’رویائے صادقہ ‘کا تجزیاتی مطالعہ




امتیاز احمد علیمی
24 Nov, 2017 | Total Views: 281

   

اردو کی تمام اصناف سخن میں ’ناول‘ایک ایسی صنف سخن ہے جو انسانی زندگی کی موثر ترین عکاسی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ کسی بھی ملک یا قوم کی سیاسی ،سماجی ، مذہبی ، اخلاقی ، تعلیمی ، ذہنی ، تہذیبی، معاشرتی ،اقتصادی،جنسی غرضیکہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو پیش کرتا ہے۔لیکن مولوی کریم الدین کے ’خط تقدیر‘سے صرف نظر کرتے ہوئے جب ہم اردو کے اولین ناول نگارنذیر احمد کے ناول اور اس عہد میں لکھے گئے دوسرے ناولوں کا سرسری جائزہ لیتے ہیں تواندازہ ہوتا ہے کہ اس عہد کے ناولوں کے حاوی موضوعات میں اصلاحی،معاشرتی، مذہبی ،تہذیبی،رومانی،تاریخی، نفسیاتی، جاسوسی اور تشہیری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔لیکن اس عہد کے مذکورہ تمام موضوعات سے پر ے میرا سیدھا سروکار نذیر احمد کے آخری ناول’رویائے صادقہ‘(۱۸۹۲) کے تجزیاتی مطالعے سے ہے۔یہ ناول کل چودہ فصلوں پر مشتمل ہے جس میں پہلی فصل سے دسویں فصل تک ناول کے مرکزی کردار صادقہ جس کو مسلسل خواب دیکھنے کی عادت ہے جس میں وہ کبھی عجیب و غریب خواب دیکھتی ہے ،کبھی خواب دیکھنا اس کے حق میں مضر ثابت ہوتا ہے مگر جو بھی خواب دیکھتی ہے اس کی تعبیر ہمیشہ سچ ہوتی ہے، اسی سچی تعبیر کی بنیاد پر وہ ایک ایسی لڑکی مشہور ہو چکی تھی جس پر جناتوں کا سایہ سمجھا جاتا تھا،شاید اسی بنا پر ۲۲ سال تک وہ کنواری ہی رہی اور کہیں سے بھی اس کی شادی کا پیغام نہیں آیا،حالانکہ اس کی دو چھوٹی بہنیں پہلے ہی بیاہی جا چکی تھیں ،آخر کیا وجہ تھی کہ اتنے سالوں تک صادقہ کا کہیں سے پیغام نہیں آیا؟۔یہیں سے قاری کے دل میں سوالات جنم لینا شروع کرتے ہیں اور جیسے جیسے آگے بڑھتاہے سارے سوالوں کے جوابات بھی ملنے لگتے ہیں بقول ناول نگار:
’’اس نے ساری عمر نہ کبھی جھوٹا خواب دیکھااور نہ اپنے جی سے بناکر کوئی خواب بیان کیا۔کثرت سے خواب دیکھتے دیکھتے اس کو تعبیر میں ایسا ملکہ ہوگیا تھا کہ اس کی رائے تیر بہدف ہوتی تھی‘صادقہ تو پورے ڈھائی برس کی بھی نہ ہوگی کہ ہم نے اپنے کانوں اس کو مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر مسلسل گفتگو کرتے سنا ۔نہ لغزش ،نہ لکنت ،نہ رکاوٹ ‘‘(ص۵۔۴)
مگر
’’ سب سے بڑا نقصان جو صادقہ کو اپنے خوابوں کی بدولت پہنچا یہ تھا کہ لو گ اس کی نسبت خیال کرنے لگے کہ اس کے سر پر کچھ ہے۔ایک طور پر اس کا ادب کرتے اور اس کو وقعت کی نظر سے دیکھتے مگر دل ہی دل میں ڈرتے بھی تھے کہ خدا جانے کیا اسرار ہے اور آئندہ چل کر کیا گل کھلے۔اور یہی وجہ ہوئی کہ صادقہ اکیس بائیس برس کی ہوگئی اور کہیں سے اس کے بیاہ نکاح کا پیام سلام کیسا؟میری صادقہ جو کہتی ہے گویا لوح محفوظ سے دیکھ کر کہتی ہے،اس کی بات نہ کبھی جھوٹی ہوئی اور نہ کبھی جھوٹی ہو‘‘(ص:۔۱۰۱۱)
اس طرح نذیر احمد نے ابتدا ہی سے ایک ایسی مثالی خاتون کا انتحاب کیا جو اپنے معجزاتی کیفیت کے اظہار سے قاری کو اپنے حصار میں قید کر لیتی ہے اور قاری اس کے خوابوں کی تعبیرات کی تلاش میں پورا ناول پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔یہ سلسلہ دسویں فصل تک جاری رہتا ہے جس میں صادقہ کی گھریلو زندگی، امور خانہ داری ،انتظام و انصرام میں مہارت کاملہ،شادی بیاہ کے سلسلے میں صادقہ کے خیالات ،۶۳صفحات پر مشتمل سید صادق بنارسی کا طویل خط ،کہنے کو خط ہے مگر حقیقت میں وہ ایک کتابچہ ہے جس میں علی گڑھ کالج کی روداد بھی شامل ہے اور وہ مباحثہ بھی جو سید صادق کالج کی انجمن’ الاصلاح‘ میں اپنی شادی سے قبل شادی بیاہ سے متعلق منعقد کرواتے ہیں۔اس مباحثے اور اس کی روداد میں معاشرتی مسائل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی ہے یہ اہم ہے۔اس بحث میں مسلمان گھرانوں میں پردے کا رواج،عورت کی حیثیت ،دوسرے مذاہب خصوصاً عیسائی کی عورتوں سے شادی اور اس کانتیجہ،ذاتی حسب نسب کی اہمیت اور فادیت،شر م و حیا کی تعریف،تجرد کی حقیت وغیرہ پرکھل کر بحث کی گئی ہے ۔ شادی بیاہ کے سلسلے میں نوجوان نسل کی روشن خیالی ، شادی سے قبل اس کے نفع و نقصان،کثرت اولاد کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ:
’مسلمانوں کی طرف سے میں بالکل نا امید ہوں اور اسی میں ان کی بہتری سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ جہاں تک ممکن ہو اپنے شمار کو بڑھنے نہ دیں کیونکہ شمار کے ساتھ ساتھ مفلسی اور خواری بھی بڑھتی ہی جائے گی ‘‘(ص:۲۷)
اورمشرقی علوم پر مغربی علوم کوترجیح دیتے ہوئے اس کے دور رس اثرات اور فوائد کا برملا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں
’’اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ انگریزی پڑھنے سے معلومات میں وسعت اور خیالات میں آزادی آجاتی ہے اور ایک خاص طرح کا مذاق پیدا ہوتا ہے۔ہندوستانیوں(پرانے خیالات کے ہندوستانیوں )کے مذاق سے بالکل جدااور ممتاز بلکہ متبائن اختلاف رائے اختلاف وضع۔اختلاف خیال کے ہوتے۔‘‘(ص:۲۷)
اس طرح اس طویل خط میں مذکورہ با لاباتوں کے علاوہ شادی سے قبل زنا شوئی،پردے کی حقیقت،اس کی غرض وغایت،اس کی اہمیت اور افادیت،شادی کے بارے میں قرآنی تعلیمات ،سماج اور معاشرے میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت کوقرآن کی اس آیت مبارکہ سے’ الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علیٰ بعض و بما انفقو من اموالہم‘سے تعبیر کرتے ہیں جس پر ہمارا مشرقی معاشرہ سختی اور مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ جبکہ مغربی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہیں وہاں النساء قوامات علی الرجال کی صورتحال ہے ۔ان سب کے شرعی اور عقلی دونوں دلائل پیش کئے ہیں۔ساتھ ہی اوردوسرے معاشرتی اور مذہبی پہلوؤں پرتفصیلی گفتگو کی گئی ہے جوپڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح دسویں فصل تک صادقہ کی شادی ،والدین کے نظریات،سماجی اور معاشرتی جبر،شرم وحیاکی تفصیلات،قیافہ شناسی،اخلاقی درس ، بیٹی کے تئیں میاں بیوی کے خدشات،مغربی علوم و فنون اور ان کے طرز بود وباش کو اپنانے میں کشمکش ،صادقہ کے جدائی کے خیال سے ماں کا فطری طور پر کڑھنا اور میاں کا بیوی کو تسلی دینا،شادی میں جہیز کا مخالف ہونا،وقت اور حالات کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا،وغیرہ امور پر مذہبی اور معاشرتی نقطہ نظر سے استدلالی گفتگو کی گئی ہے۔جبکہ گیارہویں فصل میں دلی کے مسلمانوں کی ناگفتہ بہ صورتحال،ان کی سوسائٹی،معاشرتی اور اقتصادی حالت اور مذہبی وضعداری ،تساہلی اور بیگاری کو میر خورم علی خاں موزوں،خواجہ سلطان اور ان کی بیوی کی زبانی پیش کیا گیا ہے ذیل کے اقتباس سے اس عہد کی دلی کی صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے:
’’دلی میں کتنے لوگ ایسے بیکار پڑے پھرتے ہیں جن کو دنیا اور دین کا کوئی کام کرنے کو نہیں۔صبح ہوئی یہ خدا جانے کہاں رہے کوئی ڈیڑھ پہر رات جاتے جاتے بیوی کے ڈر سے گھر آئے۔چھینکے پر سے روٹی اتار ،مونڈھے تلے سے سالن کی پتیلی نکال،بچا کھچا کھا پی منھ لپیٹ پڑ رہے۔سویرے آنکھ کیا کھلے خاک۔غرض جیسے دیر کرکے سوئے تھے،ویسے ہی دیر کر کے اٹھے۔منھ ہاتھ دھویا،بالوں میں کنگھی کی،تیل ڈالا،سرمہ لگایا،پان کھا ،چھڑی رومال ہاتھ میں لے چلتے ہوئے۔کسی کام سے نہیں،کسی خاص شخص کی ملاقات کو نہیں ،جس کسی جان پہچان کے گھر جی چاہا جاموجود ہوئے۔ (ص:۷۹)
یہ تھی اس عہد کی تہذیبی ،معاشرتی اورا قتصادی صورتحال جس کا ہو بہو نقشہ نذیر نے اس ناول میں کھینچا ہے کم و بیش یہی صورتحال آج بھی ہے۔ اس طرح سے نذیر احمد نے ۱۳ فصل کو ۱۰۷ صفحات میں سمیٹ کر مذکورہ بالا صورتحال کی عکاسی کی ہے اور پورا زور بیان اورزور استدلال ۱۲۰ صفحات پر مشتمل چودہویں فصل پر صرف کی ہے ۔یہیں سے سرسید کے تعلیمی مشن کی پر زور وکالت ہوتی ہے اوران تمام شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جاتا ہے جو اس سلسلے میں پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً سید صادق جو عقلی مذہب کا قائل ہے اور زندگی کے ہر مسئلے کو عقل سے حل کرنا چاہتا ہے مگر ایک وقت ایسا اس پر گزرتا ہے کہ وہ عقل اور عقیدے کی بحثوں میں پڑکر ایک عجیب ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوجاتا ہے ،آخر ایک دن وہ انھیں اختلافی مسائل کی الجھنوں میں گرفتار رہتا ہے کہ یک بیک اس منھ سے یہ کلمات ادا ہوتے ہیں کہ’’اے خدا اگر واقع میں تو خدا ہے جیسا کی تما م اہل مذاہب تجھے مانتے ہیں تو مجھ کو ورطہ حیرت سے نکال اور حق بات میرے دل میں ڈال دے‘‘ادھر سید صادق کے منھ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ ادھر صادقہ خواب سے بیدار ہوئی اور کہا کہ میں نے ایک لمبا خواب دیکھا ہے جس میں تم ایک بزرگ کے سامنے مذہب کے بارے میں اپنے شکو ک و شبہات بیان کر رہے ہو اور وہ تمہاری بات کا نہات ہی تسلی بخش جواب دے رہے ہیں۔در اصل اس ناول کا حاصل صادقہ کا خواب ہی ہے جس میں ایک بزگ کی زبانی سید صادق کی ذہنی کشمکش اورمذہبی شکو ک و شبہات کو نص قطعی سے دور کرنے پر پورا زور قلم صرف کیا ہے اور ان تمام امور اور مسائل کا کھل کر اظہار کیا جو ہر عقلی اور اعتقادی انسان کے مسائل ہوتے ہیں مثلاًخدا اور اس کی وحدانیت اور صفات کا عقلی ثبوت،عقل انسانی کی نارسائی،انسان کی بے حقیقتی،صادقہ کے مذہبی خواب،دینی خیالات کے سلسلے ،مذہب کی ضرورت اور عدم ضرورت،عاقبت کے یقین اور عدم یقین،عبادت کی اہمیت و افادیت،شریعت نصف دین ہے یا نہیں،مذہبی مباحثہ کس طرح ہونا چاہیے،دین کا دستور العمل کیا ہے،مذہبی شکوک و شبہات کا دفعیہ کیسے اور کس طرح ہو،مقلدین اور غیر مقلدین کے مابین جھگڑے کی اصل بنیا د کیا ہے،شیعہ اور سنی کے مابین کن باتوں میں اختلاف ہے،اہل تصوف کون لوگ ہیں ،فرقہ صوفیہ کیا ہے ،اس کی اصل بنیا د کیا ہے،فرقہ نیچری کون ہے،دعا کی ضرورت کیوں ہے،وحی اور معجزات پر یقین کس طرح کیا جائے،عقلی اور نیچری فلسفہ حیات وغیرہ خیالات کو صادق اور بزرگ کے سوال و جواب کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے ۔ان تمام موضوعات و مسائل کو ضبط تحریر میں لانے کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ مغربی تعلیم کے اثرات سے مسلمانوں کی نوجوان نسل کو مذہب اسلام سے گمراہ ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ 
در اصل نذیر احمد کو ایک ایسے فرد کامل کی تلاش تھی جو جدید تعلیم سے آراستہ ،روشن خیال ،زمانے کے تقاضوں سے با خبر ،اپنے مذہب کا پابند ہونے کے ساتھ اپنی تہذیب و معاشرت پر کار بند ہو چنانچہ اسی فرد کامل کو پیش کرنے کے لئے انہوں نے رویائے صادقہ لکھا۔اس ناول میں انہوں نے صادقہ کے ذریعے ایک تعلیم یافتہ نوجوان کے خیالات کی اصلاح کوشش کی ہے۔اور بقول عظیم الشان صدیقی:
’’اس کے لئے خواب کی جو ٹیکنک استعمال کی ہے وہ اسے فن کے دائرے سے دور لے جاتی ہے ۔اس میں قصہ برائے نام ہے بلکہ اس کی واعظانہ حیثیت زیادہ ہے اور مقصد کی گہری چھاپ شروع سے آخر تک نظر آتی ہے۔‘‘(اردو ناول آغاز و ارتقا،ص:۱۵۷)
نذیر کے ناولوں میں مقصد کی گہری چھاپ کانظر آنا عین فطری تھا کیونکہ وہ جس مشن کے زیر اثر لکھ رہے تھے اس کا مقصد ہی تھا سماج اور معاشرے میں سدھار لانا،نوجوان نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرنا،تعلیم نسواں کو فروغ دینا ،مذہبی اور سماجی توہمات اور فرسودہ رسم ورواج کے منفی اثرات کو واضح کرکے ترقی کی بھاگ دوڑ میں شامل ہونے کی تلقین کرنا اور مختلف علوم و فنون کے حصول سے ذہنی کشادگی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلانا تھا۔چنانچہ نذیر احمد نے اپنے ناولوں کے ذریعہ یہی کام کیا۔رویائے صادقہ میں آج کی نوجوان نسل خاص طور سے مڈل کلاس جس سماجی ،مذہبی اور معاشرتی کشمکش سے دوچار نظر آتی ہے ان سب کا برملا اظہار ہو ا ہے۔ اس کے علاوہ اس ناول کی زبان میں ثقالت بھی ہے کچھ نامانوس الفاظ بھی ہیں ضرب الامثال اور محاورات بھی ہیں نیز جا بجا فارسی اور اردو اشعار کی کثرت اور غیر معروف مصطلاحات سے ان کی عبارت کی دلکشی ایک حد تک مجروح ضرور ہوئی ہے مگر یہ سب بر محل ہیں۔جگہ جگہ قرآنی آیات اور احادیث نبویہ اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور عقائد میں پختگی لانے معاون ثابت ہوتے ہیں اس لئے اس طرح کی جتنی باتیں ہیں سب کے سب مقتضائے حال کے مطابق ہیں۔اس ناول کو پڑھنے کے بعد اس بات کا شدت سے احساس ہو ا کہ میں نے ناول نہیں پڑھی بلکہ اسلامی اور مذہبی تعلیمات سے پُر موعظ حسنہ کی کتاب پڑھی ہے کیونکہ پوری کتاب میں جگہ جگہ نص قطعی،احادیث نبویہ،اقوال صحابہ،قصص انبیاء اور بزرگوں کے قصوں کے ذریعہ ہر بات کے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
حاصل حاصل کلام یہ کہ نذیر احمد نے اس ناول میں مذہب اور معاشرت سے متعلق اپنے خیالات ، تصورات ، معتقدات ، اور معلومات کا کھل کر اظہار کیا ہے جس سے ایک طرف اس زمانے کی ذہنی کشمکش کی تصویر سامنے آجاتی ہے تو دوسری طرف اس میں جو جوابات ہیں ان کی بنیاد روایت اور عقیدے کے بجائے معقولی اورمنطقی ہیں اور معقولی اور منطقی ہونا ایک طرح سے ذہنی ارتقا کی علامت بھی ہے۔تیسری بڑی خصوصیت یہ کہ ان کے ناول کے تمام کردار اسم با مسمیٰ ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ نذیر احمدان کے نام ان کی شخصیت کی بنا پر رکھتے ہیں یعنی جیسا نام ویسی ہی شخصیت۔ابن الوقت ہو یا حجۃ الاسلام ،جانثار مسٹر ڈبل اور مسٹر شارپ،یا صادق اور صادقہ کا کردار ہو سبھی اپنے نام کے نمائندہ ہیں۔چوتھی یہ کہ ان کے تمام ناولوں کے بیشتر کردار کا تعلق نو جوان نسل سے ہے،پانچویں یہ کہ اصلاحی شدت اور تبلیغی مزاج اور رجحان، غیر منطقی طور پر کرداروں کو موڑ دیتا ہے جس سے وہ نمو پذیر نہیں ہوپاتے ہیں۔ اس ناول کو چند صفحات میں بھی سمیٹا جا سکتا تھا مگر طول طویل بحثوں، وعظ و نصائح اور تقریروں نے اس کی رفتار سست کر دی ہے۔مگر ایک خاص بات یہ کہ نذیر احمد کے ذاتی مشاہدے ،تجربے اور پیش بیں نگاہ کی داد نہ دیناسراسر زیادتی ہوگی کیونکہ انہوں نے آنے والے حالات و واقعات کا تجزیہ کر کے جن نتائج کا استخراج کیا ہے وہ آج بہت حد تک درست ثابت ہو رہے ہیں۔ 
امتیاز احمد علیمی

ریسرچ اسکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی


 مضامین دیگر 


Comment Form


    Kumar Shubham ( Commented on : 16-06-2018 )
  Good  
  azam ( Replyied on : 16-06-2018 )
  fyutuyi 
  c ( Replyied on : 16-06-2018 )
  Okay 
  c ( Replyied on : 16-06-2018 )
  It is true @ Azam 


    Ravi ( Commented on : 16-06-2018 )
  Good website  


    Kumar Shubham ( Commented on : 16-06-2018 )
  ہر نئی تخلیق خواہ شعری ہو یا نثری اپنے قاری کی تلاش میں ہوتی ہے جب تک اسے اس کا باشعور،با صلاحیت،سنجیدہ اور غیر جانبدار تنقیدی بصیرت کا حامل قاری نہیں مل جاتا اس تخلیق کی اہمیت اور افادیت کھل کر سامنے نہیں آسکتی ۔ تخلیق کار جو داخلی اور خارجی کرب و اذیت ،سماجی جبر و تشدد،معاشرتی مفروضات اور توہمات،فرسودہ رسم و رواج  



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.