لمبی ریس کا گھوڑا : ایک تجزیہ




ڈاکٹر منظر اعجاز
23 Jan, 2017 | Total Views: 210

   

مشتاق احمد نوری ایک لمبے عرصے سے افسانے لکھ رہے ہیں اور ملک و بیرون ملک کے رسائل و جرائد میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ’’بیسویں صدی‘‘ کے مزاج کے افسانے بھی لکھے اور اس میں بھی ان کے کئی افسانے شائع ہوئے۔ حقیقت پسندی اور توہم پرستی سے بھی موضوعاتی سطح پر ان کا تخلیقی سروکار رہا ہے۔ ان کے تین افسانوی مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ وہ کسی مخصوص تحریکی میلان اور تخلیقی رجحان کے افسانہ نگار نہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں اپنے ذاتی مشاہدات و تجربات کو بروئے کار لاتے رہے ہیں۔ ان کے افسانوں میں سماجی مسائل کی مختلف زاویے سے عکاسیاں نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں تنوع بھی ہے اور رنگارنگی و بوقلمونی بھی، اسی لئے یہاں بیزارکن یکسانیت بار نہیں پاتی۔
مشتاق احمد نوری افسانہ نگار ہی نہیں، افسانوں کے تفہیم کار اور تجزیہ نگار بھی ہیں۔ وہ اپنے افسانوی کرداروں کا تجزیہ بھی مختلف زاویے سے کرتے ہیں۔ یہ کرداربھی گردوپیش کے سماج اور ماحول سے اخذ کئے جاتے ہیں، اس لئے بالعموم کردار بھی اجنبی نہیں معلوم ہوتے اور واقعات و واردات میں بھی کوئی انوکھا پن نہیں ہوتا، اس کے باوجود واقعات و واردات کی پیوند کاری وہم کاری یا ترتیب سے جو پلاٹ تیار ہوتا ہے، وہ گٹھا ہوا ہوتا ہے۔ زبان اور بیان کا اسلوب بھی متوجہ کرتا ہے۔ میں نے ادھر ان کے کئی افسانے دیکھے مثلاً ’’لمبے قد کا بونا‘‘اور ’’لمبی ریس کا گھوڑا‘‘وغیرہ۔ اس طرح کے ایمائی، استعاراتی اور علامتی طرز اظہار میں اسلوب کی سطح پر نشتریت اور تیغ زنی و تیرافگنی کی بھی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، مزید یہ کہ نمک پاشی کا بھی احساس ہوتا ہے۔ ’’لمبی ریس کا گھوڑا‘‘ سے بھی یہ کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔
یہ افسانہ ’’نئی حقیقت پسندی‘‘ کا ترجمان ہے اور نئی حقیقت پسندی جیساکہ ہم جانتے ہیں حقیقت پسندی کے مختلف رجحانات سے مرکب ہے۔ یہ سماجی حقیقت پسندی، معاشی حقیقت پسندی، نفسیاتی اور جنسی حقیقت پسندی اور تہذیبی و اخلاقی حقیقت پسندی کے رنگارنگ دھاگوں سے بنی ہوئی ہے۔ اس میں انسانی رویوں اور فکر و نظر کے مختلف شیڈس بیک وقت نظر آتے ہیں۔
بہرحال مشتاق احمد نوری نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، وہ کوئی نیا موضوع نہیں ہے، لیکن اس کو برتنے میں مشتاق احمد نوری کی جو فنکاری دکھائی دیتی ہے، وہ قابل اعتنا اور لائق توجہ ہے اور اسی زاویے سے نوری کا انفراد و امتیاز روشن ہوتا ہے۔
استحصال و انتقام کا جذبہ مختلف قصے کہانیوں میں، مختلف انداز و اسلوب میں ابھرتا رہا ہے۔ ان کی نوعیت و صورت اور کیفیت و کمیت بدلتی رہی ہے۔ پریم چند کے ’’کفن‘‘ میں گھیسو اور مادھو، بدھیا کے کفن کے لئے چندہ کا پیسہ کھاپی کر برابر کردیتے ہیں۔ مادھواندیشے میں مبتلا ہے کہ سارے پیسے کھانے پینے میں نکل گئے تو کفن کہاں سے آئے گا، لیکن گھیسو کو یقین ہے کہ کفن کا انتظام ہرحال میں ہوجائے گا۔ جن لوگوں نے کفن کے لئے پیسے دئے ہیں، پھر وہی لوگ دیں گے اور اگر نہیں دیں گے تو خود خریدیں گے اور اچھا کفن خریدیں گے۔ مادھو کی یہ سوچ، اس کا یہ رویہ اس سماج کی اجتماعی نفسیات، اس کے جذبات اور اس کی روایت کے پیش نظر استحصال کا پہلو رکھتا ہے۔ پشتوں سے استحصال کی چکی میں پسنے والا گویا آج اس سماج سے انتقام لے رہا ہے، لیکن استحصال و انتقام کی صورت و نوعیت اور کیفیت و کمیت مختلف ہے۔
جیلانی بانو کے ناول ’’ایوانِ غزل‘‘ میں چاند کا سگا ماموں راشد اپنی معاشی ترقی کی اونچائیوں کو چھونے کے لئے اپنی سگی بھانجی چاند کو زینہ بنا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ نواب واحد حسین کی نواسی غزل کا باپ ہمایوں علی شاہ اپنا خاندانی اور مورثی خانقاہی اقتدار چھن جانے کے بعد ڈرامے میں ہیروئن کے طورپر غزل کے کام کرنے پر معترض نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اپنی بیٹی کی فیس طے کرنے کی ذمہ داری کا بوجھ دو قدم آگے بڑھ کر خود ہی اٹھالیتا ہے، لیکن یہاں مفلسی و ناداری غیرت کا گلاگھونٹتی نظر آتی ہے۔ احساس کمتری یہاں بھی ہے، لیکن اس کی نوعیت و کیفیت مختلف ہے۔ ’’لمبی ریس کا گھوڑا‘‘ میں اکبر احساس کمتری کے علاوہ ہوس پرستی کا بھی شکار ہے اور یہ ہوس پرستی بھی اکہری نہیں ہے۔
اس افسانے میں اکبرکی سیرت و شخصیت میں مختلف النوع عناصر کی کارفرمائی ہے جس سے وہ منفرد کردار بن جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس میں کمتری کا احساس اس وجہ سے بیدار ہوتا ہے کہ وہ بنکروں کے خاندان کا فرد ہے۔ پھر یہ بھی کہ پشتینی طورپر اس کا خاندان استحصال کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اس کا باپ بھی احساس کمتری کا شکار رہا تھا، اسی لئے اس نے اس کا نام اکبر کی بجائے اصغر رکھ دیا، اس لئے اسے باپ کے دئے ہوئے اس نام سے بھی نفرت ہوجاتی ہے اور وہ خود ساختہ نام اکبر اختیار کرلیتا ہے۔ افسانہ نگارنے یہاں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر اس کے اختیار میں ہوتا تو اپنا نطفہ بھی تبدیل کرلیتا، لیکن یہ اس کے اختیار میں نہیں، البتہ اونچے خاندان کے لوگوں سے وہ انتقام لے سکتا ہے۔ اسی جذبۂ انتقام کے تحت وہ آگے قدم بڑھاتا ہے تو پروفیسر خان اور ان کی بیٹی۔ سلمیٰ زدمیں آجاتے ہیں۔
اکبر ایک ذہین طالب علم تھا، اس کی ذہانت سے پروفیسر خان متاثر تھے۔ ذہین طلبہ کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی ان کے معلمانہ مزاج کا خاصہ تھی، اس لئے تعلیم و تدریس کے سلسلے میں وہ اکبر کے معاون و مددگار تھے۔ اکبر کی مالی پوزیشن بھی بہتر نہ تھی چنانچہ اسے مالی منفعت پہنچانے کی غرض سے انہوں نے اپنی بیٹی سلمیٰ کا اسے ٹیوٹر مقرر کر لیا۔ سلمیٰ میٹرک کی طالبہ تھی۔ اس دوران انہوں نے اونچی ذات والوں کے تئیں اکبر کی نفرت و حقارت ہی کو محسوس نہیں کیا بلکہ انہیں اس کے اندر انتقامی جذبے کی آنچ بھی محسوس ہوئی، جس کی وجہ سے وہ متفکر اور متردد بھی رہنے لگے، لیکن اکبر کے ساتھ ان کے پرخلوص تعاون میں کمی نہیں آئی۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس کا صلہ انہیں اکبر سے ایسا ملے گا جو تہذیب و اخلاق اور اقدار کے شیرازے کو منتشر کرکے رکھ دے گا، لیکن انہیں ڈراس بات کا تھا کہ کسی نہ کسی دن یہ لڑکا ایسا گل ضرور کھلائے گا جس کی توقع کسی اور سے نہیں کی جاسکتی:
’’
اور ایسا ہی ہوا، اس نے واقعی ایسا گل کھلایا جس کی توقع کسی اور سے نہیں کی جاسکتی تھی۔ ایک رات چپکے سے وہ پروفیسر خان کی لڑکی کو لے کر بھاگ گیا۔لڑکی نے بس ابھی ابھی میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ عمر یہی کوئی پندرہ سولہ کے آس پاس رہی ہوگی۔ ان کی لڑکی کو پڑھانے کے چکر میں وہ خود اس کو پڑھتا رہا اور جب پڑھتے پڑھتے اس نے پوری کتاب ہی چاٹ ڈالی تو آخری ورق پلٹنے میں دیر ہی کتنی لگتی۔‘‘
ایمائی طرز اظہار سے پیداہونے والی پرکار اور تہدار معنویت، اسلوب کی ندرت اور نشتریت، بلاغت کے دربھی وا کرتی ہے اور فنکاری کے معیار کا بھی پتہ دیتی ہے۔
بہر حال کہانی آگے بڑھتی ہے اور ایک روایتی ماحول اور خاص طور سے مسلم معاشرے میں ایسے باغیانے رویے پر جورد عمل ظاہر ہوسکتا ہے، وہ ہوتا ہے یعنی ’’پورے شہر میں بھونچال آگیا‘‘ لیکن ایسے مواقع پر طبقہ اشرافیہ جس بزدلی کا شکار ہوجاتاہے، وہی کیفیت پروفیسر خان کے کردار میں ابھرتی ہے۔ انہوں نے ’’تھانے میں رپورٹ درج کرانے سے انکار کردیا کہ رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔‘‘لیکن لڑکی کے ماموں لڑکی کی تلاش میں راجدھانی پہنچ جاتے ہیں اور انہیں اس کا سراغ مل جاتا ہے، ’’لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ خبر بھی ملی کہ لڑکی تین مہینے کے پیٹ سے ہے‘‘ اور ’’یہ خبر سن کر خان صاحب روپیٹ کر رہ گئے۔ لڑکی لے جاکر بھی کیا کرتے؟ کون کرتا شادی؟ اس جگ ہنسائی کے بعد مزید جگ ہنسائی۔ انہیں درد اس بات کا نہیں تھاکہ بیٹی بھاگ گئی، ’’انہیں تو درد یہ تھاکہ وہ آستین میں سانپ پالتے رہے اور اس نے موقع ملتے ہی ڈس لیا۔ اکبر کی کمینگی کی وجہ سے پوری انسانیت ہی سے ان کا یقین اٹھ گیا تھا۔‘‘
لڑکی کی عمر پندرہ سولہ ہونے کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی تھی اور اکبر کو ریپ کیس کا ملزم بناکر کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا تھا، اگر اسے بھگائے جانے یا اغوا کئے جانے کی رپورٹ تھانے میں د رج کرائی گئی ہوتی، لیکن جگ ہنسائی کا ڈر جو پروفیسر خان کے دل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے یہ نہ ہونے دیا اور اگر ایسا ہوا ہوتا تو کہانی کا ڈراپ سین کوٹ کچہری میں ہی ہوجاتا، پھروہ بات بھی نہ بنتی جو افسانہ نگار کا اصل مقصود تھی۔ نوری نے بڑی فنکارانہ چابک دستی سے پروفیسر خان کے دل میں جگ ہنسائی کا ڈر بٹھلا کر تھانہ پولیس،کوٹ کچہری اور کیس مقدمہ کو کہانی کی ارتقائی سمت و رفتار میں خلل ڈالنے سے روک دیا ہے۔ علاوہ ازیں انفرادی اور اجتماعی معاشرتی میلان کا جو تجزیہ کیاہے، وہ ان کے واقعیت شعارانہ شعور کا عکاس ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے جو مقامی بولیوں اور محاوروں کو کھپایا ہے، اس سے لفظوں کے برتاؤ کا ہنرمندانہ شعور بھی پوری طرح واضح ہے۔ بیانیہ کا حسن بھی اپنی نکھری ہوئی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ماجرانگاری کا اندازہ آگے چل کر ہوتا ہے جب اس کی بیٹی اسے مخاطب کرتی ہے:
’’
پاپا آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔‘‘
یہاں پتہ چلتا ہے کہ کہانی فلیش بیک کی تکنیک میں چل رہی تھی اور اس کی نوعیت پس منظر کی تھی۔ اصل قصے کا آغاز شکلاجی کی آمد سے ہوتا ہے۔ اکبر اور شکلا جی کے مکالمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلمیٰ ڈراما کے اسٹیج سے متعلق ہے۔ فنکشنس ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی شرماجی سے پروگرام کے سلسلے میں سلمیٰ بات کر رہی ہوتی ہے، کبھی اشوک جی کے ساتھ ڈسکشن کا مرحلہ طے ہوتا ہے۔ کبھی ادگھاٹن سماروہ کے لئے کسی اہم شخص یا شخصیت سے بات طے ہوتی ہے، کبھی شک پیدا ہوتا ہے کہ ادگھاٹن کرتا آئیں کہ نہ آئیں، لیکن اکبر ان اندیشوں کو اس یقین کے بل بوتے پر رد کردیتا ہے کہ ان کا پروگرام سلمیٰ نے طے کیاہے، اس لئے وہ ضرور آئیں گے۔ اس سے سلمیٰ کی حیثیت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اب وہ بھی وی آئی پی کی صف میں کھڑی ہے اور دوہرا کردار ادا کرتی ہے۔ اکبر کے جواب سے مطمئن ہوکر شکلاجی چلے جاتے ہیں تو اکبر خود ہی سوچنے لگتا ہے:
’’
یہ ڈرامہ والے بھی خوب ہوتے ہیں۔ اسٹیج پر کوئی اور ڈراما ہوتا ہے اور پردہ کے پیچھے کوئی اور ڈراما کھیلا جاتا ہے۔‘‘ اس نے ایک لمبی سانس لی۔اسی کا نام راجنیتی ہے۔۔۔جو سامنے ہے وہ نہیں ہے اور جو نظر نہیں آتا وہی سچ ہوتا ہے۔‘‘
یہاں ایک ہی حمام میں فرد، معاشرہ اور سیاست تک کو ننگا دکھایا گیا ہے۔ یعنی ایک ہی ڈڑاما کئی معنوی جہتوں اور پہلوؤں کو روشن کرتا ہے اور اس کی ہرجہت یا اس کا ہر پہلو گھناؤنا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کھیل میں اکبر کا چہرہ سب سے زیادہ گھناؤنا اور مکروہ نظر آتا ہے جس کا احساس خود سلمیٰ کو بھی ہوجاتا ہے اور یہ احساس ردعمل کے طورپر شدت کے ساتھ ابھرتا ہے:
’’
اسے احساس ہو رہا تھاکہ اس نے زندگی کی سب سے بڑی بھول کی ہے، اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھاکہ اکبر اسے کہیں کابھی نہیں رکھے گا۔ اس نے جب ڈرتے ڈرتے عاصم کی شکایت کی تھی کہ کس طرح اس نے اس کی غیر موجودگی میں۔۔۔‘‘
تو اکبر نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار اس طرح کیاتھا:
’’
بھول جاؤ ان باتوں کو۔ اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا تھا۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ پھر اس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا: ’تم فکر کیوں کرتی ہو، تمہارے پاس اب کھونے کے لئے بچا ہی کیا ہے۔‘‘
اکبر کے خیال میں سلمیٰ کے پاس کھونے کے لئے بھلے ہی کچھ نہ بچا ہو، لیکن نوری نے عاصم کے متعلق سلمیٰ کے جملے کو ادھوراچھوڑکر ایک طرف تو یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ اس میں ابھی نسوانی حیاباقی ہے اور دوسری طرف انہیں قاری کی ذہانت پر بھروسا ہے اور اپنے پیرایہ اظہار و ابلاغ پر بھی اعتماد ہے کہ یہ ادھورا جملہ بھی پورے معنی بلکہ اس کی گہرائی تک قاری کو اتار دے گا۔ اگر غلطی سے اس جملے کو پورا کردیا جاتا تو برہنہ گفتاری کا عیب فنکاری کے حسن کو زائل کردیتا ۔ اس کے ساتھ ہی اکبر کے ردعمل سے فوراً ظاہر ہوجاتا ہے کہ مکالمہ جس شخص کے لئے تھا،وہ اس ادھورے جملے کا پورا پورا مفہوم سمجھ گیا۔
مکالمہ یا مخاطبہ دراصل خطیب اور مخاطب کے درمیان کا معاملہ ہوتاہے۔ اس میں اشارے، کنائے استفسار، اختصار اور تفصیل سب کی ضرورت تناسب اور توازن کے ساتھ موقع و محل کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ اسلوب بیان کی اہمیت اور اس کا حسن ان ہی باتوں پر منحصر ہوتاہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو لذت بیان اور لطف زبان اپنی تاثیر کھودے۔اکبر چونکہ سلمیٰ کا شوہر ہے اور دونوں ایک دوسرے کے مزاج، میلان اور عملی سرگرمیوں کے منظر و پس منظر سے اچھی طرح واقف ہیں، اس لئے سلمیٰ کا زیر بحث جملے کو ادھورا چھوڑنا ہی بیان کے اسلوب کو لذت تاثیر سے روشناس کراتا ہے اور بیان کی قوت کو زوردار بناتا ہے۔ اگر اس جملے کو پورا کردیاجاتا تو لفظوں کے استعمال کی زیادتی فنی سلیقے کے بھی خلاف ہوتی۔
ان نکات کو پیش نظررکھاجائے تو یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہاں نوری نے مکالمہ نگاری میں فنی سلیقہ شعاری کا مظاہرہ کیا ہے اور کردار سازی اور کردار نگاری میں کرداروں کی مجرد شخصیت کی تجسیم فنی مہارت کے ساتھ کی ہے۔ جیساکہ پہلے بھی عرض کیاجاچکا ہے، اس افسانے میں فلیش بیک کی تکنیک کا بھی سہارا لیاگیا ہے اور اس سے ڈرامائیت کے ساتھ ساتھ تجسس اور تحیر کے عناصر بھی بروئے کارلائے گئے ہیں۔
اکبر کے رویے سے سلمیٰ جس کرب و اذیت میں مبتلا ہوتی ہے، وہ غیر فطری نہیں۔ اسے احساس ہوجاتا ہے کہ اکبر کی نظر میں اس کی حیثیت و اہمیت کیا رہ گئی ہے۔ یہ احساس جب شدت اختیار کرتا ہے تو یہ کیفیت ظاہر ہوتی ہے:
’’
یا اﷲ۔۔۔میں کیا سے کیاہوگئی۔۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی، لیکن اس کے آنسو دیکھنے کے لئے اکبر اس کے سامنے نہیں تھا۔‘‘
فنکار کے ذہن میں جو کردار ہوتاہے، اس کو وہ اپنے آئینہ ادراک میں الٹ پلٹ کر دیکھتا اور پرکھتا ہے کہ وہ اس کے تصور و تخیل یا فکر کی ترسیل میں کس حدتک کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے فنکار فطرت شناس ہوتا ہے۔ اگر اس افسانے میں کرداروں کے رویے، عمل اور ردعمل پر نظر رکھی جائے تو محسوس کیا جاسکتا ہے کہ نوری نے اکبر اور سلمیٰ کی فطرت شناسی کا ہی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے بلکہ دوسرے کرداروں کی بھی تحلیل نفسی کسی حدتک کامیابی کے ساتھ کی ہے۔
اس افسانے کا بیانیہ طول طویل اور بوجھل نہیں۔ اس میں رعایت لفظی سے بھی کام لیا گیا ہے، لیکن کہیں کہیں توضیحی پیرایہ بیان بھی اختیار کیاگیا ہے۔ موقع کی مناسبت سے یہ طریقہ کار غیر ضروری نہیں، لیکن بعض عبارتوں میں یہ صرف غیر ضروری ہی نہیں معلوم ہوتا بلکہ جامعیت یا Compactness میں خلل ڈالتا ہے۔ مثلاً :
’’
اکبرصرف سامنے دیکھنے کا عادی تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات سیاست کے گلیارے کے ایک ماہر کھلاڑی اشوک کمار رائے جی سے ہوگئی۔ ان کے دوست انہیں بگلابھگت کہتے تھے۔ رائے جی باہر سے بہت معصوم لگتے، لیکن اندر سے ماہر کھلاڑی تھے۔ انہوں نے اکبر کو ایک ہی نظر میں تاڑ لیاکہ یہ لمبی ریس کا گھوڑا ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘
یہاں ’’بگلابھگت‘‘ میں مضمر معنی و مفہوم کی وضاحت یعنی ’’رائے جی باہر سے بہت معصوم لگتے، لیکن اندر سے ماہر کھلاڑی تھے۔‘‘ غیر ضروری معلوم ہوتی ہے۔ ہوتا دراصل یہ ہے کہ بعض الفاظ، اصطلاحات یا محاورات جو فنکار کے مزاج و مذاق سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، کبھی کبھی وہ اس کی کمزوری بن جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسی کمزوری نے ’’ماہر کھلاڑی‘‘ کو عبارت آرائی میں کھپانے کی مجبوری پیدا کردی، ورنہ اس کی ضرورت ہی کیا تھی۔
اس افسانے میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں۔ زیادہ تر چست فقرے اور برمحل جملے استعمال کئے گئے ہیں۔ روزمرہ اور محاورہ کا استعمال حالات و واقعات کی مناسبت سے خوبصورتی کے ساتھ کیاگیا ہے جس سے واقعیت شعاری کا پہلو بھی مترشح ہوتا ہے۔ کہیں کہیں زبان و بیان کی سطح پر پھسلن کی کیفیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر یہ اقتباس پیش نظر رکھا جاسکتا ہے:
’’
اکبر اپنی کامیابی کے لئے کسی نہ کسی زینے کا استعمال کرتا تھا۔ پہلا زینہ تو خان صاحب ثابت ہوئے تھے جن کی چوکھٹ ہی اکھاڑ آیا تھااکبر۔ اب رائے جی اس کی ترقی کے لئے دوسرا زینہ تھے۔ رائے جی نے اس کی دھار میں اور سان چڑھایا اور اسے کامیابی کے داؤ پیچ سکھائے۔‘‘
مجھے اس عبارت میں جہاں کوئی خلامحسوس ہوتاہے یا کوئی کمی نظر آتی ہے، اس کو دور کرنے کی میں اپنی سی کوشش کروں تو یوں کرسکتا ہوں:
*
پہلا زینہ تو خان صاحب ہی ثابت ہوئے تھے جن کی چوکھٹ ہی اکھاڑ لایا تھا اکبر۔
* رائے جی نے اس کی دھار پر اور سان چڑھایا۔
ایک دوسرا اقتباس بھی دیکھیں:
’’
چارپانچ ماہ بیت گئے، اسی دوران وہ ایک بیٹی کا باپ بھی بن گیا۔سلمیٰ نے جب پہلی بار اپنی بیٹی کا منھ دیکھا تو وہ اپنے سارے دکھ درد بھول گئی، اس کے سامنے حالات سے سمجھوتہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں تھا۔ اس نے خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا۔ سلمیٰ ماں بن کر ایک مکمل عورت بن گئی تھی۔ کچھ دنوں میں اس کے چہرے میں ایک عجیب سا نکھار بھی پیداہوگیا۔ اس تبدیلی کو اکبر نے بھی محسوس کیا، پھر اس نے اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے کے لئے سلمیٰ کو اور رنگین بنانا شروع کردیا۔ ادھر سلمیٰ کا رنگ اترتا رہا اور اُدھر اس کے خواب سرزمین پر اترنے لگے۔‘‘
پہلے اقتباس کا پہلا جملہ ’’چار پانچ ماہ بیت گئے۔ توجہ طلب ہے، اس جملے کے لفظی ماحول میں لفظ ’’ماہ‘‘ اجنبی یا غریب سا لگتا ہے۔ میرے خیال میں ’’ماہ‘‘ کی بجائے ’’مہینے‘‘ زیادہ مناسب ہوتا۔ دوسرے اقتباس میں ’’چہرے میں نکھار‘‘ کی بجائے ’’چہرے پر نکھار‘‘، ’’ادھر اس کے خواب سرزمین پر اترنے لگے۔‘‘ کی بجائے ’’ادھر اس کے خواب میں رنگ بھرنے لگا‘‘ یا ’’ادھر اس کے خوابوں میں رنگ بھرتے گئے۔‘‘
بہرحال نوری رعایت لفظی سے بھی کام لیتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ اکبر کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’
جہاں بھی اس کا کام اٹکتا وہ سلمیٰ کی سیڑھی لگادیتا۔ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ’جس کے پاس خوبصورت بیوی سا زینہ ہو وہ دنیا کی کوئی بھی بلندی طے کرسکتا ہے۔ وہ اس زینہ کے سہارے ایک سے ایک کامیابی حاصل کرتا رہا۔‘‘
اس عبارت میں باریکیاں، پرکاریاں اور تہداریاں تو ہیں، لیکن جو دعویٰ ہے یعنی ’’وہ اس زینہ کے سہارے ایک سے ایک کامیابی حاصل کرتا رہا، اس کی کوئی تفصیل، کوئی دلیل یا کوئی جواز اس افسانے کے قصہ میں موجود نہیں سوائے اس کے کہ:
’’
اشوک کمار رائے بھی سلمیٰ پر بہت مہربان تھے، پھر کیا تھا۔ اکبرنے ایم۔اے کیا۔ نوکری ملنی مشکل تھی اس لئے اس نے ایک این جی او کا رجسٹریشن کروایا۔ اب اس کے ذریعہ سرکاری اعانت حاصل کرتا۔ ایک این جی او اس نے سلمیٰ کے نام سے بھی رجسٹرڈ کروایا۔ اب یہ دونوں ادارے اس کے خوابوں میں رنگ بھرنے کے لئے کافی تھے۔‘‘
اب پہلے والے بیان پر کہ ’’وہ اس زینہ کے سہارے زندگی کی ایک سے ایک کامیابی حاصل کرتا رہا۔‘‘غور کرنے سے دکھائی کیادیتا ہے؟ الا اس کے کہ اکبر نے ایم اے کر لیا۔ نوکری ملنی مشکل تھی اس لئے دو این جی او قائم کر لئے۔ چنانچہ ایک سے ایک کامیابی کے زور بیان پر ضرب لگتی ہے۔
این جی او کے ذریعے مالی آسودگی یا خوش حالی قرین قیاس ہے اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ اکبر مستی سے زندگی گزارنے لگا ہو، لیکن یہ اس کی آخری منزل نہیں تھی، اس لئے یہ کہنا حسب حال ہے کہ ’’اب وہ منزل کی تلاش میں دوڑنے لگا۔‘‘ لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ اس کی منزل کیا تھی جس کو پانے کے لئے وہ سرگرداں تھا اور:
’’
اس کے اندر کانٹوں کا بن اُگ آیا تھا جس سے وہ اندر ہی اندر لہولہان ہو رہا تھا۔‘ ‘
اس سوال کا جواب اس تفصیل سے فراہم ہوجاتا ہے کہ:
’’
اکبر کو سماج کے اعلیٰ طبقے کے افراد سے شدید نفرت تھی۔۔۔ وہ اعلیٰ سماج کے ہر فرد سے انتقام لینا چاہتا تھا۔‘‘
لیکن اس اقتباس کا یہ آخری جملہ توجہ طلب ہے:
’’
وہ حالات کو بدلنا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا تھا کہ جو خود اس کے لئے گھاتک ثابت ہورہے تھے۔‘‘
یعنی اکبر کے سینے میں انتقام کی جو آگ لگی تھی وہ ابھی تک بجھی نہیں تھی، اس کی ساری سرگرمیوں کا اصل محرک اور مرکز و محور یہی انتقام کی آگ تھی، اس کا اصل مقصود و منتہا یہی انتقام تھا اور یہی اس کی آخری منزل تھی۔
اکبر کے کردار پر افسانہ نگار نے کئی زاویے سے روشنی ڈالی ہے اور اس کی شخصیت کو پرت در پرت کھولنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً:
’’
وہ ایک عجیب سے احساس کمتری کا شکار تھا۔ محفلوں میں کسی بات پر بحث کرنا تو دور کی بات، وہ لوگوں سے آنکھ ملا کر گفتگو بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اپنی بات منوانے کی بھی اس میں صلاحیت نہیں تھی۔ وہ صرف دوسروں کو گالیاں دے سکتا تھا، ان کا مذاق اڑا سکتا تھا اور اس کی منفی سوچ جس ڈگر پر ڈالتی وہ چلنے لگتا۔ یہ اس کی منفی سوچ ہی تھی کہ اس نے اپنے سب سے بڑے محسن پروفیسر خان کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ کیا تھا۔ دراصل اس نے اونچے طبقے سے انتقام لیا تھا، کس بات کا؟ یہ تو اسے بھی معلوم نہیں تھا۔‘‘
اکبر سلمیٰ کو جس راہ پر ڈال دیتاہے، سلمیٰ اسے محسوس کئے بغیر نہیں رہتی اور اکبر کی یہ حرکت اسے ناقابل برداشت معلوم ہونے لگتی ہے۔ رنج و ملال سے اس کے دل و دماغ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ الجھنیں اسے نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا کرتی ہیں۔ چنانچہ جو قدم اسے اٹپٹا سالگتا تھا، اسی سے اسے ایک عجیب سا لطف بھی آنے لگتاہے جس کا نتیجہ بقول راوی اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ:
’’
کبھی کبھی تو وہ خود ہی بڑھ کر اس کے لئے ترقی کا زینہ بن جاتی تھی۔‘‘
اس کہانی میں جو ’’ان کہی‘‘ کا حصہ ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اکبر دولت کو ایک بڑی قوت سمجھنے لگا تھا۔ سماج میں عزت و وقار حاصل کرنے کے لئے ہی دولت کی ضرورت نہیں تھی بلکہ زمانے سے ٹکرانے اور ناپسندیدہ سماج کو ٹھکانے لگانے کے لئے بھی دولت کو ہتھیار کے طورپر استعمال کیاجاسکتاتھا۔ چنانچہ دولت حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حدتک جانے میں اسے کوئی تامل نہ تھاکیونکہ عزت و وقار کا معیار نجابت و شرافت نہیں بلکہ صرف اور صرف دولت ہی تھی۔ یہاں محسوس کیاجاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں یہ سوچ کسی ایک فرد کی سوچ نہیں بلکہ معاشرے کا عمومی رجحان یہی ہے، حالانکہ روایتی اقداری نظام سے بندھے ہوئے لوگ آج بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو ناداری اور مفلسی میں بھی اپنی دولت و جائداد عزت ہی کو سمجھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں فرسودہ ذہنیت کا حامل سمجھنے والے ایک بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ گویا سماجی حقیقت اور معاشرتی واقعیت یک رخی نہیں ہے۔ جہاں بظاہر خلوص نظر آتا ہے، وہاں بھی سیاست کے رنگ کی آمیزش جھلک جاتی ہے۔ وفاداریاں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اشوک کمارکی مہربانیاں سلمیٰ اور اکبر پر بے لوث نہیں ہیں۔ سلمیٰ پر رائے جی کی مہربانیاں جیسے جیسے بڑھتی جاتی ہیں، اس پر اکبر کی گرفت ڈھیلی پڑتی جاتی ہے اور اکبر سلمیٰ کے بدلتے ہوئے رویے کو شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہے،لیکن سلمیٰ بھی اب کوئی بھولی بھالی اور معصوم لڑکی نہیں۔ ماہر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے وہ بھی اس فن میں مہارت حاصل کرچکی ہے، اس لئے نہایت ہی بے باکانہ انداز میں اکبر کے ردعمل کا منھ توڑ جواب دیتی ہے:
’’
دیکھو اکبر ،میں تو نسیم سحری کی طرح معصوم تھی۔ تم نے میری معصومیت کی ردا کو خود ہی تارتار کردیا، اب تو تم نے مجھے بادِ سموم بنادیا ہے اور میں اس ڈگر پر چل پڑی۔ اس ڈگر پر میں اپنی مرضی سے نہیں آئی بلکہ تم نے اپنے فائدے کے لئے مجھے یہاں پہنچادیا۔ میں جب رکی تو تم نے دھکے مارکر آگے بڑھایا اور جب کہ میں اس ڈگر پر بڑھ ہی آئی ہوں تو اس کی بھی کچھ اپنی پرمپرائیں ہیں، کچھ سیمائیں ہیں اور کچھ مجبوریاں بھی ہیں، اس لئے میں اس کا النگھنکیسے کرسکتی ہوں۔ تمہارے آکروش کرنے سے کیا ہوگا۔‘‘
زبان و بیان کی سطح پر غیر متوازن اسلوب کا جواز نوری اس طرح پیش کرتے ہیں:
’’
وہ جب سے ہندی ڈرامے میں کام کرنے لگی تھی، تب سے اس کی گفتگو میں ہندی کے الفاظ کثرت سے درآئے تھے۔ وہ بات بات میں آکروش، سنگھرش، نپنسکتا جیسے الفاظ استعمال کرتی تھی۔‘‘
سلمیٰ کے رویے سے اکبر تلملاتا ہی نہیں، اس کے اندر کانٹوں کا بن پھیل جاتا ہے اور جی میں آتا ہے کہ وہ سارے زمانے کو لہولہان کردے، لیکن وہ جو کچھ چاہتا ہے، وہ سب اس کے اختیار میں نہیں۔ زمانہ تو کیا،و ہ سلمیٰ کے مخالف سمتوں میں بڑھتے قدم اور راستے کو بھی روک نہیں پاتا۔
سلمیٰ کی سمت و رفتار کو نمایاں کرنے کے لئے اس ماجرے میں ایک اور پیوند لگایا گیا ہے اور اس خوبصورتی سے لگایا گیا ہے کہ لنگر تو کیا بخیہ تک دکھائی نہیں دیتا۔ بیان واقعہ کے مطابق بنگال میں ایک یوتھ فیسٹیول کا انعقاد کیاجاتا ہے اور اس میں سلمیٰ بطورِ خاص مدعو کی جاتی ہے۔ بنگال کا یہ پہلا سفر ہی سلمیٰ کو بہت راس آتاہے۔ وہاں کا کھلاپن اسے بہت بھاتا ہے۔ اسی فیسٹیول میں اس کی ملاقات دلیپ گانگولی سے ہوتی ہے اور وہ سلمیٰ کے دل و دماغ پر چھاجاتا ہے۔ کیونکہ وہ صرف بانکاجوان ہی نہیں تھا:
’’
۔۔۔اس کی آوازمیں تو ایک جادو تھا۔ سلمیٰ گانگولی کی طرف کھنچتی چلی گئی۔ اسے اکبر کے ساتھ دوسروں نے بھی محسوس کیا۔ خصوصاً شرماجی جو سلمیٰ کے ساتھ ہی آئے تھے۔ انہیں لگاکہ اب سلمیٰ ان کے ہاتھ سے پھسل جائے گی۔‘‘
یعنی ایک اور رقیب روسیاہ پیدا ہوگیا۔ شرماجی اکبر کے کان بھرنے لگے۔ چنانچہ اکبر اسی رات ہوٹل میں سلمیٰ کو کھری کھوٹی سناتاہے، لیکن سلمیٰ نہیں دبتی، وہ بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے۔ اس کا بیباک لہجہ صورت حال سے میل کھاتا ہے جس سے نوری کے اسلوب بیان کی خوبی ظاہر ہوتی ہے۔
بہرحال اکبرکے لئے یہ صبر کے امتحان کا موقع ہوتا ہے اور وہ ضبط سے کام لیتاہے، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہوتا ہے۔ سلمیٰ کا تیور اور بھی باغیانہ ہوجاتا ہے۔ اس کی زبان برہنہ گفتار ہوجاتی ہے اس پر مستزاد اس کی بیباکی اکبر کو اپنی زبان بندرکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کے باوجود سلمیٰ کی بھڑاس نکل نہیں پاتی۔ وہ اپنے نسوانی جذبات سے مغلوب ہوتی ہے، پھر اس کے اندر دبی کچلی غیرت نسوانی کا اظہار اس طور ہوتا ہے کہ وہ یک مشت ڈھیر ساری نیند کی گولیاں گھونٹ جاتی ہے۔ اکبر حواس باختہ ہوجاتاہے، لیکن راوی کا خیال ہے کہ اس وجہ سے اکبر حواس باختہ نہیں ہوتا کہ سلمیٰ کی زندگی خطرے میں ہے بلکہ اس وجہ سے کہ اکبر کو خود اپنے منصوبوں اور خوابوں کا شیرازہ بکھرتا نظر آتا ہے، لیکن بقول راوی:
’’
ایسے لوگوں کو اتنی آسانی سے موت کب ملتی ہے۔ جو اس طرح پل پل مرنا سیکھ جاتے ہیں ان کی زندگی بہت لمبی ہوجاتی ہے۔ سلمیٰ کو بھی بچالیا گیا اور اکبر میاں کی جان میں جان آئی کیونکہ ایک جھٹکے میں انہیں لگاتھا کہ جس زینے پر وہ کھڑے تھے کسی نے اچانک پاؤں کے نیچے سے کھینچ لیاہو۔‘‘
ایسی گھٹن بھری زندگی کا احساس زندگی کی معنویت کو ہی ختم کردیتا ہے۔ جو انسان اپنی زندگی سے بیزار ہو، وہ نفرت کی دیواروں کو پھلانگ کر پیار کے رشتے کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ کہانی کار نے یہاں سلمیٰ کے رویے کو جس طرح پیش کیاہے، اس میں حقیقی صورت واقعہ کی جھلک ملتی ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی گرہ لگی تھی کہ وہ غیر معمولی طورپر سنجیدگی اختیار کرچکی تھی، اس کا باہر نکلنا اور لوگوں سے ملنا جلنابھی کم ہوگیا تھا، یہاں تک کہ شرماجی بھی آتے تو وہ ملنے سے انکار کردیتی حالانکہ اس کی برباد جوانی پر موسم بہار کا نکھار ابھی بھی برقرار تھا۔ وہ مطمئن بھی تھی کہ اس کی بیٹی کسی اچھے مقامی کالج میں پڑھتی تھی اور بیٹا کسی دوسرے شہر میں میڈیکل سائنس کی تعلیم پارہا تھا۔ اس کا داخلہ سی۔ایم کوٹہ سے میڈیکل کالج میں ہوا تھا۔ یہ کام اشوک کمار رائے جی نے کرایا تھا اور اگلے سال بیٹی کا بھی داخلہ میڈیکل کالج میں کرادینے کا وعدہ کیا تھا، اس لئے اس کا زیادہ تر وقت اب بیٹی کے ساتھ ہی گزرتا جو آئی۔ایس۔ سی کا امتحان دینے والی تھی۔
نوری نے اپنے بیانیہ کو واقعات و واردات اور حالات سے ہم آہنگ رکھاہے۔ ظاہر ہے کہ واقعات و واردات اور افسانے کے کردار حقیقی نہیں فرضی ہیں، کیونکہ انہوں نے محمد حسن کی طرح سچی جھوٹی کہانیاں تو لکھی نہیں ہیں، لیکن یہاں جو انہوں نے افسانوی کردار گڑھے ہیں اور ان کے ذریعے اخلاق باختگی کا جو منظرنامہ پیش کیاہے، وہ احوال واقعی سے بعید بھی نہیں۔ بنگال کے سفر کے دوران اکبر اور سلمیٰ کے درمیان جو کشیدگی پید اہوئی اور اس کے نتیجے میں سلمیٰ کی سرد مہری ردعمل کے طورپر ظاہر ہونے لگی، اس کی تفصیل بیانیہ میں حسب حال معلوم ہوتی ہے۔ یعنی اکبر کے ساتھ اس کے تعلقات رسمی گفتگو تک محدود ہوکر رہ گئے تھے اور اکبر نہیں سمجھ پارہا تھاکہ اس کے دل میں کون سی گانٹھ پڑ گئی ہے جو کھلنے کا نام نہیں لیتی۔ اس کے باوجود اسے کسی قدر اطمینان تھاکہ ہفتہ عشرہ میں وہ نارمل ہوجائے گی۔ وقت کے ساتھ سب کاکس بل نکل جاتا ہے۔ سلمیٰ کی اینٹھن بھی دور ہوجائے گی۔ وہ یہ بھی نہیں بھولا تھاکہ سلمیٰ کے ہی تعاون سے اس نے شہر میں فلیٹ بھی خرید لیا تھا اور کار بھی آگئی تھی۔ اب کافی بڑے لوگوں میں اس کی پہنچ ہونے لگی تھی اور مزید ترقی کے امکانات روشن تھے کیونکہ ترقی کا زینہ ابھی اس کے پاؤں کے نیچے سے کھسکا نہیں تھا، حالانکہ دونوں کے درمیان سرد جنگ جاری تھی اور:
’’
ادھر ایک بڑے نیتا نے اسے ایک ادارے کا چیئرمین بنوانے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا تھا: ’آپ تو بہت مصروف رہتے ہیں۔ آپ سلمیٰ جی کو کل شام بھیج دیجئے گا۔ میں انہیں سارا پلان سمجھادوں گا اور پھر انہیں بھی مہیلا آیوگ کا سدسیہ بنانا ہے۔ چیئرمین بننے کے بعد تو آپ کا ایم۔ایل۔سی بننا طے ہے اکبر جی۔ اب تو آپ کے راج ہی راج ہیں۔‘‘
نوری نے کرداروں کے منھ میں اپنی زبان ڈالنے سے پرہیز کیاہے۔ وہ انہیں کی زبان میں ان کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بات مکالمات سے روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اس کے علاوہ جس کردار سے جو مکالمات ادا کرائے گئے ہیں، وہ اس کی نفسیاتی گر ہوں کو بھی کھول دیتے ہیں۔ مثلاً نیتا کی زبان آجکل کیسی ہوتی ہے، اس کا احساس شدت کے ساتھ محولہ بالا مکالمے سے ہوجاتاہے۔ مثلاً سلمیٰ کے بارے میں نیتاجی کا یہ کہنا کہ: ’’انہیں بھی تو مہیلا آیوگ کا سدسیہ بنانا ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہ زبان کسی ادیب کی نہیں ہوسکتی۔ پھر یہ کہ: ’’آپ تو بہت مصروف رہتے ہیں۔ آپ سلمیٰ جی کو کل شام بھیج دیجئے گا۔ میں انہیں سارا پلان سمجھا دوں گا۔‘‘ یہاں یہ بات بھی سمجھ میںآجاتی ہے کہ سیاست کے گلیارے میں رسوخ حاصل کرنے اور مانگی مراد پانے کے لئے اکثر ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں کیونکہ یہاں جو سبز باغ دکھایا جاتاہے اس میں رنگ برنگے پھول بھی ہوتے ہیں اور ان کی خوشبوئیں بھی ہوتی ہیں۔ کانٹے بھی ضرور ہوتے ہیں، لیکن دکھائی نہیں دیتے۔ دراصل پھولوں کا رنگ اور خوشبوؤں کا آہنگ دل و دماغ میں وہ نشہ گھول دیتاہے جس کا سرور دیر تک قائم رہتاہے اور آنکھوں کو وہ نور عطا کرتا ہے جس میں ہرخواب حقیقت کے رنگ میں ڈھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نیتاجی کی یقین دہانی کے بعد اکبر کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے:
’’
گھر لوٹ کر اس نے سارا پلان سلمیٰ کو سمجھا دیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ وہ رات بھر رنگین سپنے دیکھتا رہا۔ کبھی وہ خود کو لال بتی لگی کار میں گھومتا ہوا دیکھتا اور کبھی ایوان بالا میں اپوزیشن کو گالیاں دیتا ہوا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ایک نہ ایک دن وزارت کی کرسی بھی حاصل کرے گا۔‘‘
لیکن وہ جب صبح میں بیدار ہوا تو اس نے دیکھا کہ بغل کا بستر خالی تھا۔ سلمیٰ نے اس پر ایک سلپ چھوڑا تھا اور اس کا مضمون یہ تھا:
’’
اکبر علی صاحب۔۔۔ آپ نے مجھے ہمیشہ ایک زینے کی طرح استعمال کیا اور میں آپ کی ہر بات مانتی رہتی۔ اپنی دنیا کو بے رنگ کرکے آپ کی دنیا رنگین بناتی رہی۔ اب تو میں ایک ایسے راستے پر ڈال دی گئی ہوں جس پر واپسی کے نشان نہیں ہوتے،ایسی حالت میں جب واپسی ممکن نہیں تو میں نے فیصلہ کیا ہے جب یہی سب کرنا ہے تو پھر اپنے ہی لئے کیوں نہ کروں؟۔۔۔ زندگی بھر میری آب اتری اور آبدار آپ ہوتے گئے۔۔۔ آپ کو جو بننا تھا آپ بن چکے، اب جو بننا ہے، وہ میں بنوں گی۔ چاہے چیئرمین ہو یا ایوان بالا کی ممبری۔۔۔ آیوگ کی ممبری ہو یا وزات کی کرسی۔۔۔ آپ کی مرضی سے بہت جی چکی، اب اپنی مرضی سے جینے کے لئے آپ کا یہ گھر چھوڑ رہی ہوں۔‘‘
اس صورت حال میں اکبرکی حالت و کیفیت کیا ہوسکتی ہے؟قاری کے لئے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں۔ یہ کہانی یہاں تکمیل کو پہنچ جاتی ہے اور ایک قطعی انجام سے قاری کو واقف کرادیتی ہے،لیکن نوری کی فنکاری کے تقاضے کچھ اور ہیں اور اسی تقاضے کی تکمیل سے کہانی میں ایک نئی جان پڑتی ہے، ایک نئی روح بیدار ہوتی ہے اور یہ افسانہ کلائمکس کی انتہا کو پہنچ کر ایک گہرا تاثر قائم کردیتا ہے۔ بعد کی کیفیت کا اندازہ راوی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ:
’’
اس کے ہاتھ میں کاغذ کا سلپ تھرتھرانے لگا، اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک گئی۔ خوابوں کی فلک بوس عمارت آن واحد میں زمیں بوس ہوگئی۔ اس سے قبل کہ اس کی آنکھوں میں مکمل اندھیرا چھاتا دروازے سے آواز آئی۔ ’پاپا چائے۔۔۔‘اس کی بیٹی دوکپ چائے لئے پوچھ رہی تھی۔ ’امی کدھر ہیں پاپا۔۔۔؟‘‘
’’
اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتا دروازے پر ہوا کا تیز جھونکا آیا اور اس کے ہاتھوں میں تھرتھراتے کاغذ کواڑا کر کھڑکی سے باہر لے گیا، اس نے گھور کر اپنی جوان بیٹی کو دیکھا اور اس کے مرجھائے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی اور اس کی آنکھوں میں پھیلتا ہو ااندھیرا غائب ہونے لگا۔‘‘
افسانہ اپنے فطری ارتقائی مرحلے سے گزرتا ہوا بہت ہی سہل انداز میں قاری کے دل و دماغ میں اترتاہے، لیکن انجام کو پہنچ کر جب تاثر کی شکل میں ابھرتا ہے تو ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ تہذیب و اخلاق اور اقدارکی پامالی کا یہ منظر رونگٹے کھڑے کردیتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان ہوس زر میں مبتلا ہوکر دولت اور ظاہری نام و نموداور شہرت کے لئے اس حدتک بھی گرسکتا ہے۔ اکبر کے مرجھائے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی تہدار معنویت ایک ان کہی کہانی کی تشکیل کاپیش خیمہ بن جاتی ہے اور کہانی کے تاثرات کو بیحد گہرا اور معیارکو نہایت بلند بنادیتی ہے۔


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.