25 May, 2017 | Total Views: 213

لالی چودھری کے افسانے : تہذیبی انجذاب کا اظہاریہ

شہاب ظفر اعظمی

لالی چودھری اردو افسانے کا بہت معروف یا نا گزیر نام تو نہیں ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’حد چاہئے سزا میں‘‘(۲۰۰۰ء)جس کے بھی ہاتھ میں پہنچاو ہ اس کی کہانیوں سے با آسانی صرف نظر نہیں کر سکا۔ شمیم حنفی نے اسے شک کے ساتھ شروع کیا اور حیرانی کے ایک گہرے احساس کے ساتھ ختم کیا، تو مغنی تبسم نے پڑھنے کے بعد انہیں اردو کا منفرد کہانی کا ر بتایا۔ اپنی سخت تنقید کے لئے معروف وارث علوی جیسے ناقد کے ہاتھوں میں مجموعہ پہنچا تو ان کے ذہن میں پھلجھڑیاں چھوٹنے لگیں اور ان کا پورا وجود چراغاں ہوگیا تو شمس الرحمن فاروقی نے لالی چودھری کو افسانہ نویسی کی منزل سے کامیاب گزرنے والا سلیم الطبع فنکار قرار دیا۔ جب کہ کیول سوری ایک کہانی’’گڈو‘‘ کی پرفکٹ تکنیک ،زبان اور محاورے پر خوشگوار اچنبھا اظہار کرتے ہوئے سوال کر بیٹھے کہ اب تک خاموش کیوں تھیں ؟گویا لالی چودھری کی کہانیوں نے اپنے زمانے کے صف اول کے نقادوں اور فنکاروں کو نہ صرف متوجہ کیا بلکہ ان کی فنکاری کا اعتراف کرنے پربھی مجبور کیا ہے۔ 
دراصل لالی چودھری کے افسانوں میں ہمیں ایک نیا رنگ اور نئے ذائقے کا احساس ہوتا ہے۔ اس افسانے کا پس منظر انگلینڈ اور امریکہ ہے۔ اس کے کرداروہ پاکستانی یا ہندوستانی ہیں جو وہاں جا کر بس گئے ۔ وہ ذہین تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہیں۔ ان کے مسائل کا تعلق ایک اجنبی تہذیبی اور تمدنی فضا میں شناخت قائم کرنے ،اس سر زمین سے ہم آہنگ ہونے اور جدو جہد کے ذریعہ ایک نیا جہان پیدا کر نے کے عزائم سے ہے۔ اس میں بھی خصوصی طورپر ان کے مشاہدے کا محور اس ما حول میں خود کو ایڈجسٹ کر تی ہوئی عورت ہے۔ وہ امریکہ کی آزاد کھلی فضامیں تعلیم یافتہ، جرأت مند ،آزاد خیال اور اپنے پیروں پر کھڑی رہنے والی عورت کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن امریکہ کی آزاد جنسی فضا پورنوگرافی اور ازدواج کے باہر جنسی تعلقات کو ان کا مشرقی ذہن قبول نہیں کرتا۔ لالی چودھری مغرب سے نا خوش نہیں لیکن اس کی جنسی افراتفری سے متنفر ہیں، اور مشرقی دانشمندی اور عقل عامہ کے ذریعہ اپنے کردار کو بکھرنے یا تباہ ہونے سے بچا لے جاتی ہیں۔ بقول پروفیسر شمیم حنفی’’ لالی چودھری کے شعور کی دو سطحیں اور جہتیں ایسی ہیں جو لگ بھگ ہر کہانی میں اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ سطحیں عبارت ہیں ایک تو موجودہ انسانی معاشرے میں عورت کے وجود کی معنویت سے، اس کی تقدیر اور گرد و پیش کی دنیا میں اپنی شراکت سے ، دوسرے عورت اور مرد کے روایتی رشتوں میں مخفی اور متحرک ایسے سوالوں سے جن کی حیثیت دائمی ہے‘‘ (ص۱۴)کہانیاں شناخت ،حد چاہئے سزامیں ،شب گزیدہ سحر ، رسم من و تو ، ایک لفظ کہ کشتنی وغیرہ مرد اور عورت کے اختلافات، ان کے بگڑتے تعلقات کے بارے میں ہیں جو با لآخر دونوں کی علاحدگی پر ختم ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کا
نصب العین مرد کو صرف مورد الزم ٹھہرانا اور عورت کو بدبخت یا مجبور محض بتانا نہیں ہے۔ بلکہ عورت و مرد کے تعلقات کے بگاڑ کے نفسیاتی اسباب و محرکات کا گہرائی سے جائزہ لینا رہاہے۔ ان کہانیوں میں درد اور دکھ عورت کی تقدیر کی بجائے ایک دائم و قائم حیثیت کے طور پر بار پاتے ہیں، اس لئے یہ کہانیاں افراد کی بجائے انسانی اجتماع اور تہذیب کی کہانیاں بن جاتی ہیں۔ 
اس مجموعے کی ٹائٹل کہانی ’’حدچاہئے سزامیں‘‘ کو ہی دیکھیے ۔مغرب کی جنسی انار کی کی بھینٹ نہ جانے کتنے ازدواجی رشتے چڑھ چکے ہیں۔ اس افسانے میں بھی ایک رشتہ امریکی کلچر کے اسی چکاچوند کا شکار ہوتا ہے۔ ثاقب اور بیلا جو پاکستان سے شادی کرنے کے بعد لاس انجلس آئے تھے ،خوش تھے لیکن بیٹی کی پیدائش کے بعد گھر کا سارا ما حول بدل گیا۔ بیٹی حرا درد شکم کی وجہ سے ہر وقت روتی رہتی ہے۔ رات میں اس کے رونے سے کئی بار نیند اچٹ جاتی ہے۔ بیلا کی پوری توجہ بیٹی کی طرف ہوتی ہے۔ اور ثاقب گھر کے ماحول سے گھبرا کر باہر پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ سر زمین جو Funاور ایڈونچر کا آشیانہ ہے ،اس کا لطف اس کے کنوارے دوست خوب خوب اٹھا رہے ہیں۔ اس نے تو شادی کے بندھن میں بندھ کر اپنے پر کتر لئے ہیں۔ چنانچہ وہ بڑی بے رحمی سے بیلا کو ٹھکرا دیتا ہے اور ایک ہزار ڈالر خط کے ساتھ چھوڑ کر چپکے سے غائب ہوجاتا ہے۔ بیلا نے چار سال تک دو دو جاب کئے ، بیٹی کو پالا اور بزنس میں ڈگری حاصل کی۔ ایک دن اچانک ثاقب واپس پہنچ جاتا ہے اور اپنے کئے پر شرمندہ ہوکر معافی مانگتا ہے۔ مگر بیلا اسے ٹکا سا جواب دے دیتی ہے کہ وہ ا س کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی اور یہ کہ حرا کو میں نے بچپن ہی میں بتا دیا ہے کہ اس باپ ایک حادثے کا شکار ہو کر مر گیا۔ یہ کہہ کر وہ اسے باہر چھوڑ کر گھر میںآجاتی ہے۔ ثاقب ہاؤس کیپر کے ہاتھ ایک چٹھی بھیجتا ہے جس پر غالب کا یہ شعر لکھا تھا۔ 
حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے 
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
بیلا نے اسی کاغذ کی پشت پر جواب میں یہ شعر لکھا
دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں 
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جوتھا جل گیا
ثاقب کارڈرائیو کر کے واپس چلا جاتا ہے ،شاید ہمیشہ کے لئے۔ کہانی یہاں ختم ہوجانی چاہئے مگر مصنفہ نے ایک جملہ اورلکھا ہے جو انجام کو زیادہ معنی خیز بنا دیتا ہے۔ 
’’ اس وقت سے اس سوچ میں غلطاں پیچاں میں اپنے آپ کو ملامت کر رہی ہوں کہ اپنے جواب کے ساتھ اس کے ہزار ڈالر بمع سود درسود اسے واپس کیوں نہ کئے۔ ‘‘
کہانی میں عورت کی جو بپتا ہے وہ کوئی نئی نہیں۔ ہندو پاک میں لاکھوں مطلقہ یا بیوہ عورتیں ہیں جو کسی طرح محنت مشقت کر کے اپنے
بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ مگر ان کی کہانیاں تانیثیت یا فیمنزم کی کہانیاں اس لئے نہیں کہلاتیں کہ ان کی کہانیوں میں مظلومیت اور بدنصیبی کے واردات حاوی ہوتے ہیں۔ جب کہ بیلا چوں کہ پڑھی لکھی ہے اس لئے نہ صرف ترقی کرتی ہے ، اونچا مقام پاتی ہے بلکہ شعور ذات کی حامل بھی ہے جو مردانہ پندار ، برتری، اور آقائیت کے خلاف مستحکم طور پر خود کو کھڑی کرتی ہے۔ یہی وصف افسانے کو تانیثی افسانہ بناتا ہے۔ 
عورت مرد کی علاحدگی پر ایک کہانی ’’شب گزیدہ سحر ‘‘ بھی ہے جس میں قصور وار عورت کو بتایا گیا ہے ،جواپنی شادی شدہ زندگی کو سنبھال نہ سکی ۔ یہاں مرد کا کردار ایک وجیہ ، سمجھدار اور شفیق شوہر کا ہے۔ عائشہ نے اپنی پسند سے ریاض سے شادی کی تھی، حالانکہ وہ اس سے عمر میں بہت بڑا تھا۔ شادی کے بعد تین سال بڑی خوشگوار زندگی رہی۔ بیٹا حارث پیدا ہوا۔ عائشہ نے جاب شروع کیا۔ اُسے دفتر کے کام کے ساتھ ساتھ گھر کا کام نپٹانا ہوتا۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ اعصابی تھکن میں مبتلا ہوگئی اور چڑچڑا پن اس کے مزاج میں داخل ہوگیا۔ وہ ریاض کی محبت بھری باتوں کا جواب بھی تلخی سے دیتی۔ ایک دن ریاض نے رکھائی سے پوچھا کہ ’’تمہارا مزاج اتنا اکھڑا اور بگڑا کیوں ہوتا ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’ بات دراصل یہ ہے کہ دو اجنبی ایک بچے کے ساتھ ایک گھر میں رہ رہے ہیں۔ ‘‘ عائشہ کے چڑچڑانے اور بد مزاج ہوجانے کے بعد میاں بیوی کے جھگڑوں میں زبان کا دیسی پن نہیں ہے بلکہ تعلیم یافتہ مہاجرین کی زبان کے لشکارے اور کم لفظوں میں بات کو ختم کر کے خموشی اختیار کر نے کے انداز ہیں۔ بہر حال معاملہ عدالت اور طلاق پر پہنچتا ہے ۔ ریاض عائشہ کو سمجھاتاہے کہ وہ علاحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنے بیٹے حارث کی زندگی کی بنیاد کھوکھلی نہ کرو ۔ہمارے بچوں پر تو پہلے ہی یہاں اے بی سی ڈی (امریکی بورن کنفیوزڈ دیسی)کا لیبل لگا ہوا ہے۔ مگر عائشہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان گھریلو حالات کا حارث کے ذہن پر برا اثر پڑتا ہے اوروہ ڈرگس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اسکول سے اس کے خلاف شکایتیںآنے لگیں۔ عائشہ اسے سدھار نہ سکی۔ سائیکیا ٹرسٹ نے تشخیص کی کہ اسے اپنی زندگی میں باپ کے رول کی شدید ضرورت ہے۔ مجبور ہو کر وہ ریاض کی مدد طلب کرتی ہے اور ریاض حارث کو اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ عائشہ سوچتی ہے کہ رشتے اور تعلق کبھی ختم نہیں ہوتے اور جب مرد اور عورت مل کر بچے تخلیق کرتے ہیں تو حقیقت میں ان کی مکمل طور پر کبھی علاحدگی نہیں ہو سکتی۔ 
دراصل بچے پیدا ہونے کے بعد رشتے مزید مستحکم اور پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ طلاق اور علاحدگی سے معاملات سلجھتے نہیں ۔عائشہ کے پاس پہلے سکون کی کمی تھی مگر طلاق کے بعد وہ سکون بھی کھو دیتی ہے اور بچے کو بھی۔ اعصاب شکنی اور ڈپریشن تو ابھی بھی موجود ہے۔ ان معنوں میں’شب گزیدہ سحر‘ انسانی رشتوں کی پر پیچ کہانی تو ہے ہی فیمنزم کی شکست کی کہانی بھی ہے۔ لالی چودھری کا تانیثیت کے تعلق سے اپنا ایک نقطۂ نظر ہے۔ مرد کی بے وفائیوں اور عورت کی طرف نابرابری کے سلوک وہ پسند نہیں کرتیں، لیکن انہیں احساس ہے کہ امریکہ جیسے کھلے اور آزاد معاشرے میں بھی مرد کے خلاف بغاوت میں خسارے میں تو عورت ہی ہے۔ تو عورت کیا کرے۔ معاملہ فہمی اور مصالحت سے کام لے۔ لیکن اس سمجھوتے کو سماج تانیثی رویے کی شکست قرار دے گا،جو نہ لالی 
چودھری کو پسند ہے اور نہ کسی تعلیم یافتہ مہذب عورت کو151لال چودھری کے اکثر و بیشتر افسانے فتح و شکست کے اسی پیچیدہ تانے بانے سے بنے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں صرف ایک اور افسانہ’’ اک لفظ کہ کشتنی‘‘ کا ذکر میں کرنا چاہوں گا، جس کی ہیروئین کنول اچانک اپنے شوہر کے آفس پہنچ جاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ شاہد اپنی سکریٹری کے ساتھ اختلاط میں مشغول ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ اسے ایسی حالت میں دیکھ کر پھٹکار چکی تھی۔ وہ عدالت جا کر طلاق حاصل کرتی ہے تو ساری برادری میں اس کی حیثیت اچھوت سی ہوگئی۔ اس کی ایک شناسا عورت کے شوہر کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوا تو سب کی ہمدردیاں بیوہ عورت کے ساتھ ہوگئیں۔ اور اس نے دو سال بعددوسری شادی بھی کر لی۔ کنول کو احساس ہوتاہے کہ بیوہ عورت کے ساتھ لوگوں کی ہمدردیاں ہوتی ہیں جب کہ طلاق شدہ عورت کے ساتھ نہیں۔ اُنہیں دنوں کنول کا تبادلہ لاس اینجلس ہوجاتا ہے تو وہاں وہ خود کو بیوہ ہی ظاہر کرتی ہے حالانکہ اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا رہتا ہے۔ 
لاس اینجلس میں کنول کا حسن چمک اٹھتا ہے۔ ایک پارٹی میں جب وہ دیسی عورتوں کے لہنگے غرارے اور بھاری بھرکم سوٹ کے بر خلاف بلیوڈینم کی اسکرٹ اور کچی ململ کامیکسیکن اسٹایل بلاؤز پہن کر پہنچتی ہے تو نو جوان آصف کنول پر مر مٹتا ہے۔ کنول بھی اس کے عشق میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ عمر کے فرق کی وجہ سے وہ کشمکش کا شکار ضرور ہے، مگرامریکہ میں شادی بیاہ ،طلاق، عشق بازی اور جنسی نعروں لئے عمر کی قید نہیں ہوتی اور نہ اس ماحول میں بہت رکاوٹیںآتی ہیں۔ لہذا کنول کا بھی اپنے عشق پر کچھ زور نہیں چلتا۔ لال چودھری اس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں۔ 
’’آصف کو دیکھتے ہی نہ جانے اسے کیا ہوجاتا وہ موم بتی کی طرح پگھلنے لگتی اگر بتی کی طرح مہکنے لگتی۔ 
وہ جہاں موجود ہوتا اپنی طلسمی نگاہوں کے انتر منتر سے وہ سارے فالتو سال ایک ایک کرکے غائب
کر دیتا اور وہ پھر سے اکیس سال کی ہوجاتی۔‘‘ 
آصف کا جذبہ محبت کنول سے بھی زیادہ شدید تھاکیوں کہ کنول کی طرح آصف کے دل میں شکوک و شبہات اور بدگمانیاں نہیں تھیں۔ کنول تو اس کے لئے ڈریم گرل تھی۔ لیکن جیسے ہی کنول اپنی اصل حقیقت بیان کرتی ہے کہ وہ بیوہ نہیں طلاق شدہ ہے ، آصف کاعشق ہوا ہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے 
’’ بیوگی اور بات ہے کہ قضائے الہٰی ہے۔ اس میں تقدس ہے، پاکیزگی ہے ، بے بسی اور بے چارگی ہے۔
لیکن طلاق اتنا غلیظ ،مکروہ اور گھناؤنا لفظ ہے کہ اس سے عورت کی نسوانیت داغدار اور مجروح ہوتی ہے۔ 
میں ابھی تم سے شادی نہیں کر سکتا۔ ‘‘
افسانے کا عنوان اب واضح ہو جاتا ہے کنول کے لئے ایک لفظ کہ کشتنی ہے۔ اوروہ لفظ ہے’’ طلاق شدہ‘‘۔ مشرقی مزاج کا یہ اثر ہے کہ امریکہ جیسے آزاد مغربی ما حول میں بھی طلاق عورت کے لئے نجات کا باعث نہیں بنتی۔ نا خوشگوار شادی تکلیف دہ یا نا 
خوشگوار ہوسکتی ہے، لیکن اس سے نجات پاکر زندگی کو خوشگوار بنانا اتنا بھی آسان نہیں،جتنا ہم سمجھ لیتے ہیں۔ ’’ایک لفظ کہ کشتنی‘‘لالی چودھری کے فن کارانہ اظہار کی بھی عمدہ مثال ہے۔
طلاق اور علاحدگی کے موضوعات پر ’شناخت‘ اور’رسمِ من و ‘تو بھی اسی قسم کی عمدہ کہانیاں ہیں۔ مگر لالی چودھری نے خود کو اسی موضوع تک محدود نہیں رکھا ہے۔ ان کی پہلی کہانی ’زنجیر‘ عورتوں کے سلسلے میں مذہب کے نام پر ہونے والے ظلم اور معاشرے کی فرسودہ روایتوں کے خلاف احتجاج درج کرتی ہے، تو ’’گڈو ‘‘جاگیردارانہ نظام کے جبر اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے خلیج پر غم و غصے کا خوبصورت اظہاریہ ہے۔ ’’ تعویذ جاں ‘‘ کا موضوع چائیلڈ لیبر اور غربت ہے تو ’’وقت سفر ‘‘کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ایک عورت کے کرب اور ذہنی کیفیات کا پر اثر رزمیہ ہے۔ ’’ خواب راستے عذاب منزل‘‘ کالج کی دوشوخ طرح دار حسین سہیلیوں کی کہانی ہے جو مدت مدید کے بعد امریکہ کے ایک شہر میں مل جاتی ہیں،اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنی محرومیوں کو ہنسی مذاق میں خوبصورتی کے ساتھ چھپا لیتی ہیں،توآخری کہانی ’’ نقش فریادی‘‘ امریکی معاشرے ، جنسی بے راہ روی اورتہذیبی زوال کے ساتھ ساتھ اس راہ پر چلنے والوں کے درد ناک انجام کی تصویر کشی کر تی ہے۔ مختلف موضوعات پر ان کہانیوں کا تنوع نہ صرف رنگا رنگی کا احساس پیدا کرتا ہے بلکہ لالی چودھری کی ژرف نگاہی ، قوت مشاہدہ اور امریکی تہذیب و تمدن کے بدلتے رنگوں پر ان کی گرفت کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ ان افسانوں میں مغرب میں سکونت پذیر افراد کی زندگی سے متعلق مسائل ،فرد کی محرومیاں ، محبت کا استحصال اور وہاں کے تہذیبی و انسانی رویوں کی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ مگر اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان میں عورت کو مر کزی حیثیت حاصل ہے اور مصنفہ کی بنیادی کوشش عورتوں کے حالات و کوائف اور امریکہ و انگلینڈ کے بدلتے سماجی اور تہذیبی ما حول میں زندگی بسرکرنے کی ان کی جدوجہد کی عکاسی ہے۔ان کے افسانوں میں عورت کے مختلف روپ ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مگر اکثر روپ بلند ہمتی اور بلند حوصلگی کے ساتھ درد کی ڈور سے بندھی ہوئی عورتوں اور آنسوؤں کے حجاب میں لپٹی ہوئی خواتین کے داخلی اور خارجی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہیں۔ 
جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ لالی چودھری کے اکثر افسانوں کا پس منظر مغرب ہے۔ ایک دو افسانوں سے قطع نظر ان میں امریکی شہر ، قصبے ، مضافات ، مکانات ، موسم، اور فضائیں ہیں۔ ان کے یہاں امریکی روزمرہ، دیسی لوگوں کی اپنی انگریزی اردو کا مکسچر ، نرسری رائم ، پاپ گیتوں اور تک بندی کے اشعار کا استعمال ہے۔ اشارے کنایے میں امریکی گھروں کی بناوٹ ،بیڈ روم ، ڈرائنگ روم، کچن ، پورٹیکو اور گارڈن کی فضا بندی لالی چودھری کی افسانہ نگاری کی امتیازی صفت ہے۔ وہ باتوں باتوں میں امریکہ میں مقیم دیسی لوگوں کے طرز فکر ہی نہیں طرز رہائش ، طرز لباس اور طرز گفتگو تک کو ہدف تنقید بنا ڈالتی ہیں۔ مثلاً’’ایک لفظ کہ کشتنی‘‘کا وہ منظر دیکھئے جب کنول سمن کے یہاں پارٹی میں جاتی ہے
’’ سب عورتیں مہنگے غرارے،بھاری کام والے سوٹ اور جھل مل کرتی ساڑیوں اور زیوروں میں
لدی دیکھ کر کنول کو ’’کوے کالے کالے کیا دہلی کیا دہرا دون‘‘ کاشعر یاد آگیاکہ ایر پورٹ سے لے کر پارک
میں پارٹی تک دیسی عورتیں کبھی موقع محل کی مناسبت سے ڈریس اپ نہیں ہوتیں، باربے کیو پارٹی کے
بجائے شادی بیاہ کی پارٹی لگ رہی تھی۔‘‘
لالی چودھری ایسے بیانوں کے ذریعہ نہ صرف شخصیتوں کے تضاد بلکہ کپڑوں کے فرق کے ذریعہ ذوق سلیم اور تہذیبی رویوں کے فرق کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اسی طرح جب کنول عمر کے فرق کی وجہ سے کشمکش میں مبتلا رہتی ہے تو یہ سوچ سوچ کر لرز جاتی ہے کہ
’’ لوگ کہیں گے کہ بڈھی زن زلیخا نام، تین بچوں کی ماں کے لچھن ذرا دیکھو ۔ بیٹی شادی کی عمر کو پہنچ رہی ہے
اور یہ خود عشق فرما رہی ہے۔ محبت کر نے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ یہ عمر تو اعتکاف میں بیٹھنے کی تھی ۔عمرہ اور
ارض مقدس کی زیارتوں کی تھی۔ ‘‘
یہاں بھی تہذیبی فرق کو ملاحظہ کیجئے۔ عمر اور لڑکی کے جوان ہونے کی بات عام سی ہے۔ لیکن اعتکاف اورعمرے کاتذکرہ امریکی لوگوں میں زیادہ ہے۔ کیوں کہ دیار غیر میں جا کر مسلمان زیادہ مسلمان ہوجاتے ہیں اوراقتصادی خوشحالی انہیں ارض مقدس کی زیارتوں کا بار بار مو قع دیتی رہتی ہے ۔گو کہ یہ بیانیہ کا عام طریقہ ہے، لیکن ایک نئی اور اجنبی تہذیب میں پیدا ہونے والے تضادات یا فرق کو بیان کرنے کے لئے باریک بیں مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔لالی چودھری اِس قوت مشاہدہ کا ثبوت بار بار دیتی ہیں۔ 
لالی چودھری کے فن پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنفہ قصہ گوئی کے آرٹ سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس کااعتراف خود لالی چودھری نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔
’’ میراچھوٹا بچAZIEجس کے ذکر کے بغیر میری تسبیح روز و شب نامکمل ہے کہ دوسال کی عمر میں میری قصہ گوئی کا اتنا معترف تھا کہ No body can tell a story like you momکہتے ہوئے وہ کسی اور سے کہانی نہیں سنتا تھا ‘‘
چنانچہ لالی چودھری کے قصوں کی زبان ، ہیئت، بنت، اور اسلوب بیان میں کسی قسم کے تکلف ، آؤرد اور تصنع کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ ہر کہانی اپنے آغاز کا سرا اپنے ساتھ لاتی ہے اور اپنی منطق کی تعمیر خود کرتی جاتی ہے۔ مصنفہ کاارادہ، منشا یا موقف کہانی میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ انہیں الگ کر کے دیکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ وہ ایک نیچرل قصہ گوہیں اس لئے اِس رمز سے واقف ہیں کہ کہانی کہیں سے بھی شروع کی جاسکتی ہے۔ آغاز ،و سط اور انجام کی حد بندی ان کے لئے قطعاً بے معنی ہے۔ مثلاً ’’نقش فریادی‘‘ کو دیکھئے جس کا آغاز کہانی کے انجام سے ہوتا ہے۔ جب کہ ’’خواب راستے عذاب منزل‘‘ یا ’’ سوئچ ‘‘کا آغاز اس کی ابتدا سے ہوتا ہے اور ’’ شناخت ‘‘ کا وسط سے ۔ کہانی جہاں سے بھی شروع ہو لالی چودھری کا رویہ صر ف یہ ہوتا ہے کہ جتنا فطری اس کا آغاز ہے اس کا انجام بھی اتنا ہی فطری ہو۔ بیجا طوالت اور غیر ضروری اختصار سے احترازبھی ان کی کہانیوں کو روانی
، Compactenessاور شدت تاثیر سے متصف کرتا ہے۔ 
لالی چودھری کی زبان شستہ، رواں اور غیر مصنوعی ہے۔ مغربی معاشرت اور مغرب زدہ کرداروں کی اکثریت ہے ،اس لئے اردو الفاظ کے ساتھ کثرت سے انگریزی الفاظ ، محاورے ، یا فقرے استعمال کرتی ہیں۔ مشرقی ماحول میں پر ور دہ قاری کو اردو متبادل ہوتے ہوئے انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال گراں گزر سکتا ہے مگر غور کیا جائے زیادہ تر جگہوں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ کے مافی الضمیر یا کردار کے مکالمے کے لئے انگریزی الفاظ یا فقرے نا گزیر ہوگئے ہیں۔ مثلاً یہ جملے دیکھئے۔
’’ مجھے DepressاورMoody دیکھ کر اس نے کئی بار وجہ پوچھنے کی کوشش کی۔ لیکن میں نے بڑی بے دردی سے Mind your own buisinessکہتے ہوئے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا۔ ‘‘(شناخت(
’’ کوئی دعا اور تمنا پوری نہ ہوئی اور میں اپنے worthless ہونے کا احساس لئے 10th گریڈ تک پہنچ گیا۔ ‘‘(شناخت(
’’ اسے کہتے ہیں Love at the first sightان کی شادی پر یوں کی کہانی Happily lived after
جیسی تھی۔ ‘‘(سرگوشی(
’’اسے اپنےImperfect ہونے کاشدید احساس ہوا۔‘‘(شب گزیدہ سحر(
’’یوں لگا جیسے ا س کی زندگی بالکل Shamble ہو کر رہ گئی ہو۔ ‘‘ (شب گزیدہ سحر(
ان جملوں میں انگریزی الفاظ کا استعمال اس روانی کے ساتھ ہوا ہے کہ الفاظ نہ صرف مو قع کی ضرورت ثابت ہوئے ہیں بلکہ مغرب و مشرق کی امتزاجی فضاکا کااظہاریہ بھی بن گئے ہیں۔ دراصل لالی چودھری اردو ادب میں مغربی تہذیب کی سفیر بھی ہیں اور نکتہ چیں بھی۔ ان کے افسانوں میں تہذیبی انجذاب ہے ،لیکن اسی حد تک جسے مشرقی ذہن قبول کر سکے۔ وہ نہ فکری سطح پر فرد کے انحطاط ، جنسی بے راہ روی اور اخلاقی زوال کو قبول کر سکتی ہیں اور نہ اسلوبی سطح پر زبان کو انگریزی زدہ کر کے اسے شناخت سے محروم کر نے کی قائل ہیں۔ زبان تہذیب اور فکرکی آزادی کی وہ اسی وقت تک قائل ہیں جب تک وہ ناگوار اخلاقی انحطاط کا شکار نہ ہوئی ہو۔ یہی وصف لالی چودھری کے فن کو بقا ان کی قصہ گوئی کو دوام اور ان کے نام کو عظمت بخشتا ہے۔ (غیرمطبوعہ(
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
shahabzafar.azmi@gmail.com
Mob.8863968168

 مضامین دیگر 

Comment Form