اردو کہانی: ایک نیا مکالمہ




مشرف عالم ذوقی
11 Sep, 2017 | Total Views: 512

   

ادب کے لیے مکالمہ ضروری ہے۔ مکالمہ خاموش ہوجائے تو ادب سو جاتا ہے یا ادب گم ہوجاتا ہے۔ تشویش کی بات یہ تھی کہ لکھنے والے چند ہی سہی، لیکن عصا ٹیکتے ٹیکتے دنیا جہان کی بکھری ہوئی کہانیاں لے کر قارئین کی خدمت میں حاضر تو ہو ہی جاتے تھے، لیکن فکشن کے مکالمے سونے لگے تھے۔ فکشن کی تنقید گم ہوگئی تھی۔
تنقید، ادب کا محاسبہ ہی نہیں بلکہ محاصرہ بھی کرتی ہے۔ سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پچھلی کچھ دہائیوں سے ہمارے نقاد اپنا منصب، اپنا رتبہ بھول گئے تھے۔ یار دوستوں کی ٹولیاں تھیں۔ احباب پر جان نچھاور کرنے کے وعدے تھے۔ اور ادب پر احسان جتانے والے تنقیدی مضامین تھے۔
سچائی یہ ہے کہ اردو افسانے کے آغاز سے ہی مکالمے کی ایک خوبصورت فضا بن گئی تھی۔ پہلا افسانہ کون؟ اس پر بھی بحث و مباحثہ کے دفتر کھلے۔ کسی نے پریم چند کے حق میں ووٹ کیا تو کسی نے ’گزرا ہوا زمانہ ‘کو اردو کا پہلا افسانہ قرار دیا۔ یہاں تک کہ اردو افسانے کے آغاز کو ہی اردو افسانہ کا زوال بھی ٹھہرایا گیا۔ بقول انتظار حسین، اردو افسانے کا زوال تو پریم چند سے ہی شروع ہوچکا تھا۔
یہ ایک دلچسپ اور فکر انگیز مکالمہ تھا۔ گوگول کا افسانہ اوور کوٹ، ۱۹۴۲ء میں تحریر کیا جا چکا تھا۔ ایڈ گرایلن پوکے، نئے انداز و اسلوب کے افسانے سامنے آچکے تھے۔ ممکن ہے ان افسانوں کی روشنی میں، سرسید احمد خاں کو گزرا ہوا زمانہ لکھنے کی تحریک ملی ہو۔ گزرا ہوا زمانہ کے ویزوول(Visual) آج بھی ہمیں چونکانے کے لیے کافی ہیں۔ اردو فکشن کی تنقید لکھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ گزرا ہوا زمانہ کو سرے سے کہانی ہی تسلیم نہیں کرتا۔ میرے خیال میں اسے اردو کی پہلی کہانی نہ ماننا سرسید کے ساتھ زیادتی ہے۔ گزرا ہوا زمانہ میں وہ سب کچھ ہے، جس کی ایک خوبصورت، معیاری اور بلند پایہ افسانہ سے امید کی جاسکتی ہے۔ سرسید نے گزرا ہوا زمانہ لکھتے وقت جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا، وہ تھا ایک خاص طرح کا سسپینس اور ایک انوکھی ڈرامائی لہر۔ بوڑھا اپنے گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرتا ہے۔ وہ زمانہ، جس میں اس نے اپنا سب کچھ لٹا دیا ہے۔ صرف کھویا ہی کھویا ہے۔ زندگی کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ باہر بارش ہو رہی ہے۔ بجلی کڑکتی ہے۔ بوڑھے کی زندگی پر لمبی اور بوڑھی رات کی چادر تن چکی ہے۔ اور یہاں سے ڈرامہ ایک نیا موڑ لیتا ہے۔ ایک بجلی چمکتی ہے اور وہ کمرے میں خاموشی سے داخل ہوئی نیکی کو دیکھتا ہے۔
’’پوچھا، تم کون ہو؟‘‘
’’
وہ بولی: میں ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی ہوں۔‘‘
اس نے پوچھا: تمہاری تسخیر کا بھی کوئی عمل ہے؟
جواب ملا:نہایت آسان پر مشکل۔
اور یہ کہانی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔
بوڑھے کے کانوں میں میٹھی میٹھی باتوں کی آواز آنے لگتی ہے۔ اس کی پیاری ماں اس کے پاس کھڑی ہے۔ اس کا باپ اس کو دکھائی دیا۔ تب وہ لڑکا جاگا اور سمجھا کہ اس نے خواب دیکھا ہے اور خواب میں ہی بوڑھا ہوگیا تھا۔
قاعدے سے دیکھا جائے، تو اس پہلے افسانے میں، بعد کے ترقی یافتہ انسانوں سے بڑھ کر خوبیاں موجود تھیں۔ یہ سچ ہے کہ اصلاح پسندی اس کہانی کا حاصل ہے مگر کہانی کی ڈرامائی کیفیت ایسی ہے کہ سن ۱۹۰۰ء کے بعدلکھے جانے والے افسانوں میں بھی یہ کیفیت نہ پیدا ہو سکی۔ راشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے افسانے نے، جنہیں بعد میں نقادوں نے اپنی اپنی سطح پر اردو کی پہلی کہانی کے طور پر دیکھا، پرکھا اور جائزہ لیا، بھی اس ڈرامائی کیفیت سے نہ گزر سکے، جس پل صراط سے، کامیابی کے ساتھ سرسید گزر آئے۔
مجھے اس تجزیہ کے لیے معاف کیجئے گا کہ شروعاتی دور میں ، اگر سرسید کا ذکر چھوڑ دیا جائے اور سن ۱۹۰۰ء کے بعد کی اردو کہانیوں کے بارے میں غور کیا جائے تو کئی بے حد دلچسپ اور چونکانے والے حقائق سامنے آتے ہیں۔ اور مجھے انتظار حسین سے الگ، اپنی گفتگو شروع کرنی ہوگی کہ کہانی اپنی پیدائش کے ساتھ ہی اپنے عروج کو پہنچ گئی تھی۔ حیرت انگیز طور پر اس عہد کی کہانیاں دیکھئے تو دو طرح کی کہانیاں سامنے آ رہی تھیں۔
یا تو بہت روایتی قسم کی کہانیاں، کہ اردو کہانی جنم لینے کے مرحلے میں تھی ۔
اور یا تو۔ خیالات کی سطح پر اتنی بلند اور مکمل کہانیاں کہ مجھے لگتا ہے، ابھی بھی صحیح طور پر یہ کہانیاں تجزیے کے عمل سے نہیں گزر سکی ہیں۔
فی الحال اس گفتگو سے آگے نکلتے ہیں کہ پہلی کہانی سجاد حیدر یلدرم کی ’دوست کا خط‘ تھی۔ راشد الخیری کی نصیر اور خدیجہ یا پھر پریم چند کی، دنیا کا سب سے انمول رتن، تھی۔
مجموعی بحث اس بات سے شروع ہوتی ہے کہ آیا کس افسانہ کو افسانہ تسلیم کیا جائے۔ اور کسے نہیں۔ کیونکہ سن اور تاریخ کے اعتبار سے دیکھئے تو، گزرا ہوا زمانہ، کو ہم آسانی سے پہلی کہانی تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن نقاد فکشن کی پیدائش پر، اپنی اپنی سطح پر پہلی کہانی کا سراغ لگانے میں لگے تھے۔
مرزا حامد بیگ نے اپنے تحقیقی مقالہ میں تاریخی اعتبار سے ان کہانیوں کا تعین کچھ اس طرح کیا ہے:
۔ نصیر۔خدیجہ راشد الخیری مطبوعہ مخزن دسمبر ۱۹۰۳ء
۔ بدنصیب کا عمل راشد الخیری ؍؍ مخزن اگست ۱۹۰۵ء
۔ دوست کا خط سجاد حیدر یلدرم ؍؍ مخزن اکتوبر ۱۹۰۶ء
۔ غربت وطن سجاد حیدر یلدرم ؍؍ اردوئے معلی اکتوبر ۱۹۰۶ء
۔ نابینا بیوی سلطان حیدر یلدرم ؍؍ مخزن دسمبر ۱۹۰۷ء
۔ عشق اور دنیا پریم چند ؍؍ زمانہ اپریل ۱۹۰۸ء

ان کہانیوں میں راشد الخیری کی کہانیوں کو کسی حد تک کمزور کہا جاسکتا ہے۔ نصیر اور خدیجہ کہانی کم، ایک بہن کا بھائی کو لکھا ہوا ذاتی خط زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ کہانی کی مجموعی فضا میں درد و غم کی وہی کیفیت موجود ہے، جو عام طور پر بس خط میں ہی تحریر ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے، یہ کوئی خط ہی ہو، جسے بعد میں افسانہ مان لیا گیا۔ مصورِ غم کہلانے والے راشد الخیری کا یہ خط کچھ اس قدر ذاتی نوعیت کا ہے کہ اسے پہلا افسانہ کسی بھی طور قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے برعکس سجاد حیدر یلدرم کے افسانہ ’دوست کے خط‘ میں جدیدیت کے وہی عناصر موجود ہیں، جو کچھ زمانہ قبل ایڈگرایلن پو کی تخلیقات میں موجود تھے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت کے زیادہ تر ادیبوں کے لیے پو مشعل راہ بنا ہوا تھا۔ یہ وہ عہد تھا جب پو کا اسلوب، مقبولیت کے حصار توڑتا ہوا آسمان تک پھیل گیا تھا۔ نئی کہانی کا مارا ہر عاشق اس کے انداز کا دلدادہ تھا اور پو کی نقل کرنا چاہتا تھا۔ دوست کے خط میں یلدرم نے فنّی چابکدستی سے دوست کے خط کو، امتحان جیسے نمبر دینے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ’’سو میں کتنے نمبر ملتے ہیں‘‘ کا پرچہ ہر بار ۱۰۰ سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اور آخر میں تو جذباتی وابستگی اور والہانہ پن کچھ یوں امڈتا ہے کہ دوست کے خط کو ۱۰۰ میں سے ۱۰۰۰ نمبر دینے پر مصنف مجبور ہوجاتا ہے۔
اس مختصر سے خط میں ندرت خیال بھی ہے۔ فنکاری بھی، تخلیقی اڑان بھی ہے اور اردو کہانی کی کمند کو آسمان پر ڈالنے کی ایک کوشش بھی۔
اس لیے شروعاتی دور کے فنکاروں میں مجھے سجاد حیدر یلدرم اس لیے بھی پسند ہیں کہ یلدرم کی آنکھیں دور تک دیکھتی تھیں۔ دور تک نشانہ سادھتی تھیں۔ جیسے یلدرم کی ایک کہانی ہے۔ چڑیا چڑے کی کہانی۔ سن اشاعت ۰۵۔۱۹۰۳ء کے آس پاس۔ اسے بھی اردو کے شروعاتی افسانوں میں سے ایک تصور کرنا چاہئے۔ کیسی پیاری کہانی ہے۔ چڑیے چڑیوں کا سنسار ہے، گھونسلہ ہے۔ اُنہی کی باتیں ہیں اور ہماری زندگی۔ اور حیران ہوئیے کہ یہ اردو کی شروعاتی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اورایک صدی گزار کر ہمارے انتظار حسین جب ’ہم نوالہ‘ لکھتے ہیں تو بالکل چڑیے چڑیوں کے انداز میں اڑ کر یلدرم کے گھونسلے تک جا پہنچتے ہیں۔ وہی انسان کی درد مندی۔ یہ کتھا، یلدرم کے خزانے میں ہے اور انتظار کے قصے میں بھی۔ دونوں طرف انسانیت کو چھو لینے کی خواہش ایک جیسی اور فرق صدیوں کا۔
اس لیے یہ سمجھا جانا صحیح ہے کہ اردو افسانہ آغاز میں ہی مغرب کی پیروی کرتا ہوا اپنے نئے آسمانوں کی تلاش میں نکل گیا تھا۔
گفتگو پریم چند پر بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہاں پہلی کہانی کے موضوع پر بحث نہیں ہے۔ اور پریم چند کی کہانی کے بارے میں پہلے بھی اتنی ڈھیر ساری بحثیں ہوچکی ہیں کہ اُنہیں نئے سرے سے چھیڑنا مناسب نہیں ہے۔ عام خیال ہے کہ پریم چند نے اپنی کہانی کو، پہلی کہانی کے بطور پیش کرنے کا پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جبکہ ایسا تھا نہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے، جس سے پریم چند کا قدکم ہوجاتا ہو۔ پریم چند کو اگنور کرنے والا، اردو فکشن کی تاریخ ایمانداری کے ساتھ قلم بند کر ہی نہیں سکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ اردو افسانہ جب تجربوں کے اندھے دور سے گزر رہا تھا، پریم چند نے اس افسانے کو، اندھیری سرنگ سے باہر نکالا۔ سمت دیا۔ دشا دی۔ کہانی آج جس پیکر میں عروج کی منزلیں طے کر رہی ہے، وہ پریم چند کی ہی دین ہے۔
**
مکالمہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
۱۰۰ سال پہلے افسانے کی تلاش میں ہمارا اردو افسانہ نگار بہت آگے نکل گیا تھا۔ بعد کے نقادوں نے جن کہانیوں کو سپاٹ بیانیہ کہہ کر خارج کیا، در اصل وہ غلطی پر تھے۔
اور ایسے نقاد ایک عہد کے قصوروار ٹھہرائے جانے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے فکشن سے متعلق، تنقید کے آغاز میں ہی غلط فہمی کے وہ تخم بو دیئے، جو آج بھی پھل دے رہے ہیں اور مسلسل غلط فہمی پیدا کیے جا رہے ہیں۔ جیسے سب سے بھیانک غلطی، پریم چند کو ریجکٹ کیے جانے کی تھی۔ سجاد حیدر یلدرم اور سلطان حیدر جوش پر گفتگو کے دفتر صدی یا ہزارے کے خاتمے پر بھی کھلنے چاہئے تھے۔ اردو افسانہ ایک لمبی صدی گزار کر آج جہاں پہنچا ہے، اسے کیا نام دیا جائے۔
اردو افسانہ عروج پر ہے۔
بھول بھلیاں کا شکار۔
تحریکوں کا مارا ہوا۔
یا قارئین کے ذریعہ ریجکٹ کیا ہوا۔
آخر کے دس برسوں کا جائزہ لیتے ہیں تو مکالمہ کی صورت یوں بنتی ہے کہ ہم کیا لکھ رہے تھے یا  ہم لکھنا بھول گئے تھے، یا ہمارے ہاتھوں سے موضوع چھوٹ گیا تھا۔ جب جب ہم پر یا اردو پر وقت کی مار پڑی ہے، اردو قلم کاروں نے لاجواب اور ناقابل فراموش کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ن سینتالیس کے آس پاس کا ادب غلامی کے دنوں کا ادب ترقی پسند تحریک میں شامل ادب، آزادی کے بعد موضوع کا بھٹکاؤ شروع ہوا۔ یہ نقادوں کے عروج کے دن تھے اور کہانیاں تھکی ہاری، تھکے ہارے کندھوں پر سو رہی تھیں۔ یا یوں کہیں کہ اردو کہانیاں مسائل کی آغوش میں ہی اڑنے کا فن جانتی تھیں۔ جیسے انجماد یا خاموشی کے برسوں بعد، شہید بابری مسجد سانحہ نے ایک بار پھر اردو افسانہ کو جگایا۔ ناول اور کہانیاں لکھی جانے لگیں۔۔ موضوع کی طرف بھاگنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔ موضوع اجودھیا کے فساد سے چھلانگ لگا کر اردو افسانہ نگار کے قلم میں سما گیا تھا۔
ہم تبھی لکھتے ہیں‘ جب زخمی ہوتے ہیں‘ منٹو نے کسی انٹرویو میں یہ بات کہی تھی، جسے آج اردو کہانی کا سچ کہا جاسکتا ہے۔
تو بات شروع ہوئی کہ صدی کا سفر طے کرتی ہوئی اردو کہانی کہاں پہنچی ہے۔ موضوع کی سطح پر ، تجربے کی سطح پر۔ سلطان حیدر جوش کی طوقِ آدم ہو، یا چودھری محمد علی ردولوی، خواجہ حسن نظامی، سدرشن کی کہانیاں۔ فنی و فکری دونوں سطحوں پر جیسی زندگی ان کہانیوں میں تھی، صدی کا سفر طے کرنے کے بعد بھی یہ کہانی وہیں کی وہیں ہے۔ یا حقیقت پوچھی جائے، تو کچھ فنکاروں کو چھوڑ دیا جائے تو کہانی پر ضرورت سے زیادہ سمٹنے کا الزام بھی لگایا جاسکتا ہے۔
ترقی پسند فارمولوں سے آگے نکلنے کے بعد زندگی کے مسائل درپیش تھے۔ یہ مسائل جس تیزی سے سامنے آ رہے تھے، اسی تیزی سے پریشان بھی کر رہے تھے۔ یہ مسائل اچانک ہندستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ابھر کر سامنے آئے تھے۔ محکومی اور غلامی کے بادل چھٹنے کے بعد اپنی جڑوں کی تلاش کا جو سلسلہ چلا اس نے ادب کو انتظار حسین جیسا ادیب دیا۔ انتظار کی مجبوری تھی۔ جڑیں کہاں ہیں؟ ظاہر ہے، ان جڑوں کی تلاش دونوں طرف کی سرحدوں کے لوگ کر رہے تھے۔ یہ افسانوں کی تبدیلی کا عہد تھا۔ کہانی کا مجموعی ڈھانچہ بدلا جانا تھا۔ اس میں نئے پیوند لگنے تھے۔ کہانی نے علامت، تجزیہ اور فنتاسی کے نئے نئے راستوں کو دریافت کیا۔ انتظار نے اس کہانی کو اساطیر اور پنچ تنتر کا مشکل راستہ بھی دکھا دیا۔ یعنی کہانی اپنی نصف صدی گزار کر ایک ایسے اردو منظرنامہ کی تلاش کر رہی تھی، جس کے پاس اپنا کلچر، اپنی زمین اور اپنی جڑیں ہوں، وہ مغرب سے رشتہ توڑ کر ہندستانی آرٹ کی آغوش میں سانس لینا چاہتی تھی۔ یہ اور بات تھی کہ تب کی جدیدیت پر بھی فارن اسپونسرڈ تحریک کا الزام بھی لگا، لیکن میرے خیال سے اسے درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس طرح دیکھیں، غور کریں تو نصف صدی کے مکالموں کی صورت کچھ یوں ہو سکتی ہے:
*
اردو کہانیاں سفر کے آغاز میں اسلوب و آہنگ کی سطح پر مغرب کی پیروی کر رہی تھیں۔ تجربے باہر کے تھے، اصلاح اپنی تھی۔
* جلد ہی اپنی محکومی اور غلامی کے جان لیوا احساس سے پریم چند اور سدرشن جیسے قلم کاروں نے ادب کی دھارا کو ایک نئے مقصد کی جانب موڑ دیا۔ معاشرتی اصلاح سے آگے نکل کر ادب، مقصدی ادب کی تلاش میں سرگرداں تھا۔
* نئے ترقی پسند فارمولوں کی تلاش۔ ایک بڑی کھیپ کا نئی تحریک سے متاثر ہونا اور اسی کے آس پاس ادب کے گھوڑے دوڑانا۔
* آزادی کا احساس۔ نئے مسائل، ترقی پسندی سے آنکھیں چرانا۔ جڑوں کی تلاش اور نئی کہانی کی دریافت۔ علامتوں کا جنم۔مغرب کے اثر کے باوجود یہ کہانیاں مکمل ہندستانی رنگ کو قبول کر رہی تھیں۔ ہندی کہانیوں سے قربت۔ راجندر یادو، کملیشور، منو بھنڈاری، موہن راکیش کا زمانہ۔ نئی بحثیں، تبدیلیاں۔ نئی جنگ۔ اردو، ہندی کہانی نئے چہرے کی تلاش میں۔ بعد میں ہندی کہانی کی یہ تلاش کچھ پہلے نرمل ورما، بعد میں اُدے پرکاش اور الکا سراوگی، جیسے نسبتاً نئے لکھنے والوں سے پوری ہوئی۔ یعنی آپ بے فکر ہو کر مغرب کی پیروی کا الزام لگائیں۔ تجربے کی سطح پر، ان کہانیوں میں آکٹو پس کے نئے، ہزار پائے‘ ضرور پیدا ہوئے تھے، لیکن یہ ہندستانی نظام سے نکلی کہانیاں تھیں۔ اردو میں بلراج مین ر ا جیسے فنکار نے کمپوزیشن سیریز کی انوکھی کہانیاں لکھیں۔ ماچس اور آتما رام‘ جیسی نئی کہانیوں کا سلسلہ دراز ہوا۔ کہنا چاہئے، ادب کے لیے یہ ایک سنہری عہد کی شروعات تھی جب موضوع کے تعاقب میں اردو کہانیاں بلراج، سریندر پرکاش، اقبال مجید، قمر احسن، اکرام باگ کی شکل میں نئی بلندیاں طے کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان سے ذرا سا باہر نکلیے تو سلام بن رزاق، انور خاں، انور قمر، علی امام نقوی اردو افسانے کی نئی بوطیقا لکھنے میں مصروف تھے۔ در اصل یہی وہ عہد تھا، جب اردو ادب میں نقاد اہم ہو گیا تھا۔ پیروی مغرب کی نہیں، نقاد کے بنائے اصول و ضوابط کی ہو رہی تھی۔ پیمانے نقاد بنا رہا تھا۔ در اصل نئے افسانے کی بوطیقا بھی نقاد لکھ رہا تھا۔ فکشن رائٹرز کو صرف مذبح کی بھیڑ کی طرح ایک سیدھ میں چلتے جانا تھا۔
اردو فکشن پر مکالمہ کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ آزادی کے بعد کے اس منظرنامہ کو نئی بصیرت،نئی تلاش کے منظر نامہ کا نام دیا گیا۔ لیکن کیا سچ مچ یہ نئی تلاش کا منظرنامہ تھا۔
قرۃ العین حیدر نے کہا:
’’
۳۶ء ویں گھنٹی بجی۔ آج سے ہمارے نئے فکشن کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے گھنٹی بجی، کہ ہمارا رومانٹک پیریڈ شروع ہوتا ہے۔ یہ سب اوور لیپنگ ہے۔ ہم اردو فکشن کے بارے میں کوئی صحیح ڈسکورس قائم نہیں کرسکے ہیں۔‘‘
(
آزادی کے بعد اردو فکشن، مسائل و مباحث)

مکالمہ کا نیا موضوع یہ تھا کہ نصف صدی کے بعد ہمارے افسانے کی ترقی کی رفتار سست یا منجمد ہوگئی تھی۔ فکر و فن پر تحریکیں حاوی تھیں۔ آغاز سے ترقی پسند فارمولوں تک جس برق رفتاری سے اردو کہانیوں نے حیرت انگیز چھلانگ لگائی تھی، نئی بصیرت، نئی تلاش نے اسے ایک بڑا جھٹکا دیا تھا۔ در اصل یہ ایک بڑے کنفیوژن کا عہد تھا۔ زیادہ تر لکھنے والے علامتوں کے ریپیٹیشن کے بھی شکار تھے۔ علامتیں گرفت میں نہیں آتی تھیں، تو لکھنے والا گمراہ ہوجاتاتھا۔ بقول وہاب اشرفی۔
’’علامتی افسانے کے بارے میں کچھ نئے افسانہ نگار سخت غلط فہمی کے شکار نظر آتے ہیں۔ ہمارے یہاں علامت کا مفہوم یہ مان لیا گیا ہے کہ کسی ایک چیز کے لیے کوئی دوسری چیز مخصوص کرلیں۔ مثال کے طور پر طوائف کی کہانی لکھنی ہو تو اس کے لیے سڑک کا لفظ منتخب کر لیں۔ پھر جہاں جہاں طوائف لکھنا ہو، وہاں سڑک لکھتے جائیں اور بس علامتی افسانہ تیار ہوگیا۔‘‘

اردو افسانہ میں اتنی زبردست بھیڑ اس سے قبل کبھی جمع نہیں ہوئی تھی۔ یہ اب تک کا سب سے سنہری دور تھا۔ یہ الگ بات ہے سب سے زیادہ متنازعہ فیہ عہد بھی یہی رہا ہے۔ لکھنے والوں پر سب سے زیادہ الزام اسی عہد میں لگایا گیا ہے۔ لیکن آپ جانئے، گفتگو سے ہی بحث کے دروازے کھلتے ہیں۔ ترقی پسند فارمولوں کے عہد کے بعد کا یہ ایسا دور تھا جب ایک دو نہیں، ہزاروں کی تعداد میں نئے افسانہ نگار پیدا ہوگئے تھے۔ ہر رسالہ میں کتنے ہی نئے نام، ہر شمارہ میں پیدا ہوجاتے تھے۔ غرض کہ یہ ایک ہنگامی عہد تھا۔ فکشن کا عہد تھا۔ گفتگو تھی، باتیں تھیں، گرم خون تھا۔ سب کے سب نوجوان تھے۔ اب ضروری تھا تو ان نوجوانوں کو یکجا کر کے ایک پلیٹ فارم پر لاکر ان کی گفتگو سننا۔ 
دلّی افسانہ سمینار کی مثال لیجئے۔ گرجتی ہوئی توپیں۔ اردو کے منچ پر ساجد رشید، انور خاں، سلام بن رزاق، عبد الصمد، حسین الحق۔ غرض بارود کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ اتنی ڈھیر ساری باتیں اس سے قبل اردو افسانہ کے بارے میں کبھی نہیں ہوئی تھیں۔ در اصل اسی سمینار نے اردو فکشن کے نئے ڈسکورس کے لیے راستہ صاف کیا۔ بکھری ہوئی باتوں سے، اندر بھرے ہوئے غصے سے جو نتائج برامد ہوئے، اس نے نئی کہانی کے لیے اشارے واضح کر دیے۔ شناخت کا مسئلہ، ہجرت، بے چہرگی، فرد کی تلاش، اجنبیت، تنہائی سے باہر نکل کر اب نئے مسائل کی گونج تھی۔ تقسیم کے بعد ۳۰۔۳۵ سال گزار کر اردو زبان زندہ رہنے کی جہتوں، مسلمان، اردو، پاکستان کی تثلیث، روزی روٹی سے کاٹ دیے جانے کے احساس اور سروائیول کی کشمکش سے آنکھیں ملانا چاہتی تھی۔ زبان کو نیا بیانیہ، نئے معنی خیز استعارے کی ضرورت تھی۔ آزادی کے تیس پینتیس برس بعد کے افسانہ نگار کو، آزاد معاشرہ کے ،مسائل ڈھونے والے ایک نئے انسان، ایک نئے چہرے کی تلاش تھی۔ سیاست، ملک کا چوتھا موسم بن چکی تھی۔ ۸۰ء کی رتھ یاتراؤں کے بعد نئی صورت حال کی کوکھ سے ایک نئے بیانیہ کا جنم ہوا۔ کبھی کبھی آپ کو اپنی نئی شناخت قائم کرنے کے لیے پرانی چیزوں کو رد کرنا ہوتا ہے۔ علامتوں کا طوفان گزر چکا تھا۔ گرد و غبار میں ڈوبا ہوا مایوس قاری نئے لکھنے والوں کے سامنے تھا۔ نئے لکھنے والوں کو اس قاری کا مسئلہ بھی در پیش تھا۔ اب ضرورت اس بات کی تھی کہ اپنی نئی شناخت کے لیے پرانی نسل کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی بارہا ہوتا رہا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے سامنے ضرورت دو باتوں کی تھی۔
۔ پیش رو افسانہ نگار کی تخلیقات کو سرے سے ریجکٹ کیا جائے۔
۔ نقاد کو ریجکٹ کیا جائے۔
ان میں ایک ضرورت اور بھی پوشیدہ تھی۔ قاری کی واپسی کی ضرورت۔ ۸۰ء کے بعد کے لکھنے والوں کے سامنے گزرے ہوئے ۸۰ سال کے تجربے تھے۔ اتنے بڑے کینوس کو سامنے رکھ کر اپنی جگہ کا تعین کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ یہ وہی عہد تھا، جب زمین سے وابستہ ہونے کا مسئلہ بھی اٹھا۔ بیانیہ کی واپسی ہوئی۔ اجودھیا اور ملک میں ہونے والے فسادات نے نئے سیاسی پس منظر کا موضوع دے دیا تھا۔ ۸۰ کے بعد ہندستان کا سیاسی اور سماجی منظرنامہ بھی بہت حد تک تبدیل ہوچکا تھا۔ ۸۰ کے بعد کا ادیب اس نئے منظرنامے کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنارہا تھا۔ ناول کے لیے نئے میدان بن رہے تھے۔ 
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عہد کا سنجیدگی سے تجزیہ ہو۔ عام طور پر نوبل اور بڑے انعام یافتہ ادیبوں کو اپنے اور اپنے عہد کے بارے میں لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ ۱۹۹۷ء کے اواخر میں منعقدہ ساہتیہ اکادمی سمینار کا ایک موضوع تھا۔ میں اور میرا عہد۔ ملک کے ممتاز لکھنے والوں کو دعوت دی گئی۔ یہ جاننا بے حد اہم تھا کہ نیا لکھنے والا مین اسٹریم سے کس حد تک جڑا ہوا ہے۔ اس میں Political Sensibilty کتنی ہے۔ اس کا سماجی شعور کیسا ہے۔ وہ اپنے عہد کا تجزیہ کس طرح کرتا ہے اور منظر، پس منظر کی آنکھ سے اپنے آپ کو کیسے دیکھتا ہے یا اپنا محاسبہ کرتا ہے۔
’’میں آج مر جاؤں یا دس سال بعد اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بقول فراق صاحب ادب میں فرسٹ کلاس سے نیچے کوئی ڈبہ نہیں ہوتا۔ اور اس لحاظ سے اگر سوچا جائے تو ہمارے عہد کے کتنے ادیب جو آج اپنی جگہ بنانے کے لیے لڑ رہے ہیں زندہ رہ پائیں گے اس کا اندازہ لگانا ذرا مشکل کام ہے۔ اور یہیں سے اچھی تخلیق کا سفر بھی شروع ہوتا ہے کیونکہ فرسٹ کلاس لکھ لینے کے بعد یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ تخلیق ہمیشہ کے لیے زندہ رہ سکے۔ ادب کے معیار بہت بلند ہیں۔‘‘ 
۔ رتن سنگھ
’’اگر یہ کہوں کہ آج جس عہد میں میں سانس لے رہا ہوں وہ ہمارے پیش روؤں کے عہد سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے تو ممکن ہے اسے مبالغہ آرائی تصور کیا جائے۔ کیونکہ یہ عام ادبی تصور ہے کہ زندگی ہر عہد میں انہی عناصر کے ساتھ ظہور پاتی ہے جو روز اول سے انسان کا مقدر ہیں۔ محبت ، نفرت، عداوت، خوف، غم، غصہ، خوشی فکر و تردد وغیرہ۔ ادب کے موضوعات زندگی کے انہی احساسات سے منور ہیں۔ اور یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ یہی موضوعات بار بار مختلف کردار واقعات کے حوالے سے ادب میں دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے ہر روز یہ محسوس ہوتا ہے کہ آج کی زندگی کل سے کچھ مختلف نہیں کچھ زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ میں جس عہد کو جی رہا ہوں وہ منٹو، بیدی، عصمت ، کرشن کے عہد سے کہیں زیادہ سفاک اور ریاکار ہے۔‘‘
۔ ساجد رشید
’’نئی کہانی کے حوالے سے بھی بہت سی باتیں ہوئیں۔ میں بہت دن سے کہانی پر ناقدین کی بحثیں دیکھ رہا ہوں اور مضامین پڑھ رہا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ کہانی کہیں گم ہوگئی ہے۔ کہانی کی شناخت، کہانی کیا ہے؟ کہانی کے مسائل تو ایسا لگتا ہے کہ کہانی کہیں بھاگ رہی ہے اور ناقد ٹاپا لیے اسے دوڑا رہا ہے۔ کہانی نہ ہوئی دادی اماں کی مرغی ہوگئی۔ میں اس سلسلے میں ایک واقعہ بیان کردوں۔ دادی اماں کی ایک مرغی تھی جو دانے دانے کی تلاش میں باہر نکل جاتی تھی اور دادی اماں اس کا انتظار کرتی تھیں۔ شام کا اندھیرا ہو جاتا تھا تو محلے کے کچھ بچے اس مرغی کو لاتے اور دادی اماں کے ہاتھ میں دے دیتے تھے۔ چونکہ اندھیرا ہوچکا ہوتا تھا اس لیے دادی اماں یہ نہیں سمجھ پاتی تھیں کہ یہ مرغی جو بچوں نے انہیں لاکے دے دی ہے ،انہی کی ہے یا محلے کے کسی اور آدمی کی ہے۔ وہ انتظار کرتی تھیں کہ صبح ہو تو اس کی شناخت کریں۔ صبح ہوتی تھی، جلدی سے بیدار ہوتی تھیں، سورج نکلتا تھا تو وہ پہچان کرتی تھیں تب انہیں تسلی ہوتی تھی۔ ہمارے ناقد نے بھی کہانی کو اسی طرح دبوچ رکھا ہے۔ اندھیرے میں بیٹھا ہے جیسے وہ کوئی مرغی ہو اور ہمارا جو پڑھنے والا ہے وہ گھر کے باہر دروازے سے ٹیک لگائے رو رہا ہے کہ کب ہمارے ناقد صاحب اعلان کریں گے کہ انہوں نے جو چیز دبوچ رکھی ہے۔ وہ آخر ہے کیا؟ لیکن سویرا نہیں ہوتا۔‘‘
۔ محسن خاں

اتنے سارے اقتباسات کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ مگر پہلی بار کسی بڑے منچ سے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ تخلیق کار کے اندر کا آدمی کیا سوچتا ہے۔ فنکاروں کے اندر اپنے وقت کے ساتھ چلنے کی جو روش تھی، اسی کے ساتھ نقادوں کو ریجکٹ کرنے کا جذبہ بھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگا تھا۔
سو برسوں کے اس طویل سفرنامے میں نقاد نشانے پر تھا۔ اور نقاد مسلسل اس سوال سے جنگ کر رہا تھا کہ کیا فن کا کوئی تصور تنقید کے احساس کے بغیر ممکن ہے۔ نیر مسعود کا کہنا تھا کہ اگر کوئی نقاد حکم نامہ نافذ کرتا ہے اور تحکمانہ گفتگو کرتا ہے اور اس کے ہدایت ناموں اور مکالموں سے افسانے کو نقصان پہنچتا ہے تو تخلیق کار کا غم و غصہ بجا ہے۔ رتن سنگھ کا کہنا تھا کہ نئی نسل نقاد سے انکار نہیں کرتی بلکہ اس نقاد سے انکار کرتی ہے جو گروہ بندی کرتا ہے اور ادب کو بانٹتا ہے۔
درحقیقت نئی صدی میں نئے مکالمے پیدا ہو رہے تھے اور ان مکالموں کی صدا بندی نقاد کو ریجکٹ کیے جانے کے جواب پر ٹوٹتی یا ختم ہوتی تھی۔ اس لیے کہ صحیح شناخت اور پروجیکشن کا معاملہ نقاد کی ہم بستری سے کچھ اتنا زیادہ قریب تھا کہ نئی نسل میں اچھا لکھنے کے جوش سے زیادہ نقاد کو ریجکٹ کیے جانے کا معاملہ زور پکڑتا گیا۔
لیکن جلد ہی افسانہ نگاروں کو اس بات کا بھی احساس ہوگیا کہ اچھا لکھنے کے لیے نقاد کو ریجکٹ کرنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ ایسا سوچنے والوں کی ایک بڑی جماعت سامنے تھی۔ نتیجہ کے طور پر۸۰ کے بعد کے افسانہ نگار نے تنقید کا مورچہ بھی سنبھال لیا۔ ایک حقیقت اور بھی تھی۔ تنقید کا سہارا لے کر وہ سماج، معاشرہ اور سیاست پر اپنے خیالات کا کھلا اظہار چاہتا تھا اور مضامین ہی یہ زمین اسے فراہم کرسکتے تھے۔ وہ صرف کہانیاں اور ناول لکھ کر مطمئن نہیں ہوسکتا تھا بلکہ وہ اس معاشرہ اور سیاست کا ایک مضبوط حصہ بننا چاہتا تھا۔ ۸۰ سے ۲۰۰۰ تک ۲۰ برسوں کے سفر میں، کہانیوں سے وہ دائرے میں گھرا آدمی گم ہوچکا تھا جو اپنے گھر، مذہب اور تقسیم سے نکلی کہانیوں کو ہی کہانی سمجھا تھا۔ ۲۰۰۰ تک آتے آتے گلو بلائزیشن اور تہذیبوں کے تصادم جیسے موضوعات نے بھی اردو افسانہ نگار کی کہانیوں میں جگہ حاصل کرلی تھی۔
وہی اردو فکشن ہے ۔ وہی بحثیں ہیں۔ لیکن ان مکالموں کی صدا گم ہو رہی ہے۔ مکالمہ افسانہ نگاروں کے درمیان خاموشی سے اپنا سر نکال کر پوچھتا ہے۔
تمہارے بعد کی صف خالی کیوں ہے؟
مکالمہ شتر مرغ کی طرح آندھی کے خوف سے ریت میں اپنا منہ چھپا لیتا ہے۔ جانے والوں کا ایک لمبا قافلہ ہے۔ 
ادب میں زندہ رہنے کے لیے صحت مند اختلاف بھی ضروری ہے۔ لیکن عام طور پر اردو زبان میں جب بھی ادب کے نئے تجربوں کو بہنے کا موقع دیا گیا ہے اختلاف بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی زبان ایسی ہو، جہاں ’اختلاف کی ٹھنڈی، صحت مند اور خوشگوار ہواؤں کا چلن نہ ہو۔ اختلاف کے بغیر کسی بھی متنازعہ رائے یا تنقید کو ہم بہ آسانی قبول کرنے کو تیار ہوچکے ہیں۔ لیکن اس میں دشواری یہ ہے کہ بات سے بات پیدا نہیں ہوتی۔ فکر ایک مقام تک آکر ٹھہر جاتی ہے۔ نتیجہ قبول و رد کی روش کو بغیر ادبی بحث کے ہم ماننے یا اپنانے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں۔
مگر اب، اختلاف بھی کس سے کیجئے۔
اس زبان کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ آئندہ برسوں میں آپ ادب کی کسی بھی اہم تھیوری پر محض اپنی رائے پیش کرنے کے لیے خود کو تنہا پائیں گے۔ اور خواہش کے باوجود تجزیہ، مکالمہ، تبصرہ یا تنقید کے لیے مصلحتاً خاموشی اختیار کرلیں گے کہ آیا، اب یہ لوگ بھی رخصت ہوگئے تو کل لکھنے والوں کا قافلہ ہی کتنا رہ جائے گا۔
میں افسانے اور ناول کا آدمی ہوں۔ ادب میرے جسم کے قطرہ قطرہ میں رواں ہے۔ میں وہ ہوں، جس نے شاید اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ انکار یا انحراف یا اختلاف کیا ہے۔ انکار یا انحراف کے راستے چلتے ہوئے بھی، مجھے ہمیشہ اس بات کا احساس رہاہے کہ میں ادب کے بحر ذخار سے دوچار کار آمد، موتی حاصل کرنے کی جستجو کر رہا ہوں۔ 
نئے مکالمہ کی ضرورت کیوں؟
آج اردو افسانہ کو ایک بار پھر نئے مکالموں کی ضرورت ہے۔ جیساکہ فاروقی کہتے ہیں۔ ۸۵ کے بعد افسانہ نہیں لکھا گیا۔ تو ۸۵ کے بعد تنقید بھی نہیں لکھی گئی۔ فاروقی شب خون میں موپاساں، چیخوف اور اوہنری جیسے فنکاروں کو کبھی نہیں شائع کرتے۔ کیونکہ یہاں کہانی کی وسیع دنیا آباد تھی اور مارکیز کے راستے ہمارے کچھ تخلیق کار دوست تنہائی اور اداسی کی جو بے جان دنیا آباد کرتے ہیں، وہ دنیا موپاساں جیسوں کے پاس نہیں تھی۔ کیا کہانی محض احساس کی لہریں ہیں؟ اور موپاساں، چیخوف کے بعد بھی جن لوگوں نے کہانیوں کی دنیا آباد کی، وہ سرے سے کہانی کار نہیں۔؟یہاں میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ فاروقی نے اردو کہانی کو محض گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دراصل فکشن کو جس وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت تھی، وہاں یہ لوگ محض اپنے نظریہ کی وکالت کررہے تھے۔ جدیدیت کی بنیاد پر جو نظریہ تعمیر کیا، اُسی بنیاد پر کہانی کو دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ اور نتیجہ، بس انہیں دو ایک فنکاروں سے زیادہ اس فریم ورک میں کوئی بھی فٹ ہوتا نظر نہیں آیا۔ اور فیصلہ صادر ہوگیا۔ ۸۵ء کے بعد کہانی نہیں لکھی گئی۔
مثال کے لیے یہ بات اس انداز سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ ۸۰ کے بعد اچھی تنقید سامنے نہیں آئی۔
سن ۲۰۱۰ء تک آتے آتے اردو افسانے کی دنیا میں کئی اچھے نام شامل ہو چکے ہیں۔ خوشخبری یہ ہے کہ ایک بار پھر نئی نسل اچھی کہانیوں کے ساتھ اردو افسانے کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ یہ وقت مایوسی اور تاریکی سے باہر نکل کر ان افسانوں کی شناخت کا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خالد جاوید، سید محمد اشرف، صدیق عالم، رضوان الحق،شائستہ فاخری، رحمن عباس، صغیر رحمانی، احمد صغیر جیسے افسانہ نگاروں پر بھی گفتگو کے دروازے کھلیں۔
یہاں نئے لکھنے والوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ محض مارکیز، بورخیس، اوہان پامک جیسے بڑے تخلیق کاروں کی پیروی نہ کریں بلکہ اپنی مثال پیش کریں کہ ان کے اسلوب اور ڈکشن پر مغرب میں بھی گفتگو کے راستے کھل سکیں۔ اس غریب زبان کو اپنی تنگ دامانی کا پتہ ہے لیکن اس تنگ دامانی کے باوجود اردو والوں کو ایک بڑی پہچان بنانے کی ضرورت ہے۔
۔۲۰۰۲

(مشمولہ، آب روان کبیر۔ مشرف عالم ذوقی۔ سا شا پبلیکشنز۔ 2013)


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.