نئی کہانی کا منظرنامہ




مشرف عالم ذوقی
06 May, 2017 | Total Views: 311

   

ہم کیوں لکھتے ہیں؟ کیا لکھنا ایک میکانیاتی عمل کا حصہ ہے۔ کیا لکھنے سے کبھی ہمارے سماج یا معاشرے میں کوئی تبدیلی بھی آتی ہے۔ ترقی پسند جن تبدیلیوں کی باتیں کرتے ہوئے سامنے آئے تھے، کیا ان تبدیلیوں نے کسی حد تک سماج اور معاشرے کا چہرہ بدلنے میں کوئی کردار ادا کیا تھا؟ یا جدیدیت کو تسلیم کریں تو لکھنا محض ادب کی حد تک ہے اور اس سے کسی قسم کی تبدیلی کی امید ہی فضول ہے۔ نئی کہانی کیا ہے؟ کیا وقت کے ساتھ ادب کا منظرنامہ بھی تبدیل ہوتا ہے؟ صارفیت نے کس حد تک ہماری زندگی کو متاثر کیا ہے؟
نئی کہانی کے منظرنامہ پر غور کرتے ہیں تو ہزاروں سوال ہیں جو سانپ کی طرح کنڈلی مارکر سامنے آجاتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آج زندگی کی ریس میں بھاگتے ہوئے عام آدمی کو ادب کی ضرورت نہیں ہے۔ نئی تکنالوجی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس نے اپنی زندگی سے ہی ادب کو خارج کردیا ہے۔ سوال یہاں سے بھی پیدا ہوتے ہیں جب عام آدمی نے ادب کو مسترد کردیا ہے تو کیا ہم محض خوش فہمیوں کا شکار ہیں؟ ادب برائے زندگی اورسماجی حقیقت پسند کے دعوے کھوکھلے ہوچکے ہیں۔ ہم کیوں لکھتے ہیں؟ کا جواب آج تک نہیں مل سکا۔ مارکیز سے لے کر مویان اور پایلو کو لہو تک اس کے جواب مختلف ہوں گے۔۔۔ اردو میں بھی اکثر ایسے سوالوں کے جواب تلاش کیے جاتے ہیں پھر بھی کیوں لکھتے ہیں، کی الجھن دور نہیں ہوتی. آغاز سے ہی اردو ادب کو تحریکوں کا ساتھ ملا اور ہر ادبی تحریک نے اچھے ادب کے لیے راستہ بھی ہموار کیا۔ رومانی تحریک سے لے کر ترقی پسند، جدیدیت اور مابعد جدیدت تک جہاں برے لکھنے والے سامنے آئے وہیں بہتر لکھنے والے بھی تھے، جن کی شناخت میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ اس طرح کی تحریکوں کا سامنے آنا دراصل یہ باور کراتا ہے کہ ہر عہد میں ادبی تاریخ راہ نما کے فرائض بھی انجام دیتی ہے اور اس کے پس پردہ ایک زبان، اس کی روایت اور اس کے کلچر کو از سر نو تنقیدی اصولوں کی روشنی میں پرکھنا چاہتی ہے۔ عرصہ پہلے ڈاکٹر محمد حسن نے اپنے رسالہ عصری ادب میں نورتن کے نام سے ادب کا جائزہ لیا تھا تو اس وقت جدیدیت کے فروغ کے باوجود ترقی پسند تحریک کا اثر زائل نہیں ہوا تھا۔ پروفیسر قمر رئیس اور ڈاکٹر محمد حسن دونوں اپنی اپنی سطح پر تحریک کو فروغ دے رہے تھے۔ سن ۲۰۱۲ کے ختم ہونے تک اردو ادب تحریکوں سے باہر نکل کر ایک ایسی بھول بھلیاں کا شکار ہے جہاں راستہ گم ہے۔ تہذیبوں کا تصادم جاری۔ ایک مردہ زبان کو زندہ رکھنے کی کوششیں اور ہندستانی لکھاڑیوں کا حال یہ، کہ مشکل سے کبھی کبھی سال دو سال پانچ سال میں کوئی ایک کہانی سامنے آجاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک کے زیر اثر لکھنے والوں کی ایک بڑی قطار سامنے آگئی تھی۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت نے بھی لکھنے والوں کو متاثر کیا۔ تحریکیں کہیں نہ کہیں ادیب کو خواب سے جگانے کا کام کرتی ہیں اور تحریکوں کے سست یا کمزور ہوتے ہی ادب بھی حاشیہ پر چلا جاتا ہے تو کیا سن ۲۰۱۲ تک آتے آتے اردو ادب حاشیہ پر چلا گیا ہے؟
اردو ادب کی صحیح صورتحال کا جائزہ لیجئے تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ان دنوں ادب بے سمت ہے اور لکھنے والے خاموش۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ گفتگو ہندستانی منظرنامہ کو لے کر ہورہی ہے۔ پاکستان کا منظرنامہ اٹھالیے تو علی اکبر ناطق سے لے کر طاہرہ اقبال تک، ادب کے نئے منظرنامے میں کئی ایسے دستخط اپنی مضبوط شناخت کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن کے بغیر نئے افسانے پر گفتگو ممکن ہی نہیں ہے۔ انور سین رائے کی کہانی کا یہ اقتباس دیکھیے
’’
اسی شام جب مسخرہ کرتب دکھا کر لوگوں کو ہنسارہا تھا ایک بلی چھولداری میں گھس آئی، طوطے نے بہت شور مچایا اور پوری آواز سے مسخرے کو پکارا، لوگوں کے قہقہوں کی آوازیں اتنی اونچی تھیں کہ کسی کو کوئی آواز سنائی نہیں دے سکتی تھی لیکن پھر بھی مسخرے کو طوطے کی آواز سنائی دی لیکن اس نے اس پر توجہ نہیں دی اور سوچا کہ ضرور یہ اس کا وہم ہے یا اس کی بیوی، گدھے اور ریڈیو کی کوئی نئی کارستانی۔ وہ فریاد کرتی آواز کو جھٹک کر لوگوں کو ہنسانے پر لگارہا۔ بلی نے ایک ایسی چھلانگ لگائی کہ طوطے کے نیچے جھولے کی رسی پر ڈھیلے پڑ اور رہ نیچے زمین پر آرہا۔ اب بلی اس کے سامنے تھی۔ آوازیں اس کے حلق سے نکلنا بند ہوچکی تھیں، اس کا جسم ایسے بے حرکت ہوگیا تھا جیسے اس میں جان ہی نہ ہو، اس نے بے بسی سے آنکھیں بند کرلیں۔
قصہ گو کی آنکھیں بند تھیں اور اس کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے کہا:
یہ صرف ایک قصہ ہے میں کبھی کسی مسخرے سے نہیں ملا، کسی مسخرے نے کبھی اپنی بیوی کو نہیں چھوڑا، کسی گدھے نے کبھی انسانوں کی زبان میں بات نہیں کی اور کوئی ریڈیو کبھی اپنی مرضی سے نہیں چلا، یہ سب ایک قصہ ہے صرف قصہ، لیکن جب لوگ اٹھ کر جارہے تو قصہ گو کو پھر وہی آواز سنائی دی جو ہر بار اسے اس قصے کے انجام پر سنائی دیتی تھی اور اس نے ایک بار پھر اپنے آپ سے وہی بات کہی جو وہ ہر بار کہتا تھا: کاش اس دن میں نے پر کھولنے کے لیے طوطے کی بات مان لی ہوتی۔‘‘
۔۔۔سرکس کے ایک مسخرے کا اختتام(انور سن رائے)
مسخرہ، مسخرے کی بیوی، طوطا اور گدھے کو لے کر بنے گئے اس قصے میں آج کی اردو کہانی کی گونج سنی جاسکتی ہے۔ پرانے لوگ ایک ایک کرکے ہمارے درمیان سے اٹھنے لگے ہیں۔ قصہ گو خاموش ہے۔تحریکیں بے اثر اور لکھنے والے دوچند۔۔۔ پڑھنے والے اور بھی کم۔۔ تخلیقی کائنات کے سوتے خشک ہوتے جارہے ہیں۔۔۔ بڑے نام کنارے ہولیے۔ کچھ باقی ہیں۔ یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابھی بھی تازہ دم لیکن آپ بہتر جانتے ہیں کہ خموشی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ کبھی کبھی جمود کی کیفیت کے بعد جو ادب سامنے آتا ہے، وہ نئی تعبیروں اور نئی فکر کے ساتھ اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ نہ صرف اس میں زندگی کے نئے فلسفے شامل ہوجاتے ہیں بلکہ ایک عہد کے آئینہ کو بھی اس تخلیقی کائنات میں بہ آسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
نئی کہانی کے پس منظر میں تیزگامی کے ساتھ سائنس اور کلچر نے بھی اپنی جگہ محفوظ کرلی ہے۔۔۔ بلند اقبال کی ایک کہانی دیکھیے۔۔۔
’’ہاں وہی.... وہ جو ننگ دھڑنک چیختا چلاتا ہوا دیوانہ..... خود کے سائے کو روندتا ہوا کسی بدحواس ہرن کی طرح جنگلی بھیڑیوں کے ڈر سے بھاگ رہا ہے۔ وہ جو محض اپنی گندی گالیوں ہی سے خود پر پڑتے ہوئے پتھروں سے لڑ رہا ہے۔ وہ جو شریر لڑکوں کے چنگل میں پھنسا ہوا خود اپنے بہتے ہوئے زخم چاٹ رہاہے۔ ہاں وہی.... جو سسکتی ہوئی آنکھوں سے شاید اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ہونے کا سبب سوچ رہا ہے، ہاں وہی.... ٹھیک وہی.... اسے انسان کہتے ہیں۔‘‘
ll
’’
کہتے ہیں اس رات بہت آندھیاں چلی تھیں اور بہت طوفان بھی آئے تھے۔ رات اور بھی تاریک، دن اور بھی روشن ہوگئے تھے اور پھر وہ سناٹا آیا تھا کہ زمین کا دل دہل گیا تھا اور آسماں کانپ گیا تھا۔
کہتے ہیں اس رات خدا اور انسان کا ملاپ ہوا تھا اور پھر اس روتے سسکتے ہوئے انسان کے شعور پر چوتھے ڈائمنشن کادروازہ کھل گیا تھا جس سے نکلتی ہوئی روشنیاں کائنات کا سینہ شق کر گئی تھیں اور چند انمٹ سوالیہ نقوش چھوڑ گئی تھیں۔ خدا کی تخلیق خدا جیسی کیوں نہیں ہے؟‘‘
۔۔۔فورتھ ڈائمنشن
اس نئے صارفی سماج کی اپنی تہذیب، اپنا منظرنامہ ہے۔۔۔ زندگی بہت حد تک بدل چکی ہے۔۔۔ نوجوانوں کی فکرمیں سب سے زیادہ تبدیلیاں آئی ہیں۔ عہد کی ان تبدیلیوں نے فلم اور سماج دونوں کو متاثر کیا ہے۔ ہندستانی فلموں کا رخ کریں تو درخت کی چھاؤں میں گانا گانے والے ہیرو ہیروئن کا دور رخصت ہوچکا ہے۔ ملٹی پلیکس سنیما نے غور وفکر کرنے والی فلموں کا آغاز کردیا ہے۔ سماج سے سیاست اور نئی دنیا کا چہرہ بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے اس کااثر اردو ادب پر بھی پڑناتھا۔ ہم ایک ایسے کنفیوژن یا Re-mix کلچر کا حصہ بن رہے ہیں جہاں مارخیز، بورخیس سے لے کر مویان تک کو بیانیہ سے الگ داستانوں، اساطیر اور Folk کہانیوں میں پناہ تلاش کرنی پڑتی ہے۔ سپاٹ بیانیہ کا دور رخصت ہوچکا ہے۔ اس لیے کہ فیوژن یا اس ری مکس تہذیب میں کچھ بھی سپاٹ نہیں ہے۔ نتیجتاً خالد جاوید، صدیق عالم، ذوقی سے لے کر بلند اقبال تک کی کہانیاں اندھیرے، ناامیدی، خدا کی شناخت اور زندگی کے نئے فلسفوں میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔۔۔ رحمن عباس کی طویل کہانی خدا کے سائے میں آنکھ مچولی دیکھیے تو یہاں خدا حیران کرنے والے لوگوں کے درمیان سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔ انور سین رائے کی کہانی دیکھیں تو خدا کی ذات مسخرے کی دنیا میں نئے سرے سے اپنی شناخت کررہی ہے اور خالد جاوید موت کی کتاب میں پر اسرار بیانیہ کے سہارے زندگی اور موت کے فلسفے کو نئے حوالوں سے لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔ نئی صدی کے بارہ برسوں میں نئی کہانی کا نہ صرف مزاج بدلا ہے بلکہ نئی کہانی میں ہیئت، اسلوب اورزبان وبیان کی سطح پر بھی کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ 
’’امیر نے جملہ سنا، چہرے پر ایک رنگ آیا اور گیا۔ وہ اپنے مقابل کو بھنبھوڑ کھانے میں ماہر تھا۔ رحمت کو بھی کبھی کبھی نوچ ناچ کر پھینک چکا تھا مگر امیر کا برتاؤ دیکھ کر رحمت کو اندازہ ہوگیا کہ اس کا منشا غصہ دکھانا نہیں، کچھ اور ہے۔ اس درمیان امیر ہاتھ کی کتاب کھولے یہ عبارت پڑھ کر رحمت کو سنانا چاہتا تھا۔
’’ہمیں علم نبوت کے اتنے بڑے سرمائے کی علمداری کرنے والا مولوی درکار ہے جو صرف مولوی ہو۔‘‘لیکن عبارت سنانے سے پہلے امیر کو خیال آیا کہ اس عمارت سے ہر طالب علم مولوی بن کر نہیں نکل پاتا اور طلبا کی بے راہ روی کی ذمہ داری مدرسے کا وہ ڈھیلا ڈھالا نظام اور تربیت ہے جس کی اصلاح ضروری ہے، غرا کر بولا ’’تمہارے اندر یہ باغیانہ تیور ہر گز نہ پنپتے، اگر ہم اپنے تعلیمی نظام کو اتنا ہی ٹھوس اور پختہ بنا سکتے جتنا عیسائی پادریوں کا ہوا کرتا ہے۔‘‘
۔۔۔اقبال مجید (تسلیم ورضا)
پرانے لوگوں میں اقبال مجید کے یہاں فکر وخیال کی تازگی ابھی بھی موجود ہے۔ یہی اقبال مجید صاحب آگ کے پاس بیٹھی عورت لکھتے ہیں تو دلت سماج کے لیے آگ کے پاس بیٹھی عورت انقلاب کی علامت بن جاتی ہے۔ اور غور کیجئے تو کہانی میں حکایت کارنگ غالب اور یہ رنگ بہ آسانی مویان سے لے کر خالد جاوید، صدیق عالم اور نئی نسل کے تازہ کار نورین علی کے افسانے (ایک سہما ہوا آدمی) میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔۔۔
صدیق عالم کی ایک کہانی بین سے ایک اقتباس دیکھیے۔
’’میں لوہے کے کنویں کی طرف چل پڑتا ہوں۔
کنواں ہمیشہ کی طرح آج بھی ویران پڑا ہے۔ میں اس کی منڈیر کو تھام کر اندر جھانکتا ہوں۔ پانی غائب ہوجانے کے سبب کنواں کافی گہرا اور تاریک نظرآرہا ہے۔ پیندے کی طرف تاکتے تاکتے مجھے وہاں تھوڑا بہت پانی کا نشان دکھائی دینے لگتا ہے جو شاید کسی حالیہ بارش کا نتیجہ ہو۔ میں یہ سمجھنے کی کوشش کرہی رہاتھا کہ یہ واقعی پانی تھا یا اندر تیرگی نے پانی کی شکل اختیار کرلی تھی کہ مجھے اس سیاہ روشنائی جیسی چیز میں ایک سلوٹ سی جاگتی نظر آئی۔ کوئی چیز وہاں کلبلا رہی تھی۔ ہاں، میں نے اندھیرے سے مانوس ہوتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور ایک بہت ہی چھوٹے حجم کا سانپ پیندے کے پایاب پانی میں بے چینی سے رینگ رہا تھا۔ میں سر بہت اندر تک ڈالے ہوئے پانی کی بار بار معدوم ہوتی سطح پر اس تاریک لکیر کو بنتے اور مٹتے دیکھ رہا تھا جب مجھے کانوں کو چیر جانے والی ایک سیٹی سنائی دی۔ ‘‘
۔۔۔صدیق عالم (بین)
اس اقتباس کے بعد کہانی کار قاری کو اس جھلستے صحرا میں لے جاتا ہے جہاں خوفناک آوازیں ہیں۔ جیسے سینکڑوں ہزاروں عورتیں بچے بین کررہے ہوں۔ سوال اٹھتا ہے۔ تمہیں کس چیز کا خوف ہے انگورا؟ کیا یہ ماتم کرتے لوگ کبھی ہماری تمہاری طرح اس زمین پر نہیں چلے ہوں گے؟ ایک انسانی تلاش ہے جسے صدیق عالم نے جزئیات کا سہارا لے کر اس بلندی پر پہنچا دیا ہے جہاں اردو افسانہ فخر کرسکتا ہے۔ یہی کہانی کا وہ نیا منظرنامہ ہے، جس کے لیے مندرجہ بالا سطور میں گفتگو کی گئی۔ آپ غور کریں تو یہاں عالمی منظرنامہ کی گونج بھی آپ کو صاف سنائی دے گی۔ ترقی کی ریس میں ہرجگہ ایک سہما ہوا انسان آپ کو نظر آئے گا۔یہاں زندگی کے نئے فلسفوں کے لیے وقت کو فریز کردیا گیاہے۔ ماضی، حال اور مستقبل سب اس وقت کے فریم میں شامل ہوگئے ہیں۔ نئی تہذیب کی دستک میں بین کی آوازیں راستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہیں اور جیسے خاموشی سے سوال کرتی ہے، کہ کیا تم بین کی ان آوازوں کو سن سکتے ہو؟
یہ وہی کیفیت ہے جس کا اشارہ خالد جاوید کی کہانیوں میں بھی ملتا ہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’سب سے پہلے تو مجھے یہ اجازت دیں کہ میں آپ کو بتا سکوں کہ اس کہانی کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں اور اگر دنیا میں موجود کسی کردار، یا ہونے والے کسی واقعے سے ان کی کسی بھی قسم کی مطابقت ثابت ہوتی ہے تو اس کے لیے کم از کم میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘
۔۔۔ خالد جاوید (آخری دعوت)
برے موسم میں، آخری دعوت سے لے کر قدموں کا نوحہ گر تک میں دیکھیے تو ایک چیز کا من ہے۔ وہ ہے تاریکی۔ لکھنے والا اکیلا ہی چلتا ہے۔ اور بقول خالد جاوید لکھنا واقعی اکیلا ہوجانا ہے۔ اور وہ بھی ایک جلتے ہوئے بخار میں اچانک اکیلا ہوجانا۔ یہ تنہائی ۷۰ کے آس پاس جو قلمکار جدیدیت کے نعروں کے ساتھ ابھرے تھے، ان سے مختلف ہے۔ وہاں فرد سمٹنے کی کوشش کررہا تھا اور اس لیے شناخت کے مسئلے کو لے کر کہانیاں تحریر ہورہی تھیں۔ لیکن ۲۰۰۰ کے بعد کا مسئلہ ہے کہ فرد ہے ہی نہیں، شناخت کیسے کیجئے۔ وہ سناٹے کی موسیقی میں تحلیل ہوچکا ہے اور جو کچھ ہے، وہ صرف فرض کیا جاسکتا ہے۔ بقول خالد جاوید۔ ایک جمے ہوئے منظرکی طرح مردہ اور خاموش۔ صورتحال مضحکہ خیز ہے۔ ہیرو اور مسخرہ ایک ہی شخصیت میں مدغم ہوچکے ہیں اور شاید اسی لیے خالد جاوید جیسے فنکار کو کہنا پڑتا ہے۔ ’ان کہانیوں کو پڑھنا کسی کی مسرت میں اضافہ نہیں کرسکتا‘۔ یہ کہانیاں بھیانک نراشا اور دکھ کے ساتھ جنم تو لیتی ہیں لیکن مکتی یا نروان کا سبق نہیں پڑھاتیں۔ خالد جاوید، صدیق عالم اور اگر اس قبیل میں کچھ اور فنکاروں کو جمع کرلیں تو کم وبیش صورتحال یہی ہے۔ دنیا ایک تاریک سرنگ میں گم ہے۔ مستقبل کے اندیشے زندگی اور کہانی دونوں کے لیے فرار کے راستہ بن گئے ہیں۔ اور اسی لیے قلمکار بہت سارے دکھوں کے ساتھ دراصل داخلی غلط فہمیوں کے صحرا میں بھٹک رہا ہے۔ یہ وہی سطح ہے جہاں مارکیز اداسی کے سوسالوں کی آگ سے گزرتا ہے اور خالد جاوید اس تنہا دنیا میں کسی کو بھی دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتے۔
’’یایوں کہہ لیں کہ میں یہاں ایک فرد بن کر نہیں رہنا چاہتا۔ میں خود کو ’’کئی‘‘ میں محسوس کرنا چاہتا ہوں اوراس طرح میں ایک ہوتے ہوئے بھی ’’بہت سوں‘‘ میں بٹ جانا چاہتا ہوں۔ اس لیے اس کہانی کا ہر کردار میرے لیے پھانسی کا ایک جھولتا ہوا پھندا ہے۔ میں پھندے میں اپنے سر پر کالا کپڑا ڈال کر گلے کاناپ لینے جاتا ہوں اور مایوس ہوکر واپس آجاتا ہوں۔ کوئی پھندا ایسا نہیں جو ایک د م میرے گلے کے برابر آئے۔ یہاں دم گھٹتاہے۔ دم نکلتا نہیں۔ یہ ایک بھیانک اور کریہہ کھیل ہے۔ جس میں اپنی آزادی اور مکتی کے لیے میں خود کو مختلف ضمائر میں تقسیم کرکے اپنے موسم کی تلاش جاری رکھنا چاہتا ہوں۔
جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ ایک دبکا ہوا احساس جرم وہاں ضرور تھا اورآہستہ آہستہ شاید اب اس سناٹے میں گونجتی ڈوبتی سسکیوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بل کھول رہا تھا۔
ان دونوں کو بھی احساس جرم تھا۔ مگر اس سے چھٹکارا پانے کا ہر ایک کا ایک نجی طریقہ ہوتا ہے یہ میرا نجی طریقہ ہے جو آپ سے مخاطب ہوں۔ ان کی بے معنی باتیں، کالا مفلر اور چمڑے کی جیکٹ شاید اس احساس جرم کا ہی جز تھیں۔ یہ انسان کی اپنی اکیلی دنیا ہے۔ اس میں دخل اندازی کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔‘‘
۔۔۔خالد جاوید (آخری دعوت)
ایسا کیوں ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔ کہانی اپنے نئے منظرنامہ میں اتنی بھیانک کیسے ہوگئی تو اسکا سیدھا اورآسان سا جواب ہے، کیونکہ دنیا بھیانک ہوچکی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے زمانہ پہلے ہرمن ہیسے نے کہا تھا۔ پرانی دنیا کا زوال نزدیک آچکا ہے۔ ایک نئی دنیا جنم لینے والی ہے۔ بھیانک تباہی کا اندیشہ ہے۔ غور کریں تو اس بھیانک تباہی کا اندیشہ سچ ثابت ہوا ہے۔ سن ۲۰۰۰ کی شروعات ہی ایک اغوا کیے گئے طیارے سے ہوئی۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۹۱ کا دن دہشت گردی کے عروج اوردنیا کے خاتمے کاپیغام لے کر آیا تھا۔ سن ۲۰۰۰ کے بعد سیاسی اورسماجی تبدیلیوں نے ایک عالم کو متاثر کیا۔ یہاں اسامہ ہیرو تھا اور ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملہ ایک ایسا حملہ تھا جو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کا نیا منظرنامہ لکھنے کی تیاری کررہاتھا۔ ہندستان کے سیاسی پس منظر میں دیکھیں تو ان تیرہ برسوں میں 26/11اور گودھرہ حادثہ نے آنکھوں کی نیند چھین لی۔ سیاست کے شعلوں نے بہت حد تک تہذیب وتمدن اور سماجی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا تھا۔ ڈپریشن اور اس سے ملے جلے امراض میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اور حاصل یہ تھا کہ بہت سے دکھوں نے اوران کے اثرات نے انسان کو اکیلا اور بے دست وپا بنادیا تھا۔ دیکھا جائے تو کہانیوں نے دکھ کی اسی زمین سے موضوعات تلاش کیے تھے۔ 
’’اے لمحوں کے بخت تخلیق کرنے والے خدا!
آنے والے لمحوں کو گزر چکے لمحوں سے مختلف کر۔
انہیں ڈرون حملوں اور خودکش دھماکوں کے عذابوں سے نجات دے۔
انہیں نہ ٹلنے والے عذاب لمحوں کی پچھل پیریوں کے آسیب سے بچا۔
اے خدا!
اے خستہ بدنوں میں صوت، صوت میں بیان اور بیان میں تخیل کی مقدس اڑان رکھ دینے والے خدا!
ہمارے تخیل کی اڑان میں مقدس خواب رکھ دے۔
اور ان خوابوں کو تعبیر کی امید سے اجال دے۔
۔۔۔حمید شاہد (نئے سال کی پہلی دعا)
نئی صدی کے بارہ برسوں میں کئی بڑے نام خاموش ہوگئے۔ ایسے نام انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنہوں نے ادب کی سمت ورفتار کو آگے بڑھانے میں تعاون دیا ہے۔ اقبال مجید، غضنفر، حسین الحق، شوکت حیات، سلام بن رزاق، شموئل احمد، نعیم کوثر، عبدالصمد، رتن سنگھ، یاسین احمد، ترنم ریاض، شائستہ فاخری، نورالحسنین، احمد صغیر، قاسم خورشید، ام مبین، اشتیاق سعید کا سفر جاری ہے۔نورالحسنین ایوانوں کے خوابیدہ چراغ، کے ذریعہ تاریخ کو آج کے حوالہ سے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ احمد صغیر مسیحائی اور رات کے حوالے سے اس تبدیلی کو محسوس کررہے ہیں جو مغرب کے درمیان سے ہوتی ہوئی ہمارے ملک پر اثرانداز ہوئی ہے۔ شائستہ فاخری کے کئی افسانوں نے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ اردو افسانہ ابھی زندہ ہے۔ اداس لمحوں کی خود کلامی، عصمت چغتائی کی کہانی لحاف کا نہ صرف ایکسٹینشن ہے بلکہ احتجاج کے نئے دروازے بھی کھولتی ہے۔ غضنفر اپنی نئی کہانیوں میں داستان اور حکایتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ مانجھی میں بھی حکایتیں افسانے کو آگے بڑھانے میں نہ صرف تعاون دیتی ہیں بلکہ غالب کے اشعار کی طرح کہانی کو نئی معنویت سے روشناس کراتی ہیں۔ نورین علی حق کی کہانی ایک سہما ہوا آدمی میں گلوبلائزیشن کا خطرہ صاف طور پر نظر میں آجاتا ہے۔ جامع مسجد کے علاقہ میں پولس چوکی سے گزرتا ہوا ایک مسلم نوجوان آج کے ان مسلمان نوجوانوں کا چہرہ بن جاتا ہے جو بٹلہ ہاؤس جیسے حادثے کے بعد گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہاں نام گنوانا منشا نہیں ہے۔ ادب کے بارہ برسوں میں تخلیقی کائنات میں جو تبدیلیاں سامنے آئی ہیں اس کا تجزیہ ضروری ہے۔ ادب بہت حد تک سمٹ چکا ہے۔ لیکن یہ کم بڑی بات نہیں ہے کہ روزی روٹی سے رشتہ استوار نہ ہونے کے باوجود اردو ابھی بھی شان سے زندہ ہے۔ یہ ہر دور میں ہوتا ہے کہ ایک قلم خاموش ہوتا ہے اور دوسرا اسے تھامنے کے لیے آگے بڑھ جاتا ہے۔۔۔ کبھی کبھی گہری خاموشی اور وقت کی یلغار کو سمجھنے میں کئی برس گزر جاتے ہیں۔ آج یہی ہوررہا ہے۔ کئی بڑے قلم خاموش ہیں اور ہمیں ان کے جاگنے کا انتظار ہے۔ ادب حاشیے پر ضرور ہے لیکن ادب زندہ ہے۔ اور ہر دور میں کچھ ہی بہتر اور اچھا لکھنے والے ہوتے ہیں۔ مگر ایسے لوگوں کو بھی سلام کرنا چاہئے جو اردو کی محبت میں مسلسل افسانے اور افسانچے لکھ کر اردو کو زندہ رکھنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ عظیم راہی، ایم اے حق، ساحر کلیم سے لے کر بشیر مالیئر کوٹلوی تک کئی نام ا بھرکر سامنے آئے ہیں جو رسائل کی زینت بڑھارہے ہیں۔ کہانی کے نئے منظرنامے کو آگے بڑھانے میں ابھی ان کی طرف سے کوئی ایسی تخلیق سامنے نہیں آئی ہے، جس پر گفتگو کے دروازے کھل سکیں۔ مگر منٹو کے سیاہ حاشیے اور رتن سنگھ ، جوگندر پال کی منی کہانیوں پر ڈالیے تو افسانچوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بحث کا موضوع نہیں کہ کل انہیں سنجیدہ ادب میں شامل کیا جائے گا یا نہیں، کیونکہ ادب کا معاملہ فکر اور وژن سے بھی طے ہوتا ہے۔ اندنوں مغرب میں بھی افسانچوں کا چلن شروع ہوا ہے۔ اوروہاں افسانچے کی زیریں لہروں میں بہ آسانی بڑی فکر کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
کہانی کا نیا منظرنامہ مٹھی بھر ناموں کے ساتھ نئے فلسفوں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ یہ تلاش دکھ موسم سے ہوتی ہوئی کہاں پہنچے گی، ابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن حقیقت کے ساتھ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نئی کہانی پریم چند یا منٹو کی طرح سپاٹ بیانیہ کا شکار نہیں ہوگی۔ ایک طرف صدیق عالم، خالد جاوید اور علی اکبر ناطق جیسے لوگ ہیں جو جدت اور حقیقت پسندی کے امتزاج سے نئے کولاژ تعمیر کررہے ہیں اور دوسری طرف غضنفر، شائستہ فاخری، احمد صغیر، نورالحسنین، جیسے لوگ ہیں جو کہانی کو نیا افق دینے کے لیے نئے راستے تلاش کررہے ہیں۔ اوران کے درمیان ایک بڑی حقیقت قاری ہے، جس کی نظر وقت اور حالات پر ہے۔ جو بہت خاموشی سے کہانی کے اس بدلتے منظرنامے کو دیکھ رہا ہے۔ کون جانے وہ کس رخ کو اپنی منظوری دیتا ہے اور کس رخ کو نظرانداز کرتاہے۔۔۔

(مشمولہ آب روان کبیر۔ مشرف عالم ذوقی۔ ساشا پبلیکشنز۔ 2013)


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.