25 Apr, 2017 | Total Views: 235

احمد صغیر ایک نظر میں

نام : محمد صغیر
قلمی نام : احمد صغیر
والد : محمد حنیف (مرحوم)
والدہ : ساجدہ خاتون
پیدائش : 21 نومبر1963
مولد : محلہ گیوال بیگہہ‘ گیا (بہار)
تعلیم
* گیا ہائی اسکول ‘ گیا سے 1979میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
* مرزا غالب کالج ‘ گیا سے 1982میں آئی۔اے کا امتحان پاس کیا۔
* مرزا غالب کالج ‘ گیا سے ہی 1984میں بی۔اے (اُردو) آنرز کا امتحان پاس کیا۔
* مگدھ یونیورسٹی‘بودھ گیا سے 1986میں ایم۔اے (اُردو) کا امتحان پاس کیا۔
* مگدھ یونیورسٹی‘بودھ گیا سے 1991میں ایم۔اے (فارسی) کا امتحان فرسٹ کلاس سے پاس کیا۔
* مگدھ یونیورسٹی‘بودھ گیا سے ہی 1994میں بی ۔ایڈکا امتحان فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا۔
* مگدھ یونیورسٹی‘بودھ گیا سے ہی ایل ۔ایل۔ بی کا امتحان پاس کیا۔
* مگدھ یونیورسٹی‘بودھ گیا سے ہی 1997میں پروفیسر تاج انور کی نگرانی میں ’’جدید اُردو افسانے میں احتجاج کی بازگشت ’’1960-1990‘‘موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ۔ڈی کی سند حاصل کی۔
* پریاگ سنگیت سمیتی ‘الہٰ آباد سے موسیقی میں بھی ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
قابلِ ذکر اساتذہ :
پروفیسر تاج انور‘ پروفیسر افصح ظفر‘ پروفیسر حسین الحق‘ پروفیسر علیم اللہ حالی‘ ڈاکٹر نسیم ابن صمد
ملازمت
* گیا کے ایک پرائیوٹ اسکول سینٹ فرانسس اکیڈمی میں 1988ء سے 1998ء تک بحیثیت اُردو ٹیچر پڑھاتے رہے۔
l 1998 میں احمد صغیر تلاش معاش میں دلّی ہجرت کیا۔ وہاں مختلف نوع کام میں مصروف رہے۔ صلاح الدین پرویز کا مشہور زمانہ رسالہ ’’استعارہ‘‘ سے منسلک رہے اسی دوران ’’راشٹریہ سہارا‘‘ اُردو ’’یوجنا‘‘ اور دوسرے اخبار و رسائل کے لئے سیاسی اور ادبی مضامین لکھتے رہے اور کئی پروڈیوسروں کے لئے اسکرپٹ بھی تحریر کیا جو مندرجہ ذیل ہیں :
(i) ’’
شیشے کا گھر‘‘ 52 EPISODE ETv URDU
(ii) ’’
وہ کون تھا‘‘ 52 EPISODE ETv URDU
(iii) ’’
بے جڑ کے پودے‘‘ 26 EPISODE ETv URDU
(iv) ’’
جاسوسی دنیا‘‘ 60 EPISODE ETv. URDU
(v) ’’
دوسرا رُخ‘‘ 52 EPISODE DD-I
(i)
رام (فلم) جو مکمل نہ ہو سکی۔
مشہور افسانہ ’’بے نام سا ایک رشتہ‘‘ اُردو کے شاہکار افسانے سیریل میں شامل۔DD Urdu 
l 2004
ء میں گیا واپس آکر انو گرہ میموریل کالج‘ گیا میں بحیثیت اسسٹنٹ نوکری اختیار کر لی۔ فی الحال اسی عہدے پر فائز ہیں ۔ البتہ ایک سال کے لئے Deputation پر مگدھ یونیورسٹی کے Examination Deptt. میں بھی کام کیا۔
مناصب
* جن سنسکرتی منچ کے ایکزکیٹو باڈی کے رکن اور گیا اکائی کے صدر اورترقی پسند مصنفین (اُردو) بہار کے جنرل سکریٹری ۔
ادبی حیثیت
* عصر حاضر کے مشہور فکشن رائٹر۔ افسانہ اور ناول نگاری میں یکساں مہارت کے ساتھ لکھتے ہیں۔ پانچ افسانوی مجموعے اورتین ناول کامیاب تخلیقی حصول کی مثالیں ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘، ’’انّا کو آنے دو ‘‘، ’’درمیاں کوئی تو ہے‘‘، ’’مسیحائی‘‘، ’’تعفن‘‘،’’ہَوا شکار‘‘ اور ’’شگاف‘‘ وغیرہ کا نام خصوصی طور پر لیا جاتا ہے نیز تینوں ناول ’’جنگ جاری ہے‘‘، ’’دروازہ ابھی بند ہے‘‘ اور ’’ایک بوند اُجالا‘‘مقبول عام ہو چکے ہیں۔ ان کے کئی افسانے ہندی‘ مراٹھی اور اڑیہ میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔
* احمد صغیر فکشن لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو 1980ء کے بعد منظر عام پر آئی اور جس نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی کیونکہ اُردو افسانے میں نمایاں طور پر جو تبدیلی آئی وہ 1980ء کے بعد ہی آئی۔ اسی نسل نے افسانہ کا کھویا ہوا وقار بحال کیا۔
زبان دانی
* اردو‘ ہندی اور انگریزی
شادی
18؍ اپریل 2004ء
اہلیہ
l (ڈاکٹر) نزہت پروین بنت محمد جسیم خان ساکن موریہ گھاٹ‘ گیا لیکن ان کا آبائی گاؤں آخ تھو (چاکند) ہے جہاں ابھی بھی مکان موجود ہے لیکن ان کے والد نوادہ کے رہنے والے ہیں اور شادی کے بعد آخ تھو میں ہی سکونت اختیار کر لی ۔ بزنس چونکہ گیا میں تھا اس لئے محلہ مرار پور میں ایک کرایے کے مکان میں رہنے لگے۔ نزہت پروین کی بڑی بہن ناز کو چھوڑ کر سبھی بھائی بہنوں کی پیدائش محلہ مرار پور‘ گیا میں ہوئی۔ ان دنوں ان کے والدین اور تین بھائی آخ تھو میں قیام پذیر ہیں۔ نزہت پروین اپنے بھائی بہنوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔
* نزہت پروین اُردو میں ایم۔ اے فرسٹ کلاس فرسٹ ہیں اور ان کا تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ۔ ڈی ’’اُردو افسانے میں دلت مسائل‘‘طباعت کے مرحلے میں ہے۔
اولاد
* التمش صغیر
* فرجاد صغیر
تخلیقی سفر کا آغاز و ارتقاء
* پہلا افسانہ ’’باسی روٹی‘‘ پالیکا سماچار نئی دہلی جون 1980ء
* پہلا ناول ’’جنگ جاری ہے‘‘ مکتبہ استعارہ‘ دہلی 2001ء
* پہلی تنقیدی کتاب ’’جدید اُردو افسانے میں احتجاج کی بازگشت‘‘
مکتبہ استعارہ‘ دہلی 2003ء

صحافت
* پندرہ روزہ ’’دھرتی‘‘ 1980ء سے 1982ء
* ماہنامہ ’’ترسیل‘‘ 1982ء سے 1986ء
* دو ماہی ’’حالی‘‘ 1984ء سے 1987ء
دیگر خدمات
* گیا کے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔
* ریڈیو اورٹیلی ویژن کے پروگراموں میں 1985ء سے آج تک شامل ہورہے ہیں ۔
* دلّی میں قیام کے دوران ساہیتہ اکادمی ’’ دلّی اُردو اکادمی‘‘ غالب‘ اکادمی‘ جواہر لال نہرو یونیورسٹی‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ دلّی یونیورسیٹی اور دیگر تنظیموں کی طرف سے ہونے والے ہر پروگراموں میں نہ صرف ان کی شمولیت رہی بلکہ کئی سیمینار میں اپنا مضمون اور افسانہ بھی پیش کیا۔ آل انڈیا ریڈیو اردو سروس سے کئی اہم مقالے نثر ہوئے اور دوردرشن کا پروگرام ’’بزم‘‘ میں بھی حصہ لیا۔
تصانیف
افسانوی مجموعے
(ا) ’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘ سال اشاعت 1995ء ناشر : تخلیق کار پبلیشرز ‘دلّی
مشمولہ افسانے:منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘ سرنگ ‘کچھ بھی تو نہیں بدلا‘شگاف‘کرفیو کب ٹوٹے گا‘آگے بڑھتا ہوا آدمی‘ بے پناہ جنگل اور وجود‘شہر چھوڑتا نہیں‘اُداس ہو جانے والا لمحہ‘مسیحا کون ہے ربّا‘کرب کا لاو ا‘ عجوبہ ‘سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘کیچ کیچ ہا‘اپنا اپنا پنجرہ‘تاریکیوں کا رقص اور میرا وجود‘شکستہ لمحے‘محض انتظار‘ قطرہ قطرہ زہر ‘منظر دھواں دھواں۔

(۲) ’’انّا کو آنے دو‘‘ سال اشاعت 2001ء ناشر مکتبہ استعارہ ‘ نئی دلّی
مشمولہ افسانے: انّا کو آنے دو ‘ پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں‘ اوور ٹائم‘ جنگ جاری ہے‘ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘ بھگوان کے نام پر‘مریادا اور ٹانڈو رقص‘ اندھیرے جاگتے ہیں‘ سوچ کا کرب‘روشنی بلاتی ہے‘ سایہ‘درد بھری زمیں۔
(۳) ’’درمیاں کوئی تو ہے‘‘ سال اشاعت 2007ء ناشر ترسیل پبلی کیشنز‘ نئی دلّی
مشمولہ افسانے : درمیاں کوئی تو ہے‘ تعفن‘ جائے امان‘ فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی‘ ڈوبتا اُبھرتا ساحل‘ منتظر لمحوں کی آواز‘ پناہ گاہ‘ شاخ نازک پر‘ سوانگ‘ ٹریٹمنٹ‘ چارہ گر‘ خواب خواب زندگی‘ اورزنجیر ٹوٹ گئی‘ حیثیت۔
(۴) ’’داغ داغ زندگی‘‘ سال اشاعت 2013 ء ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی
مشمولہ افسانے :مسیحائی‘ داغ داغ زندگی‘ سمندر جاگ رہا ہے‘ آتش فشاں‘ پھانس‘ صنم آشنا‘ میں دامنی نہیں ہوں‘ کاہے کو بیاہی بدیس‘ ہم سفر‘ یہ زندگی‘ شدّھی کرن‘ ہَوا شکار‘ زینہ‘ آگ ابھی باقی ہے‘ سیاہ رات کی صبح‘ یہ آگ کب بجھے گی۔
(۵) کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے سال اشاعت 2015 ء ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی
مشمولہ افسانے : تعفن‘ انّا کو آنے دو‘ ڈوبتا ابھرتا ساحل‘پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں‘ فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی‘ پناہ گاہ‘ شدّھی کرن‘ بے پناہ جنگل اور وجود‘ سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘ آگ ابھی باقی ہے‘ کاہے کو بیاہی بدیس‘ میں دامنی نہیں ہوں‘اوور ٹائم‘کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
ناول
(ا) ’’جنگ جاری ہے‘‘ 2001ء ناشر : مکتبہ استعارہ ‘ نئی دلّی
(۲) ’’دروازہ ابھی بند ہے‘‘ 2008ء ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس‘ دلّی
(۳) ’’ایک بوند اُجالا‘‘ 2013ء ناشر : عرشیہ پبلی کیشنز‘ دلّی
تنقید و تحقیق
(ا) اردو افسانوی میں احتجاج کی باز گشت
(1980 سے 1960 ء) 2003ء ناشر : مکتبہ استعارہ نئی دلّی
(۲) اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ 2009ء ناشر : ایجوکشنل پبلشنگ ہاؤس‘ دلّی
(1980ء کے بعد)
(۳) بہار میں اُردو فکشن ایک تنقیدی مطالعہ 2014ء ناشر : ایجوکشنل پبلشنگ ہاؤس‘ دلّی
(۴) عطاء اللہ پالوی (مونوگراف) 2015ء ناشر : ساہتیہ اکادمی‘ نئی دلّی
(۵) اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ 2016ء ناشر : ایجوکشنل پبلشنگ ہاؤس‘ دلّی
(1980 کے بعد)
(۶) بہار کی یونیورسٹیوں میں اُردو زبان و ادب 2015ء ناشر : ایجوکشنل پبلشنگ ہاؤس‘ دلّی
کی توسیع و ترقی میں اساتذہ کی خدمات
دیگر نصانیف
(۱) چھد دسمبر 1993ء ناشر : ترسیل پبلی کیشنز‘ گیا
(بابری مسجد پر لکھی گئی نظموں‘ غزلوں کا انتخاب)
(۲) نئی کہانی نیا مزاج 1989ء ناشر : ترسیل پبلی کیشنز‘ گیا
(نویں دہائی کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کا انتخاب اور تجزیہ)
ہندی
(۱) چنگاریوں کے درمیاں (غزلیں) 2002ء ناشر : مکتبہ استعارہ‘ نئی دلّی
تراجم :
* بے شناخت  (اردو سے ہندی) ناصر بغدادی
* تلاش بہاراں (اردو سے ہندی) کشوری لال نسیم
* پرتی نیدھی شاعری (اردو سے ہندی) اکبر الہٰ آبادی
* پرتی نیدھی شاعری (اردو سے ہندی) شکیب جلالی
* پرتی نیدھی شاعری* (اردو سے ہندی) خواجہ میر درد
*]یہ چاروں کتابیں رادھا کرشن پرکاش‘ نئی دہلی سے شائع ہو چکی ہیں[
دیگر مطبوعہ تحریریں
l سیاست اور ادب سے متعلق معتقدر مضامین‘ تبصرے اور ڈرامے مختلف اخبار و رسائل میں شائع ہوئے۔جس کی ایک لمبی فہرست ہے۔
زیر ترتیب و اشاعت
(i) آسماں سے آگے (ناول)
(ii) خواب تماشہ (ناول)
(iii) کہانی مجھے لکھتی ہے (سوانحی ناول)
خصوصی مطالعہ/گوشہ/کتابیں
( ۱) منڈیر بیٹھا پرندہ ایک محاکمہ ڈاکٹر نسیم ابن صمد 2010ء
(۲) احمد صغیر فن فکشن فنکار ڈاکٹر نزہت پروہن 2015ء
(۳) معلم اردو (خصوصی گوشہ)
(۴) ’’مکالمہ‘‘ کے فکشن نمبر میں کہانی شامل
(۵) ’’مزگاں‘‘ کے نیا ادب نمبرمیں افسانہ اور افسانہ نگاری پر مضمون شامل
(۶) 1980ء کے بعد اُردو افسانہ ڈاکٹر غضنفر اقبال کا تحقیقی مقالہ میں بحیثیت افسانہ نگار خصوصی مطالعہ 151 2007ء
(۷) ہفتہ وار ’’صدائے انصاری‘‘151 ایک شمارہ احمد صغیر کے نام 16 اکتوبر2016 ء
(۸) بہار میں اُردو ناول کا سیاسی و سماجی شعور (1980ء سے 2010ء) میں ان کے ناولوں کا خصوصی مطالعہ محمد راشد انور مولانا آزاد یونیورسٹی‘ حیدر آباد۔
(۹) ہندو پاک میں اُردو افسانہ 1960ء کے بعد میں احمد صغیر کی افسانہ نگاری پر خصوصی مطالعہ غالب نشتر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔
(۱۰) اُردو افسانوں کے ارتقاء میں گیا کے افسانہ نگاروں کی خدمات۔ ڈاکٹر عزیر احمد کے تحقیقی مقالہ میں بحیثیت افسانہ نگار خصوصی مطالعہ۔ 2012ء
(۱۱)بہار میں اُردو ناول ایک تنقیدی مطالعہ ۔ محمد ابرار احمد کے تحقیقی مقالہ میں بحیثیت ناول نگار خصوصی مطالعہ۔ 2012ء
(۱۲) بہار میں اُردو افسانہ 1980ء کے بعد۔ غفران انصاری کے تحقیقی مقالہ میں بحیثیت افسانہ نگار خصوصی مطالعہ۔ 2014ء
(۱۳) ترقی پسند ادب کے معمار۔ پروفیسر قمر رئیس۔ خصوصی مطالعہ
(۱۴)بہار میں ترقی پسند تحریک اور اردو افسانے کی روایت ۔اظہر علی کے تحقیقی مقالہ میں بحیثیت افسانہ نگار خصوصی مطالعہ۔2014ء
(۱۵) بہار میں ترقی پسند اُردو افسانہ ڈاکٹر نزہت پروین کی کتاب میں خصوصی مطالعہ۔
ایم ۔فِل:
(۱) منڈیر پر بیٹھا پرندہ کا تجزیاتی مطالعہ۔ ریسرج اسکالر :ونت کمار گونڈ (2016)
اعزاز و انعام :
* منڈیر پر بیٹھا پرندہ         (بہار اردو اکادمی)             ۱۹۹۵
* انّا کو آنے دو             (مغربی بنگال اردو اکادمی)       ۲۰۰۱
* جدید اردو افسانوں میں احتجاج  (دہلی اردو اکادمی)       ۲۰۰۳   
* جدید اردو افسانوں میں احتجاج  (بہار اردو اکادمی)       ۲۰۰۳
* سہیل عظیم آبادی ایوارڈ  (بہار اردو اکادمی)            ۲۰۰۷
* اُردو افسانے کا تنقیدی جائزہ   (اتر پردیش اردو اکادمی)   ۲۰۰۹     
* داغ داغ زندگی     (اتر پردیش اردو اکادمی)           ۲۰۱۳ 
* ایک بوند اُجالا (بہاراردو اکادمی)                      ۲۰۱۴
***

 تعارفی خاکہ دیگر 

Comment Form