عصمت چغتائی : اردو ناول نگاری کا ایک اہم نام




محمددانش غنی
23 Jan, 2017 | Total Views: 924

   


بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں سماجی ، اقتصادی اور سیاسی حالات اردو ناول نگاری کو نئے موضوعات اور برتاؤ سے روشناس کرارہے تھے ۔ فن اور ادب کا معیار بھی تبدیل ہو رہا تھا ۔ عصری مسائل تجزیاتی زاویۂ نگاہ سے دیکھے جانے لگے تھے اور شعور و لاشعور کی کشمکش اور جنسی مسائل کو موضوع بنایا جانے لگا تھا ۔ زمیندار اور سرمایہ دار کی مخالفت اردو ناول کے آغاز سے ہی موجود تھی مگر اب مارکسی خیالات کے تحت سخت الفاظ میں نکتہ چینی کی جانے لگی تھی ۔ سیٹھ ساہوکاروں اور مذہب و سماج کے ٹھیکے داروں کے مظالم زوروں سے بیان کئے جانے لگے تھے ۔ محنت کش کسانوں ، مزدوروں کی حمایت ، غریبوں و بیکسوں سے ہمدردی اور مساوات کا پیغام عام ہورہا تھا مگر نئی نسل اس تبدیلی سے مطمئن نہیں تھی ۔ وہ موجودہ مسائل کو وسیع تناظر میں دیکھ رہی تھی لہذا انہوں نے احتجاج کے لئے اور بھی سخت رویہ اختیار کیا ۔ ان کی اس انقلابی عمل نے ادب کی بہت سی قدروں کی زیر وزبر کرڈالا ۔ موضوع اور تکنیک دونوں ہی لحاظ سے اردو ناول نگاری میں تبدیلی آئی اور یہ غیر معمولی تبدیلی بعد کی ناول نگاروں کی ایک عام اور مقبولِ طرز راہ بن گئی ۔ ان ناول نگاروں کی ایک طویل فہرست میں ایک نمایاں نام عصمت چغتائی کا بھی ہے ۔ 
عصمت چغتائی بے حد حساس ذہن کی مالک تھیں ۔ وہ بچپن سے گھر اور باہر کے ماحول کا بغور مظالعہ کرتیں اور عورت پر ہونے والے سماجی ظلم کو محسوس کرتیں ۔ انہوں نے شروع سے ہی اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے کے ذریعے عورت کی پسماندگی ، بے بسی اور لاچاری کو نوٹ کیا تھا اور پھر اپنے فن کے توسط سے سبھی کو اس سچویشن سے واقف کریا ۔ وہ خواتین کے حق میں جوش و خروش کے ساتھ لکنے لگیں ۔ انہوں نے متوسط طبقے کی عورتوں کی زندگی کے ہر پہلو کی محرومیوں کا ذکر بڑے موثر انداز سے کیا ۔ انہیں شروع سے اس بات کا شدید احساس تھا کہ ہندوستانی معاشرے میں عورت کی بد حالی کا بنیادی سبب اس کی اقتصادی غلامی ہے ۔ اس غلامی سے اسے تبھی نجات مل سکتی ہے جب وہ پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے کیونکہ عام طور پر چار دیواری میں مجبور ناخواندہ عورت ، روزی روٹی کی خاطر اپنے شوہر سے بھلے ہی وہ کتنا نکما اور ناہل ہو ، چمٹے رہنے کو ہی قرین مصلحت سمجھتی ہے ۔
دراصل عصمت چغتائی انقلابی ذہن کی مالک تھیں اور چونکہ ترقی پسند تحریک نے غریبوں اور مزدوروں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے ذہن کو بدلنا شروع کردیا تھا اس لئے عسمت چغتائی کو بھی اس تحریک سے عشق ہوگیا ۔ بالواسطہ طور پر انہوں نے اس پلیٹ فارم سے قدامت پرستی کے خلاف نڈر ہوکر آوازبلند کی ۔ سماج کی فرسودہ روایات ، نئی اور پرانی نسل کے بیچ حائل گھتیوں کو سلجھایا ۔ متوسط طبقی کی خواتین کی نفسیاتی پیچیدگیوں ، ان کی گٹھی گٹھی زندگیوں سے وابستہ مسائل اور ذہنی پسماندگی کو اپنی تخلیقات میں اہمیت دی ۔ وہ پہلی خاتوں ناول نگار ہین جنہیں اس وجہ سے اردو ناول نگاروں میں اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے پہلے پہل اپنے ناولوں میں نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کیا ۔ انہوں نے عورتوں کی نفسیاتی اور جنسی مسائل کو کود انہیں کے نقطۂ نظر سے ظاہر کیا ۔ دراصل گھر کی چار دیواری میں متوسط طبقے کی لڑکیوں کو جن جنسی الجھنوں اور نفسیاتی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے اس کی تصویر کشی عصمت نے نہایت فنکارانہ ڈھنگ سے کی ہے ۔ 
’’ ضدی ‘‘ عصمت کا پہلا ناول ہے جو ۱۹۴۰ء میں شائع ہوا تھا ۔ یہ ناول فنی اور فکری اعتبار سے اہمیت کا حامل نہ ہونے کے باوجود ’’ پورن ‘‘ کے کردار کی وجہ سے قابلِ ذکر ہے ۔ ہنسنے ہنسانے والا پورن آشا کے چلے جانے کے بعد حزن و ملال کا پیکر بن جاتا ہے ۔ عصمت نے پورن کے غم کو بڑی عمدگی سے پیش کیا ہے ۔ اس اہم کردار کے ذریعہ عصمت چغتائی نے سرمایہ دارانہ نطام کی عزت و آبرو کے تصورات پر گہرا طنز کیا ہے ۔ 
’’ تیڑھی لکیر ‘‘ نہ صرف عصمت کا شہکار ناول ہے بلکہ اردو کے پہترین ناولوں میں شمار کئے جانے کا مستحق بھی ہے ۔ ناول کے مرکزی کردار ’’ ثمن ‘‘ کی زندگی کے نفسیاتی مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا بچپن کس طرح گزرا ، ہوسٹل کے ماحول نے اس کے کردار اور شخصیت پر کیا اثر ڈالا ۔ جوانی اور بڑھاپا کن نشیب و فراز میں گزرا ۔ یہ سب اجزاء مل کر ایک کل کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ چھوٹے سے چھٹے مسائل اور جزئیات بھی قاری کے سامنے آئینہ بن جاتے ہیں ۔ عصمت چغتائی نے ثمن کی نفسیاتی گرہوں کو جس خوبی سے بیان کیا ہے وہ اس طنزیہ ناول کو شہکار کی حیثیت عطا کردیتے ہیں ۔ 
ناول ’’ معصومہ ‘‘ یہ تاثر دیتا ہے کہ مفاہمت عارضی طور پر ٹھیک ہوتی ہے لیکن جب انسان اپنی دنیاوی خواہشوں کو وسیع سے وسیع تر بناتا ہے تو ظاہر ہے اسے اپنی عصمت جیسی عزیز شئے کو بھی داؤں پر لگا نا پڑ تا ہے جس سے زندگی تو سنور سکتی ہے لیکن وہ اپنی ہی نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتا ہے ۔ عصمت نے اس کیفیت کو معصومہ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ سماجی حقیقت اور انسانی نفسیات دونوں ہی سے قاری کی واقفیت ہوجاتی ہے اور اس کو اس کا بھی بخوبی علم ہوجاتا ہے کہ ہماری دنیا میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جس کے پاس اپنی کمائی ہوئی دولت کے ساتھ ساتھ ورثے میں ملے ٹھاٹ باٹ کی چمک دمک بھی ہے اور وہ اس کے بل بوتے پر دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھتے ہیں ۔ اپنی خواہشوں اور آرزؤں کی تکمیل میں کسی بھی پاسداری یا مروت کا لحاظ نہیں کرتے ہیں ۔ مظلوم شکار ہو تا ہے اور دنیا کے مکر و فریب میں شامل ہو جاتا ہے ۔ نچلے متوسط طبقے کی نو عمر لڑکیاں اس چکا چوند میں پھنستی ہیں اور پھر لاکھ جتن کرنے کے بعد بھی اس سے باہر نہیں نکل پاتیں ۔ عصمت نے معصومہ میں معاشرہ کو کئی زاویوں سے اجاگر کیا ہے اور نہایت فنکارانہ ڈھنگ سے سچویشن کو پیش کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔
’’ سودائی ‘‘ کی کہانی اعلیٰ خاندان کے ارد گرد گھومتی ہے جن کی زندگی دو حصوں میں منقسم ہے ۔ ایک طرف تو وہ شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف اخلاقی اعتبار سے بالکل پست ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اپنی جھوٹی شرافت ، عزت اور عیاری کے بل پر سماج کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں ۔ ملت اور قوم کے رہبر اور رہنما کہلاتے ہیں ۔ معاشرے میں باعزت اور بہت سے ملکی معاملات میں سیاہ سفید کے مالک ہوتے ہیں ۔ عصمت نے سودائی میں بالواسطہ طور پر اسی تضاد اور استحصال کا اجاگر کیا ہے۔ ’’ دل کے دنیا ‘‘ کا موضوع مغربی تعلیم اور مغرب پرستی کے برے نتائج پر ہے ۔ یہ ناول بعض دیگر سماجی خرابیوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے مثلاً دعا تعویز ، جھاڑ پھونک ، اوہام پرستی ، جھوٹی آن بان ، عورتوں کی ناقدری ، بے بسی اور مجبوری وغیرہ کو اس میں فرسودہ رسم ورواج میں جکڑی ہوئی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جسے شادی کے بعد شوہر نے چھوڑ دیا ہے اور جسے سماج کی غلط روایتوں اور خاندانی قدروں کے درماین راستہ نہیں سوجھتا ہے ۔ موضوع کے اعتبار سے یہ ناول قابلِ ذکر تو ہے ہی زبان و بیان کے اعتبار سے بھی ایک اچھا ناول ہے ۔ بالخصوص مسلم متوسط طبقہ کی عرتوں کی زبان کے استعمال کے بارے میں یہ نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ۔ عصمت نے اس میں مزاج ، ماحول ، فضا ، رہن سہن ، بول چال سب کو فطری لب و لہجہ میں پیش کردیا ہے ساتھ ہی ساتھ کرداروں کی داخلی دنیا کی فضاؤں سے بھی قاری کو واقف کرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 
اس ناول میں جہاں عصمت نے عورت کی منفی تصویر کو بے نقاب کیا ہے وہیں اس کی خشگوار اور ٹھوس زندگی کی اطمینان بخش تصویر بھی پیش کی ہے ۔ اشتراکیت جو بنیادی اور کلیدی اصول ہے وہ یہ کہ انسان اپنی صلاحٰتوں کو اپنی زندگی میں بروئے کار لائے یعنی وہ ’’ دل کی دنیا ‘‘ آباد کرے اور سماج میں اپنی ایک الگ پہچان بنائے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے قدیہ بیگم کی وساطت سے ان سبھی بنیادی امور کو قارئین کی عدالت میں پیش کیا ہے اور مکمل طور پر ترقی پسند نظریات کا پیکر بناکر سماج میں پھیکلی برائیوں پر تنقید کی ہے ۔ عصمت کی بیشتر تحریریں طنز کی زہرناکی اور مزاح کی مہتابیوں سے معمور ہوتی ہیں لہذا ’’ دل کی دنیا ‘‘ میں بھی طنز و مزاح کی ایک لہر شروع سے آکر تک جاری نظر آتی ہے جو دراصل بیجا رسم و رواج اور دقیانوسی خیالات ، اوہام پرستی جیسی لعنتوں کو ختم کرنے کی کاوش ہے ۔ 
عصمت چغتائی کا ناول ’’ عجیب آدمی ‘‘ فلمی دنیا سے متعلق ہے ۔ پاکستان میں یہ ’’ بہروپ نگر ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ در اصل یہ ناول فلم ساز اور اداکار گرودت کی نجی زندگی کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے ۔ مذکورہ ناول میں اس کا شارہ ملتا ہے کہ شہرت اور دولت کی خاطر فلمی دنیا میں کیا کچھ نہیں ہوتا ۔ ایکٹر ہوں یا ایکٹرس ، موسیقار ہوں یا گلو کار ، پروڈیوسر ہوں یا ڈائریکٹر سب شہرت اور دولت کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور پلٹ کر حقیقت کو دیکھنے کی زحمت گوارا بھی نہیں کرتے ۔ عصمت نے ’’ عجیب آدمی ‘‘ میں فلمی دنیا کی عجیب و غریب زندگی کو نہایت فنکارانہ ڈھنگ سے پیش کیا ہے چونکہ انہوں نے فلمی ماحول کا مشاہدہ بہت قریب سے کیا تھا اس لئے وہاں کی جیتی جاگتی زندگی اس ناول میں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سمٹ آئی ہے ۔ عصمت نے ’’ جنگلی کبوتر ‘‘ میں ہماری سماجی و ثقافتی زندگی کے مدو جذر میں جنسی اور شہوانی تناظر کو نمایاں حیثیت دی ہے البتہ مرکزیت بانجھ عورت کے کردار کو حاصل ہے جو وفا شعار ہونے کے ساتھ ساتھ جذبۂ ایثار رکھتی ہے ۔ انہوں نے اس کے توسط سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عورت خواہ کسی روپ میں ہو وہ فرض شناسی کو کبھی فراموش نہیں کرتی ۔ عصمت نے اس ناول کے ذریعہ عورت کو ایک ایسی زندگی بسر کرنے کی تلقین کی ہیں جس میں وہ مجموعی طور پر خود مختار ہو ۔ اسی لئے ’’ جنگلی کبوتر ‘‘ ہماری سماجی زندگی کا ایک یسا اشاریہ ہے جس میں بہت سی حقیقتیں پنہاں ہیں ۔ 
’’ باندی ‘‘ کے ذریعہ نوابوں کی زندگی ، ان کے رہن سہن ، عادات و اطوار اور ان کے ساتھ برتے گئے رویوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ۔ عصمت نے اس ناول میں نوابوں کی جنسی گراوٹ کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی ہے اور یہ تک اجاگر کیا ہے کہ ان کی بوالہواسی کا یہ عالم تھا کہ جنسی طور پر ناکارہ ہوجانے کے باوجود بھی وہ نوجوان باندیاں رکھتے تھے ۔ فضا ، ماحول اور برتاؤ کے علاوہ اس ناول میں کردار نگاری کی بھی اچھی مثالیں موجود ہیں ۔ بالخصوص عوتوں کے کردار کی پیش کش عمدہ ہے ۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی یہ مختصر ناول ہے ۔ متوسط طبقے کی عورتوں کی زبان کے استعمال میں عصمت چغتائی جتنی مہارت رکھتی ہیں اردو کے کسی دوسرے ناول نگار کو میسر نہیں ۔ چونکہ مرکزی قصہ لونڈی کی 
زندگی کا بھر پور احاطہ کرتا ہے اس لئے اس میں نوابین کی زبان کے ساتھ ساتھ نچلے طبقہ کے کردار کی زبان کو بھی حسبِ ضرورت استعمال کیا گیا ہے ۔ 
’’ تین اناڑی ‘‘ لکھ کر عصمت چغتائی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں بچوں کی نفسیات سے گہرا تعلق ہے ۔ اس ناول کے مرکزی کردار تین بچے ککو ، ببلو اور ٹیٹو ہیں ۔ پورا ناولٹ انہیں بچوں کے ارد گرد گھومتا ہے ۔ اس ناول کے بارے میں عام طور پر یہ خیال ہے کہ عصمت نے تین اناڑی بچوں کی افراتفری ، شرارتیں ، ادوھم چوکڑی ، کھیل کود کو بیان کرکے محض دل بستگی کا سامان فراہم کیا ہے جب کہ یہ کردار ہمارے سماج کے مختلف افراد کی متحرک تصویریں ہیں ۔ ککو ، ببلو اور ٹیٹو کی یہ تصویریں قاری کو نہ صرف محظوظ کرتی ہیں بلکہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہیں ۔ عصمت چغتائی نے اس ناول میں بچوں کی گھریلو مصروفیات ، ذہنی اپروچ اور اودھم چوکڑی کو نہایت خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے اور بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ناول کے کینوس پر منعکس کیا ہے ۔ اس ناول میں مکالموں کو جو اہمیت حاصل ہے وہ ایک باشعور فنکار کی بہترین کوشش کہی جاسکتی ہے ۔ 
’’ ایک قطرۂ خون ‘‘ عصمت چغتائی کا آخری ناول ہے جو واقعاتِ کربلا کے محور پر گردش کرتا ہے ۔ اس ناول میں جذبات و عقائد کا رجحان پوری طرح غالب ہے چونکہ واقع پوری انسانیت کے لئے عبرت انگیز ہے اس لئے عصمت نے کہیں کہیں اپنی رائے کو بھی شامل کیا ہے لیکن اس طرح کہ تاریخی اہمیت مجروح نہ ہوسکے ۔ انہوں نے اس ناول کے ذریعہ دوغلہ پن ، منافقت اور وجودی طرزِ احساس کو عہدِ حاضر سے جوڑا ہے ۔ محبت ، انسانیت ، امن اور بھائی چارے پر زور دیا ہے ۔ خوف ، دہشت ، موت ، ہجرت کا کرب ، وصال کی خواہش ، غرض کہ کرب و بلا کی زندگی کا عکس اس ناول میں موجود ہے ۔ جذبات نگاری میں شدت ہے ۔ اہلِ بیعت کے دلی جذبات کو نہایت خوبی سے دکھایا گیا ہے ۔ مکالمات کے علاوہ مذکورہ ناول میں منظر نگاری بھی اچھی ہے ۔ جس سے زیادہ سے زیادہ تاثیر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے چونکہ یہ ناول جس ماحول اور پس منظر کی عکاسی کرتا ہے اس کا تعلق عام مسلمانوں کے جذبات سے ہے ۔ اس نکتہ کو عصمت نے ملحوظ رکھا ہے بلکہ اس کے سہارے عام قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے اور معاشرہ کو بہتر بنانے کا جتن بھی کیا ہے ۔ 
عصمت چغتائی نے جس بے باکی کے ساتھ ہندوستانی سماج کی حقیقت کو بیان کیا ہے وہ ان ہی کے بس کی بات تھی ۔ انہوں نے اپنے زمانے کی بھر پور عکاسی کی ہے خصوصاً عورت کی پوری شخصیت اور سماجی حقیقت کو اپنی تخلیقات کا محور و مرکز بنایا اور کچھ اس زاویئے سے فن پارے خلق کئے جس سے نہ صرف معاصر ناول نگار متاثر ہوئے بلکہ آنے والی نسلوں نے بھی ان کی پیروی کی ۔ 
( مطبوعہ ماہنامہ بیباک مالیگاؤں ،دسمبر ۲۰۱۶ء ) 
***
محمد دانش غنی 
Prof. Mohd.Danish Gani
Dept. of Urdu
Gogate Jogalekar College
Ratnagiri - 415612
Mobile No. 9372760471


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.