مکان۔اسلو ب وا ظہا رکا انفراد




ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی
17 Jun, 2017 | Total Views: 338

   

پیغام آفاقی کا ن’مکان‘‘(۱۹۸۹ء )اس عہد کا ایک مشہور ناول ہے جس میں پیغام آفاقی نے ایک ایسے مسئلے کو پیش کیا ہے جو اردو ناولوں کے لئے بالکل نیا تھا مگر غیر اہم نہیں ۔ بمبئی اور دلی جیسے شہروں میں کرائے کا مکان ایک اہم مسئلہ ہے۔ کرائے داروں کے حق میں قانون بن جانے سے ان سے مکان خالی کرانا اور دشوار ہو گیا ہے خاص کر جہاں مکان مالک شریف ہوں۔ مکان کی ہیروئن نیراایسی ہی شریف لڑکی یعنی میڈیکل سائنس کی ایک سنجیدہ طالب علم ہے جس پر گھر کی ساری ذمہ داری ہے۔ اس کے کرائے دار کمار نے غلط طریقے سے سارے مکان پر قبضہ کر لیا ہے اور نیرا سے مکان خالی کرانے کے لئے تمام غلط حربے استعمال کرتا ہے۔ کمار اور نیرا کے مابین جدوجہد اور احتجاجی رویوں کی سرگذشت کا نام ’’مکان‘‘ ہے ۔اس جدوجہد میں اپنے ایقان، صداقت ، موت سے بے خوفی اور استقامت کے ذریعے نیراؔ کا میاب ہو جاتی ہے غالباً پہلی بار کسی ناول نگارنے ایک ایسا کردار دیا ہے جو ہر قوت کے مقابلے میں زیادہ قوت والا نکلا بالخصوص نسوانی کردار کو اتنی مضبوطی اور استقلال کے رنگ میں رنگ کر شاید پہلی بار پیش کیا گیا ہے مگر واقعات یہاں کرداروں کے عمل سے آگے نہیں بڑھتے بلکہ سچویشن اور زبان انہیں آگے بڑھاتی ہے ناول کی زبان عام سی، سادہ، سلیس اور رواں ہے مگر اس کے باوجود ایک انفرادیت رکھتی ہے۔ اس میں پیغام آفاقی جذبات کو اس خوش اسلوبی سے پیش کرتے ہیں کہ بظاہر تو سید ھے سادے لگتے ہیں مگر قاری کے دل پر امٹ چھاپ چھوڑتے ہیں۔ اس میں نہ فنی بازی گری کی جھلکیاں ہیں اور نہ نظریاتی وابستگی کی نعرے بازیاں۔ کسی بہت ہی گہرے اور فلسفیانہ موضوع پر بھی یہ ناول نہیں لکھاگیا ، تکنیک کا کوئی انوکھا تجربہ بھی نہیں کیا گیا، عام فہم اندازہے، سیدھی سادی تکنیک ہے مگر احتجاج اور حالات سے لڑنے کی جو جرأت مندانہ کوشش نثر میں زیریں لہروں کی طرح دوڑتی رہتی ہے وہ اس کے اسلوب کو خوبصورت بناتی ہے۔ پلاٹ میں کساوٹ اور جامعیت کچھ زیادہ ہوتی تو اس کے اسلوب کی کشش اور اہمیت دونوں میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اس کے اسلوب کی سب سے بڑی کمزوری اس کی طوالت ہے۔ مصنف نے کرداروں کے اندرونی ہیجان کو خود ان کے اندرون میں داخل ہو کر روح یا ضمیر کی آواز کے ذریعہ بیان کیا ہے۔ یہی چیز اس کے اسلوب کو کمزور بناتی ہے کیونکہ ایک منظر کے بعد کافی لمبا وقفہ ضمیر کی آواز کا گزرتا ہے اور قاری کی گرفت ڈھیلی ہونے لگتی ہے۔ ناول نگار نے یہ طریقہ کثرت سے جگہ جگہ اختیا ر کیا ہے جو ناول کو اس کے مقصد کی تکمیل میں مدد تو پہنچاتا ہے مگر ناول کی فضا کو بوجھل کر دیتا ہے اور بیان میں غیر دلچسپ طوالت پیدا ہو جاتی ہے۔مگر جذبات کی الجھنیں اور واقعات کی پیچیدگیاں مکان کے اسلوب کو سادگی کے باوجود متحیرکن اور دلچسپیوں سے بھرپور فضا میں لے جاتی ہیں اگر اس میں خود کلامی کی بیجا طوالت نہ ہوتی تو موضوع کی طرح اسلوب میں بھی یہ ناول ایک نئی بلندی حاصل کر سکتا تھا۔
اس ایک کمی سے قطع نظر ’’مکان ‘‘ میں زبان و بیان کی چند ایسی خوبیاں بھی ہیں جو ناول پڑھتے ہوئے قاری کو متوجہ کرتی ہیں اور روایتی ناولوں کے برعکس نقاد کو اظہار کی نئی صورتوں سے آشنا کراتی ہیں۔ مثلاً
۱۔ اس میں کرداروں کی سراپا نگاری سے گریز کیا گیا ہے۔ کرداروں کی شناخت 
ان کے اعمال وافکار سے قائم ہوتی ہے۔
۲۔ عشق و محبت کی کہانی کو زبردستی ٹھونسنے سے گریز کیا گیا ہے جبکہ پورا ناول ایک 
نوجوان اور خوبصورتی لڑکی کے گرد گھومتاہے۔
۳۔ ہجرو فراق، دردو غم اور رونا پیٹنا کہیں نہیں ہے اسلئے روایتی ناولوں کی طرح المیہ
سے قاری کو جذباتی بنانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔
۴۔ علامتیت اور تجریدیت سے پوری طرح گریز کیا گیا ہے۔
۵۔ زبردستی ڈرامائی موڑ اور تجسس آمیز واقعات نہیں پیدا کئے گئے ہیں۔
۶۔ سحر انگیز، تلذذ آمیز شاعرانہ جملوں سے پرہیز کیا گیا ہے۔
۷۔ ناول میں یکسانیت اور لہجے کی تکرار سے بچنے کے لئے کہانی کو مختلف تکنیکوں کے 
سہارے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جیسے راوی کی تکنیک سے، کرداروں کی 
زبانی،خطوط کے ذریعے اور نیرا کے خوابوں کے سہارے۔
ان کے علاوہ پیغام آفاقی نے نثر اور زبان کو روایتی طور پر بھی برتتے ہوئے اپنی انفرادیت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً تشبیہیں جو تقریباً تمام ناولوں میں استعمال ہوتی ہیں۔پیغام آفاقی کی نثر میں ان کے مقصد اور فلسفے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ وہ کسی بھی تشبیہ کو برائے تشبیہ استعمال نہیں کرتے بلکہ اسکی مدد سے حقائق میں جان ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ زیادہ تر مرکب تشبیہیں استعمال کرتے ہیں تا کہ کرداروں کی ذہنیت، نفسیات اور خصوصیات کی وضاحت میں ان سے مدد مل سکے۔مثال کے طور پر
’’آج آلوک کو ایسا لگ رہا تھا جیسے پھرکوئی اس کا گلادبا رہا ہو
وہ بڑا ہوگیا ہے اور اسکی چادر چھوٹی ہے اور جابجا کھلی جگہ پر اسے 
مچھر کاٹ رہے ہیں‘‘
’’
کمار زور پکڑتی آندھی کی طرح اسکے چاروں طرف سنسناہٹ پیدا کررہا تھا‘‘
’’
مدھو کیسے آہستہ آہستہ بے پردہ ہوگئی تھی جیسے ابلاہوا انڈا اپنے خول 
سے باہر نکل آتا ہے ‘‘
’’
آپ ویسے ہی دکھائی دیں گے جیسے سورج جب آہستہ آہستہ اپنی جگہ
بدلتا ہے تو زمین پر موسم بدل جاتے ہیں‘‘
’’
آپ کو لگے گا کہ تھانہ بے حد کمزور ہے اور پھر یکایک لگے گا کہ ............دراصل ایک ایسا جادوئی گھر وندا ہے جہاں جانے کے بعد انسان اپنے کو بھول جاتا ہے‘‘ 
ان تشبیہوں سے آفاقی کی منفرد سوچ اور گہرے مشاہدے کا احساس ہوتا ہے کیونکہ ان میں اشیا کے خارجی حسن سے زیادہ داخلی سچائیاں پیش کی گئی ہیں۔ اسی طرح آفاقی نے چند نئی اور خود ساختہ ترکیبیں بھی استعمال کی ہیں۔ یہ ترکیبیں نامانوس ہیں مگر جس طرح عبارت میں ناگزیربن گئی ہیں ان سے مصنف کی قدرت زبان اور خوداعتمادی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ جیسے
’’ اس کی متحرک زبان اب ایک مخصوص قواعد سیکھ گئی تھی اور اس میں
احتیاط کا ’’ اسٹیل پن‘‘ پیدا ہوگیا تھا‘‘
اس کے علاوہ گندھا ہوا کیچڑ، باعزت غلام، ابلا ہوا انڈا،جادوئی گھر وندا، گھومتا دماغ، جانے مانے نقطے وغیرہ بھی نامونوس مگر عبارت کے لئے لازمی ترکیبوں کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔
مختصر یہ کہ ’’مکان‘‘ طوالت اور بوجھل پن کے باوجود زبان وبیان کی ایسی خوبیاں رکھتا ہے جو قاری کو متاثر کرتی ہیں اور مصنف کی زبان و بیان پر قدرت کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ اس میں نثر کے مختلف اسالیب کا سہارا لیا گیا ہے اور روایتی بیانیہ، خود کلامی، شعور کی رو، مابعد الطبیعیات ، اساطیر اور فکرو فلسفے کی مدد سے ایسا متن تیار کیا گیا ہے جس میں فن کا ری ہے انفرادیت ہے اور انسانی اقدار کی بازیافت کا ایک روشن منور راستہ ہے جس پر ناول ختم کرنے کے بعدہر قاری چلنا اور آگے بڑھنا پسند کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Dr.Shahab Zafar Azmi
Dept.of Urdu
Patna University,Patna.5
shahabzafar.azmi@gmail.com
8863968168

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.