واجدہ تبسم


واجدہ تبسم


12 Sep, 2017 | Total Views: 359

   

تعارف۔۔۔۔۔ واجدہ تبسم
فکشن کا اہم نام ناول نگار، مختصر کہانیاں لکھنے والی برصغیر کی نام ور اہم شخصیت محترمہ واجدہ تبسم کی جنم بھومی امرائوتی برصغیر اور تاریخ پیدائش 16 مارچ 1935ء ہے۔ جامعہ عثمانیہ سے ادبیات اردو میں ماسٹرز ڈگری کی حامل اس افسانہ نگار کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1947ء میں حیدرآباد دکن میں مستقل قیام کرنا پڑا۔ یہاں کا دکنی لہجہ جو دیگر صوبوں کی اردو سے قدرے مختلف تھا ان کی کہانیوں، افسانوں میں یہ لہجہ مع اپنے محاوروں اور ضرب الامثال نہایت ہی سلیقے اور چابک دستی سے برتا جاتا رہا۔ اس سرزمین کی قدیم داستانوں، بودوباش،رسوم پر واجدہ تبسم کی ان گنت یادگار کہانیاں شائع ہوتی اور شائقین افسانہ کی دل چسپی و توجہ کا باعث بنتی رہیں۔ اپنے خاندان کی پروا نہ کرتے ہوئے ذاتی پسند سے 1960ء میں انہوں نے اشفاق احمد خاں سے شادی کرلی تھی۔ یہ دونوں شادی کے بعد بمبئی میں مقیم ہوگئے تھے۔واجدہ تبسم اپنی تحریروں کی کام یابی کو ایک مذہبی قوت کے اثرات اور سرپرستی کی مرہون منت قراردیتی تھیں۔ پاک و ہند کے کسی بھی کہانی کار،ناول نگار سے ان کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا البتہ زبان کے چٹخارے اور ناگفتہ کو گفتنی بنانے کے باعث ان کو عصمت چغتائی اور منٹؤ کے قبیل کا لکھنے والا مانا گیا۔ 2 درجن تقریبآ 27 کتابوں کی مصنفہ کا شاہ کار ’’ا ُتر ن ‘‘ 1977ء میں مسلم معاشرے کی عورت کے برخلاف مرکزی کردار ہیروئن کی زبان و بیان پر خاصا واویلا مچا تاہم اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی اور نہ صرف اس کا آٹھ علاقائی و عالمی زبانوں میں ترجمہ ہوا اسے فلما نے کے بعد اس کو بھارت ٹیلی وژن پردکھایا بھی گیا۔واجدہ تبسم 9 دسمبر 2010ء کو انتقال کرگئیں۔۔۔۔

)بحالہ ترویج افسانہ فورم)

تعارفی خاکہ دیگر


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.