قرۃ العین حیدر سے گفتگو



19 Nov, 2017 | Total Views: 365


قرۃ العین حیدر


نمائندہ فانا

)گیان پیٹھ ایوارڈ پانے کے بعد ،قومی آواز، 25جولائی 90(
سوال  _____آ پ نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے لیے اردو کو کیوں اظہار کا ذریعہ بنایا جب کہ آ پ انگریزی پر بھی اتنی قدرت رکھتی ہیں ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کا ایک عام اردو قاری آپ کی تحریروں کی گہرائیوں کو پانے کا قاصر رہتا ہے ۔ خصوصاََ آپ کا وہ طرز تحریر جس میں آپ اشاروں اور کنایوں میں تاریخی ادوار کے حوالے دیتی ہیں ۔ اس سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صرف مخصوص طبقے ہی میں پڑھی جاتی ہیں ؟۔ 
جواب  _____بات ایسی نہیں ہے ۔ اگر میری تصانیف عام اردو قاری کی فہم سے بالاتر ہوں تو پھر میں پوچھوں گی کہ پھر وہ اتنی زیادہ تعداد میں کیوں پڑھی جاتی ہیں ۔ ہاں البتہ میں اتنا ضرور کہوں گی کہ سنجیدہ ادیب ، سنجیدہ طبقے اور صائب الرائے طبقے میں ہی پرھے جاتے ہیں ۔ مقبول عام لٹریچر کی صنف دوسری ہے جیسا کہ گلشن نندہ اور ابن صفی جن کو صحیح معنوں میں عوامی ادیب کہہ سکتے ہیں ۔ 
اردو میری مادری زبان ہے اور میں اردو میں کیو ں نہ لکھوں ؟ میں جس طرح کی چیزیں لکھتی ہوں ان کا انگریزی میں موٗثر طور سے اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ اردو ہندوستانی تہذیب کی عکاس ہے ۔ یہ فضا سازی انگریزی میں نہیں ہو سکتی ۔ 
سوال  ______ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ آپ کا ناول ’’ آگ کا دریا ‘‘ جس تہذہبی ماحول کا عکاس ہے وہ آج کے ہندوستان سے حالات سے بھی مناسبت رکھتا ہے ؟۔ 
جواب  _____ ہندوستان کے بڑے حصے میں بولی جانے والی زبانوں میں لکھے گئے ناولوں کے پس منظر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے ہی عکاس ہوتے ہیں ۔ 
سوال  _______ اردو ناول اپنی منظرکاری میں متمول اور جاگیردار گھرانوں کے گرد ہی کیوں گھومتے ہیں اور اردو شاعری جام و ساقی کی بندشوں سے آزاد کیوں نہیں ہوتی ؟
جواب _______ ایسا نہیں ہے ۔ اردو میں بھی ہر قسم کے ادیب ،مصنف ، شاعر پیدا ہوئے ہیں ۔ پریم چند دیہی ماحول اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے عکاس تھے ،عصمت چغتائی نے متوسط طبقے کے ماحول کو پس منظر بنایا ۔ حیات اللہ انصاری کا آنے والا ناول ’’ لہو کے پھول‘‘ دیہی پس منظر پر مبنی ہے ۔ 
اردو ادب انتہائی جدید اور انتہائی توانا ادب ہے اور نئے رجحانات کی عکاسی میں دیگر زبانوں کے ادب سے پیچھے نہیں۔ اردو ادب کو ایک ہی ہئیت پر مرکوزیت کا شکار کہنا مناسب نہیں ہوگا ۔ البتہ یہ ٹھیک ہے کہ انسان جس ماحول میں رہتا ہے اور اسی ماحول کا نمائندگی کرتا ہے ۔
سوال  ______ آزادی نسواں کے سلسلے میں آپ کا نقطۂ نظر نہ جدت پسندوں سے میل کھاتا ہے نہ قدامت پرستوں سے ؟ 
جواب  ______ ہر چیز میں اعتدال ہونا چاہیے ۔ آزادی ایک اضافی اصطلاح ہے آزادی کی حدود اس طرح متعین کی جانی چاہئے کہ وہ ماحول کی ضروریات کے مطابق ہوں اور کسی کو سماجی طور سے نقصان نہ ہو۔ حد سے آزادی سے مغرب میں جو نقصان ہو رہا ہے ظاہر ہے ۔ اس حد سے زیادہ تجاوز کردہ آزادی نے خاندانوں کا شیرازی بکھیر دیا ہے ۔ 
سوال  _______’’ گردش رنگ چمن ‘‘ میں آپ نے تصوف کو مسترد بھی کیا ہے اور سراہا بھی ہے ؟ 
جواب  _______ میں نے اس موضوع پر مکمل غیر جانبدارانہ اور معروضی انداز سے گفتگو کی ہے ۔
سوال  ________ مشرقی یورپ اور روس میں کمیونزم اور سوشلزم کی پسپائی سے آپ کے خیال میں ترقی پسند ادب کی تحریک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
جواب  ________ اب کوئی ترقی پسند تحریک باقی نہیں رہی ۔یہ تحریک بہت قبل ہی ناکام ہو چکی ہے ۔ حالات میں مسلسل تغیر آتا رہا ہے بلکہ کئی ’’ ترقی پسند ‘‘ خود اپنے ان کٹر نظریات کو ترک کر چکے ہیں۔ تیسری دنیا میں مصنفین پر ان تغیرات کا اثر لازمی ہے کیوں کہ ان ادباء اور مصنفین نے بشمول میرے ، یہ تصویر تھا کہ ہمارے مسائل کا حق ایک مخصوص قسم کی اشتراکیت میں ہے جو ہندوستان کے حالات سے مطابقت رکھتی ہو ارو جو مذہب پسند لوگوں کو الگ نہ کردے ۔اب تو حالات بہت بدل چکے ہیں اور مذہب کا روس اور چین میں بھی احیا ہو رہا ہے ، میں بھی دوسروں کی طرح ہی دم بخود ہوکر ان تغیرات کا مشاہدہ کر رہی ہوں ۔ 
سوال  _______ آپ فی الوقت کون سا ناول تصنیف فر ما رہی ہیں ؟
جواب _______ ’’ چاندنی بیگم ‘‘
سوال  ________ آپ اپنی تخلیقات میں کسے شاہکار سمجھتی ہیں ؟
جواب ۔ میرا آخری ناول ہی میرا شاہکار ہوگا 
***
بحوالہ ۔ ملاقاتیں۔ترتیب پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.