عصمت چغتائی سے گفتگو



19 Jan, 2018 | Total Views: 286


عصمت چغتائی


کنہیا لال ٹنڈن

’’میرانام عصمت خانم چغتائی تو برتھ سرٹیفیکیٹ کے رجسٹرکاہے،گھر میں تو سبھی ’’چنّی‘‘کہتے تھے۔ چنی لکھتی وکھتی بھی ہے،کسی کوکیامعلوم ہوتاتھا۔رجسٹرکانام گھر میں کسی کویادنہیںآتاتھا۔دس بھائی بہن تھے ہم۔۔۔چار بہنیں،چھ بھائی ۔عظیم بیگ میرے بڑے بھائی تھے۔انھیں نہیں معلوم تھا کہ چنی کاصحیح نام کیاہے۔گھرمیں جو نام تھے، وہی اہمیت رکھتے تھے،رجسٹرکے نام رجسٹرتک محدودہواکرتے تھے۔ ‘‘ عصمت خانم بولتی جارہی تھیں اورباقاعدہ چٹخارے لے لے کر بول رہی تھیں:’’دس اولادیں پالتے پالتے عاجزآگئی تھیں اماں۔کہاں تک پالیں۔جب کبھی ہم ان کے پاس جاتے تو کہتیں،’’چل ہٹ،غارت ہو۔ تویہاں کہاں سے گھس آئی۔‘‘توغارت ہوناپڑتاتھا لیکن گھرمیں رشتوں میں اٹھنے والے سوال تھے وہ کہاں غارت ہوتے۔وہ دل میں اٹھ کر رہ جاتے۔جواب نہیں ملتاتھا۔اصل میں ہم نے اپنے بچوں کے سوالوں کاجواب دینابند کردیا،اصول سمجھاتے رہے کہ یہ کرو،یہ نہ کرو،اس لیے وہ جواب مانگنے کے سلسلے میں دائروں سے باہرچلے گئے۔ان بیچاروں کاکیاقصور۔میں ہمیشہ اپنی نئی نسل سے متاثررہی۔مجھ سے جتنابنتاہے،ان کے سوالوں کاجواب دیتی ہوں۔مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔
عصمت آپاسے اگرآپ واقف ہیں توآپ کوبھی ان کی شرارت بھری مسکان کے ساتھ سوالیہ نگاہوں کاسامناکرناپڑاہوگا۔تخلیق کی طرف مڑتے ہی سوال کرتی ہیں’’آج تخلیق میں نقادہی نقادچھائے ہیں۔انھوں نے چھوٹے بچوں کوبھی ادھرہی ہانکا ہے ۔تخلیق کہاں ہورہی ہے؟بتائیے کہاں ہورہی ہے؟اس کے پہلے کہ میں اس کاکچھ جواب دوں،انھوں نے ہی جواب دیناشروع کردیا:’’اردوپڑھنے والے اب رہے کہاں جارہے ہیں،سب توموے انگریزی کی گودمیں جابیٹھے۔میری بیٹیوں نے اردو نہیں پڑھی،بیدی(راجندرسنگھ بیدی)کے بچوں نے نہیں پڑھی۔ سردار جعفری کے بچوں نے،کرشن چندر کے بچوں نے۔۔۔۔۔۔کسی نے تو نہیں پڑھی۔‘‘
سوال:تب پھر آپ جو لکھتی ہیں ،اسے کون پڑھتا ہے؟
جواب:مجھے پڑھنے والا غریب مسلمان ہے۔وہ مجھے پڑھتا ہے۔آ ج کاالیٹ (elite) مسلمان کا بچہ اب مجھے نہیں پڑھتا۔وہ اردو ہی نہیں جانتا،پڑھے گا کیا؟میراباورچی اپنی بچی کوکانونٹ میں پڑھارہاہے،میں نے فیس بھری ہے اس کی۔
سوال:جب اردوکے بارے میںآپ اتنی ناامیدہیں تواردوکے موجودہ جھگڑے کے بارے میں،ہندی سے اس کے تعلقات کے بارے میں آپ سے کیا پوچھو ں ؟
جواب:پوچھنے کوآپ پوچھیے،لیکن میںآپ سے پوچھوں کہ ہندی میں نے پڑھی ہے لیکن میرے کس کام آتی ہے ۔اردو کوتوچھوڑیے،اردو کوتوپاکستان میں بھی مقام نہیں ملا۔
سوال:اب ایک اورسازش ہورہی ہے کہ اردوکومذہب سے جوڑ کر اسلام سے نتھی کیا جارہاہے۔۔۔
جواب:بکواس ہے۔اس ملک میں تومذہب تباہ ہے۔ مذہب کیاچیزہے،یہی ناکہ کسی کو مارو نہیں،قتل مت کرو،امن سے رہو؟لیکن ہم نے مذہب کوبڑھاتے بڑھاتے دھندابنادیا۔۔۔مٹھائی چڑھائیے ،پیسے چڑھائیے۔اسی لئے مذہب کی شکل بگڑگئی۔اس سے زبان کوجوڑدوگے تو زبان بھی تباہ ہوجائے گی۔یونہی تباہ ہے بیچاری۔
سوال: آپ کسی مذہب میں عقیدہ بھی رکھتی ہیں؟
جواب:میں سبھی دھرموں پروشواس کرتی ہوں اورکسی دھرم کونہیں مانتی۔دھرم میرے لیے ہے۔میں دھرم کے لیے نہیں ہوں۔دھرم نے کہیں پربھی کسی کافائدہ نہیں کیا۔بیوقوف لوگوں کوڈراکرمس یوز(Misuse)تو کیاہے،فائدہ نہیں کیا۔
سوال:تب پھرخداکے بارے میںآپ کے خیالات دلچسپ ہونے چائیں ۔اسے آپ کیامانتی ہیں؟
جواب:خداایک طاقت ہے،ایسامانتی ہوں۔انرجی ہے،اٹامک انرجی بھی۔یہ اپنے اپنے وشواس کی بات ہے۔یوں ہرپوجامیں شریک ہوجاتی ہوں مجھے کسی مندر میں،مسلمان ہوتے ہوئے پوجاکرنے جانے میں کوئی دقّت نہیں ہوئی ۔۔۔اوروشواس کیسے جڑپکڑتاہے،اس کاایک واقعہ بھی سن لو۔جموں میں مند ر میں گئی تووہاں کے بندربڑے بدمعاش،ہرکسی کاپرساد گراکرکھاجائیں ، ڈرا کے ۔سب کاگرادیا،میرانہیں گرایا۔میں نے بندرسے باتیں کرتا شروع کردیاکہ لیناہے تولے جاؤ۔میرانہیں ہے،یہ توایشورکاہے۔میں نہیں ڈری،وہی ڈرگیا۔پرسادبچ گیا۔
سوال:اس سے وشواس نہیں اندھ وشواس جڑپکڑتاہے آپا۔اگردھرم میں نہیں توآپ مارکس میں وشواس کرتی ہوں گی۔
جواب:ہاں،مارکس میں وشواس کرتی ہوں۔اس لیے کہ ہمارے یہاں کاپرانافلسفہ مارکس سے تعلق رکھتاہے۔ہمارے رشیوں،عالموں کایہی اصول تھاکہ پیسے کے پیچھے مت بھاگو،سب کی ضرورتوں کاخیال رکھو۔میں اس نظریے کاسب کچھ تومارکس میں نہیں لاسکتی،لیکن مارکس نے میری سوچ کوزمین دی ہے۔۔۔لیکن میں نے یہ تونہیں کہاکہ دھرم میں وشواس ہی نہیں کرتی۔کرتی بھی ہوں۔نہیں بھی۔
سوال:تب پھرآپ کوایشورکاکوئی نہ کوئی روپ بھی پسندہوگا؟
جواب: پسندہے کنھیا۔وہ میرافیورٹ گاڈہے جس نے گوپیوں سے کہاکہ کیااپنے بدن سے شرم کرتی ہو۔شرم کوچھوڑو،زندگی کوجیو۔کرشن میری نگاہ میں ایک انقلابی دیوتاتھا۔زندگی سے لبریز۔ویسے میرے یہاں لکشمی،سرسوتی اور چنڈی بھی ہیں۔ 
سوال:آپ نے اپنی تخلیق میں عورت کاکون ساروپ ابھارنازیادہ پسندکیا؟
جواب:کسی نے مجھ پر کبھی کوئی دلکش پھبتی کسی اور میں نے پلٹ کراتناہی پوچھ لیاکہ ’’جی آپ نے کچھ کہا‘‘توبیچارے کی گھگھی بندھ جاتی تھی۔
سوال: ایسے حالات میںآپ نے کبھی شرمانے کی اہمیت کوآنکاہے؟
جواب:کیوں شرمائیں۔شرم کی بات کریں توشرمائیں۔ہم توعاشق کی’’لیگ پلنگ‘‘ کرتے تھے ۔کس کے کھنیچائی کرنے میںیقین رکھتے تھے۔میں نے تو لڑکوں سے ہمیشہ’’کمپیٹ‘‘(مقابلہ)کرنے کی کوشش کی۔بھائیوں کے ساتھ رہ کرگھوڑے کی سواری وغیرہ سب کرتی تھی۔ ارے میاں !تمھیں پتہ نہیں ہے ،عورتیں بڑی گندی گندی باتیں کرتی ہیں۔ میری دوستی مردوں سے زیادہ رہی۔ میں نے اپنی باتیں کھلے طورپران سے کہہ بھی دیں اورلکھ بھی دیں۔شرمانے کی اس میں کیابات ہے۔
سوال:شایداسی لیے آپ کے ساتھ ’’بولڈ‘‘تخلیق کاسرٹیفیکیٹ جڑگیا؟
جواب:میں نے اپنے کوحقیقت بیان کرنے والامانا۔’’بولڈ‘‘ہوںیہ تو لوگوں نے کہااوراسی ڈنڈے کولوگوں نے تھام لیا۔میرااس میں کوئی نقصان بھی نہیں ہوا۔کوئی شکایت بھی نہیں بلکہ الٹے فائدہ ہی ہوا۔جوسچ لکھے وہی میرے لئے ’’بولڈ‘‘ہے۔اس زمانے میں عورتیں میرے جیسانہیں لکھتی تھیں،اس لیے شاید میرے لیے یہ فقرہ چل پڑا۔
سوال:’’بولڈ‘‘تخلیق تھوڑابنیادی معنوں میں جنسی بیان سے جڑ گئی۔اس بارے میں آپ کیاسوچتی ہیں؟
جواب:سوچتی یہ ہوں کہ سیکس کوہمیشہ گنداہی کیوں ماناجائے۔سیکس مقدس بھی تومانا جا سکتا ہے۔ یہ توماننے ماننے کافرق ہے۔سیکس گنداکہاں ہوتاہے جہاں وہ بیچااورخریداجاتاہے۔
سوال:عورت مردکے ہرممکن تعلق کوبنیادبناکرآپ نے کہانیاں لکھیں اورمنٹونے بھی۔آپ دونوں ہم عصر اوردوست افسانہ نگاررہے ہیں۔منٹوکی تخلیق نگاری کی حمایت آپ نے عدالت تک میں کی۔پھرکیاوجہ رہی کہ منٹونے تو سماجی برائیوں پرلگاتارچوٹ کی اورآپ نے دلچسپ رازکی باتوں پرسے پردہ اٹھاکرہی چھوڑدیا۔ایساکیوں؟
جواب:یہ رازکی دلچسپ باتوں پرسے پردہ اٹھانامیری نظرمیں زیادہ اہم تھے۔میں تو جودیکھتی تھی،وہی لکھتی تھی کہ ایساسماج میں ہورہاہے،ہوسکے توروکو۔منٹوکی کہانیوں میں اور مجھ میںیہ فرق ہے کہ ہم دونوں مسائل اوران کے حل کے نظریے میں غیرمتفق نہیں رہے لیکن منٹوکے یہاں سیاست بھی آگئی،میں سیاست سے بچتی رہی۔میں تویہ دیکھناچاہتی تھی کہ مردکی چھیناجھپٹی میں عورت کیسے سستی ہوگئی اور مردکوجھپٹنے کے چکرمیں عورت کیسی کیسی حرکتیں کرتی ہے۔
سوال:آپ اس چھیناجھپٹی کوجسم کی ضرورت کاحصہ مانتی ہیں یاروحانی یاکچھ اور؟
جواب: میں اس میں زیادہ ترمعاشی پہلوکو ذمے دارمانتی ہوں۔یہ پیسہ کمبخت بڑی خراب چیزہے،یہ عورت مرد کے تعلقات ہی نہیں،ترقی پسندتحریک تک میں گھس کراسے چوپٹ کرگیا۔
سوال:لکھنؤکے ترقی پسندادیبوں کی کانفرنس میں جوزبان کے مسئلے پرپینترے بازی ہوئی تھی،اس کی طرف توآپ کااشارہ نہیں ہے؟
جواب:میں ان دنوں یہاں تھی ہی نہیں،اس لیے نہیں کہہ سکتی کہ لکھنؤمیں کیاہوا۔لکھنؤ میں توپتّے بازیاں ہیں۔جب انھوں نے دیکھاکہ انقلابی بن کرپیسہ ملتاہے تویہ انقلابی بن گئے۔
سوال:کون؟
جواب:نام میں کسی کانہیں لوں گی۔لیکن ترقی پسندی سے آمدنی کاجڑجانااس کو چاٹتا چلا گیا۔
سوال: کیاوجہ ہے کہ ترقی پسندی کی لہرکے ساتھ شروع سے ہی جڑ جانے کے باوجود اردوادب خاص کر افسانہ اپنے لیے وہ جگہ نہیں بناسکاجوہندی یادوسری ہندوستانی زبانوں کی کہانی نے بنالی ہے؟
جواب:یہ میں کیسے مانوں۔پاکستان میں خوب لکھاجارہاہے۔یہ فتوے دینے والے کمبخت ’’کریٹک‘‘ہیں،آلوچک جنھیں کہاکرتے ہیںآپ لوگ،وہ نوجوا نو ں کی قلم پرایسے ہی اعتراض کرتے اورفتوے دیتے رہتے ہیں جیسے بڑھیو ں کی جوانی چلی جانے پر وہ نوجوانوں پراعتراض کرتی رہتی ہیں۔میں نے اردوکے ان کمبختوں کوکبھی گھاس نہیں ڈالی۔
سوال:آپ گھاس نہ ڈالیں تب بھی وہ گھاس لے لیتے ہیں۔مگراب تولوگ بھی ہیں کہ کرشن چندرجیسے مصنف کوبھولنے لگے ہیں ۔بیدی کابھلے پھرسے تجزیہ شروع ہوگیاہے۔آپ کوایسانہیں لگتا؟
جواب:اس میں افسوس کس بات کا؟ہم نہیں بھول گئے تھے اپنے زمانے میں بڑے بڑے ادیبوں کو؟اسی طرح آج کے بچّے بھی بھول جائیں گے۔مجھے اس بھولنے پھولنے سے کوئی شکایت نہیں ہے۔رہی کرشن چندر کی بات ،تو کرشن کے بہت زیادہ پھیلے ہونے سے اردووالے تنکتے رہتے ہیں۔کرشن لکھتے اتنازیادہ تھے کہ اس میں کچھ واہیات بھی لکھاہوگا۔بیدی چن چن کرلکھتے تھے۔اصل میں ان لوگوں کولڑکیوں نے تباہ کردیا۔کرشن توشروع سے ہی کھلنڈرے تھے،سولوگ انھیں معاف کرتے رہے لیکن بعدمیں بیدی کو بھی ایک لڑکی ہی لے ڈوبی۔میں نے ان کے بجائے ان کی بیویوں سے ہی زیادہ تعلقات بنائے۔
سوال:آپ کی پسندکی عورتیں کون سی رہیں؟
جواب:جاہل عورتوں سے میری دوستیاں بیحدگھنی رہی ہیں۔جاہل عورتیں میں نے چالاک بھی بہت دیکھی ہیں۔انھیں شایداس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ منٹو کو کوئی لڑکی نہیں پھانس سکی تھی۔اسے اپنی بیوی بہت پسندتھی۔
سوال:آپ گھوم پھرکرپھراسی عورت پرآگئیں۔آپ کی کہانیوں میں جوعورتیں ہیں ۔۔۔ 
جواب:آپ اپناجملہ پوراکریں،اس کے پہلے ہی کہہ دوں کہ میری کہانیاں میںیہ کھاتی عورتیں زیادہ ہیں۔’’چارپائی‘‘ کہانی میں میں نے اس کاخوب پردہ فاش کیاہے۔
سوال:عورت کی دنیاکواتنی ہوشیاری اور خوبی کے ساتھ دیکھنے والی آپ جیسی مصنفہ شاہ بانو والے مسئلے پرخاموش کیوں رہی تھیں؟
جواب:اسے میں شاہ بانوکی بیوقوفی مانتی تھی۔اس نے اپنے بڑھاپے کے لیے بچا کر کیوں نہیں رکھاکہ اس کے بچے اس دولت کے لالچ میں اس کی حفاظت کرتے۔مرنے کے وقت وہ جس کو چاہتی جوکچھ بانٹ دیتی۔شاہ بانو نے اپناسب اپنی اولادوں کودے دیا۔میری ماں نے بھی یہی کیاتھا۔تب کی عورتیں کرتی ہی یہی تھیں۔اولادیں بھی ان کاخیال رکھتی تھیں۔اب اصول بدل گئے ہیں۔اس کاخیال شاہ بانو کوکرناچاہیئے تھا ۔میں نے اپناپوراپیسہ اپنے بچوں کوابھی تک نہیں دیا۔میں ان کے لیے مرتے وقت تک بیش قیمت رہوں گی۔میں تواس سارے مسئلے کومعاشی پہلوسے جوڑکردیکھتی ہوں۔
سوال:یعنی رشتے ناطے سب دولت پرمبنی ہوتے ہیں؟
جواب:ہوتے ہی ہیں۔اخلاقی اصول کہاں ہیں؟ہرایک توچوری کررہاہے،بے ایمانی کررہاہے۔اخلاقی اصول پھران رشتوں میںآئیں گے کہاں سے؟
سوال:اس کامطلب ہے آپ کی نظرمیں شادی ایک بے معنی یامطلب پسندسہولت ہوکررہ گئی ؟توکیاضروری ہے شادی کرنا؟
جواب:قطعی ضرورت نہیں ہے۔اپنی مرضی کامسئلہ ہے،کرویانہ کرو۔پبلک کواس میں بیچ میںآنے کی کیاضرورت ہے۔میری بیٹی نے اپنی ساس کے پاس جب خوب سارازیور دیکھاتوبولی’’اگرمیںآریہ سماجی ہوجاؤں تومیری ساس بڑا سارا دھن دے دے گی۔‘‘میں نے کہاتم اگراس تبدیلی پریقین کرتی ہو تو ہو جاؤ۔میری نگاہ میں سارامسئلہ معاشی ہے جس کے لیے ایک عورت مذہب تبدیل کرنے تک کوتیارہے۔
سوال:عورت مردکے رشتوں کوآپ صرف معاشی چشمے سے دیکھیں گی تواس رشتے کے اور بہت سارے پہلوان دیکھے رہ جائیں گے۔اپنے دیش میں شادیاں ٹوٹنے کاجوسلسلہ بڑھا ہے اس کی بنیاد صرف معاشی نہیں ہے۔
جواب:میں ان پہلوؤں کوان دیکھانہیں کرتی بلکہ ان پہلوؤں کوسارے دنیاکے آئینے میں دیکھتی ہوں۔اتنی ساری لڑائیاں لڑتے لڑتے مرد کم پڑگیا۔عورتیں زیادہ ہیں ۔پوری دنیامیں دیکھ لیجئے ۔شادی توپوری دنیامیں ٹوٹ رہی ہے ۔اپنے یہاں ایک شادی کاقانون ہے۔اس لیے شادی اندراندرٹوٹ رہی ہے ۔ یورپ میں قانوناًٹوٹ رہی ہے۔اپنے یہاں غیرقانونی طریقے سے ٹوٹ رہی ہے۔
سوال:عورتوں کی تعدادزیادہ ہونے پر بھی اردومیں خواتین افسانہ نگاروں کی کم تعداد آپ کوکھلتی نہیں؟
جواب:میںیہ مانتی ہی نہیں کہ اردومیں خواتین افسانہ نگارکم ہیں۔بہت ہیں۔ پا کستا ن میں توبے حدہیں۔ہمارے یہاں اردوپڑھناچھوٹ گیاہے۔ اس لیے لکھنے والی بھی کم نظرآنے لگیں۔میری یہ سمجھ میں نہیںآتاکہ آپ لوگ ہندی والے اردومیں چھپ کراس غریب مسلمان تک کیوں نہیں پہنچانا چاہتے جوبے چارہ چاؤسے پڑھتاہے اوروہ طبقہ یہاں کم نہیں ہے۔
سوال:ایک طرف آپ اردوزبان کے موجودہ حالات سے پریشان نظرآتی ہیں ۔ دوسری طرف اس سے بڑی پُرامید لگتی ہیں۔آپ کہناکیاچاہتی ہیں؟
جواب:کہنایہ چاہتی ہوں کہ اردوکودبانہیں سکتے۔کچھ بھی کریں اسے یہی غریب مسلمان زندہ رکھے گا جس کازبان کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ میں اس کی طرف تمھارادھیان کھینچناچاہتی ہوں ۔اس کی سوچو۔کتنابڑاطبقہ ہے وہ۔
سوال:اردوکے مسئلے میںآپ پاکستان کے مصنف کی توبات کرتی ہیں لیکن وہاں کے اردوپڑھنے والوں کی بات دوسرے اندازمیں کرتی ہیں۔ایساکیوں؟
جواب:پاکستان میں اردومصنف ہیں،پڑھنے والے بھی ہیں ہی لیکن اردوکواہمیت دینے والے نہیں ہیں۔انھوں نے تویہاں سے گئے مسلمان تک کو مان کرنہیں دیا۔ان کی زبان کی بات تو دیگرہے وہاں کے سندھی،بلوچی،پنجابی اورپیشاوری نے یہاں سے گئے مسلمان کومان کے نہ دیاآج کل تووہاں فرقہ وارانہ فساد بھی شروع ہوگئے ہیں۔
سوال:آپ نے اتنی ساری کہانیاں لکھیں۔چلتے چلتے یہ بھی جاننا چاہتاہوں کہ کسی ایسی کہانی کویاد کیجئے جس نے آپ کے سارے کٹرپن کے باوجود سب سے زیادہ پریشان کیاہو۔
جواب:بڑی تکلیف دہ بات چھیڑدی تم نے۔میں نے ایک کہانی لکھی تھی’’زہرکاپیالہ‘‘ ۔ اس نے مجھے زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی۔خوب کس کے ’’ٹارچر‘‘کیا۔وہ کہانی میں نے ایک ایسی عورت پرلکھی تھی جومجھے دودھ پلانے کے لئے کراے پررکھی گئی تھی۔
سوال:یعنی آپ نے اپنی ماں کادودھ نہیں پیا۔ہمارے راشٹرپتی جی نے ان ماؤں کو اچھا نہیں ماناجو اپنے بچوں کواپنادودھ نہیں پلاتیں۔آپ نے حال میں اخباروں میں اس کاذکر پڑھاہوگا۔
جواب:راشٹرپتی جی کیامانتے ہیںیہ یہاں سوال نہیں ہے۔یہ ہے کہ مجھے اپنادودھ پلانے کے لئے جس چمارن کورکھاگیاتھااس کادودھ پی کرمیں بڑھی۔ میرے بچپن میں دودھ پلانے والیاں کرائے پرملتی تھیں۔اس عورت کے لیے میرے دل میں کتنی عزت تھی اس کامیں بیان نہیں کرسکتی۔جب کافی بڑی ہوگئی تووہ ایک دن آئی ۔ایک پیالہ لیے ہوئے مجھ سے اکیلے میں پوچھنے لگی کہ’’بیٹی میرادودھ پیے گی۔‘‘میں بڑی ہوگئی تھی شرماگئی شاید۔بعدمیں وہ پاگل ہوگئی ۔اس پرمیں نے کہانی لکھی ۔اف! آج بھی دہل جاتی ہوں اس عورت کے بارے میں سوچ کر ،کن حالات میں اس کی موت ہوئی بیان نہیں کرسکتی۔اس کہانی نے مجھے ہمیشہ ستایا ۔ جب جب اس پرسوچاتب تب ستایا۔اب اس پرزیادہ نہ چھیڑو۔
ملاقاتی:معافی چاہتاہوں۔
(ہندی سے ترجمہ)
بحوالہ ۔ ملاقاتیں (مشاہیر کے انٹرویو) ۔ترتیب پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ۔ صفحہ ۔10
***

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.