بلراج مین را :ایک زندگی




سرورالہدیٰ
23 May, 2018 | Total Views: 272

   

بلراج مین راکی کہانی’’وہ‘‘میں نے 1996میں پڑھی تھی۔ میرے چند دوستوں نے بھی اس کہانی کا مطالعہ کیا۔ مجھے یاد ہے کہ جے این یو کے کاویری ہاسٹل کے ایک کمرے میں اس کہانی کے معنی اورمفہوم کے سلسلے میں ہرشخص کی رائے ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ جاڑے کی رات میں ایک نوجوان کوپوری دیوانگی کے ساتھ ماچس کی تلاش تھی۔ انھیں دنوں ہم لوگوں نے علامتی اورتجریدی افسانے جیسے الفاظ سنے تھے۔ یہ کہاں معلوم تھاکہ کہانی میں ایک نوجوان کی دیوانگی دوسری شکل میں ادب کے ایک نئے طالب علم میں منتقل ہوجائے گی۔ وقت گذرتارہااورمین راکی کہانی مجھے پریشان کرتی رہی۔میری دلچسپی میں اضافے کاسبب’’آج کل‘‘کے سابق مدیر محبوب الرحمن فاروقی بھی ہوئے۔ وہ رسالہ’’آج کل ‘‘کاایک گوشہ مین راکے لیے مخصوص کرناچاہتے تھے۔ انھوں نے مجھے حکم دیاکہ تم مین راکی چندکہانیوں کاتجزیہ کرواوران سے گفتگوبھی۔محبوب صاحب نے مین را کی شخصیت کے بارے میں کچھ اشارے کردئیے تھے،اوریہ بھی بتایاتھاکہ مین راکے ساتھ ملاقات اورگفتگومیں مجھے کن باتوں کالحاظ رکھناہوگا۔شمیم حنفی صاحب کے مضمون’چھلاوہ‘کے وسیلے سے بھی مین راکی شخصیت کے کئی رنگ میرے سامنے آئے۔ بالآخر ڈرتے ڈرتے بلراج مین را صاحب کوفون کیاکہ آپ سے ملناچاہتاہوں۔ آواز آئی آجائیے ملناکیامشکل ہے۔بس دوسرے ہی دن میں ماڈل ٹاؤن فرسٹ کے موڑ پرتھا۔اس موقعے پرمیرے دوست طارق کبیر بھی ہمراہ تھے۔ یہ علاقہ ہم لوگوں کے لیے نیاتھا۔مین راصاحب کے مکان کوتلاش کرنے میں خاصہ وقت گذرگیا۔ مجبور ہوکرالپناسنیماکے قریب سے انھیں فون کیا،انھوں نے فرمایاکہ آپ الپنا سنیماکے پاس رہئے میں آپ کی طرف آتاہوں ۔ ہم لوگ سوچ رہے تھے کہ شناخت کامسئلہ کیسے حل ہو، اتنے میں کہیں سے ایک صاحب نمودار ہوئے اورانھوں نے پوچھاکہ آپ لوگ مین راسے ملنا چاہتے ہیں۔ ہم لوگوں نے اثبات میں سرہلایاوہ مین راہی تھے بڑے تپاک سے ملے، سرپرشفقت کاہاتھ رکھااورہم ان کے گھر کی طرف چل پڑے ۔ملاقات میں مین راایک کھرے، بے باک اوربے تکلف انسان معلوم ہوئے۔ ان کے بارے میں سناتھاکہ وہ جلدی کسی کوخاطر میں نہیں لاتے اپنی بات بغیر منوائے دم نہیں لیتے اوراپنے علم اورمطالعے پرانھیں بہت اعتماد ہے۔ سامنے والے کی باتیں کم سے کم سننا چاہتے ہیں وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جس شخص سے گفتگو ہورہی ہے اس کی علمی اورذہنی سطح کیاہے۔ ممکن ہے یہ رویہ ان کااپنا ہم عصر دوستوں کے ساتھ رہاہومگر ہم لوگوں کے ساتھ ان کارویہ نہایت مشفقانہ تھا۔ یہ ضرورہے کہ بات کرتے ہوئے ان کالہجہ تلخ ہوجاتا۔ ہم لو گ خوف زدہ تھے کہ پتہ نہیں کیاپوچھ بیٹھیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انھوں نے جے۔این۔یو کاذکر چھیڑ تے ہوئے کہا میں جے ۔این ۔یوجاتارہاہوں وہاں کے طلبہ سے بات کرکے طبیعت خوش ہوجاتی تھی ۔ وہاں کے طلبہ بڑے ذہین اورکھلے دل ودماغ کے ہواکرتے تھے کوئی اسپیکر وہاں جانے سے ڈرتاتھاکہ پتہ نہیں کون کیا سوال کربیٹھے۔ جے۔این ۔یو کاسیکولر کرداراوریہ کھلا پن باقی رہنا چاہئے پتہ نہیں اب کیاصورت حال ہے؟
اس وقت مین راصاحب کامکان گروتیغ بہادر ٹی بی ہاسپٹل سے متصل تھا۔ سامنے مین روڈ ہے،جس پرصبح سے دیررات تک گاڑیاں دوڑتی رہتی ہیں جن کاشوران کے گھرمیں بیٹھ کرصاف سنائی دیتاہے۔ تین کمرے کایہ مکان پہلی منزل پرہے اس میں ایک چھوٹاساکمرہ مین راصاحب کے لیے مخصوص تھا۔ کمرے میں بمشکل چندکرسیوں دوالماریوں اورایک ٹیبل کی گنجائش تھی اس کمرے میں ایک ٹی۔وی بھی تھا جس کوبڑی دل چسپی سے مین راصاحب دیکھتے ۔ الماری میں انگریزی اوراردوکی کتابیں رکھی ہوئی ہیں ۔ کمرے کی دیواروں پرمارکس ،لینن ،دوستووسکی، ٹالسٹائے اورمنٹو وغیرہ کی تصویریں آویزاں ہیں۔ سادہ سایہ کمرہ مین راصاحب کی کل کائنات ہے، جن لوگوں کی تصویریں دیواروں پرآویزاں ہیں وہ مین راصاحب کے لیے آئیڈیل کادرجہ رکھتے ہیں۔ایسامحسوس ہوتاہے کہ ان شخصیات کی روح مین رامیں حلول کرگئی ہے بغیرکسی شعوری کوشش کے ان شخصیات کے نام مختلف حوالوں سے ان کی زبان پرآجاتے ہیں۔میں نے مپاساں کی کتاب Guy de Maupassant; the complete short storiesکاذکیا توکہنے لگے کہ آپ نے مپاساں کی کون سی کہانیاں پڑھی ہیں اوروہ کیسی لگیں ۔ انھوں نے یہ بھی بتایاکہ روپانے مپاساں کاجومجموعہ شائع کیاہے اس میں بڑی غلطیاں ہیں۔ آپ کتاب لے کرآئیں تو میں بتاتاہوں ۔حافظہ بھی قیامت کاہے وہ بڑی آسانی سے یہ بتاسکتے ہیں کہ کون سی کتاب کہاں اورکب چھپی اوراس کے موضوعات کیاہیں۔ یہ سب کچھ دراصل مین راکی غیرمعمولی علمی وادبی دل چسپی کوظاہر کرتاہے۔ مین راادب کامطالعہ روزگاریاعہدہ کی ترقی کے لیے نہیں کرتے بلکہ ادب لکھنا اورادب پڑھنا ان کے لیے اتناہی ضروری ہے جتناجینے کے لیے سانس لینا۔ جو تصویریں انھوں نے دیوارپرآویزاں کی ہیں ان کے بارے میں مین راصاحب نے بتایاکہ صبح وشام ان چہروں کودیکھ کر خود کوزندہ اورتابندہ محسوس کرتاہوں ورنہ اورکیا رکھاہے۔ دوستوفسکی، ٹالس ٹائی، مپاساں، کافکا اورکاموکوپڑھنے کے بعداگراردوکاایک افسانہ نگار ہم سے یہ کہتاہے کہ آپ کیالکھیں گے جوان لوگوں نے لکھ دیاہے تو اسے اصل سیاق میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن دیکھنے کی چیزیہ ہے کہ اس کے نزدیک کہانی اورفن کامعیارکیا ہے۔ وہ اس معیار کی وکالت کسی لالچ کی بنیادپرنہیں کررہاہے۔ مین رااپنی کہانیوں کے بارے میں کہنے لگے کہ میں نے کم وبیش سینتیس کہانیاں لکھی ہیں آپ ان میں سے تین یاچارکہانیاں نکال کردوسروں کے سامنے پیش کرسکتے ہیں۔ اب جوکہانیاں بچ جاتی ہیں ان کے بارے میں میں کیاکہوں۔مین راکایہ اندازفکران کے ایک سچے فنکار ہونے کاپتہ دیتاہے۔ مین راکامزاج یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ادبیت پراصرار کرتے ہیں وہ خراب لکھنے والوں کی تعریف نہیں کرتے۔ وہ کہانی کارکے روبرویہ کہنے کی ہمت رکھتے ہیں کہ آپ نے بہت خراب لکھاہے یاان دنوں آپ خراب لکھ رہے ہیں۔مصلحت پسندی اورصلح کل جیسی چیزیں مین راکے مزاج کوکبھی راس نہیں آئیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خراب لکھنااپنااورقاری دونوں کاوقت ضائع کرناہے۔ یہ کہاجاسکتاہے ایک شخص ہمیشہ اچھا نہیں لکھ سکتا۔ اگر ایساہے توکچھ برداشت کیاجاسکتاہے۔ مگرجولوگ مستقل خراب لکھ کرقارئین کاوقت ضائع کرتے ہیں ان کوپڑھنا بہت صبر آزماہے۔ پھرجب وہ یہ اصرار کرنے لگیں کہ آپ مجھے بھی پڑھیے اورمجھ پربھی لکھیے توصورت حال مزید خراب ہوجاتی ہے۔ یہ کیاضروری ہے کہ ہمیشہ اپنی تحریردوسروں کوپڑھائی جائے۔کیاایسانہیں ہوسکتاکہ ہم چنداچھی اورمعیاری تحریروں کومنتخب کرکے اپنی علمی اورذہنی آسودگی کاسامان کرلیں۔مین راعلم وادب کے تئیں کسی سمجھوتے کے قائل نہیں۔دوستی اوررواداری اپنی جگہ لیکن جب بات ادبی معیار کی ہوگی تواس میں ان کانظریہ قریب تردوستوں کے تئیں بھی سخت ہوجاتاہے۔ 1969میں غالب اکیڈمی میں انورعظیم کے افسانوی مجموعہ’’قصہ رات کا‘‘ پرگفتگوکرنے کے لیے لوگ جمع ہوئے تھے۔ اس جلسے کی صدارت سجادظہیر صاحب نے فرمائی تھی ۔اس موقع پرانورعظیم کے احباب موجودتھے لیکن سب اِدھراُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ انورعظیم کے افسانوی فن پرکوئی کچھ کہنے کوتیار نہیں تھا۔مین راکویہ بات اچھی نہیں لگی وہ تھوڑی دیر کے لیے باہر آئے اوردوبارہ جلسہ گاہ پہونچے۔اورکہاکہ مجھے کچھ کہناہے مین رانے انورعظیم کی کتاب پرنشانات لگارکھے تھے۔ ایک گھنٹہ مین رانے ان مطبوعہ کہانیوں پرروشنی ڈالی اوریہ کہاکہ اس کتاب میں صرف ایک کہانی’’سات منزلہ بت‘‘ ہے جواچھی اورمعیاری ہے باقی سب کمزورکہانیاں ہیں۔ یہ کہانیاں کمزورکیوں ہیں،مین رانے اس پرسیرحاصل گفتگو کی۔ مجمع خاموشی کے ساتھ مین راکی گفتگو سنتارہا۔اخیرمیں انورعظیم نے افسوس ظاہرکیاکہ تمام لوگ خاموش ہیں۔میں مین راکاشکریہ اداکرتاہوں کہ انھوں نے میری کہانیوں کو پڑھ کربے لاگ تبصرہ کیا۔ دوسرے دن انورعظیم اورمین راکاندھے پرہاتھ رکھ کرگھوم رہے تھے اورلوگ حیرت زدہ تھے۔
مین راکواپنے رسالہ’شعور‘کے لیے جن اہم لکھنے والوں کاقلمی تعاون حاصل تھاوہ اپنے وقت کے علمی ومعیاری لوگ تھے۔ان میں سے چندآج بھی تروتازہ ہیں۔’شعور‘کی ترتیب وتدوین کودیکھئے تواردو رسالوں کی تاریخ میں کوئی دوسرارسالہ اس نوعیت کانہیں ملے گا۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایک شمارہ نکالنے کے لیے کتنی محنت اورمشقت کرناپڑتی ہوگی۔ مشمولات کی حصول یابی سے لے کراس کی کتابت تک کامرحلہ کتنادشوار نظرآتاہے۔مگریہ دشواریاں مین راکے نزدیک دشواریاں نہیں بلکہ مدیر کے فرائض ہیں۔وہ دیوانہ وارہراس شخص کے پاس جاتے تھے جس کی تحریر میں کوئی حسن ہواورجوکسی موضوع پراچھالکھ سکتاہو۔چاہے وہ ان کامخالف ہی کیوں نہ ہو۔’شعور‘ایک کہانی کار کی ادبی وعلمی دیوانگی کا ایسامظہرہے جس کی مثال شاید ہم نہ ڈھونڈ پائیں۔پریم گوپال متل نے مجھے بتایا کہ’شعور‘کے ایک شمار ے کے چندصفحات کی کتابت ہوچکی تھی مین را نے کتابت شدہ صفحات کودیکھا اورکاتب کے سامنے اسے پھاڑڈالااورکہاکہ اس کی دوبارہ کتابت کرواورجوصفحات میں نے پھاڑ دیئے ہیں تمھیں اس کی اجرت ملے گی۔ اس نفاست کے ساتھ رسالہ نکالنا اب خواب معلوم ہوتاہے۔ مین رانے خودکوکبھی ایک ناقد کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔ اگروہ چاہتے توباضابطہ تنقید یں لکھ سکتے تھے لیکن ان کے چندمضامین سے ان کے ادبی موقف کاپتہ چلتاہے۔ اس وقت شعور کے دواداریے میرے پیش نظرہیں۔جوافق کے عنوان سے چھپے تھے۔ مارچ 1978کے شمارے میں ’’افق‘‘ کاپہلا جملہ ہے:
’’
دوغلہ پن بڑاغیرادبی لفظ ہے‘‘
اس اداریے کوپڑھ کرمدیرکے غم وغصہ کاندازہ کیاجاسکتاہے۔ان افکار کے پیچھے اس عہد کی وہ ادبی صورت حال ہے جس نے کرپشن کابازار گرم کررکھاہے۔ آدمی وقتی اورمعمولی مفاد کے لیے اپنے فن اورادب کاسوداکرکے دسترخوان سجانے لگتاہے۔’لفظ دوغلہ پن‘کومین رانے مکاری ،فریب، منافقت ضمیر فروشی جیسی خرابیوں کے تناظرمیں استعمال کیاہے۔ یہ جملے بھی دیکھیے:
’’
دوغلہ پن جوہمارے عہد کی سماجی خصوصیت ہے ہماری دانشورانہ زندگی کی خصوصیت بھی ہے۔ اس لیے آج کی صورت حال کوسمجھنے کے لیے عصری ادب اورعصری ادیبوں کی اس خصوصیت کاتجزیہ ضروری ہے‘‘ 
مین رانے اپنے دورکی دانشورانہ زندگی کودوغلہ پن سے تعبیر کیاہے۔بظاہر یہ بات سخت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن لکھنے والے کے اپنے تجربات اورمشاہدات بھی رہے ہوں گے۔ اس نے اپنے عہد کی دانشورانہ زندگی کوبہت قریب سے دیکھاہوگا،اگرزندگی میںیہ خرابیاں پیدا ہوجائیں توادب بھی ان خرابیوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ممکن ہے یہ بات ذہن میں آئے کہ خرابیوں کے ذکرسے خرابیاں ختم نہیں ہوسکتیں،لہٰذزندگی کے روشن پہلوؤں کوسامنے لاناچاہیے۔ اصل میں معاملہ روشن پہلوؤں کونظراندازکرنے کانہیں بلکہ حقیقت بیانی کاہے۔کیایہ سچ نہیں کہ مین راکے ان جملوں کے آئینے میں ہماراچہرہ شرمندہ ہوتاہے۔ ہمارامعاشرہ جن غیرعلمی وادبی بنیادوں پراستوارہے اورعزت ومقام حاصل کرنے کے لیے آج جوترکیبیں استعمال کی جارہی ہیں انھیں دیکھ کرادب کے سنجیدہ طالب علم کاپریشان ہونافطری ہے۔ وہ لوگ جومطالعے پریقین رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے بڑی طاقت علم کی ہے،وہ اپنے ضمیر کاسودانہیں کرسکتے ۔علم جہاں ایک طرف انسان کے اندرعلم کی پیاس بڑھاکراس میں انکساری پیداکرتاہے وہیں دوسری طرف خود اعتمادی اور خودی کااحساس بھی بیدارکرتاہے۔ شکیب جلالی نے کہاتھا:
کیا شاخِ باثمر ہے جو تکتاہے فرش کو
نظریں اٹھا شکیبؔ ذرا سامنے بھی دیکھ
لیکن اپنی خلوت میں علم وادب کاچراغ روشن کرنے والاجب باہرکی دنیا کودیکھتاہے تواس کے عزائم میں کمزوری پیداہوتی ہے۔حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں اوراس کی نظرکتابوں کے نقوش سے ہٹ کرچہروں پرچلی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ علمی وادبی دیوانگی کی داد کون دے،جب پورامعاشرہ اس کرپشن کی زد میں ہو۔بلراج مین راکادکھ دراصل اپنی ذات سے کہیں زیادہ زبان وادب کاہے۔ حساس بے باک اورباغی انسان ہمیشہ دنیوی اعتبارسے نقصان میں رہاہے۔ذہانت وفنکاری کے باوجوداسے فائدہ اٹھانے کاسلیقہ نہیں وہ خاموش اس لیے نہیں رہ سکتاکہ یہ آواز اس کے ضمیرکی ہے۔ اسے اس کی پرواہ نہیں کہ بے باکی اوربغاوت سے اس کوجوانعام مل سکتاتھاوہ اس سے چھین لیاجائے گا۔لیکن یہ خوف تواس شخص کوہوگاجس نے کبھی یہ سوچاہو کہ ہمیں انعام واکرام حاصل کرناہے اورمحفل میں اپنے لیے صدرکی جگہ محفوظ کرنی ہے وہ اسی اداریے میں لکھتے ہیں:
’’
دوغلہ پن اس دورکابہت ہی منافع بخش کاروبار ہے اوراس کے سب سے بڑے کاروباری ان اداروں میں رینگ رہے ہیں جہاں دانشوری کے نام پرمیڈیوکریسی کابازار گرم ہے۔۔۔
فن کاراپنی شخصیت کے نقوش کوابھارنے کے لیے اپنی پہچان پرزوردیتے ہیں وہ اپنی پہچان کودانشورانہ انفرادیت بھی کہتے ہیں۔اگرپچھلے چندبرسوں کی تحریروں کاتجزیہ کیاجائے اور ادیبوں کواپنے دعووں کی روشنی میں ہرمنفرد شخصیت کے خدو خال کودیکھاجائے تومعلوم ہوگاکہ انفرادیتیں ایک دوسرے میں ضم ہوتی جارہی ہیں اس انضمام کی مشترکہ قدروہی ہے جس کا اظہار اسی لفظ سے ہواہے۔ جواس تحریر کا پہلالفظ ہے۔کتنی عجیب بات ہے ایک غیرادبی لفظ سے ایک ادبی شخصیت کاتعین ہوتاہے‘‘
اس اقتباس سے کیایہ نہیں لگتاکہ ہم ایک ایسے مقام پرآگئے ہیں جہاں ہرطرح کاامتیاز ختم ہوچکاہے۔ بقول وحیداختر:
ایک حمام میں تبدیل ہوئی ہے دنیا
سب ہی ننگے ہیں کسے دیکھ کے شرماؤں میں
مندرجہ بالاتحریرمیں ایک فنکاراورادبی صحافی کادکھ شامل ہے۔وہ سوچتاہے کہ فنکارمصلحت پسنداور منافق نہیں ہوتا،وہ زمانے کے ساتھ سازبازنہیں کرسکتا۔اگرایک فنکاربھی ایساکرنے لگے توزندگی اورتہذیب کاشیرازہ بکھرجائے۔مین راباربارسماج اورزندگی کے حوالے دیتے ہیں اورفن میں سماج کے گہرے رشتے کی بات کرتے ہیں۔وہ فن کاروں کے لیے چنداصولوں کی پاس داری ضروری سمجھتے ہیں۔زندگی اورسماج پراتنازوردینے والے افسانہ نگار کوجدیدیت کے افسانے کاٹرینڈ سیٹراورنمائندہ کہاجاتاہے۔ بعض حضرات جدیدیت کے لیے سماج اورزندگی جیسے بامعنی الفاظ کوشجر ممنوعہ سمجھتے اورکہتے رہے ہیں۔ایسی صورت میں بلراج مین راکی یہ تحریر اس بات کوجھٹلاتی ہے کہ جدیدیت کامطلب زندگی اورسماج سے گریز ہے۔مین راکامسئلہ نہ توترقی پسندی ہے اورنہ جدیدیت ، بلکہ مین راکا مسئلہ زندگی کے ساتھ ایک ادیب کاکمٹ منٹ ہے۔ زندگی جیسی ہے وہی حقیقت ہے۔ اس حقیقت کی پیش کش میں تخلیق کارکااپناتجربہ اورمشاہدہ اہم کرداراداکرتاہے۔ ایک دوسرے اداریے میں جس کاعنوان بھی ’’افق‘‘ ہے، میں مین رالکھتے ہیں:
’’
انھوں نے مفاد پرستی کے بہت سے پنجرے بنارکھے ہیں جوکھلی ہوا میں غیرمرئی تاروں سے لٹک رہے ہیں پنجرے بھی غیرمرئی ہیں۔ ان پنجروں میں الیوژن کے طوطے اپنی رٹ لگاتے رہتے ہیں ان میں سے کچھ طوطے جدید ادب کی بات کرتے ہیں کچھ ترقی پسند ادب کی۔ کبھی کبھی وہ جدید ادب کی بات کرتے ہیں ترقی پسندکی بات کرتے ہیں۔کبھی کبھی اس کاالٹ بھی ہوتاہے۔ اورکچھ لوگ سرکاری نغموں کی مددسے اس عہد کے مزاج اورضمیر کی بات کرتے ہیں۔تماشہ بڑاپرفریب ہے‘‘
مین رانے یہ بات کم وبیش بیس بائیس سال پہلے لکھی تھی۔ مگراس کی معنویت میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ہرشخص موقع کی نزاکت سے اپنی ترجیحات بدل دیتاہے۔کسی نظریہ پراگرایمان ہی نہ ہوتوایسے شخص کاہواکے رخ پر چلناحیرت کی بات نہیں۔وہ لوگ زیادہ قابل قدرہیں جوسب کوپڑھتے ہیں۔سب کی سنتے ہیں لیکن اپنے بنیادی موقف سے دورنہیں جاتے۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب کسی نظریے کودیکھادیکھی میں نہیں بلکہ مطالعے کے بعدقبول کیاگیاہو۔ بلراج مین راکی تحریروں سے ایک ترقی پسنداورباغی فنکارکی تصویرسامنے آتی ہے۔ علی گڑھ کے فکشن سیمینارمیں مین رانے’’تنبولا‘‘کے عنوان سے ایک مضمون پڑھاتھا۔شمیم حنفی صاحب نے لکھاہے کہ مین راجب یہ مضمون پڑھ رہے تھے احتشام حسین جیسا متین نقاد بھی تالی بجارہاتھا۔ تنبولا سے ایک اقتباس ملاحضہ کیجئے:
’’
جدیدیت جسے ایک رجحان کہاجاتاہے نہ توتقسیم وطن کے بعد کی کسی سماجی تحریک سے پھوٹا ہے اورنہ ہی یہ رجحان کوئی تحریک بن پایاہے۔ جوصورتِ حال کوسمجھنے اورسنوارنے کی ناکام یاکامیاب کوشش ہوتی۔جدیدیت کاآغاز چندایک حساس دکھی اوربرہم نوجوانوں کی تحریر تھی۔ ان چندلکھنے والوں کی برہمی جوغلط یاصحیح ہوسکتی ہے،سچی تھی۔ اس لیے نئی تحریر کامشکل اورخطرناک کام ہوتارہا۔ آخرکاروہی ہوا جوترقی پسندتحریک کے ساتھ ہواتھا۔مفاد پرست قریب آئے گھل مل بیٹھے اور پھر جلد ہی وہ وقت آگیاجب نئی نسل کی برہمی کااظہار جوایک مثبت قدرہے ایک بے ہنگم ، بے رخ شورمیں گم ہوگیا‘‘
مین راجدیدیت کوچندبرہم اوردکھی نوجوانوں کی تحریر کہتے ہیں اوراسے وہ کسی سماجی تحریک کی پیداوار نہیں سمجھتے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ جدیدیت کابنیادی اورفطری تعلق افراد کی نجی اورشخصی زندگی سے تھااوراسے پورے عہد کی عام زندگی سے وابستہ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔مین راجب جدیدیت کوچندنوجوانوں کی ذاتی رنجش کہتے ہیں تواس سے چندفنکاروں کی شخصی زندگی کی طرف ہماراذہن منتقل ہوجاتاہے۔ مین راکواس بات پربھی اصرارہے کہ ان نوجوانوں کی رنجش سچی تھی۔مگربعدمیں کچھ لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے اس کاغلط استعمال کیا۔میں نے مین راکی زبان سے اکثرناصرکاظمی اورخلیل الرحمن اعظمی کے یہ شعر سنے ہیں:
جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئی میری
ناصرکاظمی
میں شہید ظلمتِ شب سہی مری خاک کو یہی جستجو
کوئی روشنی، کوئی روشنی، کوئی روشنی، کوئی روشنی
خلیل الرحمن اعظمی
ناصرکاظمی اورخلیل الرحمن اعظمی نے نئی غزل کی تعمیر اورتشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے، جدیدیت اورنئی غزل کاکائی ذکران دونوں شاعروں کے بغیرمکمل نہیں ہوسکتا۔ایسی صورت میں بلراج مین را کا اگر ناصر کاظمی اور خلیل الرحمن اعظمی کو پڑھتے اور پسندکرتے ہیں تواس کی وجہ اس کے سوااورکچھ نہیں کہ ادب کو وہ ایک بڑے کینوس میں دیکھتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں کہ شعروادب کی سب سے بڑی طاقت تخلیقی حسیت اورسچائی ہے۔ آج جب کہ تنقیدکے مختلف زاویے موجودہیں اوران زاویوں کی روشنی میں ادب کی تشریح اورتجزیے کاکام جاری ہے۔اس کے باوجودایسے قارئین کی تعداد کم نہیں جن کے نزدیک ادب کامطالعہ خوش ذوقی کی علامت ہے،اورمشکل وقت میں دکھوں کامداوابھی۔ بلراج مین راادب کے بارے میں جس طرح سوچتے ہیں اسے آزادہ روی اورکشاذہنی کہنازیادہ مناسب ہے۔ آزادہ روی اورکشادہ ذہنی کسی فنکار کوبندھے ٹکے اصول کاپابندنہیں بناتی۔ باغیانہ اوربے باکانہ اندازفکرہرعہد کے اچھے فنکاروں کامقدررہاہے۔ لیکن اس بے باکی اوربغاوت کی وجہ سے ایک فن کارکاجونقصان ہوتاہے اس کازمانہ بہت قلیل ہے۔اگر کوئی فنکار نقصان کایہ قلیل زمانہ تحمل کے ساتھ گذارلے توآنے والا وقت اسی کاہوتاہے۔اس عرصے میں وقت یہ فیصلہ کردیتاہے کہ کس تحریر میں زندگی باقی ہے اورکس تحریر کو وقت کے ساتھ اپنی بساط سمیٹ لینی ہے۔سب سے بڑی طاقت توتحریر میں ہوتی ہے۔ مین راکاغم وغصہ ہراس شخص نے برداشت کیاہے جسے مین راکی کہانیاں پسند ہیں اورجومین راکی بے باکی اوراصول پسندی کوقدرکی نگاہ سے دیکھتاہے۔ شخصیت اورفن کامعاملہ بعض اوقات گریز کابھی ہوتاہے اورہم آہنگی کابھی۔ممکن ہے کچھ لوگ مین راکی بے باکی اور بغاوت کو پسند نہ کرتے ہوں لیکن انھیں مین راکی کہانیاں اچھی لگتی ہوں۔بعض اوقات ایک اچھا اور بڑا افسانہ نگار اپنی بے باکی کی وجہ سے نظرانداز ہوجاتاہے۔اس لیے کہ ادبی سماج ہماری مرضی کے مطابق قائم نہیں ہوسکتا۔ اگرمین راکوادب کاکوئی بڑاانعام نہیں ملاتواس سے مین راکی فنی خوبیوں پر کوئی حرف نہیں آتا۔یہ ضرور ہے کہ ایسے فنکاروں کے تئیں ہم پرکچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔مین راسے مختلف ملاقاتوں میں مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہواکہ وہ کسی انعام واکرام کے خواہش مندہیں۔مین رااپنی فن کارانہ مہارت اورچابک دستی کے باوجود دنیادارآدمی نہیں۔ وہ علمی و ادبی معاشرے کی تمام دھڑلّے بازیوں سے واقف ہے مگر اپنی دنیامیں قانع اورخوش ہے۔ مین راکی زبان سے اکثرمیں نے سناکہ ادبی منظرنامہ شرم ناک ہے۔ ایک شخص اپنے کمرے میں بیٹھ کراگریہ کہتاہے تواس سے ادبی منظرنامہ تبدیل نہیں ہوگا۔ لیکن اس سے ایک حساس فنکارکی بے بسی کااندازہ توکیاہی جاسکتاہے۔اگرمیں نے اردو کی ادبی شخصیات میں مین راکے منہ سے سب سے زیادہ احترام اورعزت سے کسی کانام لیتے سناتووہ خلیل الرحمن اعظمی ہیں۔اورمین راکے دومعاصرافسانہ نگار انورسجاد اور سریندرپرکاش سے مین راکے گہرے تعلقات رہے ہیں۔ان دونوں نے اپنی ایک ایک کتاب مین راکے نام معنون کی ہے۔ایک بات بڑی معنی خیز ہے کہ تخلیقی فنکار معاصرانہ چشمک کے باوجوددوسرے فنکار کی قدرکرتے ہیں۔اس کی وجہ وہی سچاتخلیقی جذبہ ہے جوفن کارکودنیاکاآلائشوں سے پاک رکھتاہے۔ دوسچے فنکاروں کے اس رشتے کودردکارشتہ بھی کہاجاسکتاہے۔ لیکن ناقدین کامسئلہ مختلف ہے۔ مین راکے تمام اچھے اوربڑے معاصرافسانہ نگاروں نے مین راکوہمیشہ اپنے اوپرفوقیت دی ہے۔ مین رانے معاصرافسانہ نگاروں کی بعض بڑی کہانیوں کوپہلی مرتبہ’’شعور‘‘میں بڑے اہتمام سے شائع کیا۔انھوں نے ایک گفتگوکے دوران مجھے بتایاکہ پاکستان کی ایک نوجوان شاعرہ سارہ شگفتہ ہندوستان آئیں توواپسی پروہ انھیں ایئر پورٹ چھوڑنے گئے۔ ان دنوں انورسجاد کے ماموں ہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمشنرتھے۔ انورسجاد کئی بارمین راسے کہہ چکے تھے کہ تم دہلی میں رہتے ہواورمیرے ماموں سے ملاقات نہیں کرتے۔اُن دنوں انورسجاد پاکستان کے ایک جیل میں قید تھے۔مین راکی ملاقات جب انورسجاد کے ماموں سے ہوئی توانھوں نے سارہ شگفتہ کاتعارف کرایاکہ یہ آپ کے ملک کی شاعرہ ہیں۔ انورسجاد کے ماموں نے مین را سے کہا کہ تم انورسجاد کوسمجھاؤ وہ حکومت کے خلاف لکھتاہے اورمیں اس کے لیے کچھ نہیں کرپاتا، کیاآپ کی نظرمیں انورسجاد ٹھیک کرتاہے۔ مین رانے جواب دیاانورسجادوہی لکھتاہے جواسے لکھناچاہئے۔ ان کے ماموں کاجواب تھاکہ آپ رائٹرلوگ ایک ہی جیسے ہیں ۔مین راکے نزدیک نئی کہانی کامطلب سیاسی وسماجی صورت حال سے بے تعلق ہوجانانہیں۔پچھلے سطورمیں ان کے مضمون’ تنبولا‘کاذکرآچکاہے اس مضمون کے لکھتے وقت دوطرح کے لوگ مین راکے پیش نظرتھے،ایک وہ سماجی وابستگی اورسماجی مسائل جیسے الفاظ سے خود کوترقی پسند کہلانا کافی سمجھتے تھے۔ اوردوسرے وہ لوگ تھے جنھیں سماجی وابستگی سے خواہ مخواہ کی الرجی تھی۔ اس مضمون میں مین رانے لکھاہے:
’’
ویتنام جینے کااسلوب ہے ویتنام جینے کی آدرش صورت ہے، ویتنام جدیدیت ہے ویتنام آزادی ہے‘‘
مین رانے جدیدیت کوجس انقلابی اورباغیانہ مزاج کے تناظرمیں دیکھاہے وہ ہمیں نئے سرے سے غوروفکرکی دعوت دیتاہے۔سیاست کوادب سے باہرکرنے یاسمجھنے کی غلطی اس شخص سے نہیں ہوسکتی جوسماج کاایک حساس اوردردمنددل رکھنے والافنکارہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان قوتوں سے غافل ہوجائیں جن کے ظلم وستم کے سائے میں ایک عام انسان جی رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت سے متاثراچھے ادیبوں اورشاعروں کے یہاں اپنے عہدکی سیاسی اورسماجی صورت حال کااظہار بڑے دل کش انداز میں ہواہے۔ اس مضمون میں مین رانے انورسجاد کے ایک خط کاحوالہ دیاہے جس میں انھوں نے مین راکولکھاہے کہ لوگ سیاست اورادب کوالگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے ہیں لیکن اس میں مین راتمہاراکوئی حصہ نہیں۔کیونکہ میں تمھیں تمہاری کہانیوں کے حوالے سے بھی جانتاہوں۔ دیکھئے جدیدیت کاایک اہم افسانہ نگارادب میں سیاست کی وکالت کرتاہے اوروہ مین راکی کہانیوں کواس لیے پسندکرتاہے کہ اس کے یہاں سیاسی شعور موجودہے۔
بلراج مین رانے اپنی بے باکی اورگرم گفتاری سے ترقی پسندوں اورجدیدیوں دونوں کی ناراضگی کاخطرہ مول لیا۔مین راکومعلوم تھاکہ اس بے باکی کی قیمت کئی طرح سے اداکرنی پڑے گی، سواس نے ا س قیمت کی ادائیگی میں بھی بڑی خندہ پیشانی کاثبوت پیش کیا۔ مین راکی ذہانت اورتخلیقی بصیرت سے کسی کوانکار نہیں ہوسکتا۔وہ اگرچاہتے تو،میٹھی میٹھی باتوں سے بہی خواہوں اورہاں میں ہاں ملانے والوں کاایک حلقہ بناسکتے تھے۔ لیکن مین رانے ایساکچھ نہیں کیا۔جن لوگوں نے مین راکوبرداشت کیاہے تواس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مین راایک اچھافن کاراورسچاانسان ہے۔کھری اورسچی باتیں وقتی طورپرکسی کوناراض کرسکتی ہیں مگران سچی باتوں کی دائمی طاقت فن کارکی شخصیت کوزیادہ توانااورپرکشش بنادیتی ہیں۔اگرہم تھوڑی دیر کے لیے مین راکی شخصیت کے بارے میں سوچیں تومین راکی آوازکانوں میں صاف سنائی دے گی جس میں تیزی بھی ہوگی اورترشی بھی۔ مین راکی آوازکوہم اس لیے سننانہیں چاہتے کہ وہ سماعتوں میں رس نہیں گھولتی۔مین رانے اپنی فعالیت کے زمانے میں ادبی فضا(خصوصاًدہلی کی ادبی فضا)میں حرکت وحرارت پیداکردی تھی۔ اس فعالیت کامقصداپنی علمیت اورذہانت کامظاہرہ کرنانہیں تھا بلکہ ادب کوایک خاص رخ عطاکرنے کی کوشش تھی۔ آج پہلے سے کہیں زیادہ ادبی جلسے اور مذاکرے ہورہے ہیں،شعروادب کے نام پرچھپنے والی کتابوں کی تعدادبھی مستقل بڑھتی جارہی ہے،اس کے باوجودجمود کی کیفیت طاری ہے۔ اس کی وجہ اورکچھ نہیں کہ ہم مصلحتوں کے شکار ہوچکے ہیں،ہم وہی باتیں لکھنااوربولنا چاہتے ہیں جن سے ہمارے مفادات پرکوئی حرف نہ آئے۔چنانچہ علمی وادبی سرگرمیاں سچائیوں سے خالی ہوتی جارہی ہیں۔ ادبی معاشرے کی خرابیوں کاتعلق مال وزرسے نہیں بلکہ انسانی جذبات اوراحساسات سے ہے لہٰذ اجذبات واحساسات کی صداقت کے بغیر صحت مند اور دیر پا ادب وجود میں نہیںآسکتا۔نجات کاراستہ اگرخاموشی اور غیرجانب داری بن جائے توپھرمعاشرہ ذہنی اورفکری طور پرمفلس وقلاش ہوجاتاہے۔
احتجاج کامزاج جیسے جیسے ختم ہوتاجارہاہے ہماری فکری دنیا میں جمودکی کیفیت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ علمی اورادبی شخصیت کامطلب یہ نہیں کہ عوامی زندگی سے فاصلہ قائم کرکے اشرافیہ زندگی گزاری جائے۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کرلکھی جانے والی شاعری اورکہانی زندگی کی کڑی دھوپ سے اگربے تعلق ہے توایساادب بہت دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ اب ایسے خواض کی تعداد رفتہ رفتہ کم ہورہی ہے جنھیں زندگی کے عام تماشوں سے دلچسپی ہو۔ادب اگرہمیں بزدل اورمصلحت پسندبناتاہے تویہ ادب اورسماج دونوں کے لیے افسوس ناک ہے۔ یہ باتیں اس لیے پریشان کرتی ہیں کہ آج ہمارے ادبی معاشرے کومین راجیسے فن کارکی ضرورت ہے۔ ادب اورسماج کے تعلق سے ہمیشہ چند ایسے دیوانے رہے ہیں جنھوں نے تعصّبات اورمصلحتوں سے بلندہوکرسچ کوسچ کہاہے۔ایسے بے باک اورباغی فن کاروں کے دم سے ہی صحت مندادب اورایک اچھاادبی معاشرہ وجودمیں آتاہے۔مین رانے بھری محفل میں اپنے وقت کے بعض اہم ادیبوں سے اختلاف کیاہے۔یہ تمام باتیں مین راکے حوالے سے تاریخ کاحصہ بن چکی ہیں لوگ شایدبھولتے جارہے ہیں کہ ہمارے یہاں ایک ایساباغی صحافی اورافسانہ نگاربھی ہواتھا۔لیکن مین راکووہ نسل نہیں بھول سکتی جومین راکی خاموشی کے بعدسامنے آئی ہے۔ اس نسل کویہ نہیں معلوم اورنہ اسے اس بات کی پرواہ ہے کہ مین راکے حق میں کوئی بات جاتی ہے یااس کے خلاف ۔ اس لیے کہ اب مین راسے کسی کاکوئی مفادوابستہ نہیں ہے اورنہ ہی وہ اپنی آوازکی ترشی سے کسی کادل دکھاسکتاہے۔ لہٰذامین رامیں نئی نسل کی دلچسپی فائدے اورنقصان سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی ۔ترقی پسندی اورجدیدیت کے شورمیں مین رانے کھوکھلی ترقی پسندی اورجدیدیت دونوں سے خود کو اور اپنے زمانے کوبچانے کی کوشش کی۔ مین را جدیدیت کاایک نمائندہ افسانہ نگارکہاجاتاہے مگر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسے گرامچی جیسے ترقی پسندسے جذباتی لگاؤ تھاجسے مسولینی کی فاشٹ طاقت نے 8نومبر 1926 کو گرفتار کرکے قیدخانے میں ڈال دیاتھا۔وہ گرامچی کی دس سالہ قیدوبندکی زندگی کوقدرکی نگاہ سے دیکھتاہے۔گرامچی کے ذکرسے مین راکاجذباتی ہونااس بات کی علامت ہے کہ مین را دنیابھرکے ان باغیوں اورجیالوں کے دکھ دردکونہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ مقدور بھراپنے باغی اورجیالے ہونے کاثبوت بھی پیش کیا ہے۔ اردومیں پہلی مرتبہ بلراج مین را ہی نے اپنے رسالہ ’شعور‘میں گرامچی پرایک گوشہ ترتیب دیاتھا۔مین راڈارائنگ روم کانقاد یاافسانہ نگارنہیں ہے۔مین را ٹریڈ یونین کا ممبر رہا ہے اس نے سیاسی جلسوں میں شرکت کی ہے، اس کی ایک آواز پرایک زمانے میں ہڑتالیں ہوجایاکرتی تھیں۔ مین راکاخیال ہے کہ ادبی ماحول کوخراب کرنے اورزندگی کومجہول اورناکارہ بنانے میں ادبی جلسوں اورمحفلوں نے بھی حصہ لیاہے۔ مین راادبی جلسوں کامخالف نہیں وہ اس علمی تہذیب کامخالف ہے جوادیب وشاعر میں تشخص کااحساس پیدا کرکے اسے عام زندگی سے بلند کر دے۔ اس تشخص کے سبب گفتار اور رفتار میں ایک نزاکت پید اہوجاتی ہے۔مین راکااصرارہے کہ عملی زندگی سے گہری دلچسپی کے بغیر کوئی فن کاراچھا فن کارنہیں ہوسکتا۔ خواب پرستی کامطلب یہ نہیں کہ ہم زمین گیرہوجائیں ۔یہی وجہ ہے کہ مین رااوران کے چنددوستوں کے بارے میں مشہورتھاکہ یہ لوگ جس محفل میں ہوں گے وہاں ہنگامہ ہونالازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مین راکسی محفل کوخواہ مخواہ درہم برہم کرناچاہتے تھے،بلکہ بات یہ ہے کہ مین را فضول اورفرضی باتوں کوبرداشت نہیں کرسکتے تھے۔ یہ عین ممکن ہے کہ مین راجن باتوں کوفضول بتاتے یاسمجھتے ہیں وہ اوروں کے نزدیک فضول نہ ہوں۔مین رانے مجھے بتایاکہ دہلی میں فراق گورکھپوری کی مخالفت اوران کی مذمت کرنے کے لیے ترقی پسندوں کاایک جلسہ ہورہاتھا،میں بھی وہاں موجودتھا۔خواجہ احمدعباس، فراق کے بارے میں عجیب وغریب باتیں کہہ رہے تھے اورجلسے میں موجودتمام لوگ دلچسپی کے ساتھ عباس صاحب کی تقریر سن رہے تھے۔ مجھے یہ بات خراب معلوم ہوئی کہ ایک شخص کی مذمت کے لیے اتنے لوگوں کوبلاکرکیوں وقت ضائع کیاجارہاہے۔جبکہ مخالفت کی کوئی علمی یااخلاقی بنیادبھی نہیں۔لہٰذامیں نے بھری محفل میں کہہ دیاکہ بکواس بندکیجیے۔ مین راکایہ کہناکہ بکواس بند کیجیے فراق کی حمایت نہیں بلکہ یہ جملہ ایک غلط روش کے خلاف تھا۔اگرمخالفت کرنی ہے توزندگی کی اعلی قدروں اورسچائیوں کے حوالے سے مخالفت کیجیے ۔یہ بات مین رانے بتائی کہ دہلی کے ایک مشاعرے میں اخترالایمان بھی آئے تھے مجھے بھی دوستوں نے پکڑکرمشاعرہ گاہ تک پہنچادیااس وقت تک ’شعور‘کاپہلاشمارہ آچکاتھا۔ ایم۔ایف۔ حسین نے مین راسے کہاکہ سناہے آپ ’شعور‘میں پینٹنگ شائع کر رہے ہیں اورآپ نے مجھ سے کوئی فرمائش نہیں کی۔مین رانے برجستہ کہاکہ حسین صاحب آپ توایمرجنسی میں اندراگاندھی کی حمایت کررہے تھے، اور اندرا کو درگا بناکرپیش کررہے تھے۔میں آپ سے پینٹنگ کی فرمائش کس طرح کرسکتاہوں۔اس لیے غلط باتوں کی حمایت کرنازندگی اورادب دونوں کوخراب کرناہے۔بہرحال مین رانے’شعور‘کاپہلاشمارہ انھیں دے دیا۔کچھ اور آگے بڑھے تو سردارجعفری مل گئے ان کے نام بھی انھوں نے ’شعور‘کاشمارہ یہ لکھ کربڑھایا کہ آپ اردو میں ایسا رسالہ نکالنے کاارادہ بھی کرسکتے ہیں۔اس مشاعرے کے بارے میں مین رانے بتایاکہ لوگ اخترالایمان سے نظم’ایک لڑکا‘کی فرمائش کررہے تھے۔اخترالایمان نے نظم’ایک لڑکا‘توسنادی مگر نظم زیادہ ترلوگوں کے لیے اجنبی بن گئی۔مین رانے بعدمیں اخترالایمان سے کہاکہ جناب آپ کی جس نظم پرمیں نے اپنے ۳۵سال خراب کیے اس نظم کاآپ نے دومنٹ میں ستیاناس کردیا۔ مین رانے اپنے مزاج سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، جو بات بری معلوم ہوئی اس کااظہار بر وقت کیا۔میں را نے ایک واقعہ سنایاکہ خواجہ احمدفاروقی دہلی یونیورسٹی میں جدیدادب پرلیکچردینے والے تھے۔ مین را،محمودہاشمی کے ساتھ اس ہال میں پہنچے جہاں خواجہ احمد کا لیکچر تھا۔ اسی درمیان میں ایک صاحب محمودہاشمی اورمین راکے پاس آئے اوربڑی سنجیدگی سے کہاکہ اس لکچر کا اہتمام صرف یہاں کے طالب علموں کے لیے کیاگیاہے۔ مین راکوغصہ آگیا۔مین راہال سے باہرآئے کاغذ پر ایک سخت جملہ لکھااوراندرجاکرفاروقی صاحب کے حوالے کیاکہ حضوراسے پڑھ کرسنادیجیے۔ ایسے واقعات کی فہرست لمبی ہوجائے گی مجھے صرف اس جانب اشارا کرناتھاکہ ادب میں جمودکاتعلق بڑی حدتک مصلحتوں اور چال بازیوں سے ہے۔مین راکے نزدیک کتابوں کا زیادہ چھپنااس بات کی علامت نہیں کہ ادب پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے یاادب اپنے منصب پرفائز ہے۔جمود کو توڑنے کے لیے ہمیشہ کچھ ایسے اشخاص کی ضرورت رہی ہے جومصلحتوں سے بلندہوتے ہیں۔ مین ر اکے ان رویوں سے بظاہرتویہی لگتا ہے کہ ان کی شخصیت میں بردباری اورخوے دل نوازی نہیں ہوگی۔لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہ عام زندگی میں جتنا دل دار اوربااخلاق ہے اس کی مثال بھی مشکل سے ملے گی۔ سوچتاہو ں توحیرت ہوتی ہے کہ جب یہ شخص عملی اعتبار سے فعال ہوگاتواس وقت کی ادبی صورت حال کس قدرکاہنگامہ خیز رہی ہوگی۔مین را کی ایک تحریر’تنبولا‘ کایہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’
غیرجانب داری، بے عملی اورماضی پرستی حکومت کے بڑے کام آتی ہے اورجب دانشوربھی اس مرض میں مبتلا ہوجاتاہے،تب حکمراں چین کی نیند سوتاہے‘‘
غیرجانبداری،بے عملی اورماضی پرستی کی مخالفت کرنے والے ادیب سے زیادہ ترقی پسندکون ہوسکتاہے۔یہ مخالفت صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملی بھی تھی۔ مین راکی اس تحریر کوسامنے رکھئے توترقی پسند شاعروں کی زندگی اورشاعری دونوں کی قدروقیمت میں اضافہ ہوجاتاہے۔اس سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ ترقی پسندی کاتعلق کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہوکر کام کرنا نہیں،بلکہ یہ توزندگی کاایک آدرش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مین رانے اپنے بعض ترقی پسنددوستوں کوسمجھایا کہ آپ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاکرترقی پسند نہیں ہوسکتے۔حکومت کوغیرجانب داری بے عملی اورماضی پرستی کیوں کرراس آتی ہے؟اس بارے میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ایک عام آدمی بھی اس حقیقت سے واقف ہے کہ حکومت کی پناہ میں جانے کامطلب ہے آسائشوں کوحاصل کرنااورساتھ ہی اپنے ضمیرکومردہ کرنا۔چنانچہ ایسااس دورمیں بھی ہورہاہے۔ مین رانے ادیبوں اورشاعروں کووقت اورحالات سے صرف باخبررہناضروری قرارنہیں دیابلکہ اس کواپنی تخلیق کاحصہ بنانے کی ضرورت پربھی زوردیاہے۔وہ مضمون’تنبولا‘میں لکھتے ہیں:
’’
مجھے محسوس ہوتاہے کہ اردوکے بیشترجدید ادیب نہ جی رہے ہیں،نہ ادب لکھ رہے ہیں بلکہ تنبولاکھیل رہے ہیں۔تنبولابناکسی Riskکے بڑے نفع بخش Light refreshment اورEntertainment ہے اورجدید اردوادب کے Creative processکامکمل اظہارہے۔‘‘
’’
ایک بھونپو بجے چلا جا رہا ہے اور دھڑادھڑ جدید افسانے نکلتے آ رہے ہیں۔ انقلابی عمل سے سجے ہوئے الفاظ عمل کے بغیر اندرسے کھوکھلے ہوتے ہیں۔جن کانہ توسماجی مسائل کے اقتصادی پہلوؤں سے کوئی تعلق ہے اورنہ عصری تاریخ کے تیز وتندعوامی بہاؤسے۔یہ بھونپوکیاہے؟یہ وہی بھونپوہے جوانقلابی عمل سے سجے ہوئے الفاظ کواشتہاربازی کے لیے استعمال کرتاہے، جو ادب میں چھپ کرنئی نسل کو ورغلاتاہے،جوادب کے غیرادبی معیارکانعرہ لگاکرسماج کی Contradictions سے ہماری نظریں ہٹانے کی کوشش کرتاہے،جوزندگی اورادب کومختلف خانے سمجھتاہے اوراس کاپرچارکرتاہے اوریوں عمل اورتخلیق کوالگ کرنے کی سازش میں شریک ہے۔کیاایسی کسی تحریک یارجحان سے انورسجاد سے افسانہ نگاکوکوئی سمبندھ ہوسکتاہے۔‘‘
میں نے مین راکی سماجی وابستگی اوراس کی باغیانہ فکرکے تعلق سے جوکچھ لکھاہے اس کی تصدیق مین را کے مندرجہ بالااقتباس سے بھی ہوتی ہے۔ مین را کے فن اورشخصیت پرلکھنے والوں کی نظرمیں اگرمین راکی یہ تحریر’تنبولا‘ہوتی تومین راکی کہانیوں کے ساتھ زیادہ بہترطورپرانصاف کیاجاسکتاتھا۔وہ ان تمام لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں جواپنے مفاد کے لیے عوامی نعرے لگاتے ہیں۔یہ سب کچھ وہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی سماجی وابستگی لوگوں پرعیاں ہوجائے۔لفظ اورعمل کارشتہ جب کمزورہوتاہے توادب میں زندگی باقی نہیں رہتی۔ادب کی تخلیق کامقصدوقت گزاری اوردل بہلانانہیں۔چاہے ادب کی ادبیت پرجتنابھی اصرار کیا جائے مگرادب اورزندگی کے گہرے رشتے کوکبھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ بلراج مین رالکھتے ہیں:
’’
ایک شہری جوقلی ہے اورایک شہری جوافسانہ نگارہے دونوں میں کیا فرق ہے؟یہی ناکہ افسانہ نگار علم کے میدان میں قلی سے آگے ہے۔ اسی لیے افسانہ نگار کی ذمہ داری کہیں زیادہ ہے۔ اسے تمام سماجی مسائل کی تفتیش کرناہوگی۔سماجی برائیوں اورامراض کی تہ تک جاناہوگااورہرعوامی مسئلے پرایک مضبوط اسٹینڈبھی لینا ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ بہت سارے معصوم ادیب Planted ادیبوں جویقیناذہین ہوتے ہیں ،کے جال میں پھنس کرمسائل کوسہل کرنے کی گُربازی میں مسائل ہی کوجھٹلادیتے ہیں اوریوں نادانستہ طورپرعوام دشمن عناصر کاساتھ دیتے ہیں۔‘‘
ایک ادیب کی ذمہ داری صرف ادب کی تخلیق ہی نہیں بلکہ سماجی مسائل سے گہری دل چسپی بھی ہے، تاکہ وہ اپنی تخلیق میں ان مسائل کوتخلیقی سطح پربرت سکے۔ مین راکے نزدیک توجہ کامرکز خواص سے زیادہ عوام ہیں اس لیے کہ زندگی کے بیشترمسائل کاتعلق انھیں سے ہے ۔مین را کی تحریروں میں لفظ’عوام‘کے ساتھ جس ہمدردی کااظہار ہواہے وہ ان کی دردمندی کی ایک مثال ہے۔ مین راکے ان خیالات کے تناظر میں حسن عسکری کی یہ تحریرملاحظہ کیجیے:
’’
۳۶کے بعدسے ہمارے ادب میں ،جوتخلیقی لہرآئی اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ادیبوں نے اپنے ذہن کی فاعلی قوت سے کام لیا ۔ اور جو نظریہ بھی سامنے آیااس کی مددسے پوری زندگی کوسمجھنے کی کوشش کی۔ یہ نظریے اچھے تھے یابرے یہ کوشش طفلانہ تھی یاپختہ کارانہ تھی، اس سے بحث نہیں۔ مگر کوشش ضرورہوئی اورکسی نہ کسی حد تک پوری زندگی کوسمجھنے کی کوشش ہوئی۔ آج کل ترقی پسندوں کوپشیمانی ہے کہ اس زمانے میں ہم ہرنئے لکھنے والوں کوترقی پسندکہنے لگتے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کمیونسٹ پارٹی توترقی پسند تحریک کوہمیشہ سے اپنا آلۂ کار سمجھتی تھی اوراسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔لیکن ادیبوں کاذہنی تجسس اورتخلیقی لگن انھیں کسی پارٹی کے سانچوں میں نہ ٹھہرنے دیتی تھی۔جب ان دونوں چیزوں میں کمی آنے لگی اورجولوگ ادیب بن چکے تھے انھوں نے ادبی صلاحیت استعمال کیے بغیرادیب بنے رہناچاہا اور پھر نظریے زندگی کی تفتیش کاذریعہ نہ رہے۔ بلکہ انھوں نے زندگی کی جگہ لے لی۔ چنانچہ ان ادیبوں نے تودماغ سے کام لینا یوں چھوڑا۔باقی جو ادیب بچے ان میں سے زیادہ تراس نظریہ بازی سے اس قدر بیزار ہوئے کہ انھوں نے طے کرلیا کہ ہرقسم کے نظریوں سے دلچسپی ادب کے لیے مہلک ہے۔‘‘ 
حسن عسکری نے یہ مضمون ستمبر1952 میں لکھاتھا۔یہ دورہندوستان اورپاکستان کی سیاسی وسماجی تاریخ میں جمودکاتھا۔ملک کی آزادی اورتقسیم کے نتیجے میں جوزخم دلوں کولگے تھے وہ ابھی تازہ تھے۔ حسن عسکری نے ترقی پسندوں اوران کے متوازی میلانات رکھنے والے ادیبوں کے سلسلے میں جن خیالات کااظہار کیاہے اس کااطلاق ہمارے عہد کے ادیبوں پربھی ہوتاہے۔ حسن عسکری دونوں طبقوں سے اس لیے ناراض ہیں کہ انھوں نے ادب اورنظریے کے درمیان مفاہمت کی کوئی صورت نہیں نکالی۔ بلراج مین رانے ترقی پسندوں اورجدیدیوں پرجوحملے کیے تھے اس کے پیچھے بھی دراصل یہی فکرتھی۔جس کی طرف حسن عسکری نے اشارے کیے ہیں۔اس مضمون کوپڑھ کرایسامحسوس ہوتاہے کہ حسن عسکری اوربلراج مین راادب کے بنیادی مسائل کے تعلق سے ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔حسن عسکری لکھتے ہیں:
’’
نظریوں کواختیارکرناتوالگ رہانظریوں پرغورکرنے سے بھی انھیں عارآنے لگی یعنی انھوں نے اپنے ذہنی تجسس ہی کاگلاگھونٹ دیا۔پوری زندگی کوسمجھنے کی کوشش کرنے سے یوں ڈرنے لگے کہ کہیں کسی نظریے کا شکارنہ ہوجائیں۔اس کے بعدان کے پاس ایک ہی موضوع رہ جاتاہے یعنی ذاتی اورلمحاتی تاثرات۔‘‘ 
بلراج مین رانے اپنے رسالے ’شعورکے اداریے میں ان مسائل پرسیر حاصل گفتگو کی ہے۔اوراس حقیقت کی طرف اشارہ کیاہے کہ ادب سچائیوں سے گریز اختیارکرکے دیرپا نہیں بن سکتا، اورنظریات سے الگ رہ کرکوئی ادیب عصری ادیب نہیں ہوسکتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ نظریات سے بیزاری دراصل ایک طرح کافرارہے لیکن وہ نظریے کوکسی کی ہدایت کے طورپرقبول کرنانہیں چاہتے ۔مین راکے نزدیک اچھے ادب کامطلب زندگی کی کھری اورسچی باتوں کاتخلیقی اظہارہے۔
مین را نہ تومشرقیت پرزیادہ زوردیتے ہیں اورنہ مغربیت پر۔ وہ ادب کاایک عالمی اورآفاقی تصور رکھتے ہیں۔اس لیے کہ بڑاادب جغرافیائی حدودسے بلندہوتاہے۔مین رانے اپنی کہانیوں اوردوسری تحریروں میں جن مغربی مفکرین کے نام لیے ہیں ان سے عقیدت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ مفکرین مغربی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں،بلکہ ان کی زندگیوں میں آدرش موجودہے۔مین رالکھتے ہیں:
’’
ہم نے جس سماج میں آنکھ کھولی ہے اس سماج نے پیشتراس کے ہمیں اپنی سوج بوجھ کاعلم ہوہماری کھوپڑی میں ایک مخصوص مذہب اوردیومالا اور ان کے حوالے سے ایک ملک اوراس کی تاریخ کاساراکوڑابھردیا۔ اپنے آپ کواس بلاخیز عہد میں جینے کے قابل بنانے کے لیے پہلے ہمیں اپنی کھوپڑی صاف کرناپڑے گی۔ سماج اورفرد کی زندگی میں موجود تضادات کااحساس ،ان کی واضح پہچان اورپھران سے چھٹکاراپانے کی کوشش تخلیق کی جانب پہلا قدم ہے‘‘
اس اقتباس کی روشنی میں یہ سمجھناغلط ہوگاکہ مین راکسی خاص مذہب اودیومالاکے مخالف ہیں۔ مین راکامنشایہ ہے کہ ایک انسان آزادانہ طورپرسوچنے سے پہلے ہی مختلف قسم کی روایتوں میں الجھ کراپنے ذہن کو محدود کرلیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھرروشن خیالی کی باتیں اس کے ذہن کومتاثرنہیں کرتیں ۔مین راذہنی آزادی کی وکالت اس لیے بھی کرتے ہیں کہ وہ خودکسی مذہب کونہیں مانتے۔انھیں اس سے دلچسپی نہیں کہ کوئی انسان مذہبی ہے یاغیرمذہبی،ان کی دلچسپی صرف اس بات میں ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کوتعصب کی نظرسے نہ دیکھے۔ اپنی علمیت کامظاہرہ کرنے کے لیے کسی نظریے پر گفتگو کرنا مین راکے نزدیک فیشن کے سواکچھ اورنہیں۔
بعض حضرات مین راکی شخصیت میں ڈرامائی عناصرکی بات کرتے ہیں ان کاخیال ہے کہ مین راشخصی اعتبار سے ایک ڈراماہے۔ پہلی نظرمیں ان کی شخصیت کاہررنگ ان کابنیادی رنگ معلوم ہوتاہے لیکن ان کے مزاج کی سیمابیت انھیں دیرتک ایک رنگ پررہنے نہیں دیتی ۔یہ رنگ تبدیل کرنادراصل مین راکی شخصیت کاایک ایسارنگ ہے جس کی بنیاد مطالعہ مشاہدہ اورذہانت پرہے۔جس طرح مین راکی کہانی بے چین کرتی ہے اورآسانی سے گرفت میں نہیں آتی کچھ یہی حال مین راکی شخصیت کابھی ہے۔ مین رابے تکان گفتگوکرتے ہیں۔خیالات کادباؤانھیں ایک موضوع پربہت دیرتک ٹھہرنے نہیں دیتا۔عموماًایک فنکارکی دل چسپی اسی صنف میں ہوتی ہے جس میں وہ اپنے فن کااظہار کرتاہے۔ لیکن مین را کی دل چسپی کادائرہ کھیل، فلم، میڈیا غرض زندگی کے مختلف شعبوں تک پھیلا ہواہے۔ آج بھی وہ بڑے انہماک سے فٹ بال اورکرکٹ میچ دیکھتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے نام اوران کے ذریعے بننے والے ریکارڈس انھیں اچھی طرح یاد ہیں۔کھیل کی تما م باریکیاں وہ اس طرح بتاتے ہیں جیسے وہ کھیل کے میدان سے ابھی نکل کرآئے ہوں۔ کم وبیش یہی صورت فلموں کی بھی ہے ۔مین راسے گفتگوکرکے ایک بھرپورشخص کاتصورذہن میں ابھرتاہے اوراس کاعلم ہوتاہے کہ ایک انسان زندگی کی مختلف دل چسپیوں اورتماشوں کاحصہ بن کرہی مکمل ہوتاہے۔
پچھلے تیس برسوں سے مین رانے کچھ نہیں لکھا۔ مگروہ عصری ادب کے منظرنامے سے واقف ہیں۔انھیں معلوم ہے کون کیالکھ رہاہے۔ مین راکی طبیعت اچھی نہیں رہتی۔کم سے کم تین برس سے میں نے انھیں سانس کی تکلیف میں دیکھاہے، ہاتھوں میں کپکپی آجاتی ہے اورسانس پھولنے لگتی ہے۔ اس عرصے میں نہ جانے کتنی بار میں نے انھیں فون کیاجب کبھی خیریت پوچھی توایک ہی جواب سنا کہ زندگی توجینے کے لیے ہے جی رہاہوں۔ادبی محفلوں میں ان کی شرکت نہیں ہوتی۔ چلنے پھرنے میں کوئی خاص تکلیف نہیں ہے اگر طبیعت ٹھیک رہی تواتوار کودریاگنج میں سڑک کے کنارے فروخت ہونے والی کتابوں کودیکھنے آجاتے ہیں۔اوراپنے ذوق کی کتابیں خریدلیتے ہیں۔ان کے پرانے احباب کاحلقہ پہلے جیسے نہیں رہا۔
مین راکی شخصیت کے بارے میں زیادہ بہترطورپروہ لوگ جانتے ہیں جن سے مین را کے گہرے مراسم رہے ہیں اورجنھوں نے بہت قریب سے مین راکودیکھاہے۔میرے یہ بکھرے ہوئے خیالات مختلف ملاقاتوں کانتیجہ ہیں ۔ان ملاقاتوں کاحاصل یہ ہے کہ مین راکی تمام تحریریں اوران سے متعلق دوسروں کی اہم تحریریں کتابی شکل میں آپ کے سامنے ہیں۔میں نے چندملاقاتوں کے بعدمین راصاحب سے درخواست کی تھی کہ آپ اجازت دیں تومیں آپ کی کہانیوں کوکتابی صورت دے دوں۔ میری یہ بات سن کرانہیں ایسا لگا جیسے کوئی ایسی بات کہہ دی ہوجواب تک کی ملاقاتوں میں سب سے غیرضروری اوربے معنی ہو۔کتاب کیوں چھپے اس کی دلیلیں جومیری سمجھ میں آئیں میں نے پیش کردیں۔ لیکن کتاب نہیں چھپے اس سلسلے میں انھوں نے جودلائل پیش کئے ان کے سامنے میں نے خود کولاجواب پایا۔واقعی میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔مین راکی پریشانی کاسبب علمی وادبی دنیاکاوہ منظرنامہ ہے جس میں اچھی اورخراب تحریر کافرق باقی نہیں رہا۔ اورپھریہ کہ ادب کاقاری کہاں ہے؟جب حالات اتنے حوصلہ شکن ہوں توکتاب کے چھپنے کاجواز کیاہے۔ میری ملاقات سے قبل اوربعد میں بھی مین راکے کئی بہی خواہوں اورچاہنے والوں نے خطوط لکھ کراورکبھی فون پراس بات کی اجازت چاہی کہ آپ صرف ہاں کہہ دیجئے کتاب آپ کی مرضی کے مطابق چھپ جائے گی۔مگرسب کوانھوں نے منع کیااورصاف صاف کہہ دیاکہ کتاب میری زندگی میں نہیں چھپ سکتی۔ مین راصاحب کے دالائل سننے کے بعد میں نے ہارنہیں مانی ۔آخروہ وقت آگیاجب ان کی زبان سے یہ جملہ نکلاکہ کتاب چھپ سکتی ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ نہ توکوئی سرکاری ادارہ اسے شائع کرے اورنہ اس کتاب پرکوئی انعام ملے۔ میں نے شرط منظورکرلی اوران کاشکریہ اداکیا۔اس واقعہ کودوبرس سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ یہ عرصہ مین راکی کہانیوں کی تلاش میں گذرگیا۔ظاہر ہے کہ اس درمیان کچھ رکاوٹیں بھی سامنے آئیں جن میں مین راصاحب کی طبیعت کی خرابی بھی ہے اورمیرے مشکل حالات بھی۔ اس کتاب میں مین راکی 38کہانیاں شامل ہیں۔ کون سی کہانی کب اورکہاں شائع ہوئی اس کی تفصیل کہانی کے اختتام پردرج ہے۔ان کہانیوں کی ترتیب میں فکروخیال کی سطح پرپائی جانے والی مماثلت کاخیال رکھاگیاہے۔ ضمیمے میں مین راکی غیرافسانوی تحریریں اوران سے متعلق دوسرے حضرات کی تحریں شامل ہیں۔مین راجنرل ضمیمہ میں شامل ہے۔ جولوگ مین راجنرل سے واقف ہیں انھیں معلوم ہوگا کہ اس کاتعلق مین راکی ایک کہانی پورٹریٹ اِن بلیک اینڈ بلڈ کے مباحث سے ہے۔ میں نے ضروری سمجھاکہ ان مباحث کواس کتاب میں شامل کردیاجائے تاکہ گذشتہ برسوں میں مین راکے سلسلے میں جوگفتگوہوئی ہے اس سے نئے لوگ بھی واقف ہوسکیں ۔حیات اللہ انصاری کامضمو ن بڑادل چسپ ہے جوان کی کتاب’ جدیدیت کی سیر‘میں شامل ہے۔ اس مضمون کواس کی اہمیت کے پیش نظرضمیمے میں شامل کیاگیاہے ’’کتاب نما‘‘ کادیوندرستیارتھی پرمخصوص شمارہ مین رانے ترتیب دیاتھا ’’کتاب نما‘‘ کایہ خاص شمارہ دیوندرستیارتھی میں مین راکی گہری دل چسپی کاپتہ دیتاہے۔ضمیمے میں پروفیسرگوپی چند نارنگ پروفیسرشمیم حنفی،صدیق الرحمن قدوائی، محمودہاشمی ،پروفیسرقاضی جمال حسین،اورجناب زبیررضوی کے مضامین شامل ہیںیہ تمام حضرات ہمارے عہدکے اہم لکھنے والوں میں ہیں میں ان سب کاممنون ہوں کہ انھوں نے اس کتاب کے لیے اپنی تحریریں عنایت کیں۔کتاب کاپیش لفظ ’شعور‘کاایک اداریہ ہے اس کے بارے میں یہ کہاجاسکتاہے پرانی تحریر کوپیش لفظ بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کاجواب یہ ہے کہ جوسوالات اس میں اٹھائے گئے تھے ان کی اہمیت آج بھی باقی ہے۔ ’شعور‘کاایک دوسرااداریہ جس کانام افق ہے اسے مین راکی تحریروں کے آخرمیں رکھاگیاہے۔ اس طرح دوافق کے درمیان صرف مین راکی اپنی تحریریں ہیں دوسری کتاب میں مین راسے متعلق مختلف ناقدین کی تحریروں کوشامل کیاگیاہے۔میں نے اپنی تحریر کوسب سے آخرمیں رکھاہے۔ میں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے مین راکی شخصیت اورمین راکے فن کوسمجھنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ مین راکی کہانیا ں اوردوسری تحریریں کتابی شکل میں پہلی مرتبہ منظرعام پرآرہی ہیں۔ وہ تمام ادب کے باذوق قاری جومین راکوپڑھناچاہتے ہیں اورجنھوں نے مین را کو آدھا ادھور اپڑھا ہے وہ اب مکمل مین راکوپڑھ سکتے ہیں۔ مین راکوپڑھنے اورپسند کرنے والوں کاحلقہ ملک اور بیرون ملک تک پھیلاہواہے۔ بہت سے بزرگوں اوردوستوں نے اس کام کے سلسلے میں مجھے مبارک باد دی اورشکریہ بھی ادا کیاکہ تم نے اس کام کواپنے لیے نہیں بلکہ ہمارے لیے کیاہے۔ ان بزرگوں اوردوستوں کی ہمت افزائی نے مجھ میں شوق اوراعتمادپیداکیا۔
وہ آج کے ادبی منظرنامے سے بہت دورہے مگراس کی گوشہ نشینی کاخیال ہی ادبی جلسوں کوآئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے۔ مین راکومعلوم تھاکہ خواب پرستی اچھی چیز ہے لیکن ہر خواب کی تعبیرنہیں ہوتی۔ اس کے باوجودمین رانے خواب دیکھا اس لیے کہ خواب دیکھنا اس کا حق تھا۔ مین رانے خواب کوسچ ثابت کرنے کے لیے جیسی عملی کوشش کی اس کودیکھ کردنیا بھر کی ان شخصیتوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جنھوں نے اپنے اپنے وقت میں زندگی کی اعلیٰ قدروں اورسچائیوں کے لیے قربانیاں دی ہیں۔مین راکے نزدیک اصولوں سے سمجھوتاکرنااپنی زندگی اورضمیر کوشرمندہ کرناہے۔ایک گفتگو کے دوران بلراج مین رانے کہاکہ میں آج اپنی زندگی پرشرمندہ نہیں ہوں،ایک فن کار کی اس سے بڑی طاقت اورفتح کیاہوسکتی ہے۔بلراج مین راآج بھی ہمارے لیے ایک چیلنج ہے اورمشعلِ راہ بھی۔ مجاز نے کہاتھا:
جو ہو سکے ہمیں پامال کرکے آگے بڑھ
نہ ہوسکے تو ہمارا جواب پیدا کر
اب جبکہ یہ کتاب پریس میں جارہی ہے تومجھے حیرت اورمسرت دونوں کااحساس ہورہا ہے۔ حیرت اس لیے کہ میں نے سوچابھی نہیں تھا کہ اتنے اہم افسانہ نگارکی تحریروں کی تلاش وترتیب اورتعارف کایہ تاریخی کام میرے حصے میں آئے گا۔ اورمیں ان مراحل سے گذرجاؤں گا۔میں خوش ہوں کہ جے ۔این ۔ یو میں میری طالب علمی کے چندسال چنداچھی کتابوں کے مطالعے اورچنداچھی تحریروں کی تلاش وتعارف میں گذرے ہیں۔اس عرصے میں کبھی کبھی تو مایوسیاں اس قدربڑھیں کہ میرے حوصلے پست ہونے لگے مگران ہی مایوسیوں اورمشکل حالات کے دوران خود کو توانا بھی کرتارہا۔ اوربے یقینی اوربدصورتی کے گھپ اندھیرے میں امیداورحوصلے کی کرن دکھائی دینے لگتی۔
مجھے یہ لکھتے ہوئے مسرت کااحساس ہورہاہے کہ مین راکی یہ کتاب میری طالب علمی کے زمانے کی ایک اہم یادگارکی حیثیت رکھتی ہے۔ مین راکی تحریروں کومیں نے ہرطرح کے فیشن اورمصلحت سے بلند ہوکرایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھناشروع کیاتھا،ہمارے عہد کے بہت سے لوگوں کے لیے مین رااس طرح کشش اوردلچسپی کاباعث نہیں ہیں اس کی وجہ اس کے سوااورکیا ہوسکتی ہے کہ ہم بہت جلداپنے ادیبوں کوبھولتے جاتے ہیں شاید اس لیے بھی کہ ہم عصرحاضرکے انھیں ادیبوں کوپڑھناچاہتے ہیں یاان پرلکھنا چاہتے ہیں جن سے کچھ نہ کچھ فائدہ کا پہلو سامنے آئے سومین راکسی کوکیافائدہ پہنچاسکتاہے وہ توخودہی ادب پڑھنے اورلکھنے کی قیمت ادا کررہا ہے۔ مین راکوبھولنے کی دوسری وجہ خودمین راکی گوشہ نشینی بھی ہے۔ایسے حالات میں اس کتاب کی اشاعت کایہ مطلب نہیں کہ مین راکودوبارہ ادبی منظرنامیں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس لیے کہ مین راکی کہانیاں جدید افسانے کی تنقید میں بنیادی حوالے کی حیثیت سے سامنے آتی رہی ہیں۔ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے حدودکوپہچانتاہوں اوران حدود کوعبور کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ اس کتاب میں جوکچھ موجود ہے اس کابراہِ راست تعلق مین راکی ذات سے ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں بھی وہ عملی طورپرشریک رہے ہیں۔میرے عزیز دوست ہمانشوگوتم نے مین راکی بعض کہانیوں کوپڑھ کراورسن کربلراج مین کے تعلق سے میری ادبی دلچسپی میں اضافہ بھی کیا ہے اورکہانی کے تجزیہ اورتفہیم میں میری مشکلوں کوآسان بھی کیاہے۔ 

سرورالہدیٰ

شعبۂ اردو،
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

(مشمولہ بلراج مین را: ایک نا تمام سفر۔ سرورالہدیٰ۔ عرشیہ پبلیکیشنز دہلی۔ 2015۔ ص 55 تا 80)


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.