مظہر الاسلام:ایک حیران کن کہانی کار




محمد غالب نشتر
28 Apr, 2018 | Total Views: 448

   

مظہر الاسلام کا شماربر صغیر ہند وپاک کے نمائندہ فن کاروں ہوتا ہے۔ستر کی دہائی میں اردوکے افسانوی منظر نامے پر جن تخلیق کاروں نے اپنے فن پاروں کے حوالے سے تخلیقی صلاحیت کا لوہا منوایا اور اپنی شناخت قائم کی،ان میں مظہر الاسلام کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے۔یوں تو انہوں نے افسانہ نویسی کی ابتدا ۱۹۶۷ء سے ہی کردی تھی لیکن ان کا تخلیقی جوہر ستّر کے عشرے میں پوری طرح جلوہ گر ہوکر مقبول خاص و عام ہوا ۔ انہوں نے جس عہد میں کہانیاں لکھنے کی ابتدا کی ،وہ علامات و تجرید کا دور تھااورابہا م و مہملیت کو بہ طور فیشن برتا جا رہا تھا ۔مظہر الاسلام بھی اس زد سے نہ بچ سکے البتہ یہ ضرور ہے کہ ان کی کہانیاں اہمال و تجرید کے زمرے میں نہیں آتیں۔انہوں نے فنی ریاض سے علامات کو نئی معنویت عطا کی اور جدید افسانے کونئے لب و لہجے سے آشنا کیا۔ابتدائی دور کی کہانیاں اس حوالے سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ ’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی‘‘ میں چند کہانیاں علامتی ضرور ہیں (جن میں ریت کنارا،الف لام میم،مٹھی بھر انتظار،گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی،عذاب پوش پرندے،کندھے پر کبوتراور بارہ ماہ و غیرہ کو اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے)لیکن ایسا بھی نہیں کہ ان کہانیوں کی تفہیم ممکن نہ ہو۔مظہر الاسلام کا اختصاص انہی باتوں میں مضمر ہے کہ انہوں نے دبیز علامات سے بھی گریز کیا اور ایسی علامتیں استعمال کیں جن کی تفہیم با ذوق قارئین کے لیے مسئلہ نہ کھڑا کردے۔بعد کے مجموعوں میں یہ علامات یکسر مسترد کر دیے گئے اور ان کی جگہ نئی علامات نے لے لیں۔اسی انفرادیت کا ذکر پروفیسر فتح محمد ملک نے ان الفاظ میں کیا ہے:
’’
مظہر الاسلام کی فنی انفرادیت کا راز اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ انہوں نے ان بزرگوں کی تقلید کی جو حقیقت نگاری کی روایت میں روایتی اور رسمی افسانے تخلیق کرنے میں مصروف تھے اور نہ ان نوجوانوں کی پیروی کی جو اپنی ذات کو خلا صۂ کائنات جان کر ذات پرستی کے بھنور میں اسیری پر نازاں تھے‘‘۔(1)
افسانوی مجموعوں اور دیگر کتابوں میں پیش لفظ،تقریظ اور دیباچہ لکھوانے کی روایت ہمارے ادب میں زمانۂ قدیم سے ہی رائج رہی ہے۔مختلف رویوں کے بدلتے رجحانات میں اس کی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوا ہے۔ فن کار اور ناقد ،معتبر ادیبوں سے توصیفی کلمات رقم کروانے سے دریغ نہیں کرتے ۔ایسے لوگوں کا عام خیال یہ ہوتا ہے کہ پیش لفظ وغیرہ لکھوانے سے کتاب کی اہمیت اور مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے ساتھ ہی پذیرائی بھی خوب ہوتی ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں کیوں کہ’حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی‘۔
جملۂ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ مظہر الاسلام نے بھی اس روایت کی پاسداری کی۔ ’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی‘‘ واحد مجموعہ ہے جس میں مظہر الاسلام نے اس بدعت کا التزام کیا اور اپنے عہد کے معتبر ناقد پروفیسر فتح محمد ملک سے دیباچہ لکھوایا اور ساتھ ہی ٹائٹل افسانے کا بھی التزام کیا لیکن بقیہ تینوں مجموعے ان عیوب سے مبرّا ہیں۔اس حوالے سے ان کا ذاتی خیا ل یہ ہو سکتا ہے کہ ناقدین سے رائے لکھوانے اور ٹائٹل افسانے کی شمولیت سے قارئین کا ذہن بھٹک جاتا ہے اور وہ پورا مجموعہ نہ پڑھ کر چنندہ افسانے کی قرأت کر کے اپنے ذوق کی تسکین کرتے ہیں۔غالباً یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دونوں طرح کے عیوب سے بقیہ تینوں افسانوی مجموعوں کو مبرا رکھا ہے۔مظہر الاسلام کی کہانیوں پر تنقید سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انہی کی کہانیوں کے اقتباسات سے بات کی شروعات کی جائے تاکہ ان کی افسانہ نگاری کا واضح پہلو سامنے آسکے اور ان کی شخصیت اور فن کی تفہیم آسان ہو سکے۔مظہر الاسلام کی کہانی ’’ایک شام نے چڑیا کو چگ لیا‘‘ کا ایک کردار اپنے مخاطب سے یو ں شکایت کرتا ہے:
’’
تم ہمیشہ الم ناک کہانیاں لکھتے ہو،اداس کہانیاں.....تمہاری کہانیوں کی آنکھوں میں آنسونہ ہو تو تمہیں مزہ ہی نہیں آتا ۔تم اذیت پسند ہو ،تمہاری ہرکہانی میں موت،خوب صورت محبوبہ کی طرح بال کھولے بیٹھی رہتی ہے ۔تمہیں موت سے پیا ر ہے،تم خود کشی کے لیے راہ ہموار کرتے رہتے ہو......‘‘۔(2)
ان کی ایک اور مشہور کہانی’’کہانی کی مٹھی میں ڈراما‘‘میں دو کردار آپس میں اس طرح سے گفتگو کرتے ہیں اور ایک کردار یعنی کہانی نویس،دوسرے کردار یعنی پروڈیوسر سے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’
میں خوشبو نہ لگاؤں تو کہانی نہیں لکھ سکتا.......تمہیں کیا بتاؤں۔مجھے ایک کہانی کتنی مہنگی پڑتی ہے۔ جب میں کسی کہانی پر کام کرتا ہوں تو بہت سے لوگوں اور چیزوں سے میرا ذہنی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے،جب کہانی لکھنے بیٹھتا ہوں تو میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ میرا کوئی اپنا میرے قریب نہ ہو۔کہانی لکھنے کے لیے بہت سی اداسی....تھوڑی سی یادیں . . . . . لمبا انتظار .....اچھے سے سگریٹوں کے بہت سے پیکٹ.....گھنی اور خالص تنہائی اور تھوڑی سی چائے بہت ضروری ہوتی ہے.......کہانی لکھنا مجھے اچھا لگتا ہے مگر یہ میرے لیے عذاب ہے۔کہانی میرا خون پیتی ہے پھر بھی میں کہانی نہیں لکھ رہا ہوتا تو میری کیفیت عجیب و غریب ہوتی ہے۔مجھے اپنا آپ فضول لگتا ہے.....ردی کاغذ کی طرح.....۔‘‘(3)
اس ضمن کی ایک اور مثال کہانی’’قتل کا مقدمہ‘‘ کا ایک کردا ر کچھ اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے:
’’
میں سیدھی سادی نارمل زندگی نہیں گذار سکتا ۔میں دنیا کے رشتوں اور اصولوں کو عام لوگوں کی طرح نہیں دیکھتا ۔میں ابھی کئی اور کہانیاں لکھنا چاہتا ہوں۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے، کہانی زندہ رہے گی۔پھر قیامت کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہوجائے گی۔تم بے شک مجھے واہیات اور فضول آدمی سمجھو مگر میں کہانی سے منہہ نہیں موڑ سکتا ۔کہانی میری سچائی ہے۔اگر میں کہانیاں نہ لکھتا تو اَب تک مر چکا ہوتا۔زندگی نے مجھے بڑے دھکے دیے ہیں۔اگر مجھے لکھنے کی طلب نہ ہوتی تو میں کب کا ٹوٹ چکا ہوتا،میرے اندر تلخی ہے،اداسی ہے،غصہ ہے۔میں اُن باتوں پر کڑھتا ہوں جن کے بارے میں کوئی سوچتا بھی نہیں‘‘۔(4)
مندرجہ بالا اقتباسات کی روشنی میں یہ بات بلا تردد کہی جاسکتی ہے کہ اِن کہانیوں کا کردار کوئی اور نہیں بلکہ مظہر الاسلام ہے۔ اسی وجہ سے کہا جا تا ہے کہ مظہر الاسلام کی کہانیاں انتظار،تنہائی،موت،اداسی اور خود کشی کو مجموعہ ہیں ۔جیسا کہ مذکور ہوا مظہر الاسلام نے اپنے افسانوی سفر کی ابتدا ہی سے علامات و تجرید سے اپنے دامن کو بچائے رکھا البتہ ’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی‘‘کی چند کہانیاں علامتیت کا پتا ضرور دیتی ہیں۔ان کی کہانیوں میں وہ علائم ہر گز نہیں جو غیر مانوس ہوں،ناقابل فہم ہوں اور قاری کی علمیت کا امتحا ن لیتی ہوں اور نہ ہی ان کے علائم ایسے ہیں جو ستر کی دہائی کے افسانہ نگاروں کا خاصہ تھیں بل کہ انہوں نے فن پارے کو تہہ دار بنانے کے لیے علامات کا استعمال کیا ۔علاوہ ازیں انہوں نے علامات کو نئی معنویت اور فن کی نئی جہت عطا کی۔اس حوالے سے افسانوں کی فہرست تیار کی جائے تو ’’الف لام میم ‘‘،’’مٹھی بھر انتظار‘‘،’’مردے کی بو‘‘،’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی‘‘،’’کندھے پر کبوتر ‘‘،’’روئی کے باد بان‘‘ اور ’’بارہ ماہ‘‘کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ان کی علامات میں رشید امجد کا ہلکا سا پر تَو بھی جھلکتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب وہ موت،خود کشی،قبر کو علامت کے طور پر برتتے ہیں۔مظہر الاسلام کا اختصاص یہ ہے کہ وہ کسی خیال کو بنیاد بنا کر واقعے کو تشکیل دیتے ہیں۔’’الف لام میم‘‘،’’مٹھی بھر انتظار‘‘اور ’’پرانے گھر کی سیڑھیوں پر گری ہوئی تصویر‘‘ کو اس زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔یوں پہلے مجموعے کی بیش تر کہانیاں سماجی ،سیاسی اور معاشرتی مسائل کے ارد گرد گھومتی ہیں۔’’قصہ مختصر‘‘ یوں تو بالکل سادہ سی کہانی ہے لیکن اپنے اندر سماجی بحران کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے۔دو دوست مزدوری کے ملے ہوئے سو روپے کے توٹے کرانے کے لیے بہت سی دکانوں کے جھولیوں میں جھانکتے ہیں لیکن ان کے پیسے نہیں تڑتے بالآخر ایک صوفی صفت کی دکان پہ آٹھہرتے ہیں اور اُسے پیسے دے کر آپس میں باتیں کرنے لگتے ہیں محض اس خیال سے کہ اس شخص کے دل میں کدورت نہیں ہوگی لیکن وہ شخص محض چند ٹکوں کے حصول کے لیے اپنا ایمان ضائع کر بیٹھتا ہے۔اسی طرح ’’تن لیراں لیراں‘‘میں جھگی والی لڑکی کی داستان جو لیراں اکٹھی کرتی ہے اور شہر کی غلاظت صاف کرتی ہے۔وہ لیراں والی لڑکی مصیبت زدہ ہے ۔ایک شخص جو اسی قوم سے تعلق رکھتا ہے ،اس کی جوانی لوٹ کر لے جا تا ہے۔وہ لڑکی اس امید میں ہے کہ شہر سے کمائی کرنے کے بعدوہ اس کے پاس ضرور آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔وہ شہر میں گوشت کھانے میں اتنا مگن ہے کہ اس کی نگاہ ہڈیوں پر نہیں پڑتی۔یہ کہانیاں سماجی بحران کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔سماجی و معاشرتی مسائل کے ماسوا مظہر الاسلام نے سیاسی نوعیت کی بھی عمدہ کہانیاں لکھیں ہیں جن میں’’کندھے پر کبوتر‘‘کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔یہ کہانی ۱۹۷۷ء کے مارشل لا کے احتجاج میں لکھی گئی ہے۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ستر کی دہائی میں فوجی آمریت کے نفاذ کا تھا۔اس کی صورت حال پہلے مارشل لا (۱۹۵۸ء) سے مختلف تھی۔عوام میں اس مارشل لا کے خلاف شدید لہر اٹھی اور ادیبوں نے بڑی تعداد میں مزاحمتی افسانے لکھے جن میں سیاہ رات (انور سجاد)،پت جھڑ میں مارے گئے لوگوں کے نام (رشید امجد)،وہسکی اور پرندے کا گوشت (احمد داؤد)،رکی ہوئی زندگی (منشا یاد)،تربیت کا پہلا دن( مرزا حامد بیگ)،سہیم ظلمات (اعجاز راہی )،سن تو سہی (احمد جاوید ) اور کندھے پر کبو تر( مظہر الاسلام ) وغیرہ کے نام خصوصیت سے اہم ہیں۔
مظہر الاسلام کی کہانی ’’کندھے پر کبوتر ‘‘مارشل لا کے خلاف لکھی گئی ایسی تحریر ہے جس میں ایک بچے کو کردار بنا کر کہانی کے سرے کو آگے بڑھایا گیا ہے۔کردار کوبچے کی صورت میں پیش کرنا دراصل سیاسی نظام پر طنز ہے۔کہانی کی ابتدا یوں ہوتی ہے:
’’
وہ جب سکول سے نکلا تو ہر شے دھوپ سے پناہ مانگ رہی تھی۔آوازوں کا ہجوم سکول کے گیٹ پر نمودار ہوا اور دھوپ میں بکھر گیا۔بچوں نے ٹوپیاں پہن لی تھیں اور جن کے پاس ٹوپیاں نہیں تھیں انہوں نے تختیاں سر وں پررکھ لی تھیں۔آدھی چھٹی کے وقت جتنے بھی ریڑھی والے آوازیں لگارہے تھے ،اب جا چکے تھے۔صرف قلفی والا پیپل کی مختصر سی چھاؤں میں کھڑا کپڑا ہلا ہلا کر آوازیں لگا رہا تھا۔اس کی ٹھنڈی ٹھنڈی آوازوں کے سائے بچوں تک پھیلے ہوئے تھے اور ان کا دھیان اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔کئی دوسرے بچوں کی طرح وہ بھی ریڑھی سے بچ کر نکل آیا اور تختی سر پر جما کر گھر کی طرف ہو لیا۔اس کا سایہ بستہ کندھے سے لٹکائے آگے آگے چل رہا تھا۔اس کے گال پر سیاہی کا دھبہ پھیلنا شروع ہو گیا اور پسینے میں گھل گھل کر گردن کی طرف بہہ رہا تھا‘‘۔(5)
بچے کی اضطراری حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جلداز جلد گھر پہنچ کر آرام کرنا چاہتا ہے۔وہ پسینے سے شرابور ہے،اس کے پاؤں جھلس رہے ہیں،وہ اسی حالت میں گھر پہنچ جاتا ہے۔جب وہ گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹا تا ہے تو چوکیدار اُس کی باتوں کا دھیان نہیں دیتا جب کہ وہ دوسرے دنوں میں معمولی سی آہٹ سے چوکنّا ہو اُٹھتا تھالیکن آج وہ بہرہ ہوگیا ہے۔اب بچہ کچھ زیادہ ہی پریشان ہے،موسم میں حبس ہے،اس کے کپڑے پسینے میں شرابور ہو چکے ہیں،اس کا سر چکرانے لگا ہے۔اس کے علاوہ گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں سے آنے والی بُوسے اُس کا دم گھٹ رہا ہے۔وہ تشویش میں مبتلا ہے کہ کون سی شے بُو چھوڑ رہی ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ گھر کے سارے افراد مرچکے ہوں اور اُن کی مردہ جسمیں بو چھوڑ رہی ہوں۔ہمت کرکے وہ اینٹیں جمع کرتا ہے اور دیوار کے پار جھانکنے کی کوشش کرتا ہے:
’’
گھٹنے دیوار کے ساتھ ٹیکتا ہوا وہ آخر دیوار چڑھنے میں کام یاب ہو گیا۔اچانک ایک کبوترپھڑپھڑاتا ہوا آکر اس کے کندھے پر بیٹھ گیا ۔اسے یوں لگا جیسے وہ کبوتر اس کے اندر سے نکلا ہے ۔جسم کو سنبھالتے ہوئے اس نے صحن میں جھانکا تو حیرت اس کے چہرے پر ناچنے لگی۔چوکیدار اَکڑ کر کرسی پر بیٹھا تھا اور اس کا دھڑ بھیڑیے کے دھڑ میں تبدیل ہو گیا تھا‘‘۔(6)
کبوتر کا اس کے کندھے پر بیٹھنا ،چوکیدار کا بھیڑیے کے قالب میں تبدیل ہونا،چوہے کا کوئی چیز کترنا اور شدید گرمی میں بُو کا چھوڑنا،یہ تمام علامات ملک کی زبوں حالی کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔چوکیدار کو بہ طور علامت ملک کا حکم راں تسلیم کیا جائے تو یہ بھی وضاحت ہوتی ہے کہ ملک میں جو نظام نافذ ہوا ہے اور ایسی صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس کے سزا وار وہ خود ہیں اور اُن کا مقصد سیاست کے سہارے عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔
پہلے مجموعے میں شامل کہانیوں میں ’’بارہ ماہ‘‘ کو بھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔اس کہانی میں مظہر الاسلام نے علامت کو نئی معنویت سے ہم کنار کیا ہے ۔وہ علامتوں کے پرانے مفاہیم کو یکسر نظر انداز نہیں کرتے البتہ نئے تقاضوں کے باعث نئی جہتیں ضرور پیدا کرتے ہیں۔کہانی کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے:
’’
یہ میری کہانی کا مڈھ ہے جو اِسی چیتر کے مہینے سے شروع ہوتی ہے۔پھولوں کے رنگ کوہڑے ہو رہے ہیں۔گیلی ہواؤ ں نے اپنی سبز اوڑھنیاں پہاڑوں پر پھیلا دی ہیں۔دریا تو ایک طرف چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کے منہہ بھی بے وقت جھاگ سے بھرے ہوئے ہیں۔کاغذوں کی کشتیاں رواں ہیں اور کبوتر پروں میں چپو تھامے پانی چیرنے میں مصروف ہیں۔حافظ حلوے کی لدل میں پھنسا ہوا ہے اور یہ چیتر کے مہینے کی ایک خوش رنگ شام ہے ۔وہ اپنے کمرے میں بیٹھا چائے پی رہا ہے کہ چائے کی پیالی میں گر جاتا ہے۔وہ کوئی بچہ نہیں نہ ہی اس کا قد چھوٹا ہے ۔چالیس پچاس برس کا چھہ فٹ لمبا آدمی چائے کی پیالی میں گر گیا۔‘‘(7)
اس کہانی میں ایک کردار چیتر کے مہینے میں چائے پیتے ہوئے پیالی میں گر جاتا ہے اور بہت محنت و مشقت کے بعد بھی پیالی سے نہیں نکل پاتا کہ وساکھ کی صبح نمودار ہو جاتی ہے۔پارسال کے وساکھ کے تمام منصوبوں پر پانی پھر جاتا ہے کہ جیٹھ کا مہینہ بھی شروع ہو جاتا ہے اور جیٹھ کی نیم گرم ہوائیں لوگوں کے کوٹوں اور سویٹروں کے بٹن کھول رہی ہوتی ہیں۔لوگوں نے گرم کپڑے تہہ کر کے کمبوں میں رکھنے شروع کر دیے ہیں کہ ہاڑھ کا مہینہ آجا تا ہے اور وہ پیالی سے نکلنے کے لیے بھر پور کوشش کر رہا ہے لیکن بے بس ہو کر گر پڑتا ہے ۔چائے کی چھینٹیں میز پر بکھر جاتی ہیں۔وہ نڈھال ہو کر کوشش ترک کردیتا ہے لیکن یہ سوچ کر کہ لوگ اسے ڈھونڈ تے پھر رہے ہوں گے پھر کوشش شروع کردیتا ہے،آوازیں دیتا ہے لیکن چائے کے بلبلے ان آوازوں کو نگل لیتے ہیں۔وہ پہلی تکلیفیں بھول جاتا ہے اور اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ آج پہلی بار چائے کی پیالی میں گرا ہو۔اسی عالم میں سون کا مہینہ شروع ہوجاتا ہے۔آسمان زار وقطاررورہا ہے،پہاڑوں کے گالوں پر آنسوؤں کی قطاریں لگ گئی ہیں،چڑیا ں انڈے دینے کی فکر میں گھروں کی چھتوں پر منڈلاتی پھر رہی ہیں اور ککھ اکٹھے کر رہی ہیں،عورتیں بھیگی ہوئی ہیں اور ان کے کپڑوں سے آگ نکل رہی ہے،زمین پناہ مانگ رہی ہے لیکن وہ چائے کی پیالی میں گرا ہوا ہے۔اس کے گھر کے لوگ اُسے ڈھونڈ رہے ہیں اور بھادوں بھی آگیا ہے۔پرندوں نے اپنی چونچیں گھونسلوں میں چھوڑ دی ہیں۔حاملہ عورتوں کی آنکھوں میں حیرانی تنی ہوئی ہے کہ اسوں کی ابتدا جدائی کے آنسوؤں سے ہوتی ہے۔چڑیے کا بچہ گھونسلے سے گر گیا ہے اور بڑے بوڑھوں کا خیا ل ہے کہ اب یہ گھونسلے میں نہیں بیٹھے گا۔جوانی محبوب کے انتظار میں پھاوی ہوچکی ہے۔اس نے ایک مدت سے دوپٹے کا نیا رنگ نہیں چڑھایا ہے۔پرانے سوئٹروں کی اون ادھڑ رہی ہے اور کتیں کی ہوا چل چکی ہے لیکن وہ چائے کی پیالی میں گرا ہوا مسلسل کو شش کر رہا ہے اور چائے کی پیالی سے نکلنے کے چکر میں پریشان ہے۔اتنے میں مگھر آجاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ آج مگھر کی کتنی تاریخ ہے۔مگھر کے جاتے ہی پوہ کا پالا کمبل اوڑھے پھر رہا ہے ۔لوگوں پر مگھر دوسرے مہینے سے کچھ زیادہ ہی بھاری ہو رہا ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔پیالی میں ڈوبا وہ شخص بار بار نکلنے کی کوشش کر رہا ہے ۔لوگوں کا خیال تھا کہ وہ چیتر یا ساون بھادوں میں بچھڑا،مانہہ یا پھاگن میں آملے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔مانہہ میں بھی لوگ اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔کسی کا خیال سیدھی کروٹ نہیں بیٹھتا۔سب کہتے ہیں کہ وہ یہاں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔مانہہ کے آخری دن ہیں اور پھگن اپنے بانہیں پھیلانے کے لیے بے چین ہے۔پھگن کی ہوا میں رنگ گھلے ہوئے ہیں،سب جدائی چھانتے پھر رہے ہیں لیکن وہ شخص چائے کی پیالی میں گرا پڑا ہے اور لوگوں کے خیالوں کی رسائی وہاں تک نہیں ہو پارہی ہے۔
مظہر الاسلام کا یہ افسانہ علامتی ہے جو ایک شخص کی جبلت کو پیش کرتا ہے۔چائے میں گرا شخص اس پیالی کا عادی ہو چکا ہے اور یہ علت اس سے نہیں چھوٹ پارہی ہے ۔اسی بات کو کہانی نگار نے خوب صور ت اندا ز میں بیان کیا ہے۔اعجاز راہی ؍ احمد داؤد کی ترتیب شدہ ’’بہترین نئی کہانیاں‘‘ میں اس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مظہر الاسلام کی افسانہ نگاری کے حوالے سے ملاحظہ ہوں اعجاز راہی کے خیالات:
’’
مظہر الاسلام کے اسلوب کا تیقن معاشرتی عمل سے ابھرتی تشکیک کی بھیانک خیزیوں کو جس انداز سے پینٹ کرتا ہے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی فکری اور اسلوبیاتی کمٹ منٹ روایت کے ریگزاروں سے اوپر اٹھتی ہوئی لوک ریت کی زر خیز یوں کو دامن میں سمیٹتی اس کی پہچان بنتی جارہی ہے اور کسی فن کار کے لیے اس کی پہچان اس کی ادبی خواہشات کی فنی معراج سے کم نہیں’’۔(8)
مظہر الاسلام نے یوں تو بہت ہی کم تعداد میں علامتی کہانیاں لکھی ہیں کیوں کہ اس زمانے کے حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ بات ڈھکے چھپے انداز میں کہی جائے۔اس عہد کے تقریباً تمام فن کاروں نے علائم کے سہارے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔علامت کے علاوہ جن تکنیک کا استعمال مظہر الاسلام نے کیا ہے اُن میں وجودیت ،بیگانگیت،سر ریلزم جسے رجحانات سے استفادہ خاص طور پر اہم ہیں۔شعور کی رواور آزاد تلازمۂ خیال کی تکنیک بھی اُن کے ہاں ملتی ہے۔وہ علامتیں خلق نہیں کرتے بل کہ ان کے ہاں یہ عمل فطری ہے۔تجریدیت کے حوالے سے ’’گم شدہ نسل کا پورٹریٹ‘‘،’’اِنا للہ و انا الیہ راجعون‘‘،’’عذاب پوش پرندے‘‘، ’’روئی کے بادبان‘‘ اور ’’الف لام میم‘‘ وغیرہ خاص طور پر اہم ہیں۔اسی طرح سر رئلزم اور میجک رئلزم کے حوالے سے ’’کندھے پر کبوتر‘‘ اور ’’ٹیڑھی فصیل کے سائے‘‘ اسی انداز میں لکھے گئے ہیں۔’’متروک آدمی‘‘ اور ’’دھتکارا ہوا آدمی‘‘ بیگانگی کی عمدہ مثالیں ہیں۔’’پیاسے ہاتھ کی دسترس‘‘ وجودی افسانہ ہے اور ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ بین المتونیت کی عمدہ مثال ہے۔اس افسانے میں ایک ایسے بادشاہ کی حکایت کو بیان کیا گیا ہے جو اپنی رعایا سے کہتا تھا کہ جو شخص ایسی کہانی سنائے گا جو کبھی ختم نہ ہو ۔اگر ختم ہو گئی تو اُسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔اس چکر میں کئی لوگ جاں بحق ہو جاتے ہیں البتہ ایک بڑھیا اس کام کے لیے آمادہ ہوتی ہے اور بادشاہ کو چڑیا چگنے کی کہانی سناتی ہے۔اس کہانی میں اپنی آواز کھو جانے کے بیان کو افسانہ نگار نے نئی معنویت عطا کی ہے۔اس کہانی کو پاکستان کے سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مظہر الاسلام کے پہلے مجموعے اور بقیہ تینوں مجموعوں میں نمایاں فرق ہے۔پہلے مجموعے میں انہوں نے اردو ادب کے مروّجہ اسالیب کے حوالے سے افسانے لکھے لیکن بقیہ مجموعوں سے انہوں نے اختصاص قائم کیا اور اپنی الگ راہ اختیار کی اور اسی کے حوالے سے ان کی اصل شناخت قائم ہے۔
مظہر الاسلام ایک حقیقت پسند کہانی کار ہے۔وہ افسانے نہیں لکھتے،کہانیاں رقم کرتے ہیں کیوں کہ کہانیاں زندگی کی سچائیوں کا اظہار کرتی ہیں۔کہانیوں کو گڑھنا نہیں پڑتا بل کہ اپنے لفظوں میں حقیقت حال کو بیان کرنا پڑتا ہے۔اس معاملے میں وہ مشہور مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے ہم نوا ہیں جو یہ کہتا ہے کہ ’’مجسمہ تو پتھرمیں ہوتا ہے، میں صرف ارد گرد کے فالتو پتھر ہٹا دیتا ہوں‘‘۔اسی لیے مظہر الاسلام نے جہاں بھی کلرکوں،خاکروبوں،چٹھی رسانوں اور لیراں چننے والوں کی کہانی بیان کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واقعہ ہمارے سامنے رونما ہو رہا ہے اور قاری بھی اپنے آپ کو اسی میں مبتلا پاتا ہے کیوں کہ مظہر الاسلام بے چین،پر درد،دل چسپ اور حیران کن کہانی کار ہے۔ان کی کہانیوں کا موضوع محبت،انتظار،موت،جدائی،خود کشی اور تنہائی کے ارد گرد گھومتی ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالاعنوانات پر مختلف کہانیوں کے حوالے سے گفت گو کی جائے۔
محبت، مظہر الاسلام کا بنیادی موضوع ہے۔اس ضمن میں انتظار،جدائی،موت اور خود کشی بھی ہے یعنی تمام چیزوں کا انحصار محبت پر ہی ہوتا ہے۔اس کے علاوہ تنہائی بھی محبت کی ہی دین ہے۔اس ضمن میں پہلی کہانی ’’بچا کھچا‘‘ ہے جس میں ایک کردار حالات کا ایسا ستم رسیدہ ہے کہ وہ ہر باسی چیز کو شوق سے کھاتا ہے،تازہ کھانے کی اس کی عادت نہیں۔جب وہ آسودہ حال ہو جاتا ہے تب بھی اس کی یہ عادت نہیں چھوٹتی۔اس المیے کا ذکر وہ اپنے عزیز ترین دوست سے کرتا ہے تو وہ اپنی چھوٹی بہن سے اس کی نسبت طے کر دیتا ہے۔اس کے دوست کی ایک بہن مطلقہ ہوتی ہے تو وہ اس میں دل چسپی لینے لگتا ہے اور جب اس بات کی خبر اُس کے بھائی کو ہوتی ہے تو اس کا قتل کر دیتا ہے۔اسی طرح ’’گٹھڑی چور‘‘ کی لڑکی جو اپنے عزیز دوست کی تما م چیزوں کو سنبھال کر رکھتی ہے اور تیس سالوں کے بعد ان دونوں کی ملا قات ہوتی ہے تو تمام چیزیں واپس لوٹا دیتی ہے۔اس واقعے سے لڑکا حیرت زدہ ہے اور اس محبت کرنے والی لڑکی کی گٹھڑی کو اَب کھولنے سے انکار کر رہا ہے۔جب کہ وہ کہتی ہے کہ ذرا کھولو تو سہی اس میں سکون ہے،تمہاری خواہشیں اور تمنائیں ہیں۔اس کے بعد لڑکا اپنی دوسری اشیا کے گم ہوجانے کا بھی ذکر کرتا ہے کہ اس کا دوست اس کی تمام چیزیں چرا لیتا تھا۔اس کا باپ بہت امیر آدمی تھا مگر وہ خاندانی امیر نہیں تھے اس لیے وہ لڑکا امیر ہوتے ہوئے بھی دوسرے لڑکوں کی چیزیں اٹھا کر اپنے گھر لے جایا کرتا تھا۔بڑا ندیدہ،حریص اور لالچی تھا وہ.....بھوکا....۔کہتے ہیں کہ کبھی کبھی پیٹ بھر جاتا ہے مگر نظر نہیں بھرتی.....اس کی نظر بھوکی تھی....کاش تم نے بھی کبھی اُسے چیزیں سمیٹتے ہوئے دیکھا ہوتاتو تمہیں اندازہ ہوتا کہ وہ کتنی بھوکی فطرت کا مالک تھا.....یہ اللہ میاں بھی کیا کرتا ہے کئی لوگوں کو دوست اور پیسہ دے دیتا ہے مگر انہیں بھوکا اور ندیدہ ہی رکھتا ہے۔کچھ لوگوں کو دولت نہیں دیتا مگر دل بھر دیتا ہے میرا مطلب ہے اُن کے دل امیر بنا دیتا ہے۔اسی طرح ’’اندھیرے میں بیٹھ کر لکھا ہوا خط‘‘ کا ایک کردار ریستوراں میں چائے پیتے ہوئے خط پاتا ہے اور نامہ بر کا تعاقب کرتے ہوئے آخر کار لائبریری تک پہنچ جاتا ہے جہاں ’’گھاسٹ اسٹوریز‘‘کا تختہ ٹنگا ہو اہے اور دونوں کی ملاقات موت کے بعد ہوتی ہے۔’’ابر آلود شہر میں چھتری بھر دھوپ‘‘ کا کردار ازلی محبت کا بھوکا ہے۔وہ اپنی محبوبہ سے پلیٹ فارم پر کچھ دیر ٹھہرنے کے لیے کہتا ہے لیکن وہ اتنی سنگ دل ہے کہ بارش میں بھیگ جانا پسند کرتی ہے لیکن اس کے پا س ٹھہرنا گوارا نہیں کرتی۔اسی طرح مظہر الاسلام کی کہانیوں کے کرداروں پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ محبت کے بھوکے ہیں ،انہوں نے محبت کو کسی طرح بھی محسوس نہیں کیا ہے ۔ان کے اندر تشنگی باقی ہے اور اسی انتظار میں دار فانی کے کوچ کرجاتے ہیں۔ان کی کہانیوں کے کردار محبت کے بھوکے تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی اپنے محبوب کی حرکتوں کے ستم رسیدہ بھی ہوتے ہیں۔بے وفائی،خود غرضی اور مطلب پرستی جیسی صفات اس کے ساتھ ضم ہوتی ہیں ۔’’کاغذ کے شہر کا ایک قصہ ‘‘اسی نوعیت کی کہانی ہے۔اس کہانی میں استانی بچوں کے لیے ایک کاغذ کا شہر بناتی ہے اور اپنے ہاتھوں سے سنوارتی ہے تاکہ بچے اس نئے شہر میں سکو ن سے رہ سکیں لیکن جب اس کا دوست اس شہر میں رہنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو وہ شہر ہی چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔اس طرح ’’کسی گاؤ ں کا آدمی ‘‘ اپنے وطن چھوڑ کر دوسرے قریے میں رہائش پذیر ہے ۔لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم ہے بس یہ معلوم ہے کہ وہ ایک صندوق اپنے ساتھ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور اس صندوق کا راز کیا ہے ،کسی کو نہیں معلوم لیکن جب وہ مرجاتا ہے تو ایک چٹ کے ذریعہ اس راز کا انکشاف ہوتا ہے جس میں لکھا ہے:
’’
یہ کنگھی اس کی ہے۔اس کنگھی سے وہ اپنے بال سنوارا کرتی تھی۔یہ سلیپر بھی اس کے ہیں مگر یہ کفن میرا ہے‘‘۔(9)
’’
شیلف سے گری ہوئی کتاب ‘‘کا رحمت با با بھی اسی عشق کا مار اہوا ہے۔وہ ایک ریستوراں میں پچاس سالوں سے کام کر رہاہے اور اب تک اس کی شادی نہیں ہوئی ہے۔وہ ایک ایسے شخص سے خط لکھواتا ہے لیکن اس کے بہ قول کسی نے غلط پتا لکھ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ خط آج تک صحیح مقام تک نہیں پہنچا ہے۔’’کہار‘‘ کا شیدا بھی بیس سالوں سے محبت کا دکھ اٹھا رہا ہے۔اسی محبت میں انتظار کا نتیجہ ہے کہ مظہر الاسلام کے کردار تنہا ہوتے ہیں۔وہ تنہائی کو خوش اسلوبی سے قبول کرتے ہیں اور اگر کہیں تنہائی نصیب نہ ہو تو اس کا شکوہ بھی کرتے ہیں۔ان میں کچھ کردار ایسے بھی ہیں ہیں جو خالص تنہائی پسند کرتے ہیں۔اس ضمن میں سب سے نمائندہ کہانی ’’آندھی اور کھلی کھڑکیاں‘‘ ہے۔اس کہانی کے کردار کو شروع ہی سے تنہائی پسند ہے اور وہ اداسی سے محبت کرتا ہے۔اپنے ایک دوست کے متعلق یہ بیان کرتا ہے کہ اس کے گھر کی اداسی بہت ہی ذائقہ دار اوربالکل خالص ہے۔اس کی کسی آس آواز میں کوئی ملاوٹ نہیں ۔اس لیے وہ اپنے دوست کے گھر جا کر اداسی اوڑھتا اور اکیلے پن کا نشہ کرتا ہے۔اس کے گھر کی اداسی اسی لیے ذائقہ دار ہے کہ کچھ عرصے قبل اس کی بیوی اُسے چھوڑ کر چلی گئی ہے اور جب کوئی اپنا کسی عزیز کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو اداسی نہایت ہی ذائقے دار ہو جاتی ہے۔اسی طرح کہانی ’’پنجرہ ‘‘ کا کردار جسے لوگ پاگل قرار دے چکے ہیں سوائے ایک لڑکی کے ،جو بار بار جج کے سامنے یہی اصرار کر رہی ہے کہ می لارڈ!وہ شخص پاگل نہیں اور اس کا ذہنی توازن بھی بالکل ٹھیک ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ تنہائی کو پسند کرنے لگا تھا اور زمانے میں پھیلی بد امنی کا شکوہ کرتا تھا اور کچھ اداس اداس رہنے لگا تھا لیکن جب وکیل اس کی بات نہیں مانتا تو وہ وضاحت کے ساتھ یہ بات کہتی ہے:
’’
اس کا کہنا تھا کہ اکثر اس کے برانڈ کے سگریٹ نہیں ملتے۔
پیا ر ختم ہو گیا ہے۔
ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
روشنی کم اور اندھیرا زیادہ ہو گیا ہے۔
بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں ملتا۔
کلرکوں اور دوسرے ملازمین کو صبح دفتر جانے کے لیے بس نہیں ملتی۔
خوشامد کا زہر شہر کے وجود کو مفلوج کر رہا ہے‘‘۔(10)
مظہر الاسلام کے زیادہ تر کردار وں نے تنہائی کو اپنا لباس بنا لیا ہے،وہ کسی سبب سے ہی تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔کچھ کردار اس لیے تنہا ہیں کہ انہوں نے بے وفائی کا غم جھیلا ہے اور انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ تنہائی کے سہارے ہی اس غم کا ازالہ کریں گے یا اسے مزید گہرا رنگ دیں گے۔کچھ کرداروں نے معاشرے میں پھیلی بر امنی سے عاجز آکر اسی میں خوش ہیں۔ایسے ہی لوگ خوب صورت موت کی بھی خواہش رکھتے ہیں جس کی بہترین مثال ’’رات کنارہ ‘‘ہے جس میں باپ بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے جو خوب صورت موت کے زوال کی بات کرتے ہیں ۔باپ کہتا ہے:
’’
نہیں پتّر مجھے لگتا ہے کہ موت کے فرشتے نے اب کوئی انجمن وغیرہ بنا کر یہ کام اپنے کارکنوں کو سونپ دیا ہے اسی لیے تو موتیں اب خوب صورت نہیں رہیں.....بابا رسولا کیسے مرا.....جل کر.....تیرا چاچا کیسے مرا.....ڈوب کر.....یہ کیسی موتیں ہیں.....؟بے رعبی موتیں.....چاقو مار دیا.....بم پھٹا.....میر ابا با مرا.....دادا مرا.....اسی اسی سال کے تھے وہ۔ عزازیل آیا.....آرام سے سوئے اور صبح اگلے پنڈ....پکے ہوئے آم کی طرح موت کی جھولی میں گرے۔میٹھے چاولوں کی دیگیں پکیں۔اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی اولادوں کی خوشیاں دیکھ کر مرے تھے وہ‘‘۔(11)
ایسے ہی لوگ خوشامدی،ریا کاری،فریب اور حسد وغیرہ سے گریز کرتے ہیں ’’دھتکارا ہو اآدمی‘‘ کا کردار اَپنے باپ کی قبر پر اس لیے مٹی نہیں ڈالتا کہ زندگی بھر ایمان دار ی اور سچائی کے ہاتھوں اذیتیں سہنے والا اس کا باپ اس کے ہاتھ کی ڈالی ہوئی مٹھی بھر مٹی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکے گا۔اس کہانی کا کردار اپنے استاد کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ ایمان داری کی زندگی کا نوحہ کرے اور یہ کہے کہ اس کا باپ اور استاد سے سیکھی ہوئی خصلتیں اس کے لیے نقصان دہ رہی ہیں۔وہ یہ بھی کہتا ہے:
’’
میں کمینگی پر کڑھتا رہا،تھڑدلی پر طیش کھاتا رہا،بے ایمانی کے خلاف احتجاج کیا،جھوٹ سے نفرت کرتا رہا،لالچ اور حرص کو قریب پھٹکنے نہیں دیا،اپنا وعدہ ہمیشہ پورا کیا،کسی کو دھوکا نہیں دیا،۳۷ سال تک سچ کی صلیب اٹھائے پھرا مگر میں تنہا ہو گیا۔کسی نے بھی مجھ سے محبت نہیں کی،مجھے گھٹیا کہا،میرے خلاف قرار دادیں پاس کیں،مجھے دکھ دیے گئے۔میں سچائی کا روگ پال کر بیٹھا رہا،لوگ ہنستے رہے‘‘۔(12)
ایک شخص جس نے زندگی کی لمبی عمر خلوص کے ساتھ گزاری لیکن وہ ایسی زندگی سے خوش نہیں رہاکیوں کہ اس شخص کے ارد گرد ایسی دنیا آباد ہے جو مکر وفریب سے پُر ہے۔اسی الجھن کی وجہ سے وہ اپنے گاؤں جاتا ہے جہاں اس کے استاد گوشہ نشین ہیں اور انہیں وہ تمام خصوصیات لو ٹانے آیا ہے تاکہ وہ خوش رہ سکے لیکن ماسٹر جی کی نصیحتوں سے اس نے وہی زندگی جینے کا فیصلہ کیا ہے جو اُس کا حق تھا اور جسے ماسٹر جی اسّی سال سے جیتے آرہے تھے۔
مظہر الاسلام کے کہانیوں کے مجموعے میں خوشامد وں ،ریاکاریوں ،فریبوں اور حاسدوں کے حوالے سے کہانیاں بکھری پڑی ہیں جن میں’’ معرفت چا چا نور دین‘‘،’’جاگتے سمندر کے کنارے سوئی ہوئی کشتیاں‘‘،’’آنکھیں نیند سوچتی ہیں‘‘،’’پروں پر پانی‘‘،’’جنتری‘‘ اور’’ کاغذ کے شہر کا قصہ‘‘ خاص طور پر اہم ہیں۔کلرکوں کے حوالے سے بھی انہوں نے کئی عمدہ کہانیاں لکھیں ہیں جن میں ’’بلائنڈ پرزم‘‘،’’سانپ گھر‘‘، ’’کلرکوں کے خواب‘‘ اور’’ موت کی طرف کھلی کھڑکی‘‘ اس ضمن میں اہم ہیں۔مظہر الاسلام نے کہانی کو کیا دیا؟اس حوالے سے صفیہ عباد نے اپنی تنقیدی کتاب ’’کہانی مظہر الاسلام ہے‘‘ میں واضح اشارے کیے ہیں۔ان کے بہ قول:
’’
اس نے کہانی کو روایت کا احترام دیا جو منٹو ،کافکا اور امرتا پریتم کی طرف سے بہتی آرہی تھی۔اس نے کہانی کے اندر محبت،نفرت،عبادت ،ریاضت سب کا عرق اتارا۔ مجاز کا سفر حقیقت اولیٰ تک طے ہوا۔ان کی کہانیوں میں سچ کی سولی میں ذات کے تجربوں کی سچائیاں،گرد ونواح کی زندگی کے کڑوے میٹھے ذائقے ہیں جو اس نے دل کھول کر کہانی کو دیے۔اس نے کہانی کو لفظ ’’بننا ‘‘دیا....لفظ ’’کہنا‘‘ اس سے چھین لیا۔اس نے کہانی کو اداسی اور تنہائی کا گہرا رنگ دیا۔اس نے کہانی کو آنسوؤں کی لذت ہی نہیں دی بل کہ ان کا شدید بہاؤ دیا۔وہ آنسوؤ ں کی دولت سے مالا مال تھا،یہ دولت اس نے فراخ دلی کے ساتھ کہانی کو دی۔اس محبت نے کہانی کو روشنی دی،مختلف طرح کی چھتریاں دیں،ان چھتریوں کے سائے میں اس نے غربت،بھوک،انتظار،جدائی اور گہرے دکھوں کے رنگ دیکھے۔کہانی کو مظہر الاسلام نے لمبے لمبے عنوانات دیے،چڑیا دی،کبوتر دیے ۔ا س کے علاوہ انہوں نے ان گنت کردار دیے ۔بابو صاحب،صاحب جی،کمہار،پوسٹ مین،شہر کا اختلافی آدمی، گھڑی ساز،گڑیا ساز،موت ،صندوق والا اجنبی اور گور کن۔وہ گورکن جو سچائی ،موت اور زندگی کا بھی گور کن ہے‘‘۔(13)
ان کی کہانیوں میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو بیانیہ افسانے کی خصوصیات ہو سکتی ہیں ۔علامات و استعارات کے ضمن میں بھی انہوں نے اچھے نمونے پیش کیے ہیں۔زندگی سے مستعار لی گئی حقیقتوں کو علامات کی شکل میں پیش کرنے کا فن ان کے ہاں بہت ہی نرالا ہے۔مثال کے طور پر ’’باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘‘ میں چائے ،شباب کی علامت ہے۔ایک لڑکی جو کسی کے ساتھ بیٹھ کے چائے پی رہی ہے اور اس کی چائے ٹھنڈی ہونے کی طرف اشارہ بھی کر رہی ہے کیوں کہ اس کی زندگی میں کوئی اسے چاہنے والا نہیں ملا اور وہ چاہتی ہے کہ اس کی چائے ٹھنڈی ہونے سے قبل وہ اسے اپنا لے۔اسی طرح کہانی ’’سانپ گھر ‘‘ میں سانپ ڈر،خوف اور دہشت کی علامت ہے ۔ایک شخص جو دفتر میں ہو یا گھر میں اُسے سانپ ہی سانپ نظر آتے ہیں۔وہ اپنے دوستوں سے بھی اس کا ذکر کرتا ہے تو وہ لوگ بھی اسی خوف کو اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہیں اور اس کا اظہار محض اس وجہ سے نہیں کرتے کہ کہیں لوگ اس کا مذاق نہ اڑائیں۔افسانہ ’’بارہ ماہ‘‘ میں چائے کہ پیالی میں ایک شخص کے ڈوب جانے کے بیان کو علامت کے طور پر استعمال بھی اس ضمن میں نادر ثبوت ہے۔اس کہانی میں انسانی جبلت کو چائے کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔وہ شخص بارہ ماہ تک اسی چائے کی پیالی میں ڈوبا ہوا ہے اور نکلنے کی نا کام کوشش کر رہا ہے لیکن اُسے کام یابی نہیں ملتی۔کہانی ’’چور آنکھ‘‘ میں عورت کی پاکیزگی کو خوشبو کے طور پر علامت کرنا بھی اس کی واضح مثال ہے۔خوشبو کی علامت ا س لیے کہ جہاں ایک طرف عورت کی بے حیائی ،بے وفائی اور بے غیرت کا مجسمہ ہوتی ہے وہیں ایک عورت ایک نا مرد شخص کے ساتھ پوری جوانی ضائع کر دے اور اس کی جوانی کی بیل دوسرے تناور درختوں پر نہ چڑھے ،اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔اسی طرح سے کبوتر کو بہ طور محبت اور کلاک کی رکی ہوئی سوئیاں وقت کے زوال کی علامت ہے۔
اس طرح یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ مظہرالاسلام نے عام انسانوں کی کہانیاں لکھی ہیں اور عام فہم انداز میں لکھی ہیں۔وہ ایک بے چین ،پر درد،دلچسپ اور حیران کن کہانی کار ہے اور ان کی کہانیوں کا موضوع محبت،خود کشی ،موت اور جدائی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے اردو کہانی کو لمبے موضوعات دیے۔یہ اختصاص مظہر الاسلام کے ساتھ ہی مختص ہے۔ان کے ہم عصروں میں کسی فن کار کے ہاں یہ بات نظر نہیں آتی۔اپنے ہم عصروں میں ان کا قد دوسرے افسانہ نگاروں سے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔
***





حوالہ جات:
1
۔ پروفیسر فتح محمد ملک۔(دیباچہ)۔گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2006۔صفحہ نمبر 273
2۔افسانہ ’’ایک شام نے چڑیا کو چگ لیا‘‘۔مشمولہ ’’گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔1999۔صفحہ نمبر 145
3۔افسانہ ’’کہانی کی مٹھی میں ڈراما‘‘۔مشمولہ ’’گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔1999۔صفحہ نمبر146
4۔افسانہ ’’قتل کا مقدمہ‘‘۔مشمولہ ’’گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔1999۔صفحہ نمبر192
5۔افسانہ ’’کندھے پر کبوتر‘‘۔مشمولہ’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2006۔صفحہ نمبر 184
6۔افسانہ ’’کندھے پر کبوتر‘‘۔مشمولہ’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2006۔صفحہ نمبر186
7۔افسانہ ’’بارہ ماہ‘‘۔مشمولہ’’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2006۔صفحہ نمبر266
8۔اعجاز راہی؍ احمد داؤد۔بہترین نئی کہانیاں۔دستاویز پبلشرز،راول پنڈی۔1980۔صفحہ نمبر107
9۔افسانہ ’’کسی اور گاؤں کا آدمی‘‘۔مشمولہ ’’خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2000۔صفحہ نمبر 56
10۔افسانہ ’’پنجرہ ‘‘۔مشمولہ ’’باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2010۔صفحہ نمبر 28
11۔افسانہ ’’رات کنارا‘‘۔مشمولہ’’گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔1999۔صفحہ نمبر 91
12۔افسانہ ’’دھتکارا ہوا آدمی‘‘۔مشمولہ۔گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔1999۔صفحہ نمبر231
13۔صفیہ عباد۔کہانی مظہر الاسلام ہے۔یا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔2009۔صفحہ نمبر165
***

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.