قرۃ العین حیدر


قرۃ العین حیدر


03 Dec, 2016 | Total Views: 394

   

اردو کی سب سے بڑی خاتون ناول نگار کا اعزاز پانے والی قرة العین حیدر 1927 میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔

تقسیم ہند کے بعد قرة العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا لیکن بعد میں انہوں نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے گیارہ سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا، قرةالعین حیدر نہ صرف ناول نگاری بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔

ان کے مشہور ناولوں میں بالترتیب میرے بھی صنم خانے، سفینہ غمِ دل، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، گردشِ رنگِ چمن، کارِ جہاں دراز ہے اور چاندنی بیگم شامل ہیں۔

ان کے سب ہی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف دکھتا ہے اور ان کے دو ناولوں ‘آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر’ کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔

آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989 میں انہیں ہندوستان کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جبکہ ہندوستانی حکومت نے انہیں 1985 میں پدما شری اور 2005 میں پدما بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔

اردو ادب کے کچھ نقاد انہیں اردو کی ‘ورجینا وولف’ بھی کہتے ہیں۔

قرة العین حیدر کے تیسرے ناول آگ کا دریا کو اردو ادب میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے، بعض نقاد سمجھتے ہیں کہ یہ ناول اردو زبان کے اہم ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔

اکیس اگست 2007 کو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔

انھوں نے جدید ناول میں کہانی بیان کرنے کا جو انداز دیا اس نے جدید ناول کو کلاسیکی مقام پر پہنچا دیا، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔۔۔

) بحوالہ ترویج افسانہ فورم)

تعارفی خاکہ دیگر


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.