انیس رفیع



04 May, 2018 | Total Views: 226



محمد غالب نشتر

میں ایک مشتعل افسانہ نگار ہوں : انیس رفیع

دنیاے ادب میں بہت سے ایسے فن کار ہیں جنہیں شہرت کی کوئی خواہش نہیں ہوتی وہ بس ادب کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور کوئی ایسا کام کر جانے کی سوچتے ہیں جس سے اُن کا نام ادب کی دنیا میں امر ہو جاے۔انہی معدودے چند فن کاروں میں انیس رفیع کا بھی شمار ہوتا ہے۔جناب انیس رفیع کا نام افسانوی دنیا میں تعارف کا محتاج نہیں ہے۔آپ نے اردو افسانے میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے اور کئی اچھے افسانے تحریر کیے ہیں جن میں درآید ،مون،سوفاکا،وش پان کی کتھا،ذوالنون ،اب وہ اترنے والا ہے اور کرفیو سخت ہے وغیرہ کے نام خاص طور سے لیے جا سکتے ہیں ۔
آپ کا پورا نام انیس الرحمن خان ولد حاجی رفیع خان ہے۔سلیم آباد(پھُلہرا،ویشالی)ضلع حاجی پور (بہار) میں ۵ ؍جنوری ۱۹۴۵ء کو آپ کی پیدائش ہوئی۔لو ئر پرائمری تک کی تعلیم سلیم آبا د میں ہی حاصل کی ۔اس کے بعد کلکتہ منتقل ہو گئے اور وہیں سے ہائی اسکول،انٹر کیا اور بقیہ تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔۱۹۶۵ء میں مولانا آزاد کالج سے بی اے اور ۱۹۶۸ء میں کلکتہ یو نی ور سٹی سے ایم اے (سیاسیات ) کی ڈگری بھی حاصل کی ۔اس کے علاوہ قانون کی ڈگری بھی ۱۹۶۹ء میں اسی یونی ورسٹی سے حاصل کی ۔
۱۹۶۹ء میں ملازمت کی ابتدا جے ایل کالج،حاجی پور سے بہ حیثیت لکچرر کی۔جہاں انہوں نے ۱۹۷۵ء تک تدریس کی خدمات انجام دیں۔اسی اثنا جناب مظہر امام کی ایما پر یونین پبلک سروس کمیشن میں آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام ایکز یکیٹیو کے لیے امتحان دیا اور کام یاب بھی ہوے لہٰذا جون ۱۹۷۵ء میں آل انڈیا ریڈیو،گورکھ پور میں بہ حیثیت پروگرام آفیسر ،آپ کا تقرر ہوا۔گورکھ پور میں آپ ۱۹۸۰ء تک تعیینات رہے۔۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۹ء تک کلکتہ کے آل انڈیا میں اپنی خدمات انجام دیں ۔وہاں سے ۱۹۸۹ء میں آل انڈیا ریڈیو،پٹنہ چلے گئے۔۱۹۹۱ء میں دوردرشن ڈائکٹریٹ منڈی ہاؤس،نئی دہلی میں فقط ایک برس تک رہے پھر ۱۹۹۲ء میں کلکتہ دوردرشن میں اُن کا تبادلہ ہوگیا۔ ۱۹۹۷ء سے ۱۹۹۹ء تک ڈبرو گڑھ میں اور بعد ازاں مظفر پور میں ۲۰۰۳ء تک تعینات رہے۔اس کے بعد دوردرشن کلکتہ تک رہے۔۲۰۰۴ء میں سینئر ڈائکٹر ہوکے دوردرشن کوہما (ناگا لینڈ ) گئے اور ۲۰۰۵ء میں وہیں سے سبک دوش ہوے۔ریٹائر منٹ کے بعد کلکتے میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
انیس رفیع نے ساٹھ کی دہائی میں افسانہ نگاری کی ابتدا کر دی تھی جب کہ آپ کی پہلی کہانی ’’شاہ کار‘‘ شاعر،ممبئی ۱۹۶۹ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔اب تک اُن کے دو افسانوی مجموعے اشاعت سے ہم کنار ہو چکے ہیں۔پہلا افسانوی مجموعہ ’’اب وہ اترنے والا ہے ‘‘ ۱۹۸۴ء میں شائع ہوا جس میں اٹھارہ کہانیاں شامل ہیں اور دوسرا افسانوی مجموعہ ’’کرفیو سخت ہے ‘‘۲۰۰۲ء میں اشاعت سے ہم کنا ر ہوا۔جس میں بائیس کہانیاں شامل ہیں ۔افسانوں کے انتخاب سے اس بات کی وضاحت تو ہو جاتی ہے کہ آپ نے سوچ سمجھ کر،ٹھہر ٹھہر کر، استقامت کے ساتھ افسانے تخلیق کیے ہیں اور ادب کو وسیلۂ اظہار بنایا ہے،وسیلۂ معاش نہیں۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران یہ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا تھا جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ ویشالی جیسے تاریخی شہر میں آپ نے آنکھیں کھولیں ،تعلیم کے لیے کلکتے کا سفر کیا اور اعلا تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔ویشالی سے کلکتے کا سفر آپ نے کن حالات میں کیا اور لکھنے کی تر غیب کہاں سے ملی؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔ شمالی بہار کا علاقہ نیپال کی ترائی کا علاقہ ہے جو حاجی پور(ویشالی)تک پھیلا ہوا ہے۔حاجی پور گنگا تٹ پر پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔بچپن سے لے کر اب تک نہ جانے کتنی بار اس تٹ پر آیا ہوں۔یاد نہیں۔قدیم نیپالی مندر اسی تٹ پر موجود ہے۔یہ مندر Wood Carving کا بہترین نمونہ ہے۔سیاّح اسے دیکھ کر حیرت زدہ ہوتے ہیں یہیں ایک علاقہ ہے جو اَندر قلعہ کہلاتا ہے۔پہلے یہاں مغلوں کے دور کا ایک قلعہ تھا جس کے اب نشانات بھی باقی نہیں ہیں۔اندرقلعہ کے باشندے بیش تر مسلمان ہیں جو قدیمی خاندان ہیں۔اُن میں اب بھی قدیم ادب و آداب موجود ہیں مگر دھیرے دھیرے یہ تہذیبی آثار مٹتے جا رہے ہیں۔کسی زمانے میں یہاں کے رؤسا میں شعر و ادب کا ذوق و شوق تھا مگر دھیرے دھیرے ماند پڑتا گیا۔اب یہ ادبی ویرانہ ہے۔گاؤں میں اردو زبان یا شعر و ادب کا کوئی شعور نہ تھا۔بیش تر یہاں لوئر پرائمری اسکول کے فارغین تھے اور پھر اُنہی میں سے لوگ روز گار کی تلاش میں کلکتہ آتے جاتے رہے۔دھیرے دھیرے خاصے لوگ کلکتہ گئے،وہاں مستقل رہنے سہنے لگے،تعلیم حاصل کی اور پھر گاؤں آکر تعلیم کی تر غیب دینے لگے۔مڈل اسکول قایم ہوا مگر وہ بھی گاؤں سے کوسوں دور۔وہ لڑکے لڑکیاں جو کلکتہ نہ جا سکے پیدل چل چل کر اسکول آنے جانے لگے مگر بس سرٹی فیکٹ کی حد تک۔ادبی شعور اُن دنوں بھی عنقا تھا ،آج بھی عنقا ہے۔اگر میں کلکتہ نہ بلالیا جاتا تو شاید میں بھی ادب کی طرف راغب نہ ہوتا۔میرے فیملی ممبر بھی کلکتے میں ہی رہنے لگے اور تعلیم حاصل کی ۔ گاؤں میں آنا جانا بہ ہر صورت بر قرار رہا۔میٹرک کے بعد میرا داخلہ وہاں کے مشہور سرکاری کالج مولانا آزاد میں ہوگیا۔یہاں اردو آنرز کی تعلیم کا انتظام تھا چوں کہ یہ کالج آزادی سے قبل اسلامیہ کالج تھا لہٰذایہاں اردو کلچر (اردو بولنے والے مسلمان)کا بول بالا تھا۔اس زمانے میں کالی شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ طلبا کا یونی فارم تھا جو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے طرز کا تھا۔یہاں کا شعبۂ اردو علامہ وحشت کلکتوی کی قیا دت میں بڑا فعاّل تھا۔مشاعرے،بیت بازی،ڈرامے،ادبی میگزین یہاں کی ادبی Activity کا حصہ تھے اور آج بھی ہیں۔ہاں!سیمی نار کا چلن نہ تھایوں بھی کلکتے کے کالجوں میں سیمی نار کم ہی ہوا کرتا تھا۔آزادی کے بعد یہ سرگرمیاں ذرا کم ہی ہو گئی تھیں مگر اب پھر بحال ہو گئی ہیں۔خلاصۂ کلام یہ کہ گاؤں کا یہ دہقانی اگر اس کالج میں داخلہ نہ لیتا تو شاید وہ بھی اپنے اور دوستوں کی طرح کسی اور کاروبار میں ہوتا۔لکھنے لکھانے سے میری رغبت شہر کی دین ہے ،گاؤں کی نہیں۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ مقصود الٰہی شیخ کی ایما پر آپ نے رسالہ’’مخزن‘‘(لندن)کے لیے تعارفی مضمون لکھاتھا جس میں آپ نے اپنے حوالے سے یہ بات کہی تھی کہ’’میں ایک مشتعل Provoked افسانہ نگار ہوں‘‘۔آپ اس کی وضاحت فرمادیں تو مہربانی ہوگی۔
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ ’’میں ایک مشتعل افسانہ نگار ہوں‘‘ ۔در اصل اس جملے کا تعلق ایک چھوٹی سی بات سے ہے جو آج میرے لیے معمولی ہو گئی ہے۔ مولانا آزاد کالج میں میرے ایک ہم جماعت جن کو افسانے سے دل چسپی ہوگئی تھی اور اردو آنرز لے رکھا تھا۔ممبئی سے ایک ویکلی پرچہ نکلا کرتا تھا۔نام تھا ’’پایل ویکلی ‘‘۔میرے ایک دوسرے ہم جماعت دوست کی اُس کے اڈیٹر ایم ایس بٹکی سے کسی وجہ سے دوستی ہوگئی تھی۔میرے افسانہ نگار دوست ،جس کا ذکر اس مضمون میں ہے،کے توسّط سے ’’پایل ویکلی‘‘ کے آزادی نمبر میں اپنا ایک افسانہ چھپوالیا۔ساتھ ہی تصویر بھی چھپی تھی ۔خود بھی خوش تھے اور دوستوں کو بھی دکھا کر خوش کر رہے تھے تو میں نے افسانہ پڑھا اور کہا کہ اگر یہی افسانہ ہے تو آج رات بیٹھ کر دس افسانے لکھ دوں گا۔دوست نے چیلنج دے دیا۔’’لکھو تو جانیں،کہنا بڑا آسان ہے‘‘۔بس یہی Provocation تھا ،میں نے افسانہ لکھا،خاموشی سے پرچے کو روانہ کردیا۔فوراً ایڈیٹر کا ایک تعریفی جواب آیا اور کہا کہ افسانے کو بڑے اہتمام سے شائع کیا جاے گا،اپنے اور بھی افسانے روانہ کیجیے۔بس کیا تھا ،دھماکا ہوا اور وہ دھماکا ہوتا ہی گیا ،بڑی مشکل سے قابو پایا۔وقت امتحان کے پرچوں پر بھی لگانا تھا۔ایم اے کے دوسرے سال میں پھر وہی آواز سنائی دی۔افسانے آنے لگے۔سلسلہ اب بھی جاری ہے۔پچھلے پچاس برسوں میں معاشرہ بڑی تیزی سے تغیر پذیر رہا۔حالات و واقعات ہی Provocative تھے اور اب بھی ہیں۔سو افسانہ جاری ہے۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ اِن دنوں مسافرت کے حوالے سے آپ کے افسانوں پر گفت گو ہو رہی ہے۔پروفیسر صغیر افرا ہیم نے حال ہی میں دہلی کے انٹر نیشنل سیمی نار میں آپ کے افسانوں کو سفر نامے کے حوالے کے طور پر دیکھا ۔اُن کے بہ قول ’’سفر نامے میں اگر صرف واقعات و منا ظر کا بیان ہے تو وہ کام یاب سفر نامہ نہیں جب تک کہ اُس میں تحیّر،تجسّس اور کرید جیسے اوصاف شامل نہ ہوں ۔انیس رفیع کی خوبی یہ ہے کہ تأثرات کو وحدتِ تأثر میں ڈھال دینے کے ہنر سے بہ خوبی واقف ہیں ‘‘۔یہ اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ آپ اس عہد کے اہم ترین افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ پررفیسر صغیر افراہیم نے میرے افسانوں کے حوالے سے یہ نیا نکتہ دریافت کیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ملازمت کی وجہ سے اورکچھ افتادِطبع کو بھی دخل ہے شاید،مَیں مستقل تبادلے پر رہا۔کبھی اِس شہر،کبھی اُس شہر۔ریت،سمندر،پہاڑ وغیرہ جانے کیا کیا شاملِ حال رہے۔مسافرت کی سوغاتیں افسانوں کو بھی ملتی رہیں۔آپ دیکھ رہے ہیں اِن دنوں علی گڑھ آرہا ہوں۔طویل سفر اور پکنک جیسے اسفار بھی ہو رہے ہیں۔تازہ ہوائیں،ادبی مکالمے،ملاقاتیں۔تحرّک کے کتنے سامان ہیں۔جی کرتا ہے انہیں تحریر میں سمیٹ لوں۔ہو بھی رہا ہے۔آپ دیکھ رہے ہیں ۔میں نے سفر کو افسانہ بنایا۔افسانے کو سفر میں ڈھالا۔ہےئتیں بدل جاتی ہیں افسانے نہیں بدلتے۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سفر کو کہانی میں تبدیل کیا مثلاً افسانہ’’ہائی وے‘‘ اور ایک سفر نامہ جو شعر و حکمت میں شائع ہوا ہے جو ایک امیر زادی کی کہانی ہے جو محبت کے دام میں گرفتار ہوکر اپنا مذہب اور شناخت کھو دیتی ہے۔اس کو آپ نے کہانی کا پلاٹ نہ بنا کر کام یاب سفر نامے میں تبدیل کر دیا۔اس کے علاوہ اور بھی کئی افسانے ہیں جن میں ’’لاہے لاہے رفتہ رفتہ‘‘،’’گداگر سراے‘‘ اور’’ قبائلی‘‘وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔آپ کی کیا راے ہے؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ یہی کہنے جا رہاہوں۔میرٹھ کا سفر تھا۔میرٹھ سے ذرا پہلے ایک پڑاو آیا۔ایک پرانا چرچ تھا گاتھک ساخت کا۔معلوم ہوا کہ کوئی بیگم ثمرو ہیں ،وہ کسی انگریز کے عشق میں گرفتار ہویں۔وہ بھی برا بر کا گرفتار تھا۔دیکھا کہ وہ بیگم کے قدموں پر دو زانوں جھکا ہوا ہے۔بت تراش نے اس والہانہ اور نچھاور ہونے والے منظر کو سنگ مرمر میں اتار دیا ہے۔اُجلا،مکالمے کرتا ہوا مجسّمہ۔میں نے بھی سنے وہ مکالمے۔یہ چرچ،جا بہ جا نصب مجسّمے ، تصویر یں،نقش و نگار،فوٹوز،فریم،چرچ کو گھیرے ہوے پیڑ باغات،ایک بڑی اراضی۔یہ سب گفت گو کر رہے ہیں۔معلوم ہوا وہ جاگیردار عورت مسلم تھی جس نے عشق میں مذہب تبدیل کیا،کرسچن ہوگئی اور ساری املاک چرچ کو دان کر دیا۔تاج محل نے مجھے اس قدر ہانٹ نہیں کیا مگر نہ جانے یہ منظر کیوں ہانٹ کرتا رہتا ہے۔شاید اس کو ایک افسانے کا انتظار ہے۔مکالمے موجود ہیں ،بیانیہ کہنا باقی ہے،جانے کب ہو۔آپ نے جن افسانوں کا ذکر کیا بہ طورِ خاص’’لاہے لاہے رفتہ رفتہ‘‘،ہاں یہ بھی تبدیل�ئمقامکانتیجہہے۔بھائی!ابذرادملیجیے۔چاےکاوقفہبھیضروریہے۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ اردو افسانہ نگاروں میں کن کے افسانوں نے آپ کو زیادہ متاّثر کیا؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ میں متاّثر کم ہی ہوتا ہوں ہاں فن کو Appreciate ضرور کرتا ہوں۔پڑھ کر جو اچھا لگتا ہے وہ اچھا لگتا ہے۔رائٹر یا زبان کی تخصیص نہیں۔ہاں اوّلین دنوں میں کرشن چندر،ابن صفی،ایم سلیم،اے آر خاتون،رضیہ بٹ،عابد حسین،واجدہ تبسم،وہی وہانوی وغیرہ کی تخلیقات کے ساتھ مضامین اور تنقید بھی زیرِ مطالعہ رہے۔باضابطہ کتاب میں نے ’’دریاے لطافت‘‘پڑھی۔اس Phaseکے بعد غیاث احمد گدّی،کلام حیدری، جوگندرپال،وغیرہ کوپڑھا۔بعد کو سریندرپرکاش،قرۃالعین حیدر،احمد ہمیش،عبد اللہ حسین بھی داخلِ مطالعہ ہوے۔ہم عصروں اور دیگر افسانہ نگاروں کو بھی پڑھا۔لاشعوری طور پر ممکن ہے تاثّر لیا ہو مگر یہ حتمی نہیں ہے۔جو پڑھا سو پڑھا۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ آپ نے جس عہد میں لکھنے کی ابتدا کی وہ جدیدیت کا دور تھا ۔اس رجحان سے تقریباً تمام افسانہ نگا ر متأ ثر ہوے۔آپ نے اس رجحان کا کتنا اثر قبول کیا؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ جدیدیت کے حوالے سے آپ کا سوال پھر اُسی طرح کا ہے یعنی متاثّر ہونے والی بات۔میں نے جب افسانے لکھنے شروع کیے تو اس وقت میں نے افسانے تو پڑھے تھے مگر جدیدیت کے نام پہ نہیں بل کہ یہ کہوں گا کہ جو افسانہ میں نے لکھا وہ نئی قسم کی جدیدیت کے آنے کی خبر دے رہا تھا۔ہےئتی اعتبار سے علامتی اور تجرباتی اور نظریاتی نقطۂ نظر سے Neo-Left جو اُس وقت علمی Panorama میں جدید تر فکر کا حصہ تھا۔جس جدیدیت کی بات آپ کر رہے ہیںیا آپ مجھ پر لادنا چاہ رہے ہیں،ایسی جدیدیت ہر گز نہ تھی میری۔آپ ’’شب خون‘‘کے فائل میں یا دوسرے رسالوں میں پڑھ کر دیکھ لیں۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخِ ادبِ اردو‘‘میں آپ کے فن پر گفت گو کرتے ہوے چند باتیں کہی ہیں جو درج ذیل ہیں:
(الف) اُن کا دِل بہت حسّاس ہے اور شاعر کا دل ہے اِس لیے اُن کے اسلوب میں شاعرانہ قوام بہت واضح ہے۔
(ب) اُن کے افسانے Compactness کا احساس دلاتی ہیں۔

(ج) عام طور پر اُن کی کہانیاں اساطیر کی دنیا میں سانس لیتی نظر آتی ہیں اور اُن کی اساطیری فضا نئی توضیحات پیش کرتی ہیں۔
(د) انیس رفیع نے شاید ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ انہیں اپنی ڈگر سے ہٹنا چاہیے اور ابہام سے زیادہ ترسیل کی طرف توجہ دینی چاہیے لیکن اِن تمام وجوہات کے باوجود بہت اطمینان کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کے افسانے گہری عصری معنویت کے حامل ہیں ۔
مندرجہ بالا اقتباس سے آپ کس حد تک متفق ہیں؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ آپ نے ایک سوال میں کئی سوالات داغ دیے ہیں تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا تمام نکات کو واضح کیا جاے

(الف) کوئی بھی فن کار اپنے فن پارے کی تخلیق نہیں کر سکتا جب تک وہ حساس نہ ہو۔صرف شاعر کا دِل حسّاس نہیں ہوتا بل کہ افسانہ نگاروں کا دل بھی حساس ہوتا ہے۔بے حس آدمی آرٹ تخلیق نہیں کر سکتا ۔اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ پتھر خود مورتی نہیں بن سکتا ۔اُسے سنگ تراش کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت مجھے پرویز شاہدی کا یہ مصرعہ یاد آرہا ہے:
کتنے نا تراشیدہ صنم پتھروں میں کسمساتے ہیں۔
جہاں تک شاعرانہ طرزِنگارش کا تعلق ہے تو وہ فطری ہے،منصوبہ بند نہیں ۔میرے کم ہی افسانوں میں شاعرانہ ڈکشن ہے۔’’کاٹھ کے پُتلے‘‘ اس سلسلے میں قابلِ ذکر افسانہ ہے۔

(ب) پروفیسر وہاب اشرفی کا یہ ری مارکس کہ ’’انیس رفیع کے ہاں Compactness ہے،اُن کے افسانے مکمل ہوتے ہیں ‘‘۔تو یہ بات اُن کی صحیح ہے اور ظاہر ہے کہ وہ ذہین قاری ہیں اگر ان کو میرے افسانوں کے متعلق یہ احساس ہے تو اُن کی یہ محبت ہے۔

(ج) اساطیر کا استعمال مَیں نے اپنے افسانوں میں کم کم کیا ہے۔یہ عمومی نہیں ہے بل کہ افسانوں کے عنوانات ضرور ہیں جو اساطیری ہیں جیسے ’’وش پان کی کتھا‘‘،’’پتا مبر‘‘،’’ایک اور تریشنکو‘‘اور ’’قصہ کھلے سِم سِم کا‘‘وغیرہ۔ان افسانوں میں محض عنوانات اساطیری ہیں لیکن ان کے قصے بیانیہ ،غیر اساطیری اور جدید ہیں۔
(د) وہاب اشرفی صاحب کو میں بچپن سے جانتا ہوں جب وہ کلکتے میں تھے۔اُن کی ذہانت کا چرچا ہم سنا کرتے تھے۔ان دنوں وہ زندگی کی جد و جہد میں سرگرداں تھے اور امتدادِزمانہ نے انہیں بے حد حساس بنا رکھا تھا چناں چہ انہوں نے اپنی ادبی کیرئیر کا آغاز تخلیقی فن یعنی افسانہ نگاری سے کیا اور یہ ان کے گہری فکر و نظر کا نتیجہ ہے کہ انہیں میرے بیانیے میں نئی توضیحات کے موجود ہونے کا خیال آیا ورنہ میرے افسانوں کی اس جہت پر ہم عصروں کی نگاہ اب تک نہیں پڑی۔اس نئے پن کی خاص وجہ یہ تھی کہ میں نے دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں،نظریات کے ٹکراؤ اور فکری تسلسل کی اپنی تعبیرات پیش کرنے کی کوشش کی اور مجھے اس اظہار کا بہت ہی موثّر آلہ ’’افسانہ‘‘ محسوس ہوا تو نئی توضیحات شاید یہی میری اپنی نئی تعبیرات ہیں۔
میں وہاب اشرفی صاحب کے اس خیال سے متفق نہیں ہو سکتا کہ میں اپنی ڈگر سے ہٹ جاؤں۔جیسا کہ اُن کا خیال ہے کہ اپنی ڈگر سے ہٹ کر ابہام سے زیادہ ترسیل پر توجہ دوں۔یہ تو ایک طرح سے میرے آزادئ اظہار اور طریقۂ اظہار پر ایک سوالیہ نشان قایم کرتا ہے۔ایسا کہنے کا کسی بھی ناقد یا قاری کو حق تو ہے لیکن اسے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ تخلیق کار اُن کے مشورے کے عین مطابق لکھنا شروع کردے حالاں کہ اسی تاریخِ ادبِ اردو والے مضمون میں وہاب صاحب نے میرے افسانوں میں گہرے معنویت کی نشان دہی کی اور اس اطمینان کا اظہار کیا ہے جس سے ایک فن کار کی موجودگی کو تسلیم کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ آپ کے بہت سے افسانے ارضیت پسندی کی نمایاں مثالیں ہیں ۔لفظیات وغیرہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے کسی خاص عہد اور خاص علاقہ کو مدّ نظر رکھ کر افسانے تخلیق کیے ہیں ۔ایسا آپ نے دانستہ طو ر پر کیا ہے یا لکھنے کے رو میں یہ تمام تراکیب در آئی ہیں؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ میرے افسانوں میں ارضیت پسندی نمایاں ہے۔میں زمین سے جڑا ہوا افسانہ نگار ہوں ۔میرے یہاں میری مٹّی بولتی ہے۔ارضِ بنگالہ اور بہار،دونوں صوبوں کی مٹّی میرے خمیر میں ہے۔ظاہر ہے جس فضا میں مَیں نے آنکھیں کھولیں،جہاں پروان چڑھا ،شعور کی دنیا میں داخل ہوا۔وہیں کی لفظیات میری اساس ہیں۔اُسی سرماے کو مَیں نے اپنے افسانے میں اِنویسٹ کرتا ہوں تاکہ یہ ضائع نہ ہوں اور یہ بھی درست ہے کہ میرے افسانے اپنے عہد اور اپنے علاقے کو درشاتے ہیں کیوں کہ وہ لفظیات اور وہ فضا،افسانوں کو زندہ اور متحرک کرتی ہیں اور یہ بات حسّی پہلو پر بھی دالّ ہے یعنی فن کار جہاں رچتا بستا ہے ،اُس کی حسیّات بھی اسی کے زیرِ اثر تشکیل پذیر ہوتی ہیں چوں کہ مَیں نے اپنے عصر کی حسیات کو افسانوں میں برتا ہے اور اسے فن پارے کی شکل دی ہے لہٰذامیرے افسانوں میں عصری حسیّات زیادہ کار فرما ہیں۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ آپ نے تیس سال کی طویل مدّت میڈیا میں گذاری۔میڈیا کی زبان،ادبی زبان سے کچھ حد تک بل کہ مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے۔آپ نے ادبی زبان کی کس طرح سے حفا ظت کی یا ادبیت کو کیسے بحال رکھا؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ جب میں کالج سے نکل کر آل انڈیا میں ملازم ہوا تو میرے ادیب دوستوں نے اس خدشے کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’اب تم میڈیا میں جا پھنسوگے اور ادب ودب سب غایب ہو جاے گاکیوں کہ میڈیا کی زبان،ادبی زبان نہیں ہوتی،عام بول چال کی زبا ن ہوتی ہے اور تمہاری تحریر زیادہ تر میڈیا کی بول چال کی زبان میں ہوگی تو اس کا اثر تمہارے افسانے کی زبان و بیان اور معیار پر بھی پڑے گا‘‘۔تو میں نے اُن کو یہ جواب دیا کہ میرے سامنے مثال مظہر امام صاحب کی ہے جو درس و تدریس کی دنیا سے نکل کر میڈیا میں آے اور اپنی سرگرمیاں قایم رکھیں اور کام یاب بھی ہوے ۔میڈیا میں رہ کر جن تجربات و حادثات سے ادیب گذرتاہے وہ اکثر فن پارے کو تازگی اور نئی فکر بخشتا ہے۔بعض اوقات فن کی ہےئتی اور کیفیتی تبدیلی کو نہ صرف قبول کرتا ہے بل کہ نئی تبدیلی کے تجربے بھی کرتا ہے ۔مثال پھر مظہر امام صاحب کی ہے کہ انہوں نے میڈیا میں رہ کر آزاد غزل کا تجربہ کیا اور شاید یہ تجربہ میڈیا کا ہی فیض تھا ۔یہ الگ بات ہے کہ غزل کے سامنے آزاد غزل مقبول نہ ہو سکی۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سست رفتاری سے افسانے تخلیق کیے ہیں لیکن جو لکھا ہے وہ انتخاب ہے ۔ایک طویل عرصے میں آپ کے فقط دو افسانوی مجموعے منظرِعام پر آ�أہیںجبکہآجکےادیبوںکیذہنیتیہہے کہ جتنی زیادہ تصانیف منظرِعام پر آئیں گی اُتنی ہی زیادہ شہرت ہوگی۔آپ کاموقف کیا ہے؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ یہ ٹھیک کہا آپ نے کہ میں نے بہت کم لکھا ہے ۔مگر وہ انتخاب ہیں یا نہیں،ناقدین اور قارئین طے کریں گے۔آپ ایسا سمجھتے ہیں تو آپ کی محبّت اور خلوص ہے۔یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ مَیں شہرت پسند نہیں،صبر پسند ہوں۔آپ اسے قناعت پسند بھی کہ سکتے ہیں ۔ ہاں اگر کسی سبب شہرت مل جاے تو اچھا ضرور لگے گا۔شہرت پسند ادیبوں کی سائیکی سب کی اپنی اپنی ہے۔یہ تو ہر دور میں رہا ہے۔خوش بو،عطر میں ہوتی ہے ،عطّار کے پھا ہے میں نہیں ۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ بنگال میں اردو افسانہ نگاری کی صورتِ حال سے آپ کس حد تک متّفق ہیں؟
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ بنگال کی اردو افسانہ نگاری پر آپ کا سوال واضح نہیں ہے۔صورت حال سے کس حد تک متفق ہوں یہ میری سمجھ میں نہیں آیاالبتّہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں بنگال کی اردو افسانہ نگاری سے مطمئن ہوں۔افسانہ نگاروں کا Pace بہت اچھا ہے۔صدیق عالم اور شبیر احمد کا نام تو ذہن میں ہوگا آپ کے۔جو اُفق پہ آکر پڑگئے وہ نام بھی حافظے میں محفوظ ہیں مثلاً شہیرہ مسرور،فیروز عابد،شمس ندیم،محمود ےٰسین،سیّد الابرار وغیرہ۔اظہار الاسلام،عابد ضمیر،مشتاق اعظمی اب بھی فعاّل ہیں۔اس صف میں ف س اعجاز بھی موجود ہیں۔ایک بڑا قافلہ ہے۔
انیس رفیع ۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے یہ آپ کا آخری سوال ہے ۔اگر اور کچھ پوچھنا چاہیں تو حاضر ہوں۔
محمد غالب نشتر ۔۔۔۔۔۔ جی ہاں!آپ نے بجا فرمایا۔یہ میرا آخری ہی سوال تھا۔آپ نے جوابات کی زحمت اٹھائی۔اس کا بہت بہت شکریہ۔۔۔

 انٹرویو دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.