09 Oct, 2017 | Total Views: 482

افسانے میں علامت -- حقیقت--کی بات

سید تحسین گیلانی: بورےوالا

عرض کرتا چلوں کی اردو افسانے میں علامت کا استعمال اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ علامتی افسانے کا شانہ روایتی افسانے کے شانے سے ملا ہوا ہے چنانچہ 70 کی دہائی سے قبل اردو میں ......اختر اورینوی (بال جبریل اور کینچلیاں) ،سعادت حسن منٹو ( پهندے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ) ،ممتاز شیریں ( میگھ ملہار ) ، کرشن چندر ( غالیچہ،  سریلی تصور ) اور احمد علی ( میرا کمرہ ) نے متعدد کامیاب اور زندہ رہنے والے علامتی افسانے لکھ کر ثابت کیا ہے کہ حقیقت کی تہہ در تہہ کیفیات کو پیش کرنے کے لیے علامت ایک بے حد موثر وسیلہ ہے -
یونہی انتظار حسین صاحب کے ایک مکالمے سے مختصر اقتباس یہاں پیش کرنا چاہوں گا
...." اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ ایک خاص مدت کے بعد حقیقت نگاری سے اردو افسانہ کیوں اکتا گیا اور علامتی طرزِ اظہار ابهی تک کیوں نیا پرانا نہیں ہوا - وہاں تو حقیقت کی ایک سطح تهی جس کی معین حدیں ہیں ان حدوں کو چھو لیجئے سفر پورا ہو گیا - مگر یہاں تو حقیقت تہہ در تہہ ہے اور بے انت - اس کا چهور ہی نہیں مل رہا جتنا سفر کرو اتنا تهوڑا سو علامتی طرزِ اظہار میں تو بیان کی گنجائش ہی گنجائش ہے ...." 
یہ ایسا موضوع ہے جس پر بار بار مکالمہ لازم ہے تاکہ گفتگو سے نئی رائیں نکالی جا سکیں -
عرض کروں گا کہ ادب کی صورت یہ ہے کہ اگر حقیقت نگاری یعنی Realism پر تمام تر توجہ مرکوز کردی جائے تو تفصیل یعنی detail اتنی گنجان نظر آ ئے گی کہ اس کے اندر کا منطقہ اوجھل ہوتا چلا جاتا ہے میں اسی لیے بارہا مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ علامت بالخصوص کچھ موضوعات میں یوں مددگار ثابت ہو سکتی ہے کہ وہ ظاہر کی دبازت یعنی تفصیل کو کم کرتی ہے تاکہ اس کی بنت کاری میں موجود چہرہ دکھائی دینے لگے - کہانی کی بین ہی تفصیلی بنت جذبات کے بوجھ سے وژن کو دهندلاتا چلا جاتا ہے ...یہ نہیں کہ حقیقت اور فکشن لازم و ملزوم نہیں ، وہ تو ہیں ہی لیکن پردہ veil ،ظاہر یعنی Appearance کو ڈھانپتا ہے ...... فکشن کی بنت کاری "تیسری آنکھ " کی کارکردگی سے مترشح ہے جو ہمیشہ خود کو نئے سرے سے وجود میں لاتی ہے مشاہدے کو بین ہی قرطاس پر منتقل نہیں کرتی بلکہ معاشرے کے تلخ حقائق کو کومل کرکے تحریر میں ڈهالتی چلی جاتی ہے ..... عرض کرتا چلوں کی اردو افسانے میں علامت کا استعمال اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ علامتی افسانے کا شانہ روایتی افسانے کے شانے سے ملا ہوا ہے چنانچہ 70 کی دہائی سے قبل اردو میں ......اختر اورینوی (بال جبریل اور کینچلیاں) ،سعادت حسن منٹو ( پهندے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ) ،ممتاز شیریں ( میگھ ملہار ) ، کرشن چندر ( غالیچہ،  سریلی تصور ) اور احمد علی ( میرا کمرہ ) نے متعدد کامیاب اور زندہ رہنے والے علامتی افسانے لکھ کر ثابت کیا ہے کہ حقیقت کی تہہ در تہہ کیفیات کو پیش کرنے کے لیے علامت ایک بے حد موثر وسیلہ ہے -
یونہی انتظار حسین صاحب کے ایک مکالمے سے مختصر اقتباس یہاں پیش کرنا چاہوں گا
...." اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ ایک خاص مدت کے بعد حقیقت نگاری سے اردو افسانہ کیوں اکتا گیا اور علامتی طرزِ اظہار ابهی تک کیوں نیا پرانا نہیں ہوا - وہاں تو حقیقت کی ایک سطح تهی جس کی معین حدیں ہیں ان حدوں کو چھو لیجئے سفر پورا ہو گیا - مگر یہاں تو حقیقت تہہ در تہہ ہے اور بے انت - اس کا چهور ہی نہیں مل رہا جتنا سفر کرو اتنا تهوڑا سو علامتی طرزِ اظہار میں تو بیان کی گنجائش ہی گنجائش ہے ...." 
 میں نے پہلے بهی کہیں عرض کیا تها اعلیٰ ادب بنیادی طور پر علامتی ہی ہوتا ہے ....جب کوئی بهی شے صرف ایک معنی کی حامل ہو تو اسے نشان کہا جائے گا .....جب یہی شے ایک اور شے سے مشابہت کی بنا پر رشتہ قائم کے تو یہ تشبیہ یا استعارہ ہے اور جب یہی شے آگے بڑھ کر معنیاتی توسیع کی علمبردار ہو جائے تو علامت ہے لیکن یاد رہے علامت محض افقی توسیع کی حامل نہیں وہ دیگر ابعاد میں بهی دخیل ہے .....ڈاکٹر وزیر آغا نے اسے ایک  تمثیل سے کچه یوں واضح کیا ہے کہ فرض کیجئے آپ کسی جگہ ایک قمقمے کے پاس کھڑے ہیں تو آپ کے جسم سے محض ایک سایہ ( معنی) برآمد ہو گا لیکن اگر آپ متعدد قمقموں کے قریب کھڑے ہیں تو ان قمقموں کی تعداد کے مطابق ہی آپ کے جسم سے بهی متعدد سائے ( معنی) برآمد ہوں گے -یہی حال علامت کا ہے زندگی کے مختلف مظاہر کی چهوٹ پڑنے سے علامت کے سائے (معنی) بهی تعداد میں بڑھتے چلے جاتے ہیں -
یہ ایسا موضوع ہے جس پر بار بار مکالمہ لازم ہے تاکہ گفتگو سے نئی رائیں نکالی جا سکیں -
عرض کروں گا کہ ادب کی صورت یہ ہے کہ اگر حقیقت نگاری یعنی Realism پر تمام تر توجہ مرکوز کردی جائے تو تفصیل یعنی detail اتنی گنجان نظر آ ئے گی کہ اس کے اندر کا منطقہ اوجھل ہوتا چلا جاتا ہے میں اسی لیے بارہا مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ علامت بالخصوص کچھ موضوعات میں یوں مددگار ثابت ہو سکتی ہے کہ وہ ظاہر کی دبازت یعنی تفصیل کو کم کرتی ہے تاکہ اس کی بنت کاری میں موجود چہرہ دکھائی دینے لگے - کہانی کی بین ہی تفصیلی بنت جذبات کے بوجھ سے وژن کو دهندلاتا چلا جاتا ہے ...یہ نہیں کہ حقیقت اور فکشن لازم و ملزوم نہیں ، وہ تو ہیں ہی لیکن پردہ veil ،ظاہر یعنی Appearance کو ڈھانپتا ہے ...... فکشن کی بنت کاری "تیسری آنکھ " کی کارکردگی سے مترشح ہے جو ہمیشہ خود کو نئے سرے سے وجود میں لاتی ہے مشاہدے کو بین ہی قرطاس پر منتقل نہیں کرتی بلکہ معاشرے کے تلخ حقائق کو کومل کرکے تحریر میں ڈهالتی چلی جاتی ہے ..... عرض کرتا چلوں کی اردو افسانے میں علامت کا استعمال اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ علامتی افسانے کا شانہ روایتی افسانے کے شانے سے ملا ہوا ہے چنانچہ 70 کی دہائی سے قبل اردو میں ......اختر اورینوی (بال جبریل اور کینچلیاں) ،سعادت حسن منٹو ( پهندے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ ) ،ممتاز شیریں ( میگھ ملہار ) ، کرشن چندر ( غالیچہ،  سریلی تصور ) اور احمد علی ( میرا کمرہ ) نے متعدد کامیاب اور زندہ رہنے والے علامتی افسانے لکھ کر ثابت کیا ہے کہ حقیقت کی تہہ در تہہ کیفیات کو پیش کرنے کے لیے علامت ایک بے حد موثر وسیلہ ہے -
یونہی انتظار حسین صاحب کے ایک مکالمے سے مختصر اقتباس یہاں پیش کرنا چاہوں گا
...." اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ ایک خاص مدت کے بعد حقیقت نگاری سے اردو افسانہ کیوں اکتا گیا اور علامتی طرزِ اظہار ابهی تک کیوں نیا پرانا نہیں ہوا - وہاں تو حقیقت کی ایک سطح تهی جس کی معین حدیں ہیں ان حدوں کو چھو لیجئے سفر پورا ہو گیا - مگر یہاں تو حقیقت تہہ در تہہ ہے اور بے انت - اس کا چهور ہی نہیں مل رہا جتنا سفر کرو اتنا تهوڑا سو علامتی طرزِ اظہار میں تو بیان کی گنجائش ہی گنجائش ہے ...." 
 میں نے پہلے بهی کہیں عرض کیا تها اعلیٰ ادب بنیادی طور پر علامتی ہی ہوتا ہے ....جب کوئی بهی شے صرف ایک معنی کی حامل ہو تو اسے نشان کہا جائے گا .....جب یہی شے ایک اور شے سے مشابہت کی بنا پر رشتہ قائم کے تو یہ تشبیہ یا استعارہ ہے اور جب یہی شے آگے بڑھ کر معنیاتی توسیع کی علمبردار ہو جائے تو علامت ہے لیکن یاد رہے علامت محض افقی توسیع کی حامل نہیں وہ دیگر ابعاد میں بهی دخیل ہے .....ڈاکٹر وزیر آغا نے اسے ایک  تمثیل سے کچه یوں واضح کیا ہے کہ فرض کیجئے آپ کسی جگہ ایک قمقمے کے پاس کھڑے ہیں تو آپ کے جسم سے محض ایک سایہ ( معنی) برآمد ہو گا لیکن اگر آپ متعدد قمقموں کے قریب کھڑے ہیں تو ان قمقموں کی تعداد کے مطابق ہی آپ کے جسم سے بهی متعدد سائے ( معنی) برآمد ہوں گے -یہی حال علامت کا ہے زندگی کے مختلف مظاہر کی چهوٹ پڑنے سے علامت کے سائے (معنی) بهی تعداد میں بڑھتے چلے جاتے ہیں -
 

 مضامین دیگر 

Suleman bazai
زبردست مضمون ھیں علامت نگاری پر۔لکھنا
2017-09-23 13:56:36

Comment Form