11 Sep, 2017 | Total Views: 116

افسانہ’’ کیمیکل‘‘: ایک تجزیہ

ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ

افسانہ’’کیمیکل‘‘سید تحسین گیلانی(جانس برگ ساوتھ افریقہ)کی تخلیق ہے۔یہ افسانہ سوشل ویب سائیٹ کے ایک معروف افسانوی فورم ’’پروگریسو اردو رائٹرس اکاڈیمی‘‘پر موجود ہے۔ اس پر دنیا بھر کے کئی اہم اردو قارئین /ناقدین نے اپنے تاثرات پیش کئے ہیں۔ یہ فورم پاکستان کے ایک ممتاز فکشن نگار اور ناقد جناب نعیم بیگ کی سرپرستی میں چل رہا ہے۔ اس فورم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس پر صرف معیاری افسانے شائع کئے جاتے ہیں۔افسانہ ’’کیمیکل‘‘ تین کرداروں یعنی مرد‘عورت اور ڈاکٹر پر مشتمل ہے۔اس کی کہانی میں عورت کے سوچنے کی صلاحیت کونفسیاتی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گی ہے۔ٹیکنیک اوربیانیہ کے لحاظ سے یہ پوسٹ ماڈرن افسانے کے زمرے میں آسکتا ہے ۔
فنی نقطہ نظرسے کسی بھی افسانے کے متن کی ٹیکنیک‘ پلاٹ ‘بیانیہ ‘کرداراور کہانی کاماحول وغیرہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔اب جبکہ کسی افسانے کا مطالعہ پیش نظر ہو تو تنقیدی اعتبارسے جو کچھ متن ظاہر کررہا ہے اسی کی توضیح کرنا لازمی بن جاتا ہے ‘نہیں تو سرسر ی مطالعہ کے بعد انسان صرف چند تاثراتی کلمات ہی بتا سکتا ہے ‘لیکن اس کے لئے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جو تحریر افسانے کے نام پر پیش کی گی ہے کیا وہ فن افسانہ کے تقاضوں پر پورا اترتی بھی ہے یا نہیں؟ساختیاتی تنقیدکے زیر نظر کسی بھی متن پر فوکس کرتے ہوئے یہ دیکھنا بڑا اہم ہوتاہے کہ اس متن کے تخلیقی بیانیہ اورتجریدی یا علامتی نظام کی تشکیل و تعمیر میں کونسے عوامل سرگرم دکھائی دیتے ہیں پھر ان ہی عوامل کے آئینے میں معنی سازی کا عمل شروع ہوجاتاہے۔ مابعد جدید تھیوری کی ایک خوبی تو یہ ہے کہ یہ کسی بھی متن کو آزادانہ طور پر پرکھنے کا جواز فراہم کرتی ہے لیکن پرکھنے کے اس عمل میں متن سے غیر متنی تصورات شامل نہ ہوں۔ اس تناظر میں زیر تجزیہ افسانہ''کیمیکل''کے موضوعاتی ساخت کی طرف توجہ دیں تو اس کا متن تناقضات کامظہر(Paradoxical)ہے۔اس میں مرکزی کردار(عورت) کے رول کو استقرائی فکر ( Inductive Thinking) کے پیکر میں پیش کیا گیا ہے۔یہ چیز افسانے کی ایک اہم خوبی کہی جاسکتی ہے۔پھر یہی سوچ انتقالِ فکر (Thought Transference) کے ذریعے علامتی فکر(Symbolic Thought )میں تبدیل ہوجاتی ہے۔افسانے میں مرکزی کردار کی تشکیل میں آہنگی ارتعاش(Viberto) موجودہے اور وہ نفیساتی بہرہ پن( Psychic Deafness )کا شکار ہوچکا ہے۔ اس کی وجہ نر کے مادہ تولید(Sperm)کا نقص ظاہر کیا گیا ہے جو بین المتن (Inter Text)میں بڑی ہنرمندی سے پوشیدہ رکھا گیا ہے ۔افسانہ مرکزی کردار عورت کے ذہنی توازن کی صورت حال کے متنی تناقض کی عکاسی یوں ظاہر کرتا ہے: ’’ہم تسلی کے لیے آخری بار چیک اپ کے لیے آئے تھے ۔لیکن میں فیصلہ کر چکی تھی !!!
ہم دونوں کی شاید یہ آخری ملاقات تھی ۔وہ میرے سامنے تھا۔ بھرپور مرد ،وجیہہ شخصیت کا مالک ،خوب رو گہری بھوئیں، پیشانی سے بھی ذرا آگے تک آئے ہوئے گہرے کالے بال ،کانوں کی لووں کو چھوتی ہوئی قلمیں، تیکھی ناک اور صاف رنگت کا مالک وہ شخص میرے سامنے ہی بیٹھا تھا جس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال بتائے تھے ۔ ہم دونوں کا جو تعلق دوستی سے شروع ہوا رشتے پر ختم ہو رہا تھا ۔
اْس میں کیا کمی تھی میں یہ بھی نہیں جانتی تھی لیکن مجھے اس سے تعلق نہیں رکھنا تھا ۔‘‘
افسانے کے اس ابتدائی مکالمے میں مرکزی کردار کی سوچ کاتضاد(Paradox )صاف عیاں ہے۔ایک طرف وہ آخری بار اپنا میڈیکل چیک اپ کرانے آئی ہیں اوراسے پتہ ہے کہ اس کواندر سے کیا پریشانی کھا ئے جارہی ہے لیکن عدم توازن کی شکار بھی ہے اور اپنے ہمسفر کی خوبیوں یعنی بھر پور مرد‘وجیہہ شخصیت وغیرہ کے احساس کے باوجود نفرت آمیز رویہ رکھنے کا کوئی ٹھوس جواز پیش کرنے سے بھی قاصر نظر آتی ہے کہ اس کے ہمسفر میں کس چیز کی کمی ہے جو رشتہ توڑنے کا سبب بن رہی ہے۔پورے افسانے میں صرف عورت کا بیانیہ غالب ہے اور اس پر اتنا نفسیاتی تناؤ چھایا ہواہے کہ وہ مرد کی کسی بات کا بھی سیدھے منہ جواب نہیں دے رہی ہے۔حتی کہ جب مرد اسے بڑے سکون سے پوچھتا ہے : ’’دیکھو تم ایسا کیوں کر رہی ہو ؟
معلوم نہیں !!!
اور ۔۔۔.. کیا سوچتی ہو میرے بارے میں تم ؟ 
کیا کبھی ہماری محبت ہمارا وہ جنون تمہیں یاد نہیں آیا ؟‘‘
تو اس وقت بھی اس کا لہجہ آہنگی ارتعاش کا شکار ہوجاتاہے اور اس کے منہ سے مسلسل نفرت انگیز آواز کا زیروبم شروع ہوکرپورے افسانے پر چھایا رہتا ہے ۔مثلاََ: ’’تمہاری آواز کے دانت جب میرے جسم میں پیوست ہوتے ہیں تو میرے جسم سے لہو کی جگہ درد رستا ہے ۔ الماری میں لٹکے ہوئے تمہارے کپڑے تمہاری غیر موجودگی میں آسیب بن کر اپنے خونخوار پنجے میرے ذہن کی رگوں میں گاڑتے ہیں اور میرے خیالوں کے چیتھڑے اڑاتے چلے جاتے ہیں ......‘‘
’’
دیکھو اس جنگل بیاباں میں کتنی اداسیاں برہنہ پڑی ہیں۔کتنی فریادیں اس گھنے جنگل میں دفن ہیں۔کتنے خوابوں کی اجاڑ قبریں ہیں اس میں اور کتنی پامال حسرتوں نے ڈیرے لگا رکھے ہیں وہاں ...
لیکن تمہیں کیا تم مرد ہو پیسہ بنانے والی ایک مشین ،ظاہری ضرورتوں کے بیوپاری تم کیا جانو حسرتیں خواب اداسی کیا تمہیں تو صرف داسی کا ملن چاہئے قیمت چاہے اس کا خون ہی کیوں نہ ہو ...‘‘ اس طرح سے افسانہ نگار نے افسانے میں مرکزی کردار(عورت) کی طرف سے مرد پرلگائے جارہے روایتی نوعیت کے جارحانہ الزامات اور جنس مخالف کی منفی سوچ کو علامتی پیکر میں پیش کیا ہے کہ مرد ظالم ہے ‘لالچی خود غرض‘عورت کا استحصال کرنے والا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس افسانے کے متن کا ٹریٹمنٹ اور کردار کی سچیویشن کاایک دلچسپ پہلویہ بھی نظر آتا ہے کہ جب کسی انسان کی نفسیات میں نفرت کے جراثیم سرایت کرجاتے ہیں تو اس پر نفسیاتی بہرہ پن کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور وہ مناسب بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ اس تناظرمیں افسانے کے مرکزی کردارکی نفسیات کا جائزہ لیں تومرکزی کردار(نورین)کی خود ساختہ متنفر سائیکی‘ اس کی نفسیات پر اسطرح سے اثر انداز ہوچکی ہے کہ وہ قوت سماعت کے باوجود مرد کی کوئی جینوئن بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوجاتی اور صرف طنز آمیز لہجے میں لفظوں کے تیر ہی چلاتی رہتی ہیں۔جب مرد اتنا سب سننے اور سہنے کے بعداسے پوچھتا ہے کہ ’’ اور کیا سوچتی ہو میرے بارے میں ۔۔۔‘‘ تو وہ اپنی نفرت بھری بھڑاس یوں نکالتی ہے:
’’
۔۔۔بلکہ ظلم بھی اگر تمہارا اصل چہرہ دیکھ لے تو اس کی بھی نسیں پھٹ جائیں یہ عورت ہی ہے جو اس ظلم کی ڈولی میں بیٹھ کر اپنی ہستی کو جنازے میں بدل ڈالتی ہے ۔ ‘‘
افسانے میں مرد کی مثبت سوچ کی عکاسی اس انداز سے کی گی ہے کہ اس کے اندر بظاہر کسی بھی قسم کی کیمیکل کمزوری کا عندیہ نہیں ملتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ عورت کے طعنے سہتے ہوئے بھی محبانہ لہجے میں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے
’’
دیکھو ابھی کوئی فیصلہ مت کرو جلد بازی اچھی نہیں ۔شاید تم سب سچ کہہ رہی ہو لیکن میں صرف اور صرف تم سے محبت کرتا ہوں یہ بھی ایک سچ ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کو آ لینے دو تب تک میری رہو ۔‘‘
آخر پر افسانہ نگار نے ڈرامائی انداز میں ڈاکٹر کی زبان سے مرکزی کردار(عورت) کی تمام غلط فہمیوں اور نفرت کو دلچسپ انداز سے دور بھی کیا ہے اورایک مرد کے تئیں ایک عورت کے نفرت آمیز اور خود ساختہ الزام تراشی یا منفی سوچ کی جذباتیت کا بھی پوسٹ مارٹم کر ڈالا ہے ‘کیونکہ افسانے کا کلائمکس اس وقت متاثر کن دکھائی دیتا ہے جب ڈاکٹر صاحبہ مرکزی کردار (نورین) سے معذرت خواہانہ لہجے میں کہتی ہیں:
’’
سوری ...وہ نورین آپ ہیں !! 
جی... جی ڈاکٹر صاحبہ 
ہم معافی چاہتے ہیں پرانی رپورٹس غلط تھیں شاید کیمیکل میں کچھ مسئلہ تھا ۔ 
مبارک ہو آپ ماں بننے والی ہیں !!‘‘
تو افسانے کے مرکزی کردار کا سارا نفرت آمیز شورشرابہ ختم ہوجاتا ہے اور اس کی خود ساختہ نفرت بھری کیمسٹری کی وجہ بھی سامنے آجاتی ہے۔دراصل عورت کی پروبلم یہی تھی کہ وہ ماں نہیں بن سکتی تھی جس کا قصوروار وہ غیر شعوری پراپنے مرد کو ٹھہراتی تھی لیکن ڈاکٹر کی رپورٹ اس کے سارے سائیکلوجیکل کیمیکل کو غلط ثابت کردیتی ہے س طرح سے افسانے کے بیانیہ کا نفسیاتی ماحول قاری کی سوچ کو اپنی گرفت میں چکڑ کر رکھتاہے جو کہ اس افسانے کی ایک اہم خوبی قرار دی جاسکتی ہے۔
کسی بھی فن پارے کے اسلوبی خصائص(Style features)میں زبان و بیان کا بنیادی رول ہوتا ہے اور افسانے کے تخلیقی عمل کے دوران زبان اور اسلوب کے برتاؤ کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔افسانے میں جس قسم کا کردار موجود ہو تو اس کے مکالمے میں اسی کے موافق زبان بھی استعمال ہونی چاہئے۔ زیر تجزیہ افسانے کے مرکزی کردار کے مکالمے تخلیقی زبان میں ہی پیش ہوئے ہیں کیونکہ متن میں مرکزی کردار کو ایک تخلیق کار کے روپ میں ہی پیش کیا گیا ہے ۔چونکہ جب مرکزی کردار کا شوہر اسے کہتاہے کہ’’ دیکھو اس وقت شاید تم بہت خفا ہو رہی ہو‘ ہم پھر بات کریں گے ۔کئی دنوں سے دوا بھی نہیں کھائی !!‘‘تو اس کی زبان اور لب و لہجے سے صاف عیاں ہوجاتا ہے کہ وہ ایک تخلیق کار بھی ہے کیونکہ اس کے بیانیہ میں جگہ جگہ ادبی زبان کی چاشنی محسوس ہوتی ہے۔جیسے:
’’
کس لئے کھاوں میں دوا اور سنو ۔۔مجھے تم سے بات ہی نہیں کرنا ۔ مجھے میرے پانچ سالوں کا حساب چاہیے جو تم نے برباد کیے۔ تم ایک مصنفہ کے قاتل ہو ۔تم نے اپنی عیاشی کے لیے اسے جیتے جی مار ڈالا تم نے مجھ سے مجھے چھین لیا اور کیا دیا مجھے ان پانچ سالوں میں اداسی ، تنہائی اور وہ راتوں کی دبی دبی چیخوں کے سوا کیا دیا مجھے تم نے ۔جاو میرے قلم میں سکون کی وہ سیاہی بھر لاؤ کہ جس کی چمک آسمان پر بکھرے ان ستاروں سے بھی زیادہ تیز تھی ۔جاو میرے ناولوں / کہانیوں کے ہنستے مسکراتے ان کرداروں کے پاؤں پڑو اور ان کو واپس میرے ذہن کی دہلیز پر لے آؤ !!!‘‘
مجموعی طور پر قرات کے دوران قاری افسانے کے اسلوب ‘ٹریٹمنٹ‘موضوع ‘کہانی پن اور افسانویت سے ضرور محظوظ ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر ۔ انڈیا۔193221
Email.drreyazbhat@yahoo.in 
mob.9906834877 

 مضامین دیگر 

شکریہ
2017-07-05 07:13:25

Comment Form