منڈیر پر بیٹھا پرندہ




:ڈاکٹر ریاض توحیدی
03 Jul, 2018 | Total Views: 62

   

اردو میں بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو ناقد ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیق کار بھی ہوں۔ ڈاکٹراحمد صغیر ایک کامیاب فکشن نگار بھی ہے اور تنقیدی شعور کا ملکہ بھی رکھتے ہیں۔فکشن کے ضمن میں ابھی تک ان کے تین ناول’’جنگ جاری ہے‘‘،’’دروازہ ابھی بند ہے‘‘اور ’’ایک بوند اُجالا‘‘ اور پانچ افسانوی مجموعے’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘،’’انّا کو آنے دو‘‘، ’’درمیاں کوئی تو ہے‘‘،’’داغ داغ زندگی‘‘ اور ’’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔اور تنقید کے تعلق سے پانچ کتابیں ’’نئی کہانی نیا مزاج(تجزیہ)‘‘،’’اردو افسانوں میں احتجاج‘‘،’’اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ1980 کے بعد‘‘، ’’اُردو ناول کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد‘‘ اور ’’بہار میں اُردو فکشن‘‘شائع ہوچکی ہیں۔احمد صغیر کے بیشتر افسانوں میں دھیمے احتجاج کی لے موجود ہوتی ہے اوریہ احتجاجی لے پیش نظر افسانے میں نظر آتی ہے۔ افسانہ’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘کابنیادی موضوع نفسی سماجی بحران (Psycho-social crisis) ہے جس کوتخیلی بنیاد پرمنڈیر پر بیٹھے پرندہ کی علامت میں فنی ڈسکورس بنایا گیا ہے۔افسانے کی شروعات ایک تشویشناک ماحول میں یوں ہوتی ہے
’’آنکھوں میں آسمان!
پیروں میں سفر!
ہاتھوں میں پتھر!
’’وہ پرندہ کب کہاں مل جائے جس کی تلاش نے مجھے گلی کوچوں کی خاک چھاننے پر مجبور کردیا۔میں کتنے مزے سے اپنے گھر میں سکھ کی سانس لے رہا تھا کہ اچانک میری منڈیر پر وہ ایک پرندہ نظر آگیا۔پہلے تو میں نے نظر انداز کردیا‘لیکن آہستہ آہستہ وہ میرے حواس پر چھاتا چلا گیا اور پھر اس نے اس پر اپنا قبضہ جمالیا۔ میں نے بار بار اسے جھٹکنا چاہا لیکن اس کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ چھٹکارا نہ پا سکا۔
منڈیر پر بیٹھا پرندہ!
اس نے عجیب و غریب ڈھنگ سے مجھے متاثر کیا۔‘‘ 
ابتدا میں ہی مرکزی کردار کی ہیجان انگیز نفسیات سے ظاہر کیا گیاہے کہ کردار نفسی تناؤ(Psychic Tention)کا شکار ہے اور اس تناؤ کا محرک منڈیر پر بیٹھا ہوا پرندہ ہے جس کی پراسرارموجودگی کردارکے حواس پر ایسے چھا ئے رہتی ہے کہ خوف کی وجہ سے کردار کاجینادو بھر ہوجاتاہے۔اب یہاں پر ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ کردار خوف کے زیر اثر خاموش نہیں رہتا بلکہ ہاتھوں میں پتھر اٹھا کر (یعنی عملی احتجاج کرکے)پرندے کی تلاش میں گلی کوچوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہوجاتا ہے لیکن وہ پرندہ کہیں پر بھی نظر نہیں آتا۔اس کے بعد پرندے کے آنے جانے اور پرتناؤ آواز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلے تو دن بھر بیٹھا رہتا اور شام ہوتے ہی غائب ہو جاتا۔ پھر دن بھر غائب رہتا اور شام ہوتے ہی منڈیر پر آبیٹھتا۔ کبھی کبھی ڈراؤنی آواز بھی پیدا کرتا۔ کئی دفعہ میری بیوی اور بچے اس سے خوف کھا چکے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ عادی ہوتے گئے۔ میں تو پہلے ہی عادی ہو چکا تھا۔ لیکن اُس کی آنکھیں۔!
اب مرکزی کرداراور اس کے گھروالے پرندے کی موجودگی پر مجبورہوکر سمجھوتہ تو کرجاتے ہیں لیکن پرندے کی خوفناک آنکھوں نے ان کے ڈر کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ اب بیوی پریشانی کے عالم میں دوٹوک الفاظ میں کہتی ہے کہ اب بچے بھی نیند میں پرندے کے خوف سے ڈرجاتے ہیں اسلئے وہ اس گھرمیں نہیں رہ سکتے.اس طرح سے پرندے کے خوف کا سایہ مرکزی کردار کے بعد اس کے گھروالوں کے ذہنی تناؤ سے بھی ظاہرہورہا ہے کہ یہ خوف تو ہر کسی کے دل میں گھر کرگیا ہے۔مرکزی کرداراگرچہ زبانی احتجاج یعنی ہش ہش کا مظاہرہ بھی کرتا ہے لیکن پرندے پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے ۔وہ اسے بھگانا چاہتا ہے لیکن وہ نہ صرف اپنی جگہ پر ڈٹا رہتا ہے بلکہ اس کی آنکھیں کردار کو اور زیادہ خوف زدہ کردیتی ہے۔اب اس گھمبیر صورتحال میں مرکزی کردار اپنی بے چینی کا اظہار لوگوں کے سامنے کرنا چاہتا ہے لیکن وہ سوچتا ہے کہ لوگ یہ سن کر طنز کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑائیں گے کہ وہ ایک پرندے سے ڈر رہا ہے جبکہ لوگ فضا میں لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔اس بیان سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یا تو پرندے کی موجودگی کا خوف سارے سماج میں اتنا عام ہوچکا ہے کہ اب لوگ اسے زیادہ سیریس نہیں لیتے ہیںیا یہ معاملہ صرف سماج کے ایک فرد یا طبقہ کے ساتھ پیش آرہا ہے جو کہ کسی مخصوص خوف کی زد پر ہیں۔یہ سب صورتحال بیانیہ سے ظاہر ہورہی ہے کیونکہ راوی اپنی دخل اندازی کے بغیردھیرے دھیرے مرکزی کردار کی داخلی بے چینی کے ذریعے کہانی کو آگے بڑھا رہا ہے جو کہ فنی طور پر بڑا سود مند ثابت ہورہا ہے۔
مرکزی کردار جب یہ سوچ کر خاموش ہوجاتا ہے کہ پرندے کا ذکر کسی کے سامنے کرنا ٹھیک نہیں رہے گا تو وہ اخبار پڑھنا شروع کردیتا ہے۔اخبار میں جس خبر پر اس کی نظر پڑتی ہے تو یہاں پر پرندے کی خوف والی علامت کچھ حد تک کھل جاتی ہے کہ اصل میں منڈیر پر بیٹھا پرندہ کیا بلا ہے جس کا ڈر غیر محسوس انداز سے لوگوں کو پریشان کررہا ہے:
’’دو سوپر طاقتوں نے فضا سے اپنے خیمے اکھاڑ لینے کا معادہ کرلیا ہے۔ اب جنگ کے خطرات کم ہوجائیں گے اور امن کا پرچم
لہرانے لگے گا۔
لیکن ہیروشیما؟ 
میں اپنے کو ٹٹول کر دیکھتا ہوں۔ میں بالکل عافیت سے ہوں۔لیکن وہ پرندہ؟.........‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ پورے افسانے میں مذکورہ بیان مرکزی معنویت کا حامل ہے اور یہ بیان افسانے کی خوف اور احتجاجی کیفیت کا بنیادی حوالہ بن رہا ہے۔عصر حاضر کی پُرآسائش زندگی نے انسان کو ظاہری طور پر جتنا خوشحال بنایا ہے اتنا ہی داخلی سطح پر خوف زدہ کرکے بھی رکھ دیاہے۔دنیا اب سمٹ کرعالمی گاوں(Global Village) کی صورت اختیار کرچکی ہے لیکن اس عروج نے زوال کا جال بھی اتنا پھیلایا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے کا انسان خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہا ہے۔اس خوف کی شروعات جنگ عظیم اول اور دوم سے ہوئی اور آج بھی دنیا کے بیشتر حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مرکزی کردارجب اخبار میں دو سوپر طاقتوں کی لڑائی کا خاتمہ بڑھ کر سوچتا ہے کہ ہیروشیما کی تباہی کے بعد بھی میں عافیت سے ہوں لیکن وہ پرندہ۔۔۔؟یعنی اصل میں یہ پرندہ جنگ و تباہی کا وہ پرندہ ہے جو دنیا کے گوشے گوشے میں اپنے پر پھیلا چکاہے اور موقع ملتے ہی اڑان بھرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
اس کے بعد کہانی نیا موڑ لیتی ہے۔مرکزی کردار پرندہ کے خوف کو ختم کرنے کے لئے نکل پڑتا ہے یعنی جنگ مخالف مہم چھیڑ دیتا ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ پرندہ امن کے خوف سے بھاگ گیا ہے مگر پھر اچانک اپنی خون آلود ہتھیلی کو دیکھ کر اسے حیرانی ہوتی ہے کہ یہ خون آیا کہاں سے؟یعنی ایک طرح سے قاتلوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی خون خرابے کے ذمہ دار ٹھہر جاتے ہیں جو کسی کا قتل دیکھ کر خاموش رہتے ہیں اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے ہیں۔اسی لئے اپنے امن پسند ہاتھوں میں خون دیکھ کر اسکا ضمیر جاگ اٹھتا ہے کہ:
’’تاملوں کا خون!
پنجابیوں کا خون!
امن دستے کا خون!
اقلیت کا خون
’’سب کا رنگ تو ایک ہی تھا....ایک ہی ہے.....اور ایک ہی رہے گا......لیکن ہم لڑتے رہیں گے اس لئے کہ ہماری فطرت میں بندروں کی فطرت شامل ہے ...‘‘
کافی دوڑ دھوپ کے باوجود اسے جب شہر بھر میں کہیں بھی پرندہ نظر نہیں آتا ہے تو وہ اطمینان کی سانس لیکر گھر کی طرف لوٹ آتا ہے ۔وہ خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ شاید پرندہ خوف کے مارے منڈیر چھوڑ کر بھاگ گیا ہے لیکن جونہی وہ گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کی نظر منڈیر کی طرف اٹھ جاتی ہے اور پرندہ اسے گھور رہا ہوتا ہے:
’’خودبخود میری نگاہ منڈیر کی طرف اٹھ جاتی ہے‘وہ پرندہ پھروہاں بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔‘‘
یعنی اس خوف سے اب بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔اس طرح سے افسانہ ہیجان انگیز کیفیت(Agitational condition) سے شروع ہوکراسی کیفیت پر اختتام پزیر بھی ہوا ہے‘جو کہ فنی طور پر افسانے کی علامتی ساخت کو متحرک رکھنے میں اہم رول نبھا رہا ہے۔افسانے کی کہانی ابہامی سطح پر معنی انگیز کرنے میں تھوڑی بہت مشکل دکھائی دیتی ہے لیکن بین المتن پوشیدہ معنویت پر فوکس کرنے سے کئی جہات کو کھول دیتی ہے۔منڈیر پر بیٹھا پرندہ اصل میں کوئی پرندہ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ معاصر دنیا کی وہ علامتی خوفناک صورت حال ہے جو ہر گھر کے دروازے پر کبھی نہ کبھی دستک دیتی رہتی ہے ‘ چاہے وہ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا جنگی صورت حال ہو‘ہر انسان کے اعصاب پر اس پرندے کا خوف چھایا ہوا ہے۔بہرحال افسانے میں معاصر انسان کے جس ذہنی تناؤ کو علامتی روپ میں ڈسکورس بنایا گیا ہے وہ فنی اور موضوعاتی طور پر پیش کرنے میں مکمل کامیاب نظر آتا ہے۔
 

 مضامین دیگر 


Comment Form


    ڈاکٹر ریاض توحیدی ( Commented on : 01-07-2018 )
  بے حد شکریہ  



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.