14 Nov, 2016 | Total Views: 149

مشتاق احمد نوری

مشتاق احمد نوری

صدف اقبال

1970 کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں مشتاق احمد نوری بہت اہم افسانہ نگار ہیں ۔ جدیدیت کی تحریک کے تحت لکھے گئے ذات کی تنہائی اور وجودیت سے انسلاک رکھنے والے افسانوی رحجان کے مقابلے1970 کے بعد افسانہ نگاروں کی ترجیحات سماجی کمنٹمنٹ ہوگئی ۔علامت اور استعاروں کا استعمال اپنی پوری گہرائی اور معنویت کے ساتھ نمایاں ہوا۔
مشتاق احمد نوری نے اپنے افسانوں میں سماجی سروکار کو بہت بلند آہنگی سے پیش کیا ہے اور تکنیکی سطح پر علامت اور استعاراتی تہہ داری سے دامن بھی نہیں بچایا ہے۔۔۔۔۔
مشتاق احمد نوری کا بیانیہ ان کی سب بڑی طاقت ہے ۔ ہم آج جادوئی حقیقت نگاری اور مابعد نوآبادیاتی مباحث کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جبکہ مشتاق احمد نوری کے یہاں یہ موضوعات اور تکنیک ہمیں ۱۹۸۰ کے بعد نظر آنے لگتی ہے۔ اس اہم افسانہ نگار سے اس انٹرویو میں ان کی ذاتی زندگی ، ادب افسانہ ، اور تکنیک کے حوالے میں نے گفتگو کی ہے ۔ قارئین عالمی اردو افسانہ فورم کے لیے یہ توشہ ٗخاص پیش کرکے مجھے فخر ہورہا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔ آپ کی پیدائش کب اور کس شہر / گاؤں میں ہوئی ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔میری پیدائش 1950۔05۔07۔بروز اتوار 9 بجے شام پرانے پورنیہ جو کہ اب ارریہ ضلع کا گاؤں ہے ۔۔ گوگی پوٹھیا میں ہوئی ۔۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔ادبی سفر کا آغاز؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔ادبی سفر کا آغاز 1966 میں ہوا جب میں آزاد اکیڈمی ارریہ
میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔محترم ! آپ اپنی ادبی زندگی کے بارے میں تفصیل سے بتائیں ۔

میرے ارد گرد کوئی ادبی ماحول نہیں تھا ۔۔خاندان میں دور تک کوئی ادیب نہیں گزرا ۔۔میرے ابا جناب حفیظ الدین احمد کو جاسوسی رومانی اور طلسماتی ناول پڑھنے کا جنون تھا ۔۔کسی طرح میری رسائی انکے خزانے جو کہ ایک لکڑی کے صندوق میں بند تھا تک ہو گئی ۔پھر نہ جانے کتنی راتیں جاگ کر چراغ کی مدھم روشنی میں میں نے اس خزانے پر ہاتھ صاف کر دیا ۔
ادب کے نام پر جو پہلی خوراک میرے اندر اتری وہ ابن صفی کے جاسوسی شکیل جمالی کے رومانی اور طلسمی ناول تھے جو الہٰ باد کے ایک ادارے سے شائع ہوتے تھے ۔جنوری 1967 میں بیسویں صدی کا سالنامہ ایک دوست کے یہاں دیکھا اور پوچھا یہ کیا ہے ۔۔اسنے کہا افسانہ ہے ۔۔میں نے رسالہ لیا اور اسی دن سب پڑھ گیا جب اسے واپس کیا تو اس نے پوچھا ۔کیسی لگی کہانیاں؟ میرا جواب تھا ایسی کہانیاں تو میں بھی لکھ سکتا ہوں ۔ پھر اسنے کہا لکھو ۔۔میں نے ایک ساتھ دو کہانی لکھیں اور اپنے اسکول کے استاد نصرحمید خلش کو دکھائی ۔انہوں نے تعریف کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔’’نوری اللہ نے جو صلاحیت تمہیں بخشی ہے اگر تم نے اسکا استعمال نہیں کیا تو حشر کر روز جواب دہ ہونا پڑے گا ‘‘۔۔وہ دن اور آج کا دن میں ان کی بات بھول نہیں پایا ۔۔1967 میں ہی میری پہلی کہانی ’’دو روپ دین دنیا‘‘دہلی میں ایڈیٹر نوٹ کے ساتھ شائع ہوئی ۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔اسکے بعد آپکے افسانے کہاں کہاں شائع ہوئے ۔کیا آپ نے کسی سےاصلاح بھی لی ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔اس زمانے میں شفیع مشہدی ارریہ میں پوسٹڈ تھے ۔ان سے رابطہ ہوا۔محبت ملی اور ساتھ ہی رہنمائی بھی ۔اسکے بعد میرے افسانے ’’صبح نو‘‘ پٹنہ۔۔’’زیور‘‘ پٹنہ ۔۔’’واقعات ‘‘ نئی دہلی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے ۔۔گریجویشن کے دوران لکھنے کی رفتار قدرے سست رہی ۔1968 سے 1971 تک کم لکھا لیکن 1972 سے رفتار بڑھی اور مختلف جگہ افسانے شائع ہوتے رہے ۔۔1977 میں نوکری میں آنے کے بعد خوب لکھا اور شائع ہوتا رہا ۔۔

صدف اقبال۔ ۔۔۔ آپ کس جاب میں آئے اور آپ کی ذمہ داریاں کیا رہیں ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔ میں بہار پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے ذریعہ بہار انفارمیشن سروس کے لئے منتخب ہوا اور 17/8/1977 کو نوکری جوائن کی ۔مختلف ذمہ داریاں رہیں ۔کبھی چیف منسٹر بہار کا پی آر او رہا کبھی کیبینٹ منسٹرس کا پرائوٹ سیکریٹری رہا ۔اور 1993 سے 1996 تک بہار اردو اکاڈمی کے سکریٹری کے پوسٹ پر بھی کام کیا ۔ باقی اپنا ڈپارٹمینٹل ورک رہا ۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔ اب تک کن رسالوں میں آپکی کہانیاں شائع ہو چکی ہیں ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔شب خون الہٰ باد، استعارہ دہلی ، شاعر ۔ ممبئی ، ذہن جدید دہلی ،آج کل دہلی ،شمع دہلی ،بیسویں صدی دہلی ،روح ادب، اندیشہ،ادب نکھار،ایوان اردو،الفاظ،اثبات نفی ،نوخیز کلکتہ ،انشاءکلکتہ،مژگاں کلکتہ، وہاں کے کچھ اور رسالے جن کا نام ابھی یاد نہیں آ رہا ۔۔ زبان و ادب پٹنہ ،مباحثہ پٹنہ،تمثیل نو اور جہان اردو دربھنگہ ،ابجد ارریہ کے علاوہ پاسبان ،تعمیر ہریانہ ،پرواز ادب پنجاب ،سہیل گیا،آہنگ گیا،گلبن لکھنؤ،نیا دور لکھنؤ اور ہندستان کے تمام سبھی معیاری رسائل میں شائع ہو چکا ہوں ۔ساتھ ہی پاکستان کے افکار کراچی ،صریر کراچی ،آئندہ کراچی ،روشنائی کراچی ،خیال کراچی ۔اجراء کراچی ادب لطیف لاہور وغیرہ میں میرے افسانے تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں ۔۔ہندی کے مشہور رسالے ہنس اور کادمبنی کے علاوہ بھی دیگر ہندی رسالوں میں شائع ہوا ۔
میں نے بچوں کے لئے بھی بہت لکھا ہے ۔کھلونا،پیام تعلیم،مسرت،نور ڈائجسٹ،ٹافی لکھنؤ اور بھی بچوں کے کئی رسالوں میں کہانیاں لکھیں ہیں ۔۔انٹرنیٹ سے نکلنے والے کئی میگزین میں بھی شامل ہوا ہوں۔

صدف اقبال ۔۔۔۔آپ اردو افسانے کے مستقبل سے پر امید ہیں یا مایوس کہ ایک سچ یہ بھی ہے کہ آج کا افسانہ نگار اپنے افسانوں کا قاری خود ہے یہ الگ بات ہے کہ اردو افسانہ فورم نے نئے افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ اردو ادب کو نئے قاری دیے ہیں ۔

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔ میں اردو افسانے کے مستقبل سے بالکل مایوس نہیں ہوں یہ سچ نہیں کہ افسانے کو قاری نہیں مل رہا ۔ہاں جدیدیت کے دور میں افسانہ قاری سے دور ہو گیا تھا ۔مگر جب سے کہانی میں روشن بیانیہ کی واپسی ہوئی ہے قاری کی تعداد بڑھی ہے ۔اب تو قاری تلاش کرکرکے پڑھتا ہے ۔۔
ہاں یہ حقیقت ہے کہ اردو افسانہ فورم کی وجہ سے ایک گلوبل ویلیج بن گیا ہے افسانوں کا ۔۔پوری دنیا کے فنکار ایک دوسرے کے متعارف ہوئے اور اس گلوبل ویلیج میں فکشن کی ایسی دنیا آباد ہو گئی جسے بھلایا نہیں جا سکتا ۔

صدف اقبال ۔۔۔۔منٹو ، بیدی ، کرشن ، عصمت اور زاہدہ حنا میں آپ کیسے بڑا مانتے ہیں ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔منٹو ، بیدی ، کرشن چندر ،عصمت اور زاہدہ حنا میں مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ وہ فنکار ہیں جنکا ڈکشن الگ الگ ہے منٹو کا میدان الگ تھا ۔وہ زندگی کی سچائی بنا کسی لاگ لپیٹ کے لکھتے تھے ۔بیدی کا انداز اور کردار مختلف تھا ۔اور کرشن چندر کا سفر رومانیت سے حقیقت کی طرف تھا ۔انکی زبان بہت پیاری تھی ۔عصمت ایک نڈر اور بے باک فنکار تھیں ۔قرت العین حیدر بھی ایک بڑی فنکار تھیں ۔وہ تھوڑی ناسٹیلجک تھیں ۔وہ بھی اپنے ماضی سے زیادہ تر فکشن نکالتی تھیں ۔ انکے ڈکشن کا مقابلہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا ۔۔
زاہداہ حنا تو ہم لوگوں کے دور کی ہیں ۔ماضی انکے یہاں بھی ہے ۔انکی گرفت فکشن پہ گہری ہے ۔انہوں نے ایک ناول ’’ نہ جنوں رہا نہ پری رہی ‘‘بہار کے ماحول پر لکھا ہے ۔انکے یہاں ہند و پاک کے مسائل دیکھنے کو مل جاتے ہیں ۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔نئی صدی میں افسانے کا کوئی نیا رخ سامنے آیا ہے ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔نئی صدی یعنی اکیسویں صدی میں وہی فکشن آیا جو بیسویں صدی کے آخر میں تھا لیکن نئے لکھنے والے سامنے آئے انکی سوچ پرانے سے مختلف رہی ۔انکا انداز تھوڑا جارحانہ ضرور ہے ۔۔آج کے دور میں پوری قوم خاص کر مسلمانوں کے جو مسائل ہیں وہ شدت سے آ رہے ہیں ۔پہلے لوگ پردے میں بات کرتے تھے ۔اشاروں میں سچائی پیش کرتے تھے لیکن آج مشرف عالم ذوقی جیسے جارحانہ فنکار بالکل دو ٹوک گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں ۔آپ نہ انکا قلم پکڑ سکتے ہیں نہ زبان ۔۔
میں ذوقی کو اکیسویں صدی کا سپہ سالار مانتا ہوں۔اس صدی کے رائٹرکا ڈکشن ہی تبدیل ہو گیا ہے ۔ پاکستان کی بھی نئی نسل جنکی کہانی ’’اردو افسانہ فورم ‘‘ پہ دیکھتا ہوں وہاں بھی تازگی کا احساس ہوتا ہے ۔وہ لوگ بھی زمینی سچائی لکھ رہے ہیں ۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ خواتین افسانہ نگاروں کی نئی کھیپ کافی متاثر کر رہی ہے ۔۔ہندوستان میں بھی خواتین کا بول بالا ہے ۔۔ذکیہ مشہدی سے صدف اقبال تک ایک لمبی فوج ہے جس پر اردو فکشن بھروسہ کر سکتا ہے ۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔اپنے ہم عصروں میں آپ کسے پسند کرتے ہیں اور کیوں ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔دیکھئے ہم عصروں پر گفتگو کرناکائی بھری پھسلن پر چلنے کے مترادف ہے ۔میرے ہم عصروں میں شوکت حیات ،عبدالصّمد ،حسین الحق،م ق خاں،بیگ احساس،غضنفر، ،شموئل احمد ،سلام بن رزاق ،معین الدین جینا بڑے ،نورالحسنین ،طارق چھتاری ،سید محمد اشرف ،عبید قمر ، اسرار گاندھی ، انور خان ،علی امام بعد میں ابرار مجیب، مشرف عالم ذوقی ،قاسم خورشید ،خورشید حیات ،سید احمد قادری ،اسلم جمشید پوری ،خالد جاوید ، رفیع حیدر انجم ،شاہد اختر،معین الدین عثمانی ،ابن کنول ،احمد صغیر ،صغیر رحمانی۔پیغام آفاقی،اقبال حسن آزاد، اختر واصف ،ساجد حمید،رحمٰن عباس کے علاوہ بھی کئی لوگ ہیں جنہوں نے اردو فکشن کو وقار بخشا ہے ۔کئی نام اور ہیں جو ابھی ذہن میں نہیں آ رہے ۔۔
پاکستان کے فکشن نگاروں کا نام الگ سے شامل کیا جا سکتا ہے ۔۔لیکن ایک بار گرہ میں باندھ لیجیئے کہ ہر دور میں بہار کے فکشن نگاروں نے ہی فکشن کی امامت کی ہے ۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔کیا آپ اس سچائی کا اعتراف کرتے ہیں کہ 1980 کے بعد کا عہد نئے آفاقی نظام1970کا ہے؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔یہ سچ ہے کہ 1980 کے بعد سے فکشن کی دنیا میں ایک نیا آفاقی نظام کا سورج طلوع ہوا۔۔وہ دور جدیدیت کے خاتمے کا تھا ۔وہ تحریک اپنے آپ مری اس دور نے فکشن کا بہت نقصان کیا ۔اس زمانے میں فکشن میں سب کچھ تھا کہانی کے علاوہ ۔1980 سے نئے افسانوی دور کا آغاز ہوا جو آج بھی جاری ہے ۔۔

صدف اقبال۔۔۔۔کیا آپ 1980 کے بعد کے ادب کو مابعد جدیدیت سے منسوب کرنا چاهیں گے یا کوئی اور نام دیں گے ؟؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔مابعد جدیدیت جدیدیت کے مردہ کوکھ سے ہی جنمی ہے ۔۔لیکن تخلیق کسی تحریک کے زیر زثر ہمیشہ نہیں رہتی ۔۔
ترقی پسندی کا اپنا سلوگن تھا ۔اور اس دور میں تحریک کو سامنے رکھ کر شاعری کی جاتی تھی ۔فکشن اور مضامین لکھے جاتے تھے ۔جدیدیت کی امامت شمش الرحمٰن فاروقی کے پاس تھی ۔انہوں نے خود کو اسٹیبلش کیا ۔شب خونی فنکار سامنے آئے لیکن اس تحریک نے ادب خاص کر فکشن کا نقصان کیا ۔شاعری بھی متاثر ہوئی
؎بکری میں میں کرتی ہے
بکرا زور لگاتا ہے
؎سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کا پردہ کھینچ دیا رات ہو گئی
جیسی شاعری ہو رہی تھی ۔80/84 کے بعد ادب کی واپسی ہوئی ۔لیکن کوئی ادب مابعد جدیدیت کے زیر سایہ نہیں لکھا جا رہا ۔یہ تو مرکز سے ہی انکار کرتی ہے ۔کیا کوئی ادب مرکز سے ہٹ کر تخلیق کیا جا سکتا ہے ۔۔فنکار اب تحریک کو لے کر نہیں چلتے بلکہ تحریک انکے پیچھے بھاگ رہی ہے ۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔١٩٧٤ کے بعد کی نسل میں وہ تخلیقی فنکار جو تنقید بھی لکھ رہے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ سلام بن رزاق ، منشاء یاد ، رشید امجد ، کی نسل کو پروموٹ کرنے کے لئے ناقد کا جو ٹیم ورک سامنے آیا تھا وہ آج کم دکھائی دیتا ہے ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔دیکھئے تنقید کسی بھی دور میں ایمان دار نہیں رہی ۔۔آپ جس دور کی جانب اشارہ کر رہی ہیں اس زمانے میں پروموٹ کرنے کا رواج تھا ۔اپنا اپنا گروپ تھا ۔جو اپنے لوگوں پر توجہ کرتا تھا ۔کچھ تنقید اچھی بھی آئی ۔لیکن پروموشن نے تنقید کو روشن نہیں ہونے دیا ۔لیکن نئی نسل کے فنکاروں نے اس بھید بھاؤ کو محسوس کر لیا اور وہ خود اپنی تخلیق کے ساتھ تنقید بھی لے کر آئے ۔اب وہ کسی ناقد کے محتاج نہیں ہیں ۔اس طرح ناقد کی ایک اچھی ٹیم سامنے آ گئی ہے ۔وہ آج کے ادیب کو پرکھنا بھی جانتے ہیں اور کھری کھری لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔اب دس میں سے سات فنکار تخلیق کے ساتھ تنقید بھی کر رہا ہے ۔’’اردو افسانہ فورم ‘‘پہ ممبرس کی رائے دیکھئے کس توجہ سے وہ پڑھتے ہیں اور اپنی بے لاگ رائے دیتے ہیں ۔۔

صدف اقبال ۔۔۔۔۔کیا آپ افسانے کی تنقید سے مطمئن ہیں ؟

مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔۔ میں افسانے کی تنقید سے مطمعئن تو نہیں ہوں لیکن یہ امید کرتا ہوں کہ اگلی دہائی فکشن کی تنقید کے نام ہوگی کیونکہ نئے ناقدوں کی جو کھیپ نظر آ رہی ہے ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔


صدف اقبال۔۔۔۔۔اردو افسانہ فورم کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔۔
مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔ابھی کا افسانہ فورم قبل کے افسانہ فورم سے کافی شارپ ہے ۔۔یہاں اکتاہٹ نہیں ۔گروپ ازم کا بھی خاتمہ ہو گیا اور کوئی ڈکٹیٹر شپ بھی نہیں ہے ۔محبت والے لوگ ہیں سب ایک دوسرے پر توجہ دےرہے ہیں ۔ایک سچ اور بولوں ۔۔۔۔۔
تمہاری آمد اور تمہاری نئی ایکٹیویٹی نے اس فورم کو ایک وقار بخشا ہے ۔۔ ایک بات اور بہت تیز اڑنے کی کوشش مت کرنا کہ بہت سے لوگ قینچی لئے بیٹھے ہیں ( ایک قینچی میں نے بھی تھام رکھی ہے )میں ابرار مجیب صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اچھے ایڈمنس بنائے ہیں اور ان پر بھروسہ بھی کرتے ہیں ۔۔

صدف اقبال۔۔۔۔۔ ہاہاہا مشتاق صاحب میں ان قینچیوں سے بچنے کی پوری کوشش کروں گی اور اپنے قدموں کو ہمیشہ زمیں پر ہی رکھوں گی ۔۔ انشااللہ۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہمارے افسانہ فورم کے لئے اپنا قیمتی وقت دیا ۔۔
مشتاق احمد نوری ۔۔۔۔ تمہارا بھی بہت بہت شکریہ ۔۔

(بحوالہ اردو افسانہ فورم)

 

 انٹرویو دیگر 

Comment Form