منٹو کے افسانوں میں انسانیت نوازی اور رواداری کے زاویے




محمد ریحان
23 May, 2017 | Total Views: 589

   

ادب انسانیت کی اعلی قدروں کا امین ہو تا ہے۔ اس میں نہ کسی ایک فرقے کی نمائندگی کی جاتی ہے اور نہ  ہی کسی ایک مذہب کی۔ ا س کی تخلیق میں انسانی ذہن و دماغ کی تربیت و تشکیل پنہا ں ہوتی ہے۔ انسانیت نوازی کے تمام لوازمات ایک ادیب کا ایمان و عقیدہ ہو تے ہیں۔ ادب میں انسان دوستی ، رواداری اور آدمیت کی حیثیت محض موضوعات کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ بقول شمیم حنفی انسان دوستی کا احساس تخلیقی تجربے کی بنیاد میں شامل ہو تا ہے۔ یعنی انسان دوستی ادب سے الگ کوئی چیز نہیں۔ ادب کی آفاقیت در اصل انہی اوصاف کی بنیادپر قائم ہوتی ہے ۔ انسان دوستی کارجحان ادیب کی فکری ترجیحات میں کس قدر شامل ہوتاہے یا ہونا چاہئے اس کا اندازہ آندرے مالرو کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔
اگر ہمیں فکر کا ایک گہرا ، با معنی ، مثبت اور انسانی زاویہ اختیار کرنا ہے تو لا محالہ 
ہمیں دو باتوں پر انحصار کرنا ہوگاایک تو یہ کہ زندگی با لاخر ہمارے اندر ایک طرح 
کا المیاتی احساس پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی تمام تر فکری اور مادی 
کامرانیوں کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم کہا جا رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہمیں
بہر حال انسان دوستی کا سہارا لینا ہوگا۔ (منٹو : حقیقت سے افسانے تک،شمیم حنفی، ص،234)
یعنی انسان دوستی کا نظریہ ہماری مثبت اور گہری فکری صلاحیتوں کا ضامن ہے۔ اس سے لاتعلقی اختیار کر کے تخلیق کیا جانے والا ادب آفاقیت کے عناصر سے خالی ہوگا۔ ادیب انسانوں کے درمیان رہتا ہے ۔ غیر انسانی عناصر بھی اسی انسانی گروہ کے بیچ سانس لیتے ہیں اور انسانی رواداری کی فضا ناخوشگوار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک ادیب یہ سب کچھ دیکھتا ہے اور اس سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ وہ نفرت کرنے والوں کی نفرت بھی دیکھتا ہے اور اس کی زہر انگیزی سے پریشان معصوم لوگوں کی نفسیات کا بھی مطالعہ کرتا ہے اور پھر دو طرح کی نفسیات میں جینے کے بعد اپنی تخلیق کے ذریعہ ایسی زمین تیار کرنے کوشش کرتا ہے
جس میں محبت و ہمدردی کے پودے اگتے ہیں ۔ ادیب کسی بھی صورت میں انسان اور اس کے مسائل سے الگ نہیں رہ سکتا ۔ اس حقیقت کو البیغ کامیو نے۱۹۵۷ میں ادب کا نوبل انعام لیتے وقت اپنی تقریر میں بیان کیا تھا:
L'art n'est pas a' mes yeux une re'jouissance solitaire. Il est un moyen d'e mouvoir le plus grand nombre d'hommes en leur offrant une image privilgie des souffrances et des joies communes. 
میرے لیے آرٹ تنہائی کا جشن نہیں ہے۔ میرے لیے یہ انسان کی بڑی سے بڑی تعداد
کے لیے اپنے مشترکہ دکھ سکھ کی ایک استثنائی شبیہ کے واسطے سے ، ان کے دلوں کو چھو لینے
کا وسیلہ ہے۔
ادب کی روایت انسان دوستی کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ وہ ادب چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس روایت کو تقویت فراہم کرنے میں منٹو کے فکشن نے کتنا حصہ لیا؟ اس کی جڑوں کو مظبوط کرنے میں کس طرح کے افسانے تخلیق کئے؟ نفرتوں کی خوفناک تاریکی دور کرنے کے لیے محبتوں کے دیے کیسے روشن کیے؟انسان کے دلوں میں پیدا ہونے والے خود انسان کے خوف کو کس طرح پیش کیا اور پھر انسانی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے احساسات کو  قاری کے دلوں میں کیسے منتقل کیا ؟جب ہم منٹو کے افسانوں میں انسانی رواداری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں تو اس طرح کے سوالات کا ہمارے ذہن میں آنا فطری ہے۔ منٹو کے ان افسانوں میں جو تقسیم ، فسادات اور ہجرت کے موضوع پر لکھے گئے ہیں ان میں ہمیں مذکورہ سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ 
منٹو ایک ایسے وقت میں افسانہ تخلیق کر رہا تھا جب کہ عالمی سطح پر دو بڑی جنگیں لڑی جا چکی تھیں ۔ خود ہمارا ملک تقسیم کے درد اور اس کے نتیجے میں نہ ختم ہونے والے فسادات کے کرب سے جوجھ رہا تھا۔ملک تقسیم کیوں ہوا ؟ فسادات کے سلسلے کیوں چل پڑے؟ ان دونوں کاتعلق مذہب اور عدم رواداری سے ہے۔ منٹو نے اپنے اس کرب کو بڑے تلخ انداز میں پیش کیا ہے کہ انسانیت جو ہر مذہب کی ایک مشترکہ خصوصیت ہے اسے کیسے نظر انداز کر دیا گیا۔منٹوکسی مذہب پر الزام نہیں لگا تا  بلکہ وہ انسان سے مخاطب ہوتا ہے اور اس کی انسانیت کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ کبھی اس پر طنز کرتا ہے تو کبھی اسی انسان کے درمیان سے ایک ایسا کردار اٹھاتا ہے جو انسانیت اور انسان دوستی کا سبق دیتا ہے۔ تقسیم کے موضوع پر بہت سارے افسانے لکھے گئے ان میں منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ اس افسانے میں ایک پاگل کردار کے ذریعہ تقسیم کے پاگلپن کو دکھایا گیا ہے ۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد جہاں بہت ساری چیزوں کا بٹوارہ ہوا وہاں یہ بھی فیصلہ لیا جاتا ہے کہ مسلمان پاگلوں کو پاکستان اور ہندو پاگلوں کو ہندوستان منتقل کر دیے جائیں۔ بشن سنگھ کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہی ہے تو وہ ہندوستان جانے سے انکار دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی اسے سرحد کے پاس لایا جاتا ہے جہاں پر منتقلی کی کاروائی چل ہی رہی ہوتی ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر بشن سنگھ ایک فلق شگاف آواز کے ساتھ ایسی زمین پر گرتا ہے جس کے ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری طرف ہندستان ۔ کہانی یہیں پر ختم ہو جاتی لیکن قاری چونک پڑتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر ایک پاگل پر جگہ کی تبدیلی کا کیونکر اثر ہو سکتا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد یہ عقدہ کھلتا ہے کہ منٹو نے تو در اصل اس نام نہاد مہذب انسان پر طنز کیا ہے جو مذہبی جنون میں اتنی دور تک نکل گیا ہے کہ مذہب کے نام پر تقسیم کرنے میں شرم و عار محسوس نہیں کرتا ۔ بشن سنگھ پاگل ہے مگر اتنا باشعور ہے کہ وہ اپنی ہی مٹی اور اپنے انہیں لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے جن کے ساتھ وہ رہتا آیا ہے۔ بشن سنگھ کا ایک فلق شگاف آواز کے ساتھ گرنا اپنے اندر بہت سارے معنی پوشیدہ رکھتا ہے۔ اس کی فلق شگاف آواز کا مطلب در اصل روسی ناول کینسر وارڈ کے یہ الفاظ ہیں کہ زمیں پر انسان کی تقسیم کیونکر ممکن ہو سکتی ہے جب کہ انجام کار سب کو مر جانا ہے۔ منٹو کا اس جگہ کو بے نام کہناجہاں پر بشن سنگھ کی لاش پڑی ہے استعارے کی زبان میں یہ وہ زمین ہے جس کا تعلق نہ ہندو مذہب سے ہے نہ مسلمان سے بلکہ انسان سے ہے۔ منٹو نے بشن سنگھ کے کردار اوراس کے مکالمے کے ذریعہ جہاں اور بہت سارا پیغام دینے کی کوشش کی ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان کو انسان کے ہی درمیان سے مذہب کی بنیاد پر جدا کرنا اور ان میں فرق پیدا کرنا انسانیت کے ہی خلاف ہے۔ 
فرقہ وارانہ درندگی اور مذہبی جنون کے مارے ہوئے لوگوں کو مذہبی رواداری اور انسانیت نوازی کا سبق دینے والا منٹو کا افسانہ سہاے اس ادبی روایت کی ایک مضبوط کڑی ہے جوانسان دوستی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ضامن رہی ہے۔ یہ کہانی مذہبی منافرت اور فساد کے موضوع کے ارد گرد گھومتی ہے ۔ اس کہانی کا آغاز ہی انسانیت کی بے نظیر مثال پیش کرتا ہے۔ 
’’یہ مت کہو کہ ایک لاکھ ہندو اور ایک لاکھ مسلمان مرے ہیں۔ یہ کہو کہ دو لاکھ
انسان مرے ہیں۔ اور یہ اتنی بڑی ٹریجڈی نہیں کہ دو لاکھ انسان مرے ہیں ۔ 
ٹریجڈی اصل میں یہ ہے کہ مارنے اور مرنے والے کسی بھی کھاتے میں
نہیں گئے ۔ ایک لاکھ ہندو مار کر مسلمانوں نے یہ سمجھا ہوگا کہ ہندو مذہب 
مر گیا ہوگا، لیکن وہ زندہ ہےا ور زندہ رہے گا۔اسی طرح ایک لاکھ مسلمان قتل کرکے 
ہندوؤں نے بغلیں بجائی ہو ں گی کہ اسلام ختم ہو گیاہے، مگر حقیقت آپ کے سامنے 
ہے کہ اسلام پر ایک ہلکی سی خراش بھی نہیں آئی ۔ وہ لوگ بے وقوف ہیں جو سمجھتے ہیں
کہ بندوقوں سے مذہب شکار کئے جا سکتے ہیں۔‘‘(افسانہ ۔ سہائے)
مذکورہ بالا عبارت کو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور موجودہ دور کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس کی الہامی حیثیت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا انسانیت کے پیغام کے لئے اس سے زیادہ موثر کوئی اور بات ہو سکتی ہے۔اس پیراگراف کے ایک ایک لفظ میں انسانیت کا یہاں منٹو کی فکر حقیقی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جو انسان دشمنی اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو آئینہ دکھارہی ہے کہ تم جس مقصد کے لئے انسانوں کے درمیان نفرت کا زہر گھول کر ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہواس کی کیا حقیقت ہے۔ یہ کتنی سچی اور حقیقی بات ہے کہ ایک مسلمان کے مر جانے سے نہ تو اسلام مرتا ہے اور نہ ایک ہندو کے ختم ہونے سے ہندومذہب ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن مذہب کے نام پر بلوا و فساد کرانے والے ایک انسان کو مارنے سے پہلے بھی اور مارنے کے بعد بھی مذہبی عینک سے دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کے مرنے والا بنیادی طور پر انسان تھا۔اگر اس بنیادی فرق کو انسان سمجھ لے تو شاید مذہبی منافرت کبھی اپنا پیر نہ پسار سکے۔سہائے میں پیش آنے والے دو واقعات کہانی کی اصل روح ہیں۔ ایک جگل کا لاہور سے اپنے چچا کی موت کی خبر پانے کے بعد ممتاز سے یہ کہنا کہ اگر اس کے محلے میں فساد شروع ہوا تو ممکن ہے وہ ممتاز کو مار ڈالے گا۔ اور یہ بات واضح رہے کے ممتاز اس کا دوست ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے۔ دوسرا واقعہ سہائے کی موت کا ہے جو مسلم محلے میں واقعہ ہوتی ہے۔ سہاے کی موت کہاں اور کیسے ہوتی ہے اس کا علم صرف ممتاز کو ہے اور وہ پاکستان جاتے وقت اپنے دوست سے کہتا ہے جو اس کو چھوڑنے جہاز تک آئے ہوئے ہیں۔سہائے زخمی حالت میں سڑک کے کنارے پڑا ہوا ہے ممتاز کی نظر اس پر پڑتی ہے وہ اس کے قریب جاتا ہے۔ سہائے اتنا شدید طور پر زخمی ہے کہ وہ کچھ بولنے سے بھی قاصر ہے مگر ممتاز کو دیکھ کر اپنے جسم کی ساری طاقت اور بچی ہوئی تھوڑی سی روح کی مدد سے جو کچھ ممتاز سے کہتا ہے وہ کچھ اسطرح ہے۔
’’نیچے بنڈی ہے ۔ ادھر کی جیب میں کچھ زیور اور بارہ سو روپے ہیں۔ یہ ...یہ سلطانہ 
کا مال ہے۔۔۔۔میں نے ۔۔۔میں نے ایک دوست کے پاس رکھا ہوا تھا۔۔۔آج
اسے۔۔۔۔آج اسے بھیجنے والا تھا ۔۔کیونکہ ۔۔۔کیونکہ آپ جانتے ہیں خطرہ بہت
بڑھ گیا ۔۔۔آپ دے دیجیے گااور۔۔۔کہیے گا فوراً چلی جائے۔۔۔لیکن اپنا خیال
رکھیے گا!‘‘(افسانہ ۔ سہائے)
یہ الفاظ اس سہائے کے ہیں جو لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کرواتا ہے اور جس پر مسلم محلے میں حملہ ہوا ہے۔ مرتے وقت بھی ممتاز کو اپنا خیال رکھنے کا مشورہ دینا اور سلطانہ کی امانت اس کے حوالے کرنا یہ وہ ڈرامائی کیفیت اور صورت حال ہے جس کے ذریعہ منٹو قاری کے اندر انسانیت کے جذبے کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ افسانے کے آغاز میں انسانیت کے تحفظ کا پیغام جتنے موثر طریقے سے بیان ہوا ہے اسی طرح اس کا اختتام بھی ایسے موڑ پر ہوتا ہے جو قاری کے اذہان وقلوب پر انسان دوستی کے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ وہ جگل جو ممتاز کو محلے میں فساد ہونے پر مار دینے کی بات کرتا ہے جہاز پر ممتاز کو چھوڑنے کے وقت ہجرت کے اس آخری لمحے میں اس کی کیا کیفیت ہے اس کو افسانے کا راوی اس طرح بیان کرتا ہے ۔
’’جب ہم ممتاز سے رخصت ہو کر نیچے اترے تو وہ عرشے پر جگلے کے ساتھ کھڑا تھا
اس کا داہنا ہاتھ ہل رہا تھا ۔ مین جگل سے مخاطب ہوا۔’’ کیا تمہیں ایسا معلوم نہیں ہوتا
کہ ممتاز سہائے کی روح کو بلا رہا ہے۔ ہم سفر بنانے کے لئے ؟‘‘
جگل نے صرف اتنا کہا’کاش میں سہائے کی روح ہوتا‘‘(افسانہ ۔ سہائے)
جگل کا ممتاز کی ہجرت کے وقت سہائے کی روح بن کر اس کا ہم سفر بننے کی خواہش کا واقعہ قاری کے ذہن پر انسان دوستی کے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ منٹو بھی در اصل جگل کے کردار کے ذریعہ اپنے قاری اور سماج کے لوگوں میں وہی ذہنی تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے جو جگل کے اندر ہوئی ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کے منٹو نے جگل کے کردار اور اس کے ذہنی رویے کی تبدیلی کو اتنے فطری انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری اس سے متاثر ہوئے بنا رہ نہیں سکتا۔
گورمکھ سنگھ کی وصیت ،موذیل اور دیکھ کبیرا رویا میں بھی منٹو نے ا نسان دوستی کی طرف اشارہ کیاہے۔ گورمکھ سنگھ کا میا ں عبدالحئی ریٹائرڈ جج کے گھر ہر سال عید کے موقعے سے سویاں لیکر جانا ہماری ہندوستانی تہذیب اور مختلف مذاہب کے پیروکار کی آپسی میل محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ تہوار اور دیگر تقریبات کے موقعے سے ہمارے ملک میں مختلف فرقے کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں ۔ اس لئے گورمکھ سنگھ کا میاں عبدالحئی کے گھر سوئیاں لے جانا قاری کے لئے کوئی بہت معنی نہیں رکھتا۔ منٹو اس حقیقت سے واقف تھا کہ محض اس کا ذکر کرنے سے قاری پر انسان دوستی اور مذہبی رواداری کا گہرا اثر مرتب نہیں ہوگا۔ اس لئے اس نے انسان دوستی کے پیغام میں مزید اثرانگیزی پیدا کرنے کے لئے گورمکھ سنگھ کی وصیت کا پلاٹ تیار کیا۔یہ وصیت کیا تھی اس کو مزید اثر انگیز بنانے کے لئے منٹو نے اسے کہانی کے آخر میں واضح کیا ہے۔ گورمکھ سنگھ کی وصیت کیا تھی خود اس کے بیٹے کی زبان میں سنئے:
’’ایک مہینہ ہو گیا ہے ۔ مرنے سے پہلے انہوں نے مجھے تاکید کی تھی کہ دیکھو بیٹا
میں جج صاحب کی خدمت میں پورے دس برس سے ہر چھوٹی عید پر سویاں لے
جاتارہاہوں ، یہ کام مرے مرنے کے بعد اب تمہیں کرنا ہوگا۔ میں نے انہیں بچن 
دیا تھا جو پورا کر رہا ہوں۔۔۔لے لیجئے سویاں۔‘‘(گورمکھ سنگھ کی وصیت)
یہ وصیت ایسے وقت میں پوری کی جا رہی ہے جبکہ امرتسر میں فساد ہو گیا ہے اور جس محلے میں میاں عبدالحئی رہتے ہیں وہ محلہ فساد شروع ہونے کی وجہ سے مسلمانوں سے خالی ہو گیا ہے۔ میاں جی پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔ وہ اپنی ایک بیٹی اور بیٹے کے ساتھ گھر میں بند ہیں ۔ ان کا نوکر باہر نکلا ہوا ہے۔عید کا چاند نکل گیا ہے۔ مگر ڈر اور خوف کا ماحول بہ دستور قائم ہے۔یعنی منٹو پہلے قار ی کو فساد کا منظر دکھا کر اچانک سنتوکھ سنگھ کے ذریعہ گورمکھ سنگھ کی وصیت سے واقف کراتا ہے ۔ یہ انداز قاری کے دل و دماغ میں وصیت کے اثر کو تا دیر قائم رکھنے کے مقصد سے اپنایا گیا ہے۔
منٹو نے اس بات کو شدید طور پر محسوس کیا تھا کہ ہم نے سماج سے ختم ہوتی جا رہی انسانی رواداری کی وجہ سے کیا کھویا ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عدم رواداری جس اجتماعی وہشت اور دیوانگی کی فضا کو جنم دیتی ہے یا دے سکتی ہے اس کی آخری شکل منٹو اپنے افسانوں میں پیش کرکے قاری کو انسانیت کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک ادیب سماج کو درپیش مسائل کا تجزیہ اور ان کے تئیں انسان کے ذہنی رویے کا مطالعہ مذہب سے اوپر اٹھ کر کرتا ہے۔ اس لئے منٹو کے یہاں انسانیت کا پیغام کبھی بشن سنگھ دیتا ہے تو کبھی کبیرہ اور ممتاز ۔ کبھی سہائے انسانیت کا علم اٹھائے ہوئے نظرآتا ہے تو کبھی موذیل ۔ 
یو ں تو انسان دوست ہر ادیب ہو تا ہے لیکن منٹو ایک سچا انسان دوست فنکار تھا۔اس کی اس انسان دوستی نے اس کو فحاش نگاری کے کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا۔ وہ عورت جس کوہم طوائف کہتے ہیں بیک وقت ہماری ہوس کی تسکین کا سامان بھی ہوتی ہے اور نفرت کا شکار بھی۔رات کی تاریکی میں ہم اس کی طرف ہوس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دن کے اجالے میں نفرت اور کراہیت کی نظر سے ۔ہماری واقفیت اس کے جسم سے ہے اس کے مسائل سے نہیں۔ہمارے اندر کی ہوس اس کے بدن کے نشیب و فراز کا معائنہ کرتی ہے لیکن ہمارے اندر کا انسان اس کی نفسیاتی الجھنوں اور روحانی اضطراب کا مطالعہ نہیں کرتا۔ سماج نے طوائف کے پیشے کی بنیاد پر اس کے خلاف نفرت کی دیوار کھڑی کر دی لیکن ہم نے انسانیت کی بنیاد پر اس کے دکھ درد اور کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔منٹو تو بے باک انسان دوست ادیب تھا وہ بھلا کیسے ان کو یونہی چھوڑ دیتا ۔اس کو طوائف کے کردار سے محبت ہے۔وہ اس کے احساسات کو زبان دیتا ہے ۔ اس کی بے بسی اور بے چینی کو اظہار کا پیکر عطا کرتا ہے۔ایسا کرتے ہوئے وہ اس کے پیشے کا جواز پیش نہیں کرتا ۔وہ محض انسان دوست ہونے کے ناطے اس کے حالات سے قاری کو واقف کراتا ہے۔انسان دوست ادیب کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ان لوگوں کے درد کا مداوا کرے جو حالات کے ستائے ہوئے ہیں۔یہ بات البیغ کامیو نے بھی ادب کا نوبل انعام لیتے وقت کہی تھی ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
Le ro'le de l'ecrivain, du me'me coup, ne se se'pare pas de devoirs difficiles. Par de'finition, il ne peut se mettre aujourde'hui au service de ceux qui font l'histoire : il est au service de ceux qui la subissent.
مصنف اپنے آپ کو مشکل فرائض کی بجا آوری سے الگ نہیں کرسکتا۔
اپنے فرائض کی رو سے آج وہ ان کی خدمت کے لئے وقف نہیں کر سکتا جو 
تاریخ رقم کرتے ہیں بلکہ ان کے بارے میں لکھے جو ان کے فیصلے کی وجہ سے
کرب میں مبتلا ہوتے ہیں۔
طوائف کی زندگی پر قلم اٹھانا ایک مشکل کام تھا لیکن منٹو بے باک تھا ۔اس کی انسان دوستی کا جذبہ کسی ڈر اور خوف کے تابع نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ بات سچ ہے کہ منٹو کے اکثر و بیشتر افسانے طوائف اور جنسیات کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ اس کا پسندیدہ موضوع بھی یہی ہے۔ جنسیات پر لکھتا ہے اور خوب لکھتا ہے۔ منٹو دو متضاد جنس کے ایک خاص عمل اور احساس کو جو پردہ چاہتا ہے صفحہء قرطاس پر برہنہ کر دیتا ہے۔ ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس کے افسانے جنسی میلانات کو بر انگیختہ نہیں کرتے ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر منٹو جنسیات کا سہارا نہ لیتا تو طوائف کی زندگی اور اس کی حقیقت کھل کر سامنے نہیں آ پاتی۔ منٹو کی کہانی جب ختم ہوتی ہے تو قاری کے ذہن میں طوائف کا جسم نہیں ہوتا۔اس کی نظر طوائف کے بستر کا چکر نہیں لگاتی۔ بلکہ قاری کا وجود طوائف کے کرب اور المیے میں حلول کرجاتا ہے۔ منٹو نے ہمیں بتایا کہ کھول دو کی سکینہ کس کرب سے دوچار ہوتی ہے۔ ’ہتک‘ کی سوگندھی سیٹھ کے ہونہہ کہنے پر کس کیفیت میں مبتلا ہوتی ہے ۔ ’میرا نام رادھا ہے ‘ کی نیلم آخر میں یہ کیوں کہتی ہے کہ میرا نام رادھا ہے۔جانکی اور سڑک کے کنارے جیسے افسانوں کو پڑھتے ہوئے ہمارا رد عمل وہی ہوتا ہے جو افسانہ کھول دو کی سکینہ کے ازار بند کھول کر پا جامہ نیچے سرکا دینے پر ڈاکٹر کا ہوتا ہے۔

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.