مشرف عالم ذوقی



10 Dec, 2016 | Total Views: 395


مشرف عالم ذوقی


صدف اقبال

اردو زبان ادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو مشرف عالم ذوقی کے نام سے واقف نہ ہوگا ۔۔اردو کےمنفرد افسانہ نگار اور صف اول کے ناول نگار ہیں ۔۔ان کے گیارہ ناول منظر عام پر آچکے ہیں اور بارہواں ناول تکمیل کے مرحلے میں ہے ۔ یہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ ابھی انہیں فروغ اردو انٹرنیشنل (دوحہ قطر) ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔۔ مشرف عالم ذوقی کے یوں تو کئی انٹرویو شائع ہوچکے ہیں مگر یہ اپنی نوعیت کا انوکھا انٹرویو ہے ۔۔ ذوقی صاحب ایک بے باک اور صاف گو انسان ہیں ۔۔ انہوں نے نہایت صاف گوئی سے میرے سوالوں کا جواب دیا ۔۔۔مجھے یہ انٹرویو پیش کرتے ہوئے دلی مسرت محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدف تم مردہ زبان کو نئے تماشوں کا تحفہ دو:ذوقی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۴جون، ۲۰۱۵،میں نے اتنے لوگوں سے گفتگو کی، لیکن ذوقی صاحب سے گفتگو کرنے میں پسینے چھوٹ گئے۔ مجھ سے کہاگیا، ۶ بجے شام میں فون کروں۔ کچھ الجھنوں اور خوف کے باوجود میں نے ۶ بجے شام فون کیا۔ ) سلام علیک اور کچھ رسمی نوعیت کی گفتگو کے بعد میں نے پہلا سوال کیا۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے۔؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ناراض لہجہ)یہ کوئی سوال ہے صدف ۔ میں کہاں پیدا ہوا؟ کب پیدا ہوا۔؟ کیوں پیدا ہوا؟ ام فل یا پی ایچ ڈی کی تھیسس لکھ رہی ہو کہ ان سوالوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے؟ اورصرف ادب کیوں؟ ذاتی تفصیلات ہی کیوں؟ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ایک نیم مردہ سائنسداں اسٹیفن ہاکنس مرسی دیتھ کی حمایت کررہا ہے اور ایک طرف تیزی سے ختم ہوتی دنیا کو لے کر فکر مند ہے۔ نیوٹن نے ایک سیب کو زمین پر گرتے ہوئے دیکھا اور اسی ایپل کو تمہارے اسٹیفن جابس نے نئی دنیا کا استعارہ بناد یا۔ صرف انیس سال کی عمر میں فیس بک مالک مارک زبرگر نے ہمارے تمہارے لیے سوشل نیٹ ورک کی ایک ایسی دنیا کھوج نکالی، جہاں بکھرے ہوئے گلوبل رشتوں کو جوڑا جاسکے۔ گوگل کے سرچ انجن کے لیے کوئی بھی ملک، کائنات، جزیرہ، دنیائیں اب ان دیکھی اور انجانی نہیں ہیں۔ گوگل خاموشی سے تمہارے گھر، تمہاری، تہذیب میں سیندھ لگا رہا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں سماج سے سیاست تک نوجوان ہمارا آئیڈیل بن رہے ہیں۔ اور یہ نوجوان آئی ٹی انڈسٹری سے دنیا کے ہر شعبے میں حکومت کے لیے تیار ہیں۔ جہاں ہالی ووڈ کی فلموں میں مسلسل اس دنیا کے ختم ہونے کے المیہ پر غور وخوض کیا جارہاہے، میں ان بچکانے سوالوں پر غورکرتا ہوں تو کوفت ہوتی ہے۔ ایک بیحد مہذب، ڈراؤنی اور خطرناک دنیا جہاں اس وقت ہم ہیں۔ اور اس بیحد مہذب دنیا کے اس پڑاؤ میں جب جدید ٹکنالوجی اور سائنس کے ارتقا نے اچانک انسان کو بونسائی بنا دیا ہو، تم محض بچکانے اور رسمی سوالوں میں الجھی ہوئی ہو۔ (زور سے ہنسنے کی آواز) مجھے اج جی ویلس کے ناول ٹائم مشین کی یاد آتی ہے۔ جب مشینیں بغاوت کر جاتی ہیں۔ اور دیکھنا ایک دن یہی ہوگا۔ یہی ہورہا ہے۔ نابل انعام والے مسٹر نابل ڈائنا مائٹ لے کر آئے۔ انسان نے اپنی بربادی کے لیے نیو کلیئر بم بنائے۔ نئی دنیاؤں کی تلاش کے لیے ناسا اور ترقی یافتہ ممالک چاند اورمریخ پر اپنے راکٹ بھیج رہے ہیں اور تم سوال کررہی ہو کہ میں کب کہاں اور کیوں پیدا ہوا؟ (جھنجھلاہٹ) کوئی ڈھنگ کا سوال ہو تو فون کرنا۔ دوگھنٹہ بعد۔ ورنہ مت کرنا۔ اور ہاں کیا ادیبوں کی دنیا ادب سے باہر نہیں ہوتی صدف؟ سوچنا غور کرنا۔ (فون ڈسکنکٹ ۔ میں نے آواز ریکارڈ کرلی تھی۔ لیکن میں ہراساں اور پریشان۔ دو گھنٹے بعد میں نے پھر فون کیا۔ یہ دوگھنٹے مجھے خود کو سنبھالنے میں لگے تھے۔)

صدف اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلام عرض ہے۔

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی کہیے؟

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(خود کو مضبوط کرتے ہوئے) آپ کیوں پیدا ہوئے؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(زور سے قہقہہ) یہ ہوئی نہ بات۔ گڈ جاب۔ میں کیوں پیدا ہوا۔؟لوگ کیوں پیدا ہوتے ہیں۔؟ آنکھوں کے سامنے ہزاروں جھاڑ جھنکار، جنگل ، بے حیا کے پودے، ناگ فنی، آدم قدم اور بونسائی پودھوں کی نہ ختم ہونے والی قطار۔ شیر، ہاتھی، دنیا بھر کے جانور۔ تمہیں معلوم ہے صدف۔ گولیور جب گھوڑوں کے دیش میں پہنچا، تو گھوڑے انسان کے کمزور وجود کو دیکھ کر حیران تھے۔ کہاں ہم اور کہاں یہ چہ پدی چہ پدی کا شور بہ انسان۔؟ میں کیوں پیدا ہوا؟ غالب ومیر سے پریم چند اور منٹو تک کیوں پیدا ہوئے؟ کسی نے دیوان لکھا اور ادب کی سلطنت فتح کرلی اورکام ختم؟ چار نقاد سامنے آئے۔ واہ واہی کا ڈھول پیٹا اور ادب کی سلطنت میں کچھ دن اس نام کے ڈنکے پیٹے گئے۔ کیوں پیدا ہوا؟ عمدہ اور بھر پور سوال؟ اور اسی سے وابستہ ایک سوال، ادب کی اہمیت کو لے کر بھی ہے۔ مقصدیت کو لے کر بھی۔ کیاادب ، اس کی اہمیت اور حمایت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے ہم نے مستقبل کے طلسمی گلوب کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کی؟ اس یورنیورس کی لائف ہی کیا ہے؟ سائنسداں اس بات کو لے کرپریشان ہیں کہ سورج سوا نیزے پر آچکا ہے اور دنیا جلد تباہ ہونے والی ہے۔ پچاس برس یازیادہ سے زیادہ سو برس۔ آپسی خانہ جنگی ، کبھی بھی عالمی جنگ کے المیہ کو سامنے لے کر آسکتی ہے۔ ایٹم اور نیو کلیئر بم، میزائلوں کی ریس، دہشت گردانہ واقعات اور سوپر پاور کا شور۔ برنارڈشا نے کہا تھا کہ مجھے تیسری جنگ عظیم کے بارے میں تو نہیں پتہ لیکن چوتھی جنگ یقیناًتیر بھالوں سے لڑی جائے گی۔ ایک نیو کلیئر بم کا تجربہ اور آدھی سے زیادہ دنیا ختم۔ کہاں رہے گی یہ زبان؟ مذہب؟ تہذیبوں کا شور مچانے والے؟ کیا کچھ بھی باقی رہے گا ہم سب اس بڑی دنیا کو بچانے میں لگے ہیں اور کہاجا ئے تو اپنی طرف سے ادب بھی یہ ذمہ داری ادا کررہا ہے۔ شیکسپیئر سے ملٹن، ورڈسورتھ، شیلی کیٹس، میرو اقبال، غالب، اور نئی نسل تک۔ ادب نہیں ۔ ہم ایک ٹائم کیپسول جمع کررہے ہیں۔ تحقیق سے تنقید اور نظریہ تک۔ بیشک اس ٹائم کیپسول میں کچرا زیادہ بھر گیا ہے۔ آج بھی مسلسل موہن جداڑو، ہڑپا کے طرز پر قدیم عمارتوں کے ملبے برآمد ہورہے ہیں۔ ان پر ریسرچ ہورہے ہیں۔ اوردوسری طرف ہم سائنس، ٹکنالوجی اور تہذیبوں کے تصادم کے ملبے کو جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کیوں آئے؟ اس وسیع کرۂ ارض پر کیڑے مکوڑوں کی طرح۔ اور اس جواب بھی ہاکنس دے دیتا ہے۔ برین۔ دماغ۔ہمارے پاس دماغ ہے۔ اسی لیے دوسری مخلوقات سے زیادہ میں جینے اور سوچنے کا حق حاصل ہے۔ جو ٹائم سے پیرئیڈ ہے، ہم اس محدود وقفے میں اپنی کامیابی اور ناکامیوں کا تجزیہ کرنے آئے ہیں۔ اوربیشک، ہیمنگ کے اس بوڑھے آدمی کی طرح، جو جانتا ہے کہ انسان فتح کے لیے آیا ہے۔ نیم مردہ سائنسداں اسٹیفن ہاکنس کی طرح، جس کے بدن کے اعضا ایک مدت سے سوچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ نئی نئی کائنات کی تھیوری پیش کررہا ہے۔ تو یہ جان لو صدف کہ یہاں ایک چھوٹا مگر اہم کردار ہمارا بھی ہے کہ سائنس کی فتوحات، ٹکنالوجی کے فروغ اور زوال آمادہ دنیا پر غور کرتے ہوئے ادب میں، مسلسل نئے نئے نظریات سے گزرتے ہوئے، زندہ انسان کی علامت بن کر اپنے ہونے کے احساس کو ہم مضبوطی سے درج کرارہے ہیں۔ ہم ہیں، اس لیے یہ دنیا ہے۔ ہم ہیں۔ اس لیے یہ کائنات ہے۔ ہم ہیں۔ اس لیے غوروفکر کے سمندر سے گزرنا ہے۔ ہاکنس نے کہا کہ اگر خدا ہے تو دنیا کی دریافت کے بعد وہ سو رہا ہے۔ ادب لایعنیت، لاسمتیت سے مقصدیت کی طرف ایک قدم ہے۔ یہاں مقصد زندگی ہے۔ اشتراکی فلسفہ سے جدیدیت اور اس کے بعد بھی ہم مسلسل ادب کے ذریعہ الجھی سلجھی زندگی کے نئے نئے معنی برآمد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم کیوں آئے ؟(ہنسی)

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور محمد کیوں آیا؟ صدی کے اس سب سے کمزور کردار کو لکھنے کی آپ نے ضرورت کیوں محسوس کی؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نورمحمد؟ (وقفہ) لے سانس بھی آہستہ۔ تم نے اس ناول کو پڑھا۔؟

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی۔ اس لیے پوچھ رہی ہوں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ کردار انسانیت پر دھبہ ہے؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(قہقہہ) دھبہ ہے کیوں؟ اس لیے کہ تمہارا مذہب نور محمد جیسے کرداروں کو شک سے دیکھتا ہے۔؟ اس نے معاشرہ کی توہین کی ہے۔؟ نور محمد بدلتی ہوئی تہذیب کا استعارہ ہے۔ اورتم کس تہذیب کی بات کررہی ہو صدف۔؟ یہاں تہذیب کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔ جائز اورناجائز کی تعریفیں مسلسل تبدیل ہورہی ہیں۔ ہم تنگ نظر ہو کر نور محمد کے کردار کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ بیک وقت اس کردار میں ایک کمزور انسان بھی ہے اور ایک مضبوط انسان بھی۔ اور غور کرو تو محبت کے لیے نور محمد اس مقام وحشت سے بھی گزر جاتا ہے، جس کا تصور آسان نہیں۔ اور یہی نور محمد ایک دن ایک نئی تہذیبی بستی میں داخل ہوکر اپنے ماضی کو بھول جاتا ہے۔ کیوں لپٹے رہیں ماضی سے ہم؟ نور محمد کاجرم کیا تھا؟ ہوتا یہ ہے صدف کہ ہم سب کچھ مذہب یا تنگ نظری کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ انسانی ترقی کی ریس میں جسم، سیکس ، رشتوں کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی۔ میں اس بات کی حمایت نہیں کررہا مگر یہ سچ ہے۔ تم آسانی سے چینی، جاپانی، کوریائی ادب یا فلموں میں بھی اس سچ کو محسوس کرسکتی ہو۔ یہ سچ ہے کہ ابھی بھی بر صغیر میں مذہب اور معاشرہ کی مضبوط عمارت ہمیں کئی مقام پر بھٹکنے سے روکتی ہے مگر انقلاب تو آچکا ہے۔ رشتے معنویت کھو چکے ہیں۔ تہذیبوں کی تعریفیں مسلسل بدل رہی ہیں۔ انسان ایک بڑے بازار اور ریس کا حصہ ہے۔ یہاں سیکس محض ایک ضرورت۔ کیوں کہ جسم ہے تو مانگیں ہیں۔ یہ سچ خوفناک ہے لیکن بڑی حد تک حقیقت کہ ان مانگوں کے لیے رشتے چھوٹے پڑ گئے ہیں۔ مانگیں دور نکل گئی ہیں

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ اسی لیے اردو کہانیوں کا رویہ اکثر بولڈ رہا ہے۔ میں اگر نام لوں تو۔۔۔؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ہنس کر) خوب۔ نام لینے کی ضرورت نہیں۔ میں نے جن مانگوں کی باتیں اٹھائیں وہ آزادی اظہار سے مشروط ہیں۔ نئے اقدار ومعیار اور نئے فکری زاویے سامنے آرہے ہیں۔ مذہب، عقیدہ، رسم ورواج،علم و حکمت، سائنس و فلسفہ ہر جگہ تبدیلیاں آرہی ہیں۔ اور اسی لیے نئے افکار وتصورات کی دنیا سامنے ہے۔ میں منٹو کو اس معاملے میں الگ کرتا ہوں۔ اگر آپ منٹو کے عہد کو لیں تو اس زمانے میں منٹو سے بہتر کہانیوں کی امید نہیں کی جاسکتی۔ (ہنستے ہوئے) لیکن منٹو کی کہانیاں، بولڈ نہیں تھیں۔ وہ تو جراح تھا۔ آپ اسے ایک بے رحم قصاب بھی کہہ سکتے ہیں، وہ ہوشیاری سے سماج اور معاشرہ کے ناسور سے چمڑے ادھیڑتا تھا اورالگ کرتا تھا۔ مگر منٹو سے آج تک کیا ہورہا ہے۔ کہانی میں عورت ہے تو بولڈ کہانی۔ عورت کو برہنہ کیا تو بولڈ۔ عورت کے ساتھ جنسی مناظر ہیں تو بولڈ۔ مجھے اس پورے لہجہ سے مکاری کی بو آتی ہے اور گھن آتی ہے۔ آج دس بارہ برس کے بچے بھی لیپ ٹاپ، موبائیل، ٹیبلیٹ سے کھیلتے ہوئے عورت مرد کے جسم، اور سیکس کے تمام پہلوؤں سے آگاہ ہوتے ہیں مگر ہم اردو والے۔؟ اوہ مائی گاڈ۔ ذائقہ لے کر عورت کے بدن سے چھلکے اتارتے ہوئے طرم سیٹھ اورتیس مار خاں بن جاتے ہیں۔ شور کرتے ہیں کہ وہ مارا۔ ارے صاحب، جہاں سائنس انسانوں کے کلون تیار کررہی ہے، جہاں سائنس موت پر قد غن لگا نے کی کوشش کررہی ہے، جہاں مریخ سے آگے اور بلیک ہول کے رازوں کو منکشف کیا جارہا ہو وہاں آپ محض اس بات پر خوش ہورہے ہیں کہ آپ کے ناکارہ اور بدبو دیتے چٹخارہ دارلفظوں نے عورت کے جسم کو دیکھ لیا ہے،؟ یا پھر آپ اس زمانے میں جہاں وائلڈ سیکس کے تجربوں سے لے کر نئے نئے کنڈوم تک ایک بڑے بازار کا حصہ بن رہے ہوں، وہاں آپ سیکس کے مناظر دکھا کر تالیاں پیٹ رہے ہیں تو میں ایسے ادب کو حرام ادب کا درجہ دیتا ہوں۔ آج انسان کو فطرت پر فوقیت حاصل ہے، غیر یقینیت کے عنصر خلاء میں تحلیل ہو کر نئی ڈسکوری کو سامنے لارہے ہیں۔انسان کی معاشرتی مذہبی، سماجی زندگی پر ان کے گہرے اثرات نمایاں رہے ہیں، وہاں ایسے تمام جائزے، فلسفے اوروژن سے قطع نظر اگر ہم عورت اور سیکس کا تماشہ بنا رہے ہوں، تو میں اس کی حمایت نہیں کروں گا۔ ہمارے یہاں بولڈ کہانیوں کی شکل میں یہی تصور کار فرما ہے۔ اور المیہ یہ کہ اب بھی ہم بچوں کی طرح پتنگ اڑاتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ واہ کاٹا۔ ڈور ہی کٹ گئی۔ نظریہ کا فقدان بھی ادب کو بڑا ادب بننے سے روکتا ہے۔ ادب کو نئے مصالحوں اور نئے تماشوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدف تم مردہ زبان کو نئے تماشوں کا تحفہ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ہنسی)

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مردہ زبان اور نئے تماشے؟ میں ایک سوال کا اضافہ اور کرتی ہوں۔ آپ کی تخلیق کا بنیادی محرک کیا ہے۔؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انتہائی افسوس کے ساتھ کہ میں نے اپنی مادری زبان کو مردہ زبان کہا۔ آزادی کے ۶۸ برسوں میں سیاسی اور اقتصادی سطح پر اس زبان کو ختم کرنے کی کون سی کارروائی نہیں ہوئی صدف؟ اردو کا سلسلہ روزی روٹی سے منقطع ہوا تو نئے بچوں نے اردو کی جگہ انگریزی اورمقامی زبانوں کو اپنا لیا۔ ہم خوش ہوتے ہیں کہ اردو زندہ ہے لیکن اردو تو محض اخبار کی حد یا ادب کی حد تک زندہ ہے۔ اور نئے تماشے؟ ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے۔۔۔ ہم ایک بڑے تماشے کا حصہ ہیں اور ختم ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں فرقہ واریت حاوی ہے۔ مسلمانوں سے ووٹ کا حق چھین لینے کی باتیں ہورہی ہیں۔ تاج محل کو راجپوت راجہ کا محل بتایا جارہا ہے۔ ایک خوفناک سیاست ہے۔ اقلیتوں کو کچلنے کی سازش ہورہی ہے۔ اردو کے سیاسی استعمال کے مہرے سج چکے ہیں اور ان کے درمیان بڑے تماشے بھی ہیں۔ عالمی تماشے۔۔۔تم نے پوچھا محرک۔۔۔ یہ سب ایک ہی سوال سے وابستہ سوال ہیں۔ کیوں لکھتا ہے ادیب؟ کیا سماجی وسیاسی شعور کے بغیر ادب لکھا جاسکتا ہے؟ بر صغیر اور بیرون ملک کتنے لوگوں میں، کتنی تخلیقات میں اس سیاسی شعور کا عکس نظرآتا ہے۔؟ اور نہیں تو کیوں؟ یہ سب تماشے ہیں صدف اور ایک بڑے ادیب کو ان تماشوں پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔ تب ایک تارڑ خس وخاشاک زمانے لکھتاہے۔ تب ایک رضیہ فصیح احمد صدیوں کی زنجیر میں سقوط بنگلہ دیش اور تہذیبوں کا نوحہ بیان کرتی ہیں۔ نئی منزلوں پر کمنڈ ڈالتے ہوئے مرزا اطہر بیگ کو غلام باگ، صفر سے ایک تک‘ جیسے ناول لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن کتنے لوگ ہیں؟ ایسے کتنے ادیب ہیں جو ان ہنگاموں سے، تماشوں سے مکالمہ کررہے ہیں۔ اورمجھے بتائیں کیوں نہیں مکالمہ کرنا چاہئے؟ جہاں تک میری بات ہے، میں نے بچپن سے ہی لکھنے کی شروعات کردی۔ ایک غصہ تھا سسٹم پر۔ یہ غصہ نکال نہیں سکتا تھا۔ شرمیلا تھا۔ اور حد تب ہوگئی جب اس شرمیلے پن کا احساس مجھے اندر ہی کھاتا چلا گیا۔ اور ایسے میں جب مارکس اور ترقی پسندوں کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے ایسا لگا، جیسے جینے کو ایک مقصد مل گیا ہو۔ مگر جلد ہی دو تین سال کے عرصہ کے بعد میں نے سمت بدل دی۔ ہمیں بچپن میں پریوں کی کہانیاں اچھی لگتی ہیں۔ بڑے ہوتے ہیں تو ان کہانیوں کا اثر اکثر زائل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ادب کے اب تک کے سفر میں آئیڈیا لوجی کی سطح پر میں نے کئی راستہ بدلے۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ بغیر کسی بڑے نظریہ کے آپ ادب تخلیق نہیں کرسکتے۔ اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ اور اسی لیے ناول ہو یا کہانیاں، یہ اسی نظریہ سے چھن کر آتی ہیں۔ میں اس معاملے میں وکٹر ہیوگو اور تالستائے کے ساتھ ہوں جہاں ادب واقعات و حادثات کے جبر سے گھبرا کر انسانیت کی آغوش میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اسی لیے بڑے بڑے حادثے کے دوران کسی ایک بچے کی مسکراہٹ مجھے پسند آجاتی ہے۔ مجھے گھبرایا ہوا نور محمد اچھا لگتا ہے۔ مجھے زخمی شیرنی جیسی ناہید میں اپنے عہد کی باغی عورتوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ مجھے اسامہ پاشا میں اپنا بچہ نظر آتا ہے۔ مجھے غلام بخش میں لہو لہو تقسیم کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔۔۔ سیاست اور سماج کی اسی زمین نے اس شرمیلے انسان کو تخلیق کی زمین فراہم کی ہے۔۔۔ کیونکہ ہم نرے گاؤ دی ہیں۔ شرمیلے لوگ۔ سسٹم سے ادب کے آفاقی نظریہ تک، ہم ایک بند بند سے ڈرائنگ روم کا حصہ ہیں۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب اس خول سے باہر نکلیں۔ لیکن اس خول میں رہ کر بھی ہم میں سے کتنے لوگ ادب کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں یا عمدہ ادب تخلیق کررہے ہیں؟

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ فکشن کو نئے مکالموں کی ضرورت ہے؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت ایک میکنیکل عمل ہے۔ واقعات کے بہاؤ میں کسی جذباتی عمل کو کوئی دخل نہیں۔ تاریخ کے تخلیقی عمل کی صورت دوسری ہے۔ تمام تہذیبیں انحطاط پذیر ہیں۔ آئن اسٹائن سے اب تک زمان ومکان اور لا مکاں کو لے کر نئی نئی تھیوری سامنے آتی رہی ہے۔ آپ دیکھیں تو شیکسپیئر کے ’ٹوبی آر ناٹ ٹو بی‘ ٹائم پاسٹ، ٹائم پریزینٹ سے لے کر اقبال کے فلسفوں میں بھی سائنس کے فلسفوں کی گونج نظر آتی ہے۔ بڑا اور جینوئن ادیب وہی ہے، جو زندگی کے فلسفوں کو خلق کرے۔ اور نئی آباد ہوتی دنیاؤں اورفلسفوں پر گہری نظر رکھے۔ اردو افسانے کے سو برسوں میں بسیار تلاش کے بعد نہ مجھے غالب ملا نہ اقبال۔ منزل اک بلندی پر اور ہم بنا لیتے عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا اور اقبال کو دیکھیں ۔ سلسلۂ روز وشب، نقش گر حادثات، سلسلۂ روزوشب، اصل حیات وممات۔۔۔ یہ کوئی آسمان سے اتر صحیفہ نہیں ہے بلکہ زمان ومکاں کے فلسفوں کو اپنے اپنے عہد کی عینک سے دیکھنے، سمجھنے اور ایک قدم چلنے کا کام ہورہا ہے۔ فکشن میں دیکھیں تو پریم چند سے ترقی پسند تحریک تک ہندوستان کا چرمرایا ڈھانچہ اور مسائل تو ہیں، مگر زندگی کا فلسفہ ندارد۔ سو برس کے اس سفر میں اچھا تو بہت لکھا گیا۔ مگر کسی بڑی آواز کے لیے ہم ترس گئے۔ آپ مانیں نہ مانیں آپ کی مرضی۔ جدیدیت کی تحریک نے گمراہی زیادہ پھیلائی۔ نیا کچھ بھی نہیں۔ لیکن ادھر ۲۵۔۲۰ برسوں کا فکشن مجھے اس معاملے میں زیادہ بہتر لگتا ہے کہ اسد محمد خاں، زاہدہ حنا، مبین مرزا، اکبر علی ناطق، صدیق عالم، صغیر رحمانی، خالد جاوید، فہمیدہ ریاض خورشید حیات اور ایسے بہت سے نام ہیں جو فکشن کے نظام حیات میں اپنی طرف سے، نئے فلسفوں کا اضافہ کرنے کے لیے بے چین ہیں، اور اسی لیے ان کی کہانیاں فکشن کی کس ایک لکیر پر نہیں چلتیں۔ اچھے فکشن کو کئی مصالحے چاہئیں، مثال کے لیے فنتاسی، موہوم حقیقت نگاری، جادوئی حقیقت نگاری، ابہام کی حسین پرت بھی ان کی کہانیوں میں شامل ہو۔ دراصل اس مکمل عہد کو میں کنفیوژن کا عہد کہتاہوں۔ موت پر فتح پانے کی کوشش بھی اور اموات میں اضافہ بھی۔ مریخ پر کمند بھی اورامریکہ یوروپ کی غربت بھی۔ ایک بڑا ایلیٹ کلاس اور اکانومی سے لڑتا ایک کلاس۔ مذہب بھی اورمذہب بیزاری بھی۔ سائنس اور ٹکنالوجی بھی اور ان کی کامیابیاں انسانوں کو پسپا کرنے اور بونسائی بنانے کے لیے کافی۔ ظاہر ہے ایسے عہد میں فکشن کو آپ سپاٹ بیانیہ کے سہارے نہیں گزار سکتے۔ موضوع آپ سے مکالمہ کرے گا تو کئی جہات، کئی شیڈ، کئی ڈائمنشن پیدا ہوں گے۔ اور انہیں کہانی یا ناول میں پیش کرنے کے لیے جب تک آپ کا مطالعہ وسیع نہیں ہوگا، جب تک آپ اپنے عہد کی سائنسی وفکری تمام حقیقتوں سے قریب نہیں ہوں گے، فکشن پر آپ کی مضبوط پکڑ یا دسترس نہیں ہوگی۔ اور اسی لیے فکشن کو اب نئے مکالموں کی ضرورت ہے۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آپ کو فروغ اردو انٹرنیشل انعام ملا۔ کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت بھی کی۔۔۔

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (زور زور سے ہنس کر) کچھ لوگ نہیں۔ آپ نا انصافی کررہی ہیں۔ صرف ایک۔ اور میں نام لینا ضروری نہیں سمجھتا۔ لیکن آپ کو کیوں فکر ہے؟ مجھے حمایت سے زیادہ اختلاف پسند ہے۔ مجھے جذباتی لوگ پسند ہیں۔ آہ جذباتی لوگ۔ ان کے پاس کتنا زیادہ وقت ہوتا ہے دوسرے کے گھروں میں جھانکنے کے لیے۔ ان کے کان بھی بڑے ہوتے ہیں۔ اور مجھے ہاتھی کی طرح یہ بڑے بڑے کان بھی پسند ہیں۔ اور صدف، ختم ہوتی دنیا میں ایسے جذباتی لوگوں کی قدر کیا کرو۔ میں بھی کرتا ہوں۔ کیونکہ کل کون ہوگا جو آپ پر دھیان دے۔؟ اور اس قدر دھیان دے۔ ایسے لوگ مجھے معصوم بچوں کی طرح لگتے ہیں۔ پیارے۔ وہ دوسرے بچوں کے اچھے لباسوں سے جلتے بھی ہیں۔ کوئی بچہ فرسٹ ڈیویژن پر کامیاب ہوتا ہے تو ناک بھوں بھی چڑھاتے ہیں مگر دیکھو تو صدف۔ یہ جذبات ہی تو ہے کہ آپ خود کو بھول جاتے ہیں۔ اور کیسا پیارا جذبہ کہ آپ کاغذ کے تیر اور کمان لے کر میدان میں کود جاتے ہیں۔ اورعمر وعیار کے معصوم سپاہیوں کی طرح ایک معصوم پلٹن بھی آپ کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ یہ آخری جذباتی انسانوں کا قافلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جذباتی لوگ بھی غائب ہوجائیں گے یا کسی دھند میں اتر جائیں گے صدف۔رہی بات میری۔ مجھے بچے پسند ہیں۔ میں جذباتی نہیں۔ میں ادب میں بھی جذبات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ مگر ایسے جذباتی لوگوں کی نوراکشتی کو سرآنکھوں پر رکھتا ہوں۔ ممکن ہے وہ غلط ہوں۔ مگر دیکھو تو، وہ رقص کررہے ہیں۔ جنگ کررہے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ وہ برہنہ ہیں اور اشارہ کررہے ہیں کہ ارے بادشاہ تو ننگا ہے۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو دفکشن سے امیدیں؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا سوال ہوا، اردو فکشن سے امیدیں۔؟ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے کہ گھوڑے گدھے ایک ساتھ اصطبل میں نہیں باندھے جاتے۔ ادب میں عیاری اور مکاری کی جو دھند رہی ہے، اس نے کبھی سنجیدہ مکالموں کو آواز نہیں دی۔ آپ کیوں سوچتی ہیں کہ سو فیصد لوگ بہتر لکھیں۔؟ ایسا کسی عہد میں نہیں ہوا۔ کسی زبان میں نہیں ہوا۔ اردو کا معاملہ تو ہندوستان میں اور بھی مختلف ہے۔ یہاں ہماری اردو زبان صرف ادب کی محتاج ہو کررہ گئی ہے۔ یا تو اردو اخبار ہیں یا ادبی رسائل۔ کمرشیل رسائل کا زمانہ چلا گیا۔ نئی نسل کا دور دور تک پتہ نہیں۔ بڑی بڑی تحریکوں کا بوجھ اٹھائے ادب کے کندھے زخمی۔ سب سے پہلے یہ فکر کرو کہ کیا کوئی زبان محض اخباروں یا ادبی رسائل کے بھروسے زندہ رہ سکتی ہے؟ اردو ادارے یا اکادمیاں کمرشیل رسائل کی طرف توجہ کیوں نہیں دے رہیں؟ اب میں تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں۔ میں پر امید نہیں تو نا امید بھی نہیں۔ ناول کی بات کروں تو مستنصر حسین تاڑ، مرزا اطہر بیگ، رضیہ فصیح احمد، عاصم بٹ سے لے کر شاہد جمیل احمد کے سپائی پلان تک اچھے ناول لکھے جارہے ہیں۔ ہندوستانی فکشن میں قرۃ العین حیدر کے بعد عبدالصمد، غضنفر، انور خاں، حسین الحق، شائستہ فاخری اور رحمان عباس تک مسلسل ناول لکھے جارہے ہیں۔ ابھی تو مکالمہ کی شروعات ہوئی ہے۔ فیصلہ تو وقت کو کرنا ہے۔ اسی طرح فکشن میں صدیق عالم، مشتاق احمد نوری، اقبال مجید، خالد جاوید، شائستہ فاخری تک فعال ہیں اور نئے موضوعات کو سامنے لارہے ہیں۔ زندہ لوگوں پر مکالمہ زندگی میں کم ہی ہوتا ہے۔ اقبال مجید، جوگیندر پال سے مشتاق احمد نوری بھائی تک ابھی مکالمہ ہونا باقی ہے۔ نوری بھائی کی کہانیوں کو ہی لیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حکایت اور داستانوں کا دور واپس آگیا ہو۔ اسد محمد خاں، مبین مرزا، طاہرہ اقبال، انور زاہدی، طاہر نقوی، حامد سراج، اور بالکل نئے لوگوں میں سیمیں کرن، رابعہ الرباء، اقبال خورشید کی کہانیاں مجھے پسند ہیں۔ صغیر رحمانی نے بھی عمدہ کہانیاں لکھی ہیں۔ ان پر گفتگو ہونی باقی ہے۔ یہاں نام گنوانا منشا نہیں مگر مجھے یہ بات تقویت دیتی ہے کہ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوشل نیٹ ورک ، ویب سائٹس اور بلاگس پر بھی اردو کی ایک نئی بستی آباد ہورہی ہے۔ آپ اس بستی سے مطمئن ہیں؟

مشرف عالم ذوقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(کچھ لمحے کی خاموشی) ایک حد تک مطمئن ہوں۔ اور نہیں بھی۔ پرنٹ میڈیا یارسائل میں ایک ڈسپلین ہوا کرتی تھی۔ سخت رویے بھی اپنائے جاتے تھے۔ کمزور لکھنے والوں کی تخلیقات تب تک واپس ہوا کرتی تھیں جب تک وہ بہتر نہ لکھنے لگیں۔ اسی لیے شناخت بنتے بنتے ایک عمر گزر جاتی تھی۔ ایک عمر گزرنے کے بعد کچھ کہانیوں کی خبر لی جاتی تھی۔ اورنام قبول عام ہوتا تھا۔ اور جس نام کو معیار کی سند دی جاتی تھی، اس پر گفتگو اور مباحث کی شروعات ہوتی تھی۔ سنجیدہ مضامین لکھے جاتے تھے۔ بلاگس، ویب سائٹس نے بہت حد تک اس اذہان کو نقصان پہنچایا ہے۔ نئی نسل اور امبیشس ہے۔ مطالعہ سے بھاگ رہی ہے۔ وہ یہ دیکھ کر خوش ہوجاتی ہے کہ اسے Poke کرنے والے یا لائک کرنے والے ہزاروں ہیں۔ معیار اورمقدار میں فرق ہے۔ معیار گم ہے۔ بچکانہ اور کمزور تجربے سامنے آرہے ہیں۔ اور دیکھو تو صدف۔۔۔ کتنی پیاری بات۔ ابھی بھی ناول اورکہانیوں کی تعریفیں تلاش کی جارہی ہیں۔ پرانے لباس اورپرانی روایتوں پر مضبوطی سے جمے ہونے کے باوجود کچھ لوگ اسے نئی روایت کا نام دیتے ہیں۔ کیا محض شور شرابا اور ہنگاموں سے، غیر سنجیدہ فضا میں کسی صحت مند مکالمے کی امید کی جاسکتی ہے؟ ایک تاریک کنواں اور ہر شخص جو اردو کی تھوڑی بہت سوجھ بوجھ بھی رکھتا ہے، وہ بھی اترا ہوا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر اپنی بات کہہ رہا ہے۔ یہ ادب کی جمہوریت نہیں ہے۔ آزادی اظہار کا یہ رویہ نہ صرف ادب کی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ادب کی صحت مند قدروں اور فروغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اچھی بات صرف یہ ہے کہ گلوبل گاؤں سے، دور دور سے اردو کے جاننے والے نکل کر سامنے آئے ہیں۔ یہ امید افزا بات ہے۔ غیر مطمئن رویہ یہ کہ ۹۸ فیصد لوگوں کی غیر سنجیدہ باتوں کو ایڈٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے اکثر افسانہ فورم پر صحت مند مکالموں کو غیر ضروری مکالموں سے بوجھل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کے باوجود اس نئی بستی کا خیر مقدم کرتاہوں۔ یہ آزاد اور ایک بڑی بستی ہے۔ لیکن اس بستی کو شر سے، غیر سنجیدہ مکالموں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اور ہاں اب میرے ڈنر کا وقت ہو رہا ہے۔ (فون ڈسکنکٹ۔ موبائیل تھامے ہوئے خاموش تھی۔ جیسے ایک آندھی آئی اور گزر گئی۔ کسی نے کہا تھا، خلا میں آوازیں محفوظ رہتی ہیں۔ انسانوں کے فنا ہوجانے کے ہزار برس بعد بھی۔ میں زیر لب مسکرائی۔ مجھے بھی ڈنر کی تیاری کرنی تھی۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے فون ٹیبل پر رکھ دیا ۔

(بحوالہ اردو افسانہ فورم) ) ۔۔۔۔

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.