حمید قیصر


حمید قیصر


22 Jan, 2017 | Total Views: 178

   

          حمید قیصرکا نام اردو کے جدید افسانوی ادب میں معتبر سمجھا جاتا ہے۔انہیں اپنے پہلے مجموعے ’’سیڑھیوں والا پل‘‘ کی بدولت علمی و ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔حمید قیصر کا یہ مجموعہ پہلی بار 1996ء میں شائع ہوا جبکہ اسکی دوسری بار اشاعت2000ء میں عمل میں آئی۔اب اسکا تیسرا ایڈیشن زیر طبع ہے۔حمید قیصر کا دوسراافسانوی مجموعہ’’دوسرا آخری خط‘‘ 2011 میں شائع ہوا ہے۔
          حمید قیصر 7 مارچ1960ء کو ضلع میانوالی کے ایک سرحدی قصبے ’’کالاباغ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد کا نام حاجی عبدالعزیز ہے ۔آپکا تعلق بلوچوں کے رندقبیلے سے ہے۔آپ نے میٹرک 1976 میں گورنمنٹ ہائی سکول کالا باغ سے کیا۔1977 ء میں آپ کے خاندان نے سیاسی و سماجی وجوہات کی بنا پر کالا باغ کو خیر باد کہہ کہ کر اسلام آبادمیں مستقل سکونت اختیارکرلی۔آپ نے بعدازاں پرائیویٹ طورپرراولپنڈی ڈویژن سے سیکنڈ ڈویژن میں ایف اے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے فسٹ ڈویژن میں بی اے کیا۔ حمید قیصر نے کالا باغ کے جاگیرداروں اور وڈیروں کے ظلم وستم کے خلاف اٹھنے والی مقامی عوامی تحاریک’’ کالاباغ فرنٹ‘‘ اور’’ بغوچی محاذ‘‘ میں عملی طور پر حصہ لیا اور اسی تناظر میں چند کہانیاں بھی لکھیں۔ جو ان کے پہلے افسانوی مجموعے’’سیڑھیوں والا پل‘‘ میں شامل ہیں ۔
       آپ نے 1981ء میں اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔وہاں سے آپ 1983ء میں وزارت ثقافت و سیاحت کے محکمہ لوک ورثہ کے شعبہ مطبوعات میں چلے گئے ۔ 1988ء میں دوبارہ اکادمی ادبیات پاکستان میں’’ پرنٹنگ انچارج ‘‘مقرر ہوئے اوربہترین کارکردگی کی بنا پر1992ء میں سرکولیشن مینیجر کے عہدہ تک ترقی پائی ۔ پھر اگست میں2000 انکی کتاب ’’سیڑھیوں والا پل‘‘ کی لندن میں تقریب رونمائی ہوئی۔ واپس آکر انہوں نے اکادمی سے طویل رخصت لیکر برطانیہ میں قیام کا فیصلہ کر لیا۔
      چنانچہ جولائی 2004ء میں حمید قیصر نے برطانیہ اور پاکستان سے انگریزی و اردو میں سہ ماہی مجلہ ’’تادیب انٹرنیشنل‘‘ کا اجراء کیا۔ جسکے اب تک 15 شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود مجلہ ’’تادیب انٹرنیشنل‘‘ وقفے وقفے سے شائع ہوتا ہے۔حمید قیصر نے 2009ء میں مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد کے صدر نشین کے افسر تعلقات عامہ اور ماہر مضمون کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔اس حیثیت سے میرا جی،ن۔م راشد،فیض احمدفیض اور سعادت حسن منٹو جیسے ممتاز اہل قلم کے صد سالہ جشن ولادت کے سلسلے میں چار ضخیم کتابوں کی طباعت مکمل کی اور درجنوں علمی و ادبی تقریبات کے انعقاد میں معاونت کی۔ منٹو صدی کے حوالے سے چار سو صفحات پرمشتمل رسالہ تادیب کے ’’منٹو نمبر‘‘ کی تدوین مکمل ہو چکی ہے۔ رسالہ تادیب کو’’ ویب میگزین ‘‘بنانے کے حوالے سے کام جاری ہے۔
2011 میں مقتدرہ قومی زبان کے تحت منصو بہ ختم ہونے کے بعد حمید قیصر نے متعدد اخبارات اور ایڈورٹائیزنگ ایجنسیوں میں تخلیقی کام کیئے ۔اسکے ساتھ ’’تادیب‘‘ کے عنوان سے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ ،’’ نوائے وقت ‘‘اور’’ الشرق‘‘ میں ہفتہ وار کالم اور روزنامہ جنگ کے’’ سنڈے میگزین ‘‘میں مضامین بھی لکھنے شروع کر دیئے۔ علاوہ ازیں ایک آن لائن انگریزی۔ اُردو اخبار ’’میڈیا ٹوڈے یو ایس اے‘‘ کے ساتھ بیورو چیف کی حیثیت سے منسلک ہوگئے۔ آج کل آپ ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی ایکسٹرنل سروس کے ساتھ ریسرچر اور سکرپٹ رائیٹر کی حیثیت سے گزشتہ چار سال سے منسلک ہیں۔ آپ ریڈیو کے رسالہ’’ آہنگ‘‘ کیلئے ممتاز شخصیات کے انٹرویوز بھی کرتے ہیں۔ یوں حمید قیصر کا ادبی ، ثقافتی و تخلیقی سفر ہر دم رواں دواں ہے ۔
0300-5302080
hameedqaiser.nla@gmail.com

تعارفی خاکہ دیگر


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.