مابعد جدیدیت کے سالار :پروفیسر گوپی چند نارنگ




ڈاکٹر امام اعظم
02 Jun, 2017 | Total Views: 238

   

پروفیسر گوپی چند نارنگ اردو ادب کی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کو لسانیات اور تنقید دونوں پر قدرت حاصل ہے۔ اردو تنقید نگاری میں اتنی بڑی ہمہ جہت شخصیت بہت کم نظر آتی ہے اورنارنگ صاحب نے اسی تہذیب کو اپنا ذریعۂ اظہار بنایا۔ان کی شخصیت میں جتنے بھی رنگ ہیں ان میں اسی کا انعکاس ہے۔باوجودیکہ اردو ان کی مادری نہیں بلکہ اکتسابی زبان ہے مگر اردو سے والہانہ عشق نے انہیں اردو تہذیب و تاریخ کا جزولاینفک بنادیا۔انہوں نے کبھی اردو میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی اور نہ ہی ہندی اردومیں کسی غیریت کا احساس کیا۔ ارد ومیں خصوصی طور پر تنقید کا دائرہ محدود تھا اور تاریخی پس منظر میں اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ میں یہاں پر ذکر کرتا چلوں کہ بہت ساری غلط فہمیوں اور متعصبانہ رویوں سے اردو زبان کو نہ صرف پیچھے کرنے کی سازش رچی گئی بلکہ اس کی اصل نوعیت اور اس کی توانائی کو کسی محدود دائرے میں قید کرکے دیکھنے کی وجہ سے نقصان ہوا۔ یہ سچ ہے کہ اردو زبان دربار کی زبان نہیں رہی لیکن اس کے اندر ایسی خوبیاں تھیں کہ اسے اپنانے میں لوگ عافیت سمجھتے تھے۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ یہ ہندوستان اور بر صغیر کی سب سے پیاری زبان ہے اور اسے اپنانے میں لوگوں کو کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو ہندوستان میں پلی بڑھی اور وقت اور حالات کے ساتھ اس نے ضرورتوں کے ساتھ اور حالات کے تقاضوں کے مطابق خود میں بے پناہ کشادگی پیدا کی اور اپنا رشتہ عربی اور فارسی کے ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوں سے بھی استوار کیا۔ایک ایسا مستحکم رشتہ کہ اس کے عناصرِ ترکیبی سے ہندوستانی عناصر کو الگ کیا ہی نہیں جاسکتا ۔ اس لئے پروفیسر نارنگ نے فارسی رسم الخط کی بنیاد پر ارد وکے بدیسی ہونے کے الزام کو سختی سے مسترد کیا اور ثابت کیا کہ ہندی اور اردو میں اٹوٹ رشتہ ہے :
’’۔۔۔جتنا اشتراک اردو اور ہندی کی لفظیات Lexicon، صرفیاتMorphologyاور نحویات Syntaxمیں پایا جاتا ہے ، شاید ہی دنیا کی کسی دو زبانوں میں پایا جاتا ہو۔ اردو کی تقریباً چالیس آوازوں میں صرف چھ ایسی ہیں جو فارسی و عربی سے لی گئی ہیں باقی سب کی سب ہندی اور اردو میں مشترک ہیں خاص طور سے ہکار Aspirated آوازیں، پھ، بھ، چھ، جھ، تھ، دھ، کھ،گھ اپنے سادہ روپ کے ساتھ پورے سٹ کے حیثیت سے ہندی اور اردو میں موجود ہیں۔اسی طرح معکوسی Retroflexآواز یں یعنی ٹ، ڈ، ڑ، اور ان کے ہکار روپ ٹھ، ڈھ ، ڑھ بھی ہندی اور اردو میں مشترک ہیں۔ یہ چودہ آوازیں اردو کا رشتہ پراکرتوں سے جوڑتی ہیں اور یہ نہ عربی میں ہیں نہ فارسی میں ، گویا گنتی کی چند آوازوں کو چھوڑ کر اردو اور ہندی کے مصمّتوں کا ڈھانچہ تقریباً ایک جیسا ہے۔ مصوتوں Vowels میں تو اشتراک اس سے بھی زیادہ ہے ۔یعنی صوتی ہم آہنگی سو فیصد ہے۔ ‘‘ (بحوالہ:دیدہ ور نقاد:گوپی چند نارنگ،مرتب: ڈاکٹر شہزاد انجم، ص:۲۶۳)
اس طرح صدیوں پر محیط ہندو مسلم کے اختلاط سے جو نئی ہندوستانی تہذیب ابھری اس نے اردو کو جنم دیا جس نے عربی فارسی عناصر کی تہنید کی ، انہیں ہندوستانی مزاج کی خراد پر اتارا جس کے نتیجہ میں رسم الخط کی اردو انے کے عمل کے دوران اتنی کایا پلٹ ہوچکی ہے کہ نہ صرف یہ اپنے اصل سے کوسوں دور ہوچکی ہے بلکہ اس میں ایسی علامتوں کا اضافہ بھی ہوچکا ہے جو نہ عربی میں ہیں نہ فارسی میں اور یوں رسم الخط کے اعتبار سے بھی ارد وخالص ہندوستانی تہذیب کی عکاس ہے۔ یہ رسم الخط اردو کا اپنا ہے جو ہندوستانی زبانوں کے اپنے اپنے رسم الخط کی طرح ہے ۔ اسی بنیاد پر پروفیسر نارنگ اردو رسم الخط کی تبدیلی کے بھی سخت مخالف ہیں کہ اس کی تبدیلی سے اردو کا حسن، اس کی دلکشی ، اس کی مقناطیسی قوت ضائع ہوجائے گی۔ 
اسی طرح انہوں نے ’’ادبی تنقید اور اسلوبیات ، اسلوبیات میرؔ ، سانحۂ کربلا ،شعری استعارہ ، قاری اساس تنقید ، ساختیات ، پس ساختیات اور مشرقی شعریات ‘‘جیسی تصنیفات کے ذریعہ فلسفہ ہائے ادب کی جس جامع آگہی اور تنقید کا جو نیاز اویۂ نظر ترتیب دیا وہ حالیؔ کے’’ مقدمہ شعر و شاعری ‘‘کے ایک صدی بعد اردو میں ادبی تھیوری کا Turning pointہے۔ جس کی وجہ سے اردو ادب کو ایک نئی توانائی ملی ہے۔ ترقی پسندی اور جدیدیت کے مقابلے تخلیق کا ر کے سامنے مناظر اور روایتوں سے بھرپور ایسی تخلیقی فضا آگئی ہے جس میں تخلیقات کو ندرت و تنوع اور نئے اسالیب کو زندگی مل رہی ہے۔ تفہیم کی نئی دنیا ئیں سامنے آرہی ہیں۔ 
یوں تو وقت کے ساتھ سماج کا بدلنا یا سماج کے ساتھ حالات کا بدلنا ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں سائنس بھی شفافیت سے کچھ بیان کرنے سے قاصر ہے۔ ادب میں بھی وقت کا اہم رول ہوتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل کچھ اس طرح ایک دوسرے سے مدغم ہونے لگتے ہیں کہ اس کے اثر سے انسانی فکر کی رَو کچھ ایسے کارنامے انجام دینے لگتی ہے جسے کبھی تحریک ، کبھی انقلاب ، کبھی تبدیلی ، کبھی رجحان کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ فطری عمل ہے ۔ یہ الگ سی بات ہے کہ فطری عمل شعوری عمل اس وقت ہوجاتا ہے جب اسی رجحان کی بساط پر کچھ مہرے شہ کو مات دینے لگتے ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا میں جتنے بھی ازم آئے اس میں شعوری کوشش تو بعد میں کی گئی لیکن فطری عمل پہلے ہوا اور یہ تغیر پذیر لمحوں کا Stretchاپنے اندر حال، ماضی اور مستقبل کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ 
اردو ادب میں بھی تین ایسے تغیرات تخلیقی سطح پر دیکھے گئے جنہیں مختلف ناموں سے نوازا گیا چوں کہ ہر زمانہ میں رجحانات، تغیرات کے سبب اپنی شکل اختیار کرنے لگتے ہیں اس لئے وہ شخص جو تغیر کو گرفت میں لے کر نئے رجحان کو آگے بڑھاتا ہے اسے اس کا بانی مان لیا جاتا ہے۔
جدیدیت کے امام شمس الرحمن فاروقی نے ایک Established اصول کو جو کل تک تحریک کی شکل میں سکہ جمائے ہوئے تھے اسے یک لخت خارج کردیا اور نئی راہ متعین کرنے کے لئے کچھ ایسی سمتیں متعین کیں جس سے وقت کے تقاضے پورے ہورہے تھے ۔ یہ الگ سی بات ہے کہ جب کوئی نیا رجحان سامنے آتا ہے ، جب کوئی تبدیلی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو سیلاب میں خس و خاشاک بھی آجاتے ہیں ،محض اس بناء پر اس رجحان کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔ وقت کا تقاضہ پرانی قدروں کو دھیرے دھیرے مسمار کر کے نئی قدروں کو Establishکر دیتا ہے۔ جدیدیت کے دور میں یہ بات سامنے آئی اور جب یہ اپنے نقطۂ عروج تک پہنچنے کے قریب ہوئی تو اس میں شدت پسندوں کا عنصر غالب ہونے لگا اور یہی اس کے زوال کا سبب بھی بن گیا۔ 
اس کے بعد ایک نئے رحجان کے آمد کی دھمک محسوس ہونے لگی اور اس میں ماقبل رجحان کی طرح پیچیدگیاں ، گنجلک خیالات اور ابہام کی کیفیت شروع ہوئی، حالانکہ وہ تار جو ماضی، حال اور مستقبل کو جوڑتا رہتا ہے وہ سمٹنے لگا اور سمٹ کر ایک نئے رجحان میں تبدیل ہوا ، جسے بعد میں مابعد جدیدیت کا نام دیا گیا اور جس کے سالار پروفیسرگوپی چند نارنگ نے اس کو فروغ دینا شروع کیا۔ مابعد جدیدیت کے خدو خال ، عکس در عکس ، رنگ ، نور، جمال، ماورائیت کا کہر سب کچھ سمٹنے لگا اور ایک نئی دنیا کی سیر کے لئے ادب میں تجربے ہونے لگے۔ کامیاب تجربے ہوئے اور آج مابعد جدیدیت اپنی شناخت قائم کرنے کی جد وجہد میں مصروف ہے۔ 
اردو میں مابعد جدیدیت رجحان اور پس ساختیات کی تھیوری پروفیسر گوپی چند نارنگ کی خود ساختہ نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والے حالات خصوصی طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعدکی روشن خیالی اور سائنسی آگہی نے جو نئے راستے ہموار کئے تھے اس سے نئی سوچ نے جنم لیا۔ یہ الگ سی بات ہے کہ اس آگہی نے سہولیات کے دروازے کھول دئیے ،دقانوسیت کا پردہ فاش کردیا اور روایتی طرز زندگی کو یکسر بدل دیا۔ اس کی بنیاد پر ایک نیا معاشرہ نئی سوچ کے ساتھ ابھرا لیکن مسائل کی گتھیاں جتنی سلجھیں اس سے زیادہ الجھیں ۔ نارنگ صاحب نے اس بات کی وضاحت پورے تاریخی پس منظر میں بہت ہی وسیع النظری سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پس ساختیات کو بھی انہوں نے تھیوری کا نام دیا ہے اور اس کی فلسفیانہ اساس پر رائے دیتے ہوئے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس کی فلسفیانہ اساس کی موجودگی کے باوجود اس کی تشریحات اور وسعت میں کچھ نہ کچھ کمی کا احساس ہوتا ہے ۔ اردو میں مابعد جدیدیت یورپ کی طرح روشن خیالی کی بنیاد پر نہیں ابھرا بلکہ یہ جدیدیت کے رد عمل میں ابھرا کیونکہ روشن خیالی اور رد عمل میں جو فاصلے ہوتے ہیں اس کی موجودگی کے سبب اسے اتنی وسعت نہیں ملی جتنی ملنی چاہئے تھی۔ لہٰذا وہ مابعد جدیدیت کے علمبردار بن کر ابھرے۔ یقیناًمابعد جدیدیت نے جدیدیت کی اس آلودگی کو روک دیا اور ادب میں ایک متوازن فکری اور اظہاری سمت کو جنم دیا۔ اس سے ارد وادب کو بے پناہ فائدہ ہوا۔ قاری سے رشتہ جڑا اور لغویات سے بچنے کی صورت نکلی اور اس کی پہچان اور شناخت کرنے کا عمل اور رویہ جو گوپی چند نارنگ نے اپنایا اسے اردو تاریخ میں اور تنقیدی رویے میں میل کا پتھر تسلیم کیا گیا۔ اس لئے گوپی چند نارنگ ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر لسانی اور ادبی تغیرات کو اردو میں پیش کرکے اردو کا دامن نہ صرف کشادہ کیا بلکہ اس کے خزانے کو مالا مال کر دیا۔ اسی لئے ان کو اس دور کا معمارِ ادب مانا جاتا ہے۔اردو ادب کو نئی صورت میں پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور خود ادبی حلقہ میں اگر بیشتر ادیبوں اور شاعروں سے پوچھا جائے تو وہ بتائیں گے کہ رد عمل سے جو جدیدیت نے نئی آلودگی پیدا کی تھی اس سے حبس کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور تازہ کار ادبی تخلیق میں بے پناہ رکاوٹیں پیدا ہورہی تھیں ۔ جدیدیت کی جکڑبندیوں کے بعد موصوف نے ایک Relaxationکا پہلو عطا کردیا جہاں آزادئ اظہار اور روشن خیالی کی گوناں گوں خوبیوں سے استفادہ کے لئے فنکار متحرک ہوگئے۔ اس طرح ادب میں تازہ دم ہوکر تازگی اور شگفتگی پھر سے پیدا ہوگئی۔ میں اپنی بات اس قطعہ پر سمیٹتا ہوں:
اردو ادب میں لائے ہیں ’بعدِ جدیدیت‘
نارنگ عہد ساز ہیں ، رجحان ساز ہیں
ان سے نیا زمانہ ، زمانے سے یہ نہیں
جو آپ عہدِ نو کے تغیّر نواز ہیں
***
ریجنل ڈائریکٹر (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ) ، کولکاتا ریجنل سینٹر
۷۱؍جی، تلجلا روڈ ، کولکاتا۔۷۰۰۰۴۶ ؛ موبائل : 08902496545 / 9431085816
ای میل : imamazam96@gmail.com
 

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.