شموئل احمدکاجہانِ فکشن




محمد غالب نشتر
13 Jan, 2017 | Total Views: 273

   


شموئل احمدکاتعلق اردوافسانہ نگاری کے اس عہدسے ہے جب جدیدیت کارجحان طلوع ہورہاتھااوراپنی شعاعیں اردو دنیا پرمسلّط کرنے کے درپے تھا۔یہ وہی عہدہے جب علامت وتجریدکوبہ طورِفیشن برتاجارہاتھااورقاری کارشتہ افسانے سے ٹوٹ رہا تھا۔شموئل احمدنے ایسے ہی عہدمیں افسانہ نویسی کی ابتداکی ۔ان کی دوراندیشی کہیے یامصلحت پسندی،انھوں نے کسی تحریک یارجحان کاتتبع نہیں کیابل کہ اپنی راہ خودنکالی ۔اس سے ان کوکتنافائدہ یانقصان ہوا،یہ الگ مسئلہ اورادب کے الگ باب کا متقاضی ہے ۔ سرِدست یہ وضاحت ضروری ہے کہ شموئل احمدکاپہلاافسانہ’’چاندکاداغ ‘‘وہاب اشرفی کی ادارت میں نکلنے والارسالہ ’’صنم ‘‘پٹنہ کے شمارہ نومبر۔دسمبر۱۹۶۲ء میں چھپا۔سرزمینِ بہارکی مخصوص فضامیں سانس لیتاہوایہ افسانہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہاں کے مخصوص الفاظ کوبہ طورِ رعایت اس افسانے میں برتاگیاتھا۔انہی الفاظ میں ایک لفظ ’’لوندا‘‘کااستعمال انہوں نے’’ ٹکڑا‘‘کے معنی میں کیاتھا جس کاذکراحمدیوسف نے ’’بہاراردولغت(۱)‘‘میں کیا۔اس کے بعدشموئل احمدکے افسانے مختلف رسائل کی زینت بنتے رہے لیکن اس معاملے میں انہوں نے احتیاط سے کام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کاانتخاب موزوں ہوتاہے ۔طبیعت کی بے نیازی اورکچھ پیشہ کی مجبوری ایسی رہی کہ انہوں نے تیرہ برس کی خاموشی اختیارکرلی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کاپہلاافسانوی مجموعہ ’’بگولے‘‘ ۱۹۸۸ء میں قدرے تاخیرسے منظرِ عام پرآسکاجس میں فقط چودہ افسانے شامل ہیں۔بگولے کے بعدتاہنوزاُن کے تین اورافسانوی مجموعے اشاعت سے ہم کنارہوچکے ہیں۔دوسرامجموعہ ’’سنگھاردان‘‘۱۹۹۶ء میں،تیسرامجموعہ’’القمبوس کی گردن‘‘۲۰۰۲ء میں اورآخری مجموعہ ’’عنکبوت‘‘ ۲۰۱۰ء میں منظرعام پرآیاہے ۔چاروں مجموعوں میں کل افسانوں کی تعدادستائیس تک پہنچتی ہے ۔کچھ مجموعوں میں سابقہ مجموعہ کے نمائندہ افسانے بھی شامل ہیں۔مثلاً’’عنکبوت‘‘میں’’القمبوس کی گردن‘‘کے سابقہ سات افسانے شامل ہیں۔
شموئل احمدکی چالیس سالہ افسانوی زندگی کابہ نظرغائرمطالعہ کیاجائے تواندازہ ہوگاکہ ان کے افسانے کسی ایک نہج پرمرکوز نہیں ہیں بل کہ دنیاجہان کے مسائل ،سیاسی وسماجی حالات اوراسی طرح کے دوسرے مسائل کی بھرپورعکاسی کی گئی ہے ۔یہاں ان کے افسانوں کوچارخانوں میں بانٹاجاسکتاہے گویااس صنف کے کوزے میں سمندرکوسمیٹ دیاہو۔ان کے پہلی قسم کے افسانوں کاتعلق سیاسی حوالے سے ہے جن میں انہوں نے بالواسطہ اوربلاواسطہ دونوں طریقوں سے طنزکانشانہ بنایاہے ۔ان کے ابتدائی دورکے افسانے سیاست پرطنزکی ردامیں لپٹے ہوئے نظرآتے ہیں۔اس حوالے سے وہ اپنی بات کہنے میں کام یاب ہیں اورکہیں بھی جذباتی ہوتے نظرنہیںآتے جب کہ سیاست ایک ایسامکروہ شعبہ ہے جس پرخامہ فرسائی کرتے ہوئے بہت سے فن کارجذبات کے رومیں بہہ جاتے ہیں اورافسانویت مجروح ہوجاتی ہے ۔شموئل احمدنے جب افسانہ نگاری کی ابتداکی توسیاسی حالات اوراس کے نتیجے میں زبوں حالی کاذکرشدیدطورپرکیا۔’’چھگمانس‘‘،’’ٹیبل‘‘،’’قصبہ کا المیہ‘‘،’’مرگھٹ‘‘،’’قصبہ کی دوسری کہانی‘‘اور’’باگمتی جب ہنستی ہے‘‘جیسی کہانیاں اسی زمرے میںآتی ہیں۔ان کہانیوں میں کہیں سیاسی حالات کابے باکانہ نقشاکھینچاگیاہے توکہیں سیاست کی رسّہ کشی کابیان ، کہیں ایک ہی سیاست داں دوسرے کوزیرکرنے کی تدابیرپرغوروخوض کررہاہے توکوئی فسادبرپاکرکے اپنااقتدارقائم کرنے کے درپے ہے ۔مجموعی طورپرایک سیاست داں جسے ملک کی ترقی کے لیے کوشاں ہوناچاہیے، وہ قصباتی فضاکومکدّرکیے ہوئے ہے۔’’قصبہ کا المیہ‘‘،’’قصبے کی دوسری کہانی‘‘اور’’مرگھٹ‘‘میںیہی فضااپنے پرپھیلائے ہوئے ہے جس سے بنی نوعِ انسان خوف زدہ ہے اورایک دوسرے سے یہی سوال کررہاہے کہ آیامرنے والااس کارشتہ دارتونہیں؟اگرنہیں ہے توکیامعلوم اگلی باری اسی کی ہواوراُسے احساس تک نہ ہو۔ان افسانوں کاتانابانااسی فضامیں بُناگیاہے کہ آدمی دہشت کے عالم میں سانس لینے پرمجبورہے اورکچھ مفادپرست لوگ یہ دہشت زدہ ماحول بنائے ہوئے ہیں کہ ان کی روزی روٹی کاانتظام اسی پرمنحصرہے ۔’’قصبہ کی دوسری کہانی‘‘میں ایک شخص یہ ارادہ کرتاہے کہ وہ جب بھی اپنے قصبے کی باگ ڈورسنبھالے گا،سب سے پہلے امن بحال کرے گا، لوگوں کے دلوں سے خوف و دہشت کونکال باہرپھینکے گالیکن جب وہ عملی میدان میں قدم رکھتاہے تب اسے یہ احساس ہوتاہے کہ پوراسسٹم ہی کرپٹ ہے ۔وہ افسوس کا اظہارکرتاہے لیکن اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ بھی اسی ماحول میں ڈھل جائے اوراپنے آپ کو اس کے حوالے کردے ۔جوشخص وقت اورحالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے اس ماحول میں ایڈجسٹ نہیں کرتا، وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے اوریہ اصول اُس خلیفہ کواچھی طرح معلوم ہے ۔
سیاست پرطنزکی واضح مثالیں افسانہ ’’ٹیبل‘‘اور’’چھگمانس‘‘میں بھی ہیں۔’’ٹیبل‘‘میں توسرکاری معاملات میں رشوت خوری کے گرم بازارکوموضوع بحث بنایاگیاہے تو’’چھگمانس‘‘میں کانگریس اوراس کے سابق حکم راں راجیوگاندھی پربراہ راست طنز ہے ۔ افسانے کے عنوان کی بات کریں توچھگمانس(چھگ+ مانُس )کامطلب ہی ہوتاہے Sub Humanیعنی وہ انسان جو ارتقا کی نچلی سیڑھی پر کھڑا ہواور جس شخص کاکوئی وجودنہ ہو۔اس افسانے میں بھاگل پورفسادکاوہ کریہہ منظرپیش کیاگیاہے جس میں سیاسی جماعتوں کادخل کلی طورپرتھا۔ سیاست ایساغلیظ لفظ ہے جس سے ہرذی شعورشخص پریشان ہے اوران کی زبان سے سیاست دانوں کے نام سن کرگالیاں ہی نکلتی ہیں۔پھربھی سماج کے کچھ ایسے اشخاص ہوتے ہیں جوان کے دام میںآجاتے ہیں اورایسی غلطیاں سرزدہوجاتی ہیں جن کاخمیازہ انہیں تاحیات بھگتناپڑتاہے۔
افسانہ’’باگمتی جب ہنستی ہے‘‘میں سیلاب کے بعدہونے والے نقصانات اورلوگوں کی زندگی متأثرہونے جیسی کیفیت کوبنیادی حوالہ بنایاہے۔انسانیت یہ کہتی ہے کہ ایسے لوگوں کی ممکنہ حدتک مددکی جائے اورانہیں تمام طرح کی سہولیات مہیّاکرائی جائیں لیکن ایسے حالات میں بھی سیاست داں حضرات لوٹ گھسوٹ سے بازنہیںآتے اوراگرقصبے کا جذباتی نوجوان اس بات کی مزاحمت کرتاہے تواسے کچھ تھوڑا بہت دے کرخوش کردیتے اوران کی زبان ہمیشہ کے لیے بندکردیتے ہیں۔’’ہریا‘‘گاؤں کاکڑیل جوان ہے ۔اس کے بدن میں گرم خون گردش کررہاہے ۔اس کے جذبات کو سمجھتے ہوئے کامتاپرشادجی اُسے بلواتے ہیں اورمیٹھی باتوں سے اس کادل جیت لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں:
’’ہری بابو۔۔۔آپ جیسے سجگ نوجوان کی دیش کوضرورت ہے ‘‘۔
’’ہری بابو۔۔۔۔۔۔‘‘۔
ہریاکے کانوں میں ہری بابوکالفظ عجیب کیفیت پیداکررہاہے ۔جیسے کامتاپرشادجی دیسی مشین میں ولایتی پرزے لگارہے ہوں۔
’’ہری بابو۔تھوڑی بہت چوری تویہ لوگ کرتے ہی ہیں۔۔۔‘‘۔کامتاپرشادمسکراکرکہتے ہیں۔
ہریاچپ ہے ۔اب کیاکہے ؟وہ ہریاسے ہری بابوبن گیاہے ۔
’’ویسے بی ۔ڈی ۔اوآدمی اچھاہے ۔آپ کی بھی مددکرے گا‘‘۔(۲)
ہریاحیران ہے کہ یہ سب کیاہورہاہے وہ اپنے ہی اندرسمندرکی موج میں غوطہ زن ہے کہ کیاوہ بھی دوسرے عیارومکارلوگوں میں شامل ہوجائے گایاسابقہ دنوں کی طرح اپنی اصلیت پرقائم رہے گالیکن حالات ایسے بن گئے ہیں کہ ’’ہریا‘‘کے لیے اپنی شناخت بچانابھی مشکل ہورہاہے بالآخروہ ’’ہری بابو‘‘کی شکل میں دوبارانمودارہوتاہے ۔ہری بابوکوقصبے میں پہچان تومل گئی ہے لیکن اسے اپنے ضمیرکاسوداکرناپڑاہے۔اس افسانے میں چھگمانس،کامتا پرشاد کی شکل میں موجود ہے۔
سیاسی حوالوں کی بات کریں تویہ مناسب ہوگاکہ سردست شموئل کے ان افسانوں کاذکربھی کردیاجائے جن میں فسادات کو موضوع بناکرافسانے کابیانیہ Narrationملحوظ نظررکھاگیاہے ۔ان کے دوسرے حصے کاتعلق انہی افسانوں سے ہے جوفسادات کے پس منظرمیں رقم کیے گئے ہیں۔خاص طورپران افسانوں میں اقلیت کے مسائل کوموضوع بحث بناکریہ بات کہی گئی ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ہی ایسے فسادکیوں برپاہوتے ہیں۔یہاں شموئل احمدقاری کے ذہن پرایک سوال قائم کرتے ہیں۔ ظاہرہے اس سوال کاجواب توہے لیکن کوئی حل نہیں۔’’بہرام کاگھر‘‘اور’’بدلتے رنگ‘‘جیسے کاموضوع فسادہی ہے جو ان کے دوسرے مجموعے ’’سنگھاردان‘‘میں شامل ہیں۔’’بہرام کاگھر‘‘توFalsh Backکی تکنیک میں ہیں جن کا راوی خود مصنف ہے جوواحدغائب کاصیغہ استعمال کرکے پیڑاوربہرام کے دوست کی کہانی سناتاہے ۔اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے آگ ہندؤں نے بھڑکائی ہے اورمسلمانوں کواس کی سزابھگتنی پڑی ہے ۔ان کاقصورصرف اورصرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔فسادات میں مارے جانے والے لوگوں کی اکثریت وہ ہوتی ہے جو فقط نام نہاد مسلمان ہیں،ان کوبنیادی چیزوں سے بھی کوئی دل چسپی نہیں ہوتی بل کہ اگرنام ہٹادیے جائیں توکوئی ہندومسلم کا فرق محسوس نہیں کرسکے گا۔لیکن جب صورتِ حال سنگین ہوتی ہے توگیہوں کے ساتھ گھُن بھی پس جاتے ہیں۔بہرام کا گھر امن،سکون اور محبت کا گہوارہ ہے اسی لیے بڑھیا آخروقت تک بہرام کاگھردیکھناچاہتی ہے ۔ بڑھیا یہ اندازہ لگانا چاہتی ہے کہ تشدد اور عدم تشدد میں کتنا فاصلہ رہ گیا تھا۔اگر وہ بہرام کے گھر تک پہنچ جاتا تو وہ بچ سکتا تھا ۔
افسانہ ’’بدلتے رنگ‘‘کامنظرنامہ دوسرے فسادات پرلکھے گئے افسانوں سے مختلف اس طورپرہے کہ اس کازمان ومکان رکمنی بائی کاکوٹھاہے اورشہرمیں جب بھی دنگاہوتاہے توسلیمان وہی کوٹھا پکڑتاہے ،اس کے ساتھ وہسکی پیتااوردنگائیوں کوموٹی موٹی گالیاں دیتاہے ۔رکمنی بائی جواُس سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی ہے اورپولیس کو ’’بھڑوی کی جنی‘‘کہتی ہے ۔سلیمان کومذہب سے کوئی دل چسپی نہیں ہے ۔اس کی اپنیPhilosphyہے ۔وہ یہی کہتاہے کہ مذہب آدمی کونہیں جوڑتاہے جب کہ سلیمان آدمی کوجوڑنے کی بات کرتاتھا۔اس کی بیوی کوان باتوں سے کوفت ہوتی ۔جب وہ سلیمان سے ایمان ویقین کی باتیں کرتی تواُسے یہ حسرت ہوتی کہ کاش !کوئی ایساآدمی ملے جومذہب کارونانہ روئے بل کہ آدمی کی بات کرے ۔لے دے کے رنڈیاں ہی تھیں جوذات پات کے جھمیلے سے آزادتھیں۔۔۔سلیمان کوان کی یہ اداپسندتھی اسی لیے جب کہیں دنگاہوتاتوسلیمان ........... ۔
شہرمیںیکایک دنگے کے آثارنمایاں ہوتے ہیں توسلیمان کوٹھے کی طرف چل پڑتاہے لیکن آج وہ محسوس کرتاہے کہ اس کے سمجھنے میں غلطی ہوگئی ہے ۔رکمنی بائی دروازے رتن کے کھڑی ہے ۔وہ عاجزی کررہاہے کہ پلیزمجھے اندرآنے دو،یہی توایک جائے امان ہے ۔اگرتم نے مجھے پناہ نہیں دی تومیں کہاں جاؤں گا۔کسی طرح سے وہ اندرجانے میں کام یاب ہوجاتاہے اوریہ رازکھلتاہے کہ پنچایت نے یہی فیصلہ کیاہے کہ ۔۔۔ملاحظہ ہویہ اقتباس:
’’اوردفعتاًسلیمان کومحسوس ہواکہ وہ واقعی کٹواہے ۔۔۔اپنے مذہب اورفرقے سے کٹاہوا۔۔۔ وہ لاکھ خودکوان باتوں سے بے نیازسمجھے لیکن وہ ہے کٹوا۔۔۔۔اورسلیمان کوعدم تحفظ کاایک عجیب سااحساس ہوا۔۔۔اس نے جلتی ہوئی آنکھوں سے رکمنی بائی کی طرف دیکھا۔وہ اسی طرح ہنس رہی تھی ۔۔۔اورسلیمان کادل غم سے بھرگیا۔وہ یکایک اس کی طرف مڑااوراس کے بازؤں میں اپنی انگلیاں گڑائیں۔۔۔۔۔۔۔رکمنی بائی دردسے کلبلائی۔۔۔۔
سلیمان نے بازؤں کاشکنجہ اورسخت کیا۔۔۔۔
رکمنی بائی پھرکلبلائی۔
دفعتاًاس کومحسوس ہواجیسے رکمنی بائی طوائف نہیں ایک فرقہ ہے ۔۔۔اوروہ اس سے ہم بسترنہیں ہے ۔۔۔وہ اس کاریپ کررہا ہے ۔۔۔۔
سلیمان کے ہونٹوں پرایک زہرآلود مسکراہٹ رینگ گئی‘‘۔(۳)
اس کے کچھ دیربعدرکمنی بائی باتھ روم میں گئی سلیمان کواپنادم گھٹتاسامحسوس ہوا۔وہ بسترسے اٹھااوررکمنی باکی ساڑی کوجلدی جلدی اپنے بیگ میں ٹھونسا۔ایساکرتے ہوئے اسے طمانیت کااحساس ہواگویارنڈی کو،جس کی شناخت ہی ننگاپن ہے ،ہمیشہ کے لیے ننگاکردیااور’’بھڑوی‘‘کہہ کرآہستہ سے مسکرایااوراپنے مکان کی طرف چل پڑا۔
شموئل احمدکی زیادہ ترافسانے بیانیہNarratologyتکنیک کی عمدہ مثالیں ہیں۔انہوں نے اردوافسانے کے اس عہد میں بھی کہانی کے جوہرکوملحوظ رکھاجب ہمارے افسانہ نگارجدیدیت کے رومیں بہہ کربہ طورفیشن تجریدی اورپلاٹ لیس کہانیاں لکھ رہے تھے ۔البتہ جنھوں نے فقط علامات کااستعمال کیااورکہانی کے جوہرکوبھی ملحوظ رکھا،ان کافن پارہ تہہ دارہوگیا۔شموئل احمدکی ابتدائی کہانیوں کوعلامتی تونہیں البتہ نیم علامتی کہہ سکتے ہیں۔ایساہرگزنہیں ہے کہ انہوں نے علامات Symbolsکااستعمال کرکے اقتباسات کوگنجلک بنایاہے ، بل کہ ان کے نیم علامتی افسانوں پرنظرڈالیں توخوشی ہوتی ہے کہ ایک فن کارزندگی کے حقائق کودوزاویوں سے اتنے خوب صورت اندازمیں کیسے پیش کرسکتاہے ۔’’سبزرنگوں والاپیغمبر‘‘،’’ٹوٹی دشاؤں کاآدمی‘‘،’’آخری سیڑھی کامسافر‘‘ اور ’’عکس سیریز‘‘کی کہانیاں اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔یہ تمام افسانے پہلے مجموعے ’’بگولے‘‘میں شامل ہیں جن کازمانہ ۱۹۷۴ء سے قبل کا ہے ۔یہ وہ زمانہ ہے جب فن کارکی خواہش ہوتی تھی کہ وہ علامتی وتجریدی افسانے لکھ کرقاری کے دل پراپنی علمیت کی دھاک بٹھاسکے اوراگروہ اس طرح کے افسانے نہ لکھے تووہ حاشیے میں چلے جائیں گے ۔ماحول کے ساتھ ڈھلتے ہوئے شموئل احمدنے بھی نیم علامتی کہانیاں لکھیں لیکن اسے تجرید،اہمال اوراشکال سے ہمیشہ بچائے رکھا۔اس ضمن میں ان کااہم افسانہ ’’عکس تین ‘‘ہے ۔اس میں ایک عورت کی نفسیات کاخوب صورت تجزیہ کیاگیاہے جو خود لذتی کا شکارہے ۔اسی لیے اس کردار کابس اپنی انگلی پرنہیں ہے ۔’’آتشیں لمحہ‘‘کا تذکرہ اس افسانے میں اور کئی دوسرے افسانوں میں جگہ جگہ پر آیا ہے۔یہ شموئیل احمد کی اپنی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ان سے قبل اور معاصرین میں اس لفظ کو اتنی خوب صورتی سے کسی نے نہیں استعمال کیا ہے۔ملاحظہ ہویہ اقتباس:
’’وہ کچھ دیربارش کے قطروں کایہ کھیل دیکھتی رہی تھی اورپھراس نے یکایک یہ محسوس کیاتھاکہ اس کی انگلیاں اب اپناروپ بدلناچاہتی ہیں۔تب ہی وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹ آئی تھی اورپلنگ پرلیٹ گئی تھی ۔پھرٹھنڈی ہواؤں کا ایک جھونکاکمرے میں آیا تھا اورکھڑکی کے پٹ آپس میں ٹکرائے تھے ۔تب اس نے تکیہ سرسے نیچے ہٹالیاتھااورکروٹ سے لیٹ گئی تھی ۔پھرتکیہ کواس نے سینے پر رکھ کرآہستہ سے دبایاتھااورآنکھیں بندکرلی تھیں۔ پھرہواکاایک تیزجھونکاکمرے میںآیاتھااوراس نے محسوس کیاتھاکہ انگلیوں پراب اس کابس نہیں ہے۔ وہ بہر حال ۔۔۔۔۔۔اس کی انگلیاں اس کے بس سے باہرہوگئی تھیں اور پھر نیچے اترنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔‘‘۔(۴)
اس کے بعدوہ سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی تبھی عورتوں نے اسے بتایاکہ اس کے گھرمیںآگ لگ گئی ہے اوراس کی بہن بھی گھرمیں ہی ہے تب اس نے اپنے دل کومنالیاتھاکہ وہ پڑوس میں کھیلنے گئی ہواوراس نے یہ عہدبھی نہیں کیاتھاکہ اگراس کی بہن بچ گئی تووہ آئندہ اپنی انگلیوں کوسانپ بننے نہیں دے گی۔یہ تمام کام انسان تنہائی میں کرتاہے جب کوئی اس کاغم بانٹنے والانہ لیکن وہ اوربھی تنہا ہوگئی ہے اورکفِ افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
اب ضروری معلوم ہوتاہے کہ شموئل احمدکے اُن افسانوں کاتذکرہ کیاجائے جن کے حوالے سے ان کی شناخت ہے کیوں کہ ان افسانوں کاتعلق ہمارے اردگردمعاشرے میں پھیلی برائی سے ہے اوریہ حقیقت توسب پرعیاں ہے کہ دنیامیں جتنے بھی فسادات ہوتے ہیں جتنی بھی خوں ریزیاں ہوتی ہیں،ان سب کاتعلق بھوک سے ہے ۔بھوک ایک جبلّت اورزندگی کاناگزیرحصہ ہے جس سے ہرشخص نبردآزماہوتاہے ۔یہاںیہ بات وضاحت طلب ہے کہ بھوک کی دوقسمیں ہوسکتی ہیںیاہوتی ہیں۔ایک کاتعلق پیٹ سے ہے تو دوسرے کاپیٹھ سے ۔جب دونوں طرح کی بھوک شدت اختیارکرجائے توانسان صحیح وغلط ،حرام وحلال اورمثبت ومنفی پہلوؤں کونظرانداز کرکے ،بھوک کی اس آگ میں کودپڑتاہے ۔جنس کی بھوک زیادہ خطرناک ہے ۔کوئی شخص جب اس جرم کاارتکاب کرلے توپورے معاشرے میں وہ معتوب سمجھاجاتاہے اوراس کااثرمعاشرہ کے ہرذی شعورپرپڑتاہے ۔شموئل احمدکے افسانوں کابنیادی حوالہ جنس ہی ہے جسے حوالہ بناکروہ معاشرہ کی کھوکھلی ریاکاری پرنظرڈالتے ہیں۔ان کے بیش ترافسانوں میں جنس کی کارفرمائی نظرآتی ہے ’’بگولے‘‘ ، ’’سنگھاردان‘‘،’’ظہار‘‘،’’جھاگ‘‘،’’برف میںآگ‘‘،’’عنکبوت‘‘،’’منرل واٹر‘‘اورکئی دوسرے افسانے اس کی واضح مثالیں ہیں۔ 
اردوادب میں کوئی فن کارجنس کوحوالے کے طوپراستعمال کرتاہے توسب سے پہلے اس پرمنٹوکی نقالی کاالزام لگتاہے اوراس کا ادب ثانوی اختیارکرجاتاہے ۔یہاں پرمنٹوسے شموئل احمدکاموازنہ مقصودنہیں بل کہ صرف یہ بتاناہے کہ منٹوکی کہانیاں ایک خاص طبقے کے اردگردہی گھومتی ہے جب کہ شموئل احمدنے عام انسانی زندگی میں رونماہونے والے واقعات جوجگہ دی ہے ۔جنس ایک ایسا موضوع ہے کہ قاری متن کے نشیب وفرازمیں الجھ کررہ جاتاہے اورفن پارہ کی تہہ تک پہنچنے کی زحمت گوارانہیں کرتا۔اس لیے ان افسانوں کی تفہیم کے لیے باصلاح قاری کی ضرورت ہوتی ہے جواس کی تہہ تک پہنچ سکے ۔ایک فن کارکایہ کمال ہے کہ وہ قاری کی ذہنیت کاخاص طورپرخیال رکھے اوراس کے ذہن کوبھٹکنے نہ دے ۔اتنااختیارتوایک فن کارکوہے ہی ۔البتہ اندازالگ ہوسکتاہے اورمسائل بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ایسابھی ضروری نہیں کہ فن کارکی تمام چیزیں ایک قاری کوپسندآہی جائیں۔
شموئل احمدکے افسانوں میں’’بگولے‘‘ایک ایساافسانہ ہے جس میں لتیکارانی اپنی جنسی خواہش کومٹانے کے لیے کسی بھی مرد کا شکارکرسکتی ہے اوراپنی سہیلیوں سے موازنہ بھی کرتی ہے ۔اسے یہ چیزبہت اذیت دیتی ہے کہ اس کی سہیلی کامحبوب اس کاکیوں نہیں ہو سکتاہے ۔جس کے لیے وہ مال ومتاع لٹانے کے لیے پوری طرح سے تیارہے لیکن اس کام کے لیے بھی سلیقے کی قائل ہے ۔کوئی مرد پیارومحبت سے ہرچیزحاصل کرسکتاہے شرط یہ ہے کہ جلدبازی سے کام نہ لے کیوں کہ وہ محض جنسی آسودگی کے لیے ہی رسم وراہ بڑھاتی ہے ۔اس دفعہ جس لڑکے کواپنے دام میں پھنسایاہے وہ نادان ہے ،اس معاملے میں صفرہے اورجلدبازبھی ۔ لتیکا یوں تو فاحشہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی اسے فاحشہ سمجھے یا رنڈی کی طرح برتاؤ کرے ۔یہ عورت کے اَناکی کہانی ہے اور کل کے لونڈے نے اس کی اَنا پر وار کیا ہے اوریہی وجہ ہے کہ لتیکارانی اسے باہربھگادیتی ہے۔افسانہ ’’جھاگ‘‘میںیہ اشارہ ہے کہ رشتے مرجھاجاتے ہیں،مرتے نہیں ہیں۔ راوی کاپراناپیار،جسے وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی پسندکرتاہے،اچانک راستے میں مل جاتی ہے اورباتوں باتوں میں راوی اسے گھرآنے کی دعوت بھی دے دیتاہے۔جس کے بعدراوی کوسخت ندامت ہوتی ہے کہ اس نے بیوی کااعتبارکھودیاہے ۔افسانہ ’’سنگھاردان‘‘میں ایک لوٹی ہوئی ذات جسے ہم طوائف کہتے ہیں،کوافسانے کاموضوع بناکریہ بتایاگیاہے کہ فساد میں رنڈیاں بھی لوٹی گئی تھیں اوربرجموہن کونسیم جان کا سنگھاردان ہاتھ لگاتھا۔جسے زبردستی اس نے حاصل کیاتھاجب کہ نسیم جان کایہ موروثی سنگھاردان تھا۔سنگھاردان سے نسیم جان کو برجموہن نے اس کی وراثت سے محروم کردیا ہے۔یہ افسانہ وراثت سے محرومی کا نوحہ ہے اسی لیے وہ بہت گڑگڑائی تھی مگربرجموہن نے دھکے دے الگ کردیاتھااوروہ سہم گئی تھی ۔برجموہن کے گھرمیں بیوی بیٹوں نے سنگھاردان کوکافی پسندکیالیکن کچھ ہی دنوں بعد برجموہن نے محسوس کیاکہ سب کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگے ہیں۔بیٹیاں اب چھت پہ تانک جھانک کیاکرتی ہیں اورعجیب عجیب حرکتیں بھی کرنے لگی ہیں۔کئی بارتوبرجموہن خودشرمندہ ہوگیاتھا۔اس کے علاوہ برجموہن نے اپنی بیوی کے منہ سے ’’اوئی دیّا‘‘اور ’’ہائے راجا‘‘جیسے الفاظ آج سے پہلے کبھی نہیں سنے تھے ۔آخرمیں سنگھاردان نے برجموہن پربھی اپنانقش چھوڑہی دیااوربرجموہن آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ کلائی پرگجرالپیٹااورگلے میں لال رومال باندھ کرنیچے اترگیااورسیڑھیوں کے قریب دیوارسے لگ کربیڑی کے لمبے لمبے کش لینے لگا۔ اس ضمن میں طارق چھتاری کایہ قول زیادہ موزوں معلوم ہوتاہے ۔ان کے بہ قول:
’’میرے لحاظ سے شموئل احمداپنے مقصدمیں پوری طرح کام یاب ہیں۔ برجموہن نے سنگھاردان لوٹاتھامگرشموئل احمدنے اردوکے قارئین کوسنگھاردان تحفے میں د یا ہے ۔ایک خوب صورت تحفہ ۔اورلوٹی ہوئی چیزکے اخلاق پربرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تحفے میں ملی ہوئی شے کے نہیں‘‘۔(۵)
افسانہ ’’منرل واٹر‘‘کابنیادی موضوع کنزیومر کلچر کی کہانی،دوطبقوں کے مابین تصادم اوران کے سوچنے کااندازہے ۔ایک عام حیثیت کاکلرک جسے مینجرکی جگہ دلی تک کاسفرکرناہے اوراسے سفرکازیادہ تجربہ بھی نہیں ہے۔وہ بھی راجدھانی ایکس پریس سے جس میں بورژواطبقے کے لوگ سفرکررہے ہوں گے۔ اسے یہ سوچ کرگھبراہٹ ہوئی کہ اس کے پاس توپہننے کے لیے کپڑے بھی نہیں ہیں۔خیروہ سفرکے لیے آمادہ ہوجاتاہے لیکن پورے سفر وہ بوژواطبقے سے اپناموازنہ کرتارہاہوتا ہے۔اتفاق کی بات یہ کہ اس کے سامنے والی سیٹ پرایک خاتون بیٹھی ہے جو بوژواطبقے کی نمائندہ مثال ہے ۔اب کلرک اپنااوراپنے اردگردکے ماحول کاموازنہ اس عورت سے کرنے لگاہے۔اس عورت کودیکھ کرٹی وی پردیکھے گئے ایڈیاد آنے لگے کہ ٹی وی میں ایک عورت لرل صابن کااشتہارکرتے ہوئے کس اداسے اپنے بال لہراتی ہے ۔رات ہوچلی ہے اورتذبذب کا شکار ہے جورات کاکھاناکھاکرسونے کی تیاری کرنے لگاہے۔سامنے والی عورت سے اس کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے لیکن رات کے سناٹے میں وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بوژواعورت اس کے پہلومیں ہے اوروہ بوس وکنارمیں مشغول ہے ۔خاتون اس پرجھکی ہوئی ہے اوراس نے اپنے بازو پھیلادیے ہیں اوروہ جیسے سکتے میںآگیاہے۔ملاحظہ ہو یہ اقتباس:
’’اس عالم میں اس نے باربارآنکھیں کھول کرخاتون کی طرف دیکھا۔اس کوجیسے یقین نہیں تھاکہ ایک بورژواحسینہ کاتن سیمیں اس کی بانہوں میں مچل رہاہے ۔
اورایساہی تھا۔۔۔بورژواخاتون کامرمریں جسم اس کی بانہوں میں تھا،لب و رخسار کے لمس جادو جگارہے تھے ۔ہرلمحہ اس کا استعجاب بڑھ رہاتھا۔یہ لمحہ خودقدرت نے انھیں عطاکیاتھا۔یہ خالص فطری ملن تھاجس میں ارادے کوکوئی دخل نہیں تھا،دونوں انجان تھے‘‘۔(۶)
اس طرح کلرک نے محسوس کیاکہ کیبن کے فرش پرسوٹ کیس کافرق بے معنی ہوگیاہے ۔یہ افسانہ بورژواورپرولتاری طبقے کے درمیان فرق کوسمجھنے کاعمدہ نمونہ ہے ۔انسان اذلی طورپرایک ہے لیکن ہماراسماج ان کے مابین تفریق پیداکرتاہے ۔
افسانہ’’عنکبوت‘‘جدیدتکنیک سے پھیلی برائیوں کی طرف واضح اشارہ کرتاہے ۔ایک طرف تکنالوجی کے فوائدہیں تودوسری طرف نقصانات بھی ۔نوجوان طبقہ اس میں اتناملوث ہے کہ وہ سرتاپاڈوباہواہے۔افسانہ ’’عنکبوت‘‘سائبرکی دنیاسے تعلق رکھتاہے جہاں سچ اورجھوٹ گڈمڈہوتے ہیں اورجنہیں ایک دوسرے سے الگ بھی نہیں رکھاجاسکتاہے ۔سائبرورلڈمیں پیدا شدہ رشتے کی مثال اس مکڑے کے جالے کی طرح ہے جس کاکوئی مستقل وجودنہیں اوراس کی بنیادی وجہ وہی فریب ہے جس میں ایک شخص کاوجودوہاں وہ نہیں ہے جوحقیقی دنیامیں ہے یاہوسکتاہے ۔کیوں کہ یہی صارفی کلچرکا تقاضاہے ۔محمدصلاح الدین انصاری کوبھی چنددنوں سے یہی چسکالگاہے کہ وہ حقیقی دنیاسے نظریں چراکر سائبرسیکس سے لطف اندوز ہوسکے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ کیفے جاتاہے لیکن وہاں فری محسوس نہیں کرتاہے ۔خاص طورپرپورن سائٹس سے لطف اندوزہوناوہاں ذرا مشکل ہے اسی لیے گھرپرہی کمپیوٹراورنٹ کااستعمال کرنے لگاہے لیکن یہاں اس کی بیوی نجمہ اس کام دخل اندازی کرنے لگی ۔وہ بڑے اشتیاق سے اسکرین کوگھوراکرتی ہے توصلاح الدین نے دوبارا کیفے کاہی سہارالیاہے تاکہ سکون سے چیٹ کرسکے ۔چیٹنگ روم میں داخل ہوکرخودکورلیکس محسوس کرے ۔مادھری سکیسینہ اس کی فرسٹ سائبرلوCyber Loveہے جس سے وہ کافی مانوس ہوچکا ہے ۔اس کے ساتھ چیٹ کرتے ہوئے وہ یوں محسوس کرتاہے گویاایک بسترمیں ہم آغوش ہوں۔اسی اثنانجمہ کے بھی پَرنکلنے شروع ہوگئے ہیں اوراس نے بھی بیوٹی ان چین کے نام سے فیک آئی ڈی بنائی ہے جس کاانکشاف سیکس چیٹنگ کے بعدہوتاہے ۔رازکھلنے کے بعد اس کے لب سل گئے ہیں جسم کانپنے لگاہے اورسکتہ طاری ہوگیاہے ۔نجمہ کے جھنجھوڑنے کے بعدوہ اچانک نیندسے جاگتاہے اورنشے کی حالت میں نجمہ سے یوں مخاطب ہوتاہے :
’’ہائے!بیوٹی اِن چین۔۔۔!اورنجمہ کاچہرہ کالاپڑگیا۔
’’ٹائیگرووڈ ہیئر‘‘۔وہ چیتے کی چال سے اس کی طرف بڑھا۔وہ گھبراکے پیچھے ہٹی ۔
’’کم آن ڈارلنگ !آئی وِل اِن چین یو۔۔۔!‘‘اس نے نجمہ کاہاتھ پکڑناچاہالیکن اس نے ہاتھ چھڑالیا۔
’’یہ آپ کوکیاہوگیاہے؟‘‘
’’ہولڈمائی ڈِک۔۔۔!‘‘
نجمہ خوف سے کانپنے لگی ۔
’’فیل اِٹ‘‘۔وہ چیخا۔
’’اَن زپ یوربرا‘‘۔نجمہ کاگریبان پکڑکراس نے زورسے اپنی طرف کھینچا۔بلوزکے بٹن ٹوٹ گئے ۔نجمہ کی چھاتیاں جھولنے لگیں۔۔۔اس نے زورکاقہقہہ لگایا‘‘۔(۷)
شموئل احمدنے یہاں صرف ایک پہلوکودیکھنے کی کوشش کی ہے اورانہیں اس بات کاشدت سے احساس ہے کہ سائبرکلچرسیکس کلچرہے جہاں تیسری دنیاکاآدمی پانی میں نمک کی طرح گل رہاہے۔۔۔ہرکوئی اپنے لیے ایک اندامِ نہانی ڈھونڈ تاہوا۔۔۔!
اس ضمن میں ان کے آخری اوراہم افسانے کاذکرنہایت ضروری ہے جس کاتعلق موجودہ سماج سے ہے جسے ہم گلوبل ایج بھی کہہ سکتے ہیں۔اس دورمیں انسان نے جتنی بھی ترقی کرلی ہولیکن انسانی رشتوں کے شکست وریخت کامسئلہ سب سے زیادہ خطرے میں ہے ۔قرابت داری کاپاس ولحاظ ہے نہ رشتوں کے ختم ہونے کااحساس ۔اس زمرے میں ان رشتوں کے اقداربھی پامال ہوگئے ہیں جن کی بنیادتیقن پہ ہے ۔افسانہ ’’مصری کی ڈلی‘‘اسی زبوں حالی کی طرف اشارہ کرتاہے ۔ہمارامعاشرہ کچھ تومغربی تہذیب کے اثرسے تنزل کاشکارہے اورکچھ اپنی ہی خامیاں ہیں اوران خامیوں نے پوسٹ کولونیئل ایج میں اپنے پَر زیادہ ہی پھیلارکھے ہیں۔
اس افسانے میں عثمان اورراشدہ ایک رشتے میں بندھے توہیں لیکن عثمان کاتعلق برج محل سے ہے اورراشدہ پرستارہ زہرہ کا اثرہے ۔اسی لیے عثمان شریف طبیعت کامالک ہے اور راشدہ چلبلی۔ایک ایساشوہرجوبیوی کے علاوہ دوسری عورتوں کی طرف جھانکتابھی نہیں۔ویسے توہر انسان کے اندرجانوروں کی خصلت ہوتی ہے ،وہ خصلت عثمان میں بھی ہے ۔وہ شیریابھیڑیاتوہرگزنہیں البتہ خرگوش اورمیمناضرورہے ۔ اس کے برخلاف راشدہ چنچل اورپھکّڑ ہے ۔اسے ہرفن مولامردوں سے زیادہ دل چسپی ہے جوچھچھورے پن سے محبت کااظہارکرے اوردوسرے شغل بھی فرمائے ۔راشدہ کے اندرشیراوربھیڑیے والی خصلتیں بھی ہیں۔ان تمام رازوں کاانکشاف عثمان پراس وقت ہوتا ہے جب ان کے پڑوس میں الطاف نام کانوجوان نیانیاواردہوتاہے ۔وہ کھڑکی پرکھڑاہوکرتانک جھانک کرتااورسگریٹ پیتاہے تویہ عادتیں راشدہ پسندکرتی ہے ۔دھیرے دھیرے قرابت بڑھتی ہے اورسارے حدودوقوانین کوتوڑکروہ ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔عثمان ان حرکات وسکنات کواپنی آنکھوں سے دیکھتابھی ہے لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتا۔عورت تریا چرتر کی عمدہ مثال ہے جس کا انکشاف اس وقت ہوتا ہے جب راشدہ ایک غیر محرم الطاف کے ساتھ رات گزارتی ہے اور الطاف کے پوچھنے پر کہ وہ شوہر کو کیا منہ دکھائے گی،کھل کھلا کر ہنس پڑتی ہے۔یعنی اس کے لیے یہ کام معمولی ہے اور اپنے شوہر کو بآسانی جھانسا دے سکتی ہے۔
اس نکتے کوشموئل احمدنے یوں بیان کیاہے کہ پہلی مرتبہ جب عثمان کے گلے میں مچھلی کاکانٹا پھنستاہے تواس کی بیوی خودچاول کا نوالہ بناکراسے دیتی ہے تاکہ چاول کے ساتھ کانٹابھی نکل جائے لیکن جب دوسری باریہ ہوتاہے توعثمان خودسے نوالہ بناکرگلے سے کانٹانکالنے پرمجبورہیں۔اس کایہ فعل اس بات کی طرف اشارہ کررہاہے کہ وہ اب ایسی زندگی پرقناعت کرنے والاہے جب کہ الطاف صاحب اسی کے بیڈ روم میںآرام فرمارہے ہیں۔
مندرجہ بالاافسانوں کی روشنی میںیہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شموئیل احمدکابیانیہ Narrationنہایت مربوط ہے اورجہاں وہ جنس کی بات کرتے ہیں توایسے موقع پران کاکوئی ثانی نہیں۔کرداروں کی نفسیات ،منظرکشی اورواقعہ نگاری میں ان کا جواب نہیں۔اس کے علاوہ نجوم کے حوالے سے ان کے افسانوں’’القمبوس کی گردن ‘‘،چھگمانس‘‘،’’مصری کی ڈلی ‘‘کوکسی بھی طرح نظر اندازنہیں کیاجاسکتا۔
***


حوالہ جات
۱۔احمدیوسف (مرتب)۔بہاراردولغت ۔خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری ،پٹنہ۔۱۹۹۵ء صفحہ نمبر۲۲۲۵
۲۔شموئل احمد۔افسانہ ’’باگمتی جب ہنستی ہے ‘‘مشمولہ ’’بگولے‘‘۔سرخاب پبلی کیشنز،پٹنہ۔۱۹۸۸ء صفحہ نمبر۴۲
۳۔شموئل احمد۔افسانہ ’’بدلتے رنگ ‘‘مشمولہ ’’سنگھاردان‘‘۔معیارپبلی کیشنز،نئی دہلی۔۱۹۹۶ء صفحہ نمبر۴۵
۴۔شموئل احمد۔افسانہ ’’عکس تین‘‘مشمولہ ’’بگولے‘‘۔سرخاب پبلی کیشنز،پٹنہ۔۱۹۸۸ء صفحہ نمبر۱۰۰
۵۔طارق چھتاری ۔’’سنگھاردان۔ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘۔مشمولہ ’’فکرونظر‘‘علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی،علی گڑھ۔مارچ۲۰۰۸ صفحہ نمبر۱۰۰
۶۔شموئل احمد۔افسانہ ’’منرل واٹر‘‘مشمولہ ’’القمبوس کی گردن‘‘۔نقادپبلی کیشنز،پٹنہ۔ ۲۰۰۲ء صفحہ نمبر۵۳
۷۔شموئل احمد۔افسانہ ’’عنکبوت ‘‘مشمولہ’’عنکبوت ‘‘۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،نئی دہلی ۔ ۲۰۱۰ء صفحہ نمبر۲۲


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.