پاکستان میں اردوافسانہ:ساٹھ کی دہائی میں




محمد غالب نشتر
23 May, 2018 | Total Views: 429

   

قیام پاکستان کے ساتھ ہی ظلم ،بربریت،فساداورقتل وغارت گری کاجوبازارگرم ہوا،اس کی مثال برصغیرکی تاریخ میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ان فسادات کے پسِ پشت کون سے عوامل سرگرمِ عمل تھے اورآزادی کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے کایہ عمل کن وجوہات کی بناپرنمودارہوا،یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔دراصل ہندوستان میں جب فرنگی تجارت کی غرض سے آئے تو انہوں نے یہاں کے عوام کوبہت معصوم جانا۔یہاں انہوں نے عوام اوراُن کی ذہنیت کوسمجھنے کی کوشش کی اوراس ملک پرقابض ہونے کی تدابیرپر غور و فکر کرنے لگے ۔جستہ جستہ انہوں نے ہندوستان کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنابھی شروع کردیا۔جب تک ہندوستانیوں کے عقل ٹھکانے آئے ،فرنگی اپناکام کرچکے تھے ۔یہاں کے عوام نے غلامی کوتحقیرجانااوراسی سبب ۱۸۵۷ء میں پہلی ناکام جنگِ آزادی ہوئی ۔اس کے بعد غیرمنقسم ہندوستان نے یہ فرض کرلیاکہ اب ہمیں فرنگیوں کی غلامی کرنی ہوگی اورایساہی ہوا۔مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے ساتھ ہندوستانیوں اور خاص طور پرمسلمانوں کے ساتھ برے سلوک کیے گئے ۔چوں کہ فرنگیوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی لہٰذااس میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا۔جانی ،مالی ،علمی اورعملی سطح پروہ تنزل کا شکارہوگئے ۔اس کے علاوہ فرنگیوں نے ایک کام یہ کیاکہ مسلمانوں کے رُوبہ رُوخودنہ ہوکرہندؤں کولاکھڑاکیا۔اس معاملے میں وہ دور اندیش واقع ہوئے ۔فرنگیوں کومعلوم تھاکہ دونوں قومیں مذہب کے نام پرکچھ بھی کرنے کوتیارہوسکتی ہیں اوریہ بھی کہ دونوں کے مذہب میں زمین آسمان کافرق ہے بل کہ تضادہے ۔اس طرح فرنگی مسلم ہندوکے نام پرچھوٹے موٹے فسادکرانے لگے اوریہ سلسلہ چل نکلا۔
بیس ویں صدی کے اوائل میں جب مسلمانوں کی حیثیت مسلّم ہوگئی اور اُن کے ساتھ انصاف کامعاملہ روانہیں رکھاگیاتو انہوں نے مذہب کی بنیادپرایک الگ ریاست کانعرہ بلندکیا۔ایک ایسی زمین کاجس کاخواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا ۔ جہاں مسلمانوں کومساوات کی تعلیم دی جائے ،محمودوایازایک ہی صف میں کھڑے ہوں اورخداکے دین پرعمل پیراہونے کی مکمل آزادی ہو۔لہٰذا ۱۹۴۰ء میں قراردادلاہورسے آغازپانے والاآزادی کی کوشش کاعمل رفتہ رفتہ اپنے انجام کی طرف سفرکرنے لگا اور ۱۹۴۷ء میں اپنے انجام کوپہنچ گیا اور۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو ایک نیااسلامی ملک پاکستان کی صورت میں نمودارہوا۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کے علاقے سے ہندوحضرات ہندوستان اورہندوستان سے مسلمانوں کی آبادی پاکستان منتقل ہونے لگی ۔اس کہرام میں قتل وغارت گری ،عصمت دری اوردرندگی کاوہ حشر بپا ہواجس کی مثال یہاں کی تاریخ میں مشکل سے ہی ملتی ہے ۔مذہب وملت کے نام پرکسی ملک کی تقسیم کایہ عمل انوکھابھی تھااورجذباتی بھی ۔انوکھااس لیے کہ اس ملک کاقیام جغرافیائی یالسانی بنیادپرنہیں ہواتھابل کہ مذہبی بنیاد پرہواتھااورمذہبی حوالہ اکثرشدت اختیارکرجاتاہے ۔کبھی کبھی زبان وکلچرکاحوالہ بھی اس سے شدیدترہوتاہے جس کی واضح مثال ۱۹۷۱ء میں قیامِ بنگلہ دیش ہے۔
مذہبی حوالہ جب تقسیم کی بنیاد بن جاتاہے تواس کاتعلق براہِ راست انسان کی داخلی نفسیات اورایمان سے ہوتاہے جودیرپا ثابت ہوتاہے ۔دشمنوں کے سوچنے کااندازاورنفرت کے تیورجذباتی اندازکے ہوتے ہیں۔قیام پاکستان کے ساتھ بالکل یہی صورتِ حال تھی ۔آزادی کی خوشی کاجشن منایاہی جارہاتھاکہ فسادات کاسیلاب امدپڑا۔گاؤں گاؤں،شہرشہرقتل وغارت گری کی آندھی چل پڑی ۔ مذہب کے نام پردوستوں،پڑوسیوں اورمحلّے والوں کاخون بہایاگیا،بے گناہوں کی جانیں تلف ہوئیں۔باپ کے سامنے بیٹیوں کی اوربھائی کے سامنے بہنوں کی عصمت دری کی گئی ۔کمینگی ،درندگی اورلوٹ مارکاایسابازارگرم ہواکہ انسانی تہذیب شرم سار ہوگئی ۔بہت سے لوگ بادلِ ناخواستہ نقلِ مکانی پرمجبورہوئے ۔اس طرح قیامِ پاکستان کا آغازفسادات سے ہوا۔فسادات نے زندگی کے ہرشعبے کوبری طرح متأثرکیالیکن ادب میں اس کے اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوئے ۔پاکستانی عوام نے بس اس بات کومدنظر رکھ کرصبرسے کام لیاکہ کم ازکم ان کاایک نیااسلامی تووجودمیںآگیاجس کے لیے لوگ ایک عرصے سے کوشاں تھے ۔وہاں کے عوام نے مہاجرین کوپناہیں دیں اوراُن کی ہرطرح سے مددکی کیوں کہ نقلِ مکانی میں لوگوں نے گھربار،جائیداداورپرانی یادیں سب چھوڑچھاڑکرفقط اسلام کے نام پرایک ملک سے دوسرے ملک کاسفرکیاتھا۔لیکن یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے کہ پاکستان کاقیام جن حالات کومدنظررکھ کرعمل میںآیاتھا،وہاں کے عوام کوکہیں دکھائی نہ دیا۔فسادات کے بعدسیاسی اتھل پتھل نے پاکستانی عوام سے سکون سے جینے نہ دیاحتی کہ ۱۹۵۸ء میں مارشل لالگ گیا۔سوچنے والاذہن ماؤف ہوگیا۔سارامنظرنامہ نظروں سے اوجھل ہوگیااورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی ۔آزادی کے ساتھ وابستہ تمام خواب چکناچورہوگئے ،آزادئ اظہارپرپابندی عائدہوگئی ۔ اس ضمن میں پروفیسررشیدامجدکا قول زیادہ موزوں معلوم ہوتاہے۔ان کے بہ قول:
’’
۱۹۵۸ء میں ملک میں پہلامارشل لالگا۔۱۹۴۷ء سے۱۹۵۸ء تک غیرمستحکم سیاسی صورتِ حال اورطبقاتی نظام کی خرابیوں نے پاکستانی معاشرے کوگوناگوں سماجی اور فکری مسائل سے دوچارکردیاتھا۔مارشل لاکوان کاحل سمجھاگیالیکن مارشل لانے ابتر معاشرے کوسنبھالادینےکےبجاأاسےاورتباہکردیا۔ایکسیاسیاورفکریخلاپیداہوگیا۔ہرمیدانمیںایکبےسمتیکااحساسہونےلگاجسکانتیجہیہنکلاکہپورےمعاشرتیسفرکارُخخارجسےباطن کی طرف مڑگیا‘‘۔(1)
فسادات کے بعد ’’ہجرت‘‘افسانے کاسب سے بڑاموضوع تھالیکن مارشل لاکے نفاذکے بعدیہ موضوع سردپڑنے لگااور اس کی جگہ مارشل لانے لے لی۔مارشل لاکے زمانے میں سیاسی اتھل پتھل نے سوچنے والے حسّاس ذہن کوماؤف کردیا،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی اور سارا منظرنامہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔یہی وہ زمانہ ہے جب نئے افسانے نے موڑکاٹااورجدیدافسانے کا آغاز ہوا۔جدیدافسانے سے مرادعلامتیت اورتجریدیت ہی نہیں بل کہ فرسودہ روایات سے دوری اورکسی حدتک کنارہ کشی بھی ہے ۔ پچپن اورساٹھ کے درمیانی عرصے میں ہی پاکستان میں جدید افسانے کاآغازتصور کیاجاتاہے۔البتہ جدیدیت کے حوالے سے فقط علامت نگاری کوہی نیاتصورکریں توہندوستان میں منٹوکا’’پھندنے‘‘،کرشن چندرکا’’غالیچہ ‘‘اوراحمدعلی کا’’میراکمرہ ‘‘وغیرہ افسانے ساٹھ کی دہائی سے قبل ہی تحریرکیے جاچکے تھے ۔اس طورپریہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نیاافسانہ فقط علامتی نہیں ہوتا،کچھ اوربھی ہوتاہے ۔ پاکستان میں مارشل لاکے بعدجب افسانے کی ہیئت وتکنیک میں تبدیلی آئی تواس نے ادب کے علاوہ سیاست اورسماج پربھی اپنانقش چھوڑا۔یہی وجہ ہے کہ ساٹھ کی دہائی میںیہ تمام شعورپوری طرح جلوہ گرہے ۔جدیدیت کے دورمیں تین نسلیں ایک ساتھ چل رہی تھیں۔ افسانہ نگاروں کاایک طبقہ وہ تھاجنہیں تقسیم سے قبل ہی شہرتِ دوام حاصل ہوچکی تھی۔دوسرے وہ جنہیں تقسیم کے بعدشہرت نصیب ہوئی ۔ تیسری نسل کے وہ افسانہ نگارتھے جنہیں اپنی شخصیت کالوہامنواناتھا۔لہٰذاانھوں نے نئے طرزسے افسانے کی بنارکھی ۔ احمدجاویدکے خیال میں:
’’
قیام پاکستان کے بعدپچاس کی دہائی میں افسانے کی تین نئی نسلیں موجوددکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف تووہ نامورافسانہ نگار تھے جنہیں چالیس کے عشرے میں ہی ہندوستان گیرشہرت حاصل ہوچکی تھی ۔دوسراگروہ ان لوگوں کاتھا جنہوں نے قیام پاکستان سے قبل لکھناشروع کردیاتھامگرجن کی شناخت آزادی کے بعدبنناشروع ہوئی جب کہ ایک نئی نسل بھی سامنے آگئی تھی جنہیںآئندہ برسوں میں اپنامقام بناناتھا‘‘۔(2)
ساٹھ کی دہائی میں جن افسانہ نگاروں نے اپنی شناخت قائم کی اورافسانے میں نئی طرزکی بنارکھی ان میں انورسجاد،خالدہ حسین ، محمدمنشایاد ، رشیدامجد،سمیع آہوجااورکئی دوسرے افسانہ نگاروں کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ان کے افسانوں کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے پرانی روش سے انحراف کرتے ہوئے اپنے فن پاروں میں ان مسائل کوپیش کیاجن سے اس عہدکاانسان نبرآزماتھا۔فردیت ، بیگانگی ، وجودیت اوراسی طرح کے دوسرے تلخ حقائق نے انسان کولامرکزیت ،جمودیت اوراذیت ناک کرب میں مبتلاکردیاتھا۔پاکستان میں ساٹھ سے قبل افسانہ نگاروں کی فہرست تیارکی جائے تواندازہ ہوگاکہ افسانہ نگاروں کاایک گروپ ایساہے جنہوں نے تقسیم سے قبل ہی اپنی حیثیت منوالی تھی اورنئے افسانہ نگاروں نے ان کی تقلیدبھی شروع کردی تھی ۔ممتازمفتی،غلام عباس ،ابوالفضل صدیقی ، عزیزاحمد،احمدندیم قاسمی ،محمدحسن عسکری ،وغیرہ کاشماراسی نسل میں ہوتاہے جنہیں افسانہ نگاروں کی پہلی نسل سے تعبیرکر سکتے ہیں ۔ان افسانہ نگاروں میں اکثروہ تھے جن کاتعلق ترقی پسندتحریک سے تھا۔پاکستان میں دوسری نسل کے افسانہ نگاروں نے لکھنے کی ابتداتوتقسیم سے قبل ہی کردی تھی مگران کی شناخت آزادی کے بعدقائم ہوئی ۔انہوں نے تقسیم کے کرب کوشدت سے محسوس کیااسی لیے ان کے افسانوں میں جذبات نگا ری پورے طورپرموجودہے ۔قیامِ پاکستان کے بعداپنی حیثیت منوانے والوں میں محمدخالد اختر،ممتازشیریں، انتظارحسین ، اشفاق احمد،،عرش صدیقی ،مسعوداشعروغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔
پاکستان میں تیسری نسل کے افسانہ نگاروں کے سامنے ترقی پسندتحریک کانظریہ بھی موجودتھااوروفسادات کے حوالے سے لکھی گئی تحریریں بھی۔اب ان کے سامنے یہ مسئلہ درپیش تھاکہ وہ اپنی علاحدہ شناخت کیسے قائم کریں اورکن موضوعات کوافسانے کی بنیاد بنائیں۔۱۹۵۸ء میں جب ملک میں مارشل لالگاتوعوام کے رہے سہے تمام خواب چکناچورہوگئے ۔آزادئ اظہارپرپابندی عائدہوگئی ۔ لہٰذااس کااثرادب پربراہِ راست پڑااورافسانے نے توسب سے زیادہ اثرقبول کیا۔پاکستان میں نئے افسانہ نگاروں نے فردیت ، وجودیت ،خودشناسی اوربیگانگی جیسے موضوعات کوفنی مہارت کے ساتھ برتااورصنفِ افسانہ کوبلندی تک پہنچادیا۔افسانوں میں اس حوالے سے فن پارہ تخلیق کیاہی جارہاتھاکہ پاکستان میں دوسراسانحہ ۱۹۶۵ء میں ہندوپاک جنگ کی صورت میں سامنے آیا۔مارشل لا کی طرح اس سانحہ کے اثرات بھی شعروادب پرپڑے ۔پاکستانی افسانہ نگاروں نے اس پسِ منظرمیں کئی ایک اچھے افسانے لکھے ۔ غلام الثقلین نقوی کاافسانہ’’نغمہ اورآگ‘‘،خدیجہ مستورکا’’ٹھنڈامیٹھاپانی‘‘،فرخندہ لودھی کا’’پاروَتی‘‘اورصادق حسین کا’’ایک رات‘‘ وغیرہ ایسے افسانے ہیں جن میں وطن سے محبت کاجذبہ صاف طورپرجھلکتاہے ۔افسانہ نگاروں کی بہ نسبت نظم گوشعرانے اس صف میں بازی ماری اورسترہ روزہ جنگ کے دوران اوراس کے بعدجس کثرت سے انہوں نے والہانہ جذبے کوپیش کیا،وہ قابلِ دادہے ۔ افسانہ نگار اس دوڑمیں پیچھے اس لیے رہ گئے کہ یہ صنف ثبات،گہرائی اوراستقلال کاتقاضاکرتاہے۔اس حوالے سے مرزاحامدبیگ رقم طرازہیں:
’’
۱۹۶۵ء کی پاکستان بھارت جنگ نفسیاتی اعتبارسے کتھارسس کاحوالہ تھاجودراصل اپنی سماجی اورسیاسی محرومیوں کی صورت میں ارتقاکرتے ہوئے اس سطح پرتھاجہاں کوئی بھی تصادم اسے راس آتا۔صدرایوب خاں اورڈھاکاکا زوال بلاشبہ مختلف طرح کی جبریت کاتسلسل تھا۔بعدکے تمام سیاسی وقوعے اسی تناظرمیں اپناایک مفہوم رکھتے ہیں کہ آدمی ابھی تک آزادی کاطالب ہے ‘‘۔(3)
پاک بھارت کی جنگ کے بعدایوب خان کااقتداکم زورپڑناشروع ہوگیا۔یہاں تک کہ عوام نے اقتصادی وجمہوری آزادی کے لیے ۱۹۶۸ء میں سرکارکے خلاف نعرہ بلندکیااوراس طرح سے مارشل لاکاخاتمہ ہوا۔عوام میں خوشی کی لہردوڑی ،انہیں اپنامستقبل تاب ناک نظرآنے لگامگر۱۹۷۱ء میں جب بنگلہ دیش کاقیام عمل میںآیاتواس واقعے نے تخلیقی ذہن کوایک نئے المیے سے دوچارکیا۔ کیوں کہ یہ المیہ زبان وتہذیب کی شکست وریخت کاتھا۔عالمِ اسلام کی تاریخ میںیہ پہلاواقعہ ہوگاجس میں کسی ملک کی تقسیم زبان کو بنیادبناکرہوئی ہو۔بنگلہ دیش کاقیام نظریۂ پاکستان پربھی ایک ضر ب تھی۔ 
قیامِ پاکستان سے اردوادب کوایک فائدہ توضرورہواکہ اس میں وسعت پیداہوئی اوردوطرح کاادب لکھاجانے لگا۔مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے مسائل کوہندوستانی ادیبوں نے اپنے طورپربرتااورپاکستان کے حالات کی عکّاسی پاکستان کے ادبانے اپنے طریقے سے کی لیکن اس طرح کی روایات ومیلانات کااثرساٹھ کی دہائی میں زیادہ واضح طورپرنمودارہوتاہے ۔اگراس کادائرہ صرف افسانے تک محدودرکھیں تواس کے نشانات اورواضح طورپردیکھے جاسکتے ہیں۔تقسیم ہندسے قبل ان افسانہ نگاروں کی فہرست بنائی جائے جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعدہندوستان سے تارکِ وطن ہوکرپاکستان کواپنامستقل ٹھکانابنایاتھاتواس فہرست میں ممتاز مفتی ،غلام عباس ،ابوالفضل صدیقی ،عزیزاحمد،احمدندیم قاسمی اورمحمدحسن عسکری کے نام نمایاں طورپرلیے جاسکتے ہیں۔مقالے کے عنوان کی مناسبت سے ضروری معلوم ہوتاہے کہ مندرجہ بالاافسانہ نگاروں کااجمالاًتذکرہ کردیاجائے تاکہ ان کے موضوعات اوراسلوب نگارش کا اندازہ ہوسکے ۔اس ضمن میں سب سے پہلا نام ممتازمفتی (۱۹۰۵ء۔۱۹۹۵ء)کاہے ۔انہوں نے ترقی پسندی کے زمانے میں افسانہ نویسی کی ابتداکی لیکن ان کے افسانے ترقی پسندی پرمینی فیسٹوکاچربہ نہیں ہیں بل کہ اس معاملے میں انہوں نے اس روایتی اسلوب کونئی شکل دی ہے ۔تقسیم سے قبل ممتازمفتی کے تین افسانوی مجموعے چھپ چکے تھے جواس طرح سے ہیں:’’اَن کہی‘‘(۱۹۴۳ء)، ’’گہما گہمی‘‘ (۱۹۴۴ء) اور ’’چپ‘‘(۱۹۴۷ء)۔ممتازمفتی کے افسانوں کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ذی شعورکی نفسیاتی پے چیدگیوں اور ذہنی مسائل کواپناموضوع خاص بنایاہے اوران میں جنسی عناصرکوشامل کرکے ایک خاص کشش پیداکردی ہے ۔ان کاافسانہ ’’آپا‘‘میں تشنگی ،ناکام محبت ،پرانی تہذیب کارکھ رکھاؤ اورنفسیاتی کش مکش کونہایت خوب صورتی سے بیان کیاگیاہے ۔
غلام عباس (۱۹۰۹ء۔۱۹۸۲ء)کاشماران افسانہ نگاروں کی فہرست میں اول ہے جنھوں نے خود کوکسی تحریک ،رویّے یاگروہ سے وابستہ نہیں کیا۔غلام عباس اپنے افسانوں کی تشہیرکے لیے کبھی کوشاں نہیں رہے پھربھی برصغیرمیں ان کانام محترم ہے اوران کے افسانوں کواعتبارحاصل ہے ۔ان کے افسانوں میں’’آنندی‘‘،’’اوورکوٹ‘‘،’’نواب صاحب کابنگلہ‘‘،’’کتبہ‘‘اور’’جواربھاٹا‘‘کوکسی بھی طرح نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔افسانہ ’’آنندی‘‘میںیوں توطوائف کی زبوں حالی اوران کی بدقسمتی کاتذکرہ ہے لیکن افسانہ کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے ایسامحسوس ہونے لگتاہے کہ طوائف کوبنیادبناکرپورے معاشرے کی زبوں حالی کابیان ہے اوریہ بات بھی مسلّم ہے کہ طوائف کوجتنابھی معاشرے سے دوررکھارجائے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ بھی معاشرہ کاناگذیرحصہ ہیں۔غلام عباس کاپہلامجموعہ تقسیم کے ایک سال بعد۱۹۴۸ء میں’’آنندی‘‘کے نام سے شائع ہوا۔
ابوالفضل صدیقی (۱۹۱۰ء۔۱۹۸۷ء)کااختصاص دوحوالوں سے ہے ۔اول یہ کہ انہوں نے جاگیردارانہ تہذیب کی مخصوص فضا،رئیس زادوں کی مستیاں اوران کے زوال کی عکاسی اپنے افسانوں میں کی ہے ۔دوم یہ کہ انہوں نے شکاریات کے حوالے سے کئی اچھے افسانے تخلیق کیے ۔ابوالفضل صدیقی کے سینئرافسانہ نگارسیدرفیق حسین(۱۸۹۴ء۔۱۹۴۶ء)نے بھی تقریباً اسی موضوع پر افسانے لکھے ہیں اوردونوں کازمانہ بھی تقریباًایک ہی ہے ۔سیدرفیق حسین کاتعارف کراتے ہوئے نیرمسعود رقم طرازہیں:
’’
سیدرفیق حسین کواردوکاتقریبااُمّی افسانہ نگارسمجھاجاتاہے جس کااردوادب کامطالعہ صفر کے آس پاس تھااورجس کواردو لکھنابھی ٹھیک سے نہیں آتاتھا‘‘۔(4)
نیرمسعود کے قول میں کتنی صداقت ہے ،یہ الگ مسئلہ ہے۔ فی الحال یہ بتاناضروری ہے کہ رفیق حسین کاافسانوی مجموعہ ’’آئینۂ حیرت‘‘۱۹۴۴ء میں اورابوالفضل صدیقی کا’’اہرام‘‘۱۹۴۵ء میں اشاعت سے ہم کنارہوا۔
عزیزاحمد(۱۹۱۳ء ۔۱۹۷۸ء)نے بھی دوسرے ہم عصرافسانہ نگاروں کی طرح افسانہ نگاری کاآغازتراجم سے کیا۔تقسیم سے قبل ایک مجموعہ ’’رقص ناتمام‘‘کے نام سے ۱۹۴۵ء میں چھپاجس میں گیارہ افسانے شامل تھے ۔ان کی ابتدائی کہانیوں میں حیدرآباد کی تہذیب ،وہاں کے رؤساکی فراخ دلی اوراسی طرح کے دوسرے مناظرکی عکاسی اچھی طرح سے کی ہے ۔’’مدن سینااورصدیاں‘‘ ، ’’رقص ناتمام ‘‘اور’’جادوکاپہاڑ‘‘ان کے وہ نمائندہ افسانے ہیں جن کاچرچاتقسیم سے قبل ہی ہوچکاتھا۔ویسے توان کی شہرت کادارومدار ناول اورناولٹس ہیں۔جن میں’’ایسی بلندی ایسی پستی ‘‘،’’گریز‘‘اور’’جب آنکھیںآہن پوش ہوئیں‘‘اہمیت کے حامل ہیں۔
احمدندیم قاسمی (۱۹۱۶ء۔۲۰۰۶ء)ایک دبستان ہے اوران کافن فقط افسانوں تک محدودنہیں ہے بل کہ انہوں نے شاعری میں اپناسکّہ جمایاہے ۔اگرزودنویسی عیب نہیں ہے تویہ بات کہی جاسکتی ہے کہ احمدندیم قاسمی زودنویس تھے اورانہوں نے ادب کوہی اوڑھنا بچھونابنایاہواتھا۔ان کایہ خیال تھاکہ جب تک ان کاقلم چلتارہے گاوہ متحرک اورزندہ رہیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے لکھنے پڑھنے سے بخالت سے کام نہیں لیا۔تقسیم سے قبل ان کے سات افسانوی مجموعے چھپ چکے تھے جوا س طرح ہیں:’’چوپال‘‘ (۱۹۳۹ء)، ’’بگولے‘‘(۱۹۴۱ء)،’’طلوع وغروب‘‘ (۱۹۴۲ء)، ’’گرداب‘‘ (۱۹۴۳ء)،’’سیلاب‘‘(۱۹۴۳ء)،’’آنچل‘‘(۱۹۴۴ء)، اور ’’آبلے‘‘ (۱۹۴۶ء)۔احمدندیم قاسمی نے مشرقی پنجاب کے دیہی کسانوں، غریبوں اور مظلوموں کانقشااچھی طرح سے کھینچاہے ۔گاؤں کے سکھوں کی معصومیت اوربھولے پن کااندازہ ان کے افسانوں کوپڑھ کراچھی طرح سے لگایاجاسکتاہے ۔’’ہیروشیما سے پہلے ،ہیروشیماکے بعد ‘‘ ، ’’الحمدللہ‘‘،’’گنڈاسا‘‘اور’’رئیس خانہ‘‘وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔
اس ضمن میں ایک اور اہم نام محمدحسن عسکری(۱۹۲۱ء۔۱۹۷۸ء)کاہے ۔اپنے تخلیقی سفرکے آغازمیںیوں تووہ ترقی پسندتھے لیکن اس تحریک کی جذباتیت اورنعرہ بازی سے اکتاکرانہوں نے علاحدہ اختیارکرلی اوراپنی الگ راہ نکالی ۔یہ بات بھی قابلِ ذکرہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد افسانہ نگاری ترک کردی تھی اورتنقیدکی راہ میں چل پڑے تھے ۔ان کے شائع شدہ افسانوں کی تعداد فقط گیارہ تک پہنچتی ہے جواُن کے دونوں مجموعوں’’جزیرے‘‘(۱۹۴۳ء)اور’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘(۱۹۴۷ء)میں شامل ہیں۔افسانے ’’چائے کی پیالی‘‘اور’’حرام جادی‘‘کوہمارے ناقدین نے کچھ زیادہ ہی وقعت دی ہے جب کہ دونوں افسانے چیخوف کے افسانوں سے متأثرہوکرلکھے گئے ہیں۔جنسی تشنگی اورنفسیاتی انتشارکے حوالے سے جتنی اچھی کہانیاں محمدحسن عسکری نے لکھی ہیں،اس کے عہدکے افسانہ نگاروں میں خال خال ہی نظرآتی ہے ۔
مندرجہ بالاوہ افسانہ نگارہیں جنہوں نے ترقی پسندتحریک کے زمانے میں افسانہ نویسی کاابتداکی اورقیامِ پاکستان سے قبل ہی ان کی حیثیت مسلم ہوگئی ۔بعضوں نے ترقی پسندی کالبادہ اوڑھاتوبعض ایسے بھی تھے جنہوں نے آزادانہ طورپرافسانہ نویسی کی ۔ ہرادیب کاذہن ایک سانہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندتحریک کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعدبزمِ داستاں گویاں(حلقۂ ارباب ذوق )کاقیام عمل میںآگیا۔یہ وہ پہلی نسل تھی جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعدہندوستان کوخیرآباد کیااورپاکستان میں مستقل سکونت اختیارکرلی ۔افسانہ نگاروں کادوسراگروپ وہ ہے جنہوں نے ۱۹۴۷ء کے آس پاس افسانے لکھنے کی ابتداکی لیکن قیامِ پاکستان کے بعدان کی شناخت قائم ہوسکی ۔ان افسانہ نگاروں کی فہرست تیارکی جائے توقدرت اللہ شہاب، محمد خالد اختر،ممتازشیریں،انتظار حسین اوراشفاق احمدکے نام خصوصیت سے لیے جاسکتے ہیں۔مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان کی افسانوی خدمات پرایک نظرڈال لی جائے ۔
اس ضمن میں پہلااوراہم نام قدرت اللہ شہاب (۱۹۱۹ء۔۱۹۸۶ء)کاہے۔ان کانام آتے ہی فوراًذہن ’’یاخدا‘‘ اور ’’ماں جی‘‘ جیسے افسانوں کی طرف منتقل ہوجاتاہے ۔افسانہ ’’یاخدا‘‘کوپہلامکمل پاکستانی افسانہ کہہ سکتے ہیں جوفسادات کے بعدہونے والے کرب ناک منظرکابیانیہ ہے ۔ اس میں مظلوم عورت’’ دلشاد‘‘کی جذبات نگاری ،قاری کواس حد تک متأثرکرتی ہے کہ وہ اسی عہد میں سانس لیتاہوا محسوس کرتاہے ۔شہاب نے جنسی اظہارکوبھی افسانوں کاموضوع بنایاہے ۔خاص طورسے ’’شلوار‘‘ اور ’’تلاش‘‘ میں ان کاجنسی اظہار رومان کی حدکوبھی عبورکرجاتاہے ۔
محمدخالداختر(۱۹۲۴ء۔۲۰۰۲ء)کے دوافسانوی مجموعے چھپے ۔ایک مجموعہ’’کھویاہوااُفق‘‘کے عنوان سے ۱۹۶۸ء میں شائع ہوا۔ ان کے مطبوعہ افسانوں کی کل تعداداُنیس تک پہنچتی ہے ۔’’چچاسام کے نام آخری خط‘‘،’’زندگی کی کہانی‘‘،’’لالٹین‘‘وغیرہ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔ان کے افسانوں میں طنزیہ اسلوب صاف طورپرجھلکتاہے البتہ کچھ افسانوں میں تنہائی،افسردگی اور ملال کا رنگ بھی نمایاں ہے۔انسانی زندگی میں رونما ہونے والے بنیادی المیوں کو انہوں نے زیادہ واضح طور پر بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ محمد خالد اختر نے سائنس فکشن کے حوالے سے بھی افسانے لکھے ہیں جن میں ’’مقیاس المحبت‘‘ اس کا عمدہ نمونہ ہے۔
ممتازشیریں (۱۹۲۴ء ۔۱۹۷۳ء)کاشماریوں تواردوادب کے معتبرناقدین میں ہوتاہے اور’’منٹو:نوری نہ ناری‘‘لکھ کراپنی تنقید کا لوہا منوایا ہے لیکن ان کے افسانے بھی کسی طرح کم نہیں ہیں چہ جائے کہ انہوں نے فقط چودہ ہی افسانے تحریرکیے ہیں۔’’اپنی نگریا‘‘،’’دیپک راگ‘‘اور’’میگھ ملہار‘‘ان کے نمائندہ افسانے ہیں لیکن ان میں وہ بات نہیں ہے جس کی بہ دولت اردوکے اہم افسانوں میں شمارکیاجا سکے ۔ان کے افسانے مردوزن کے اہم ترین جذبات کاپروپیگنڈہ ہیں البتہ ’’انگڑائی ‘‘ہم جنسیت پرلکھاجانے والاایساافسانہ ہے جس میں لذتیت کاشائبہ تک نہیں۔محمدحسن عسکری نے اس افسانے پراظہارِ خیال کرتے ہوئے بجاطورپرلکھاہے :
’’
انگڑائی میں توبراہِ راست میلانِ ہم جنسی کاذکرہے لیکن اس موضوع کی تمام ترغیبات کاممتازشیریں نے بڑی دلاوری سے مقابلہ کیاہے ۔انھوں نے میلانِ ہم جنسی کے افعال پرنہیں بل کہ احساسات پراپنے افسانے پرکی بنیادرکھی ہے ‘‘۔(5)
اس ضمن میں سب سے اہم نام انتظارحسین (۱۹۲۵ء)کاہے ۔تہذیب کی شکست وریخت ،یادِماضی ،فسادات اورپاکستان کی سیاسی ،سماجی اورمعاشی صورت حال کاجتناتونااظہارانتظارحسین نے کیاہے ،ان کے ہم عصروں میں کم ہی نظرآتا ہے ۔اس حوالے سے انہوں نے کئی لازوال افسانے تخلیق کیے ہیں جن میں’’ وہ جوکھوئے گئے‘‘ ،’’بن لکھی رزمیہ‘‘ ،’’ہندوستان سے ایک خط‘‘ ،’’اجودھیا‘‘،’’قیوما کی دکان‘‘،’’ خریدوحلوابیسن کا‘‘وغیرہ قابل ذکرہیں۔ایک لحاظ سے دیکھاجائے توان کی اکثرکہانیاں فساداوراس کے نتیجے میں انسانی زندگی میںآنے والے مصائب مثلاً ٹاسٹیلجیایعنی یادِ ماضی اورپاکستان کی سیاسی ومعاشی حالات کانوحہ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ انتظارحسین کی افسانے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ انہوں نے ہرعہداورہرسیچویشن کواپنے افسانوں میں سمودیاہے ۔خواہ وہ ہجرت کاکرب ہو،فسادہو،مارشل لا ہو،قیامِ بنگلہ دیش ہویااسی طرح کے دوسرے سیاسی مسائل ۔اس طرح سے انہوں نے گویااپنے افسانوں میں ایک جہان آبادکردیاہے۔
اس حوالے سے ایک نام اشفاق احمد(۱۹۲۵ء ۔۲۰۰۴ء)کابھی ہے ۔پچاس کی دہائی میں دومجموعے ’’ایک محبت سوافسانے‘‘ ۱۹۵۱ء میں اور’’اجلے پھول‘‘۱۹۵۷ء میں شائع ہوئے۔ان کے افسانوں کابنیادی حولہ یوں تومحبت ہے لیکن تقسیم کے بعدہونے والے فسادکے حوالے سے انہوں نے افسانے کی شکل میں جس ’’گڈریا‘‘کوپیش کیاہے وہ لائق تحسین ہے ۔اس افسانے میں داؤجی کاکردارعجیب رومانی اندازلیے ہوئے ہے جو مذہباًتوہندوہے لیکن اسلامی رکھ رکھاؤاس کی روح میں سرایت کیے ہوئے ہے ۔
ساٹھ سے قبل مندرجہ بالاافسانہ نگاروں کے علاوہ اوربھی کئی ایسے افسانہ نگارہیں جن کاذکرناگزیرتھالیکن موضوع کی طوالت سے احترازکرتے ہوئے اُن کا ذکر نہ ہوسکا۔سردست ان کے نام سے یہاں اکتفاکیاجاتاہے ۔اکرام اللہ ،عرش صدیقی ،غلام الثقلین نقوی ،شوکت صدیقی ،آغاسہیل،اے حمید،مسعواشعروغیرہ کے نام ایسے ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اپنے عہدکی زبوں حالی کاذکراپنے اپنے طورپرکیاہے ۔بعض بل کہ اکثرافسانہ نگاروں نے ساٹھ کی دہائی میں اوراس کے بعدبھی افسانے لکھے ہیں لیکن اس ضمن میں ان افسانہ نگاروں کاذکرزیادہ تفصیل سے ہوگاجنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں افسانہ نویسی کی ابتداکی اوراپنی حیثیت بھی قائم کی ۔انورسجاد،خالدہ حسین ،منشایاداوررشیدامجداس دہائی کے ایسے فن کارہیں جنہوں نے جدیدیت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اوران کے فن کوبھی سراہاگیا۔علامت وتجریدکووسیلۂ اظہاربناکرجدیدافسانہ نگاروں نے موضوعات سے لے ہیئت وتکنیک میں بھی تبدیلی کی ۔
اس حوالے سے پہلااوراہم نام ڈاکٹرانورسجادکاہے ۔انورسجاد(۱۹۳۴ء)نے افسانہ نگاری کی ابتداروایتی اندازسے کی ۔ ۱۹۵۳ء میں ان کاپہلاافسانہ ’’ہواکے دوش پر‘‘ نقوش ،لاہورسے چھپااوریہ سلسلہ ۱۹۵۷ء تک چلتارہا۔مارشل لاکے بعدان کی افسانہ نویسی میں تبدیلی آئی اورجب ان کاپہلا افسانوی مجموعہ ’’چوراہا‘‘۱۹۶۴ء میں منظرعام پرآیاتب ان کی شناخت بہ حیثیت علامتی افسانہ نگارکے ہوئی ۔پاکستان میں انورسجاد اور خالدہ حسین ایسے افسانہ نگارہیں جنہوں نے علامتی وتجریدی افسانے جسے ہم اصطلاحاًجدیدبھی کہہ سکتے ہیں،کی بنارکھی ۔انورسجادکے ابتدائی افسانے ’’پہلی کہانیاں‘‘کے عنوان سے ۱۹۹۰ء میں چھپے۔اس کے بعد’’چوراہا‘‘اور’’استعارے‘‘ ایسے مجموعے ہیں جوساٹھ کی دہائی میں منظرعام پرآئے ۔جن کاسنہ اشاعت بالترتیب ۱۹۶۴ء اور۱۹۷۰ء ہے ۔انہوں نے اپنے افسانوں میں جس نئے اسلوب کو ایجادکیاہے وہ ایک حدتک شاعری سے مختص رہے ہیں۔اس حوالے سے وہ حضرت بہاء الدین نقشبندی ؒ کاقول نقل کرتے ہیں:
’’
ایک عالم ۔۔۔
’’سرکار،آپ کہانیاں سناتے رہتے ہیں لیکن ابلاغ نہیں ہوتا۔یہ بھی توبتائیے کہ آپ کی کہانیوں کوسمجھیں کیسے؟
حضرت بہاء الدین نقش بندیؒ ۔۔۔
’’آپ یہ پسندفرمائیں گے کہ پھل فروش ،پھل کاگوداتوخودکھالے اورچھلکاآپ کو فروخت کردے ؟‘‘(6)
اس قول سے یہ بات توواضح ہوئی ہے کہ انورسجادنے جوامیجز،علامات اوراستعارے استعمال کیے ہیں وہ ایک خاص عہد سے تعلق بھی رکھتے ہیں اوراس کی تفہیم قاری کے ذہن پرچھوڑدیتے ہیں۔ان کایہ مقصدہرگزنہیں ہوتاکہ ہربات کوعیاں کر دیا جائے بل کہ ان کے مفاہیم ایک دبیزغلاف کے اندرڈھکے ہوتے ہیں اورقاری کے ذہن کی رسائی حقیقت تک مشکل سے ہی ہوپاتی ہے ۔ ترسیل ، ابلاغ اورتفہیم میں مشکلیں پیش آتی ہیں اورانورسجادپریہی بنیادی اعتراض کیاجاتاہے کہ نہ ان کے ہاں واقعات کاتسلسل ہوتا ہے نہ ہی کردارکی تجسیم ہی ہوپاتی ہے ۔اس کی واحدوجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کرداراورواقعہ کے بہ جائے فضا اور ماحول کوزیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ان کے افسانوں کوپڑھ کریہ بات بلاتردد کہی جاسکتی ہے کہ انورسجاداپنے عہدکاباشعوراورسنجیدہ فن کار ہے اوران کے افسانے عصری حسیت کے حامل ہیں۔ان کاعلامتی افسانہ ایسے عہدکاآئینہ دارہے جب پاکستان میں تشخص کاسوال اٹھ رہاتھااوربے باکی سے کوئی بات کہنامعیوب سمجھاجاتاتھا۔اسی لیے ساٹھ کی دہائی کے فن کاروں نے علامت وتجریدکواپناوسیلۂ اظہاربنایا تا کہ حقیقت حال کی عکاسی ڈھکے چھپے اندازمیں ہواوران فن کاروں کی انفرادیت بھی قائم ہوسکے ۔
انورسجادکے بیش ترافسانے تجریدی پیراے میں سماج کی شکست وریخت ،فردکی تنہائی اورگھٹن کے احساس کوبیان کرتے نظر آتے ہیں۔ان افسانوں میں ایسے کرداربھی ہیں جن کاکوئی نام نہیں ہے اوراپنی شناخت کے لیے سرگرداں ہیں۔انورسجاداپنے متعلق اس بات پراصراربھی کرتے ہیں کہ وہ تمام عمرایک ہی افسانہ لکھتے رہے جس کاموضوع جبرکے خلاف احتجاج ہے ۔خوف،جبر،اجنبیت و تنہائی ان کے بنیادی استعارے ہیں جن کے سہارے وہ کہانی کاتانابانابُنتے ہیں۔ان کے نمائندہ افسانوں کاذکرکیاجائے تو’’چوراہا‘‘، ’’سنڈریلا‘‘،’’گائے ‘‘،’’کونپل‘‘ اور’’چھٹی کادن‘‘ وغیرہ کوضرورشامل کیا جائے گا۔انہوں نے اپنے افسانوں میں دیومالا، اساطیر او ر داستانی عناصر سے بھی کام لیاہے ۔اساطیرکے حوالے سے انہیں کمال حاصل ہے ۔ سنڈریلا، کیکراورپرمیتھس اس حوالے کی بہترین کہانیاں ہیں۔ اس ضمن میں قاضی عابدرقم طرازہیں:
’’
اس امرمیں کوئی شک نہیں کہ ان کہانیوں میں انورسجادنے غیرمانوس تہذیبی منطقوں کی اساطیری روایات کوتجریدی اورغیرمانوس اسلوب میں بیان کرکے جوانفرادیت حاصل کی وہ زیادہ لایعنیت کوہی جنم دے رہی ہے ‘‘۔(7)
انورسجادکے نمائندہ افسانوں میں’’گائے‘‘کوکافی مقبولیت حاصل ہے ۔اس کاشمارجدیدیت کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے ۔اس کی شہرت کادارومدارغالباً اسی وجہ سے ہے کہ اس کی تفہیم میں دشواری پیش نہیںآتی اورقاری کسی حدتک حظ بھی اٹھاتاہے لیکن کہانی کودوسرے زاویے سے دیکھیں توگائے نہ صرف استعارہ ہے بل کہ ہمارے ہاں کے سیاسی نظام پرطنز بھی ہے ۔بات صرف یوں ہے کہ ایک دبلی پتلی سی گائے ہے جودبلی ہوچکی ہے اورگھرکے افراداسے بوچڑخانہ بھیجنے پرغوروفکرکررہے ہیں۔’’نکّا‘‘اس بات کی مخالفت کرتاہے اورعلاج کرانے کامشورہ دیتاہے لیکن گھرکے بزرگوں کے سامنے اس کی ایک نہیں چلتی ہے بالآخرگائے کوبوچڑ کانہ بھیج دیاجاتاہے ۔
اس افسانے میں’’گائے‘‘علامت ہے مظلوم عوام کی اورنکّا ان مظلوم ومعصوم عوام کے رہنماکی ،جومظالم کے سامنے مزاحمت کررہاہے کہ مظلوم کی سزامیں تخفیف کی جائے لیکن ظالم وجابرحکم راں اس کی ایک نہیں سنتابل کہ وہ اب اس فکرمیں ہے کہ ان رہنماؤں کاکیاجائے تاکہ ظلم کے خلاف کوئی بھی احتجاج نہ کرسکے ۔افسانے کاآخری اقتباس ملاحظہ ہو:
’’
اس نے کھلی آنکھ سے دیکھا۔بچھڑاٹرک سے باہرگائے کے گرائے ہوئے پٹھوں میں منہ ماررہاتھا۔ٹرک میں بندھی گائے باہر منہ نکال کربچھڑے کودیکھ رہی تھی ۔ا ن میں سے ایک گائے کولے جانے کے لیے ٹرک میں بیٹھاتھااورباباایک ہاتھ سے اپنی داڑھی میں عقل کوسہلاتاہواباہرکھڑے ڈرائیورسے ہاتھ ملارہاتھا۔پھرمجھے پتانہیں کیاہوا۔نکّے نے کسے نشانہ بنایا۔گائے کو،بچھڑے کی ڈرائیور کو،باباکو،اپنے آپ کویاوہ ابھی تک نشانہ باندھے کھڑاہے ۔
کوئی وہاں جاکے دیکھے اورآکے مجھے بتائے کہ پھرکیاہوا۔مجھے توصرف اتنا پتا ہے کہ ایک روزانھوں نے فیصلہ کیاتھاکہ۔۔۔۔۔۔‘‘۔(8)
ابتداسے کہانی صحیح سمت کی طرف گامزن تھی لیکن آخری جملے سے انورسجادنے تجسس پیداکردیا۔وہ یہ کہ انہوں نے ایک دن کیافیصلہ کیاتھااوراس کااثرآج کے سماج پرکیاپڑاہے ۔اگرقاری کانظریہ بدل جائے اوراس افسانے کوآزادی کے تناظرمیں دیکھیں تو گائے پرہونے والے ظلم وستم انگریزوں کی یادتازہ کرتی ہے ۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ انورسجادکاکوئی بھی کہانی ایک وسیع منظرنامہ رکھتی ہے ۔انہیں علامات پرعبورحال ہے اوروہ معاشرتی دکھ کوعلامتوں کے وسیلے سے بہترین روپ میں پیش کرنے کاہنررکھتے ہیں۔
اس ضمن میں ایک اہم نام خالدہ حسین (۱۹۳۸ء)کاہے ۔انہوں نے بھی علامات کونیاآہنگ عطاکیا۔خالدہ حسین افسانوی افق پرجس وقت نمودارہوئیں اس وقت علامت نگاری کے حوالے سے بلراج مین رااورانورسجادسے لوگ پہلے ہی متعارف ہوچکے تھے ۔ البتہ خالدہ حسین اورسریندرپرکاش اس صف میں بعدمیں شامل ہوئے لیکن جلدہی توجہ کامرکزبن گئے ۔خالدہ حسین نے علمی وادبی فضامیںآنکھیں کھولیں۔والدڈاکٹراصغر،سائنس کے شعبے سے منسلک ہونے کے باوجوداعلاادبی ذوق رکھتے تھے ۔۱۹۵۴ء میں افسانہ نگاری کاآغازکیا۔ابتدائی دنوں میں ان کی کہانیاں روایتی انداز کی تھیں لیکن ۱۹۶۲ء میں افسانہ ’’منی‘‘چھپاتوادبی حلقوں میں دھوم مچی ۔۱۹۶۲ء اور۱۹۶۵ء کے درمیانی عرصے میں پے درپے کئی اہم کہانیاں لکھیں جن میں’’ہزارپایہ‘‘ ، ’’نام کی کہانی‘‘ اور’’آخری سمت‘‘ خاص طورپرقابل ذکرہیں۔۱۹۶۵ء کے بعدتقریباًتیرہ برس تک انھوں نے لکھنالکھانابالکل ترک کردیا۔ ۱۹۷۹ء میں افسانوی دنیامیں ان کی دوبارہ واپسی ہوئی اور’’آدھی عورت‘‘لکھ کرسب کوخوش گوار حیرت میں مبتلاکردیا۔ادبی دنیامیں انہوں نے خالدہ اصغراورخالدہ اقبال کے نام سے افسانے لکھے لیکن خالدہ حسین ایسانام ہے جس سے زیادہ معروف ہیں۔
خالدہ حسین کی افسانوی زندگی نصف صدی پرمحیط ہے اوران کی افسانہ نگاری کودوحصوں میں بانٹاجاسکتاہے ۔پہلادور ۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۵ء تک محیط ہے جس میں انہوں نے اپنی شناخت قائم کی اورصنف افسانہ کونئے موضوعات دیے ۔ ’’سواری‘‘،’’ہزارپایہ‘‘ ، ’’آخری سمت ‘‘اور’’منی‘‘ جیسی کہانیاں اسی دورسے تعلق رکھتی ہیں۔دوسرادور۱۹۷۹ء سے تاہنوزجاری ہے ۔اس لحاظ سے دیکھاجائے توان کے دوامتیازات ہیں۔اول یہ کہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے جدیدافسانے کی دنیامیں اس وقت قدم رکھاجب یہ ابتدائی منزلیں طے کررہاتھا اوردوم یہ کہ جدیدافسانے کواعتباردلانے اورعلامتی افسانوں کوتسلسل کے ساتھ بیان کرنے میں انہوں نے بخالت سے کام نہیں لیا ۔ان کے علامتی اندازپرگفت گوکرتے ہوئے طاہرمسعودلکھتے ہیں:
’’
خالدہ حسین کااسلوب علامتی اورتجریدی ہے البتہ علامت ان کے ہاں عجز اظہار کانتیجہ نہیں ہے ۔ان کی ہرکہانی میں کہانی موجودہے ۔کیوں کہ ان کے بہ قول ’’کہانی کا سحر وہ سحرہے جوازل سے انسان کومسحورکرتاچلاآرہاہے اورکرتارہے گاخواہ اس میں رستہ بھول جانے کاخطرہ ہی کیوں نہ ہو‘‘۔ان کے افسانے معلوم سِراہیں جنہیں پکڑکرہم نامعلوم حقیقتوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔چہرے شناساہوتے ہوئے بھی اجنبی ہوجاتے ہیں اور جانی بوجھی چیزیں انجانی سی لگنے لگتی ہیں۔ان کی بھیدبھری کہانیوں میں تشکیک ،ایہام ، بے یقینی اوراستعجاب کی فضاملتی ہے ‘‘۔(9) 
خالدہ حسین کااختصاص یہ ہے کہ انہوں نے علامت نگاری کواپناوسیلۂ اظہاربنایااورافسانے کوایک نئی معنویت عطاکی ۔ان کی کہانیاں فکرکے ایک نئے لہجے سے متعارف کراتی ہیں جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔یہ حظ اسی وقت اٹھایاجاسکتاہے جب وہ وجودیت ،فردیت اورسماجی نظام سے گہری واقفیت رکھتاہو۔کیوں کہ خالدہ حسین کی کہانیاں کچھ اسی طرح کی ہیں کہ اپنے اندر سماج کاگہراشعوررکھتی ہیں۔ان کہانیوں میں عصری آگہی بھی ہے اورایک شخص کے اندرپنپنے والے مسائل بھی ۔ان کے نمائندہ افسانوں میں ’’ہزارپایہ ‘‘کااطلاق سماجی حوالے سے بھی کیاجاسکتاہے اوردوسری طرف فردیت کے حوالے سے بھی اس کے دریچے واکیے جاسکتے ہیں۔پاکستان میں مارشل لاکے بعدسماجی صورت کانقشابھی اس افسانے میں موجودہے کہ ایک ملک جوبہت تگ ودوکے بعدآزادتوہو گیا لیکن اس ملک کے اندرلوٹ گھسوٹ اوردوسری بیماریاں اس قدرعام ہوگئی ہیں کہ سوائے آپریشن کے اس کاکوئی علاج نہیں ہے ۔ اورجہاں تک ہزارپایے کاسوال ہے تویہ ایک ایساجرثومہ ہے جس کاعلاج تقریباً ناپیدہے ۔اگرناپیدنہیں توناممکن ضرورہے ۔ ایسی صورت حال میں اگروہ خودیہ چاہے کہ اس کے اندرکاہزارپایہ اس سے چمٹارہے ۔تب تواس کے علاج کا کوئی جواز ہی نہیں۔
خالدہ حسین کی اس کہانی کووجودیت کے حوالے سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔اس علامتی وتجریدی کہانی میں ان تمام امکانات کے حوالے موجودہیں جس سے اس وقت کامعاشرہ زیر و زبر کی حالت میں تھا۔افسانے کے کردار’’میں‘‘کایہ بیان بھی قابلِ غورہے جب ڈاکٹرہزارپایہ سے متعلق یہ کہتاہے کہ یہ تواُس کے وجودکاحصہ ہے ۔ملاحظہ ہویہ اقتباس:
’’
اس لیے اس کے بعدمیری تمام ترتوجہ اپنے اندرپلنے والے ہزارپایہ پر مرکوز ہوئی ۔ میں اسے جاننا،دیکھناچاہتاتھامگر ڈاکٹر کاکہناتھاکہ وہ کسی ایکس رے میں نہیں آسکتا کہ وہ ایک جان ہے ۔پھیلتی ،جبڑوں بھری،سرسراتی جان‘‘۔(10)
خالدہ حسین کی کہانیاں ذات کے حوالے سے عدم تحفّظ کاحوالہ بن کراکثرجگہوں پرسامنے آتی ہیں۔’’ایک رپورتاژ‘‘،’’سواری ‘‘، ’’پہچان‘‘ وغیرہ میں سماج کی مظلومیت ،عورتوں کی بے بسی ،انسانی زندگی کے آلام اپنے کریہہ منظرنامے کے ساتھ موجودہیں اور پاکستانی معاشرے کی صورت حال کااندازہ بھی صحیح طورپرہوتاہے۔
ساٹھ کی دہائی کاایک اہم نام منشایاد(۱۹۳۷ء۔۲۰۱۱ء)کاہے ۔یوں تومنشایادپیشے سے انجینئرتھے لیکن انہوں نے اپنی ادبی ذوق کوماندپڑنے نہیں دیابل کہ ساری عمرادب کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ان کاپہلاافسانہ ۱۹۵۹ء میں’’کہانی‘‘کے عنوان سے لاہورکے ادبی جریدے’’داستان گو‘‘میں چھپا۔اس کے بعدتواترکے ساتھ انہوں نے لازوال افسانے تحریرکیے ۔یوں انہوں نے روایتی اندازسے افسانہ نگاری کاآغازکیااورقدرے تاخیرسے جدیدیت کی دوڑمیں شامل ہوئے پھربھی کئی لازوال کہانیاں لکھیں۔ان کویہ اعزازحاصل ہے کہ وہ اردوکے ساتھ پنجابی میںیکساں قدرت رکھتے ہیں۔
منشایادکے افسانوں کامطالعہ کریں تووضاحت ہوتی ہے کہ انہوں نے افسانہ نگاری کاآغازتوروایتی اندازسے کیااور ان کا فن پارہ نیم علامتی ،علامتی اوراستعاراتی کی منزلوں تک پہنچ گیا۔انہوں نے افسانہ نگاری توساٹھ کی دہائی میں شروع کردی تھی لیکن ان کے مجموعے سترکی دہائی میں اوراس کے بعدشائع ہوئے ۔وہ نظری اعتبارسے کسی تحریک سے وابستہ نہیں تھے بل کہ انسان دوست کے ناطے سماج اورفردکی زبوں حالی کااحساس ان کے ہاں کچھ زیادہ واضح طورپرنمایاں ہوتاہے ۔دیہی مناظرکی عکاسی میں ان کاکوئی ثانی نہیں۔بھوک،جبلّت اورمحبت کے حوالے ان کے افسانوں میں بار بار آتے ہیں۔’’سارنگی‘‘،’دنیاکاآخری بھوکاآدمی‘‘،’’تماشا‘‘، ’’راستے بندہیں‘‘اور’’ماس اورمٹی‘‘ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔ان کہانیوں میں وہ کردار زیادہ جاذب نظرہیں جوتیسری دنیاکے مصائب اورمفلوک الحال زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔جنہیں زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی میسرنہیں ہیں۔ ان کے افسانوں پراقبال آفاقی نے بجاطورپرکہاہے:
’’
منشایادکی کہانیوں میں ہمارے عہدکی سیاہ کاریوں کی پوری روایت موجودہے ۔ وہ صرف افسانہ نگارہی نہیں،اپنے عہدکا گواہ بھی ہے ۔اس کاکارنامہ یہ ہے کہ اس نے تاریخ کوگرے پڑے ،محروم اوراستحصال زدہ لوگوں کی نظرسے دیکھااورجذبے کی پوری سچائی کے ساتھ کسی لگی لپٹی کے بغیرعلامت اورتجریدکی دانش ورانہ سوفسطائیت سے بچ بچا کر ان کااستغاثہ پیش کیا۔اپنے عہدکی تصویر کا دوسرارخ پیش کرنے اوروقوعہ کودبائے گئے روزن کومنظرعام پرلانے میں منشایادکی کردارنگاری کوفرموش نہیں کیا جا سکتا‘‘۔(11)
کسی فن کارکی تخلیق کوفقط ایک خاص عہدکے تناظرمیں دیکھیں توایک طرف فن کارکے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی اورفن پارے کادائرہ بھی محدودہوجائے گاپھربھی کچھ تحریریں ایسی ہوتی ہیں جوکسی خاص عہدمیں ہی ظہورپاتی ہیں اوراس عہدکے تناظرمیں اس کی تفہیم واضح اندازمیں ہوجاتی ہے ۔ساٹھ کے بعدپاکستان کی سماجی وسیاسی صورت حال پرکوئی واضح کہانی تونہیں ہے البتہ اس دورانیے کی تخلیقات میں علامتی وتجریدی طورپراس کے نشانات ضرورمل جائیں گے ۔منشایادکے وہ افسانے جوبھوک کی شدیدکیفیت کوبیان کرتے ہیں ہوسکتاہے وہ اسی عہدکانوحہ ہوں۔افسانہ’’راستے بندہیں‘‘میں کچھ اسی طرح کی کیفیت جھلکتی ہے ۔ایک شخص جو میلہ دیکھنے آیاہے لیکن اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے وہ حلوائی،سوڈاواٹراورپھل فروش کی دکانوں کے سامنے جاکھڑاہوتاہے اوران تمام اشیاکوگھورگھورکردیکھتاہے ۔جب کوئی اس سے یہ سوال کرتاکہ جب تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں توتم کیوں میلہ دیکھنے چلے آئے توجواباً وہ کہتاہے :
’’
میں میلے میں نہیںآیا۔۔۔۔۔۔میلہ خود میرے چاروں طرف لگ گیاہے اورمیں اس میں گھرگیاہوں۔میں نے باہرنکلنے کی کئی بارکوشش کی مگرمجھے راستہ سجھائی نہیں دیا‘‘۔(12)
وہ دوکانوں پرکھڑاہوکرمحسوس کرناچاہتاہے اورخواہش کااظہاربھی کرتاہے کہ اسے مل جائے توبری طرح ان لذیذ کھانوں پر ٹوٹ پڑے گا۔اس کے دوسرے دوست بھی میلے میں موجودہیں جواپنے کاموں میں مصروف ہیں۔علیانائی اپنے ساتھ استرابھی لایا ہے۔ اس کاجب دل چاہتاہے لوگوں کے بال کاٹتاہے اورجب پیسے اکٹھاہوجاتے ہیں توسینمادیکھنے چلاجاتاہے ۔منشایادنے اسی طرح کے دوسرے افسانوں میں مفلسی ،غریبی اوربھوک کی جبلت پرلازوال افسانے لکھے ہیں۔ 
اس ضمن میں چوتھااہم نام رشیدامجدکاہے ۔انہوں نے ابتدائی دنوں میں اختررشیدنازکے نام سے جاسی دنیاکی سیرکی ۔ جاسوسی ناول پڑھنا، ان کے تراجم کرنااوراسی طرزکی کہانیاں لکھناان کامحبوب مشغلہ تھا۔اعجازراہی کے ایماپرادبی افسانے لکھنے کی ابتداکی ۔ ’’لیمپ پوسٹ‘‘کے ذریعے علامتی دنیامیں داخل ہوئے ۔ان کے افسانوں میں ایک جہان آبادہے جس سے فن کارخودنبردآزماہے ۔ ان کے کردارکچھ توایسے ہیں جوداخلی کرب کی نمائندگی کرتے ،کچھ خارجی دنیاکے اورکچھ ایسے بھی ہیں جن کی شناخت بہ مشکل ہی ہوسکتی ہے ۔تلاش وجستجوکایہ عمل ان کے افسانوں میں بکھراپڑاہے ۔اپنے افسانوں سے متعلق رشیدامجدرقم طرازہیں:
’’
میں عام شخص کے لیے نہیں لکھتا،میراقاری مجھے خودتلاش کرتاہے ،میری لذتوں میں وہی شریک ہوسکتاہے جومیرے تجربے کی اسراریت کومحسوس کرسکتاہے ،میں کہانی جوڑتا نہیں ،ٹکڑے اکٹھے نہیں کرتا۔کہانی ایک خیال کی طرح میرے ذہن میںآتی ہے اور تخلیقی عمل سے گزرکرایک وحدت کی طرح کاغذپربکھرجاتی ہے ‘‘۔(13)
فن کارکے اضطراب کومحسوس کرنے کے لیے قاری کوان کے کرداروں کے قالب میں ڈھلناہوگاتب کہیں جاکرافسانے کی اصل روح تک رسائی ہوسکے گی کیوں کہ ان کی اکثرکہانیاں علامتی اورتجریدی ہیں۔ان کے یہاں واقعہ سے زیادہ خیال اہم ہوتاہے ۔ کسی ایک خیال کوافسانہ بنانے کاہنروہ خوب جانتے ہیں۔دریا،قبر،موت اورجنازہ وغیرہ وہ خاص علائم ہیں جوانہی کی اختراع کردہ ہیں ۔دریابہتے ہوئے وقت کی علامت ہے توقبر،خوف ودہشت کی ۔یوں تورشیدامجدکے درجنوں افسانے ایسے ہیں جن میں خیال کی ندرت ہے اوراسلوب شاعرانہ ۔لیکن یہاں فقط تین افسانوں کاحوالہ ضروری ہے تاکہ ان کے علائم ،اسلوب اوراندازِ بیان کی وضاحت ہوسکے ۔’’لیمپ پوسٹ ‘‘،’’ڈوبتی پہچان‘‘اور’’دشت امکاں‘‘ایسے افسانے ہیں جن کاذکرافسانوں کی مجلس میں ہوتارہے گا۔
افسانہ ’’لیمپ پوسٹ‘‘کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ رشیدامجداسی کہانی کے ذریعے علامتی افسانے کی دنیامیں واردہوئے تھے۔’’لیمپ پوسٹ‘‘ جوروشنی کی علامت ،کہانی کے مرکزی کرداریعنی واحدمتکلم کااس سے رشتہ زندگی کاہے ۔راحت ،محبت اورزندہ رہنے والی مخلوق کی علامت ہے تو’’سیاہ کپڑا‘‘اس جبرکی جسے انسان خارجی دنیامیں محسوس توکرتاہے لیکن اس کااثرداخلی ہوتاہے ۔کہانی کے کردار کوجب بھی اپنے نہ ہونے کااحساس ہوتاہے تب وہ لیمپ پوسٹ سے گھنٹوں باتیں کرتاہے اورمشکل اوقات میں غم ہلکاکرنے کے لیے آنسوبھی بہاتاہے لیکن جب ہیروکی حّس مرجاتی ہے تواس کااثرلیمپ پوسٹ پرہوتاہے بل کہ قصبے کے لوگ اسے لیمپ پوسٹ سے لپٹتے دیکھ کرکھڑے ہوجاتے ہیں تب اسے خفّت ہوتی ہے اوروہ حویلی میں داخل ہوجاتا ہے وہاں بھی منظربدلاہواہے۔چودھری صاحب اورراحت کے رویّے میں تبدیلی توآگئی ہے لیکن ان کی داخلی حس مرچکی ہے ۔
رشیدامجدکاایک اہم افسانہ ’’ڈوبتی پہچان‘‘ہے ۔جس کی بنیادتشخص اورتجسس پرہے ۔کہانی کے ہیروکی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماں کی قبرپکّی کرائے لیکن خالی جیب اس خیال کوتھپتھپاکرآنے والے دن کی جھولی میں ڈال دیتی ہے ۔گھرکی دیوارپرآویزاں تصورکووہ کسی طرھ بیچنے میں کام یاب ہوجاتاہے اوراگلی ہی صبح وہ گورکن سے بات بھی کرآتاہے ۔گورکن اسے تسلی دیتاہے کہ اس کی ماں کی قبردھنسی نہیں ہے اورنہ ہی اس کے اندربوندبوندپانی رس رہاے پھربھی اس کے اطمینان کے لیے وہ یہ کہہ دیتاہے کہ بارش ختم ہونے کے ساتھ ہی اس کی مزیدمرمّت کردے گا۔ہیروکاتجسس تاہنوزبرقرارہے ۔اب وہ قبرپکی کرانے کی ٹھان لیتاہے اورجب اگلی صبح اگر بتیاں جلاکروہ دعامانگ کرواپس ہورہاہوتاہے تواس کے ذہن پریہ شک رینگنے لگتاہے کہ وہ قبراس کی ماں کی ہے بھی یانہیں۔اسی شک میں وہ پورے قبرستان کی قبریں پکی کرادیتاہے پھربھی اس کاشک جوں کاتوں برقرارہے ۔اب وہ شہرکی تمام قبروں کوپکی کرانے کی ٹھان لیتاہے ۔اب اس کے تجسس نے پرندے کے پروں کی طرح پھڑپھڑاناشروع کردیاہے اوریہ سوالیہ نشان قائم کرتاہے کہ کیامعلوم یہ وہ شہرہی نہ ہوجہاں اس کی ماں دفن ہے ۔
رشیدامجدنے جس عہدمیں افسانہ نویسی کی ابتداکی وہ عدم تشخص ،بے گانگی اورتہذیبی اقدارکے شکست وریخت کاتھا۔اسی لیے ان کے افسانوں میںیہ علامت کثرت سے استعمال کیے گئے ہیں۔’’قبر‘‘ان کامحبوب استعارہ ہے جوانہی نکات کی طرف اشارہ کرتاہے ۔اعجازلکھتے ہیں:
’’
ہمارے کہانی کارکو’’قبر‘‘بہ طورعلامت واستعارہ بہت محبوب ہے ۔معروف معنوں میں ’’قبر‘‘خوف ،دہشت اورفناکی علامت ہے لیکن ہمارے کہانی کارنے ’’بیزارآدم کے بیٹے ‘‘سے ’’ایک عام آدمی کے خواب‘‘تک کوعلامتی اوراستعاراتی سطح پرمعنی ومفاہیم کے جونئے پیراہن عطاکیے ہیں اس کی معمولی نظیربھی پوری اردوافسانوی روایت میں نہیں ملتی ‘‘۔(14)
اس ضمن کاتیسراافسانہ ’’دشتِ امکاں‘‘ہے ۔اس افسانے میں ماں اپنے بیٹے سے ایک خواب کاذکرکرتی ہے ۔ماں کاکہنا ہے کہ اس نے ایک خواب دیکھاہے کہ اس گھرکے اندرکہیں خزانہ دفن ہے ۔شروع میں تو اس کی اولاد ،ماں کا مذاق اڑاتی ہے لیکن جب ماں بارباراصرارکرنے لگتی ہے توان کاشک بھی یقین میں بدل جاتا ہے۔ماں مرنے سے ایک دن قبل اس خواب کاذکر شدت سے کرتی ہے تب سے اس کا بیٹا چھینی اورہتھوڑالے اس کی تلاش بھی شروع کردیتا ہے اوراسے بھی اسی طرح خواب آنے لگتے ہیں لیکن خزانہ ا س کے ہاتھ نہیں لگتا ہے۔اکثروقت گزرتاجاتااورخزانے کے ذکرپرکئی کئی مہینوں کی دھول پڑجاتی ۔اب وہ ریٹائرہو چلا ہے کہ اس کا لڑکا بھی ناشتے کے بعدیہ خیال ظاہرکرتا ہے کہ ’’ابّو!میرا خیال ہے اس گھرمیں کہیں خزانہ ہے‘‘۔تب وہ چونک پڑتاہے ا ورسوچتے ہوئے کہتا ہے کہ شایدوراثت میں خواب بھی منتقل ہوجاتے ہیں۔
اس افسانے میں’’خواب‘‘بہ طورعلامت استعمال ہواہے جوبہتے ہوئے وقت کی طرف دال ہے کہ زمانے اوراقداربھی وقت کے دریاکی طرح یوں بہتے چلے جاتے ہیں اوربنی نوع انسان اسے محسوس بھی کرتاہے اوربرف کی طرح اس کے احساسات سردپڑجا تے ہیں۔’’خواب‘‘کوعلامت بناکررشیدامجدنے قاری کونئی لذت سے آشناکرایاہے ۔ 
جدیدیت کو فروغ دینے میں جن فن کاروں نے زیادہ زور صرف کیا اور اپنے فن کاروں کو جدیدیت کے لیے وقف کیا ان میں احمد ہمیش کا نام اہمیت کا حامل ہے۔احمد ہمیش کا شمار انور سجاد،انتظار حسین اور دوسرے علامتی و تجریدی افسانہ نگاروں کی صف میں ہوتا ہے۔انہوں نے افسانوں کے علاوہ نظموں کے حوالے سے اپنی حیثیت منوائی اور ’’تشکیل‘‘جیسے موقر جریدے کو نکال کر اردو ادب کو اعتبار بخشا لیکن ان سب کے باوجود احمد ہمیش کا نام اردو ادب کی تاریخ میں کہیں گم ہو گیا۔اردو ادب کے ناقدین نے ان کو اور ان کی خدمات کو فراموش کردیا۔لوگوں کو ان کے فن پارے میں خامیاں ہی خامیاں نظر آئیں یا انہوں نے ہر خوبی کو خامی کی عینک لگا کر پرکھا اور اس میں ذاتی عناد بھی شامل ہے جب کہ ان کے دونوں افسانوی مجموعوں ’’مکھی‘‘ اور ’’کہانی مجھے لکھتی ہے‘‘میں کئی افسانے ایسے ہیں جنہیں کسی بھی طرح نظر انداز نہیں جا سکتا۔
ساٹھ کے بعد پاکستانی افسانہ نگاروں نے مروّجہ اصول و ضوابط کی عمارت کو منہدم کیا اور ہےئت و فنی اصول کے خلاف شعوری طور پر بغاوت کا اعلان کیا۔اسی لیے جدید افسانہ نگاروں کے ہاں استعارہ سازی و علامت نگاری کا عمل نمایاں طور پر ملتا ہے۔پاکستان میں سماجی ،سیاسی،اقتصادی اور ثقافتی مسائل کا سب سے توانا اظہار ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں ہوا۔اس کے پسِ پشت وہ اسباب و عوامل کارفرما تھے جو وہاں کے سیاست دانوں نے پیدا کیے تھے۔ان دو عشروں میں پاکستانی معاشرہ زیادہ سنگین صورت حال سے دو چار تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دورانیے کے فن کاروں نے علامت و تجرید کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا ۔ستّر کی دہائی میں اپنی حیثیت منوالے والے فن کاروں میں اسد محمد خاں،مظہر الاسلام،احمد جاوید،مرزا حامد بیگ،احمد داؤد،اعجاز راہی وغیرہ کافی اہم ہیں۔پاکستان میں ساٹھ اور ستّر کی دہائی کو افسانے کا عہد زریں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
***







حوالہ جات:
1
۔رشید امجد۔پاکستانی افسانے کا سیاسی و فکری پس منظر۔مشمولہ’’شاعری کی سیاسی و فکری روایت‘‘۔دستاویز مطبوعات،لاہور۔1993ء صفحہ نمبر 41
2۔ احمد جاوید۔پاکستانی افسانہ۔مشمولہ’’پاکستان میں اردو ادب کے پچاس سال‘‘۔گندھارا پبلشرز،راولپنڈی 2005ء صفحہ نمبر 221
3۔مرزا حامد بیگ/ احمد جاوید۔تیسری دنیا کا افسانہ۔خالدین،لاہور 1982ء صفحہ نمبر 54
4۔ نیر مسعود۔افسانے کی تلاش۔شہر زاد،کراچی 2011ء صفحہ نمبر 126
5۔انوار احمد۔اردو افسانہ:ایک صدی کا قصہ۔مقتدرہ قومی زبان،اسلام آباد 2007ء صفحہ نمبر 196
6۔انور سجاد۔مجموعہ انور سجاد۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور 2011ء صفحہ نمبر 5
7۔قاضی عابد۔اردو افسانہ اور اساطیر۔مجلس ترقی ادب،لاہور 2009ء صفحہ نمبر 205
8۔انور سجاد۔مجموعہ انور سجاد۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور 2011ء صفحہ نمبر 163
9۔طاہر مسعود۔یہ صورت گر کچھ خوابوں کے۔مکتبہ تخلیق ادب،کراچی 1985ء صفحہ نمبر318
10۔خالدہ حسین۔مجموعہ خالدہ حسین۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور 2008ء صفحہ نمبر 78
11۔اقبال آفاقی۔اردو افسانہ:فن،ہنر اور متنی تجزیے۔فکشن ہاؤس،لاہور 2012ء صفحہ نمبر 200
12۔اقبال آفاقی۔منشا یاد کے منتخب افسانے۔مثال پبلشرز،فیصل آباد 2009ء صفحہ نمبر 50
13۔رشید امجد۔’’میں کیوں لکھتا ہوں؟‘‘۔مشمولہ’’عام آدمی کے خواب‘‘(کلیات)۔پورب کادمی،اسلام آباد 2007ء صفحہ نمبر 14
14۔احمد اعجاز (مرتب)۔رشید امجد کے منتخب افسانے۔پورب اکادمی،اسلام آباد 2009ء صفحہ نمبر 14


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.