صغیر رحمانی کی ’داڑھی‘ اور دوسری کہانیاں




محمد غالب نشتر
28 Apr, 2018 | Total Views: 241

   

افسانے کی تنقید کے حوالے سے موضوع اور ہیت کا مسئلہ ہمیشہ سے ہی بحث کا موضوع رہا ہے۔کوئی مواد کو اہمیت دیتا ہے تو کسی کے نزدیک ہیئت ہی افسانے کی آبرو و جان ہے۔افسانے کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ افسانوی تنقید کی ترجیحات بھی زمانے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں،کبھی مواد کو زیادہ اہمیت دی گئی تو کبھی ہیئت نے اپنا لوہا منوایا۔نئے افسانہ نگاروں کی تخلیقات کا فنی محاسبہ کیا جائے تو  ہیئت سے زیادہ مواد یا موضوعات کا تنوع دکھائی دیتا ہے۔یوں بھی اچھا افسانہ اساسی موضوع کے ساتھ ضمنی موضوعات اور ظاہری موضوع ،زیر سطحی موضوعات کو بھی دامن میں لیے ہوتا ہے لیکن نئی صدی کے مسائل و مشکلات کے دور میں افسانوی تقلیب میں مواد سے زیاد ہیئت  پر توجہ صرف کی جائے تو کوئی واقعہ؍ سانحہ بننے کے ساتھ قارئین؍ناقدین کے ذہنوں میں کرید پیدا کرنے یا یادداشت کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نئے افسانے میں موضوعاتی تنوع کی بات کریں تو صغیر رحمانی کا نام نمایاں طور پر ہمارے ذہنوں میں گردش کرنے لگتا ہے۔انھوں نے ایک زمانے سے افسانوی دنیا میں اعتبار قائم کیا ہے۔’واپسی سے پہلے‘ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو 2002ء میں اشاعت سے ہمکنار ہوکر مقبول خاص و عام ہوا۔مجموعے میں شامل اٹھارہ افسانوں میں کئی افسانوں نے باذوق قارئین کے ذہنوں کو اپنی جانب کشید کیا تھا۔زیر نظر مجموعہ’داڑھی‘میں بھی کئی افسانے قاری کو اپنی جانب توجہ کشید کرنے کی زبر دست صلاحیت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر پہلی ہی کہانی کو لیں جو مجموعے کی ٹائٹل کہانی بھی ہے جہاں ’’داڑھی‘‘ایک ایسی علامت بن کر ہمارے سامنے آتی ہے جو بے وفائی،دہشت گردی اور منافقت،تشدد،ڈر اور خوف کی ملی جلی عبارت ہے۔جو شخص داڑھی رکھ کر یا با شرع لباس میں سفر کرتا ہے تو دوسرے مسافر اُسے دزدیدہ نظروں سے دیکھ کر گھائل کردیتے ہیں،بات چیت تک کرنا گوارہ نہیں کرتے اور لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں داڑھی والا خود کو مجرم تصور کرنے لگتا ہے جیسا کہ مذکورہ افسانے کا بیانیہ ہے۔کہانی ایک عورت اور آٹو ڈرائیور کے باہمی کلام سے آگے بڑھتی ہے۔عورت،عوام کی نمائندہ ہے۔وہ جب اسٹیشن پہنچتی ہے تو ہر سٗو لوگوں کے دلوں میں خوف اور وحشت طاری ہے۔معلوم کرنے پر پتا چلتا ہے کہ کسی دوسرے شہر میں دہشت گردانہ حملہ ہواہے جس نے پورے ملک کو اپنے حصار میں لے لیا ہے اور اسی لیے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر تحفظ کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔عورت چوں کہ عوام کی نمائندہ ہے اسی لیے وہ بھی خوف زدہ ہے اور یہ کیفیت اس وقت تک طاری رہتی ہے جب تک وہ سفر ختم نہیں کر لیتی۔جس مشکوک شخص کی وجہ سے عورت کے دل میں وسوسے گھر کر لیتے ہیں،وہ فوراً  ہی غائب ہوجاتا ہے گویا وہ بھی حالات سے خائف ہے۔ایسے وقت میں کہانی نیا موڑ اُس وقت لیتی ہے جب عورت ٹرین سے اترتے ہی اللہ کا شکر ادا کرتی ہے۔اس طرح سے یہ کہانی اُن باطل رویوں کا بھی انکار کرتی ہے جو یہ سمجھنے کی بھول کر بیٹھے ہیں کہ دہشت گرد فقط مسلمان ہی ہوتے ہیں کیوں کہ اس کہانی میں خوف زدہ ہونے والا بھی مسلمان ہے اور جس کے ذریعے خوف پیدا ہو رہا ہے وہ بھی اسی قبیلے کا ایک فرد ہے۔اس طرح سے دیکھیں تو داڑھی والا شخص تذبذب کے عالم میں سفر کرنے پر آمادہ ہے،سفر جو زندگی کے رزم وبزم کا استعار ہ ہے، سفر جس سے مفر نہیں بلکہ یہ مسلسل جد و جہد کی علامت ہے۔کہانی میں سفر کرنے والا شک و شبہے کے حصار میں ہے،دوسری جانب مذہبیت کا پٹّا  اُس کے گلے میں بندھا ہوا ہے۔اس کہانی میں دو واضح پہلو شانہ بہ شانہ چلتے ہیں اوّل تو یہ کہ ہندوستان یا دوسرے ممالک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اُس کے واحد ذمے دار ’’داڑھی والے‘‘ہیں جنھوں نے زمین پر فساد پھیلا یا ہوا ہے(جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے) اور ثانیاًیہ کہ اس شک کو مزید ہوا دینے میں برقی میڈیا نے کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔
دہشت کردی کی ایک قسم تو وہ ہوتی ہے جس کا ذکر ’’داڑھی ‘‘میں ہے لیکن دوسری صورت اور بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے اور وہ اس وقت نظر آتی ہے جب کسی شریف الطبع  نوجوان کو بنا کسی جرم کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے۔جیسا کہ افسانہ ’’لیکن یہ.....‘‘میں ہے، جہاں کریم بخش ،محلے کے شریف ترین بزرگوں میں شمارکیے جاتے ہیں،مسلم ،ہندو،سکھ عیسائی سب اُن کی عزت کرتے ہیں،بھروسا کرتے ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن جب کریم بخش کے بیٹے کی بات آتی ہے تو عملۂ پولیس بلا تردد کہہ دیتی ہے کہ ’’اسلام دہشت گرد کے ہاتھوں لگ گیا ہے۔‘‘یہاں یہ بات قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مولوی کریم بخش کے بیٹے کا نام بھی اسلام ہے۔جب وہ اپنے بیٹے کی لاش کی شناخت کرنے جاتے ہیں تو اُن کا یہی جملہ ہوتا ہے کہ ’’ہاں...میں اسے پہچانتا ہوں....یہ میر ابیٹا تھا لیکن....یہ اسلام نہیں ہے.....‘‘دونوں افسانوں کا منظر نامہ یوں تو ہندوستان کا ہی ہے لیکن ان مسائل سے پوری دنیا نبرد آزما ہے،جہاں ایک خاص طبقے کو ہر طرح کے ظلم وستم کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے اور کوئی بھی حادثہ رونما ہو تو اُس کی ذمے داری بھی وہی ایک خاص گروپ قبول کرتا ہے۔ظاہر ہے یہ باتیں مکمل طور پر صحیح نہیں ہو سکتیں،ان کے پس پشت کئی وجوہات کار فرما ہوتی ہیں۔صغیر رحمانی نے اپنے افسانوں میں ان بین الاقوامی مسائل کو جگہ دے کرنئے موضوعات کی جانب ایک جست لگائی ہے۔ان کے پسندیدہ موضوعات میں جنسی پے چیدگیاں،نفسیاتی کشمکش،مسلم تہذیب،اسلامی روایات اوراقلیتی مسائل خاص طور پر اہم ہیں۔ وہ افسانوں میں موضوعات کے ساتھ بھرپور مواد کو یکجا کرکے خامیوں کی جانب بھی اشارے کرنا نہیں بھولتے ہیں۔افسانہ ’’جہاد‘‘ایک ایسے ہی ضعیف الاعتقاد نوجوان کی کہانی ہے جس کے اندر اسلامی تعلیمات کی بُو باس ذرہ برابر بھی نہیں ہے ساتھ ہی وہ اسلام کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہتا ہے لیکن ظاہر سی بات ہے،اس سے مذہب کو نقصان ہی پہنچے گا۔اسی طرح ’’سیڑھیاں‘‘ ریزرویشن کی کہانی ہے۔چودھری شجاعت حسین،جو کسی زمانے میں زمیندار ہوا کرتے تھے لیکن وقت اور شب و روز کی گردش نے ایسا پلٹا کھایا کہ اُن کا نام فقط نام تک ہی محدود ہو کر رہ گیا۔حد تو یہ ہے کہ چودھری صاحب کا صاحبزادہ امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا محض اس وجہ سے کہ اُس کا شمار کسی خاص طبقے سے نہیں ہے۔ریزرویشن کی بات آئی ہے تو سر دست افسانہ’’ناف کے نیچے‘‘کا ذکر اس ضمن میں نہایت ضروری ہے۔صغیر رحمانی واحد ایسے فن کار ہیں جنھوں نے دلت طبقے کو ’ناف کے نیچے‘سے تعبیر کیا ہے۔یوں تو دلت موضوع و مسائل کے حوالے سے نئی صدی میں کئی اہم کہانیاں خلق کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے لیکن اس جم غفیر میں صغیر رحمانی کا اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے موضوعاتی سطح پر قارئین کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔یہ ذہنی مشاقی کا ثبوت ہی ہے کہ ان کے تازہ ناول’’تخم خوں‘‘میں بھی دلت موضوع کو بنیادی حوالہ بنایا گیا ہے۔وہ کرداروں میں ڈوب کر کہانیاں رقم کرتے ہیں ۔کہانی’’ناف کے نیچے‘‘میں ہندو دیو مالا سے استفادہ کرتے ہوئے ازل سے ابد تک دلت طبقے کے ساتھ ہو رہی نا انصافی کی تاریخ کو علامتی انداز میں بیان کیا ہے اور یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اشرف المخلوقات نے جتنی بھی ترقی کی منازل طے کر لی ہوں لیکن وہ ذہنی طور پر وہ لکیر کے فقیر ہی ہیں جو بہ ظاہر بنی نوع انسان پر براہ راست طنز ہے۔
صغیر رحمانی کے تازہ مجموعے ’’داڑھی‘‘میں شامل دس افسانے الگ ذائقے کے ہیں اور اُن میں زندہ رہنے کی صلاحیت بہ درجۂ اتم موجود ہے۔ان کے موضوعات و تکنیک کی انفرادیت کا ہی نتیجہ ہے کہ قاری کو صغیر رحمانی کے افسانوں کا انتظار رہتا ہے۔قوی امید ہے کہ یہ مجموعہ قارئین کی دلچسپی کا سبب بنے گا۔
***
 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.