14 May, 2017 | Total Views: 100

جنت والی چابی ( ایک مطالعہ)

ڈاکٹر بشارت خان


عالمی افسانہ فورم اور جموں و کشمیر فکشن رائٹرس گلڈ کی سوشل سائٹس پر پیش ہورہے افسانوں میں’’جنت والی چابی‘‘کو موضوع بحث دیکھ کرراقم نے زیر نظرافسانے کے عنوان سے سمجھاتھا کہ شاید یہ مذہبی موضوع کا حامل افسانہ ہوگا تاہم افسانے کی متنوع جہات پرمقامی اور عالمی سطح کے ناقدوں‘ مبصروں اور عام قارئین کے تجزیوں‘تبصروں اور آراء کے ساتھ ساتھ متن کی قرات (text reading)نے اتنا محظوظ اور متاثر کیا کہ اس پرتھوڑابہت لکھنے کا ارداہ بن گیا۔
کشمیر کے معاصر نوجوان قلم کاروں/ افسانہ نگاروں میں ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ ‘اپنی تنقیدی ‘تحقیقی اور تخلیقی تحریرات کی وجہ سے ایک علیحدہ مقام بنانے میں کامیاب نظر آرہے ہیں۔پچھلی ایک دہائی سے موصوف کے مضامین اور افسانے ملک اور بیرون ملک کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتے آئے ہیں۔اس کے علاوہ عصر حال تک ان کی چار تصانیف ‘جہان اقبالؔ (تحقیق و تنقید)‘کالے پیڑوں کا جنگل (افسانے) ‘ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبالؔ شناس (تحقیق) اور کالے دیوؤں کا سایہ (افسانے )شائع ہو چکی ہیں۔ڈاکٹرموصوف کا تحریر کردہ افسانہ ’’جنت والی چابی‘‘ ایک ایسے حساس موضوع پر تخلیق ہواہے جو اب ایک گلوبل ڈسکورس (Global Discours) کی حیثیت سے انٹرنیشنل میڈیا‘لٹریچر ‘سیاست اور دینی و سماجی محفلو ں اور پروگراموں میں بحث و تمحیص کا موجب بنا رہتا ہے۔زیر نظر افسانے میں اس گلوبل ڈسکورس کو فکرو تخیل کے متحرک پیکر میں ڈالتے ہوئے فکری ڈائنا مکس (dynamics)کے کئی توجیہات کو منکشف کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔افسانے کا علا متی عنوان ’’جنت والی چابی‘‘ایک ایسے مخصوص گروپ کے زنگ آلودہ دماغوں کو ایکس پوز (expose)کرنے کی چابی ہے جو اپنی خود ساختہ فکرکے ہی اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ افسانے کے مرکزی کردار کا نام’’ امن‘‘ رکھا گیا ہے۔کردار کا یہ نام بھی گہری معنویت کا حامل ہے‘کیونکہ یہ کردار جس دین سے تعلق رکھتا ہے وہ دین تما م انسانوں کو امن کی ہی تعلیم دیتا ہے اور ایجینسیوں کے آلہ کار امن کو بد امنی میں تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ متن کی قرات شروع ہوتے ہی یہ اشارہ ملتا ہے کہ افسانے کا مرکزی کردارایک ٹین ایجر (Teen Ager)طالب علم ہے جو آرمی اسکول میں پڑھتا ہے۔نفسیاتی تناظر میں اس عمر کے بچے کا دماغ نا پختگی (Immaturity)کی وجہ سے کسی بھی پر کشش عمل کا اثرجلد ہی قبول کرلیتا ہے۔اس مناسبت سے دیکھیں تو افسانے کا مرکزی کردار بھی اپنے دوست کی باتوں سے جلد ہی متاثر ہوجاتا ہے۔مرکزی کردار یعنی امن کا دوست بظاہر دینی مدرسے کا طالبعلم ہوتاہے اور دینی تعلیم کی فوقیت ظاہر کرتے ہوئے امن کو یوں متاثر کرتا ہے:
’’
میں دین کی تعلیم پڑھتا ہوں اورجو دین کی تعلیم پڑھتے ہیں وہ جنت میں چلے جائینگے۔‘‘
’’
اور جو انگریزی تعلیم پڑھتے ہیں۔‘‘امن تھوڑا بہت مرعوب ہو کر پوچھ بیٹھا۔’’کیا وہ جنت میں نہیں جائینگے۔‘‘
’’
نہیں‘ ہرگز نہیں.‘‘مدرسے والے لڑ کے نے بڑی اکڑ کے ساتھ جواب دیا۔’’کیونکہ ہمارے استاد محترم کہتے ہیں
کہ باقی سب علم شیطانی علم ہے جو انگریز اور یہودی پھیلاتے ہیں۔‘‘
اس مختصر ڈائیلاگ (Dialogue)میں افسانہ نگار نے مسلم سماج کے اس گروپ کی جاہلانہ سوچ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جس کے حامل لوگ آج بھی اپنے خطابات میں کہیں نہ کہیں اس احمقانہ خیال کا ڈنڈھورہ پیٹتے رہتے ہیں کہ سائینسی علم شیطانی علم ہے لیکن اس علم کے برکات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں۔اس کے بعد افسانہ بنیادی ڈسکورس کی طرف بڑھتا ہے۔امن کا دوست بات کرتے ہوئے جب انگلی میں چابی گھوما کر اس کی توجہ چابی کی طرف پھیرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو امن خوب صورت چابی ہاتھ میں لیکرحیرانی سے پوچھتا ہے :
’’
ارے‘اس پر تو جنت کی چابی لکھا ہوا ہے۔‘‘امن چابی کو غور سے تکتے ہوئے بول پڑا۔
’’ہاں‘یہ جنت کی چابی ہے۔‘‘لڑکا سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا۔’’پر یہ انگیریزی پڑھنے سے نہیں ملتی ہے۔‘‘
’’
تو پھر۔۔۔۔؟‘‘امن تھورا سوچ کر پوچھنے لگا۔’’یہ کس کو ملتی ہے۔‘‘
’’
اسی کو جو دینی تعلیم پڑھتا ہے۔‘‘لڑکا چابی واپس لیتے ہوئے بول پرا۔
اپنے دوست کی باتوں اور خوبصورت چابی کی سحرانگیزی کا اثر امن کے ذہن پر اس قدر پڑتا ہے کہ وہ اپنے اسکول کو چھوڑ کر دوست کے ساتھ دینی مدرسوں کا رخ کرتا ہے ۔چنددنوں کے بعد جب اس کے گھر والوں کو پتہ چلتا ہے تواس کا باپ جو ایک فوجی افسر ہوتا ہے اسے فون پر پہلے بڑی نرمی سے سمجھاتا ہے کہ انگریزی تعلیم پڑھنے کے بعدبھی وہ قوم و ملک کی خدمت کرکے جنت کما سکتا ہے اور جب امن انکار کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہتا ہے:
’’
نہیں ‘وہاں انگریزی تعلیم پڑھائی جاتی ہے اور انگریز مسلمانوں کے دشمن ہے۔‘‘
تو اس کا باپ یہ سن کر حیران ہوجاتا ہے اور فوجی انداز میں دھمکی دیتے ہوئے اس پر برس پڑتا ہے کہ تو کن لوگوں کے بہکاوے میں آکر تباہی کے راستے پر چل پڑا ہے اور اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے ان مفاد پرستوں کی اصلیت سے خبردار کرتا ہے۔لیکن امن اس سب کے باوجود اپنے مقصد کو پانے کے لئے گھر چھوڑ کر چلا جاتاہے۔کئی مہینے مدرسوں میں گزرانے کے بعد وہ ایک دن جب اپنے دوست سے جنت کی چابی کے بارے میں پوچھتا ہے کہ ان مدرسوں میں وہی نما ز اورروزہ والی تعلیم دی جاتی ہے جو انہیں اپنا مولوی صاحب گھر پر ہی دیتا تھا تواس کا دوست اسے سمجھاتے ہوئے کہتا ہے کہ ان مدرسوں میں صرف اخلاقی اور امن پسند تعلیم دی جاتی ہے لیکن یہاں پر جنت والی چابی کا ذکر مت کرنا نہیں تو یہ لوگ ہمیں مدرسے سے نکال دینگے.یہاں پر افسانہ نگار نے بڑی مہارت سے ایک اشکال کو دور کرنے کی کوشش ہے کہ سارے دینی مدرسے دہشت گردی کی تربیت دینے کے زمرے میں نہیں آتے ہیں بلکہ ان مدرسوں کے نام پرصرف ایجینسی پروڈکٹس (Agency products)کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔امن جب جنت والی چابی کافلسفہ پھیلانے والی گینگ میں شامل ہوتا ہے تو وہاں کے ماحول کی افسانے میں پوری منظر کشی کی گئی ہے۔ افسانے میں ان لوگوں کے دوغلے پن کو بڑے بیباک انداز سے ایکسپوز کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو معصوم بچوں کو خود کش بمبار بناتے وقت جنت کی سرٹفکیٹ کا فلسفہ سناتے ہیں اور جب کھبی ان کے اپنے بچے اس آفت کی زد میں آکر مرجاتے ہیں تو ان کے دوہرے معیار پر لوگ ششہ در رہ جاتے ہیں۔فا ضل افسانہ نگاراس طرح کے دوہرے معیار کوافسانے میں ڈرامائی انداز میںیوں اکسپوز کرتے ہیں: ’’دوسرے روزامیر صاحب پھر سے مائیک پر نمودار ہوگئے اور دوران تقریر انہیں سیٹ پر مسیج موصول ہوئی کہ ہمارا مشن کامیاب ہوگیا۔فوجی گاڑی مکمل طورپرتباہ ہوگئی ‘ بہت سارے دشمن واصل جہنم ہوگئے اورہمارے سبھی مجاہدین شہید ہوگئے۔امیرصاحب مائیک پر بڑے فخر سے ابھی کامیابی کی یہ خوش خبری سنا ہی رہے تھے کہ سیٹ پر ایک اور مسیج آئی
’’
امیر محترم ‘انکاونٹر کے دوران بازار میں دوسرے سویلین کے ساتھ ساتھ آپ کا نوجوان بیٹا بھی شہید ہوگیا ہے۔‘‘
یہ خبر سنتے ہی امیر صاحب کا چہرہ زرد پڑگیا اور وہ حواس باختہ ہو کر چلانے لگا : ’’آئے خدا ‘مجھ پر یہ کونساقہر ٹوٹ پڑا‘یہ میرے کن گناہوں کی سزا ہے۔میرے معصوم بیٹے نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ۔‘‘ امیرصاحب کو چند لوگوں نے تھام کر کرسی پر بیٹھا دیا ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
کلائمکس کامثبت پیغام افسانے کی اہمیت میں چار چاند لگا رہا ہے کیونکہ افسانہ نگار نے بڑے فن کارانہ طریقے سے مرکزی کردار یعنی ’’امن‘‘ کی اسیر زدہ منفی سوچ کو مثبت اپروچ میں تبدیل کیا ہے جو قاری کے ذہن پر تعمیری تاثر چھوڑ جاتا ہے .امن جب بارود لیکر اسکول کی طرف خودکش حملہ کرنے کے لئے قدم بڑھاتا ہے تو اسکول اور بچوں پر نظر پڑتے وقت اس کی نفسیاتی کشمکش کانقشہ یوں کھینچا گیا ہے:
’’
چند قدم چلنے کے ساتھ ہی اچانک اس کے قدم رک سے گئے وہ ان ننھے منّے پھول سے چہروں کو دوبارہ دیکھنے لگا۔ اسے پھر اپنے چھوٹے بھائی پر نظر پڑ ی۔ اس خوب صورت منظر سے اس کا خوفناک نشہ اترنے لگا۔ اس کادل زورزور سے دھک دھک کرنے لگا۔وہ عجیب سی کشمکش میں کھو گیا۔وہ سوچنے لگا : ’’میرا باپ تو اپنے ملک کا محافظ ہے۔میری ماں بھی اچھے طریقے سے دین کی باتوں پر عمل کر رہی ہے۔ہماراگھر تو کسی کافر کا ساتھ نہیں دے رہا ہے تو پھر میں کیوں دوسرے معصوم بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے بھائی کو بھی بے گناہ مارڈالوں۔نہیں یہ جہاد نہیں‘فسادہے فساد۔اسلام تو امن قائم کرنے کے لئے جہاد کی تعلیم دیتا ہے لیکن یہ مفاد پرست جہاد کے نام پر دہشت گردی کا کاروبار چلاتے ہیں۔ یہ تو ہمارے ملک کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔جو لوگ نافہم نوجوانوں کو خون خرابہ کرنے کا درس دے کر جنت کے سبز باغ دکھاتے ہیں وہ تو خود اسلام اورہمارے ملک کے دشمن ہیں۔نہیں میں اُن سیاہ سوچ رکھنے والوں کے سیاہ کارناموں کو ضرور ناکام بنا دونگا۔‘‘ 
افسانے کے موضوعاتی جہات پر غوروفکر کرتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ افسانہ’’جنت والی چابی‘‘ میں افسانہ نگار نے بڑی جرات مندی ‘خودداری اور صاف گوئی کا حیرت انگیز مظاہرہ کرتے ہوئے اس موضوع کے حساس پہلووں پر بڑی سنجیدگی سے فوکس کیا ہے ۔ویسے بھی موصوف کے بیشتر افسانوں(جو اردو کے معیاری رسالوں اور سوشل ویب سائیٹس پر نظروں سے گزرتے ہیں) میں ظلم و تشدد کے خلاف آواز بلند ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے‘چاہئے وہ کشمیر کے لوگوں کی داستان غم ہو یا عالمی سطح کا ظلم و تشدد ہویا اسلام کے نام پر غیر اسلامی کام انجام دے کر یہودی و نصرانیوں کے آلہ کا روں کے ناپاک منصوبے ہو ں‘ جو جہاد کے نام پر مسلمانو ں کو ہی مسجدوں اور اسکولوں میں شہید کر دیتے ہیں۔اس تشویشناک صورت حال کی عکاسی افسانہ ’’جنت والی چابی ‘‘میں بھر پور تخلیقی اور علامتی پیرایئے میں محسوس ہورہی ہے۔اس افسانے کے موضوع کی معنوی جہات کو صرف ایک مخصوص ملک یا قوم تک ہی محدود نہیں کیا جاسکتاہے وہ محدود فکر کی عکاسی ہوگی بلکہ ما بعد جدیدیت کے تناظر میں افسانے کا موضوع ایک گلوبل ایشو کو ایڈرس کررہا ہے۔افسانے کا کلائمکس جس مثبت پیغام کا مظہرہے وہ افسانے کو تخلیقی اعتبار بخشنے کیلئے کافی ہے۔افسانے کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کے معروف تجزیہ نگار اور ناول نویس جناب نعیم بیگ لکھتے ہیں:
’’
۔۔۔۔یہ شاندار افسانہ عصر حاضر کے ان المیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جومعاشرے میں تیزی کے ساتھ پنپ رہے ہیں۔ مثبت بات یہ ہے کہ مصنف نے اس ایول (شیطانی)عوامل کے ساتھ ساتھ گڈ اور مثبت (الوہی ) عوامل کو انسانی ذہن کی پہنچ میں دکھایا ہے جہاں ایک بچہ نیکی کی طرف اپنی سوچ سے راغب ہوجاتا ہے ۔‘‘ مجموعی طورپرہم کہہ سکتے ہیں کہ افسانے کا فنی و فکری ٹریٹمنٹ قاری کے ذہن کو ضرورمتاثر کرتا ہے۔ افسانے کاپلاٹ بھی چست ہے اور مکالمے بھی حسب مناسب ہیں۔کردار نگاری اور منظر کشی بھی خوب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوگل ہندوارہ کشمیر 193221 

E.mail.Khanbasharatchogal@gmail.com
mob.9622471009 

 

 مضامین دیگر 

Comment Form