12 Sep, 2017 | Total Views: 362

’’کہانی کوئی سناؤ مِتاشا‘‘

ف شین اعجاز

ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے اردو میں شاعری کرتے رہنے کے بعد ہندی ترجمہ کر کے چند کتابیں پیش کیں اور پھر اردو میں افسانے بھی لکھنے شروع کر دیئے۔ 2008ء میں انہوں نے ’’کہانی کوئی سناؤ مِتاشا‘‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھا ہے جسکی طرف لوگ متوجہ ہوئے ہیں۔ 224 صفحات کے گھنے متن کے حوالے سے مصنفہ کی فکر اور اس کے تخلیق کردہ نسائی کردار متاشا کا ذکر کرنے سے قبل یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ناول کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھا جائے۔ اس ناول کا خلاصہ پیش کرنا کافی دشوار ہے۔ بہرحال کم سے کم لفظوں میں اس کے ماجرے کا اہم ترین حصہ سن لیجئے۔
میتا یعنی مِتاشا ننھی کلی سے پھول بننے تک کئی طرح کی ضدیں اپنے اندر پالتی ہے۔ جھوٹ بولنے میں اسے ایک فتحمندی کا احساس ہوتا ہے۔ تیرہویں سال میں اسے اچھے اچھے ڈریس پہننے، کبڈی کھیلنے کا شوق ہوتا ہے۔ چودہویں سال میں جب وہ نویں کلاس کی طالب علم تھی اسے ایک انجان پریم پتر ملتا ہے جسے اسکول کی وارڈن سے چھپانے کے لئے متاشا مصلحتاً دس جھوٹ بولتی ہے۔ پندرہویں سال میں یووراج نامی ایک عیسائی لڑکے سے اس کی منگنی طے کردی جاتی ہے۔ یووراج اسے پسند کرتا ہے اور چاہتا ہے۔ لیکن متاشا اپنی غیرسنجیدہ حرکتوں اور لا اُبالی پن کی وجہ سے اس رشتے کو کھو دیتی ہے جس کا اسے کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ متاشا باپ کی چہیتی کبھی نہ بن سکی۔ ماں اور بھائی گوپی وغیرہ بھی اس کی عادتوں کی وجہ سے اس سے بیزار رہا کرتے تھے۔ مِتاشا نئی نئی کالج میں داخل ہوئی تھی کہ اس کے باپ کا جگری دوست موریشورکا کا ان کے گھر میں حاصل اپنی آزادی کا فائدہ اٹھا کر جبراً متاشا کی عزت لوٹ کر بھاگ گیا جس کے نتیجے میں مِتاشا کو مردوں سے نفرت ہوگئی۔ مردوں سے متاشا کی نفرت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس کا باپ اس کی ماں کے ساتھ ہمیشہ برا سلوک کرتا آیا تھا۔ اسکول کے ہاسٹل سے کالج کے ہاسٹل میں پہنچ کر متاشا خود کو بہت تنہا محسوس کرنے لگی۔ وہاں میس میں منجو نے اسے دوست بنالیا اور ایک دن اپنے بھائی پربھاکر سے ملایا جو میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا اور ایک حادثے میں اپنی ٹانگ گنوا بیٹھا تھا۔ اس کے باوجود اس کے اخلاقی اوصاف متاشا اور اس کے درمیان فروغ محبت کا باعث بنے۔ لیکن بدقسمتی سے متاشا کے باپ نے ایک غلط شخص بھرت کو متاشا کا امیدوار بناکر اپنی طرف سے ان دونوں کی شادی طے کردی۔ متاشا کے چھوٹے بھائی گوپی نے آکر معاملے کو ٹالدیا اور متاشا کی ماں پہلی بار اپنے شوہر کے خلاف احتجاج پر اتر آئی۔ متاشا اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ اڑیسہ سے اپنے غریب ماما کے گھر کلکتہ چلی آئی۔ اس کے بعد متاشا کی دربدری کا دردناک دور شروع ہوا۔ اور اس نے مختلف شہروں میں طرح طرح کی نوکریاں کیں۔ ممبئی کی فلم نگری، الہ آباد، علی گڑھ جیسے شہروں میں بھی رہ لی۔ اسے دوبارہ کلکتہ آکر اتفاقاً پربھاکر سے ملنے کا موقع ملا لیکن اب اسے مرد ذات سے نفرت ہوگئی تھی اور وہ محض اپنی ماں اور بھائیوں پرساد، پرسانت اور گوپی کے لئے جی رہی تھی۔
کچھ دن بعد وہ علی گڑھ چلی گئی۔ علی گڑھ میں ایک جوان عیسائی سمیر متاشا سے محبت کرنے لگا۔ وہ متاشا کی ماں کو پسند تھا لیکن خود اس کے باپ کو متاشا اور اس کی ماں کے کردار مشکوک نظر آئے اس لئے اس نے متاشا اور سمیر کی منگنی ہونے کے بعد بھی اس رشتے کو رد کر دیا۔ کئی گھریلو صدموں سے گزرنے کے بعد متاشا تھوڑے دنوں تک نوکری کی تلاش میں کئی شہروں میں گھومی۔ ممبئی، پونا، کھنڈالہ مہاراشٹڑ کے کئی شہروں میں امکانات تلاش کرتے کرتے بالآخر وہ پونا کے ایک معمر گجراتی تاجر ساہوکار گوتم شاہ کے رابطے میں آگئی جو پہلے سے شادی شدہ اور پانچ بچوں کا باپ تھا۔ بنیادی طور پر گوتم ایک نیک دل، شاہ خرچ اور مخیر انسان تھا۔ گوتم کی پیشکش پر متاشا اپنی کنبے کی پرورش کی خاطر، البتہ اپنے بھائی گوپی کی سخت ناراضگی کے باوجود اس سے شادی کرلیتی ہے۔ ان حالات میں شادی شدہ زندگی کو جس طرح چلنا ہوتا ہے ویسے ہی چل رہی تھی۔ قدرت متاشا کو دولت و آسائش فراہم کرتی ہے۔ وہ گوتم کے پانچ بچوں کی نگہداشت ذمہ داری سے کرتی ہے۔ اپنی ماں بھائیوں کو بھی تعاون دیتی ہے۔
ایک دن اس کا باپ کسی پچھتاوے میں اس کے گھر تک پہنچتا ہے اپنے دوست موریشور کے ساتھ۔ لیکن موریشورکا کا اپنی کمینگی کا ثبوت دیتے ہوئے گوتم کو بتا دیتا ہے کہ متاشا کو چکھنے والا وہ پہلا مرد ہے۔ یہ جاننے کے بعد گوتم کا جو ردّعمل ہوتا ہے وہ متاشا کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ’’میں جنہیں دیوتا سمجھتی تھی وہ کتنے عام آدمی نکلے۔ کیا انہوں نے اپنی زندگی میں آئی ہوئی ہر لڑکی اور عورت کی کہانی مجھے سنائی ہے!۔ کیا میرا نمبر تین ہی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
گوتم سے متاشا کے ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے دیپیش۔ اس درمیان گوتم کے پچھلے بچوں میں سے ایک لڑکا انکِت عیاشی اور فضول خرچی کی عادت اختیار کرتا چلا گیا۔ آگے چل کر گوتم کے دونوں گردے ناکارہ ہوگئے اور اس کی اولادوں میں باپ کی جائداد اور ورثہ لینے کی کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ اسی عالم میں ایک ضرورتمند غریب نوجوان اپنی دو بہنوں کی شادی کے مصارف کے سلسلے میں اپنا ایک گردہ گوتم کے لئے فروخت کر دیتا ہے۔ متاشا اس افلاس زدہ نوجوان سے متاثر ہوتی ہے۔ گوتم ٹھیک ہو جاتا ہے اور اپنے معاملات زندگی اور کاروبار پھر سے دیکھنے لگتا ہے لیکن اس بیچ میں متاشا کی ماں مر جاتی ہے اور اس کے بھائیوں کی زندگی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اسے زیادہ فکرمند کر دیتی ہے۔ طرح طرح کی پریشانیوں میں انکِت کی بدنیتی اور مجرمانہ کردار اضافہ کرتے ہیں۔ اور اپنے شوہر گوتم کی موت کے بعد متاشا کو بیحد مجبور کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انکِت اپنی سوتیلی ماں پر کبھی بری نظر ڈالتا ہے کبھی اس کا گلا دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
ان پرشیانیوں کے بیچ متاشا کبھی اولڈ کھنڈالہ کے ’’جیہووا وٹنیس‘‘ (Jehova Witness) اور کبھی گرجا گھر میں سات بدھ کے نووینا (Novena) میں دعائے مریم میں شامل ہوتی ہے۔ کبھی تروپتی جاکر مندر میں پوجا کرتی ہے۔ ایک ٹوٹی بکھری زندگی میں من چاہی اسپیس اسے نہیں ملتی۔ اس کا اپنا بیٹا دیپیش جو آٹھ کلاسیں پڑھ کر ایک طرف اپنی ماں کے ساتھ حق کی لڑائی میں جٹا ہوا کورٹ اور میونسپلٹی کے چکر لگا رہا ہے آٹو رکشا چلانے پر مجبور ہے اپنے سے بڑی عمر کی نَونیتا کے ساتھ ملوث ہوکر اسے حاملہ کر دیتا ہے۔ نَونیتا متاشا کے پاس آکر ماجرا بتاتی ہے اور کہتی ہے کہ حالات اور ماں کے ڈر سے دیپیش اسے بچہ گرانے کو کہتا ہے۔ لیکن متاشا نَونیتا کو مایوسی سے بچانے کے لئے کہتی ہے کہ وہ اس کے بچے کی پرورش خود کرے گی، اگر وہ چاہے تو اپنا بچہ اسے دے کر کہیں اور جاکر اپنی زندگی بسالے۔

صادقہ نواب سحر نے اپنے ناول ’’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘‘ میں کوری حقیقتوں کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ ابتدائی ابواب اور پھر جہاں سے گوتم جس سے متاشا کی شادی ہوتی ہے کہانی میں داخل ہوتا ہے وہاں سے کئی ابواب مستحکم رفتار سے مصنفہ کے نزدیکی مشاہدات کو لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ پورا ناول متاشا کو سیتا کی طرح ستائے جانے کا قصہ ہے۔ اس قصے میں خسیس ذہنیت کے چند لو بھی مرد خصوصاً اپنے چہرے دکھاتے ہیں جو حصولِ جنس یا حصولِ دولت کے جذبے سے مغلوب ہیں۔ ناول بہت سارے واقعات اور مختلف شہروں کے سیٹ اپ میں تکمیل پاتا ہے۔ لیکن حصول جنس یا حصول زر کے جذبے کی کارگزاری بیشتر حالات میں اتفاقیہ تو نظر آتی ہے، اس کا غلبہ حاکمانہ کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ واقعات، کرداروں اور شہروں کی لمبی گنتی سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہئے کہ اس سے مطالعہ کی مونو ٹونی یا یکسانیت کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ عنصر ناول کی پشت پر ضرورت سے زیادہ لدا ہوا بوجھ بن جائے۔ ضروری نہیں کہ ناول سب لوگ پڑھ چکے ہوں۔ اس لئے اس پر گفتگو کرنے کے لئے اس کا مناسب خلاصہ پیش کرنا ضروری تھا۔ لیکن متاشا جیسی ایک بہت بسی ہوئی کہانی کا خلاصہ لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ البتہ ناول میں واقعات کی اور چہروں کی بھیڑ میں سے بہت سوں کو نظرانداز کئے بغیر کہانی کا سنایا جانے والا متن تیار نہیں کیا جاسکتا۔ شاید اس ناول سے واقعات کی کئی اینٹیں نکال لی جاتیں تو اس کی اپیل میں اضافہ ہوتا۔ کم سے کم متاشا کو سانس لینے کی وہ جگہ (space) تو ضرور مل جاتی جو اس کا انسانی حق تھا۔ اس حصارِ ظلم میں جینے کے باوجود یہ متاشا ہی تھی جس نے خود اپنی نجی یا کنبے کی مصلحتوں کے پیش نظر اس میں قدم رکھنا گوارا کیا تھا۔
ناول کا پلاٹ گُتھا ہوا، اسلوب سادہ ہے۔ غیر معمولی ادبیت سے عاری مکالمے پُر اثر ہیں۔ اور بیانیہ کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ اخلاق یا کسی قسم کا فلسفہ باالراست کہانی میں لاکر مصنفہ نے ناول کے پنہاں معنوی تموّل میں اضافہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ فکشن ہمیشہ علامت یا استعارہ کا ضرورتمند نہیں ہوتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ حقائق کے ملبے سے کسی تہدار معنی یا پیغام کا برآمد ہونا مستحسن بات سمجھی جاتی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ناول کے مشترکہ حیاتی گوشوارے سے حادثوں یا سانحوں کے جمع خرچ کو بنک کے Account Statement of کی طرز پر نہیں ابھرنا چاہئے۔ اس کے برعکس فلسفہ سے وہ سیّال کیفیتیں آتی ہیں جو حقائق کو قابلِ غور معنویت عطا کرتی ہیں۔ متاشا بنیادی طور پر ایک ٹریجڈی ہے، سماجی کم شخصی زیادہ۔ ممکن ہے کہ واقعات کا غیر منصوبہ بند استعمال ناول میں گزراں حقیقتوں کو تیز رفتار کردے لیکن اس سے پسِ حقیقت معنئ خیال کی کوئی کہکشاں ہے تو اس کے معدوم رہ جانے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ کہانی سے پیدا ہونے والی مخفی کیفیتیں کہانی کا معیار طے کرنے میں بڑی حد تک فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ تماشے کے بعد بھی تماشا بینوں کے ذہنوں میں تماشا چلتا رہتا ہے۔
’’کہانی کوئی سناؤ متاشا‘‘ کا ڈھانچہ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر نے چَل چتر حقیقتوں پر رکھا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ فکشن کی مثالی تنقید کا اطلاق کسی ناول پر من وعن یا پورا کا پورا ہو۔ مصنف اپنے واضح اور کہیں کہیں غیر واضح مقصد کے تحت کہانی کی ساخت اور بنت کے لئے اپنی ترجیحات تلاش کرتا ہے۔ نقادوں کا اظہار خیال جس قدر منطقی، جتنا خرد افروز ہو، تخلیق کے زمرے میں نہیں آتا۔ بس ایک چیز گفتگو کا محرک بن جاتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ صادقہ نواب سحر کا یہ ناول بہت ساری گفتگو کا وسیلہ بن رہا ہے اور متاشا کی سنائی ہوئی کہانی کے کئی ابعاد روشن ہو رہے ہیں۔ فسانے کا افسوں ہے کہ ناول میں مصنفہ کے سوانحی لمس کہیں کہیں محسوس ہوتے ہیں۔ متاشا نے اپنے بیانیہ میں عورت کے وجود پرکہیں اصرار نہیں کیا ہے۔ ہر جگہ وہ پہلے سے ذہنی طور پر آمادہ ہوکر خود پامال ہوتی رہی ہے۔ ناول میں مرد اور عورتوں کے اہم کردار اپنے صنفی میلانات کے ساتھ قابل قبول ہیں۔ ان کے افعال اپنی جگہ فطری ہیں۔ جو کردار پلاٹ کی ضرورت سے جڑے ہوئے نہیں ہیں وہ متاشا کی شخصیت کے کسی پہلو کو واشگاف کرکے اپنا کوئی نقش چھوڑے بغیر غائب ہوجاتے ہیں۔ میں بعض معتبر اہل الرائے کی طرح صادقہ کی ناول نگاری کا موازنہ قرۃ العین حیدر یا ترنم ریاض وغیرہ سے کرنے کی حمایت میں نہیں ہوں کیونکہ موازنہ کئی حالات میں غیر منصفانہ بھی ہوسکتا ہے۔ انفرادیت اس سے قائم ہوتی ہے کہ موضوع کتنا الگ اور کتنی اچھی طرح نباہا گیا ہے۔ جانچ کا پیمانہ انہی احتیاجات کا وضع کردہ ہوتا ہے۔ صادقہ نواب سحر نے اپنی ہی طرز کا ناول لکھا ہے جس کے محاسن ان کے کسی پیش رو یا ہمعصر افسانہ نگار کی نسبت سے فی الحال دریافت نہیں کئے جاسکتے۔ متاشا کے امتیازی وصف اُس کے اپنے ہیں، کیفیت و کمیت کی بات الگ ہوسکتی ہے۔ متاشا نے اپنے بیانیہ میں عورت کے نکتۂ نظر سے کوئی کائناتی نظریہ پیش نہیں کیا البتہ اُس کی جرأت اظہار قابل داد ہے جس کی بدولت وہ اپنی ایسی حقیقتوں کو مخفی نہیں رہنے دیتی جنہیں اپنی سرگزشت بیان کرتے ہوئے ایک ہندوستانی عورت کسی نہ کسی وجہ سے چھپا لینا قرین مصلحت سمجھتی ہے۔ متاشا کو مختلف رشتوں سے کچھ مرد ملتے ہیں لیکن ایسا مرد ایک نہیں ملا جس نے صحیح معنوں میں اسے جذبۂ رفاقت میں لپیٹ کر تحفظ دینا چاہا ہو۔ اس کے برعکس متاشا ان کا تحفظ کرتی ہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ اب جبکہ عورت کی لکھی ہوئی ہر چیز پر تانیثی ادب کا لیبل لگاکر اردو تنقید ’’تانیثیت‘‘ کورگڑ مسل کر ادب سے تازہ صابونی جھاگ پیدا کرنے لگی ہے ایک خاتون نے ایک عورت کی طویل داستان لکھ کر تانیثیت کے ثمرات سیمٹنے کے دعویداروں میں خود کو شامل نہیں کیا۔ مرد حاوی سوسائٹی میں تانیثیت کے نام پر ادب کو ایک قسم کی ’’کوٹہ شریعت‘‘ کی راہ پر لگا دینا تنقید کو نئی پیشہ وریت کے آداب سکھانے کے مترادف ہے۔ فکشن میں ہیرو اور ہیروئن راجکپور اور نرگس کی طرح ایک ہی چھتری کے نیچے بھیگنا پسند کرتے ہیں لیکن اردو ادب میں مردوں نے خواتین کو از خود تانیثیت کی چھتری فراہم کر کے تنقیدی منظرنامے کو پُر لطف اور سمیناروں کے اسٹیج کو دیدنی بنا دیا ہے۔
ll

 مضامین دیگر 

Comment Form