے ساتھ عرض کرتاہوں۔ گینزبُک کے تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے؟ اور اس میں شامل ہوناکیافخر کی بات ہے؟

محمدمظہرالزماں خان:گینزبُکس آف ورلڈ چند ہوشیار اور چالاک لوگوں کابہتوں کو بے وقوف بنانے کا ایک اچھا اور آمدنی والا ذریعہ ہے جس میں دنیا بھر کے لوگ طرح طرح سے پیش ہوتے ہیں ۔ یعنی چارفٹ ناخن بڑھا کر بیس فٹ کیک بناکر کئی دن سانپوں بچھوؤں کے ساتھ رہ کریہ اس طرح کی کئی باتیں ہیں یہ کوئی تخلیقی کام ہے اور نہ تخلیقی عمل۔ گینز بُک آف ورلڈ ایک ایسا اصطبل ہے جس میں گھوڑے کم اور گدھے زیادہ ہیں۔

محمدغالب نشتر:اب ایک آخری سوال عرض کردوں۔ کیاآدمی کہانی ہے یا کہانی آدمی۔۔۔؟

محمدمظہرالزماں خان:آدمی کہانیوں کامجموعہ ہے اور ہر کہانی کے اندر کئی کئی کہانیاں موجود ہیں۔ بہت سی کہانیوں کے انجام ادھورے اورنامکمل ہوتے ہیں تاہم مکمل اور نامکمل۔ دونوں کو دیکھنے کے لیے تیسری آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے اور تیسری آنکھ کو دیکھنے کے لیے آخری آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے اور آخری آنکھ بصارت سے محروم اور بصیرت سے معمور ہوتی ہے کہ وہ بیج کے اندر کائنات کو دیکھتی ہے۔

جب میں معروف افسانہ نگار محمدمظہر الزماں خان کے دولت کدہ سے اٹھا تو چاروں طرف اندھیرا پھیل چکاتھا۔ ایسے وقت مجھے ان کی کہانی’’زمین پر ٹھہری ہوئی رات‘‘ یاد آرہی تھی کہ چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور دور بہت دور تک سینکڑوں مرد اورعورتوں کے بین کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی اور ہر فرد ایک دوسرے سے کہہ رہاتھا کہ اٹھو !اٹھو! صبح ہونے کو ہے اور اس کے جواب میں یہ آوازیں آرہی تھی کہ کیسی صبح ۔ ابھی تو بہت لمبی رات باقی ہے اوراگر صبح ہونے کو آتی تو پرندوں کی چہچہاٹیں اور مرغ کی بانگ ضرور سنائی دیتیں کہ یہ صبح کی آمد کی علامتیں ہیں لگتا ہے کہ سارے پرندے اورتمام مرغ ذبح کردیے گئے ہیں اس لیے چپ چاپ سوجاؤ کہ بڑی لمبی اور گہری رات آکر ہم سب پر مسلط ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.