طلعت زہرا کا انٹرویو



13 Sep, 2017 | Total Views: 216


طلعت زہرا


محمد اعظم یاد

سوال : افسانہ نگارطلعت زہرا کا بچپن کیسا رہا ؟  تعلیم اور پھر زندگی کے سودوزیاں کی بابت کچھ عنایت ہوجائے
جواب ؛ شکریہ اعظم بھائی ۔ میں روز مٹی سے قریب سے قریب تر ہونا چاہتی ہوں تاکہ میری انا کے بت ٹوٹیں اور میں انسان بنوں ، ادھر آپ مجھے پھر ایسے انٹرویوز مین ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کر رھے ہیں کہ شاید لوگ مجھے جانتے ہیں یا جاننا چاہتے ہیں۔
سوال۔۔۔۔۔ آخر ایسا آپ کیوں چاھتی ھیں ؟ اور اس خیال تک کیوں پہنچیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔ یہ اچھی بات کی آپ نے ۔
لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں 
لیکن نہ لکھ سکے کبھی اپنی ہی داستاں
 چار سو الفاظ کے موتی بکھرے دیکھے اور صرف پیار ہی پیار۔ یہ تھا میرا بچپن۔ تہذیب بھری وادی نے اس خود اعتمادی کو جنم دیا کہ اولین جماعتوں سے ہی سٹیج پر موجود ، پہیلی ہو یا لطیفے ، نصاب ہو یا ڈرامہ کوئی شعبہ نہ چھوڑا یہاں تک کہ نوجوانی میں قدم رکھتے ہی سٹیج پر فن رقصِ کے قدم سے قدم ملایا۔ ڈاکٹربن کر انسان کی خدمت کرنے کا جذبہ البتہ مہندی کے سبز ہاتھوں میں زرد ہو گیا ۔ شعبہ ِ تدریس اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنایا اور خود بھی اسی شعبہ میں قدم جمایا ۔
سرحدیں پار کرتے ہی طوفانِ بلاخیز بھی کہیں راہ میں ساتھ ہو لیا ہم جس سے بے خبر تھے ۔
 آئینہ اٹھایا کہ اب خود پہ نگاہ ڈالیں، خود سے متعارف ہوں لیکن آئینہ ہمیں نہ اٹھا سکا ،ہاتھوں سے پھسلا اور چکنا چور ہوا ۔ ہم اس کی کرچیوں میں خود کو خوںچکاں کر بیٹھے ۔
پلٹ کر پُرکھوں کو مدد کے لئے پکارا،
از قضا آئینہ ی چینی شکست
آواز آئی 
خوب شد اسبابِ خود بینی شکست 
ہم نے پوچھا یہ بھی تو بتایئے ایسی خاکِ پریشان کو کیوں کر سمیٹیں۔
 آبا واجداد بولے’ بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا ‘ ’ وقت اچھا بھی آئے گا ‘ تم صاحب عقل ہو ’ہر ورقے دفتریست معرفت ِ کردگار ‘ ذندان ذات سے رہائی ہی غموں کا علاج ہے جو صرف عشق سے ہی ممکن ہے ۔ 
 ہم نے کہا ، زندگی کا مفہوم تو اب یہ ہی رہ گیا ہے زخموں میں کٹے کوئی روز تو کوئی رفو میں ۔ جو ہری ہے وہ تو صرف شاخِ نہال ِ غم ہے ۔ 
انہوں نے کہا ، سو ہری رہنے دو یہی راہ ِ عشق ہے ۔
ہائے اللہ! ہم تو ہر بات عقل کی کسوٹی پہ پرکھتے ہیں ، ہم نہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے تری بات ۔
من رے تو کاھے نہ دھیر دھرے 
وہ نر موہی موہ نہ جانے جن کا موہ کرے 
اور فطرت سے دل لگا بیٹھے ، شاید محبت ہو گئی 
میٹھی بولی بول کوئیلیا 
اکیلی ڈر لاگے ۔
وہ بولے، خوش رہنے والی صورت پہ چنتا کی بدلی چھائے کیوں ؟ 
 ہم نے دل چیر کر دکھایا : اسی لئے تو ہوا رو پڑی درختوں میں ، من چندرا ہوکے بھر رھا ہے ، سینے میں لگے ضبط کے پیڑ سے آنکھوں میں شاخِ ہجراں نکل آئی ہے ۔ چشمِ جگر کو خون ہوتا دیکھو کوئی ۔ 
پر میرے حال پہ رویا نہ کوئی ۔
 شاعری سے نثر کا سفر شروع ہوا کہ محبت بھی جل کر خاکستر ہو چکی تھی ہم نے پکارا ، اے مجھے توڑنے والے ہمیں گلدان میں کملاتا تو دیکھ جا ، اعتراف گناہ کیا ، عشق کی سدا لگائی ۔ لیکن دکھ کے دولہا کو لے کر برھا کی ڈولی چڑھنا ہی پڑا۔
دل کے اندر سے آواز آئی :
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم 
 یہ آواز تو روح میں چلی آتی تھی ، ہم جانتے تھے اس آواز کو یہ وہی تھی جوہم نے اپنی پیدائش پہ سنی تھی، 
 ہم نے اپنے سینہ سے جدائی کا پَر کھینچا جو پَرا فشاں نکلا مگر ’زخم نے داد نہ دی تنگی ِ دل کی یارب
 اور ہم طوفانِ بلا ئے زمانہ پر ’خاک ڈال ،آگ لگا ، نام نہ لے یاد نہ کر‘ کا وِرد کرتے دنیا میں اپنے پیدا کرنے والوں کے پاس جا پہنچے ۔
 پرکھوں کے سخن کو ہمارے گھر میں آباد دیکھ کر خوش ہونے والے خوش ہوئے اور باقی آکاس بیل بن کر مجھ سے لپٹ گئے ۔ 
اور پھر 
سارے جہاں کی دھوپ مرے گھر میں آ گئی
سایا تھا جس درخت کا مجھ پر، وہ کٹ گیا
والدین کو وصال ہوا ہم نے ہجر پایا ، غم ایک نئی صورت اختیار کر گیا ۔ 
اس ہجر میں عشق کو ہم ہو گئے ۔ وہ ہمارے ساتھ ہو لیا ۔ 
لاکھ سمجھاتے ہیں اسے 
اب مجھ ضیعف و زار کو کچھ مت کہا کرو 
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسی کی اٹھائی بات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن
عشق کی پہلی صدا آئی :
شاد باد عشق خوش سودائ ما 
ای طبیبِ جملہ علت ھائ ما 
جسم خاک از عشق بر افلاک شد 
کوہ در رقص آمد و چالاک شد
؎ گفتم علاجِ زندگی 
گفتا کہ دیدارِ منست 
اور اب 
نہ فنا مری نہ بقا مری مجھے اے شکیل نہ ڈھونڈھیئے 
میں کسی کا حسن ِ خیال ہوں مرا کچھ وجود و عدم نہیں ۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال ۔۔۔۔۔ جہان دکھ کی کٹھلی میں پڑھ کر کندن بن گئی ہیں یا خود کو راکھ کا ڈھیر ہی محسوس کرتی ہیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔
میرے درد کو جو زباں ملے 
مجھے اپنا نام و نشاں ملے
 آپ مجھے کندن بنا رھے ہین ؟ شاید جہان کی نظر میں کندن قیمتی چیز ہے ، پھر تو میں خاک ہی ہوں ۔ دنیا نے مجھے دکھ دے کر مجھ پہ احسان کیا ہے ، کہ مجھے ایک نئی دنیا سے متعارف کروا دیا جس کی قیمتی ترین چیز خاک ہی ہے ۔ 
غبارِ کوئے او بودم
نمی دانم کجا رفتم
فنا گشتم فنا گشتم 
 نمی دانم کجا رفتم
سوال ۔۔۔۔۔ کہانیاں افسانے لکھنے کا شوق کیسے ھوا ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ کہانیاں بچپن مین بہت لکھیں ، تعلیم و تربیت ، نونہال اور بچوں کی دنیا یہ تین رسالے ڈیڈی نے ہماری تربیت کے لئے ماہانہ لگوائے ہوئے تھے۔ بس ان میں کبھی کبھی اپنی کہانیاں بھیج دیتی تھی۔ 
 اب افسانے کی طرف دوستوں نے دھیان دلوایا۔ میری نثر کو دیکھ کر سب سے پہلے یہی سننے کو ملتا کہ آپ افسانے کیوں نہیں لکھتیں ، سو مان لیا ۔
 میرے تایا دہلی کے معتبر افسانہ نگار اور شاعر شمار ہوتے تھے ۔ وراثت سے بھی چند ذرے میسر ہوئے ہوں گے ۔ بِنا بیج کے سُوتے نہیں پھوٹا کرتے ۔
 آپ کے مختصر سوال نے ذہن کے کتنے ہی بند دروازے کھول دیئے جو میں بند کر کر ہانپ جاتی ہوں ۔ صوفیا دنیا تیاگ کر سفر پر نکلتے تھے اور معراج پاتے تھے ۔ ہم گھر بیٹھے اس دنیا کی ذمہ داریوں اور مٹکی پھوڑتے پتھروں کا شمار کرتے کرتے یہاں سے وہاں کے سفر میں ہی خاک ہو رہے ہیں ۔ 
سوچا تھا 
بھلا ہوا موری گگڑی پھوٹی 
میں پنہیا بھرن سے چھوٹی
لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
 مرزا اسد اللہ خان غالب نے دو دو مصرعوں میں ہماری زندگی کے کئی کئی سال قید کردیئے ۔ یہی سوچتی ہوں کہ راہ کو پُر خار دیکھ کر ہم نے بھی اپنے آبلے پھوڑ لئے ۔
سوال ۔۔۔۔۔ پہلا افسانے کا نام کیا تھا اور کیا محرک تھا ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ پہلی تحریر جسے میں نے ’’پھوپھی زاد کے نام ایک خط ‘‘ کے نام سے لکھا ، اس پر تمام بڑے ادیبوں کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی اور انہوں نے کہا کہ آپ افسانے لکھیں ۔ اس تحریر کا محرک احمد کامران کے اشعار بنے جو کچھ اس طرح ہیں:
اے مجھے توڑنے والے ،تو میرا حال تو پوچھ
آ مجھے دیکھ میں گلدان میں کملاتا ہوں
اے کسی اور کے دکھ تو میرا دکھ جانتا ہے
میں گنوانے کے لئے ہی تجھے اپناتا ہوں
 اس کے بعد پہلا افسانہ ، ’کاکروچ کی کتھا‘ لکھا جو بہت مقبول ہوا۔ ادیبوں نے اسے مابعدالجدیدیت کے تناظر میں دیکھنا شروع کیا۔ اس وقت یہ فیشن نیا نیا تھا
 اس افسانے کا محرک تو دراصل دنیا میں معاشیاتی ، معاشرتی اور سیاسی ناانصافیاں ہی تھیں جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب گھسیٹ رہی ہیں ۔
 لیکن اصل محرک ایک ایسی حقیقت تھی جو مجھے معلوم ہوئی کہ تیسری جنگِ عظیم اگر ہوئی تو کاکروچ بھی نہیں بچ سکیں گے ۔ 
 دوسری جنگِ عظیم میں جو تابکاری استعمال ہوئی تھی اس میں کاکروچ واحد ایسی مخلوق تھے جو بچ گئے تھے ۔ چونکہ اس کا تعلق کاکروچ سے تھا تو میں نے اس کے متن کو انگریزی ادب میں پڑھے فرانز کافکا کے افسانے میٹامورفوسس سے کشید کیا ۔
سچ پوچھیں تو سب سے پہلا افسانہ انگلش میں لکھا ۔ جس کا نام تھا 
The Ultimate Destinyy.
سوال ۔۔۔۔۔ زندگی میں سب سے زیادہ کس سے متاثر ہیں ؟
جواب ۔۔۔۔۔ڈیڈی سے
سوال: کیوں ؟
 جواب : میرے لئے ڈیڈی کی زندگی ایک مثالی زندگی رہی ۔ اس بات سے قطع نظر کے وہ میرے والد صاحب ہیں ، ان کی بااصول زندگی ، وقت کی پابندی، ایمان کی معرفت ، ایمانداری و شرافت ، محبتوں کے امین ، اور سخت محنت کے عادی ، کیا کیا بات یاد کروں ۔ ہر ایک لفظ کے پیچھے ان کی زندگی میں گزرے کسی لمحے کو دیکھ لیں ذرا جو یہ الفاظ دکھائی دیں ہر جگہ معنی ہی معنی ، عمل ہی عمل ۔۔۔۔۔۔
 دنیا کے ہر موڑ پر ان کی کوئی نہ کوئی نصیحت سامنے ہنستی مسکراتی کھڑی ہوتی ہے ۔ بچے تھے تو ان سے ہر دم وہ نظم ہی سنی 
try try try again ....
اور do your best , leave on God the rest.
اور ایسی ہی بےشمار باتیں جانے کیسے کہتے تھے کہ دل میں اتر جاتی تھیں ۔
 ایک بار کہا بیٹا ، دنیا میں غم اور خوشی دونوں ہی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں ، اب یہ تم پر ہے کہ زندگی ہنس کر گزار لو یا رو کر ۔۔۔ اس دن کے بعد میں نہیں روئی ، جتنے غم ملتے اتنی ہی ہنسی بڑھ جاتی
 ڈیڈی پیشے سے انجینئر تھے ، برٹش فوج نے کسی بہت بڑے پروجیکٹ پہ انہیں بھیجا ، وہاں سے سرخ رو آ رہے تھے ، جہاز کے عرشے پر نماز کا وقت ہوا تو سب مسلمان ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے کہ کیسے نماز ادا کرین ۔ وہ ڈیڈی ہی تھے جنہوں نے اپنی جا نماز بچھائی اور اپنے فرض ِ دین سے ہمکنار ہوئے ۔ اب جو پیچھے مڑ کر دیکھا تمام لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ 
 ان کا کہنا تھا بیٹا دین اور دنیا ساتھ ساتھ ہے ۔ کبھی کسی فیشن سے منع نہیں کیا ،ہم پر اتنا اعتبار کرتے تھے کہ ہم ان کا اعتبار توڑ ہی نہیں سکتے تھے۔ اعلیٰٰ تعلیم پر پابندی نہیں، علم کی جستجو پر انعام ملا کرتا تھا ۔ ہر بچے کو امتحان پاس ہونے پر پرسنٹ ٹیج کے حساب سے انعام ملا کرتا تھا ۔ یہ روایت انہوں نے اپنے پوتوں پوتیوں کے لئے بھی اپنائے رکھی ۔ 
 پاکستان میں جو پنکھے واحد انڈسٹریز پاک فین کے نام سے تیار کرتی ہے ، وہ انڈسٹری میرے والد صاحب نے لگائی تھی ۔ واحد تو بالکل ان پڑھ تھے اور کل پرزے ٹھیک کرنے کی دکان تھی ۔ لیکن ڈیڈی کو زرا بھی ستائش کی تمنا ہو یا دولت کی لالچ ، آدھی زندگی ان کی انڈسٹری کو چلاتے رہے ۔ ایماندار لوگ اور وہ بھی مہاجر تو غریب ہی ہوا کرتے ہیں، سو تھے ۔ آپ نے تو ایک دفتر کھولوا دیا ۔ ان کے کارنامے پھر کسی علیحدہ جگہ بیان کروں گی ۔
 ہر شخص جو ان سے ملتا تھا وہی ان کا گرویدہ تھا ۔میرے تمام کزنز بلکہ ان کے بچے بھی سب ہی ان کو ڈیڈی کہتے ہیں ۔ وہ جگت ڈیڈی ہیں ۔ جدید و قدیم کا ملاپ ۔ ہمارے خاندان میں آنے والی ہر نسل ان کے گن گائے گی ۔ان کے وصال پر کوئی مجھ سے کہتا ڈیڈی نے میرا یوں ساتھ دیا کوئی کہتا ڈیڈی نے مجھے یہ تحفہ دیا ۔ کوئی کہتا ڈیڈی مجھے ہمیشہ ای میل لکھ کر میرا حال پوچھتے تھے ۔ سب سمجھتے تھے کہ وہ ہی ڈیڈی کے لاڈلے ہیں اور فخر کرتے تھے ۔۔۔۔۔ میں بھی یہی سمجھتی رہی کہ صرف میں ہی ان کی لاڈلی ہوں ۔ وہ تو سب کے لاڈلے نکلے اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے ۔ آمین۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ کے نزدیک محبت کیا ھے ؟
جواب۔۔۔۔۔محبت ، اردو زبان میں ایک احساس کا نام ۔ ہم اپنے الفاظ کی دولت میں بہت غریب ہیں ۔ کبھی سوچتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ کاش ، یہ معنی کی دنیا مجھ پہ کھل جائے اور میں بھی عارفوں کی طرح انسانوں کو صرف احساس سے ہی پڑھ لوں ، الفاظ کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔یوں تو زبان کے لحاظ سے محبت اس احساس کی لڑی کا ایک موتی ہے جس میں انس ،چاہ ، لگن ، پیار ، محبت اور عشق وغیرہ شامل ہیں ۔لیکن کیا یہ چند الفظ ہمارے تمام احساسات کے فرق کو بیان کر رھے ہیں ، جسے محبت کہتے ہیں ؟
 مثال کے طور سے میں کہتی ہوں میں اپنی امی کی گود میں پلی اور جب ان پہ بہت پیار آیا تو کہا امی میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں نو جوان ہوئی تو کسی شخص/ شوہر سے پیار ہو گیا ، تو کہوں گی جان میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اب مجھے دنیا کی چیزوں میں کشش محسوس ہوئی تو کہا مجھے اپنے طلائی سیٹ سے محبت ہے جو مجھے والدہ نے دیا تھا دوست ملا تو اس سے بھی محبت ہو گئی ، بھائی بہن کی محبت غرض کیا آپ ان محبتوں میں کوئی فرق محسوس کرتے ہیں یا نہیں ۔ لازم ہے کہ جو محبت کا احساس اس وقت اجاگر ہوتا ہے جب شوہر یا بیوی سے محبت ہو رہی ہو وہ ماں یا باپ سے محبت کے احساس میں نہیں ۔
 قدرت کی انمول مخلوقات سے محبت ، اللہ سے محبت ، ہر محبت کا احساس ہم لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔
کیا ہم نے تمام احساسات کو لفظوں میں بیان کر لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔بس یہی غربت ہے ۔ 
سو محبت احساس ہے جس کو میں عالم ِ حیرت میں دیکھتی ہوں ۔
 ؎ جو لگا کے آگ گئے ہو تم ، وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں
سوال ۔۔۔۔۔پاکستان سے ٹورنٹو کا سفر کیوں ہوا ؟ ٹورنٹو کے لوگ کیسے ہیں ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ یہ تو میں بھی آج تک سوچتی ہوں کہ پاکستان سے ٹورنٹو کا سفر کیوں کر ہوا ۔ سات سمندر کیوں پار کئے ۔ کچے گھڑوں پہ سوار ہو گئے؟ پاکستان میں نہ دولت کی کمی تھی نہ رتبے کی، نہ پیار کی کمی، نہ جان کا خدشہ ۔ فوج میں کرنل شوہر، پیارے سے بچے ، اسلام آباد کے پوش علاقے میں اپنا گھر ، بے شمار زمین جائیداد، والدین بہن بھائی سب ہی کچھ تو وہاں تھا ۔ اولاد جوان ہو رہی تھی اور بس ایک ہی وجہ تھی کہ باہر تعلیم اچھی ملتی ہے ۔کئی لوگوں نے سمجھایا کہ بچوں کو پڑھنے بھیج دو لیکن اکیلے بچے کیسے رہیں گے ، اس وقت یہ بات عقل میں نہ آئی ۔ اب میری باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ مجھے یہاں آنا اچھا نہیں لگا ۔ ہرگز نہیں ، مجھے تو اس وقت معلوم ہی نہیں ہو رھا تھا کہ ہو کیا رھا ہے ، فوجی آرڈر آتے تھے اور ہم کو ماننے ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ائر پورٹ کے لئے کار میں بیٹھی تو میں اتنی زور سے رونے لگی کہ ماموں جو کار چلا رھے تھے وہ پریشان ہو گئے ۔ لیکن اب مجھے کینیڈا اتنا پیارا ہے کہ مجھے پاکستان جانا کبھی کبھی اچھا نہیں لگتا وہاں کے نظام کے ہم عادی نہیں رھے۔ والدین کے لئے تو تڑپ کر جایا کرتی تھی ان کے گزر جانے کے بعد احباب رشتے داروں سے ملنے کو دل تو کرتا ہے ، کبھی جانا ہوا تو سب سے ملنے کا ارادہ ہے۔ 
 تورنٹو کے لوگ تو ملٹی کلچر ہیں ، ہر رنگ و نسل کا شخص نظر آئے گا ۔ ہمارا ان سے تعلق تو پبلک جگہوں پہ ہی ہو سکتا ہے جیسے دفتروں ، دکانوں وغیرہ میں ۔ ایسی تمام جگہوں کے اپنے اصول و ضوابط ہیں جن کی بنا پر وہاں انسان نہیں بلکہ سمجھیں مشینیں کام کر رہی ہوتی ہیں ۔ یوں تمام لوگ بہت اچھے ہیں مخلص ہیں ہیلپ فل ہیں ، ادب آداب والے ہیں ۔ 
 عموماً پاکستانی لوگ یہاں آ کر سمجھتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کی ویلیوز نہیں ، اکیلے رھتے ہیں، ڈرنک کرتے ہیں ، کلب جاتے ہیں ،ایسے ہیں ویسے ہیں ۔ 
 ہر قوم میں ہر طبقے کے لوگ ہوتے ہیں جو پاکستانی وہاں سے آتے ہیں انہیں یہاں زیرو سے زندگی شروع کرنا پڑتی ہے چنانچہ وہ کام بھی اسی لیول کے لوگوں کے ساتھ کر رھے ہوتے ہیں لیکن اپنے ذھنوں میں ان کو ایک خاص طبقہ (مزدور) کے بجائے تمام آبادی سمجھ کر رائے دیتے ہیں ۔ جب کہ یہاں کے امرا ٗ اور متوسط طبقے کے لوگوں سے بھی پاکستانی عوام کا بہت کم سامنا ہوتا ہے ۔ یہاں کے امرا اور متوسط طبقے میں بھی شرفا اور خاندانی لوگ آباد ہیں جو ہمارے خاندانی لوگوں کی طرح اپنے رسم و رواج کے پابند ہیں، مل کر رہتے ہیں ۔ 
 میرے بچے حکومت کے دفتروں میں کام کرتے ہیں اور اس سے پہلے وہ بڑی فرمز میں اکاؤنٹنت اور آرکیٹیکٹ ڈیزائنر وغیرہ کے طور سے کام کرتے رھے ہیں ۔ ان کے حوالے سے مجھے ایسے بہت سے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے کہ جن کو دیکھ کر میں نے بچوں سے کہا بیٹا یہ لوگ کینیڈا میں کہاں بستے ہیں ۔ 
 پاکستانیوں نے اپنی الگ محفلیں آباد کی ہوئی ہیں ، سیاسی / ادبی/ مذہبی گروہ، عورتوں کے گروہ انٹرٹینمنٹ کے گروہ اور خاندانوں کے گروہ ہیں، یعنی یہاں بھی گروہ بندی پر پورا زور ہے جن میں فرقہ در فرقہ اور قریہ در قریہ ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد ہیں ۔
 البتہ بچے یہاں کے ماحول میں فوراً ہی گھل مل جاتے ہیں جو وہ درست کرتے ہیں کہ آخر ان کا مستقبل تو یہیں ہے۔
سوال ۔۔۔۔۔ ٹورنٹو کے کچھ ایسے واقعات یا واقعہ جو آپ ھم لوگوں سے شیئر کرنا چا ھیں؟
 جواب ۔۔۔۔۔ ٹورنٹو تو خود ایک واقعہ ہے ، جھیلوں کے ملک میں ایک بڑی جھیل سے منسلک ایک خوبصورت شہر ۔ یورپ سے آ کر اس کو آباد کرنا ایک واقعہ ہے ۔ آج نیویارک کے متوازی اس کا نام آتا ہے ۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ شہر جس میں ہر منظر نیا ہے ، ہر لمحہ جدید ، ہر مقام قابلِ دید ۔ ایک جانب بلند و بالا تعمیرات کے نمونے اور دوسری جانب جنگلوں میں آبشاریں اور صحرا، عالم میں بزنس کا مرکز اور مرکز میں دنیا کے لوگ باھم رہائش پذیر ہیں ۔ 
 ٹورنٹو کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ دنیا کے تمام نسلیں جو یہاں رہائش پذیر ہیں ان کو اپنی قومی ثقافتی مذہبی تقاریب کروانے کا پورا اختیار ہے ۔ حتیٰ کہ آپ حیران ہوں گے کہ ان آنکھوں نے وہاں کی میجر شاہراہ پر عین یونیورسٹی چوک پر اہل تشیع کو چھریوں کا ماتم کرتے دیکھا۔ سکھوں کو اپنے جلوس کو بحری بندر گاہ سے جزیرہ تک لے جاتے اور وہاں اپنی مذہبی تقریب منقعد کرتے دیکھا ۔ گے ڈانس ہو یا چینی اژدھا ، کالوں کا کونبا ہو یا گوروں کا سینٹ پڑک ڈے ۔۔۔ یقین مانیں میں نے ہر ہر تقریب میں شمولیت کی اور بہت انجوائے کیا ۔ یہ ٹورنٹو کا واقعہ دنیا مین کہیں نظر نہیں آئے گا ۔ ہر قسم کی کھیلیں ، کشتی رانی ، برفوں میں برف پر اور ان ڈور کھیلوں میں کہیں چاھیں جائیں ، کام کریں اور انجوائے کریں یہی زندگی ہے ٹورنٹو کی اور یہی نہ ختم ہونے والے واقعات ہیں میرے پاس سنانے کو۔
سوال ۔۔۔۔۔ آج کے زمانے میں عورت کے بہت سے روپ ہیں ۔ آپ کے خیال میں عورت کی عظمت وقار کن باتوں میں ہے ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ عورت والے سوالات میری سمجھ سے باہر ہوتے ہیں کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ فرد کی بات کریں ۔ یا مرد و عورت کی بات کریں ۔ اور عورت کی عظمت کے کیا معنی ، آدمی کی عظمت و وقار کیوں نہیں ہوتا۔ سچ پوچھیں تو یہ باتیں میری سمجھ سے بالا تر ہیں ۔
سوال ۔۔۔۔۔ اصل میں چاہ رھا تھا کہ عورت کے حوالے سے آپ کے خیالات ضرورسامنے آئیں کہ آپ ایک انتہائی محنتی اور پڑھی لکھی خاتوں ہیں ۔ عام لوگوں کا تصور حتی کہ عورتوں کا اپنے بارے میں بھی تصور بعص اوقات واضح نہیں ہوتا ۔
 جواب ۔۔۔۔۔ تصور تو بہت واضح ہے ۔ لیکن سوال میں تو آپ نے عورتوں کے روپ پوچھے ہیں اور پھراس کی عظمت و وقارمیں عورت اور مرد کی فلاسفی پہ بات کر سکتی ہوں ، میں ان کے رھن سہن میں عادات میں فرق کو واضح کر سکتی ہوں ۔میں ان کی ذمہ داریوں پہ بات کر سکتی ہوں
سوال ۔۔۔۔۔ یقینی طور پر عورت ایک عظیم مرتبہ پر ھے آپ اس کو اپنے لفظوں میں واضح کریں ۔
 جواب  ۔۔۔۔۔ عورت اور مرد دونوں ہی عظیم تصور کئے جاتے ہیں ۔ مائتھولوجی میں بھی انسان مرد و عورت سے مل کر ہی بنا ہے ۔ میری صرف یہی رائے ہے کہ ہم اگر اپنی ذات کی نفی کر کے اس دنیا میں رھیں، معاشرے میں اپنی حدود کا تعین کریں اور تعمیر ِ ملت و معاشرے میں اپنے فرائض نہ بھولیں تو یقیناً عورت اور مرد دونوں ہی عظمت کی معراج چھو سکتے ہیں۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ کے ھم عصر افسانہ نگاروں میں سے اس وقت اچھا افسانہ کون کون لکھ رھا ھے ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ ہم عصر افسانہ نگاروں کو ٹھیک سے پڑھا ہی کب ہے ۔اس گلوبلائزیشن کے دور میں یہ تو معلوم ہوتا رھتا ہے کہ دنیا میں اردو ادب میں کون کون سے افسانہ نگار یا سخن طراز موجود ہیں لیکن کیا ان کی تصنیفات ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں ۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کو پڑھنا کارِ نا ممکنات میں سے ہے ۔ کسی ادیب کا ایک افسانہ پڑھ کر یہ اندازہ لگانا کہ وہ اچھا لکھ رھا ہے یا نہین یہ بھی ممکن نہیں ۔ انٹر نیٹ پہ موجودہ سہولیات کے باوجود بھی عموماً اچھی نگارشات سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ بہترین ادیب اپنے فن پارے نیٹ پہ نہیں لگاتے بلکہ وہ یہاں موجود بھی نہیں ہوتے ۔ کینیڈا میں رھنے کے موجب میرے پاس صرف وہ چند کتابیں ہیں جو میں دورانِ سفر پاکستان سے کپڑوں اور جوتوں کی جگہ بیگ میں ٹھونس لاتی ہوں ۔ ان میں ہر ذائقہ کی کتاب ہوتی ہے جیسے میرے مولانا رومی کے دفاتر، ڈاکٹر مبارک علی ، ضیا الحسن، امین راحت چغتائی کی تنقید کی کتابیں ، علی عباس جلال پوری کی معاشرت اور کائنات پہ کتابیں وغیرہ ۔ یہ بہت لمبی فہرست ِ مضامین و ادبا بن جائے گی ۔ افسانوں کی بات پر آئیں  تو میں سب سے پہلے افضل توصیف کی کتاب لاوارث سے بہت متاثر ہوئی تھی۔ جیلانی بانو، واجدہ تبسم، صدیق عالم، خالد طور، وغیرہ کا کام بھی مجھے پسند ہے ۔ (یہ میری کم علمی اور عدم دستیابی ہے کہ میں اچھے ناموں اور ان کے کاموں سے ابھی ناواقف ہوں ) ۔غربت کے مسائل ہوں یا عالمی منڈی کے ، رومان ہو یا انسان کی بنیادی ضرورتوں سے روگردانی کا ذکر، زر و زمین کی بات ہو یا بالائے عقلِ انسانی کوئی متھ ، دائیں بازو ہو یا بائیں ، سرخ ہو یا سفید ، دراصل ایسا نہیں ہے کہ میں ایک ہی موضوع سے شغف رکھوں یا ایک ہی نظریئے کی اساس پر کسی کو پسند کروں ۔
 افسانہ تو میری نظر میں وہ شہ پارا ہونا چایئے کہ جس پر ایسے دل آ جائے جیسے کسی محبوب پر دل آ جاتا ہے۔آج کے دور میں جب کہ اتنا مواد شائع ہو رھا ہے تو ہمیں لکھتے ہوئے یہ سوچنا چایئے کہ صرف وہ لکھیں جو اس سے پہلے کہا نہ گیا ہو۔ ہمارا ہر ہر لفظ اک ادائے قاتل لئے وار کرے۔ کلاسیک کو پڑھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس معیار کی بات کرتے تھے۔ ہمیں کم سے کم اس معیار سے بلند ہو کر لکھنا ہے تا کہ آئیندہ وقت اسے تسلیم کرے نا کہ وہ پرانے ادب کو ہی سراھتا رہے۔ 
پس جو ظالم اپنے ندرتِ خیال و بیان سے عاشق بنا لے وہی اچھا افسانہ نگار ہے ۔ 
 جہاں تک موضوع کی بات ہے تو میں خود متنوع موضوعات پہ لکھتی ہوں اور چاھتی ہوں کہ دو بار ایک ہی موضوع پہ قلم نہ اٹھاؤں ۔ پھر بھی ابھی میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ میں نے کوئی ایسا افسانہ لکھا ہے جو اشاعت کے قابل ہو۔ میں اپنے تئیں خود ہی اپنے افسانے رد کرتی چلی جا رہی ہوں ۔
سوال ۔۔۔۔۔کیا موجودہ تیز رفتار دور میں ادب معاشرے کے ساتھ چل پا رھا ھے ؟ یا کہیں دور کونے میں کھڑا ھانپ رھا ھے ؟
 جواب  ۔۔۔۔۔ یہ ہانپنے والی امیجری خوب ہے ، بس تصور شرط ہے ۔ معاشرہ اور ادب لازم و ملزوم ہیں ۔ معاشرہ تیز رفتار ہو گا تو ادب بھی ساتھ بھاگنے لگے گا ۔تاریخ کو دیکھیں تو ساٹھ کی دہائی تک افسانہ داخلیت اور نفسیاتی مسائل تک ہی محدود تھا ۔ ساٹھ سے اسی تک علامت نگاری نے ادب کو ایک نیا رخ بخشا۔ رشید امجد، انور سجاد ، سمعیہ ، احمد جاوید، اور احمد ہمیش نے علامت میں خوب سے خوب تر کی تلاش میں اِسے ماورائے معاشرت و تہذیب کر دیا۔ ان علامتی تخلیقات کی وجہ سے ادب ایک مشکل صنف بن کر رہ گیا تھا۔ اَسی کے بعد علامت کو اپنے ہی گرد پھیلی تہذیب سے ڈھونڈا گیا ۔ گلوبلائزیشن نے جہاں باقی فنون پہ اثر ڈالا وہیں ادب شخصی مسائل سے نکل کر عالمی موضوعات کی جانب رجحان پذیر ہوا۔ یوں متنوع موضوعات زیر قلم گردش کرنے لگے ۔ آج کا قلم کار ہر موضوع پر طبع آزمائی کر رھا ہے ۔ داخلیت ہو ،روحانیت ہو ، نفیسات کو موضوع بنایا جائے یا فلسفہ بیان کیا جائے ، ڈیاسپورا کے مسائل ہوں یا دنیائے عالم کے حالاتِ حاظرہ سب پر بے شمار لکھا جا رھا ہے۔ 
 لکھنے کے انداز میں بھی جدت لائی جا رہی ہے ، بیانیہ سے علامت نگاری ، سریلیزم، بین المتونیت ، مریکل رئلزم ، میجیکل رئلزم ، انٹر ٹوائنڈ وغیرہ غرض ہر طریقہ کار اپنایا جا رھا ہے ۔ جدیدیت اور مابعدالجدیت پر باقاعدہ سر توڑ (قطع نظر محاورا ) مباحث جاری ہیں ۔ یہ سب ادب کی گہما گہمی ہی تو ہے ۔ معاشرہ تیز رفتار ہے ادب بھاگ رھا ہے انسان کہیں پیچھے رہ گیا ہے ۔ 
 ادب وہی جو اوریجنل ہو ۔ ایسے ادیب بھی ہیں جو خاموشی سے یک گوشہ تنہائی میں شب و روز لگن سے تخلیقی و تنقیدی کاموں سے منسلک ہیں۔ پھر بھی یہ کہوں گی کہ اس دوڑ میں ہم بہت سی ادبی روایات ِ تخلیق سے منحرف ہو رھے ہیں اور معیار کو بلند رکھنے کی سعی سے محروم ہوتے جا رھے ہیں۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ کے بچوں میں سے کس میں ادبی رحجان زیادہ پایا جاتا ھے ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ میرے تمام ہی بچے ادب سے شغف رکھتے ہیں ۔ ان میں انگریزی لٹریچر پڑھنے کی عادت بچپن سے ہی ہے وہ رات کو کتاب پڑھے بنا نہیں سویا کرتے تھے ۔ میں نے ہمیشہ انہیں تحفہ میں کتابیں ہی لا کر دیں اور جہاں کہیں بک فیسٹیول لگتا وہ ڈھیروں اپنی پسند کی کتابیں لایا کرتے تھے۔ اب بھی وہ ایک رات میں چھ سات سو صفحے کی فکشن /ناول پڑھ لیا کرتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایک تو یہ عادت کم ہو گئی ہے ، دوسرے کتابوں کا سٹائل بدل گیا ہے۔ اپنے اپنے پروفیشن میں مصروفیت کے باعث وہ فکشن تو کم ہی پڑھ پاتے ہیں لیکن ان کے پاس ہمیشہ ہی کرنٹ افیئرز اور دنیا کے بارے میں ہر طرح کی معلومات ہوتی ہیں ۔ جسے میں ادب کا ہی حصہ سمجھتی ہوں ۔
’’ اردو ادب ‘‘ انہوں نے سکول یا کالج میں نہیں پڑھا ، لیکن وہ میری تخلیقات بہت شوق سے سنتے ہیں اور اس پر مجھے رائے بھی دیتے ہیں ۔ کبھی کبھار تو کوئی ایسا اچھا پوائنٹ بتاتے ہیں کہ میں سوچتی ہوں کہ یہ سب ادب سے لگاؤ کی وجہ سے ہے۔ سب بچوں نے اپنے وقت میں کچھ نہ کچھ لکھا لیکن انگلش میں ہی جیسے کہ شاعری یا کہانی وغیرہ ۔ لیکن اس کو باقاعدہ نہیں لکھا ۔ چھوٹی بیٹی تو بہترین افسانہ نگاری اور پوئٹری کرتی رہی ہے۔
سوال  ۔۔۔۔۔ اب تک کل کتنے افسانے لکھے ہیں ۔ کیا کتاب بھی چھاپنے کا ارادہ ھے ؟
 جواب ۔۔۔۔۔ ابھی تو مجھے افسانے لکھتے زیادہ عرصہ نہیں گذرا ، اس لئے افسانوں کی تعداد ابھی اتنی نہیں ۔ یہی کوئی بیس پچس افسانے ہیں اور کچھ تراجم باقی شاعری وغیرہ۔ کتاب چھاپنے کا ارادہ بناتی ہوں تو سوچتی ہوں نئے افسانے لکھ کر ہی کتاب چھپواؤں گی ۔
سوال  ۔۔۔۔۔دنیا کے نام آپ اپنے پیغام میں کیا کہنا چاھیں گی ؟
 جواب ۔۔۔۔۔جو لوگ یہ مکالمہ پڑھتے ہیں وہ سب ، خواہ قاری ہوں یا لکھاری ،عاقل و بالغ ہی ہوتے ہیں ۔ ادیب ہونے کے ناطے ہم مفکر بھی ہوتے ہیں جو اپنے معاشرے کو بڑے تناظر میں دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ چھوٹے چھوٹے قدم لینے والا جلد اپنی منزل پا لیتا ہے جب کہ لمبےقدم اٹھانے سے انسان ڈگمگا بھی سکتا ہے اور منزل تک پہنچنے میں ہانپ بھی جاتا ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر ہم قومی و معاشرتی سطح پر اپنے اغراض و مقاصد حاصل کرنے کے لئے سنگِ میل تعین کر لیں تو بڑی سے بڑی کمزوری پر بھی غالب آ سکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں بدحالی اور انتشار کا موسم ہے۔ سب ایک دوسرے پر انگلی اٹھا رہے ہیں ، حکمران عوام کو غیض و غضب کا نشانہ بنا رہی ہے اور عوام حکمران پر ہر سوشل میڈیا کے ذریئے غصہ نکال رہے ہیں ۔
 ایسے میں کڑوڑوں کی آبادی اگر چھوٹے اقدام لے اور انفرادی سطح پر اپنے مسائل اور کاموں کو بانٹ لے تو ایک وقت آئے گا کہ حکمرانوں کو عوام کے آگے جھکنا پڑے گا ۔ ہر حکومت کا ایک نظام ہوتا ہے ، اس نظام کے حوالے سے ہر فرد کا رابطہ اس کے علاقے کے منتظم سے ہونا چاھئے اور منتظم کو پکڑنا کوئی مشکل نہیں ، صرف اپنے اندر ایمانداری کا عُنصر کھوجنے کی ضرورت ہے۔ چاپلوسی تیرا آسرا ہر شعبے کو غلیظ ترین بناتا جا رھا ہے۔ ادیبوں کا کام ہے کہ وہ فرد کی ذمہ داری اور منصب کی سوچ کی تشہیر اپنی تخلیق کے ذریئے کریں ۔
سوال ۔۔۔۔۔ آپ شاعرہ بھی ہیں ۔ کوئی ایک غزل قارئیں کے نام ہو جائے 
جواب ۔۔۔۔۔
ہنوز عشق میں شعلہ سا جل بجھا کیا ہے 
نجانے آج بھی وحشت میں سر پھرا کیا ہے ؟
فقیر آئے تھے محفل میں تیری، سننے کو 
وہ بات، تجھ میں سنانے کا حوصلہ کیا ہے ؟
وفا ہے مجھ سے خفا اور تو خفا مجھ سے 
زرا یہ دیکھ جفا نےتیری کیا کیا ہے
یہ میرا صبر بھی جو کام میرے آ نہ سکا 
تو اے خدا یہ میرا تجھ پہ آسرا کیا ہے ؟
صدائے شوق کو مہمیز کر رھی ہے ہوا 
بساط اپنی وگرنہ یہاں سِوا کیا ہے
یہ خاکِ دیس ہے، یا ہے یہ خاکِ کرب و بلا
لہو سے کرتے ہیں سیراب، ماجرہ کیا ہے
سمجھنا چاہو تو زہراؔ سے زیست کو سمجھو
نفی ثبات؟ من و تو؟ معاملہ؟ کیا ہے
اعظم یاد ۔۔۔۔۔ بہت شکریہ محترمہ طلعت زاہرا صاحبہ کہ آپ نے اپنا قیمتی دیا
جواب ۔۔۔۔۔۔ آپ کا بھی بہت شکریہ کہ آپ نے اس حقیر کی قدردانی فرمائی ۔ وما علینا الابلاغ ۔
 

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.