’’منٹو : ایک مطالعہ‘‘ اور پروفیسر وارث علوی




نوشاد منظر
18 May, 2017 | Total Views: 615

   

وارث علوی کی شناخت بنیادی طور پر ایک ناقد کی ہے پروفیسر وراث علوی نے جب تنقیدی مضامین لکھنا شروع کیا اس وقت محمد حسن عسکری ،فراق گورکھپوری ،ممتاز حسین اور احتشام حسین وغیرہ کے تنقیدی افکار ونظریات مختلف مضامین اور کتابوں کے ذریعے ادب میں نئے تصورات ونظریات کو فروغ دے رہے تھے ۔بعد میں اس مشن کو خلیل الرحمٰن اعظمی ،باقر مہدی ،محمد حسن اور وارث علوی وغیرہ نے آگے بڑھایا ۔
وارث علوی نے کئی اہم تنقیدی مضامین اور کتابیں لکھیں ہیں،جن میں احتجاجی ادب، جدید افسانہ اور اس کے مسائل، ادب میں آئیڈیا لوجی کا مسئلہ ،فکشن کی تنقیدکا المیہ ، مطالعہ راجندر سنگھ بید ی اور منٹو ایک مطالعہ قابل ذکر ہیں۔ان کتابوں کے علاوہ وارث علوی کے کئی اہم مضامین بھی شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔کتاب منٹو ایک مطالعہ کے ذریعے وارث علوی نے مایہ ناز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے ادبی کارنامے کا احاطہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔سعادت حسن منٹو اردو افسانے کا جتنا بڑا نام ہے اتنا ہی متنازعہ بھی ۔منٹو پر اعتراض کرنے والوں کی ایک فہرست سے جو منٹو کو جھکّی فراڈ بلکہ فحش نگار تک کہنے سے گریز نہیں کرتا ۔مگر کیا واقعتا منٹو پر لگائے گئے الزامات صحیح ہیں ؟دراصل منٹو کے موضوعات سماجی بھی ہیں ،سیاسی اور نفسیاتی بھی ہیں ۔
سعادت حسن منٹو بنیادی طور حقیقت نگارہیں،منٹو نے سماج کو جس طرح دیکھا ٹھیک اسی طرح اسے پیش کردیا مگر منٹو کے افسانوں میں نعرہ بازی نہیں ۔منٹو ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے نا واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے ۔اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابل برداشت ہے ۔میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ،جس نقص کو میر ے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ،وہ در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے ‘‘
(بحوالہ سعادت حسن منٹو ،مرتبہ ،پریم گوپال متل ،ص:14(
منٹو نے جس درد ،تکلیف اور سماجی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے ،ا س سے خود منٹو کی تکلیف اور درد کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ظاہر ہے منٹو جس ماحول میں افسانہ لکھ رہے تھے وہ دو معنوں میں اہم تھا ۔ایک طرف جہاں ہندوستانی سماج معاشی اور اقتصادی بحران سے گزررہا تھا تو دوسری طرف ادبی صورت حال بھی بدل رہی تھی مجموعی طو ر پر یہ دور ترقی پسندوں کے عروج کا دور تھا ۔ سعادت حسن منٹو بھی ان معنوں میں ترقی پسند تھے کہ ان کے افسانو ں میں سماج کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔منٹو کا شمار شدت پسندوں میں شاید اس لیے بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ایک اچھے فوٹو گرافر کی طرح تصویر کھینچتے ضرور ہیں مگر اس میں نہ تو کسی قسم کی غیر ضروری آرائش ہے اور نہ ہی اپنی تصویر پر رائے زنی ۔
منٹو کے یہاں نعرہ بازی نہیں اور نہ ہی ادب کے نام پر کسی قسم کی سیاسی مصلحت ہے ۔ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ باضابطہ طور پر کسی سیاسی نظریے کے قائل نہیں تھے۔شاید اسی لیے سعادت حسن منٹو کو اس قدر پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کے وہ حق دار تھے،اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ منٹو کو کبھی ترقی پسند تو کبھی رجعت پسند کہا گیا ۔ منٹو کے افسانوں کے موضوعات ،کردار اور کہانی کے علاوہ منٹو کی شخصیت پر متعدد مضامین لکھے گئے ،کئی کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں ۔ وارث علوی کی تصنیف ’’منٹو ایک مطالعہ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔مذکورہ کتاب میں منٹو کے متعلق بارہ مضامین شامل ۔ 
کتاب ’’منٹو ایک مطالعہ‘‘ کا پہلا مضمون’’منٹو کا ادبی شعور ‘‘ہے۔ اس مضمون میں پروفیسر وراث علوی نے منٹو کی غیر افسانوی تحریروں کی روشنی میں منٹو کی تنقیدی فکرکا مطالعہ پیش کیا ہے، حالانکہ منٹو کا شمارہ ناقد میں نہیں ہوتالیکن منٹو کے مضامین ،خطوط ،تراجم اور دیباچے سے منٹو کے تنقیدی شعور کا اندازہ ضرور ہوتا ہے ۔ وارث علوی نے بھی اپنے مذکورہ مضمون میں منٹو کی ان ہی تحریروں کاجائزہ لیا ہے ۔وراث علوی لکھتے ہیں :
’’منٹو کی ادبی زندگی کا آغاز تراجم سے ہوا ،چنانچہ اس کی ابتدائی ناقدانہ نگار شات بھی وکٹر ہیوگو کی سرگزشت اسیر کا دیباچہ ،گور کی افسانوں کا دیباچہ جو کا فی اضافہ کے ساتھ اس کے مضامین میں شامل ہے اور ہمایوں کے روسی نمبر میں روسی ادیبوں پر قدرے طویل اور پشکن پر مختصر تعارفی مضمون شامل ہے ۔ان نگار شات کی اہمیت اب تاریخی رہ گئی ہے البتہ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ادب کے ایک پرشوق قاری کے بطون میں ایک مصنف کیسے تشکیل پارہا ہے ۔ان مضامین کا اندازبڑی حد تک تاریخی ،سوانحی اور تعارفی ہے ۔مغرب پر لکھے گئے ہمارے اکثر مضامین کی طرح منٹو کے یہ مضامین بھی عالمانہ کم اور صحافیانہ زیادہ ہیں ۔عالمانہ مضمون فن کار کے کارناموں کے بیان کے ساتھ ساتھ اور اس سبب سے ہمیشہ سرچشمہ بصیرت رہتا ہے ۔منٹو کی عمر کو دیکھتے ہوئے ایسی عالمانہ گہرائی اور گہرائی کی توقع اس سے عبث ہے ‘‘۔
)منٹو ایک مطالعہ ،ص:9(
منٹو ناقد نہیں تھے اور نہ ہی ان کے یہاں کوئی تنقیدی نظام ملتاہے ،ایسے میں ان سے یہ امید کرنا کہ وہ تنقید کا کوئی اصول وضع کریں گے ان کے ساتھ نا انصافی ہوگی ،دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ دیباچہ یا مختصر تعارف لکھتے وقت تفصیل کی گنجائش کم ہی رہتی ہے ۔منٹو نے مقدمات اور دیباچہ کے علاوہ خطوط بھی لکھے ہیں جسے وارث علوی منٹو کے تنقیدی شعور کی جھلکیوں کا دوسرا ماخذ بتاتے ہیں۔یہ خطوط منٹو نے احمد ندیم قاسمی کے نام ۱۹۳۷ سے ۱۹۴۷ کے درمیاں میں لکھے تھے۔منٹو کے خطوط کا جائزہ لیتے ہوئے وارث علوی لکھتے ہیں:
’’یہ خطوط اس کی ادبی زندگی کے تشکیلی دور کی یادگار ہیں ۔لہذا ادب کے متعلق اس کے خیالات میں بے تکلفی اور بے ساختہ پن ہے وہ کٹرپن اور کٹھور پن نہیں جو خود ساختہ عقائد کے جڑ پکڑ لینے کا نتیجہ ہوتا ہے ۔‘‘
(منٹو ایک مطالعہ :ص 9(
منٹو کے جو بھی خطوط ہیں ظاہر ہے اس سے بھی منٹو کے تنقیدی شعور کا اظہار ہوتا ہے۔منٹو کے جن خطوط کے اقتباسات یا حصے وارث علوی نے اپنے مضمون پیش کیے ہیں ان کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خطوط ذاتی نوعیت کے نہیں ،بلکہ ان خطوط میں منٹونے اپنے افسانہ نگاری کے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔منٹو کے افسانوں کی تفہیم میں بھی یہ خطوط کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں وہ اس لیے کہ منٹو کے نزدیک کسی افسانے موضوع یا کردار کو پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی،اس کا اندازہ بھی ہمیں ان ہی خطوط سے ملتا ہے۔ منٹو نے ان خطوط میں اپنے معاصرین اور اپنے عہد کی ادبی صورت حال پر تبصرہ کیاوارث علوی نے منٹو کے ایک خط کا کچھ حصہ پیش کیا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’زیادہ افسوس ترقی پسند وں کا تھا جنہوں نے خواہ مخواہ سیاست کے پھٹے ہیں ٹانگ اڑائی۔ادب اور سیاست کا جو شاندہ تیار کرنے والے یہ عطا ئی کریملن کے تجویز کردہ نسخے پر عمل کررہے تھے ۔ مریض جس کے لیے یہ جوشاندہ بنایا جارہا تھا اس کا مزاج کیا ہے ،اس کی نبض کیسی ہے ۔اس کے متعلق کسی نے غور نہ کیا ۔‘‘
(بحوالہ :منٹو ایک مطالعہ ،پروفیسر وارث علوی ،ص:16(
منٹو کی اس تحریر سے یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ منٹو ترقی پسند تحریک کے مخالف تھے ۔خود وارث علوی نے بھی مذکورہ تحریر کو اس سیاق میں پیش نہیں کیا ہے ۔دراصل منٹو ادب میں سیاست کے مخالف تھے ،وہ نہیں چاہتے تھے کہ ادب میں روس کے سیاسی نظریات اپنائیں جائیں۔ظاہر ہے ہندوستان اور روس کا سیاسی اور سماجی پس منظر ہر لحاظ سے الگ تھا۔صرف نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہونے سے دونوں ملکوں کے سماجی نظام میں مطابقت پیدا نہیں کی جا سکتی،جب کہ ترقی پسند تحریک پوری طرح روس اور وہاں کے ادب سے متاثر تھی۔یہاں تک کہ شدت پسندوں کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جس نے غور و فکر کے بغیر روس کے ادبی اور سیاسی نظریات کو اپنانے کی وکالت کررہا تھا،ممکن ہے ترقی پسند ادیبوں سے منٹو کی ناراضگی کی یہی وجہ رہی ہو،وارث علوی نے منٹوکو ایک کشادہ ذہن فن کاربتایا ہے جس نے رجعت پسندی،اخلاقی تنگ نظری،مذہبی کٹرپن،فرقہ پرستی اور معاشی استحصال کے خلاف جنگ کی۔مذکورہ مضمون ان معنوں میں بھی اہم ہے کہ وارث علوی نے جس طرح منٹو کی غیر افسانوی تحریروں کی روشنی میں منٹو کے تنقیدی شعور کو نشان زد کرنے کی کوشش کی ہے وہ یقیناًاہم ہے۔
’’منٹو ایک مطالعہ ‘‘کا ایک مضمون ’’عشق ومحبت کی کہانیاں‘‘ہیں ۔اس مضمون میں وارث علوی نے سعادت حسن منٹو کے ان افسانوں کا ذکر کیا ہے جو بہت مقبول نہیں ہوپائے ۔ایسے افسانوں کی تعداد پروفیسر وارث علوی نے چھ بتائیں ۔ ان کہانیوں کا مرکزی خیال ادھورے پیا ر کی داستان ہے ۔منٹو کا واحد اور نامکمل ناول جس کا عنوان ’’بغیر عنوان کے ‘‘ کوبھی اس حصہ میں شامل کیا گیا ہے۔ جن چھ افسانوں کو پروفیسر وارث علوی نے غیر مقبول بتایا ہے، ان میں ’لال ٹین ‘،’مصری کی ڈالی ‘ ،ٹیگور ‘نامکمل تحریر ،’موسم کی شرارت‘اور ’ایک خط‘ہیں ۔دراصل ان افسانوں کا تعلق یا تو منٹو کے ابتدائی زمانے سے ہے یا پھر آخری ایام سے۔ یہ افسانے بقول وارث علوی ذاتی مشاہدوں کے بنیاد پر لکھے گئے جس کی وجہ سے اسے مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ وارث علوی لکھتے ہیں :
’’یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اپنی زندگی کے ایک گہرے اور بڑے تجربہ سے سر برآہونے کے لیے منٹو نے چھ چھ افسانے لکھے ہیں لیکن ایک بھی افسانہ کو کامیابی نصیب نہ ہوئی ۔وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بڑا آرٹ فنکار کے ذاتی اور نجی تجربات سے پید ا ہوتا ہے ۔ان کے لیے یہ لمحہ فکر یہ ہے ۔‘‘
(منٹو ایک مطالعہ ،ص:51(
افسانے کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے ناقدین نے اکثر یہ بات دہرائی ہے کہ افسانوں کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں ذاتی مشاہدات کا بہت دخل ہوتا ہے، مگر آخر ایسی کون سی وجہ ہے کہ منٹو جیسا بڑا افسانہ نگار اس میں ناکام ہوجاتا ہے ۔ وارث علوی کے اس مضمون سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ منٹو کے جن چھ افسانوں کے بارے میں وارث علوی نے یہ کہا ہے کہ ان میں منٹو کے ذاتی مشاہدات نظر آتے ہیں اوران افسانوں کو مقبولیت نہ ملنے کہ وجہ بھی وہی ذاتی مشاہدات ہیں۔مگربنیادی سوال یہ ہے کہ وارث علوی نے کن بنیادوں پر یہ بات کہی ہیں کہہ رہے ہیں؟کیاان چھ افسانوں کے علاوہ منٹو نے جو افسانے لکھے اور جسے مقبولیت بھی ملی ان میں منٹو کے ذاتی مشاہدات نہیں ؟میں نے اسی مضمون کی ابتدا میں منٹو کا ایک اقتباس پیش کیا تھا جس سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ منٹو کے بیشتر افسانوں میں ان کی ذاتی مشاہدات کا دخل ہے ۔ اقتباس دیکھئے:
’’زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے نا واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیے ۔اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابل برداشت ہے ۔میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ،جس نقص کو میر ے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ،وہ در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے ‘‘
(بحوالہ سعادت حسن منٹو ،مرتبہ ،پریم گوپال متل ،ص:14(
منٹو کے اس اقتباس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ ان کے افسانوں میں پیش کہانی اور واقعات ان کے اپنے ماحول کی پیداوار ہیں ۔منٹو کے ان خیالات کی روشنی میں منٹو کے افسانوں کو دیکھنا ضروری نہیں،لیکن منٹو کے غیر ترقی پسند نقادوں نے منٹو کے افسانوں کو جس طرح دیکھا ہے اس میں ماحول اور زمانہ وغیرہ کو کوئی خاص اہمیت نہیں ہے،انتہا یہ ہے کہ منٹو کی زبان کو ہی سب کچھ سمجھا گیا۔اس زبان کی شدت،حرارت،کاٹ کو منٹو کی داخلی تڑپ سے وابستہ کیا گیا لیکن یہ حقیقت فرامقش کردی گئی کہ داخلی تڑپ کا باہر کی دنیا سے تعلق نہیں ہے۔اور منٹو جسے موجودہ نظام کا نقص کہتے ہیں وہ کوئی چھوٹی اور سادہ سی بات نہیں، اس میں زندگی اور زمانے اور کسی خاص خطے کی تلخ ترین سچائیاں پوشیدہ ہیں۔منٹو نے ان سچائیوں کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور محسوس کیا،اس لیے ان کے یہاں ایک وجودی فکر در آئی ہے۔باوجود اس کے پروفیسر وارث علوی نے جن چھ افسانوں کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ ان افسانوں کی ناکامی کی وجہ منٹو کے ذاتی اور نجی مشاہدات ہیں یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی ۔ممکن ہے ان افسانوں میں منٹو کے مشاہدات فن پر حاوی ہو گئے ہوں۔
کتاب ’’منٹو کا ایک مطالعہ ‘‘کا ایک مضمون ’’جنسی نفسیات اور پرورژن کے افسانے ہیں ۔منٹو کے افسانوں پر یہ کہہ کر سخت تنقید کی گئی کہ منٹو کے افسانوں میں جنس کو فوقیت دی گئی ہے۔ بعض لوگوں نے ایک خاص ذہن سے منٹو کا مطالعہ کیا اور منٹو کو فحش نگار ثابت کرنے کی کوشش کی جس سے تفہیم منٹو میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔جب کہ منٹو فحش نگار نہیں اور نہ ہی انہوں نے جنس کو لذت اور تفریح کے لیے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔منٹو لکھتے ہیں :
’’اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابل برداشت ہے ۔ میں تہذیب وتمدن اور سو سائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی ۔۔۔۔!!میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا اس لیے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا ہے ۔۔۔‘‘
(سعادت حسن منٹو۔۔۔۔۔۔۔ (
جہاں تک منٹو کے افسانوں میں جنس کا تعلق ہے تو منٹو سے قبل بھی ادب میں جنسی موضوعات تھے۔عورت اور مرد کا رشتہ ازلی ہے ۔ابتدا ہی سے جنس ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے ۔الہامی کتابوں میں بھی جنس کا ذکر ملتا ہے ۔ان کتابوں میں بھی مرد اور عورت کے رشتہ کو شرم ناک نہیں بلکہ مقدس بتایا گیا ہے ۔منٹو نے بھی جنس کے مسئلے پر لکھا۔ وارث علوی لکھتے ہیں:
’’منٹو کے نزدیک تمام انسانی تعلقات کی اساس مرد اور عورت کا رشتہ ہے۔اس کے محور سے دوسرے رشتوں کے تار نکلے ہیں جو جیون چکر کو گردش میں رکھتے ہیں۔عورت اور مرد کے اسی رشتہ سے محبت و نفرت،رشک و حسد،خود غرضی اور ایثار نفسی۔اطاعت و حکمرانی،تسلط و ملکیت،خود پسندی اور بے لوثی،سادیت اور ساکیت کے بے شمار جذباتی ڈرامے جنم لیتے ہیں۔سادہ لوح پڑھنے والے اس رنگا رنگی کو دیکھ نہیں پائے اور انہیں صرف جنس کی یک رنگی نظر آئی۔یہ منٹو کے ساتھ بڑی نا انصافی تھی۔‘‘
(منٹو :ایک مطالعہ۔ص ۶۵(
وارث علوی نے جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی فن پارے کی تفہیم کرتے وقت اس عہد کی سیاسی،سماجی اور معاشی صورت حال سے واقف ہونا ضروری ہے۔منٹو کے افسانوں کو بھی ان کے عہد کے سیاق میں دیکھنا چاہیے۔منٹو نے خود بھی یہ بات بار بار دہرائی ہے کہ اس زمانے کی مجموعی صورت حال پر کیا تھی۔ اور جہاں تک منٹو کے افسانوں میں جنس کا تعلق ہے تو اس کے متعلق پروفیسر وراث علوی لکھتے ہیں :
’’جنس منٹو کا پسندیدہ موضوع ہے ۔لیکن منٹو نے جنس ترغیبات یا جنسی اشتعال کے افسانے نہیں لکھے جیسی جنس عریاں نگاری مغرب کی جدید ادبی ناولوں میں نظر آتی ہے وہ بھی منٹو کے یہاں نہیں ملتی ۔‘‘
(منٹو ایک مطالعہ ،ص:66(
منٹو کے یہاں جنس جسم نہیں بلکہ انسان وجود کی تکمیل اور روحوں کے ملاپ کا نام ہے۔ منٹو افسانوں کو دلچسپ بنانے کے لیے کسی غیر ضرور ی واقعات اور تفصیلات سے کام نہیں لیتے بلکہ ان کی کہانیوں کو پڑھتے ہوئے بے ساختگی اور برجستگی کا احساس ہوتا ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ کہانیاں منٹو کے ذہن سے نکل کر افسانے کا حصہ بن گئی ہے ۔یہی منٹو کی خوبی ہے ۔منٹو کے افسانوں کو پڑھنے کے بعد میری ناقص رائے یہ ہے کہ جن لوگوں نے منٹو کو فحش نگار گردانا ہے وہ دراصل افسانے کی تفہیم سے پوری طرح قاصر ہیں۔
وارث علوی کا ایک مضمون بعنوان ’’ٹو بہ ٹیک سنگھ‘‘بھی اس کتاب میں شامل ہے ۔منٹو کے وہ افسانے جو شائع ہوتے ہی مقبول عام وخواص ہو گئے ان میں افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ کا بھی ہے ۔ افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘تقسیم ہند اور اس کے بعد پیش آئے واقعات پرمشتمل ہے ۔ تقسیم ہند کو ہمارے بہت سے افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ۔اس طرح تقسیم ہند پر لکھے گئے افسانوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ۔باوجود اس کے افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘نے اپنی انفرادیت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ ممتاز شیریں اور دیگر ناقدین نے افسانہ ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کو منٹو کی بہترین افسانوں میں شمار کیا ہے۔منٹو انسان اور زمین کے رشتے کو ایک الگ سیاق میں پیش کرنا چاہتے تھے ۔وارث علوی لکھتے ہیں :
’’گمان گزرتا ہے کہ منٹو کو خیال آیاہوگا کہ تقسیم کے ساتھ جب سیانے لوگوں کی بستیاں ہجرت کرگئیں تو کیوں نہ نقل مکانی کے اس تجربہ کو ایک پاگل کے ذریعے بیان کیا جائے ممکن ہے ایک پاگل کے مطالعہ کے ذریعے انسانی فطرت کے کچھ ایسے رموز منکشف ہوں ،انسان اور زمین کے رشتہ کے کچھ ایسے ڈائمنشن سامنے آئیں جو نارمل لوگوں کے مطالعہ کے ذریعے ظاہر نہیں ہوتے ۔‘‘
(منٹو ایک مطالعہ،ص:202(
’’
ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا کردار بھی انوکھا اور منفرد ہے ۔ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کا موضوع گرچہ تقسیم ہند ہے، جہاں دوسری تمام چیزوں کے بٹوارے کے ساتھ ساتھ پاگلوں کا بھی بٹوارہ ہوجاتا ہے ۔مگر اس افسانے کا سب سے اہم پہلو اپنی مٹی سے محبت ہے،کیونکہ پورے افسانے میں بشن سنگھ آزادی کی بات نہیں کرتا اور نہ ہی رہائی چاہتا ہے ۔ بشن سنگھ جو مذکورہ افسانے کا مرکزی کردارہے وہ ایک ہی سوال کرتا ہے کہ آخر ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے ؟اس پاگل کی ایک ہی ضد ہوتی ہے کہ جہاں ٹوبہ ٹیک سنگھ ہے وہ وہیں جائے گا ۔ متکلم نے افسانے کی ابتدامیں ہی اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ وہ جگہ ہے جہاں بشن سنگھ اور اس کا خاندان آباد تھا، اور جہاں اس کی زمینداری تھی۔ وراث علوی لکھتے ہیں :
’’تو گویا اس پاگل سکھ کا فیصلہ تھا کہ جہاں ٹوبہ ٹیک سنگھ رہے گا وہی وہ بھی رہے گا ۔تمام رشتے ناتے اور خارجی دنیا سے تعلق ٹوٹنے کے باوجود اس کے گاؤں سے اس کی زمین سے اس کا رشتہ برقرار تھا ۔‘‘
(منٹو کا ایک مطالعہ ،ص:208(
افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘محض ایک افسانہ نہیں بلکہ اس سیاسی نظام بلکہ سیاست دانو ں کی پیدا کردہ مجبوری پر طنز ہے جس کی پاداش میں تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا۔ منٹو نے جس چابکدستی سے سماجی نظام کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا ہے وہ یقیناًقابل تعریف ہے ۔
منٹو کے افسانوں کی از سر تفہیم کی ضرورت ہے ۔ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم ایک گزرے ہوئے واقعہ پر مشتمل کوئی کہانی پڑھ رہے ہیں۔
پروفیسر وارث علوی نے افسانے کی تنقید کو ایک نئی سمت دی۔ان کی تنقید کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ آسان جملوں میں اپنی بات کرتے ہیں ،بات کو الجھاتے نہیں آسان اور عام فہم انداز ، زبان سادہ اور تنقید سلجھی ہوئی ہوتی ہے۔

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.