امین بھایانی



04 May, 2018 | Total Views: 447


امین بھایانی


محمد اعظم یاد

سوال۔۔۔۔۔۔ ادب سے آپ کی جڑت کب ہوئی ؟ سب سے پہلے کس صنف میں لکھا ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ ادب سے لگاؤ وراثت میں ملا۔ والدِ مرحوم کا تعلق شبعہ صحافت سے تھا۔ ساتھ ہی وہ گجراتی زبان کے لیکھک اور شاعر بھی تھے اور "سنیھ ساگر" (پیار کا سمندر) تخلص کیا کرتے تھے۔ گھر میں جس جگہ دیکھتا، کتابیں ہی کتابیں نظرآتیں۔ مجھے بھی پڑھنے کا چسکا، جیسے ہی تھورا سا ہی اُردو پڑھنا آیا لگ گیا۔ پھر بچوں کےرسائل میں کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ والد صاحب کوئی سن پچاس کی دھائی کے اواخر میں کراچی سے الیاس رشیدی مرحوم کی زیرِادارت نکلنے والے فلمی ہفت روزہ "نگار ویکلی" میں سرکیولیشن مینجر ہوا کرتے تھے۔ فلموں سے اُن کی دلچسپی کے سبب وہ ہفت روزہ ہمارے گھر باقاعدگی سے آیا کرتا تھا۔ جس سے مجھے بھی فلموں سےحد لگاؤ پیدا ہوا۔غالبا ً 1984ء میں "ہفت روزہ نگار" میں مضمنون نگاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ لکھنے کے شوق کو مہمیز کرنے میں"ہفت روزہ نگار" کے بانی و ایڈیڑ الیاس رشیدی کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اُن کی ترغیب پر میں نے مضمون و فیچر نگاری کے علاوہ فلمی فنکاروں، ہدایت کاروں، موسیقاروں اور فلمسازوں کے کم و بیش تمام تر نامور فلمی سخصیات کے انٹرویوز کیئے۔ کئی سالوں تک میں "ڈان انگریزی" اور "دی نیوز" میں شائع ہونے والے شو بز سے متعلق مضامین اور انٹرویوز کے اُردو ترجمے بھی کرتا رہا۔ میں نے پریس فوٹو گرافی بھی کی جو کہ "نگار" اور "ویکلی میگ" کے علاوہ دیگر جرائد میں شائع ہوتی رہی۔ "روزنامہ جنگ" کراچی، "ہفت روزہ اخبارِ جہاں" کراچی، حمید اختر مرحوم کے ماہانہ جریدے "جلوہ" لاہور اور مشہور ٹی وی ڈرامہ رائیٹر فیصح باری خان کے ماہانہ جریدے "فلم سٹی" کراچی کے علاوہ کئی دیگر جرائد و رسائل میں بھی لکھتا رھا۔ اور لگھ بھگ سو سے زائد مضامین، انٹرویوز، رپورٹس، فیحرز شائع ہوئے۔ 2000ء جب پاکستان سے باہر جانا ہوا غمِ روزگار نے اِس قابل نہ چھوڑا کہ لکھنے لکھانے کی طرف متوجہ ہوتا۔ پھر 2010ء سے ایک بار پھر لکھنے کا آغاز کیا۔ مگر اب کی بار یہ آغاز افسانہ نگاری اور فکاہیہ مضامین کی صورت میں ہوا۔

سوال۔۔۔۔۔۔ اتنے سارے فلمی فنکاروں اور ہدایت کاروں کے انٹرویو کرنے کے بعد اداکاری کی طرف آنے کو جی نہیں چاھا ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ اعظم بھائی، ایک بہت ہی مزے کی بات بتاؤں۔ ایک بار ایک سیمینار میں شریک تھا۔ شرکاء سے سوال کیا گیا کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں دنیا کی ساری کتابیں پڑھنا اور ساری فلمیں دیکھ لینا چاہتا ہوں۔ اس پر دیر تک تالیاں بجتیں رہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی میں نے دو چیزوں میں بے پناہ کشش پائی۔ کتابیں اور فلمیں بچپن سے ہی سوچا کرتا تھا کی بڑا ہو کر اخبار کا ایڈیٹر یا فلم کا ہدایتکار ہی بنوں گا۔ پھر جب میں لڑکپن کی حدود میں داخل ہوا تو میں نے فلم ہدایتکاری کے بارے میں بڑی ہی سنجیدگی کے ساتھ سوچنا شروع کردیا۔ جو فلم بہت پسند آتی بار بار سنیما جا کردیکھتا۔ مقصد یہ ہوا کرتا تھا کہ دیکھ اور جان سکوں کہ ہدایتکار نے کس منظر کو کس طرح فلمایا ہے اور اگر میں اس فلم کا ہدایتکار ہوتا تو کیا کرتا؟ لیکن ایک نچلے متوسط طبقے سے تعلق نے جلد ہی غم روزگار میں غلطاں و پیچاں کر دیا۔ دن بھر محنت مزدوری اور شام کو کالج۔ یوں میرا سُندر سپنا مجھ سے آگے آگے بھاگتا رھا۔ 2004ء میں، اپنےامریکن ورک ویزا کا انتظار کر رہا تھا۔ کوئی دو تین ماہ گزر گئے مگر اسلام آباد قونصلیٹ سے ویزا کا کچھ پتہ نہیں چل رھا تھا۔ انٹرویو آفیسر کے سخت رویئے نے مجھے قدرے تشویش میں مبتلا کردیا تھا اور اس قدر تاخیرسے مجھے مایوسی ہونے لگی تھی ۔ اُن تین چار ماہ کے درمیان میں باقاعدگی کے ساتھ کراچی آرٹس کونسل اور ہفت روزہ نگار کے دفتر جایا کرتا۔ جہاں کم و بیش روز پاکستانی فلموں کے مشہور ہدایتکار محمد جاوید فاضل مرحوم سے ملاقات ہوتی۔ اُن کے کریڈٹ پر "آہٹ"، "صائمہ"، "دہلیز"، "لازوال"، "فیصلہ"، "کندن"، "ناراض"، "بلندی"، "حساب" اور "بازارِ حسن" جیسی پاکستان کی یادگار اور کامیاب ترین فلمیں اور سیما غزل آپا کی تحریر کردہ مشہور ڈرامے سیریل "مہندی" کے علاوہ بے شمار سیریلز بھی ہیں۔ ان دنوں پاکستانی فلموں کے حالات دگرگوں تھے۔ وہ کراچی منتقل ہو کر ٹی وی ڈرامے بنا رہے تھے۔ ایک روز ہم کراچی آرٹس کونسل میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ اُنہوں نے مجھے اپنے اگلے ڈرامہ سیریل کے لئیے بطور معاون ہدایتکار اپنے ساتھ کام کرنے کی فراخدلانہ پیشکش کی جس کا آغاز کوئی دو تین ہفتوں بعد ہونے والا تھا۔ اندھا کیا چاہے دو انکھیں۔ میں نے فورا ہی ہاں کردی۔ مگر اگلے ہی ہفتے اسلام آباد سے مجھے اپنا ورک ویزا موصول ہوگیا اور میں فورا امریکا چلا ایا۔ سو یوں میرا سندر سپنا، سپنا ہی رھ گیا۔

سوال۔۔۔۔۔۔ اندر کے اس ہداتیکار کو امریکہ میں موقع نہیں ملا؟

جواب۔۔۔۔۔۔ میں ورک ویزا پر امریکا آیا تھا تو اِس لحاظ سے آپ ایک طویل مدت تک اُسی متعلقہ شعبہ سے وابستہ رہتے ہیں۔ تاآنکہ آپ گرین کارڈ نا حاصل کرلیں۔ پھر یہاں حالات اُس سے کافی مختلف اور کھٹن ہیں کہ جتنے وہاں سے دکھائی دیتے ہیں۔ برسوں میں لکھنے لکھانے سے دور رہا۔ جسے انگریزی میں کہتے ہیں نا کہ Struggle for Survival، سو بس اِسی میں سرگرداں رہا۔ البتہ پوری کوشش کرتا رہا کہ جس قدر بھی موقعہ میسرآئے، مطالعے سے ضرور وابستہ رہوں۔

سوال۔۔۔۔۔۔ آپ افسانے کی دنیا میں کیسے آئے ؟ پہلا افسانہ کون سا تھا؟

جواب۔۔۔۔۔۔ اعظم بھائی، بہت ہی اچھا سوال smile emoticon جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ ہوش سبنھالتے ہی مطالعہ کا جو چسکا لگا تو میرے ہاتھ جو آیا بس پڑھتا چلا گیا۔ میرے پسندیدہ مصنفین میں ابنِ صفی اور اے حمید مرحومین کا نام سر فہرست ہے۔ بلکہ آپ کو حیرت ہوگی کہ میں نے جو سب سے پہلا ناول پڑھا وہ ابنِ صفی کی جاسوسی دنیا کا ایک ناول ہی تھا۔ اُس وقت غالباً میں تیسری چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا۔ دراصل کہانیاں تو میرے اندر بچپن سے ہی تھیں اور مجھے کہیں اندر سے یہ معلوم تھا کہ میں کہانیاں لکھ سکتا ہوں اور بچپن میں یہ کام کیا بھی۔ لڑکپن میں پہلے شوق شوق میں "ہفت روزہ نگار" میں لکھنا شروع کیا پھر جب اُس شوق سے کچھ آمدنی شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ افسانہ اور کہانیاں لکھنے سے گھر کی ہانڈی نہیں چل سکتی۔ آپ تو جانتے ہی ہیں ہمارے یہاں افسانوں وغیرہ پر عموماً ادبی جرائد کی طرف سے عموماً کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ پھر جب دیارِغیر میں کئی سال بعد اپنے پاؤں پر کسی حد تک کھڑے ہوحانے کے بعد کچھ وقت ملا تو میرے اندر کا افسانہ نگار پھر سے جاگا۔ کیونکہ اب اُسے لکھ کر پیسے کمانے کی ضرورت نا رہی تھی۔ سو میں نے اپنی افسانہ نگاری کی خواہش کو پروان چڑھانا شروع کیا۔ جب میں کراچی میں ہوا کرتا تھا، اُس زمانے میں بھی افسانے لکھے۔ لیکن کہیں شائع نہیں کروائے۔ دراصل اپنی زندگی میں اس قدر مصروف رہا کہ اُنہیں شائع کروانے کے لیئے مفت کی جوتیاں گھسوانے کے لیئے کوئی وقت ہی نا تھا۔ بہرحال 2010 میں یہاں امریکا میں میں نے سب سے پہلے ایک مختصر سا افسانہ بعنوان "یہ مسلمانوں کی دُکان ہے" لکھا اور اُس کے فوراً بعد دوسرا افسانہ "احمد انکل کے بچوں کا کیا ہوا؟" لکھا۔ آخر الذکر افسانہ بے حد پسند کیا گیا اور اب بھی پسند کیا جاتا ہے۔ سچ پو چھے تو یہ افسانہ نہیں حقیقت ہے۔ خُود میری اپنی زندگی کی حقیقیی کہانی!

سوال۔۔۔۔۔۔ کہانی کی دنیا اور افسانے کی دنیا مختلف کیوں ہیں ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ کہانی اپنے قاری کو ایک انجام کی طرف لے جاتی ہے جبکہ افسانے کا انجام ہی ایک نئی کہانی کا آغاز ہے۔ ہر افسانے میں ایک کہانی ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر کہانی میں ایک افسانہ بھی ہو۔ ممکن ہے کہ کہانی کا انجام قاری کی سوچ کا انجام ثابت ہو مگر ایک افسانہ اپنے قاری کی سوچ کا آغاز ثابت ہوتا ہے۔

سوال۔۔۔۔۔۔ کیا ھم افسانویت کی کوئی تعریف مقرر کر سکتے ہیں ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ اساتذہ نے جو افسانے کی ایک عمومی تعریف کی ہے وہ اپنی جگہ جبکہ مختصراً افسانہ زندگی، زندگی کے کسی ایک خاص واقعے، کسی پہلو کی لفظی تصویرکشی جس میں قدرے اختصار، وحدتِ تاثر وغیرہ موجود ہوں۔ چند روز قبل میں نے ہندوستان کے معروف افسانہ نگارمحترم مشرف عالم ذوقی کی پیش کردہ ایک طویل تعریف پڑھی۔ اُن کی کہی باتیں مجھے بے حد پسند آئیں۔ کوئی بھی افسانہ نگار افسانہ کی تعریف پڑھ کر افسانہ نہیں لکھتا .....افسانہ جیا جاتا ہے .افسانے کو زندگی کی طرح جینا ہوتا ہے ....اور زندگی جینے کے طریقے سب کے مختلف ہیں علاوہ ازیں انہوں نے دو باتیں اور بھی کہیں: (1)۔ زندگی ہی در اصل افسانہ ہے ...ایک مکمّل زندگی بھی ..زندگی کا کوئی حادثہ بھی ..کوئی خوشگوار لمحہ بھی ...دکھ ..غم..رنج الم ...الجھنیں ..یا دو لوگوں کی گفتگو ...پلاٹ ہو تب بھی افسانہ ہے ..پھر کردار آئیں گے .وحدت تاثر .. فکر ، سلسلہ وار واقعات کو آگے بڑھانا (2)۔ کیا ہم اپنی زندگی کے انجام سے واقف ہیں ؟موت حقیقت ہے ...مگر موت کیسے آئے گی ، یہ کون جانتا ہے ....نئی کہانی نہ شروعات کی پرواہ کرتی ہے نہ وحدت تاثر ، پلاٹ یا انجام کی ....وہ بھی درست .یہ بھی درست تو اِس حوالے سے میں کہنا چاہوں گا کہ جیسے ہم اپنی زندگی کے اگلے پل اور اِس زندگی کے اختتام سے بے خبر ہوتے بھی اور زندگی کے اِس افسانے کے ناممکمل ہوتے ہوئے بھی اِسے مکمل پاتے ہیں۔ سو یہی افسانہ بھی ہے یا ہونا چاہیے۔ جس میں انجام، انجام ہوتے بھی انجام نا ہو بلکہ زندگی ہی ایک لامنتاہی سلسلہ (Extension) ہو۔ جیسا کہ زندگی محض کسی کہانی کے خوشگوار انجام کی مانند نہیں ہوا کرتی "اور پھر وہ ہنسی خُوشی زندگی بتانے لگے" اور نا ہی فقط زندگی اِس بات کا نام ہے کہ "اور پھر وہ مر گیا" بلکہ زندگی اور اُس سے جڑا ہر انجام ایک نئے آغاز کا سنگ میل ہوتا ہے۔ سو افسانے کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ جس سے نئی سوچوں کے سوتے پھوٹنے کے امکانات در امکانات موجود ہوں۔

سوال۔۔۔۔۔۔ آپ کو زندگی نے اپنے کیا معنی سمجھائے؟

جواب۔۔۔۔۔۔ زندگی کو میں نے جہاں جہد مسلسل پایا وہیں اِس زندگی نے اِس جہدِ مسلسل کے انعام میں بہت کچھ دیا بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان زندگی کے معنیٰ اپنی عینک اور اُس عینک پر لگے شیشوں کے رنگوں کے توسط سے ہی دیکھتا ہے۔ سو جیسی عینک اور جیسا شیشوں کا رنگ، زندگی اور اُس کے معنیٰ ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے چونکہ زندگی میں بہت شروع سے ہی پریکٹیکل ہونا پڑا۔ ظاہر ہے ضرورت بھی تھی سو میرے لیئے زندگی مسلسل کچھ کرتے رہنے کے معنیٰ اپنے ساتھ لے کر آئی اور زندگی کے دھنک رنگوں میں وہ معنیٰ آج بھی میرے ساتھ ساتھ ہے۔ آپ نے مہدی حسن مرحوم کا وہ مہشور زمانہ گیت تو ضرور سُنا ہوگا زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں اِس گیت کا ایک مصرعہ ہے میں نے قسمت کی لکیروں سے چرایا ہے تجھے سو زندگی میں اپنی ان گوناگوں مصروفیات کے سبب میرا اپنے بارے کہنا کچھ یوں ہے کہ میں نے قسمت کی لیکروں سے وقت کا لمحہ لمحہ جو میں اپنے ادبی اور دیگر مشاغل کو دیتا ہوں چرایا ہے۔ بات زرا عجیب سی ہے مگر میرا معاملہ کچھ یوں ہی ہے میں نے کبھی زندگی میں بہت زیادہ معنیٰ تلاش کرنے کی ہرگز شعوری کوشش نہیں کی۔ جو کچھ سفرِزندگی میں میرے سامنے آتا گیا خود مجھے اپنے مطالب اور معنیٰ سمجھاتا چلا گیا۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ زندگی خدائے بزرگ وبرتر کی عطا کردہ ایک نعمت ہے۔ اِس نعمت کو ضائع نہ کریں ۔ اس کے ایک ایک پل کو جینا ہی دراصل زندگی ہے۔

سوال۔۔۔۔۔۔ بچپن کے وہ واقعات جو آج بھی یاد آتے ہیں.ایسی شرارت جس پر گھر والوں سے خاصی خاطر تواضح ہوئی ہو.

جواب۔۔۔۔۔۔ بھلا وہ کون ہوگا جس نے پچپن میں اپنی شرارتوں سے گھر والوں سے "خاطر تواضح" نا کروائی ہو۔ سو ایسے تو متعدد واقعات ہیں۔ البتہ ایک واقعہ ایسا ہے جو مجھے آج بھی روزِاول کی طرح سے یاد ہے جس میں میری غلطی کے باوجود گھر والوں نے سچ مچ کی خاطر تواضح کی تھی۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم کراچی میں کھارادر کے مشہور علاقے پنجابی کلب میں رہا کرتے تھے۔ میں ساتویں جماعت کا طالبِ علم تھا اور غالباً 12 برس کی عمر تھی۔ ایک روز بہت زوروں سے بارش ہوئی۔ خُوب چھاجوں پانی برسا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب بچے بالے محلہ کی گلیوں میں آزادی و بے فکری سے کھیلا کودا کرتے تھے اور والدین بھی کچھ اِس حوالے سے کچھ خاص تردد نا کیا کرتے۔ سو جناب ہم سب محلے کے بچے گلی میں جمع ہو کر دھواں دھار برساتی بارش کے پانی سے نہا کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اُس روز بارش کچھ ایسی چھما چھم برس رہی تھی کہ رُکنے کا نام ہی نا لیتی تھی۔ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے گلیوں نے ندی نالوں کا روپ اختیار کرلیا۔ میں اور میرا ایک دوست اِس بارش سے بنے والے عارضی ندی نالوں میں ڈبکیاں لگاتے پھر رہے تھے اور گھومتے پھرتے گھر سے بہت دُور نکل آئے۔ ہمارا محلہ وہاں پنجابی کلب میں کراچی پورٹ ٹرسٹ گراونڈ جو کہ "کے پی ٹی گراونڈ" کے نام سے مشہور تھا کے عین سامنے تھا۔ اگر وہاں سے زرا آگے چلا جائے تو ڈاکیارڈ کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے اور پھر کوئی تین چار میل دور کراچی کی فیشری ہے جہاں بندرگارہ سے لائی جانی والی مچھلیوں کی تھوک فروخت و نیلامی ہوتی ہے۔ سو ہم دونوں گھومتے گھماتے گھر سے کوئی تین چار میل دور فیشری تک جا پہنچے اور وہاں موجود مچھلیوں کے ڈھیر دیکھنے میں کچھ ایسے مگن ہوئے کہ وقت کا کچھ پتہ ہی نا چلا۔ بارش تھی کہ بند ہونے کا نام تک نا لیتی تھی۔ ہم دونوں اِس بات سے بےخبر کہ ہمیں گھر سے نکلے کوئی پانچ چھے گھنٹے ہوگئے ہیں اور وہاں پیھچے محلے میں ہماری گمشدگی کو لے کر ہاہا کار مچ چکی تھی۔ ہمارے والدین اُس برستی بارش میں ہمیں یہاں وہاں تلاش کرتے پھر رہے تھے اور اتنی دیر ہوجانے کے بعد اِس بدگمانی کا شکار ہوچکے تھے کہ شاید اِن بچوں کو کوئی بردہ فروش اُٹھا کر لے گیا ہے۔ بحرحال، ادھر جب ہم فیشری میں مچھلیاں دیکھ دیکھ اُکتا گئے تو گھر کی یاد آئی اور احساس ہوا کہ بہت زیادہ دیر ہو چکی ہے۔ ہم وہاں سے سر پر پیر رکھ کر جو بھاگے تو اُس چھاجوں برستی بارش میں سارے راستہ ڈر اور خُوف کے مارے بھاگتے ہوئے ہی طے کیا اور وہ اچھا خاصہ فاصلہ تھا۔ بھاگتے بھاگتے ہمارا سانس پھول گیا اور چونکہ پانچ چھے گھنٹوں سے کچھ کھایا پیا بھی نا تھا، گھر کے قریب پہنچ کر ہم پر کم و بیش غشی کی سی کیفیت طاری ہونے لگی۔ جب ہم محلہ میں پہنچے تو وہاں تلاش کرنے والوں نے ہمیں آتے دیکھ کر سکُھ کا سانس لیا اور بھاگنے کر آنے کی وجہ دریافت کی۔ مجھے یہ بات سمجھ میں آ چکی تھی کہ ہماری اِس پانچ چھے گھنٹوں کی گمشدگی نے یہاں کہرام مچا دیا ہے سو اگر جو سچ بولا تو شامت ہی آ جائے گی۔ جب کچھ اور نا سوجھا تو میں نے کہہ دیا کہ چند غنڈے بدمعاش ٹائپ لوگ ہمیں پکڑنے کی کوشش کررہے تھے اور ہم اُن سے بھاگتے پھر رہے تھے اور بڑی مشکلوں سے جان بچا کر واپس یہاں تک پہنچے ہیں۔ بس صاحب، یہ سُننا تھا کہ سب نے ہماری بلائیں لینا شروع کردی اور بطورِ خاص گھر والوں نے اُس روز ہمیں وی آئی پی ٹریٹمینٹ دیا۔ مزے مزے کی چیزیں بنا بنا کر کھلائیں اور ہم سارے دن معصوم بن کر وہ سارے مزے مزے کے کھانے اُڑاتے رہے۔ ہمارے والدین خدا کے خصور سجدہِ شکر بجا لاتے رہے کہ ہمارے نورِچشم خیر و عافیت سے گھر کو لوٹے۔

سوال۔۔۔۔۔۔ سکول کالج کی وہ کامیابیاں جو آج بھی خوشی بخشتی ہیں؟

جواب۔۔۔۔۔۔ جی بھائی اعظم کیا اچھا سوال کیا ہے۔ اُسکول کی جہاں تک بات آتی ہے، مجھے اِس سچ کو کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اُسکول میں کوئی بہت اچھا طالعلم نہیں تھا۔ بلکہ سچ پوچھیں تو پڑھائی میں میرا جی نہیں لگتا تھا۔ اب ایسا بھی نا تھا کہ میں پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔ چاہتا تھا اور مجھے پڑھنے لکھنے سے بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ مگر اُسکول کے اساتذہ کا مولا بخشانہ رویہ مجھے اُن سے اور اُسکول سے متنفر کیئے رکھتا تھا۔ میری کوشش ہوتی کہ بس میں کسی نا کسی طرح سے پاس ہوجاؤں۔ میرا ذہن مطالعے کی طرف بے حد مائل تھا میں اکثر اپنی کلاس روم میں بھی کہانیوں کے کتابیں اور بچوں کے ناول لے جا کر پڑھا کرتا اور اکثر پکڑا جاتا۔ پھر استاد کے زیرِ عتاب آتا۔ میڑک کے بعد جب میں کالج میں آیا تو شام کے کالج میں داخلہ لیا۔ وہاں چونکہ آزادانہ ماحول تھا۔ کوئی بندش اور پابندی بشمول "مولا بخش" کا کوئی عمل دخل نا تھا۔ پھر مجھے وہاں بہت اچھے اساتذہ ملے۔ میں ناظم آباد، کراچی کے پرئیمر کالج کا طالبعلم تھا۔ وہاں مجھے اکاؤنٹنگ کے پروفیسر روف احمد صاحب نے بہت توجہ دی۔ پروفیسر روف احمد صاحب بہت سنیئر اور ہمیں فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر میں اکاوؑنٹنگ کی جو نصابی کتب پڑھائی جاتی تھیں وہ اُںہی کی تحریر کردہ تھیں۔ جس کے سبب میں نے پڑھائی میں بے پناہ دلچسپی لینا شروع کردی۔ پڑھائی میں دلچسپی لینے کی ایک اہم ترین وجہ یہ بھِی تھی کہ میں سارا دن ملازمت کرتا اور شام کو بھاگتا دوڑتا اور گرتا پڑتا کالج پہنچتا، سو اپنے وقت اور تعلیم کی قدر کا احساس ہوا۔ (میرا افسانہ "احمد انکل کے بچوں کا کیا ہوا" پڑھیں)۔ سو تعلیم اور ملازمت ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ آج سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں گو کہ میں نے بہت بھاگ دوڑ کی مگر وہ محنت، بھاگ دوڑ، اپنے وقت کی قدر، تعلیم کی اہمیت کا احساس اور بے پناہ مصروفیات کے سبب نا صرف بُری صحبتوں سے بچا رہا اور آج جہاں بھی ہوں اللہ کے کرم، والدین کی دعاوؑں کے بعد وہی ایک اہم ترین وجہ ہے۔

سوال۔۔۔۔۔۔ کالج زندگی کا کوئی شرارتی سا واقعہ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ اٰعظم بھائی، جیسا کہ پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ کراچی کے گورئمینٹ پریمیئر ایونیگ کالج کا طالبعلم تھا اور شرارتیں وہاں سوجھتی ہیں جہاں دماغ تر و تازہ ہوں۔ اپنا حال تو یہ تھا کہ صُبح سات بجے گھر سے جو نکلتا تو دو بسیں تبدیل کر کے اپنے کام کورنگی انڈسٹریل ایریاء، چمڑہ چورنگی بلمقابل نیشنل آئل ریفائنری پہنچتا۔ وہاں سے کوئی ایک میل کی دوری پر میرا دفتر تھا۔ تیز تیز قدم چلتا دفتر پہنچتا۔ پھر شام پانچ بجے وہاں سے نکلتا تو بخدا سچ کہہ رہا ہوں روز ایک میل دوڑتا ہوا بس اسٹاپ پہنچتا۔ بسوں کے پائیدانوں پر لٹک کر صدر پہنچتا۔ میرا کالج ناظمِ آباد کے مشہور بس اسٹاپ انکوائیری آفس پر تھا۔ سو میں جب صدر میں بس سے اُترتا تو پھر دوڑ کر ناظم آباد جانے والی بسوں کی قطار میں کھڑی اولین بس پر سوار ہوجاتا۔ یوں بھاگ ڈور کر کبھی چھے بجے تو کبھی ساڑھے چھے بجے تک پہنچ پاتا۔ زرا آپ چشمِ تصور میں لائیں۔ میرے ہم جماعتی بیشتر مجھے جیسے ہی تھے۔ دن میں ملازمت اور شام میں پڑھائی۔ شام کا وقت ہے۔ زرد زرد بلبوں کی اداس روشنی کالج کی عمارت اور کمرہِ جماعت میں پھیلی ہوئی ہیں اور اُن کمروں میں دن بھر کے تھکے ہارے لڑکے پروفیسروں کا لیکچیر سُنتے ہوئے اونگھ رہے ہیں۔ دفتر میں ایک سے دو بجے کے درمیان لنچ میں جو کچھ کھایا ہوتا اور شام کو دفتر میں ملنے والے چائے کے کپ کے سواء کچھ اور پیٹ میں نا ہو تو بھلا کس کم بخت کو شرارت سوجھ سکتی ہے۔ ہاں البتہ اکثر یوں ہوتا کہ کوئی پروفیسر صاحب غیرحاضر ہیں تو سارے لڑکے گروپ بنا کر جمع ہوجاتے۔ ہماری کلاس میں دو دوست تھے۔ دنوں ایک ساتھ ہی بیٹھا کرتے تھے۔مجھے اُن کا نام تو اب یاد نہیں رہا۔ اُن میں سے ایک کی آواز بہت اچھی تھی۔ وہ اکثر فلم "زمین" میں مہدی حسن کا گایا یہ گیت گا کر سب کو سُنایا کرتا۔ شکوہ نا کر گلہ نا کر یہ دنیا ہے پیارے یہاں غم کے مارے تڑپتے رہیں گے اور دوسرا لڑکا بینچ پر اُس کے ہمراہ طبلے پر سنگت دے رہا ہوتا۔ سارے لڑکے بڑے ہی اہنماک اور دلچسپی کے ساتھ اُن کا گانا سُنتے۔ اور ہاں۔ ہمارے کالج کے اطراف میں کئی سنیما گھر تھے۔ ہمارے کالج کے عین پیچھے "نایاب"، تھوڑا اور آگے جائیں تو "ریلیکس" اور پھر اُس سے آگے ہمدرد دواخانہ کی فیکڑی کے پاس ہی "شالمیار" سنیما ہوا کرتے تھے۔ کالج کے عین سامنے والی بڑی شاہراہ کو کراس کر کے زرا آگے چوراہا جو پڑول پمپ چورنگی کہلاتی ہے سے سیدھے ہاتھ کو مڑ کر لیاقت آباد بلمعروف العام لالو کھیت کی طرف جائیں تو زرا ہی آگے دو اور سنیما گھر آتے تھے "امبر" اور "گیلیکسی"۔ تو صاحب، جب کبھی کسی دن ایسا ہوتا کہ مشکل مضامین کے پروفیسر صاحبان نا آتے اور بقیہ پریڈ آسان مضامین کے ہوتے تو ہم دو چار لڑکے اطراف میں پھیلے سنیما گھروں میں سے کسی میں لگی کوئی اچھی سی فلم دیکھنے کو نکل پڑتے۔ تو صاحب اگر آپ اِسے شرارت کے زمرے میں گردانتے ہیں تو بس یہی وہ شرارت ہے جو کالج کے دنوں میں افورڈ کرسکتا تھا تو کبھی کبھار کرلیا کرتا تھا۔

سوال۔۔۔۔۔۔ امریکہ میں تگ و دو بھی رھی ہوگی کچھ اس کا احوال بھی بتائے.امریکن قوم کا رویہ مجموعی طور پر کیسا ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔ پہلے میں سوال کے دوسرے حصے کا جواب دوں گا۔ امریکی ایک بہت ہی فراخ دل اور مثبت طرزِ عمل (ُPositive Attitude) کی حامل قوم ہے۔ دیکھیں قوم فرد سے بنتی ہے۔ میں نے امریکیوں کو عمومی طور پر بحیثیت ایک فرد بےحد زمہ دارانہ رویہ کا حامل پایا ہے۔ کہاں جاتا ہے کہ اگر کسی قوم کا رویہ سمجھنا ہو تو اُس کی ٹریفک کے نظام کا مطالعہ کریں ۔یہاں کا ٹریفک بحیثیتِ مجموعی جس نظمِ صبط، پابندیِ قانون، احساسِ زمہ داری، تحمل مزاجی اور راستے کے حق کی ادائیگی کا مظاہرہ بدرجہِ اتم کرتا ہے وہی ساری کی ساری خُوبیاں آپ مجموعی طور پر امریکی عوام میں پائیں گے۔ متشنیات تو ہر جگہ ہوتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اپنی جنم بھومی سے دور رھ کر انسان وہاں کے در و دیوار، رشتوں اور اپنی زات سے وابستہ دیگر چیزوں کو بہت مس کرتا ہے (پڑھیں میرا افسانہ "دل ایسے شہر کے ویران ہونے کا منظر) مگر میں یہ بات بھی بڑی ہی دیانتداری کے ساتھ عرض کررہا ہوں کہ روزِ اول سے لیکر تاحال مجھے یہاں اپنے دیسی لوگوں (پاکستانی و ہندوستانی) کے رویہ سے پردیسی ہونے کا احساس ہوا تو ہوا ہو مگر بخدا یہاں کے مقامی لوگوں سے کبھی بھی یہ احساس اجاگر نہیں ہوا کہ میں کہیں باہر سے آیا ہوا کوئی پردیسی ہوں۔ مجھے یہاں کے 99 فیصد لوگوں کے برتاؤ سے ہمیشہ یہ ہی محسوس ہوا ہے کہ میں بھی ان ہی کے حیسا ایک عام شہری ہوں۔ بحیثتِ مجموعی امریکی عوام مساوات، انصاف اور قانون پسند، خوددار، محنت کی عظمت کو ماننے والے، محنت کرنے والوں کی عزت و تکریم کرنے والی صبرو تحمل، جرم سے نفرت کرنے، اپنے حق کے لیئے آواز اُٹھانے، جھوٹ سے نفرت اور ایک دوسرے کی بروقت مدد کرنے والی قوم ہے۔ بفصلِ خدا جتنا فخر مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر ہے اُنتا ہی فخر مجھے اِس قوم کا حصہ ہونے پر بھی ہے۔ اب آتے ہیں سوال کے دوسرے حصے کی جانب: یوں تو یہ سارا کا سارا سفر ہی تک و دو پر مشتمل ہے۔ روزاول سے طویل اوقات کار کے سامنا رہا ہے اور کم وبیش اب بھی ہے۔ اِس بات سے اندازہ لگائیں کہ میں اپنے کام کے لیئے کوئی تقریباً جو صبح 9 بجے نکلتا ہوں تو رات 10 بجے میری واپسی ہوتی ہے۔ مجھے ہر روز 40-45 میل یک طرفہ سفر اور مشتریکہ 80 - 90 میل (130 - 145 کلومیڑ دو طرفہ) سفر تو صرف کام پر آنے جانے کے لیئے کرنا پڑتا ہے۔ خیر یہ تو اب روز کا معمول ٹہرا۔ تک و دو کے واقعات تو اِس قدر ہیں کہ اگر لکھنے بیٹھ جاؤں تو ایک طویل دفتر درکار ہوگا۔ ایک واقعہ پیش کیئے دیتا ہوں۔ میں اُس وقت امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک بہت ہی چھوٹے سے ساحلی و سیاحتی قصبے ڈےٹونابیچ میں بلسلسلہ ملازمت مقیم تھا۔ ٹھیک دو سال بعد ایک روز اچانک بناء پیشگی اطلاع میری جاب چھوٹ گئی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ وہ قصبہ جہاں صرف تین چار پاکستانی و انڈین خاندان ہی آباد تھے کہ جنھیں ہم جانتے تھے۔ یوں اچانک بے روزگار ہوجانے سے ہم کم و بیش بےیار و مددگار سے ہی ہوگئے۔ اِدھر اُدھر فون گھمائے تو کسی نے اٹلانٹا جو کہ وہاں سے کوئی 450 میل دور تھا وہاں آکر نئی ملازمت تلاش کرنے کا مشورہ دیا۔ اُس چھوٹے سے قصبے میں کوئی ملازمت ملنے کا کوئی امکان نا تھا۔ میرے بچے اُس وقت بہت چھوٹے تھے اور مقامی اسکول میں پڑھتے تھے۔ بناء ملازمت کسی دوسرے شہر یوں منتقل ہوجانا بھی آسان نا تھا۔ بیگم سے صلاح مشورے کے بعد میں نے اٹلانٹا قسمت آزمائی کے لیئے جانے کا فیصلہ کر تو کرلیا مگر یہ کون جانتا تھا کہ وہاں کتنے عرصے میں مجھے نئی ملازمت ملتی ہے۔ میری فیملی کو امریکا آئے دو سال گزرے تھے۔ میری بیگم اُس وقت تک ڈرائیو بھی نہیں کرتی تھیں۔ بغیر ڈرائیو کیئے آپ یہاں کے روزمرہ کے معمولات کسی طور سر انجام نہیں دے سکتے۔ پھر بھی اُس کے حوصلہ دلانے پر میں اُنہیں وہاں اللہ کے بھروسے بالکل تنہا چھوڑ کر اٹلانٹا روانہ ہوگیا اور وئی ایک ماہ وہاں رہا اِس دوران کچھ روز اِدھر اُدھر کام بھی کیا مگر بات نا بنی اور کوئی مناسب جاب نا مل سکی۔ اُس ایک ماہ کے دوران میں وہ سب وہاں اکیلے ایک ایسے قبصے میں تنِ تنہا رہے جہاں تا تو کوئی جان پہچان والا تھا اور نا ہی کوئی مددگار۔ میری بیگم کو گھر کا سودا سلف اور دودھ وغیرہ لینے کے لیئے بچوں کو گھر چھوڑ کر دور تک پیدل چل کرجانا پڑتا۔ ْقصہ المختصر مجھے جاب تو نا ملی مگر کچھ حوصلہ اور امید ضرور تھی کہ یہاں جاب آج نہیں تو کل مل ہی جائے گی۔ بیگم کے مشورے سے میں واپس آیا اور ہم سب نے مستقل طور پر اٹلانٹا جانے کے لیئے بوریا بستر باندھ لیا۔ خُدا کا کرنا کیا ہوا کہ اٹلانٹا واپس آنے کے پندرہ روز بعد ہی مجھے ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ مگر اِس سارے بیروزگاری کے عرصے میں کوئی آمدنی نا ہونے اور آنے جانے کے اخراجات اور گھر کے سامان کی منتقلی کے چکر میں ساری کی ساری بچائی ہوئی جمع پونجی ختم ہو گئی اور پلے کچھ نا رہا۔ ڈےٹونابیچ سے اٹلانٹا کے سفر کے دوران میری بیٹی ایمان سارا راستہ اپنے اِسکول اور اُسکول کی سہلیوں کی یاد کر کے روتی رہی اور ہمیں بھی رُلاتی رہی۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ ملازمت مل چکی تھی تو بس اللہ کا نام لے کر نئے شہر میں پھر نئے سرے سے گھر گرہستی کا آغاز کیا۔ آج بھِی میں اور میری بیگم اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں تو کچھ دیر کے لیئے اداس ہوجاتے ہیں۔

سوال۔۔۔۔۔۔ آپ کے ھم عصر ادیبوں میں اس وقت کون کون اچھا لکھ رھا ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔ ہم عصروں میں سبین علی، شاہین کاظمی، نور العین ساحرہ، غزالہ پرویز، فریحہ ارشد، سلمیٰ جیلانی اور طلعت زہرا انجم قدوائی، افشاں ملک معراج رسول رانا ، داکٹر نگہت نسیم وغیرہ۔ جبکہ سنیئرز میں ان دنوں جناب نعیم بیگ ، جناب پیغام آفاقی ،محترم اقبال حسن اور اقبال حسن آزاد بھی بہت اچھا لکھتے ہیں۔ مجھے آزاد صاحب کا افسانہ "پورٹریٹ" بے حد پسند ہیں۔ دیکھیں یہ کوئی حتمی فہرست نہیں۔ اب اِس وقت آپ نے مجھ سے سوال کیا تو فوری طور پر یہی نام ذہن میں اُبھر رہیے ہیں۔

سوال۔۔۔۔۔۔ محبتوں کا موسم آپ پر بھی گزرا ھوگا . اس کی دھوپ اور چھاؤں پر آپ کے جزبات کیا ہیں ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ جی اعظم بھائی کون ہوگا کہ جو اِن موسموں کی دسترس سے محفوظ رہا ہوں۔ سو بلاشبہ مجھے پر بھی یہ موسم گزرے اور اُس کی دھوپ چھاؤں کو میں نے بھی یوں ہی محسوس کیا جسے کوئی بھی احساس انسان محسوس کرسکتا ہے۔ مگر کچھ یوں ہے کہ ہمارے یہاں عموما محبت کو ایک خاص بلکہ محدود معنوں میں ہی لیا جاتا ہے۔ کیا محبت صرف وہی ہوتی ہے جو ایک لڑکا کسی لڑکی سے کرے؟ تو پھر وہ کیا ہوتا ہے جو ایک ماں اور باپ اپنے بیٹے، ایک بہن اپنے بھائی، ایک انسان اپنے شہر اور ملک سے کرتا ہے۔ کیا وہ محبت کے زمرے میں نہیں آتی؟ لڑکپن اور نوعمری کے کرش کا شکار شاید ہی کوئی ہو جو نا ہوا ہو سو میں بھی ہوا۔ البتہ معاملات سدا وہیں تک ہی رہے۔ دراصل آپ نے چچا غالب کا وہ شعر تو ضرور سُن رکھا ہوگا۔ بقول چچا جان جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے تو صاحب تصورِ جاناں کے لیئے فرصت اولین سطر ٹہری، درست۔ تو جناب، آپ نے اپنے گذشتہ سوالات کے جوابات سے یہ تو بخوبی جان لیا ہوگا کہ مجھے لڑکپن میں کتنی فرصت مل سکی تھی کہ میں تصورِ حاناں میں غلطاں و پیچاں رہتا۔ سو میں نے اپنی مصروفیات، کتابوں، لکھنے لکھانے اور فلموں سے محبت کرلی تھی۔ پھر ایک روز یوں ہوا کہ اپنے فلیٹ کے اُویر والے فلیٹ میں رہتی ایک معصوم صُورت لڑکی دل کو بھا گئی سو اللہ کے کرم سے وہی آپ کی بھابھی بنیں۔ smile emoticon

سوال۔۔۔۔۔۔ ادب میں نظریہ "نجات پسندی" پر آپ کی کیا رائے ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔ واہ صاحب کیا سوال کیا ہے۔ آپ کا یہ سوال سن کر مجھے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ ماسٹر صاحب نے کلاس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "بتاؤ سومنات کا مندر کس نے توڑا؟" ساری کلاس کو سانپ سونکھ گیا۔ ماسٹر صاحب نے ایک لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "ہاں بیٹا سلیم تم بتاؤ، سومنات کا مندر کس نے توڑا" لڑکا تھر تھر کانپتا ہوا اپنی جگہ سے اُٹھا اور بولا۔ "ماسٹر صاحب، قسم لے لے جو میں نے توڑا ہو۔ قسم اللہ پاک کی میں نے تو اُسے دیکھا تک نہیں۔ یہ شاھد ہمیشہ کچھ نا کچھ ٹوڑتا رہتا ہے، ضرور اِسی نے توڑا ہوگا" اعظم بھائی جی تو چاہ رہا ہے کہ میں بھی کچھ اسی قسم کا جواب دے دوں۔ مگر کیا کروں کہ سچ بولنے پر مجبور ہوں کہ قسم لے لیں کہ کبھی خُواب میں بھی قسم کے کسی نظریے کا نام بھی سُنا ہو۔ اللہ قسم ہم نے تو ایک ہی نظریہء سُنا ہے، نظریہءپاکستان۔ بحرحال مذاق برطرف۔ اعظم بھائی، یہ سچ ہے کہ میں کچھ ٹوٹے پھوٹے افسانے لکھ لیا کرتا ہوں۔ مگر میں نے اپنا کوئی ایک افسانہ بھی کسی قسم کے نظریئے کو ذہن میں رکھ کر نہیں لکھا اور نا ہی میں ان نظریات سے کچھ خاص واقفیت ہی رکھتا ہوں۔ میرے لیئے تو افسانہ لکھنا اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب مجھے کسی افسانوی خیال کی آمد ہوتی ہے اور میں اُس خیال کو اپنے ذہن کی ہانڈی میں کئی روز تک پکنے کے لیئے رکھ چھوڑتا ہوں۔ پھر جب جی چاہتا ہے لکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔ باقی اللہ اللہ خیر صلا۔

سوال۔۔۔۔۔۔ اب تک کتنے افسانے لکھ چکے ہیں. کیا کتاب بھی آنے والی ھے؟ ناول بھی لکھیں گے؟

جواب۔۔۔۔۔۔ اب تک پینتس افسانےکے علاوہ ایک درجن سے زائد انشائیے تحریر کرچکا ہوں۔ ماشاءاللہ افسانوں اور انشائیوں کی تعداد اور حجم تو اِس قدر ہوچکا ہے کہ کم و بیش تین چار مجموعے تو ضرور شائع ہوسکتے ہیں۔ مگر اب تک ہمت نہیں ہوئی کہ اپنی کتاب چھپواؤں۔ دو برس قبل سوچا۔ مگر پھر صورتحال دیکھ کر ہتھیار پھینک دیئے گذشتہ دنوں جب کراچی گیا تو اِس حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی۔ سو ان دنوں میں اپنے 12 افسانوں کے مجموعے پر کام کررہا ہوں۔ افسانے منتخب کرلیئے ہیں۔ اُن کی نُوک پلک سنوارنے میں مصروف ہوں مگر میری بےپناہ منصبی، نجی و زاتی مصروفیات کے سبب کام کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے۔ دیکھِیں کیا ہوتا ہے۔ مگر چونکہ کام شروع کردیا ہے تو امید ہے کہ دیر سویر کچھ مثبت صورت انشاءاللہ ضرور سامنے آ ہی جائے گی۔ ناول لکھوں گا؟ جی جناب، ضرور لکھوں گا۔ میرے افسانوں میں جزیات نگاری کو دیکھتے ہوئے مجھے اکثر دوست ناول نگاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ زاتی طور پر میں خود کو ناول نگاری کے لیِئے آمادہ تو ضرور پاتا ہوں۔ مگر وہی پھر وہی مسئلہ وقت کا درپیش ہے۔ آپ یقین مانئیے کہ میں افسانہ لکھنے سے بھی وقت کی کمی کے سبب گھبراتا ہوں۔ اکثر مجھے ایک افسانہ مکمل کرتے کرتے کئی کئی ماہ تک لگ جاتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ جیسے ہی مجھے کسی افسانے کے حوالے سے خیال کی آمد ہوتی ہے تو مجھے اُسے ذہن میں یا کہیں دو ایک لائینوں میں لکھ کر رکھ لیتا ہوں۔ پھر مسلسل اُس پر سوچ کر افسانے کی آؤٹ لائن بنا لیتا ہوں۔ پھر جیسے جیسے وقت ملتا جاتا ہے ویسے ویسے تھوڑا تھوڑا کر کے لکھا لیتا ہوں۔ کھی دو سطر تو کبھی دو پیراگراف۔ پھر چند کہیں جا کر دو ہفتوں میں تو کبھی ایک ماہ میں افسانہ مکمل ہوتا ہے۔ پھر متعدد بار پڑھ کر اُسے بہتر سے بہتر کرنے کی اپنی سی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اب ایسا بھی نہیں میں نے ایک نشست میں کبھی افسانہ نہیں لکھا۔ لکھا ہے اور کئی لکھے ہیں۔ میرا معروف افسانہ "گڑ کی ڈلی" اور "ہم صُورت گر کچھ خوابوں کے"، "چاکِ زندگی کا رفوگر" وغیرہ جیسے افسانے فقط ایک ہی نشست میں لکھے گئے افسانے ہیں۔ مگر عموما میری شدید گوناگوں مصروفیات مجھے ایک ہی نشست میں سارے کا سارا افسانہ لکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں فی الحال ناول نہیں لکھ رہا۔ انشاءاللہ جب اللہ نے وقت اور ہمت عطا کی تو یہ بھی ضرور ہوگا۔

سوال۔۔۔۔۔۔ اے حمید پر آپ نے بہت عمدہ لکھا . ان کی کون سی تحریریں آپ کو زیادہ اچھی لگیں ؟

جواب ۔۔۔۔۔۔ واہ صاحب اے حمید کی تحریروں کی تو کیا بات ہے۔ بچپن اور لڑکپن میں یوں تو سب کو پڑھا مگر اے حمید اور ابنِ صفی کو تو جیسے گھول کر پی گیا۔ مجھے یہ دونوں اب بھی بہت ہی پسند ہیں۔ ابنِ صفی کی تصانیف کو کو ہمارے ناقدین عموماً ادبِ عالیہ میں شمار نہیں کرتے جو کہ بلاشبہ اِس عظیم مصنف کے ساتھ روا رکھی گئی ایک درینہ نا انصافی ہے۔ مگر اب بفصلِ خدا اِس ناانصافی کی تلافی ہورہی ہے۔ ان دنوں پاکستان اور ہندوستان میں جس قدر تحقیقی کام اِن پر ہورہا ہے وہ قابلِ تعریف ہے اور بظور خاص ہندوستان میں تو ابنِ صفی پر جس قدر کام کیا جارہا ہے۔ ایم فل، ڈاکٹریٹ کے مقالے وغیرہ لکھے جارہے ہیں اور ہندوستان بھر کی یونیورسٹیوں میں جو سیمینار اور کانفرنیسیں منعقد کی جارہی ہے جو بے حد حوصلہ افراء ہیں۔ پاکستان میں اِس حوالے سے ابھی اتنا اچھا اور زیادہ کام نہیں ہورہا ہے جتان کہ ہونا چاہیے مگر کراچی کے ایک نوجوان راشد اشرف گذشتہ چند برسوں سے ابنِ صفی پر جو کام کررہے ہیں وہ قابلِ تعریف ہے اے حمید کے بارے منٹو نے کہا تھا۔ ۔’’اےحمید تم بکواسی ہو، کھمبے کو دیکھ کر بھی رومانٹک ہوجاتے ہو‘‘۔ اور مجھ ناچیز کا کہنا ہے کہ۔ ۔’’اے حمید کی کتابیں پڑھکر تو کوئی کھمبہ بھی رومانٹک ہو جائے‘‘۔ اے حمید کے افسانے، ناول اور سفر نامے میرے لیئے اپنے اندر ایک جادوئی سی کیفیت رکھتے ہیں۔ اے حمید ایک جادوی حد تک رومانویت پسند ادیب تھے۔ اُن کے یہاں پُھولوں، خوشبوں، تتلیوں، خوش رنگ پرندوں، ابلتی چائے کی بھاپ اڑاتے اور خوشبو بکھرتے سماوار، رنگون و برما کی گرجتی برستی ہوئی بارشوں میں درختوں کی گھنی شاخوں سے چھتی ہوئی گلیوں اور گھنے جنگلات کے رومان انگیز تزکرے، عالمی جنگوں کے کنیوس پر بکھریں رومانچک داستانیں اور دیس بدیس کی حسیناؤں کے حسین احوال، لاہور و امرتسر کی گلیوں کے اثرانگیز قصے وہ اپنے جادو اثر قلم سے تخلیق کرکے اُن میں اپنے مخصوص رومان انگیز اسلوب کی چاشنی گھول کر اپنے قاری کو ایک ایسے منفرد رنگ و نور اور آھنگ سے روشناس کرواتے ہیں کہ جو اسے کسی خوابناک جہانِ دیگر کی سیر کرواتا ہے اور اس پر اس جہان ِنو کے وہ وہ نہاں دریچے وا ہوتے چلے جاتے ہیں جو پھر زیست کے ہر لمحہ و لحضہ ان کے قارئین احساسات میں اُس کے دوش بدوش رھ کر زوقِ جمالیات کو مہمیز بخش کر ذندگی اور اس کی رنگینیوں اور اس رنگ برنگی دنیا جہاں ہر قدم پر نت نئے پھول، خوشبو، تتلیاں، رنگ برنگے پرندے، روح میں اترتی بارشیں اور نا جانے کیا کچھ اور موجود ہیں، سے لطف اٹھانے اور ان مین اپنی زات کو تیاگنے کا فن و ہنر سکھاتے چلے جاتے ہیں۔ اے حمید کے یوں تو بے شمار ناول ہیں مگر اُن کا اولین ناول "ڈربے" بلاشبہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اے حمید چند سال امریکا بھی رہے اور انہوں نے امریکا میں اپنے قیام پر "امریکانو" کے نام سے بے حد شاندار سفر نامہ لکھا ہے جو سفرنامہ ہوتے ہوئے بھی کسی ناول سے کم نہیں۔ علاوہ ازیں مجھے اُن کے روزنامہ نوائے وقت میں شائع شدہ کالموں کے مجموعے جو کہ انہوں نے پرانے لاہور کے حوالے سے لکھے بے حد پسند ہے۔ جیسکہ "لاہور لاہور ہے" وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے شخصی خاکے بھی بہت کمال کے لکھے۔ مجھے اُن کا لکھا ناصر کاظمی پر خاکہ جو کہ اُں کے بہت گہرے دوست تھے بے حد پسند ہے۔ اللہ اُن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین۔

سوال۔۔۔۔۔۔ خوابوں کے بند دروازے آپ کا افسانہ بے حد مقبول ہوا.اس افسانے میں آپ نفسیات کی گھتیاں سلجھاتے نظر آتے ہیں. نفسیات کا اتنی باریک بینی سے استعمال آپ کا ماھر نفسیات ہونے کا پتہ دیتے ہیں.کیا آپ نے اس میں کچھ تعلیم حاصل کی ھے؟

جواب۔۔۔۔۔۔ جی نا تو میں کوئی ماہرِنفسیات ہوں اور نا ہی میں نے اِس مضمون میں کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے۔ ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ مجھے شروع سے ہی نفسیات کے موضوع سے بہت گہری دلچسپی رہی ہے، سو میں نفسیات کے موضوع پر اگر کوئی کتاب ہاتھ لگ جائے یا کوئی اچھی فلم دیکھنے کو مل جائے تو میں وہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ کچھ عرصہ قبل میں یہاں ایک لائبریری میں گیا تو مجھے نفسیات اور خوابوں کے حوالے سے ایک کتاب کی آڈیو سی ڈی نظر آئی۔ چونکہ یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے تو میں نے وہ آڈیو سی ڈی اپنے نام جاری کروا لی اور اُسے روز اپنے جاب پر آتے جاتے جو کہ کوئی دو گھنٹے کا سفر بنتا ہے سُننا شروع کردیا۔ وہ کتاب ان دنوں امریکی یونیوورسٹیوں میں خواب کے نفسیاتی پہلو پر ہونے والی جدید تحقیات کے حوالے سے تھی اور مجھے اس افسانے کو لکھنے کا خیال اُسی کتاب کو سُںنے کے دوران آیا- افسانے کے لیئے ایک مدھم سا آئیڈیا تو مجھے مل گیا اور پھر میں نے اُس آئیڈیا کو ایک کہانی میں پرو کر اپنے پڑھنے والوں کے سامنے پیش کردیا۔ خود مجھے بھی زاتی طور پر اپنا یہ افسانہ بے حد پسند ہے اور مجھے خوشی ہوئی کہ یہ افسانہ قارئین کو بھی بہت پسند آیا۔

سوال۔۔۔۔۔۔ امین بھائی میں آپ کا فین بھی ہوں آپ کے افسانے لکھنے کا انداز متاثر کن ھے یہ سچ ھے کہ آپ کی افسانے پر بہت گرفت ہوتی ہے اور آپ بہت ہوم ورک کے ساتھ لکھتے ہیں. کیا لکھنا آپ کا عشق ھے ؟

جواب۔۔۔۔۔۔ جی بالکل درست فرمایا آپ نے۔ میں بہت سوچ سمجھ اور اپنے ہر افسانے کو پورا پورا وقت دیکر افسانہ لکھنے کا حامی ہوں۔ میرا ہر افسانہ میں خوب ہوم ورک کر کے اور سوچ سمجھ کر لکھنا پسند کرتا ہوں۔ میرا ایک افسانہ ہے "خلا"۔ یہ افسانے میں نے کوئی سال بھر سے بھی زائد مدت میں لکھا۔ ہوا یوں کہ ایک روز یہاں ایک خاتون جو کہ بے حد فربہ اور حفظِ صحت کے اصولوں پر عمل نا کرنے کے سبب اُن سے بُو آ رہی تھی، ایک ہیرے کی نہایت ہی قیمتی انگوٹھی اپنی اگلی میں پہنے اتراتے ہوئے فرما رہی تھیں۔ "میں اِس ہیرے کی انگوٹھی میں کتنی حسین لگ رہی ہوں" یہ جملہ سُن کر میں چونک گیا۔ وہ خاتوں فربہی کی آخری حدود کو چُھو رہی تھی اورغالباً سست الوجود ہونے کے سبب عید کے عید نہانے کے محاورے پر ایمان رکھتی ہوں گی جس کے سبب اُس سے بدبو کے بھبھکے اُٹھ رہے تھے۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر وہ کیا وجہ یا وحوہات ہوسکتی ہیں کہ اِس کو اپنا یہ تھل تھل کرتا وجود اور اُس سے اُٹھتی بدبو محسوس نہیں ہورہی اور فقط ایک ہیرے کی انگوٹھی سے خود کو حسینہِ عالم تصور کررہی ہیں۔ یہ جملہ میرے ذہن میں کوئی سال بھر گونجتا رہا۔ ایک روز اچانک جب میں اِس جملے پر غور کررہا تھا ایک لفظ میرے ذہن میں گونجا "خلا"۔ اُسی وقت مجھے اپنے سارے سوالات کا جواب مل گیا۔ اب میں نے اُن خاتوں کے بولے فقط ایک جملے اور میرے ذہن میں آئے فقط ایک لفظ "خلا" کے اردگرد ایک کہانی بُننا شروع کردی اور مذید کوئی چھ ماہ بعد ایک کہانی وجود میں آئی جسے کم و بیش تمام ہی پڑھنے والوں نے بے حد پسند کی۔ اب لکھنے میں مجھے جو وقت لگا یا عموماً لگتا ہے اُس میں زیادہ تر ہاتھ میری عدیم الفرصتی کا بھی ہے

سوال۔۔۔۔۔۔ بھاٹی گیٹ کا روبن گھوش فن افسانہ نگاری کا ایک شاھکار افسانہ ھے. موسیقی کی جتنی باریک بینیاں آپ نے بیان کی ہیں لگتا ھے کہ افسانہ لکھنے سے پہلے آپ نے فن موسیقی کی باقاعدہ تعلیم لی ہے. اور یہ بھی کہ جیسے آپ عرصہ تک لاھور رھے ہیں .یہاں کی زبان اور ثقافت کی بھی خوب عکاسی کی.

جواب۔۔۔۔۔۔ یہ تو ایک سوال میں متعدد سوالات ہیں۔ میں نکتہ وار سب کے حوابات گوش گزار کرنے کو کوشش کرتا ہوں ۔ موسیقی کے حوالے سے عرض کرتا چلوں کہ مجھے موسیقی سے بے پناہ لگاؤ ہے۔ جیسے ہوش سنبھالتے ہی کتابوں سے واستہ پڑا ویسے ہی ہمارے گھر میں موسیقی کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔ ابو مرحوم موسیقی کے بے پناہ دلدادہ تھے۔ میں نے اپنے گھر میں ہر وقت دن ہو یا رات ریڈیو بحتے سُنا اور بالکل چھوٹی عمر سے ہی ہر طرح کا گیت و سنگیت ایک لوری کی طرح سے میرے کان میں پڑا۔ جوں جوں بڑا ہوتا گیا یہ عشق بڑھتا چلا گیا۔ چھوٹی عمر سے موسیقی سُنتے سُنتے مجھ میں یہ عادت پیدا ہوگئی کہ میں گیت سُنتے وقت بہت دھیان دیا کرتا کہ کون کون سے ساز ساتھ بج رہے ہیں۔ مجھے ستار، پیانو ،بانسری، گٹار، وائلن، شہنائی اور جلترنگ کے ساز اور اُن کی آواز بہت ہانٹ کرتے تھے اور اب بھِی اُسی شدت سے کرتے ہیں۔ اب بھی میرا حال یہ ہے کہ جب میں کوئی گیت سُنتا ہو تو جتنا میرا دھیان گیت یا غزل کے بولوں پر ہوتا ہے اُتنی ہی توجہ اُس میں بجتے سازوں پر ہوتی ہے۔ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ کس گیت پر کس مقام پر کونسا ساز بجے گا۔ سو میرا یہی شوق مجھے اِس افسانے میں کام آیا۔ لڑکپن میں ستار سیکھنے کا شوق چرایا مگر اتنی استطاعت نا تھی کہ یہ شوق پورا کرسکوں۔ 1987 میں ایک دوست کے ہمراہ لاہور کی سیر کا پروگرام بن گیا۔ اِس پہلے والد صاحب کے ساتھ غالباً 1985 میں بھی لاہور گیا تھا۔ مگر یہ میرا اپنے دوست کے ساتھ اکیلا گھومنے پھرنے کا ارادتاً بنایا گیا پروگرام تھا۔ خیر ایک روز وہاں روزنامہ جنگ لاہور میں الحمرہ آرٹس کونسل کا اشہتار دیکھ کر اپنا دل مسوس کر رھ گیا۔ وہاں ستار کی تعلیم ماہانہ 5 روپے کی فیس پر دی جارہی تھی۔ مگر چونکہ ہم تو چند روز کے لیئے وہاں گھونے آئے تھے بھلا ستار کیسے سیکھ سکتے تھے۔ سو جیسے ہی کراچی واپس آئے تو میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کراچی آرٹس کونسل کا چکر لگایا کہ شاید بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ جائے۔ مگر کراچی میں ایسا کوئی پروگرام نہیں ہورہا تھا اور نا ہی کبھی آئیندہ ہوا۔ سو دل کے ارماں آنسو میں بہہ گئے۔ لاہور میرا سب سے پسندیدہ ترین شہر ہے۔ سمجھیں کہ ڈریم سٹی۔ مجھے لاہور کی مخصوص فضاء، اُس کے رومان پرور باغات، پرُاسرار سی تاریخی عمارات اور بطور خاص اندورن شہر کا علاقہ بے حد پسند ہے۔ لاہور میں کچھ خاص وقت تو نہیں گزرا ہاں البتہ تین چار بار ہفتہ بھر کے لیئے سیر کرنے کو ضرور گیا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ پی ٹی وی سے جب کبھی لاہور سینٹر کا کوئی ڈرامہ چلتا یا لاہور اور بطورِ خاص اندروں شہر پر کوئی دستاویزی پروگرام نشر کیا جاتا تو میں بہت شوق سے دیکھتا اور مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں کسی الف لیلویٰ شہر کے مناظر دیکھ رہا ہوں۔ سو لاہور سے ایک خاص قلبی بلکہ سچ پوچھیں تو روحانی سا تعلق اور لگاؤ ہے جس نے مجھ سے یہ افسانہ لکھوایا اور مجھے یہ افسانہ اپنے سارے افسانوں میں بے حد زیادہ پسند ہے۔ باقی رہی بات زبان و تقافت کی تو مجھے یوں تو پاکستان بھر کے علاقائی لہجے نا صرف بے حد میٹھے اور دل کو چھوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور میں جب بھی کسی ایسے شخص سے ملتا ہوں جو مقامی لہجے میں اُردو بول رہا ہوتا ہے میں بہت غور سے اُسے سُننے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے افسانے "گڑ کی ڈلی" میں، میں نے اُردو کے پٹھانی لہجے کو استعمال کیا جو کہ بہت پسند کیا گیا۔ اندرون شہر لاہور میں اُردو بولنے کا ایک جو خاص انداز و لہحہ جس میں 'ر' کو 'ڑ' اور 'ڑ' کو 'ر' سے بدل کر بولتے ہیں مجھے بے حد پسند ہے اور مجھے ایسی اُردو بہت میٹھی لگت�

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.