اکیسویں صدی میں پاکستان میں اردو ناول




غالب نشتر
23 May, 2018 | Total Views: 838

   

دنیا کے نقشے میں کسی نئے ملک کا قیام عمل میں آنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جتنا اس بات پر کہ کسی ملک کا قیام جن مقاصد کے تحت عمل میں آیا ہو،ان کا نفاذہی نہ ہو۔یہی کچھ صورت حال پاکستان کے ساتھ رونماہوا۔پچھلی صدی کی چوتھی دہائی میں اس ملک کے قیام کے لیے جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ،وہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن ایک بات تو صاف نظر آتی ہے کہ اس نئے ملک کا قیام ہی قتل و غارت گری،منافقت اور خوں ریزی سے ہوا۔اور تو اور اس ملک کے مکمل قیام کے بعد ۱۹۵۸ء کا مارشل لا،۱۹۶۵ء کی بھارت پاک جنگ،۱۹۷۱ء میں زبان کی بنیاد پربنگلہ دیش کا قیام اور۱۹۷۷ء کا مارشل لاایسے حقائق ہیں جن کا اعتراف پاکستان کی عوام کے ساتھ دنیا بھر کے لوگوں نے کیا۔یہ وہ بڑے مسائل ہیں جن سے یہ ملک جھوجتا رہا اور اب بھی صورت حال کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
نئی صدی کا استقبال دنیا بھر کے لوگوں نے خوش آئند طریقے سے کیا اور لوگوں نے محض یہ دعائیں کیں کہ آنے والی صدی پُر سکون ، خوشیوں سے لبریز اور ہر کسی کے حق میں بہتر ثابت ہو لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ،لوگوں کے خواب چکنا چور ہوتے چلے گئے۔اس کی بنیادی وجہ وہ آفات تھیں جنہیں ان ممالک نے بہ ذات خود جھیلا۔ان میں کچھ مصائب تو آفاقی تھے لیکن بہت سی آفات ایسی تھیں جنہیں اسی بنی نوع انسان نے اختراع کیے تھے جس کا فائدہ چنندہ لوگوں کو اور نقصان بہتوں کو ہوا۔اسی باعث بہت سی معصوم جانیں تلف ہوئیں ۔اگر ان ممالک کی فہرست تیار کی جائے تو ملک پاکستان کو اس فہرست میں ضرور جگہ ملے گی۔یہ حقیقت ہے کہ نئی صدی نے عوام کو بہت سی ایجادات و انکشافات سے نوازا،سائنس و ٹکنالوجی کی دنیا میں نئی راہیں کھولیں لیکن ساتھ ہی9/11 کا سانحہ،۲۰۰۵ء کا دل دہلا دینے والا اسلام آبادکا زلزلہ اوربر صغیر میں پنپنے والے طالبانی مظالم ایسے حقائق ہیں جن سے صرف نظر ممکن نہیں۔پاکستان کو نئی صدی میں جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا اُن میں پہلا اہم سانحہ9/11 کا ہے۔یوں تو یہ سانحہ پاکستان سے دور امریکامیں وقوع پذیرہوا لیکن اس کا اثر براہ راست پاکستان ،افغانستان اور اسی طرح کے دوسرے مسلم ممالک پر پڑا۔خود امریکا میں بس رہے مسلم معاشرے نے بھی اس کے اثر کوشدت سے محسوس کیا ۔بہت سے غیر امریکی شہریوں کو وطن لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ادب میں گیارہ ستمبر کے واقعات کو کافی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔گیارہ ستمبر کے واقعے نے امریکی ادیبوں کے علاوہ پاکستانی ادیبوں کو بھی شدید طور پر متأثر کیا۔محسن حمید کی اولین ادبی کاوش اس لیے اہم ہے کہ انہوں نے زندگی کا کافی حصہ امریکا میں گزاراہے اور انہوں نے امریکا کی ادبی و سیاسی صورت حال کو قریب سے دیکھا ہے ۔9/11کے تشدد کے حوالے سے ان کا ناول ۲۰۰۷ء میں شائع ہوا ۔ پاکستانی ناولوں کی بہ نسبت افسانوں میں اس صورت حال کی عکاسی واضح طور پر ہوئی ہے ۔اس حوالے سے لکھی گئیں بیش تر تخلیقات میں باریش اشخاص کو مشکوک ،ساتھ ہی انہیں پولیس کی حراست میں سوالات و جوابات میں گھرا ہوا دکھایا گیا ہے۔پاکستانی ادیبوں نے اس کرب کوبہ ذاتِ خود جھیلا ہے۔اس سانحے کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ اسلام آباد کے زلزلے نے وہاں کے ادیبوں کو متزلزل کردیااور۸؍کتوبر ۲۰۰۵ء کے دن پاکستان کو اپنی تاریخ کے ہول ناک ترین زلزلے کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں تو یہ سانحہ آزاد کشمیر ، شمالی علاقہ جات اور دارالحکومت اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں رو نما ہوا لیکن پورے ملک نے اس عظیم سانحے کو شدید طور پر محسوس کیا ۔ساتھ ہی پورے ملک کے عوام نے آپسی اتحاد کا بہترین ثبوت پیش کیا۔ عوام کے ساتھ ملک بھر کے ادیبوں نے بھی اپنی تخلیقات لکھ کراس کرب کا اظہار کیا۔اردو افسانے کا ذکر کریں تو محمد حمید شاہد کا افسانہ’’ ملبہ سانس لیتا ہے‘‘، منشا یادکا’’آگے خاموشی ہے‘‘،خالد قیوم تنولی کا’’ قیامت کے بعد‘‘، آصف فرخی کا ’’بے تابی سے کیا حاصل ‘‘اور عارفہ شمسہ کا ’’زندہ درگور‘‘جیسی تخلیقات کو کسی بھی طرح فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس سانحے کا ذکر اکیسویں صدی کے پاکستانی اردو ناولوں میں کہیں اشارۃً تو کہیں صراحتاًملتا ہے۔ اس ضمن میں محمد حمید شاہد کے ناول’’مٹی آدم کھائی ہے‘‘مطبوعہ جنوری ۲۰۰۷ء کواس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ ناول اسی سانحے کو بنیاد بنا کر رقم کیا گیا ہے۔ ناول کے ابتدائی صفحات میں ناول نگار نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے کہ :
’’یہ ایک ایسی عجیب و غریب کہانی ہے جو چھپنے کے لیے نہیں لکھی گئی تھی اور شاید یہ کبھی منظرعام پر نہ آتی اگر آٹھ اکتوبر والابھونچال نہ آیاہوتاجس نے بہت وسیع علاقے میں تباہی پھیلائی تھی ‘‘۔
جنگ اور رومان کی آویزش پر منحصر اس کہا نی کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان مٹی سے بنایا گیا ہے ، اسی مٹی میں زندگی بسر کرتا ہے اوراسی مٹی میں مل جاناہوتا ہے۔دوراویوں کے سہارے آگے بڑھتی اس کہانی محمد حمید شاہد نے ہیئت و تکنیک پر بھی اپنی صلاحیت کا لوہامنوایا ہے۔اس ناول کے ابتدا میں ’’مدیر کا نوٹ‘‘کا عنوان قائم کرکے ناول نگار نے فقط اس جانب اشارہ کیا ہے کہ یہ ناول زلزلے کے سانحے کے بعد ہی منظر عام پر آسکا ہے لیکن بقیہ پورے ناول میں اس سانحے کی صراحت نہیں ہے بلکہ علامتی انداز کو بروئے کار لاکر ناول نگار نے پورے ناول کا پلاٹ تیار کیا ہے۔ 
اکیس ویں صدی میں ناول نگاری کے ضمن میں مرزا اطہر بیگ کا نام محتاجِ تعارف نہیں ہے ۔مرزا اطہر بیگ کا تعلق فلسفے سے رہا ہے ۔ انہوں نے لاہور کے اہم جامعہ میں فلسفے کے صدر شعبہ کی حیثیت سے اپنی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ یوں تو ان کی ادبی زندگی کاآغاز کہانی کار کی حیثیت سے ہوا لیکن بعد میں وہ ڈرامانگاری کی جانب متوجہ ہوئے ۔ ۲۰۰۶ء میں شائع ہونے والا’’غلام باغ ‘‘ان کا پہلا ناول ہے۔ اس ناول کے علاوہ انہوں نے ایک اور ناول بہ عنوان ’’صفر سے ایک تک ‘‘ لکھا ہے۔ ’’غلام باغ‘‘مرزا اطہر بیگ کا وہ ناول ہے جسے اکیسویں صدی کے عشرۂ او ل میں کافی سراہا گیا۔ ایک طرف دادو تحسین کا سلسلہ جاری تھا تو دوسری جانب کچھ ناقدین نے اسے لایعنی بھی قرار دیا۔پونے نو سوصفحے اورتیس ابواب پر پھیلا یہ ناول اپنے اندر گہری معنویت لیے ہوئے ہے۔ ناول کا نام ’’غلام باغ‘‘ایک استعارائی نظام کے تحت رکھا گیا ہے۔ جس کی جانب مرزا اطہر بیگ نے ایک انٹرویومیں توجہ دلائی ہے ۔وہ کہتے ہیں:
’’غلام باغ آثار قدیمہ کے حوالے سے ایک تخیلاتی جگہ ہے۔ جس میں کھنڈرات بھی ہیں اور کیفے بھی ہیں ۔ اگر اس کاWidest Themeدیکھا جائے تو وہ یہی ہے کہ غلام باغ آزادی اور غلامی کو بنیادی طور پر موضوع بنا تا ہے اور اگر وہ آزاد ہے تو کیا اس کا Relationقائم رکھ سکتا ہے دوسروں کے ساتھ ؟غلام باغ ایک استعارہ ہے جو نام سے ظاہر ہورہا ہے۔ اس ناول کا ایک بڑا موضوع انسان کا انسان پر، قوموں کا قوموں پر اور نسلوں کی نسلوں پر غلبہ پانے کی خواہش ہے‘‘۔
غلام باغ اپنی نوعیت کا انوکھا ناول ہے ،ان کے کرداروں کا تعلق گورنمنٹ کالج ،لاہور سے ہے۔قاری اس ناول کے آغاز سے انجام تک اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ مرزا نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ ایک آفاقی موضوع ہے۔اس ناول کے جغرافیائی حدود میں آثار قدیمہ رکھنے والی جگہ بھی ہے جو اپنی تاریخی اور تہذیبی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک کیفے بھی ہے، جسے کیفے غلام باغ کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔ یہ وہی کیفے ہے جہاں کچھ دوست (غلام باغ گروپ )وقت گزاری اور خوش گپیوں کے لیے مل بیٹھے ہیں۔ مجموعی طور پر اس کیفے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس ناول کے سارے تانے بانے اسی کیفے سے جڑے ہیں۔ ناول میں مندرجہ بالاموضوعات کے علاوہ ’’دیوانگی ‘‘بھی ایک اہم موضوع ہے۔ساتھ ہی کچھ ذیلی عنوانات بھی ہیں جو ناول کے سروں کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ مرزا صاحب کا تعلق فلسفے سے براہ راست رہا ہے لہٰذا اس ناول میں انہوں نے فلسفیانہ خیالات اور فلسفیانہ اقوال کے ذریعہ قارئین پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی ہے۔غلام باغ گروپ دوستوں کے مابین تکلم سے فلسفیانہ گفتگو کو نکال دیاجائے تو ناول کی معنویت میں کمی واقع ہوسکتی ہے جب کہ فلسفیانہ موضوع کا کلی طور پر اس میں دخل نہیں ہے۔ اس ناول کے اسلوب اور موضوع پر بحث کرتے ہوئے عبد اللہ حسین لکھتے ہیں :
’’غلام باغ اپنے مقام میں اردو ناول کی روایت سے قطعی ہٹ کے واقع ہے بلکہ انگریزی ناول میں بھی یہ تکنیک ناپید ہے۔ اس کے ڈانڈے یورپی ناول ،خاص طور پر فرانسیسی پوسٹ ماڈرن ناول سے ملتے ہیں۔ ناول ایک انگریزی کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’نیا‘‘نہیں بلکہ اس کے اصل معنی’’ انوکھا‘‘ ہیں۔ اس لحاظ سے غلام باغ صحیح معنوں میں ایک انوکھا ناول ہے ‘‘۔ 
غلام باغ کے علاوہ مرزا اطہر بیگ نے ایک اور ناول ’’صفر سے ایک تک ‘‘ کے عنوان سے ۲۰۰۹ء میں لکھا جس کا موضوع پہلے ناول سے بالکل مختلف ہے۔ ناول کے نام سے ابتدا میں یہ تو اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ناول سائبر ورلڈ جیسے وسیع موضوع کو اپنے اندر سمیٹے ہوا ہے لیکن متن کی قرأت کے بعد ناول کا عنوان ہی معنی خیز معلوم ہونے لگتا ہے۔’’ صفر‘‘اور’’ایک‘‘ کمپوٹر کی اصطلاح میں بائنری نمبرس ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ناول ان جدید مسائل کو بہ طور خاص موضوع بناتا ہے جس سے آج کا انسان نبردآزما ہے اور انسان اپنی داخلیت میں اسی وجہ سے پریشان بھی ہے ساتھ ہی ذہنی پریشانیاں، انفارمیشن ٹکنا لوجی کے دور کا ہی عطیہ ہیں۔ ہمارے ہاں بھی شموئل احمد کاافسانہ ’’عنکبوت‘‘ اور مشرف عالم ذوقی کا ناول ’’پوکے مان کی دنیا ‘‘ سائبر کرائم کے ہی غماز ہیں۔ان تخلیقات میں اس بات کا اظہار شدت سے ملتاہے کہ انسان نے ذہنی طور پر سائنس کے میدان میں جتنی زیادہ ترقی کرلی ہو لیکن وہ جسمانی طور پر عریاں ہوتاچلاگیا ہے اور سائبر ورلڈ میں انسان کی حیثیت اُس کیڑے کی طرح ہے جہاں وہ جال میں گھرا ہوا ہے اور اسے مکڑیوں نے چاروں جانب سے جکڑا ہوا ہے اور کیڑے کے لیے اس عنکبوت سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ ٹھیک اسی طرح مرزا اطہر بیگ نے ناول ’’صفر سے ایک تک ‘‘ میں فلسفیانہ گفتگو کے سہارے واقعات کے سرے کو آگے بڑھایاہے۔ ناول کے دو اہم کرداروں ذکا ء اللہ اور فیضان سالارکاذکر خصوصی طور پر موجودہے۔ دونوں کا تعلق سائبر اسپیس سے کسی نہ کسی طور پر ضرور ہے اور وہی ان کے ذہن و دل پر جاری بھی۔ اقتباس ملاحظہ ہو :
’’ایک خبیث سائنس داں کمپوٹر وائرس کے تصور کو ہی بنیاد بناکرایک ذہنی (انسانی ) وائرس بنانے کے امکان پر غور کرسکتا ہے ۔ یہ وائرس بھی ایک سافٹ ویئر ہے یعنی عام زبان میں لکھی یا کہی چند باتوں پرمشتمل ہے اور پڑھنے والے کے ساتھ ہی سننے والے کے ذہن کی فائلیںآہستہ آہستہ کرپٹ ہونے لگتی ہیں‘‘۔ 
پاکستان کے ادبی منظر پر مرزا اطہر بیگ کا یہ ناول پہلی بار پورے فنی گرفت کے ساتھ سائبر اسپیس کے المیے کو پیش کرتا ہے اور پوری گتھی کو سلجھائے ہوئے کمپیوٹرکی کہا نی کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ 
پاکستان کے اردو ناولوں میں تہذیبی اقدار کے ناپید ہونے کے ساتھ شہروں کا نوحہ بھی خصوصی طور پر ملتا ہے۔ہر شہر کا اپنا تہذیبی پس منظر ،اپنا موسم اور اپنا مزاج ہوتا ہے لیکن وہی شہر جب اپنی شناخت کھونے لگے تو مفکرین کے مابین وہ بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔پاکستانی ناولوں میں جس شہر کا ذکر خاص طور پر ملتا ہے ،وہ شہر ہے کراچی۔ملک پاکستان میں شہر کراچی’’دل‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستانی عوام اور خود پاکستانیوں کے لیے یہ شہر اس لیے تو جہ کا مرکز بنا ہے کہ اسی شہر میں مہاجرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بندر گاہ اور سمندر کے ساحلی علاقے پر بسے ہونے کی وجہ سے اس شہر کو پہلے سے ہی اپنی حیثیت حاصل تھی لیکن تقسیم ہند کے سانحے کے بعد مہاجرین کے بود باش اختیار کرنے کے بعد اس شہر نے دوہری حیثیت منوالی کیوں کہ اس شہر میں مختلف رنگ و نسل ،مختلف عقائد اور مختلف مسائل سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ یہ طبقہ اب کراچی میں اس طرح رہتا ہے جیسے وہ صدیوں سے یہیں رہتا آیاہواور تمام اپنی زبان ،اپنی تہذیب ، اپنی روایات اور اپنی اقدار کو محفوظ رکھنے میں سرگرداں ہیں۔ غالباًیہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اسی شہر میں سب سے زیادہ فسادات رونما ہوتے ہیں۔ اردو ادب کے ناولوں میں اس شہر کا ذکر بار ہا آتا ہے ۔ ہندوستانی ناولوں کا کردار جب سیر و تفریح کے لیے کہیں جاتا ہے تو وہ اکثر کراچی ہی جاتا ہے ۔ قرۃ العین حیدر کا ’’آگ کا دریا‘‘ ہو یا جوگیندر پال کا’’ خواب رو‘‘یا انتظار حسین کا’’ آگے سمندر ہے‘‘ ان تمام ناولوں کے کچھ کرداروں کا تعلق اس شہر سے ضرور رہا ہے۔ آصف فرخی نے اپنے افسانوں میں شہر کراچی کا ذکر خصوصی طور پر کیا ہے ۔اس ضمن میں محمد امین الدین کا ناول ’’ کراچی والے ‘‘ اس لحاظ سے خصوصیت کا حامل ہے کہ یہ ناول کراچی میں بسنے والے مختلف نسل ، مختلف رنگ، مختلف عقائد اور مختلف زبانیں بولنے والوں کی داستان ہے۔ یہ ناول ۲۰۰۹ء میں منظر عام پر آیا۔ ساتھ ہی یہ ناول تقسیم کے المیے کو بھی موضوع بناتے ہوئے موجودہ صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ یوں تو اس ناول میں ڈھیر سارے کردار ہیں لیکن شمس ناول کے افق پر پوری طرح چھایا ہوا ہے۔ وہ حالات کے جبرکا شکار ہے اور سہمی ہوئی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ ایسے کام کی سزا بھگ رہا ہے جو اس سے سرزد ہی نہیں ہوا۔ اس کی نظر میں پورا شہر دہشت زدہ ہے بالکل اس کے کردار کی طرح ۔بابر ملک جیسا کردار کراچی میں واضح امکانات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ اپنے وطن پنجاب سے کراچی تلاش معاش کے لیے آتا ہے اور کسی بلڈنگ میں مزدوری کرکے اپنا پیٹ پال رہا ہے۔ وہ اسی شہر کا انتخاب اس لیے بھی کرتا ہے کہ اس شہر میں ترقی کے بہت سے مواقع ہیں۔ 
اسی تسلسل کا ایک اور ناول نکہت حسن کا ’’جاگنگ پارک‘‘ ہے۔ اس ناول کا محل و قوع شہرکراچی ہی ہے گوکہ اِس ناول کا موضوع ایک عورت کا کرب ہے جو اپنے ارد گرد کے مسائل سے جھوجھ رہی ہے اور ذہنی آسودگی کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرتی ہے لیکن ڈاکٹرآندھیرے دوائیوں کی گولیاں تشخیص کرنے کے بہ جائے تیز قدمی سیر اور محتاط خوراک کا مشورہ دیتاہے تاکہ زبیدہ کی صحت سے جڑے مسائل کاازالہ ہوسکے۔ ڈاکٹر آندھیرے زبید ہ کی ساری بیماریوں کا ذمہ اس کے وہم کو قرار دیتا ہے۔ زبیدہ مورننگ واک کے لیے آمادہ بھی ہوجاتی لیکن شہر کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر تلخ ہنسی کے فوّارے پھوٹ پڑتے ہیں۔ شہر کراچی کے حالات مصنفہ کے بہ قول :
’’اس شہر میں رہنے والی گھریلو عورتوں کو باہر نکل کر برسک واک کا مشورہ دے رہے ہیں!بالکل ہی سٹھیا گئے ہیں۔سڑک پر دہشت گردی اور ڈاکوؤں کے گروپ،گلیوں اور محلوں میں کلا شنکوف تھامے ہوئے رینجرز،کانوں کے پردے اڑادینے والی گولیوں کی آوازیں،انسانی لاشوں کے خون سے لت پت سڑکیں اور پھر اس ریگستان میں کون سے پارک اور باغ ہیں جہاں جاکر کوئی شریف عورت برسک واک کرے؟‘‘
پورے ناول کا پلاٹ اسی جاگنگ پارک کے ارد گرد گھومتا ہے جو شہر کراچی کے وسط میں واقع ہے۔ پارک کو ناول نگار نے بہ طور علامت برتا ہے جہاں وقتی طور پر ایک مصیبت زدہ شخص بیماریوں اور تنہائیوں سے نجات تو پالیتا ہے لیکن ساتھ ہی اجتماعی زندگی کی محرومیاں ان کی جھولی میں ڈال دیتا ہے۔ یہ ناول شہر کراچی کی بدحالی کا نوحہ کرتے ہوئے اُن والدین کی داخلی کرب کو بھی بیان کرتا ہے جس کی اولاد یں بڑھاپے میں ان کا ساتھ چھوڑکرغیر ممالک میں بس جاتی ہیں۔اس ناول میں زبیدہ تنہاعورت کی علامت بن کر ہمارے سامنے آتی ہے جس کے بیٹے ہیں اور وہ اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کے لیے اپنی بوڑھی ماں کو تنہا چھوڑ کر کبھی نہیں واپس آتے۔ 
رشتوں کی پامالی، سماج میں بسنے والے لوگوں کی خودغرضی اور ضعیف والدین کو تنہا چھو ڑ کر غیر ممالک میں بودوباش اختیار کرنے کے موضوع پر اس ناول کے علاوہ چند اور بھی ناول ہیں جس میں اسی طرح کے موضوعات کا احاطہ کیاگیا ہے جن میں ’’قُرب مرگ میں محبت ‘‘اور’’اندھیرا ہونے کے کچھ پہلے ‘‘ کو کافی اہمیت حاصل ہے ۔
’’قرب مرگ میں محبت ‘‘ کے خالق مستنصرحسین تارڑاپنے ہم عصروں میں اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ انہوں نے سب سے زیادہ ناول لکھے ہیں۔ بہاؤ، راکھ، قلعہ جنگی، ڈاکیا اور جولاہا، خس وخاشاک کے زمانے، اے غزالِ شب وغیرہ ایسے ناول ہیں جو اپنی موضوعیت کے لحاظ سے الگ ہیں ساتھ ہی انہیں نسوانی کرداروں کو برتنے میں کمال حاصل ہے۔ مذکورہ ناول میں انہوں نے اچھوتے موضوع کو بحث کا موضوع بنا یا ہے۔ یوں تو محبت ایک آفاقی موضوع ہے لیکن اسی محبت میں بڑھاپے اور قربِ موت کے عنصر کو شامل کردیا جائے تو یہ نادر موضوع میں جاتا ہے۔ ناول نگار نے کہانی کے مرکزی کردار کو ایک نہیں بل کہ ایک سے زائد عورتوں سے عشق کرتے دکھایا ہے اور ناول کا ہیرواُن عورتوں کے حصول کے چکر میں اپنی جان گنوابیٹھا ہے۔بڑھاپے کے دنوں میں جتنی بھی عورتوں سے اس کا رابطہ ہوتا ہے ان میں اکثر عورتیں اپنی اولادکی بے اعتنائی کا شکارہیں۔ انہیں وہ سکون میسر نہیں جس کے وہ واقعی حقدار ہیں لہٰذا انہیں ایسے مرد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اس کا ڈھیر ساراخیال رکھ سکے اور انہیں اس کہانی کے ہیرویعنی خاور سے بہتر کوئی نظر نہیںآتا،جس کی بیوی مرچکی ہے اور بیٹے اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ 
بڑھاپے کی اذیت ناک تنہائی کو جھیلنے کی روایت نے جدید معاشرے میں اپنی جڑیں پھیلادی ہیں۔ادبیات عالم کی تمام زبانوں میں اس نوعیت کا ادب کثرت سے لکھا جارہا ہے۔خود پاکستان کا منظر نامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ نجمہ سہیل کا ناول ’’اندھیرا ہونے سے کچھ پہلے‘‘ اسی نوعیت کا ناول ہے جو ۲۰۱۰ء میں تحریرکیاگیا۔ اس ناول کا مرکزی کردار آفتاب عالم اپنی وفاداربیوی کے انتقال اور بیٹوں کے دور دیس چلے جانے کی وجہ سے تنہائی کی زندگی گزاررہا ہے۔ وہ تنہائی کے دنوں میں یاد ماضی کی اذیتوں کو یاد کرتا رہتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس نے اپنے محبوب کی نارسانی کا بدلہ اپنی وفا شعاربیوی سے پوری زندگی لیتارہا ہے جو اسے خدا کے بعد کا درجہ دیتی تھی۔ 
پاکستان کے ادبی منظر نامے پر مندرجہ بالا ناولوں کے علاوہ اور بھی کئی ایسے ناول ہیں جن کا ذکر ناگزیر ہے لیکن وقت اور حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ فقط ان کے ناموں پر اکتفا کیا جائے جن میں چند نام یہ ہیں:’’دائرہ‘‘محمد عاصم بٹ(۲۰۰۱ء)،’’کاغذی گھاٹ‘‘خالدہ حسین(۲۰۰۲ء)،’’کہر‘‘محمد الیاس(۲۰۰۷ء)،’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘حسن منظر(۲۰۰۸ء)،’’آشوب گاہ‘‘محمد حامد سراج(۲۰۰۹ء)،’’مٹی کی سانجھ‘‘طاہرہ اقبال (۲۰۰۹ء) ، ’’کنجری کا پُل‘‘یونس جاوید(۲۰۱۱ء) ،’’قرطبہ‘‘مصطفی کریم(۲۰۱۱ء)’’راجپوت‘‘عبد اللہ بیگ (۲۰۱۲ء) ، ’’زینو‘‘ وحید احمد(۲۰۱۲ء)اور ’’نولکھی کوٹھی‘‘علی اکبر ناطق(۲۰۱۴ء)۔
پاکستان کے ادبی منظر نامے کا سرسری جائزہ لینے کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ وہاں کے مسائل ہمارے یہاں کے مسائل سے بالکل مختلف ہیں۔وہاں خوف میں لپٹی ہوئی شامیں ،دل کو دہلا دینے والی راتیں اور بارود میں اَٹے ہوئے دن ہیں۔پورا منظر نامہ دشت دہشت کا المیہ بیان کر تا ہے لہٰذا وہاں کے فن پاروں میں یہ تمام عناصر سمٹ آئے ہیں جن سے ہمارے یہاں کا معاشرہ اورادب تقریباً نا پید ہے اور یہ بات بلا تردد کہی جا سکتی ہے کہ وہاں کے ناولوں کے موضوعات میں تنوع ہے۔


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.