11 Sep, 2017 | Total Views: 361

انتظار حسین اور ان کی سبز پنکھیا

ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی
شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ۔۵

’’اگلے زمانے میں ایک سوداگر تھاجس کی سات بیویاں تھیں۔ایک دفعہ کیا ہو ا کہ اسے 
بیوپار کے سلسلے میں سفر پہ جانا پڑا۔وہ باری باری چھیوں بیویوں کے پاس گیا اور بولا کہ 
بی بی ہم پردیس جاتے ہیں کہو تمہارے لئے کیا تحفہ لائیں‘۔۔سب بیویوں نے بڑی بڑی 
لمبی چوڑی فرمائشیں کیں۔پھر آئی ساتویں بیوی کی باری۔۔۔جس سے سوداگر کو ایسا اُنس
تو نہیں تھا مگر اس نے سوچا کہ رسم تو پوری کرہی لینی چاہیے۔ساتویں بیوی نے نہ کسی قیمتی
زیور کی فرمائش کی نہ کسی بھاری پوشاک کی۔بس ایک سبز پنکھیا لانے کو کہ دیا۔
سوداگر جب اپنا کاروبار کر کے پردیس سے واپس ہونے لگا تو اس نے بازار 
جاکر بیویوں کے لیے پرتکلف تحفے تحائف خریدے مگر سبز پنکھیا اس کے ذہن سے اتر گئی۔
جب وہ جہاز میں آکر بیٹھا تو عجب ماجرا گزرا کہ جہاز اپنی جگہ سے حرکت ہی نہ کرے۔
جہازی سرگرداں اور پریشان کہ جہاز آخر کیوں نہیں چلتا۔کسی پہنچے ہوئے بزرگ نے کہا
کہ بھائی تم میں سے کوئی مسافر اپنا کام کرنا بھول گیا ہے ۔جب تک وہ کام پورا نہیں ہوگا
جہاز حرکت میں نہ آئے گا‘۔ہر مسافر سے باری باری سوال کئے گئے سب نے اپنے اپنے کام
گنا دیئے۔جب آئی سوداگر کی بار ی تو اسے اپنی بیویوں کے تحفے گناتے گناتے اچانک 
ساتویں بیوی کی سبز پنکھیا یاد آئی۔جہاز والوں نے کہا کہ بھائی سبز پنکھیا تلاش کرو اور جلدی 
آؤ کہ جہاز کسی طرح روانہ ہو۔‘‘
انتظار حسین نے یہ حکایت بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ میں بھی افسانہ نویسی کے ایک سفر پہ نکلا ہوں اور سبز پنکھیا کی تلاش میں ہوں۔انتظار حسین کی یہ سبز پنکھیا ہے کیا؟سبز پنکھیا کی تلاش میرے خیال میں افسانہ نگاری کے اس اسلوب کی تلاش ہے جو نہ صرف انتظار حسین کے فن کے لیے ’آب حیات‘ ثابت ہو بلکہ جس کی مدد سے افسانے کی رکی ہوئے گاڑی بھی چل پڑے۔واضح ہوکہ انتظار حسین افسانے کی ہم عصر صورت حال اور فن افسانہ نگاری سے بالکل مطمئن نہیں تھے اور نہ ہی پریم چند سے قرۃ العین حیدر تک کسی بڑے نام سے مرعوب تھے۔چنانچہ کہتے ہیں
’’میں جس زبان میں لکھتاہوں اس میں افسانہ نگار بے شک ہوئے ہیں لیکن نصف صدی سے
کچھ کم اُدھر۔اس کے بعد جو لوگ آئے۔۔۔۔۔۔۔یہ کون لوگ ہیں میں نہیں پہچانتا۔انہیں
دیکھ کر تو مجھے داستانوں کے شعبدہ باز وں کا خیال آتاہے۔آخر میں کس کی پیروی کروں اور 
کس کے خلاف بغاوت کروں۔۔۔بس انہوں نے چھ بیویوں کے تحائف فراہم کیے ہیں ۔
سبز پنکھیا میں نے کسی کے یہاں نہیں دیکھی ہے۔‘‘
لہذا انتظار حسین نے افسانہ نگار ی شروع کی تو طویل عرصے تک سبز پنکھیا کی تلاش میں سرگرداں رہے۔’گلی کوچے ‘‘ سے ’’ کنکری ‘‘ تک تین مجموعوں میں وہ اسی کی تلاش کرتے رہے ۔کبھی رومانی دنیا کی سیر کی تو کبھی سماجی اور سیاسی میدان میں نظریں دوڑائیں۔کبھی تہذیبی اور معاشرتی رشتوں کی کہانیاں لکھیں تو کبھی ہجرت اور جدئی کے کرب کو سب کچھ سمجھا۔مگر وہ ’سبز پنکھیا‘ انہیں نہیں ملی جس کے لیے ان کی روح بے چین تھی۔’آخری آدمی‘ اور ’شہر افسوس‘ میں ایسا لگتاہے انہیں سبز پنکھیا مل گئی۔کیوں کہ اس کے بعد فنی اور اسلوبی سطح پر انتظار حسین کی تلاش اور بے چینی کا اظہار کم کم ملتاہے۔ان مجموعوں کی کہانیوں میں وہ فرد وسماج،حیات و کائنات اور وجود کی نوعیت و ماہیت کے مسائل کو رومانی انداز سے نہیں دیکھتے ،نہ ہی ان کا رویہّ محض عقلی ہوتا ہے بلکہ ان کے فن میں شعور و لاشعور دونوں طرح کی کارفرمائی ملتی ہے اور ان کا نقطۂ نظر بنیادی طور پر روحانی اور ذہنی ہے۔ اپنے عہد کی افسردگی ،بے دلی اور کش مکش کو پیش کرنے کے لیے اساطیر ،دیومالا اور حکایات کا ایسا خزانہ ا ن کے ہاتھ آگیا جس سے وہ پیچیدہ سے پیچیدہ خیال اور باریک سے باریک احساس کو سہولت کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔اپنے حکائی اور تمثیلی اسلوب کے ذریعہ انہوں نے اردو افسانے کو نئے فنی اور معنیاتی امکانات سے روشناس کرایاہے۔انہوں نے آصف فرخی سے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ
’’اُس عہد کے جو مشہور نقاد تھے انہوں نے یہ پتہ چلنے ہی نہیں دیا کہ پریم چند سے پہلے بھی فکشن کی
ہماری روایت تھی۔(کسی طرح) ہمیں پتا چلا کہ نہیں،ہمارے یہاں الف لیلہ بھی ہے اور داستانوں کی ایک
لمبی روایت بھی۔تو میں نے اس کی طرف رجوع کیا۔(پھر مجھے) احساس ہوا یہ تو عجمی روایت ہے داستانوں
کی۔جس زمین میں میں پیدا ہوا ہوں اس سے تو بالکل بے خبر ہوں۔سب سے بڑا افسانہ نگار تو میری بغل میں
بیٹھا ہے ،مہاتما بدھ! جس کے تعلق سے صرف یہ بتایاگیا تھا کہ وہ وعظ دیتے تھے۔اُ ن حکایتوں کا تو مجھے علم
ہی نہیں دیاتھا اردو تنقید نے۔تو میں ان کہانیوں ،حکایتوں کو پڑھنے لگا ۔پھر اس کے بعد آگے بڑھا تو 
کچھ اور نظر آیا۔کہیں مہابھارت پڑھنی شروع کردی،کہیں سرت ساگر۔مجھے ان کہانیوں میں آج کی
جو معنویت ہے وہ نظر آتی ہے ۔جب میں وہ کہانیاں لکھتاہوں تو مجھے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ میں
ماضی میں ہوں۔مجھے یہ احساس ہوتاہے کہ اس کہانی کو لکھتے ہوئے میں اِس بیسویں صدی کے جو 
معاملات و مسائل ہیں ،جو آج کا آشوب ہے اور جو آ ج کی تکلیفیں ہیں ،ان میں جی رہاہوں‘‘
یہی وہ ’’سبز پنکھیا‘‘ ہے جس کے حصول کے بعد انتظار حسین نے افسانے کی مغربی ہیئت کو بعینہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔انہوں نے کتھا کہانی اور داستان و حکایت کے سانچے سے افسانے کو ایک نئی شکل اور نیا ذائقہ دیا۔اس کے لیے انہیں انجیل ،قصص الانبیا،بودھ جاتکوں ،پرانوں اور صوفیا کی حکایات اور ملفوظات سب سے استفادہ کرنا پڑا اور نتیجے میں ایسا اسلوب بیان وجود میں آیا جس نے نہ صرف ان کی افسانہ نگاری کی گاڑی کو مہمیز کیا ،بلکہ اس نے اردو افسانے کے جہاز کو بھی تیز رفتاری کے ساتھ نئی راہوں پر گامزن کردیا۔
انتظار حسین نے اپنی کہانیوں میں اظہار کی جو سمت اختیار کی ہے اسے عموماً لوگ داستانوی کہتے ہیں کہ خود انتظار حسین نے بھی بارہا داستانوں سے اپنے شغف کا ذکر کیاہے۔مگر اِس عہد کی مذکورہ کہانیوں کے اسلوب پر غور کریں تو یہاں داستانوں سے زیادہ حکایات اور قصے کا رنگ دکھائی دیتاہے۔دراصل انتظار حسین کی کہانیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہم اس نازک فرق کو دھیان میں نہیں رکھتے جو داستان اور حکایت کے مابین ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ حکایات ،قصوں اور کتھاؤں پر بھی زبان وبیان کے تئیں اسی روییّ کا اظہار ہوتاہے جو داستان گویوں سے مخصوص ہے یعنی تحریر کے بجائے تقریر یا گفتگو کا انداز۔اِس انداز کا تعلق قاری کی نگاہ اور سماعت دونوں سے ہوتاہے۔لیکن داستان گو اپنے بیان میں جس تفصیل،طوالت اور لفظوں کے بے حساب اصراف کو روا رکھتاہے وہ حکایت بیان کرنے والے کے لیے ضروری نہیں۔حکایت بیان کرنے والا لفظوں کا اتنا بڑا خرّاچ نہیں ہوتا۔اس لیے کہ اس کے مقاصد داستان گو سے کسی نہ کسی سطح پر جدا ہوتے ہیں۔گویا داستان گوئی طوالت کافن ہے تو حکایت گوئی اختصار اور جامعیت کاتقاضا کرتی ہے۔اس لحاظ سے فن افسانہ کا زیادہ بامعنی اور سیدھا رشتہ حکایت سے نظر آتاہے۔انتظار حسین نے ایک جگہ بڑے صاف لفظوں میں یہ اطلاع دی ہے کہ’ انہیں قصے کوپھیلانے سے زیادہ سمیٹنے کی فکر ہوتی ہے‘۔اور سمیٹنے کا فن داستان گوئی کا تو ہر گز نہیں ہو سکتا۔دراصل انتظارحسین فضا تو باندھتے ہیں داستان کی ،مگر وہ بات کو پھیلانے کے بجائے حکایت کی طرح سمیٹتے جاتے ہیں۔یہ ان کا مخصوص ہنر ہے جس کی وجہ سے ان کی کہانیوں کی تلخیص مشکل ہو جاتی ہے۔
انتظار حسین کے فن کا یہ روپ تقریباً چھٹی دہائی کے بعد نظر آتاہے ،جب ان کی سیدھی سادی کہانیاں تمثیلی اور حکایاتی اسلوب کو راہ دینے لگیں۔ماضی کی پرچھائیوں اور تقسیم ہند سے پیدا شدہ المیوں کی کہانیوں پر اب بنی نوع انسان کے اخلاقی و روحانی زوال جیسے موضوعات حاوی ہونے لگے۔یہ وہ جدید عہد ہے جس میں اخلاقی اقدار کی شکست اور اجتماعی سکون کے فقدان نے انسان کو جانور میں تبدیل کرنا شروع کردیا اور انسان کے باطنی کھوکھلے پن کی داستان عام ہونے لگی۔لہذا انتظار حسین کے اِس دور کے افسانے مثلاً آخری آدمی،زرد کتا،ہڈیوں کا ڈھانچ،پرچھائیں،ٹانگیں،سیڑھیاں،شہر افسوس وغیرہ اِسی احساس کی ترجمانی کرتے ہیں۔اِس دورکی کہانیوں میں انتظار حسین نے اپنی ’سبز پنکھیا‘ یعنی نئے اسلوب و اظہار کا استعمال کرتے ہوئے صوفیا کے ملفوظات اور حکایات کا جس طرح استعمال کیاہے وہ اردو افسانے کے لئے بالکل انوکھی اور نئی جہت ہے۔بقول پروفیسر گوپی چند نارنگ
’’ اِن میں انسانوں کی روحانی اور اخلاقی کشمکش او ر اس پر جبلّی قوتوں کے دباؤ کو کچھ ایسے اچھوتے
پیرائے میں بیان کیا گیاہے کہ بیانیہ کی دلچسپی بھی برقرار رہتی ہے اور انکشاف حقیقت کی پرتیں بھی کھلتی ہیں‘‘
مثلاً ان کے مشہور افسانے ’’زرد کتا‘‘ کو دیکھئے جس کا موضوع کسی نے ’روحانی انحطاط‘ قرار دیا ہے تو کسی نے ’اخلاقی زوال‘۔جبکہ میرا خیال ہے اس کا بنیادی موضوع فرد کی پستی اور موجودہ دنیا کی دگر گوں حالت ہے،جہاں عالم تاجر بن گیاہے اور تاجر سوالی۔انتظار حسین ملفوظاتی اور حکایاتی اسلوب کا سہارا لے کر قاری کو نہ صرف اِس دنیا کے زوال شدہ منظرنامے سے روبرو کراتے ہیں بلکہ اسے اپنی گم شدہ تہذیب کی طرف مراجعت کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔اِس کہانی کے کردار شیخ عثمان کبوتر اور ان کے مریدین سید رضی،ابو مسلم بغدادی،شیخ حمزہ،ابو جعفر شیرازی،حبیب بن یحی ترمذی اور ابو قاسم خضری ہیں۔آخری کردار ابو قاسم خضری حکایت بیان کرتاہے
’’شیخ ابوالعباس اشقاقی ایک روز گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا ایک زرد کتا ان کے بستر میں سو رہاہے۔انہوں
نے قیاس کیا کہ شاید محلے کا کوئی کتا اندر گھس آیاہے۔انہوں نے اسے نکالنے کا ارادہ کیا مگر وہ ان کے دامن میں
گھس کر غائب ہو گیا۔میں یہ سن کر عرض پرداز ہوا
یا شیخ۔یہ زرد کتا کیاہے؟
فرمایا۔زرد کتا تیرا نفس ہے۔
میں نے پوچھا یا شیخ نفس کیاہے؟
فرمایانفس’طمع دنیا‘ ہے۔
میں نے سوال کیا کہ یا شیخ طمع دنیا کیاہے؟
فرمایا طمع دنیا پستی ہے۔
میں نے استفسار کیا یا شیخ پستی کیاہے؟
فرمایا’پستی علم کا فقدان ہے
میں ملتجی ہوا یا شیخ ،علم کا فقدان کیاہے؟
فرمایا ’دانش مندوں کی بہتات
اس کے بعد تفسیر کی صورت میں ایک حکایت بیان کی گئی ہے۔
پرانے زمانے میں ایک بادشاہ بہت سخی تھا۔ایک روز اس کے دربار میں ایک شخص کہ دانش مند جانا جاتا 
تھا حاضر ہو کر عرض پرداز ہو اکہ جہاں پناہ دانشمندوں کی بھی قدر چاہئے۔بادشاہ نے اسے خلعت اور ساٹھ
اشرفیاں دے کر بصد عزت رخصت کیا۔اس خبر نے اشتہار پایا۔ایک دوسرے شخص نے کہ وہ بھی اپنے آپ
کو دانش مند جانتاتھا دربار کا رخ کیا اور بامراد پھرا۔پھر تیسرا شخص کہ اپنے آپ کو اہل دانش کے زمرہ میں شمار 
کرتاتھا،دربار کی طرف چلا اور خلعت لے کر واپس آیا۔پھر تو ایک تانتا بندھ گیا۔جو اپنے آپ کو دانش مند
گردانتے تھے جوق در جوق دربار میں پہنچتے اور انعام لے کر واپس آتے تھے۔اس بادشاہ کا وزیر بہت عاقل 
تھا۔دانش مندوں کی یہ ریل پیل دیکھ کر اس نے ایک روز سر دربار ٹھنڈا سانس بھرا۔بادشاہ نے اس پر نظر کی
اور پوچھا کہ تونے ٹھنڈا سانس کس باعث بھرا؟ اس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا۔
جہاں پناہ! جان کا امان پاؤں تو عرض کروں۔
فرمایا۔امان ملی۔تو تب اس نے عرض کیا۔خداوند تیری سلطنت دانش مندوں سے خالی ہے۔
بادشاہ نے کہا۔کمال تعجب ہے۔تو روزانہ دانش مندوں کو یہاں آتے اور انعام پاتے دیکھتا ہے اور پھر
بھی ایسا کہتاہے۔
عاقل وزیر تب یوں گویا ہواکہ ائے آقائے ولی نعمت ،گدھوں اور دانش مندوں کی ایک مثال ہے کہ جہاں
سب گدھے ہو جائیں وہاں کوئی گدھا نہیں ہوتا اور جہاں سب دانش مند ہوجائیں وہاں کوئی دانش مند نہیں رہتا۔‘‘
اس کے بعد پھر ایک مکالمہ مع حکایت ہے ،جہاں سے گفتگو دوسری منزل میں قدم رکھتی ہے۔
’’یا شیخ عالم کی پہچان کیاہے؟
فرمایا اس میں طمع نہ ہو
عرض کیا طمع دنیا کب پیدا ہوتی ہے؟
فرمایا،جب علم گھٹ جائے۔
عرض کیا۔علم کب گھٹتاہے؟
فرمایا۔جب درویش سوال کرے ،شاعر غرض رکھے،دیوانہ ہوش مند ہو جائے،تاجر عالم بن جائے،دانش مند 
منافع کمائے۔‘‘
پھر اس کے بعد شیخ ایک حکایت بیان کرتے ہیں جس کے ذریعہ انتظار حسین کی بات مکمل ہو تی ہے کہ ایک شہر میں ایک منعم کی سخاوت سے درویش ،شاعر ،عالم اور دانش مند تونگر ہو جاتے ہیں۔مگر اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ درویش کی درویشانہ شان ،عالم کا علم ،دانش مندکی دانش اور شاعر کے کلام کی سرمستی جاتی رہی۔
افسانہ نگار نے پوری کہانی کا تانا بانا پانچ چھ حکایات کے ذریعہ تیار کیاہے۔اور ہر حکایت افسانے کے بنیادی موضوع فرد کی پستی اور دنیا کی دگر گوں حالت پر نہایت خوبصورتی سے تبصرہ کرتی ہے۔فرد سماج کی اکائی ہے اور جب اکائی ہی کا چہرہ گم ہو جائے تو سماج کا کیا ہوگا؟۔آج سماجی،سیاسی ،مذہبی اور ادبی سطح پر نظر دوڑایئے ۔ہر شخص سوالی ہے اور ہر فرد کی قیمت مقرر ہے۔شاعر،عالم یا دانش مند سب تاجر بن گئے ہیں۔ایسے میں زندگی کے تمام شعبوں میں زوال آنا تو فطری امر ہے۔
کلام کی تاثیر کا خاتمہ اور لوگوں کی سماعت سے محرومی اسی زوال کا حصہ ہے۔انسان عقل و دانش کی سطح سے گر کر فنا ہو جانے والی چیزوں کا پرستار اور حواس کی لذتوں کا اسیر ہو جاتاہے۔حواس کی اسیری ہوس کہلاتی ہے۔کلام کی تاثیر کے لیے عاشقی ، فقیری اور روحانی بلندی کی ضرورت ہے مگر یہ رویے بدی کے معاشرے میں جنم نہیں لے سکتے لہذا اس افسانے میں ایسی حکایات بھی ملتی ہیں جہاں معاشرے نے عالم کو موچی اور موچی کو عالم مانا او رشاعروں اور عالموں نے شہر سے سنسان جنگلوں اور مقبروں کا رُخ کیا اور درختوں اور قبروں کو اپنا کلام سنایا۔حکایت ملاحظہ ہو
’’احمد حجری اپنے وقت کے بزرگ شاعر تھے مگر ایک دفعہ ایسا ہوا کہ شہر میں بہت شاعر ہو گئے۔امتیاز ناقص وکامل
مٹ گیا اور ہر شاعر خاقانی و انوری بننے لگا۔قصیدہ لکھنے لگا۔احمد حجری نے یہ حال دیکھ کر شعر گوئی ترک کی اور شراب
بیچنی شروع کردی۔ایک گدھا خریدا کہ شراب کے گھڑے اس پر لاد کر بازار لے جاتے تھے اور انہیں فروخت کرتے 
تھے۔ایک روز ایسا ہوا کہ گدھا ایک موڑ پر آکر اڑ گیا۔انہوں نے اسے چابک رسید کیا تو اس گدھے نے انہیں مڑ کر
دیکھا اورشعر پڑھاجس میں تجنیس لفظی استعمال ہوئی تھی اور مضمون یہ تھا کہ میں دوراہے پر کھڑا ہوں ۔احمد کہتاہے
چل اور احد کہتاہے مت چل۔احمد حجری نے یہ سن کر اپنا گریباں پھاڑااور آہ کھینچ کر کہا کہ اُس زمانے کا برا ہو کہ گدھے
کلام کرنے لگیں اور احمد حجری کی زبان کو تالا لگ گیا۔پھر انہوں نے گدھے کو آزاد کر کے شہر کی طرف ہنکا دیا او ر خود
پہاڑوں میں نکل گئے۔وہاں عالم دیوانگی میں درختوں کو خطاب کر کے شعر کہتے تھے اور ناخن سے پتھروں پر کندہ
کرتے تھے۔‘‘
اِس حکایت کی تفسیر بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے کہ اگر اپنی قوت کلام کو کام میں نہ لائیں تو گدھوں کو قوت گویائی مل جاتی ہے۔اور دوسری تفسیر افسانہ نگار نے شیخ کے منہ سے کہلوائی ہے۔
’’زبان کلام کے بغیر نہیں رہتی۔کلام سامع کے بغیر نہیں رہتا۔کلام کا سامع آدمی۔پر آدمی کی 
سماعت جاتی رہے تو جو سامع سے محروم ہیں انہیں سامع مل جاتاہے کہ کلام سامع کے بغیر نہیں رہتا۔‘‘
اس کے بعد علی الجزائری کی حکایت ہے جو بہت بڑے خطیب تھے لیکن ایک ایسا زمانہ آیا کہ انہوں نے خطاب کرنا ترک کردیا۔ایک بار لوگوں کے اصرار پر انہوں نے اپنا منبر قبرستان میں رکھوایا اور ایک بلیغ خطبہ دیا۔قبروں سے درود کی صدا بلند ہوئی اور علی الجزائری نے آبادی کی طرف رخ کر کے یہ کہا
’’ ائے شہر تجھ پر خدا کی رحمت ہو تیرے جیتے لوگ بہرے ہو گئے اور تیرے مردوں کو سماعت مل گئی۔‘‘
خلاصہ یہ ہے کہ زوال اور بدی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انسان گویائی ترک کردیں اور گدھے کلام کرنے لگتے ہیں۔گویا انسان کی انسانی سطح سماعت اور گویائی سے قائم ہے۔اخلاقی اقدار سے منحرف معاشرے اور افراد نے افسانہ نگار پر گہرے افسوس اور خوف کے اثرات مرتب کئے ہیں۔اسی خوف اور افسوس کو پیدا کرنے والی صورت حال کا اظہار انتظار حسین نے حکائی اسلوب میں کیا ہے،اور اسی حکائی اسلوب کے سہارے ماضی کو حال کی تفہیم کے لئے پس منظر بنایاہے۔
آج اقدار کا زوال اورہوس کی کارفرمائی ہمارے معاشرے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ہمدردی ،محبت ،انسانیت ،بے لوث خدمت کا جذبہ،دیانتداری،وفاداری،سبھی افراتفری اور اجتماعی سطح پر خزاں زدہ پتوں کی طرح لرزاں اور ہر جھونکے کے ساتھ ڈھیر ہو رہی ہیں ۔اور اس بات کا اطلاق صرف ہمارے معاشرے پر نہیں ہوتا،پوری دنیا اسی بحران سے دوچار ہے۔روبہ زوال معاشرے میں فرد کی اخلاقی جدوجہد محال اور بے سود معلوم ہو نے لگتی ہے اور اس کی ذات یا شناخت کا شیرازہ بکھرنے لگتاہے۔انتظار حسین نے افسانہ’’آخری آدمی‘‘ میں ایک قرآنی حکایت کے سہارے بڑی فنکاری سے شناخت کی گمشدگی کا نوحہ لکھاہے۔الیاسف کی آدمی کے جون میں رہنے کی جدوجہد افسانے کا مرکزی نکتہ ہے۔الیاسف کے تمام ساتھی بندر بن جاتے ہیں کیونکہ وہ حکم خدا سے منحرف ہو جاتے ہیں اور اجتماعی زندگی کے مفاد کو خود غرضی اور ہوس پر قربان کردیتے ہیں۔الیاسف بظاہر حکم خدا کے تابع رہتاہے لیکن مکرو فریب سے اس کی نفی کرتاہے۔الیاسف کا المیہ یہ ہے کہ اسے اپنی پستی کا مکمل احساس ہے ،اس لیے ہم جنسوں سے کٹ کر وہ آدمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتاہے اور اپنی ذات میں پناہ ڈھونڈتاہے۔بحیثیت مجموعی افسانہ میں ایک کشمکش جاری رہتی ہے جس کی لپیٹ میں آج کی پوری معاشرتی زندگی سمٹ آئی ہے۔
افسانہ نگار نے اس پر خصوصی توجہ دی ہے کہ انسان سے بندر بننے کے عمل میں انسان نے بحیثیت انسان کے اپنے وجود کی برقراری کے لئے کیا کیا جدوجہد کی ہے۔افسانہ نگار ہمیں اجنبی اور نامانوس زمینوں کی حکایات کے آئینے میں ہماری اپنی بے ضمیری،بے حسی اور حیوانیت کی تصویر دکھلا تاہے۔بندر بننا قریے کے تمام لوگوں کا مقدر ہو چکاہے۔مگر افسانہ نگار غیبی سزاؤں اور گناہوں کی پاداش سے ماورا ہو کر حکایت کو ایک ذاتی تخلیق میں تبدیل کر دیتاہے۔وہ اپنی فنکارانہ چابکدستی سے ایک روایتی حکایت کو لمحاتی واقعات سے نکال کر غیر زمانی اور غیر مکانی صداقت کا حصہ بنا دیتاہے۔ ایک مخصوص قوم،ماحول اور زمانے سے خام مواد حاصل کرکے وہ آج تک کے زمانی فاصلے کو اس خوبی سے عبور کرلیتاہے کہ الیاسف آج کے جدید دور کاجیتا جاگتا کردار بن جاتاہے۔الیاسف کا گناہ کی عقلی تاویلیں کرنا،اس کا جہد للبقا اور اپنی ذاتی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لئے کوئی بھی قیمت چکانے کے لئے تیار ہونا ،اُس جدید آدمی کا مربوط استعارہ ہے جو جذبہ،احساس اور ضمیر تک کو قربان کر کے بھی ساری زندگی اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کرتاہے۔
افسانہ ’’کایاکلپ‘‘ میں بھی انتظار حسین نے اسی موضوع کو حکایاتی اسلوب میں برتاہے۔اس میں بھی آدمی اپنی آدمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش میں دکھایا گیاہے۔شہزادہ آزادبخت شہزادی کو سفید دیو سے بچانے کا مکمل ارادہ رکھتا ہے لیکن سمجھوتہ کی وجہ سے دورنگی کا شکار ہو جاتاہے۔اور دورنگی اس کی روحانی کشمکش کی ابتدا ہے۔وہ وسوسے میں پڑ جاتاہے کہ اصلاً آدمی ہے یا مکھّی؟
اس دورنگی سے نجات حاصل کرنے کی اس نے بہت کوشش کی ،بالکل اُسی طرح جیسے ابوالقاسم نے ’زرد کتے‘ کو کچلنے کی اور الیاسف نے آدمی کے جون میں رہنے کی۔لیکن اخلاقی جدوجہد کا انجام ’’کایاکلپ‘‘ میں بھی المناک ہے۔شہزادہ آخری آدمی کی طرح اکیلا رہ جاتاہے ۔
’’اور جالا شہزادے کے اندر سمانے لگا۔باہر کی دنیا سے اس کا ناتا ٹوٹنے لگا جیسے اس کے حافظہ پر مکڑی نے 
جالا پور دیاتھا۔کہ اب قلعے سے باہر کی دنیا اس کے تصور میں دھندلارہی تھی۔‘‘
ماضی کے تما م روابط سے یوں کٹنے کے بعد اسے خود اپنی شناخت بھول جاتی ہے۔آزاد بخت کی کشمکش اپنے اندر المیہ کی پوری شدت رکھتی ہے۔شہزادے کا کرب و اندوہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ مکھی بنے رہنے پر ہی قانع ہو جاتاہے۔
’’ تو میں آدمی بھی نہیں ہوں اور میں مکھی بھی نہیں ہوں۔پھر میں کیاہوں؟ شاید میں کچھ بھی نہیں ہوں۔اس خیال سے اسے پسینہ آنے لگا ۔اور اس نے سوچا کچھ نہ ہونے سے مکھی ہونا اچھاہے‘‘
گویا یہ افسانہ بھی مذکورہ دونوں افسانوں کی طرح فرد کی اخلاقی جدوجہد کا المیہ علامتی پیرایہ میں بیان کرتاہے۔افسانہ ’’ہڈیوں کا ڈھانچ‘‘ بھی اسی سے مشابہت رکھتاہے جہاں مرکزی کردار بدروح سے بچنے کی انتہائی کوشش کرتاہے لیکن آہستہ آہستہ اسے اپنی شناخت پر شک بڑھتا جاتاہے اور آخر میں وہ وہی بن جاتاہے جس سے گریز کرتاہے۔گویا ان افسانوں میں انتظار حسین کا بنیادی مسئلہ زوال آدمیت ہے ۔ زوال آدمیت کے اسباب و علل ہر زمانے میں انسان کے اندر اور باہر موجود رہے ہیں۔ان اسباب و علل کی نفی کرنا اور داخلی حیوانی جبلتوں اور خارج کے منفی محرکات کے خلاف نبرد آزما رہنا ہی آدمی کے لیے اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے اور اخلاقی امتیازات قائم رکھنے کا سہارا ہوتاہے۔اسی لئے ان کہانیوں میں مرکزی کردار امکان کے آخری لمحوں تک اپنی قوت مدافعت کے استعمال کے باوجود اخیر میں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان کی ذاتی شناخت بھی اس کھوئے ہوئے معاشرے کے ساتھ کھو گئی ہے۔’’آخری آدمی‘‘ میں الیاسف کا اس کو انسان بتانے والے کسی شخص کی تلاش کرنا یا ’’کایا کلپ‘‘ میں شہزادے کا اپنی شناخت کے لئے مضطرب ہونا اسی حقیقت کے اظہار کی صورتیں ہیں۔افسانہ ’’سیڑھیاں‘‘ میں سید کا کرب بھی یہی ہے۔اس کے پاس نہ خواب ہے نہ ماضی۔نہ یادیں اور نہ کوئی شخصیت ۔اس کی ساری کوشش اس بات میں صرف ہو گئی ہے کہ جس طرح بھی ہو ،جس قدر بھی ہو وہ اپنے ماضی کی بازیافت اور اس طرح اپنی شناخت کی بازیافت کرے۔انتظار حسین نے اپنی تہذیب اور ماضی سے فرار کے سبب پیدا ہونے والی اجنبیت اور شناخت کی گمشدگی کو افسانہ ’’اپنی آگ کی طرف‘‘ میں ایک حکایت کے ذریعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔مکان میں آگ لگنے کے بعد جب ایک دوست دوسرے کو مکان چھوڑ کر اپنے یہاں رہنے کی دعوت دیتاہے تووہ کہتاہے’’ شیخ علی ھجویری نے دیکھا کہ ایک پہاڑ ہے۔پہاڑ میں آگ لگی ہوئی ہے۔آگ کے اندر ایک چوہا ہے کہ سخت اذیت میں ہے اور اندھا دھند چکر کاٹ رہاہے۔چکر کاٹتے کاٹتے وہ پہاڑ سے پہاڑ کی آگ سے باہر
نکل آیا اور باہر نکلتے ہی مر گیا‘‘۔وہ چپ ہو ا پھر آہستہ سے بولا ’’میں مرنا نہیں چاہتا‘‘۔
چوہے کہ اس تمثیلی حکایت میں کئی حقائق پوشیدہ ہیں،مگر سب سے اہم بات یہ ہے کردار کو یقین ہے کہ وہ اگر اپنی عمارت سے باہر گیا تو اس کی شناخت گم ہو جائے گی۔اس کی شناخت پرکھوں کے اِس مکان اور اس سے وابستہ کائنات سے ہی قائم ہے۔لیکن ’’وہ جو کھوئے گئے‘‘ کے چار بے نام کردار اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں اس لیے اپنی شناخت گم کر چکے ہیں اور نام کی بجائے زخمی سروالا،باریش آدمی،تھیلے والا اور نوجوان کہے جاتے ہیں۔زخمی سر والا کہتاہے
’’میں اکھڑ چکاہوں۔ اب میرے لیے یہ یاد کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کون سی ساعت تھی اور کون سا 
موسم تھا اور کون سی بستی تھی۔‘‘
جہاں ’سیڑھیاں ‘ میں سید اور اس کا دوست اپنی بازیافت میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہاں ’وہ جوکھوئے گئے‘ کے چاروں آدمی نامراد رہتے ہیں کہ یہ حتمی اور واقعی طور پراپنی شناخت کھو چکے ہیں۔یہ بے چارے اپنے ماضی اور تہذیبی کائنات سے اس طرح کٹ گئے ہیں کہ اب ایک دوسرے کی شہادت پر زندہ ہیں۔یہ المیہ ان تما م لوگوں کا ہے جو اپنی آگ کی زد میں آئی ہوئی عمارت سے شیخ علی ھجویری کی تمثیلی حکایت کے ہراساں چوہے کی طرح امان کے لئے باہر بھاگتے ہیں اور یو ں اپنے عنصر سے جدا ہوکر ایک مہیب تر اور تاریک آگ میں بے نام و نشاں ہمیشہ کے لیے فنا ہو جاتے ہیں۔گویا روایت اور ماضی سے کٹ کر کوئی زندگی نہیں ہے۔
’’پرچھائیں‘‘ کا مرکزی کردار بھی شناخت کی گمشدگی کے کرب میں ہی مبتلاہے ۔وہ ایک دوسرے شخص کی تلاش میں جگہ جگہ جاتاہے مگر یہ دراصل خود اپنی تلاش ہے۔
ایک نام کے کیا دو نہیں ہوتے؟ بلکہ ایک نام کے کئی کئی ہوتے ہیں۔چلتے چلتے اسے کچھ وہم سا ہوتاہے۔اور آن کی آن میں ایک تصور سا بندھ جاتاہے،جیسے وہ نہیں بلکہ کوئی دوسرا اُسے ڈھونڈ رہاہے اور وہ خود جگہ جگہ چھپتا پھر رہاہے۔‘‘
انتظار حسین نے یہاں اُس حکایت کی طرف بھی اشارہ کیاہے جو کئی صوفیا سے منسوب ہے۔یعنی حضرت بایزید سے کسی نے پوچھا تو کون ہے اور کس کو پوچھتاہے؟ سائل نے جواب دیا مجھے بایزید کی تلاش ہے ۔اور حضرت بایزید نے پوچھا کون بایزید؟ میں بھی بایزید کو ڈھونڈتاہوں مگر وہ مجھے ملا نہیں۔سارادن اپنی ذات کی پرچھائیں کی تلاش میں گزر جاتاہے۔وہ سوچتاہے’’ہم کس جسم کی پرچھائیں ہیں،قافلہ گزر گیا اور پرچھائیں بھٹک رہی ہے۔ہم کس گزرے قافلے کی پرچھائیاں ہیں؟ میں کس وہم میں ہوں ! میں ہوں ہرچندکہ ہوں نہیں ہوں۔‘‘
یہاں گذرا ہو قافلہ کیا ہے؟ ماضی ،اس کی تہذیبی روایات اور ہماری وہ تاریخ ہے جسے فراموش کرنے کا نتیجہ ہماری شناخت کی گمشدگی ہے ۔یعنی انتظارحسین ماضی میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ اس کی روایات ہمارے تہذیبی شعور کا حصہ ہیں اور اس کی یادداشت شخصیت کے اجزائے ترکیبی کی شیرازہ بندی کے مترادف ہے۔حٖافظے کا زوال شخصیت کی موت ہے کیونکہ آدمی صرف اتنا نہیں جتنا کہ وہ نظر آتاہے بلکہ اس کے رشتے خارج سے زیادہ اس کے باطن میں پھیلے ہوئے ہیں ۔انتظار حسین کے یہاں معاشرتی حقیقت کا یہی تصور ملتاہے جس میں گمشدہ،حاضر اور نوآموز عوامل ایک اکائی کی صورت میں ہوتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس بھی ہے کہ ان کی ذات کا کوئی حصہ کٹ کر ماضی میں رہ گیاہے۔اس کٹے ہوئے حصے کے ساتھ داستانیں،اساطیر،تلمیحات،تاریخ اور حکایات سب کچھ ہیں۔اِنہیں ہی وہ تخیل کے راستے واپس لاکر حال میں سمونے کی کوشش کرتے ہیں۔
آخری آدمی،زردکتا ،کایا کلپ ،شہر افسوس ،ہڈیوں کا ڈھانچ،وہ جو کھوئے گئے،اپنی آگ کی طرف اور سیڑھیاں کے علاوہ سوئیاں ،دہلیز ،کٹا ہوا ڈبہ،کشتی،وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے اور کچھوے وغیرہ ایسے افسانے ہیں جن میں انتظار حسین نے حکایات اور تلمیحات کے سہارے ماضی کی بازیافت اور اقدار کی بحالی کا چراغ روشن کیاہے۔ان میں سے بیشتر افسانوں میں عہد نامہ عتیق،قبل اسلامی،آریائی،دیومالائی قدیم داستانوں یا حکایتوں سے استفادہ کیاگیاہے۔آخری آدمی میں عہد نامہ عتیق کی فضاہے تو زرد کتا میں عہد وسطیٰ کے صوفیا اور ان کی حکایات کی تخلیقی باز آفرینی ملتی ہے۔’وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے‘ ’دیوار اور رات ‘میں یاجوج ماجوج کی حکایت ملتی ہے۔’کشتی‘ میں ہندو دیومالا اور اسلامی اسطور دونوں کا سہارا لیاگیاہے ۔کایاکلپ‘ سوئیاں اور دوسرا گناہ میں الف لیلہ کی داستانوں اورحکایات کی فضا ہے تو شہر افسوس ،واپسی اور کچھوے میں جاتک کہانیوں اور بودھی حکائتوں کے رموزہیں۔اس طرح انتظار حسین کے زیادہ تر افسانے ماضی کے قصوں ، کہانیوں ،حکایتوں اور روایتوں سے تشکیل پاتے ہیں لیکن فن کاری یہ ہے کہ وہ ان میں محض ماضی یا ماضی کے قصوں اور حکایتوں کو دہرانے کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنے وقت اور ماحول سے نکال کر ان سے عصری حقائق اور موجودہ زندگی کی تعبیر کا کام لیتے ہیں۔اور ماضی کی حکایتوں ،قصوں سے کرداروں کو حال کے تناظر میں پیش کرکے وہ ماضی اور حال کے درمیان ایک معنوی پُل تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بقو ل پروفیسر گوپی چند نارنگ
’’ یوں معلوم ہوتاہے کہ مشاہدے کی منزل سے نکل کر انتظارحسین کا فن مراقبے کی طرف راجع ہے۔یہ 
تصوف کی وہ منزل ہے جس کی کوئی پرچھائیں اس سے پہلے اردو افسانے پر نہیں پڑی تھی۔‘‘
(اردو افسانہ روایت اور مسائل ص۔۵۴۱)
پرچھائیں پڑتی بھی کیسےْ ؟ اردو کے کسی افسانہ نگار کے پاس وہ ’’سبز پنکھیا ‘ ‘ تھی ہی نہیں جو انتظار حسین کو میسر آئی۔انتظار حسین پہلے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے داستانی پیرایہ،حکائی اسلوب اور تمثیلی انداز کی ’’سبز پنکھیا ‘‘ سے نہ صر ف اردو افسانے کی فضا بدل دی بلکہ فن افسانہ کو ایک نئے سفر اور نئی منزل سے آشنا کیا۔(غیر مطبوعہ)
Dr.Shahab Zafar Azmi,Dept.of Urdu,Patna University,Patna 800005
shahabzafar.azmi@gmail.com Mob.8863968168
Patna University,Patna.800005
shahabzafar.amzi@gmail.com
Mob.08863968168

 مضامین دیگر 

Comment Form