نعیم بیگ



13 Sep, 2017 | Total Views: 247


نعیم بیگ


محمد اعظم یاد

پورا نام تو میرزا محمد نعیم بیگ ہے لیکن قلمی نام نعیم بیگ  ہے اور لوگ اسی نام سے پہچانتے ہیں
تعلیم ۔ گریجوئشن۔ پولیٹیکل سائینس اور سوشیالوجی ۔ یونیورسٹی پوسٹ گریجوئشن اکنومکس اینڈ لاٗ ۔
 پروفیشنل تعلیم ۔ ڈپلومیڈ ایسوسی ایٹ آف انسٹیچیوٹ آف بنکرز ان پاکستان ۔(تاحیات ممبر ) منصب جس سے بینک کو خیر باد کہا ۔ سینیئروائس پریزیڈنٹ ۔ ملک سے باھر منصب ۔ پروجیکٹ منیجر ۔ ( سی۔ آر۔ جے۔ ای ۔ (چائنہ ریلوے جیانگ ژیانگ انجینئیرنگ ۔ چائینہ تنزانیہ ۔ سرج الیکٹریکل دبئی ، یو ۔اے ای)
 ادبی زندگی کا آغاز ۔۔۔ حسب معمول غم روزگار کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں بھی جاری رھا ۔ جزوقتی لکھنے کا آغاز ۲۰۰۸ سے انٹرنیشل انگلش میگزین ’’ ٹیکنوبز ‘‘ سے بحثیت آرٹیکل رائٹر ھوا ۔معتدد آرٹیکل عالمی سطح پرپزیرائی حاصل کر چکے ھیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں اوپ۔ایڈ میں آ چکے ھیں روزنامہ جنگ ، دنیا ، ماھانہ اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈایجسٹ پاکستان کے ادبی صفحات پر اردو افسانے اور چند دیگر میگزین میں مضامین۔ سہ ماھی ثالث میں افسانہ اور مضمون۔ پہلا ناول ’’ ٹرپنگ سول ‘‘ انگش میں ۲۰۰۹ کو الیکٹرونکلی شائع ھوا اور پھر ۲۰۱۰ میں پرنٹ میں جاری ھوا۔ ( نفسیانی اور معاشرتی جبر پر لکھی ایک نوجوان کی فکشنل آٹو بایوگرافی جو جبر کی حالت میں سکیزوفرینیا کا مریض اپنی محبت کھو کر چل بستا ھے کل وقی رائٹر کے طور پر ۲۰۱۱ سے اغاز۔۔۔۔ دوسری تصنیف اردو افسانوں کا مجموعہ’’ یو۔ڈیم۔سالا ‘‘ ۲۰۱۳ میں شائع ھوا
 ۔ تیسرا انگلش ناول ’’ کوگن پلان ‘‘ لاھور کی ایک معروف اور ممتاز یونیورسٹی 2014 میں شائع کرچکی ہے۔۔ چوتھا افسانوی مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں " اسی یونیورسٹی ( یو۔ ایم۔ ٹی پریس ) نے 2016 میں شائع کیا ۔
حال ہی میں پہلا اردو ناول مکمل کیا ہے جو یہی یونیورسٹی ایک دو ماہ میں شایع کرے گی ۔۔ تاریخی کتاب ’’ پارٹیشن آف انڈیا ۔ پاراڈائم آف ھیسٹی ڈیسیژن ‘‘ زیرِ تصنیف ھے۔ اس کے علاوہ ایک اور اردو ناول زیر تصنیف ہے جو 2018 میں منصہ شہود پر آئے گا۔
قائدآعظم لائبریری لاھور کی تاحیات ممبر شپ۔ کے علاوہ حلقہ ارباب ذوق لاہور اور انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے ممبر ہیں۔ عالمی اداروں کی ممبر شب۔ انٹرنشنل فکشن رائٹرز گلڈ انٹرنیشنل فری لانس رائٹرز نیوبی فری لانس رائٹرز کریٹو ڈیزائن اینڈ رائٹرز ھیومن رائٹس واچ ھسٹوریکل فکشن انٹرنیشنل رائٹرز نیٹ ورک و ہیومن رائٹ واچ کے ممبر ہیں
 کچھ دیگر مصروفیت: ۔ امن اور محبت کا پرچار۔ فطرت کے رنگ دیکھنا ۔ تاریخ کا مطالعہ
پسندیدہ ادیب :۔ منٹو ۔ کرشن چندر ۔ ابن صفی ۔ چیخوف ۔ ٹالسٹائی ۔میکس ھاسٹنگ ۔ فریڈرک فورستھ ۔آئن کرشا (ھٹلر ) انتھونی بیون (سٹالن گراڈ)
 پسندیدہ شاعر:۔ غالب ۔ فیض ۔ منیر نیازی اور سلیم کوثر ۔ کیٹس اور شیلے ایمیل۔
سوال:  ۔۔۔۔۔ سر آپ اپنے آباؤاجداد اور پرکھوں کے سماجی ورثے کو سنبھالے ھوئے ھیں ۔ تو ھم جاننا چاھیں گے اس سماجی ورثے اورآپ کے آباؤاجداد کے بارے میں ؟
 جواب:   ۔۔۔۔۔لاہور والڈ سٹی کے اندر ھمارے جدِ امجد کی کئی ایک پراپرٹیز ہیں جن کا کچھ حصہ اب اوقاف کے پاس ہے، کچھ گورنمنٹ کے پاس جیسے مسجد وزیر خان وغیرہ۔ میرے دادا میرزا عبدالطیف بیگ اندون بھاٹی اور ٹکسالی کے معروف وکیل تھے۔ آج بھی’’ بشیر منزل‘‘ کے نام پر ایک حویلی انکے ساتھ جڑی جامع مسجد اور دس بارہ دوکانیں سب اس جامع مسجد کی ملکیت ہیں جسے ھمارے دادا نے مرنے سے پہلے منتقل کر دیا تھا۔ انکے بھائی میرزا افضل بیگ لاھور کے معروف جج تھے۔ انکے بیٹے ڈاکٹر حمیداللہ بیگ پاکستان کے پہلے ایف۔آر۔سی۔ ایس سرجن اور میو ھسپتال کنگ ایڈورڈ کالج کے پرنسپل تھے۔ میرزا طاھر بیگ معروف پالیمیٹیرین والد کے کزن تھے۔ حبیب اللہ بیگ (ایچ ۔یو بیگ ) گورنر سٹیٹ بینک اور سکریٹری مالیات میری والدہ کے کزن تھے۔ ان سب کے نام بتانے کا مقصد صرف یہ ھے کہ انکا لاھور شہر کی ثقافتی اور کلچرل ترقی میں پاکستان بننے کے بعد بھی بہت بڑا کنٹریبیوشن تھا۔ بسنت کا میلہ انکی سربراھی میں ھوا کرتا تھا جس میں پوری دنیا سے لوگ شامل ھوتے تھے۔ ادب و علم کی محفلیں انکے گھر میں جاری و ساری رھتی ہیں جیسے اب میاں صلی کے ھاں۔ 
 یہ سارا معاملہ تب بگڑا جب میرے والد اپنی سیلانی طبیعت کے ھاتھوں ان سب سے منحرف ھو گئے اور لاھور چھوڑ دیا۔ اور بمبئی میں جا گزین ہوئے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے گوروں کا جو انہیں واپس لاھور لائے۔ ھماری نسل نے یہ سوچا کہ ھم دوبارہ اپنی جڑوں کو مضبوط کریں گے۔ پرکھوں کے سماجی ورثہ کو سنبھالنے کا کام بہرحال اب بھی جاری و ساری ھے۔
سوال  ۔۔۔۔۔ آٓپکی پیدایش اور بچپن کہاں گزرا؟
 جواب  ۔۔۔۔۔میری پیدائش کے وقت والد کی پوسٹنگ کوئیٹہ میں تھی تاھم میرے ننھیال انڈیا سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آ چکے تھے لہذا میں صرف اس دنیا میں آنے کی غرض سے گوجرانوالہ پہنچ گیا تھا۔ محلہ اقبال گنج کالج روڈ میرا جائے پیدائش ھے۔ جہاں اکیس مارچ انیس سو باون میرا جنم دن نکلا۔ چند مہنیوں کے بعد واپس کوئٹہ ۔ ابھی اسکول کا زمانہ نہ تھا کہ والد لاھور آگئے لیکن چند سال بعد پھر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول یٹ روڈ سے حاصل کی۔ معروف دانشور و محقق اور تنقید نگار ڈاکٹر فاروق احمد بعد ازاں پرو وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی میری پہلی کلاس سے اسکول فیلو تھے۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے ان کی صحبت میں میں نے دیگر اساتذہ یعنی پروفیسر کرار حسین ۔ پروفیسر مجتبیٰ حسین ۔ ڈاکٹر فردوس قاضی پروفیسر بہادر خان ( بعد ازاں وائش چانسلر ) سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ میٹرک میں نے پبلک ہائی اسکول گوجرانوالہ سے کیا کالج کے پہلے دو سال گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ پھر لاھور سے ہوئے۔
سوال:  ۔۔۔۔۔ بچپن سے شرارت یاد آتی ھے اور اس سے پٹائی کوئی ایسا دلچسپ واقعہ ؟
جواب :۔ گوجرانوالہ گورنمنٹ کالج فرسٹ ائر میں  کیمسٹری کےپیریڈ میں ایسا واقعہ ھوا کہ جس نے میرے تعلیمی کیریر پر دُور رس اثرات ڈالے۔ پہلے دن صبح شروع ھونے والی پہلی کلاس میں پہنچے تو سبھی کلاس فیلو پہلے پانچ منٹ میں ایک دوسرے سے تعارف حاصل کر چکے تھے۔ میں اپنی شرارتی طبعیت اور حاضر جوابی سے اپنے ھم عمر دوستوں میں فوراً مقبول ھو جایا کرتا تھا ۔ لہذا یہاں بھی ایسا ھی ھوا اور میں فوراً تعارف کے بعد تصوراتی استاد بن گیا ۔ ھاتھ میں چاک اٹھایا اور سامنے لگے بلیک بورڈ پر آج کا سبجیکٹ لکھنے لگا ۔ اتفاق سے نذیر صاحب جو ہمارے کیمسٹری کے استاد تھے، کچھ لیٹ ھو گئے اور میں نے انگلش کے کیپیٹل لیٹرز میں نمایاں طور پر بلیک بورڈ پر لکھا آج کا موضوع ’’ مس منیجمنٹ ‘‘ اور مس کے اسپیلنگز میں ایس کوڈبل کر دیا ۔ لڑکوں کے قہقہوں میں کب  پروفیسر نذیر اندر آ ئے مجھے پتہ نہ چلا ۔ دوسرے وہ قدرے موٹے سے ناٹے سے کچھ اس انداز سے اندر آئے تھے کہ ان کے چہرے پر کچھ تاثر ایسا نہ تھا جس سے وہ کسی طور پر استاد لگیں۔ میں نے اپنی رُو میں انہیں بھی کہہ دیا کہ تشریف رکھیں اور آئندہ کلاس میں لیٹ نہ آئیں اور اپنے قہقہوں سے اپنا فضول لیکچر جاری رکھا۔ چند سیکنڈز میں مجھے محسوس ھوا کہ تقریباً ساری کلاس خاموش ھو چکی ھے۔ اور کچھ لڑکے مجھے آنکھوں سے اور ھاتھوں سے اشارے بھی کر رھے ھیں تاھم جذبات کی رو میں مجھے جب احساس ھوا کہ اوہ ۔۔۔ یہ تو پروفیسر نذیر ھیں ۔ نذیز صاحب کلاس سے آوٹ ۔۔۔۔ آؤٹ کرنے کے احکامات جاری کرتے رھے ۔اپنے سامنے کالج کےخوبصورت لان کو اپنی ڈبڈبائی نظروں سے دیکھتا ھوا سوچوں میں گم تھا ۔ والدین کا خوف ۔ اپنی خالہ اور ڈاکٹر خالو کا خوف (جن کے ھاں مجھے ٹھہرایا گیا تھا ) تعلیمی سال کے ضائع ھونے کا خوف سب کچھ اسقدر شدت اختیار کر گیا کہ میں بلا سوچے سمجھے سیدھا پرنسپل طوسی صاحب کے کمرے میں پروفیسر نذیر کی شکائت لگانے پہنچ گیا۔ ایک اور حماقت ۔۔۔ میں نے روتے ھوئے انہیں بلا تفریق اور کتر بیونت پورا ماجرا کہہ سنایا ۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ تم نے بلیک بورڈ پر کیا لکھا تھا تو میں نے وہ بھی سچ سچ بتا دیا ۔ پہلے ان کے چہرے پر تناؤ آیا پھر ایک طویل معنی خیز مسکراھٹ ۔۔۔ انہوں نے بیل بجا کر کسی کو کہا کہ جاوید اقبال صاحب کو بلائیں ۔ تھوڑی دیر میں ایک لانبے قد کے سوٹ پہنے معصوم چہرہ لیئے ایک صاحب اندر آئے۔ طوسی صاحب نے ان سے کہا کہ یہ نعیم ھے ۔ اس نے کیا کیا ھے یہ آپکو خود بتائے گا۔ میری طرف سے اجازت ھے کہ یہ اپنے مضمون تبدیل کر لے ۔ اسی دن میری خواھش پرمیرے تمام مضامین سائینس سے تبدیل کر کے آرٹس کر دئے۔ پھر انہی کی سرپرستی تھی کہ میں فرسٹ ایئر میں کالج میں پہلی دفعہ جائنٹ سیکرٹری بنا ۔ خوب ادبی کام کیئے فضول فضول  اورمعصوم نظمیں لکھیں ۔ ڈرامے کیئے۔ کالج میگزین سنبھالا۔ پڑھنے کے علاوہ جتنے ایکسٹرا کیریکولم کام تھے سبھی کا انچارچ میں ھوتا تھا ۔ حتیٰ کہ انٹر کالجز مشاعرہ میں خوبصورت انداز میں ھوٹنگ کا کرنے کا پہلا انعام بھی خاکسار نے حاصل کیا۔ گریجوئشن پھر پوسٹ گرئجوئشن بلوچستان یونیورسٹی سے ھوا۔ کالج میں پروفیسر جاوید اقبال اردو کے استاد تھے جو میرے محسن تھے ان سے بہت کچھ سیکھا ان کا بڑا کنٹریبوشن میرے اندر کا کانفیڈنس بحال کرنا تھا جو انہوں نے ابتدائی دور میں کر دیا تھا جب عموماً لڑکے شرماتے تھے۔
سوال:  ۔۔۔۔۔تو کیا آپ نے نوجوانی بھی شرما شرما کر گزار دی ؟ یا کچھ گلاب آپ نے بھی پیش کئے ؟
 جواب  ۔۔۔۔۔اوہ ۔۔۔۔ آپ نے تو یہ سوال پوچھ کر مجھے ہی شرما دیا ھے ۔ خیر عمر کے اس حصہ میں جہاں جوانی تاریخ کا حصہ بن چکی ھو سچ بولنے میں کوئی حرج نہیں ۔ میں آپ کو بتاتا ھوں کہ میں نے کہاں کہاں پھول نہیں پھینکے ۔ میری محبت کچھ ’’وکھری ٹائپ‘‘ کی ھوتی تھی۔ 
 نوجوانی ھمیشہ شرم و حیا کا پیکر ھوتی ھے اور پھر وہ زمانہ جو اوائل ستر کا زمانہ تھا وہسے ہی ھم جیسے اوسط درجے کے بچوں کے لیئے خوبصورت تھا وہ یوں کہ اس وقت نوجوانوں کے لیئے صرف دو مصروفیات علاوہ اسکول کالج کی پڑھائی کے ھوتی تھیں ایک گیمز کھیلنا دوسرا فلم دیکھنا۔ اور یہ کام میں نے خوب جم کر کئے۔ اسکول سے لیکر کالج یونیورسٹی تک کوئی گیم نہیں چھوڑی تھی۔ اوٹ ڈور میں صرف کرکٹ نہیں کھیلی اور انڈور میں صرف اسکواش نہیں کھیلا۔ باقی تمام گیمز میں یکتا تھا اور انڈور میں تو اب بھی شطرنج میری دلچسی کا سامان رکھتی ھے۔ گرئجویشن کرنے کے بعد میرے کچھ دوستوں نے طے کیا کہ ھم یورپ جائیں گے ۔ طے تو کافی زیادہ دوستوں نے کیا تھا لیکن فائنل پروگرام میں ھم صرف دو دوست رہ گئے تھے۔ اور یوں کسمپرسی کی حالت میں ھم نے انیس سو تہتر میں بزریعہ سڑک یورپ جانے کا آغاز کر دیا۔ 
 کہانی کو مختصر کرتے ھوئے عرض کرونگا پہلی لڑکی ایک ایرانی تھی جس کو میں نے اپنا قلم دیکر دوستی کی بنیاد رکھی ۔ وہ شادی پر تل گئی۔ بڑی مشکل سے سفر آگے کی طرف بڑھایا۔استنبول پہنچ کریوتھ ھاسٹل میں ایک دوست بنی ۔ جس کے ساتھ اچھا وقت گزرا۔ لیکن ھمیں آگے بڑھنا تھا سو آگے بڑھ گئے۔ بالآخر اتھنز میں ایک نہائت خوبصورت لڑکی سے قسمت سے ٹکراؤ ھوا۔ نہ صرف پھولوں کا تبادلہ ھوا بلکہ دلوں کا تبادلہ بھی ھو گیا۔ جونہی یہ خبر گھر پہنچی تو والدہ صاحبہ کا حکم پہنچا فوراً واپس آؤ ۔ سو گھر پہنچ گئے ۔اور تینوں محبتیں کہانیاں بن گیئں۔یوں ماسٹرز کرنے سے پہلے شادی کر دی گئی۔ اے کاش ۔۔۔ یونیورسٹی شادی کے بعد گیا اب کیا خاک محبت ھوتی ۔۔۔ جب کسی لڑکی کو پتہ چلتا کہ میں شادی شدہ ھوں اگلے دن ادھار مانگے سارے نوٹس مجھے واپس مل جاتے( ھاھاھا)اور انجام کار ایک اور نئی کہانی جنم لے لیتی۔ 
 میری ایک عادت مجھے سب سے نمایاں کر دیا کرتی تھی کہ میں کبھی بڑوں سے کسی بات پر بحث نہیں کیا کرتا تھا بلکہ فہم و فراست سے اپنی بات منوا لیتا تھا ۔ میں دلائل کو کنفرنٹ نہیں کرتا تھا بلکہ کچھ دیر بعد موقع کی مناسبت سے اپنا نقطہ نظر بیان کیا کرتا تھا ۔۔۔ یہ عادت اس لیئے بتا رھا ھوں کہ اس سے محبت کی کہانیاں بڑی مجروح ھوئیں۔اور میرے بڑے ’’آئی میِن مائی ایلڈرز‘‘ بہت کنفرٹیبل رھے یہی وجہ رھی کہ میں انکی دعاؤں کو کبھی اپنے سے دور نہیں پاتا۔
سوال:  ۔۔۔۔۔اس سے محبت کی کہانیاں بڑی مجروح ھوئیں۔ کیسے مجروح ھوئیں ؟
 جواب  ۔۔۔۔۔اعظم یاد صاحب۔ سوال اٹھانا کوئی آپ سے سیکھے۔ دراصل میرا عرض کرنے کا مطلب تھا کہ میری خاموشی یا اکثر حد سے زیادہ دوسروں کے لیئے احترام اکثر مجھے خود مشکل میں ڈال دیتا تھا۔ آپ حیران ھونگے کہ میں آج تک اپنی بیوی کو تم کہہ کر نہیں پکار سکا۔ ناجانے  یہ میری صفت ھے یا برائی ۔۔۔ لیکن ان تین کہانیوں میں ایک کہانی کا کردار میرے ساتھ بہت فرینک تھا۔ اسے جب میں آپ کہتا تو وہ ،تم بولنے پر اسقدر اصرار کرتی کہ مجھے اس کی بات ماننی پڑتی۔ اور بالآخر اپنی عادت کو خیر باد کہنا پڑا۔ لیکن دوسرے کیسیسز میں ایسا نہ کرسکا۔ شائد اسی لیئے میں یہ سمجھتا ھوں کہ یہ کہانیاں مجروح ھوئیں۔
سوال  ۔۔۔۔۔ان محبتوں نے شاعری پر تو مجبور نہیں کیا؟
 جواب  ۔۔۔۔۔میں عرض کیا نا ۔ یہ محبتیں شاعری پر تو مجبور نہ کر سکیں لیکن کہانیاں بن کر میرے اندر سما گیئں جو اب یاد ماضی بن کر میرا سہارا ہیں ۔
نفسِ قیس کہ ھے چشم و چراغِ صحرا
 گر نہیں شمعِ سیہ خانہ لیلیٰ ، نہ سہی
سوال:  ۔۔۔۔۔ادب دوستی کب شروع ھوئی. کیا سب سے پہلے افسانہ لکھا؟
 جواب  ۔۔۔۔۔یوں تو جز وقتی لکھنے لکھانے کا کبھی کبھار لیکن اھتمام سے ھوتا رھتا تھا ۔ پہلے میں انگلش میں سنجیدہ آٓرٹیکل وغیرہ لکھا کرتا تھا۔ کئی ایک سال تک افریقہ میں رھتے ھوئے ایک عالمی میگزین میں چار سال تک انکا آرٹیکل رائٹر تھا جو سائینس اور ٹیکنالوجی مضامین پر مبنی تھا۔ یہ اتفاق ھے کہ ایک دن یونہی کسی ایک دوست کے ساتھ بیٹھے یہ طے ھو گیا کہ میں سنجیدہ مضامین سے ھٹ کر کچھ اور بھی لکھوں۔ یوں میرا پہلا ناول ’’ ٹرپنگ سول ‘‘ معرض وجود میں آیا اور دوھزار دس میں شائع ھوا۔ اردو میں لکھنا بھی جبھی شروع کیا اور پہلا افسانہ دو ھزار گیارہ میں ’’ آخری لمحہ ‘‘ جنگ پاکستان نے شائع کیا۔ بس یہیں سے اردو کی بھی ابتدا ھو گئی۔ اس افسانے پر اسقدر شاندار فیڈ بیک ملا کہ جنگ کے لیئے ابھی تک لکھ رھا ھوں ۔یوں تو جز وقتی لکھنے لکھانے کا سلسلہ کبھی کبھار اھتمام سے ھوتا رھتا تھا
ْ
 سوال:   ۔۔۔۔۔کہاں اکنامکس ، لا جیسے خشک مضامین اور ان سے سر کھپائی کے بعد ادب ۔ تو دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر کیسے چلتے رھیں ۔ عام طور پر ادبی لوگ بنک جیسی ملازمت کو پسند نہیں کرتے ؟
 :جواب ۔۔۔۔۔بہت اچھا سوال ھے۔ بہرحال اس میں دو پہلو پنہاں ہیں ایک تو یہ کہ جب ھم عملی زندگی میں غمِ روزگار کے سلسلے کسی ایسے شعبہ سے منسلک ھو جائیں جہاں خشک مضامین آپکا صبح شام استقبال کریں تو انسانی جبلت کے اندر شامل اس کے باقی اجزا بغاوت کر دیتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا ھوتا ھے کہ اس انسانی کا فطری رحجان کس طرف ھے۔ اسکی سب سے خوبصورت مثال مشتاق احمد یوسفی ہیں۔ جنہوں نے اسی بِنا پر مزاح لکھا اور خوب لکھا۔ پھر دیکھئے کرنل محمد خان ۔ شفیق الرحمنٰ ، اپنے ضمیر جعفری اور دیگر بہت سے نام ۔۔۔۔ ان سب کے روزگار مجھ سے کہیں سخت خشک اور مخالف سمت میں تھے ۔ میرے ساتھ کچھ یوں رھا کہ میرا جب تک ان خشک مضامین سے مکمل انسلاک رھا ۔ میں خشک سائینسی اور مالیاتی سنجیدہ مضامین ہی لکھتا رھا۔۔۔ گو وہ لکھنا جز وقتی تھا۔ جب میری آخری پوسٹنگ جو افریقہ میں تھی میں مجھے یہ احساس ھوا کہ اب شائد بقیہ عمر کا حصہ اپنی ذات کے ساتھ مکمل طور پر گزارنا ھوگا تب میرا لکھنا کل وقی کام بن گیا۔ کہانی میرا پہلے دن سی ھی پیشن (جنون ) تھا سو افسانہ میرے زندگی بن گیا ناول میری روح کے اندر اتر گیا اور سنجیدہ تحریریں میرے قلم سے خودبخود تخلیق ھونے لگیں۔ ۔
سوال:  ۔۔۔۔۔سر آپ افریقہ ، انگلستان میں بھی رھے ھیں ۔ وھاں کی تہذیب اور معاشرت آپ کو کیسی لگی ؟ اور کوئی یادگار واقعہ جو آپ ھمیں بتانا چاھئیں ۔
جواب  ۔۔۔۔۔ افریقہ ۔ انگلستان ۔ یورپ اور مڈل ایسٹ میں جہاں جہاں خاکسار نے قدم رکھے میرا پہلا استقبال صرف اور صرف بھوک نے کیا۔ تب بھی میں نے اپنے یقین کو یہ کہہ کر مستحکم کیا اس عفریت سے گھبرانا نا۔ تم اسے اپنے آدرش اور سچ کی بنیاد پر جو قدرت نے تمہارے اندر گھول رکھا ھے، شکست دے سکتے ھو اور یوں میں نے ھمیشہ بازی جیتی۔ ‘‘
 اعظم صاحب دنیا کی اگر سات ارب آبادی ھے تو اس میں شائد پانچ ارب سے زائید لوگ ایک ایسی سطح پر جیتے ہیں جو انکا فطری مقدر نہیں بلکہ اس انسانی ذھن نے سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے تحت انہیں غلام بنا رکھا ھے۔ یوں تو میری زندگی واقعات سے پُر ھے تاھم انسانی حسنِ سلوک اور انسانیت کسے کہتے ہیں اس پر ایک واقعہ سنائے دیتا ھوں ۔۔۔۔۔ میں جب نوجوانی کے دور میں یورپ میں تھا تو پہلا کرسمس یورپ کے اندر دیکھنے کا اتفاق ھوا۔ ایتھنزمیں جس گھر میں رھتا تھا وھاں ھم تین شخص تھے۔ ایک میرا دوست پاکستانی اور ایک سکھ دوست۔ ھم سب فیکڑی میں کام کرتے تھے اور ھمیں ھمارے فورمین نے یہ گھر کرایہ پر دلوایا تھا۔کرسمس کے دن قریب تھے اور سبھی لوگ اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔ مجھ سے کئی ایک بار گریک دوستوں نے پوچھا کہ کیا تم اپنے گھر نہیں جاؤ گے کرسمس منانے۔ میں انہیں کہہ دیتا کہ دیکھتے ہیں۔ آخری دنوں میں میرے فورمین نے مجھے کہا کہ دیکھو تم لوگ اگر یہیں رہ رھے ہو تو کچھ کھانے پینے کا سامان جمع کر لینا ۔ ورنہ یہاں ھوٹل دوکانیں سبھی کچھ کئی ایک روز تک بند ملیں گے۔ اور تم لوگ بھوکے رہ جاؤ گے۔ یہ سوچ کر میں اپنے پاکستانی دوست کے ساتھ محلہ کے بڑے گروسری سٹور چلا گیا۔ اور سوچا کہ کیا لیا جائے ۔ ھمارے پاس کچھ زیادہ کُکنگ کا انتظام گھر پر نہ تھا ۔ اکثر باھر سے کھانا کھاتے تھے۔ بہرحال میرے دوست نے کہا وہ کل کڑاھی گوشت بنائے گا۔ اس کے لیے پہلی شرط گوشت کا ھونا ضروری تھا۔ میں رش کی وجہ سے گوشت والے کاونٹر پر کھڑا ھو گیا۔ لوگ کرسمس کی وجہ سے زیادہ گوشت خرید رھے تھے جبکہ ھمیں صرف ایک کلو گوشت درکار تھا۔ کیونکہ ھمارا خیال تھا کہ ھم پرسوں کرسمس والے دن ایک نزدیکی جزیرہ پر چلے جائیں گے جہاں ھماری کچھ دوست لڑکیوں نے ھمیں دعوت دے رکھی تھی۔ اب میں ایک کلو گوشت مانگ رھا ھوں اورکاونٹر پر کھڑا شخص مجھے کوئی اھمیت نہیں دے رھا ھے۔ مجھے بڑی کوفت ھوئی کہ یہ کیا بات ھے ھم صرف اس بات پر رد ھو رھے ہیں کہ ایک کلو گوشت مانگ رھے ہیں جبکہ وہ دوسروں کو دھڑا دھڑگوشت فروخت کر رھا تھا۔ ابھی اس سوچ میں مبتلا تھا کہ گروسری سٹور کے ایک آ دمی نے میرے کندھے پر ھاتھ رکھا اور مجھے اس لائن سے باھر نکال لیا۔ میں حیران تھا کہ کہا یہ بالکل انکار ھے کیا؟ لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس شخص نے مجھے ایک کئی ایک بڑے بڑے لفافے تھما دیئے جس میں گوشت پھل سبزیاں کیک ۔ بریڈ دودھ اور دیگر سامان تھا۔ میں نے اسے اپنی ٹوٹی بھوٹی گریک زبان میں کہا کہ مجھے یہ سب کچھ ضرورت نہیں ھے اور نہ ہی میرے پاس اتنے پیسے ہیں کہ میں اسکی ادائیگی کر سکوں۔ وہ شخص بضد رھا کہ میں یہ سب کچھ لے لوں میرا دوست بھی وہیں آ گیا اس نے بھی انہیں کہا کہ وہ اتنا سامان نہیں چاھتے۔ تب ایک اور شخص نے قریب آکر بڑی شستہ انگلش میں ھم سے کہا کہ یہ سٹور کی طرف سے آپکو کرسمس کا گفٹ ھے۔  اس شخص کے ساتھ بڑی بحث و تمحیص کے بعد بہرحال ھم نے یہ لفافے لے لیے۔ اب اس اثنا میں پورے سٹور میں لوگوں نے ھماری بحث سنی تھی جس سے انہوں نے شائد دو اندازے لگائے پہلا یہ کہ بے چارے غریب الوطن اپنے خاندانوں سے دور کرسمس منا رھے ہیں ۔ دوسرے کہ شائد یہ مفلس ہیں اور انکے پاس پیسے نہیں ہیں اسی لیے وہ ایک کلو گوشت خرید رھے تھے۔ گھر آنے کے بعد کافی دیر کے بعد میرا دوست باھر کسی کام سے نکلا تو زور سے مجھے پکارتا ھوا واپس آیا۔ میں نے کہا کیا بات ھے کیوں چلا رھے ھو۔۔۔۔ کہنے لگا کہ باھر آؤ اور خود دیکھ لو میں اور ھمارا تیسرا سکھ ساتھی بھی اکٹھے باھر نکلے تو دیکھا کہ گھر کے باھر تحائف کے کئی ایک پیکٹ کرسمس ٹری ۔ پھلوں کی ٹوکریاں ، پھول ،اور دیگر سامان بمعہ وش کارڈز سجا کر رکھے ھوئے ہیں۔ یہ محلے والوں کی طرف سے غریب الوطن ھمسایوں کو وش کیا گیا تھا۔ کئی ایک روز تک ھم اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکے تھے۔ اگلے دن سارا سامان خوردو نوش اور تحائف ھم نے قریبی جزیرے میں اپنی دوستوں تک پہنچائے اور انکا قومی طور شکریہ ادا کیا۔
سوال:  ۔۔۔۔۔لکھتے ھوئے وجدانی کیفیت طاری ھوتی ھیں ۔ لاشعور اور شعور مل کر لکھتے ھیں ؟
 جواب:  ۔۔۔۔۔ میری کہانیاں میرے ذھن میں پکتی رھتی ہیں۔ ھر وقت ھر جگہ رات کو سوتے میں ، دن میں جاگتے ھوئے ، کام کرتے ھوئے ، کھانا کھاتے ہوئے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ھے کہ میں کسی ایک کہانی کو چن لیتا ھوں اور اس پر کرداروں سے گفتگو ھوتی رھتی ھے۔ میں کوشش کرتا ھوں کہ کرداروں سے مکالمہ ھو ۔ اور پھر ایک دن قلم لیکر بیٹھتا ھوں تو ایک ہی نشست میں لکھ لیتا ھوں۔ یوں ایک تخلیق مکمل ھو جاتی ھے۔ البتہ ناول لکھنے میں کچھ الگ سماں ھوتا ھے۔
سوال:  ۔۔۔۔۔کرداروں سے مکالمہ ؟ بلکل الگ سے انداز ھے آپ کا ۔ کیا کسی کردار نے مکالمہ کرتے ھوئے آپ کو بہت پریشان کیا ؟
 جواب  ۔۔۔۔۔ ھاھاھا ۔۔۔ جی درست کہا آپ نے۔ میں پہلے کہانی پر کام کرتا ھوں اور پھر کردار میری سب سے بڑی کمزوری ھوتے ہیں۔ اگر وہ میرے ڈھب پر نہ آئیں تو کہانی مجھے الجھا دیتی ھے۔ لہذا مجھے ان سے مذاکرات کرنے پڑھتے ہیں۔ اور اکثر میں کامیاب ھوتا ھوں۔ میں انہیں انکی نفسیاتی ذھنی سطح پر لا کر چھوڑ دیتا ھوں۔ پھر انکے کہے مکالمے یا جسمانی جسچر (جسمانی زبان) میری مرضی پر بولتے ہیں۔ اسکی مثال یوں دے سکتا ھوں کہ میرے  ناول ’’کوگن پلان‘‘  کا ویلن میں نے بڑی مشکل سے ڈھالا ھے۔ جب میں اس کردار کوکسی خاص سطح پر ڈھال رھا تھا تو وہ چیخ اٹھا کہ میں ایسے نہیں ھوں۔ مجھے ایک ایسے کردار کی ضرورت تھی جو بیک وقت انتہائی خطرناک اور دوسری طرف انسانیت نواز ھو۔ لہذا مجھے کچھ اور کردار اسکی نفسیات کودرست سمت میں دکھانے کے لیئے ڈالنے پڑے جب جاکر میں اس سے وہ کام لے سکا جو میں چاھتا تھا۔
سوال:  ۔۔۔۔۔ھم اس بات کو کیسے سمجھ سکتے ھیں کہ ادب کا کوئی مذھب نہیں ھوتا؟
 جواب  ۔۔۔۔۔گو کوئی بھی ادب ھمہ گیریت اور آفاقیت سے مبرا نہیں ورنہ وہ پھر ادب نہیں۔ اسی طرح مذھب اپنے اندر بھی ھمہ گیریت رکھتا ھےاور مذھب کے دلائل و عقاید بھی انسانی بھلائی کے لیے ایک ایسی زمین مہیا کرتے ہیں جو اسے نہ صرف پنا ہ دیتی ھے بلکہ انسانی جبلت کو گونہ سکوں بھی مہیا کرتی ھے۔ لیکن سوال کرنے کی اجازت کا نہ ھونا اسے محدود کر دیتا ھے۔ گو الہامی کتابوں میں بشمول قران الحکیم کائنات کی تسخیر کی بات کرتا ھے اور انسان کو ایک چیلنجنگ ماحول مہیا کرتا ھے لیکں یہ دیکھئے کہ قران بلا واسطہ کتنے لوگ انڈر سٹینڈ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ھے کہ مذھب میں ھمیشہ پاپائیت کی اجارہ داری رھی اور وہی لوگ اسکی تشریحات کا سرچشمہ رہے ۔ گو آج قران المجید کو اپنایا جا رھا ھے لیکن ھر انسان کے لیے اسے سمجھنا مشکل ھے اور مُفسرکہیں میسیر نہیں۔ مولوی بہت ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ادب کہیں تیکھا اور جاذب نظر ھے۔ اس میں انسان کو سوال کی اجازت ھے اس میں انسان کلی طور پر ملوث ھو کر دنیا میں اپنی حیات اور انسانیت کی بالا دستی کے لیے وہ وہ نکات سامنے لاتا ھے جو اس سے پہلے کسی نے دریافت نہیں کئے ھوتے دوسرے لفظوں میں ادب زندگی کا کولمبس ھے، جو روز ایک نئی دنیا دریافت کرتا ھے، جبکہ مذھب میں عقاید کی بنیاد پر انسان کو ساکت و جامد کر دیا گیا ھے۔ اسلام میں ایک اجتہاد کا دروازہ کھُلا ھے لیکن کوئی اسے استعمال کرنے پر آمادہ نہیں، اسکی صرف یہی وجہ ھے کہ سوال کرنے پر قابل گردن زدنی قراردے دیا جاتا ھے۔ ورنہ مذھب اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتا ھے جو انسان کے انتہائی اھم اور از حد ضروری ھیں۔ چونکہ میں متوازن نظریات کے فلسفہ حیات پر یقین رکھتا ھوں ،اس لیے میری نظر میں دونوں اپنی انپی دنیا بسانے میں حق بجانب ہیں بجز کہ ان میں بھی شدت نہ ھو۔ اسی لیے عمومی طور پر یہ کہا جاتا ھے کہ ادب کا کوئی مذھب نہیں ورنہ اول وہ ادب عالمی اور افاقی نہیں کہلائے گا دوسرے کسی بھی مذھبی روایات کو شامل کیے ھوئے
ایسا ادب بالکل رد کر دیا جائے گا۔ اس لیے کہ دنیاوی انسانی ھجوم کو کئی ایک مذاھب نے تقسیم کر رکھا ھے اگر وہ ان مخصوص نظریات کو لیکر چلے گا تو خود تقسیم ھو جائے گا جس سے اسکی افاقیت متاثر ھوگی یہی وہ بنیادی نقطہ ھے جس کی بنا پر ادب کومذہب پر بالادستی حاصل ھے۔
سوال: ۔۔۔۔فطرت کے رنگ ۔ سب کے دیکھنے کا اپنا اپنا انداز ھے ۔ آپ کی آنکھوں سے ھم بھی دیکھنا چاھیں گے۔ 
جواب: ۔۔۔ فطرت کے رنگوں کو میں صرف دیکھتی آنکھوں سے ہی نہیں دیکھتا بلکہ اسکے مختلف رنگوں سے بنائے یہ مناظر جذبات و احساسات کی باطنی آنکھ سے  بھی دیکھتا ھوں ۔ میں جانتا ھوں کہ یہ مناظر کسی طور پر ساکت و جامد یا یک پہلو نہیں ۔ وہ پیکروں اور تصویروں سے ایک زاویہ نہیں دکھاتا بلکہ ان تصاویر کے پیچھے انسانی رشتوں کے بنتے بگڑتے ، وقت کے نازل کردہ عذاب اور انسانی گھاؤ سے ہی سہمے ہوئے انسانوں کی بے شمار تصاویر مجھے فطرت کے رنگ ہی دکھاتی ہیں۔ تاھم میں سمجھتا ھوں کہ فطرت کے باذوق ھونے کے ساتھ ساتھ ھم نے بھی (انسانی عمال ) اعلیٰ ذوق کا مظاھرہ کہیں کہیں کیا ھے اور فطرت کے رنگوں کو نکھار کر پیش کیا ھے۔ جس سے بہرحال دنیا کا سفر جاری و ساری ھے۔
 فطرت کو دیکھنے کے لیے انسان کے اندر اترنا پڑتا ھے ۔ انسانیت کااپنےخودساختہ اصولوں اور روائتوں پر سبقت دینا فطرت کی دلداری ھے۔ اور یہی دلداری اسے پسند ھے۔
سوال  ۔۔۔۔۔آپ پڑھنے والوں کو کیا پیغام دینا چاھیں گے ؟
جواب ۔۔۔۔۔دراصل میں ذاتی طور کسی پیغام کا قائل نہیں۔ میں سمجھتا ھوں کہ ھر انسان اپنے اندر قدرت و فطرت کے ایستادہ و انسٹالڈ کمپیوٹر پروگرام سے خود استفادہ کرے۔ جو ایپلیکیشن وہ استعمال کر رھا ھے اسے فطری ذھانت سے پرکھے ۔ اپنے انٹی وائرس کو ایکٹو رکھےاور کسی بھی ٹروجن کو اسے تباہ و برباد کرنے کی اجازت نہ دے۔ ازلی و ابدی انسانی آزادی کو حقیقی معنوں میں سمجھے اور اسے انسانیت کے لیے استعمال میں لائے۔ میں خود یہی کرتا ھوں اوراپنے آس پاس ۔ اپنی فیملی اپنے دوستوں اور اپنے قارئین کو فہم و ادراک کی بنیاد پر آزادی دینے کا خواھاں رھتا ھوں تاآنکہ کوئی خود اگر دامِ صیاد میں الجھتا ھے تو اسے حتیٰ المکان امداد مہیا کرتا ھوں ۔
 
 
 

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.