جدید خواتین افسانہ نگاروں کے موضوعات




محمد غالب نشتر
28 Apr, 2018 | Total Views: 1221

   

قصہ سننا سنانا بنی آدم کا محبوب مشغلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے اِسے محض تفنّنِ طبع کا ذریعہ سمجھا اور خیالی Utopia میں گُم ہوکر حقائق سے آنکھیں چرانے تک ہی اِس مشغلے کو محدود رکھا لیکن جوں جوں انسان نے ترقی کی منزلیں طے کیں،اُن کے سوچنے،سمجھنے،زندگی بسر کرنے اور وقت گذارنے کا نظریہ تبدیل ہوتا گیا اور یہی خوبیاں کہانیوں میں بھی در آئیں۔پہلے کی طرح ہماری کہانیوں سے فوق الفطری عناصر پسِ پشت چلے گئے اُن کی جگہ گوشت پوست کے انسان اور اُن سے جڑے مسائل ہماری کہانیوں میں بیان ہونے لگے۔عہدِ قدیم میں کہانیوں کے موضوعات کا دائرہ بہت تنگ تھا ۔قصے کہانیوں میں وہی کچھ بیان ہوتا جن سے اُمرا و وزراخوش ہوں اور اُن کی تعریف کے پُل باندھے گئے ہوں لیکن کہانی جب جدید عہد سے آشنا ہوئی تو اس کے موضوعات سے لے کر ہےئت و تکنیک میں بھی تبدیلیاںآئیں۔تقلیبِ زمانہ کے ساتھ تقلیبِ افسانہ کا یہ قصہ صدیوں پر محیط ہے۔اگرقصے کہانیوں کو فقط افسانے تک محدود رکھا جائے تو یہ بیس ویں صدی کے عشرۂ اوّل کی پیدا وار ہے۔یہاں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ اردو کے تقریباً تمام اصناف پر مغربی ادب کا خاصا اثر رہا ہے۔
ادبی فن کاروں میں مرد وزن کی درجہ بندی یا اُن کی تخصیص مناسب نہیں۔فن کار تو بلا شبہہ فن کار ہے۔البتہ اردو ادب میں یہ مروّج رہا ہے کہ فن کاروں کی درجہ بندی کرکے اُن کا مطالعہ کیا جائے اور یہ ذہنیت ہمارے ادب میں مغرب سے آئی ہے۔جب سے مغرب میں ’’نسائی ادب ‘‘ کی تحریک چلی ہے،تب سے اُس نے سابقہ تحریکوں کی طرح ہند وپاک کے تخلیق کاروں پر اپنا نقش چھوڑا ہے جس کا سِرا ہم ابتدا سے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔نشاۃ ثانیہ ہو،اصلاحی تحریک ہو،رومانیت ہو،حقیقت نگاری ہو،جدیدیت کا رجحان ہو یا ما بعد جدیدیت،حتیٰ کہ اِن دنوں پروان چڑھنے والے سرریلزم،بین المتونیت،ساختیات،شرحیات اور نہ جانے کتنے رویے و رجحانات۔اب تو فن کار اِن اصطلاحات کے نام سن کر پریشان سے ہو گئے ہیں۔یہ خوش آئند بات ہے کہ ان دنوں بہت کم ہی افسانہ نگار کسی تحریک سے متأثر ہوکر یااُن رجحانات کے نقش قدم پر چل کر افسانے تخلیق کر رہے ہیں۔وہ کسی زمانے یا گروہ میں مقیّد ہو کر فن پارہ خلق کرنا تو ہین سمجھتے ہیں۔خواتین تو اس معاملے میں زیادہ حساس واقع ہوئی ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے خواتین فطرتاً قصہ گو واقع ہوئی ہیں۔اپنے بچوں کی ذہنی تربیت کرنے اور اُن کے دلوں میں بزرگوں کے احترام پیدا کرنے کے لیے وہ جو قصے سنایا کرتی ہیں اُن میں سے اکثر کہانیاں گڑھی ہوئی ہوتی ہیں جسے وہ تخیلات کے سہارے بُن کر بیان کرتی ہیں۔لہٰذا اس صنف میں خواتین کا ظہور ہونا لازمی ہے۔افسانے کے ابتدائی نقوش سے ہی خواتین ادیبائیں اردو ادب کے اُفق پر نظر آنے لگی تھیں لیکن مخصوص سماجی و ثقافتی صورتِ حال کے پیش نظر اُن کی تخلیقات فرضی ناموں سے شائع ہوتی تھیں۔اُنیس ویں صدی کے آخری ایاّم میں جن خواتین ناول نگاروں نے ناول تخلیق کیے اُن میں سے اکثروں کی تعداد ایسی تھی جو نذیر احمد کی شخصیت اور اُن کی تحریروں سے موعوب تھیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نذیر احمد نے عورتوں کی تعلیم وتر بیت ،خانگی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات اور اسی طرح کے دوسرے عورتوں کے دوسرے مسائل کو اپنا موضوع بنایا تھا ۔یہ باتیں اُن ادیباؤں کو بھلی معلوم ہوئی لہٰذا انہوں نے اپنے مسائل کو کہانیوں کی شکل میں بیان کرنا شروع کردیا۔’’اصلاح النسا‘‘،’’مشیر نسواں ‘‘ اور ’’آہ مظلوماں ‘‘وغیرہ ایسی ہی کہانیاں ہیں جو عنوان سے ہی موضوع کا پتا دیتے ہیں۔مطلب یہ کہ ان ادیباؤں نے بھی تعلیمِ نسواں ،لڑکیوں کی کم سنی میں شادی کے مضر اثرات ،مشرقی عورتوں کی روایتی پاس داری اور گھریلو مسائل کو اپناموضوعِ خاص بنایا۔
افسانے کا ذکر کریں تو رشید جہاں ،رضیہ سجاد ظہیر ،عصمت چغتائی، صالحہ عابد حسین اور وہ افسانہ نویس خواتین جو ترقی پسند تحریک کے زمانے میں منظرِ عام پر آئیں،انہوں نے بھی عورتوں کے مخصوص مسائل سے ہی بحث کیں۔ان ادیباؤں کی تخلیقات کا وافرحصہ انہی مسائل سے مملو ہیں۔اس معاملے میں قرۃ العین حیدر اور خالدہ حسین کے افسانے اہمیت کے حامل ہیں اس لیے کہ انہوں نے قومی و بین الاقوامی مسائل کو بھی پیش نظر رکھا اور اپنی تحریروں میں ہےئت و تکنیک کی سطح پر نئے نئے تجربے بھی کیے۔۱۹۸۰ء کے بعد جو خواتین افسانہ نگار منظرِ عام پر آئیں وہ زیادہ حساّس واقع ہوئیں پھر بھی اُن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ۔بہت ساری ادیبائیں ابھی بھی ایسی ہیں جو مذکورہ بالا موضوعات کے حصار سے باہر نہیں نکل سکی ہیں۔پھر بھی اس مضمون میں چند خواتین افسانہ نگاروں کے لیے جا سکتے ہیں جنہوں نے موضوعات اور تکنیک کی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔
اس ضمن میں پہلا اور اہم نام ذکیہ مشہدی (۱۹۴۵ء) کا ہے۔یوں تو اُن کا اصل میدان علمِ نفسیات ہے۔انہوں نے علمِ نفسیات میں ایم اے کیا اور نفسیات کے حوالے سے ان کے تراجم کو فراموش نہیں کیا جا سکتا لیکن ادب اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔افسانوی دنیا میں ان کا نام محتاجِ تعارف نہیں ہے۔تا ہنوز پانچ افسانوی مجموعے اور ایک ناولٹ اشاعت سے ہم کنا ر ہو چکے ہیں جن کی تفصیلات یوں ہے۔’’پرائے چہرے‘‘(۱۹۸۴ء)،’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘(۱۹۹۳ء)،’’صدائے باز گشت‘‘(۲۰۰۳ء )،’’نقشِ ناتمام‘‘(۲۰۰۸)،’’یہ جہانِ رنگ و بو‘‘(۲۰۱۳ء) اورایک ناولٹ ’’ قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘(۲۰۰۳ء) کے نام سے جو سب سے پہلے ’’شب خون،الٰہ آباد‘‘ میں شائع ہوا۔
ذکیہ مشہدی کے افسانوں میں عورت اور ان سے جڑے مسائل کا ذکر تو آتا ہے لیکن اُن کا پورا افسانوی ادب فقط انہی بیانات سے مملو نہیں ہے بل کہ اور بھی بہت کچھ ہے۔قومی مسائل سے لے کر بین الاقوامی مسائل تک کی بحثیں،وارداتیں اور اس سے نبرد آزما ہونے کی صورتیں بھی ان کے افسانوں میں مل جا ئیں گے۔جب کہ خواتین ادیباؤں کے ساتھ ہوتا یوں ہے کہ وہ تخلیقات کے معاملے میں گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھنا بھی گوارا نہیں کرتی ہیں کیوں کہ گھر کی چہار دیواری میں انہیں اچھا خاصا مواد مل جاتا ہے لیکن ذکیہ مشہدی کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔انہوں نے گھر کی کھڑکی یا روشن دان سے دنیا نہ دیکھ کر دروازے کے راستے پوری کائنات کا مشا ہدہ کیا ہے اور سماجی موضوعات پر دِل کھول کر لکھا ہے۔افسانہ’’افعی‘‘ اس کی تازہ مثال ہے۔اس افسانے میں یوں تو انہوں نے کالج کی زندگی اور نئے طلبا کی ریگنگ کا ذکر کیا ہے لیکن اس کی تہہ تک پہنچنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اقلیتی کردار کے حوالے سے یہ کہانی لکھی گئی ہے۔کالج کی زندگی میں ایک مسلم طالب علم کیا کچھ جھیلنا پڑتا ہے،سبھی کچھ اس میں اشاروں میں بیان ہوا ہے۔اس کے علاوہ بابری مسجد کے انہدام کے المیے کا ذکر بھی اس میں ہے۔ذکیہ مشہدی کے ان افسانوں کے علاوہ کئی اور افسانے ہیں جن میں انہوں نے بین الاقوامی مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔نئے اور پرانے تہذیبوں کے تصادم پر بھی اُن کی گرفت مضبوط ہے۔’’اجّن ماموں کا بیٹھکہ‘‘میں جس طرح سے پرانے زمانے کے پرسکون اور نئی نسل کے اتھل پتھل اور جذباتیت کو بیان کیا ہے وہ قابلِ دید ہے۔نفسیات سے انہیں گہرا شغف ہے۔ان کے افسانوں میں نفسیاتی عناصر کا گہرے عناصر بھی در آئے ہیں۔ذکیہ مشہدی کی زبان اختراع کردہ ہے ۔ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہے۔عام بول چال کی زبان کو استعمال کرتی ہیں جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
فریدہ زین کا تعلق ریاست حیدر آباد سے ہے۔حیدرآباد کی ادبی محفلوں میں اُن کا نام تعارف کا محتاج نہیں ہے۔۲۳؍اکتوبر ۱۹۴۴ء کو کٹل منڈی،حیدر آباد میں پیدا ہوئیں۔تا ہنوز چھہ افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔سسکتی چاندنی۱۹۷۹ء میں،دل سے دار تک ۱۹۸۲ء میں،اے گردشِ دوراں۱۹۹۱ء میں،دھرتی کا دکھ۱۹۹۴ء میں،ایک حرفِ تمنا۲۰۰۳ء میں اور جہانِ رنگ و بو میں۲۰۱۰ء میں شائع ہوا۔پہلے مجموعے کا پیش لفظ جیلانی بانو نے لکھا تھا اور رسمِ اجرا عنوان چشتی کے ہاتھوں ہوا تھا ۔اسی مناسبت سے انہوں نے کہا تھا کہ ’’افسانہ بیان کا تجربہ نہیں بل کہ تجربے کا بیان ہے اور فریدہ زین نے اس کو خاطر خواہ ملحوظ رکھا ہے‘‘۔آندھرا پردیش اردو اکادمی نے انہیں ۲۰۱۲ء میں فکشن کے حوالے سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے سر فراز کیا ہے۔
فریدہ زین کے افسانوں میں دھرتی کا دکھ یوں سمٹ کر سامنے آیا ہے کہ یہ اُن کی ذاتی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی زندگی میں ہونے والے حادثات نے انہیں قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے اور ان کا المیہ ذاتی نہ ہوکر آفاقی ہوجاتا ہے۔عورتوں کے المیاتی کیفیات کو جذباتی ہوکر بیان کیا ہے ۔صرف عورت ہی اُن کے افسانوں کا موضوع نہیں ہے بل کہ دوسرے مسائل بھی ان کے افسانوں میں بیان ہوئے ہیں۔حال ہی میں حیدرآباد سے شائع ہونے والے ’’سب رس‘‘(اگست ۲۰۱۳ء) میں ان کا افسانہ ’’عنوانِ حیات ‘‘کے نام سے چھپا ہے۔جس میں انہوں نے ہندوستان کے سیاسی نظام پہ شدید طنز کیا ہے اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری جیسے سنگین مسئلے پر قلم اٹھایا ہے۔دہشت گردی کے نام پر اِن دنوں جو عمل جاری وساری ہے،یہ افسانہ پوری تصویر کشی کرتاہے۔
اس ضمن میں ایک اہم نام مہر نگار کا ہے جو نگار عظیم کے نام سے معروف ہیں ۔۲۳ ؍ستمبر ۱۹۵۱ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔تا ہنوز تین افسانوی مجموعے اشاعت سے ہم کنار ہوچکے ہیں۔پہلا مجموعہ ’’عکس‘‘ ۱۹۹۰ء میں ،دوسرا’’گہن ‘‘۱۹۹۹ء میں اورتیسرا مجموعہ’’ عمارت‘‘ ۲۰۱۲ء میں شائع ہوا۔نگار عظیم نے ہمارے معاشرے میں پھیلی ،محلّوں اور گلیوں میں چھپی اور عورتوں کے اندرون میں پنپنے والی کیفیات کو بہت قریب سے دیکھاہے۔یہی نہیں بل کہ اُن مفلس زدہ مسائل کو اپنے اندر محسوس بھی کیاہے۔انہوں نے چھوٹے چھوٹے مسائل کو اپنے فن پاروں میں سمیٹا ہے ۔ان کا بیانیہ سادہ وسہل ہے۔آج کی تکنیکی اور فیشن زدہ عہد میں اُن کی کہانیاں یوں تو معمولی دکھائی دیتی ہیں لیکن ان کے مسائل کی گہرائی میں اُتر کر دیکھیں تو گہرائی و گیرائی نظر آتی ہے۔ان کے افسانوں میں ہےئت سے زیادہ مواد کی طرف جھکاؤ ملتا ہے۔ان کے بیش تر افسانے جنس،عورت اور موت کے ارد گرد گھومتے ہیں اور ان سب کا تعلق ہمارے سماج سے گہرا ہے گویا نگار عظیم نے سماج میں چھوٹے بڑے پنپنے والے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ فن کے قالب میں ڈھال کر قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کوئی بھی واقعہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ وقت اور حالات نے انہں بڑا یا چھوٹا ہونے پر مجبور کیا ہے،جنس کے حوالے سے دیکھیں تو ’’تعلق‘‘،’’لمس‘‘،’’طنابیں‘‘، ’’گہن‘‘اور ’’پناہ گاہ‘‘اس کے حصار میں ہیں۔
عورت کا مسئلہ بھی نگار عظیم کے افسانوں میں ابھر کر سامنے آتا ہے ،جیسا کہ پچھلے سطور میں بیان ہوا کہ وہ ان معاملات کو بیان کر کے جذباتیت کی حد کو عبور نہیں کرتیں،بلکہ میانہ روی اختیار کرتی ہیں۔جس کا بر ملا اظہار انہوں نے ’’ابورشن‘‘میں کیا ہے وہ اس بات کی قائل ہیں کہ ’’عورت ظلم سہے گی تو ظلم ہوتا رہے گا،ظلم سہنا بند کر دیگی تو ظلم کے راستے بھی بند ہو جائیں گے۔آگے چل کر ان کا یہ بیان زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے جب وہ یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں’’سیکڑوں مثالیں ہیں عورت پر عورت کے ظلم کی،ان کا ذکر کیوں نہیں ہوتا‘‘ عورت پر مظالم کے حوالے سے کئی ادارے کھل گئے ہیں کیاوہ عورتوں کا استعمال نہیں کرتے یا فقط عورتیں ہی مظلوم ہیں اور مرد ظالم؟ ظاہر ہے کہ دونوں انسان ہیں،اور غلطیاں دونوں جانب سے سرزد ہوتی ہیں۔نگار عظیم کے وہ افسانے جن میں عورتوں کا کردار بنیادی ہے،ان میں’’مردار‘‘،’’ایکوریم‘‘،’’بڑی فیملی‘‘،’’ابورشن‘‘اور ’’احساس زباں‘‘کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ترنم ریاض ۹؍ اگست ۱۹۶۳ء کو سری نگر میں پیدا ہوئیں۔کشمیر یونی ورسٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔فی الحال برقی میڈیا سے وابستہ ہیں۔تا ہنوز چار افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ترنم ریاض کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’یہ تنگ زمین‘‘۱۹۹۸ء میں ،دوسرا’’ابابیلیں لوٹ آجائیں گی‘‘ ۲۰۰۲ء میں ،تیسرا’’یمبرزل‘‘۲۰۰۴ء میں اور چوتھا مجموعہ’’میرا رختِ سفر‘‘۲۰۰۸ء میں شائع ہوا۔ترنم ریاض کے افسانوں میں عورت کے جذبات و احساسات ،ان پر مظالم ،محرومیاں ،آنسواورکرب کا ذکر بار بار آتا ہے۔افسانہ’’ناخدا ‘‘اس کی مثال ہے۔ترنم ریاض کے افسانوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان کے افسانوں کاابتدا ئیہ اور خاتمہ چونکا دینے والا ہوتا ہے۔خاص طور سے ان کا اسلوب ،بیانیہ اور فنی رکھ رکھاؤ انہیں دوسرے افسانہ نگاروں سے ممیز کرتا ہے۔طارق چھتاری اُن کی افسانہ نویسی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے ’’شعر وحکمت‘‘دسمبر ۲۰۰۶ء کے صفحہ نمبر ۳۵۶ میں یوں رقم طراز ہیں:
’’ترنم ریاض کی انفرادیت یہ ہے کہ ان کے افسانوں کے بیش تر کردار،واقعات اور مناظر سب سے پہلے قاری کے دل پر اثر انداز ہوتے ہیں پھر فہم و دانش سے لبریز ہوجانے والے دل سے پھوٹتی شعائیں اس کے ذہن کو بھی منور کردیتی ہیں اور خود کو افسانے کا ایک کردار سمجھ کر افسانہ نگار کے تخلیقی عمل میں شریک ہو جاتا ہے۔یہ فن کی معراج ہے،اس کی کسوٹی پر ترنم ریاض کے افسانے پورے اترتے ہیں۔‘‘
ترنم ریاض کے نمائندہ افسانوں میں ’میرا پیا گھر آیا‘،’برف گرنے والی ہے‘،’یہ تنگ زمین‘،’باپ‘،’متاع گم شدہ‘ اور ’شہر‘ کو ضرور شامل کیا جائے گا۔
قمر جمالی(قمر سلطانہ) کا تعلق ریاستِ حیدر آباد سے ہے۔وہیں انہوں نے ۲؍ اپریل ۱۹۵۰ء کو حیدر آباد کے محلے کا چی گوڑہ میں آنکھیں کھولیں۔باضابطہ طور پر ۱۹۶۹ء سے لکھنے کی ابتدا کی ۔پہلی کہانی’’فاصلے مٹ گئے‘‘ماہ نامہ ’بیس ویں صدی‘ میں چھپی۔تب سے تواتر سے لکھ رہی ہیں ۔اب تک پانچ مجموعے چھپ چکے ہیں ۔پہلا مجموعہ’’شبیہہ‘‘۱۹۹۰ء میں ،دوسرا مجموعہ’’سبوچہ‘‘۱۹۹۲ء میں ،تیسرا مجموعہ’’سحاب‘‘۲۰۰۱ء میں ، چوتھا مجموعہ’’زُہاب‘‘ ۲۰۰۷ء میں منظر عام پر آیا۔ان کے افسانوں میں زندگی کی چمک دمک ،نئے اور پرانے اقدار کی شکست و ریخت اور دیہی اور شہری زندگی کا تصادم ہے۔افسانہ’’مدرا پی کر مت ناچو سادھو رام‘‘اس کی واضح مثال ہے۔اس افسانے میں ایک دیہاتی جوان شہر کی چکا چوند زندگی دیکھ کر گاؤں سے بد دل ہوجاتا ہے۔گاؤ ں کی ایک لڑکی کو بھگا کر شہر لے جاتا ہے اور اُسے شراب کی لت لگ جاتی ہے۔نشے کی حالت میں وہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے جس کی وجہ سے بیوی ہنگامہ بپا کر دیتی ہے۔
اس افسانے میں ایک طرف توعورت پر ہونے والے استحصال کی طرف اشارہ ہے تو دوسری طرف نئے سماج میں پنپنے والی برائیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ قمر جمالی کا یہ ماننا ہے کہ جہاں ایک طرف شہر کی چکاچوند زندگی ہے تو دوسری طرف اس کے پس منظر میں برائیاں بھی سر اٹھاتی ہیں جن کی طرف لوگوں کی نگاہیں کم ہی جاتی ہیں اور وہ اسی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
غزال ضیغم کا نام اس ضمن میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء کو سلطان پور میں پیدا ہوئیں۔علمِ نباتات سے ایم ایس سی کیا اور وکالت کی ڈگری بھی حاصل کی۔۲۰۰۰ء میں افسانوں کا اکلوتا مجموعہ ’’ایک ٹکڑا دھوپ کا‘‘شائع ہوا۔اس مجموعے کے’’سوریہ ونشی چندر ونشی‘‘،’’مدھو بن میں رادھیکا‘‘ اور’’ ایک ٹکڑا دھوپ کا ‘‘جیسے افسانے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ان کے افسانوں کا کینوس کافی وسیع ہے۔وہ نئے موضوع کی تلاش میں سرگر داں رہتی ہیں۔کم لکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کا فقط ایک مجموعہ منظرِ عام پر آیا ہے۔افسانہ ’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘موضوع کے تنوع کے ضمن میں اہم ہے۔اس افسانے میں نجمہ باجی کا کردار ماڈرن عورت کا استعارہ ہے جن کی شخصیت میں سگریٹ پینا،مَردوں کے ساتھ اختلاط ،شوہر کے ہوتے ہوئے ینہائی کی سی زندگی گزارنا اور اس طرح کی دوسرے خصائص شامل ہیں۔جب کہ ان کو مردوں سے شدید نفرت ہے اور اس بات کا اندازہ اُن کی تحریروں سے بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ساجد جیسے شریف النفس آدمی کے ساتھ غلط کام کرنا اُس کی زندگی کا خاصہ بھی ہے۔’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘در اصل ایک ٹارگیٹید کہانی ہے جو کسی کی شخصیت کو مد نظر رکھ کر پلاٹ تیا ر کیا گیا ہے۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اردو فکشن کی تاریخ میں ایسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں جن میں کسی کی شخصیت کو مد نظر رکھ کر کہانی کا تانا بانا بُنا جاتا ہے ۔اگر ناول کی بات کی جائے تو مجاز کی شخصیت کے حوالے سے محمد حسن کا ناول ’’اے غمِ دل اے وحشتِ دل‘‘اورانور قمر کے حوالے سے انور خاں کا ناول ’’پھول جیسے لوگ ‘‘اہمیت کے حامل ہیں۔افسانوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کا یہاں موقع بے محل ہے۔بس یہ ذکر ہی کافی ہے کہ غزال ضیغم کا یہ افسانہ ٹارگیٹیڈ ہے۔
عورت ،غزال ضیغم کے افسانوں کامحبوب استعارہ ہے ۔ان کے افسانوں میں عورت کاروپ ہرطورپرنظرآتاہے ۔افسانہ ’’خوشبو‘‘میں ایک بہن ،ماں کے روپ میں ہے اوروہ اپنی والدہ کی وفات کے بعدبھائی کی ہربات کاخیال رکھتی ہے توافسانہ ’’بے دروازے کاگھر‘‘میں ایک عورت خودکفیل ہے اوراپنی آنکھوں سے دنیادیکھناچاہتی ہے وجہ صرف یہ ہے کہ اُسے لوگ حقیروکم ترسمجھتے ہیں لیکن حقیقتاً ایسانہیں ہے ۔افسانہ ’’اجیل پارک اندھیرپارک ‘‘کی چندنیااپنے’’او‘‘کے لیے پریشان ہے اوراس کے دل میں شوہرسے محبت کاجذبہ کسی طورپربھی کم نہیں ہواہے جب کہ افسانہ ’’نیک پروین‘‘میں کنیزفاطمہ رضوی اس بات کی آرزومندہے کہ وہ نیک بیوی بن کرمعاشرے میں اپنااوراپنے شوہرکانام اونچاکرے لیکن معاشرہ اورخوداُس کاشوہرجس کے اندرانسانیت اورحیوانیت یکساں طورپر موجودہے ،اُسے نیک نہیں بننے دیتاہے بالآخرانتقام کاجذبہ اس کے اندرپنپنے لگتاہے ۔وہیں دوسری طرف غزال ضیغم کے نسائی کرداروں میں’’جیسمین بلوٹ‘‘اور’’نجمہ باجی‘‘بھی ہیں جن کے اندرجنس کاجذبہ پوری شدت سے کارفرماہے ۔گویاافسانہ نگارنے عورتوں کے تمام پہلوؤں کی طرف نشان دہی کی ہے ۔عورت کی دومتضادشخصیت کومدنظررکھتے ہوئے دوافسانوں کاذکرضروری معلوم ہوتاہے ۔اس ضمن میں پہلاافسانہ ’’نیک پروین‘‘اوردوسراافسانہ ’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘ہے ۔
پہلے افسانے میں کنیزفاطمہ رضوی کانکاح شبیرحسین رضوی سے ہوتاہے تومحلّے کی عورتیں دلہن کونیک مشوروں سے نوازتی ہیں۔ دلہن بھی ٹھان لیتی ہے کہ وہ بالکل نیک بیوی بن کرمحلّے والوں کودکھادے گی کہ وہ بھی کن خوبیوں کی مالک ہے لیکن اس کاشوہر خوابوں پہ پانی پھیردیتاہے ۔اس کے اندرایک خرابی یہ ہے کہ وہ ایک عورت پرٹکنے والانہیں ہے بل کہ ہرچھ ماہ میں لڑکیاں تبدیل کرتاہے ۔اس کے اندرانسانیت اورحیوانیت یکساں طورپرموجودہے ۔دلہن کے لاکھ منع کرنے کے باوجودوہ غیرمحرم لڑکیوں کاذکرشان دارطریقے سے کرتاہے اورفخرمحسوس کرتاہے ۔ملاحظہ ہویہ اقتباس :
’’وہ موڈ میں ہوتاتومزے لے لے سناتا۔الگ الگ ذائقے ،لذت،لطف ،حسن کے داؤ پیچ بیان کرتا۔عجب تھاوہ......
وہ قلمی آم کی طرح شیریں تووہ تخمی آم کی طرح ترش ،وہ میک ڈونل کابرگرہے تودوسری پزّااورجوہی دیسی مزہ ہے ارہرکی دال، چاول اورکمرُخ کی چٹنی کی طرح .....شوبھاسرسوں کے ساگ جیسی‘‘۔
اتناکچھ بیان کرنے کے بعداُسے اپنی غلطی کااحساس ہوتاتو’’سوری‘‘کہہ کرمعافی مانگ لیتا۔لیکن اس کے حرکات وسکنات میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی تابالآخرنیک پروین نے ہی اپنارویّہ تبدیل کرلیاہے اورآج نوبت یہ آن پڑی ہے کہ اس کے پاس فلم ’’فائٹر‘‘کے دوٹکٹ ہیں اورجلدازجلدسینماپہنچ جاناچاہتی ہے ۔اس طرح سے یہ افسانہ عورتوں کی بے بسی اورمردوں کی بے مروتی کی طرف دلالت کرتاہے ۔
اس ضمن کادوسراافسانہ ’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘ہے جومجموعے میں شامل نہیں ہے ۔اس افسانے میں نجمہ باجی کاکردارنیک پروین سے بالکل مختلف ہے ۔نیک پروین توحالات کی ستم رسیدہ ہے لیکن نجمہ باجی نے زمانے پرستم ڈھایاہواہے ۔اُنھیں مردوں سے شدیدنفرت ہے اوریہ بات اُن کے افسانوں میں جابہ جابکھری پڑی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے تمام احباب مردہی ہیں۔ کیوں کہ وہ عورتوں کوبے وقوف ،غیرمہذّب اورگنوارسمجھتی ہیں اوراُن سے دوستی رکھنااپنی ہتک تصورکرتی ہیں۔وہ تقریباً بیالیس بہاریں دیکھ چکی ہیں لیکن مرنے کی بات ہے کہ وہ دوستی پینتیس سال سے زیادہ عمرکے مردوں سے نہیں کرتی ہیں۔ان کے دوستوں میں ساجد کا نام سب سے اہم ہے جس کایہی کہناہے کہ مکمل عورت کیاہوتی ہے یہ نجمہ باجی کوجان کردیکھو۔نجمہ باجی کے حوالے سے یہ بات متفقہ طورپرکہی جاسکتی ہے کہ وہ مردمارعورت ہے جوکسی بھی خوش حال گھرانے کوتباہ کرسکتی ہے ۔اس افسانے کے راوی کااُن کے تئیںیہ بیاندل چسپ ہے :
’’Classicکی خاص خوشبواُن کے اردگردپھیلتی رہتی .......سگریٹ ختم کرنے کے بعدوہ فوراً اپنابڑاساپرس کھولتیں۔کسی گہرے رنگ کی لپ اسٹک نکالتیں اورچھوٹے سے گول آئینے میں دیکھ دیکھ کربڑے اسٹائل سے ہونٹ رنگتیں۔پھردھیرے سے مسکراتیں .......پھرزورسے .......پھرایک زوردارقہقہہ فضامیں بکھرجاتا.......زندگی بہار بن جاتی......ان کاکہناتھاکہ لپ اسٹک لگائے بغیرConfidenceہی نہیںآتا۔نہ ہی وہ اچھاافسانہ لکھ پاتی ہیں۔لپ اسٹک اورسگریٹ بنیادی ضرورتیں ہیں‘‘۔
ایک زمانہ ہوگیاوہ اپنے شوہرسے الگ رہتی تھیں۔وجہ یہ تھی کہ اُن کے شوہرعمرمیں اُسے کافی چھوٹے تھے اورچھوٹی بہن میں دل چسپی لینے لگے تھے ۔اب وہ طلاق نامے پردستخط کرانے کے لیے پریشان تھیں لیکن بعد کے دنوں میں پتاچلاکہ انھوں نے خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی وجہ صرف مردتھے ۔یہاں غزال ضیغم کے افسانوں میںیہ فرق صاف طورپرمحسوس کیاجاسکتاہے کہ عورتوں کی نفسیات کوہرزاویے سے انھوں نے قریب سے دیکھا۔محسوس کیااوربرتاہے ۔
غزال ضیغم کے افسانوں میں عورت کے اندرچھپی خوب صورتی کوبھی صاف طورپردیکھاجاسکتاہے ۔خاص طورپراُن کے دیہی کرداروں میں عورت کی معصومیت ،حیااوراحسان مندی جیسے جذبات قدرے مختلف ہوتے ہیں۔دیہی عورتوں کی نفسیات کوسمجھنے کے لیے ’’مشت خاک‘‘اور’’اجیل پارک اندھیرپارک‘‘کامطالعہ ازحدضروری معلوم ہوتاہے چہ جائے کہ دونوں افسانوں کاپس منظر اودھ کادیہات ہے ۔
کہکشاں پروین کا تعلق یوں تو پرولیا(مغربی بنگال) سے ہے لیکن ادھر کچھ عرصے سے جھارکھنڈ کی راج دھانی رانچی میں اقامت پذیر ہیں۔وہاں رہ کر اُن کو آدی باسیوں کے رہن سہن اور ان کے کلچر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔انہوں نے اپنے افسانوں میں خاص طور سے اُن کے معاشرتی زندگی کو اچھی طرح سے پیش کیا ہے۔اس سے قبل جھارکھنڈ کے آدی باسیوں کا منظر نامہ پیش کرنے والوں میں غیاث احمد گدی،سہیل عظیم آبادی اور ش اختر وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ لیے جا سکتے ہیں۔اس روایت کو آگے بڑھانے والوں میں کہکشاں پر وین کا بھی اہم ہے۔ان کے افسانوں میں پس ماندہ سماج اور وہاں پنپنے والے مسائل کا ذکر ’’بھانو‘‘ میں اچھی طرح سے ہوا ہے۔اُن کے افسانوں کے چار مجموعے اشاعت سے ہم کنار ہو چکے ہیں ۔’’ایک مٹھی دھوپ‘‘،’’دھوپ کا سفر‘‘۱۹۹۰ء،’’سرخ لکیریں‘‘ اور ’’پانی کا چاند ‘‘۲۰۰۹ء اس ضمن میں اہم ہیں۔
کہکشاں پروین کسی رجحان سے متاأر نہیں ہیں بل کہ آزادانہ طور پر افسانے کی دنیا آبار کر رہی ہیں۔اردو ادب کے زوال پر وہ گہری سنجیدگی کا اظہار کرتی ہیں۔’’قاعدہ‘‘ اس پس منظر میں لکھا گیا اچھا افسانہ ہے۔
شائستہ فاخری کا نام افسانوی دنیا میں نیا نہیں ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وہ ایک طویل خاموشی کے بعد دوبارہ افسانوی منظر کے افق پر نمودار ہوئی ہیں۔شائستہ فاخری کا اصل نام شائستہ ناز ہے۔۱۷/ نومبر ۱۹۶۳ء کو سلطان پور میں پیدا ہوئیں۔ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ہرے زخم کی پہچان‘‘۱۹۹۰ء میں منظر عام پر آیا تھا ۔بیس سال کی طویل خاموشی کے بعد دوسرا مجموعہ’’اداس لمحوں کی خود کلامی‘‘۲۰۱۱ء میں شائع ہوا۔
شائستہ فاخری کے ابتدائی افسانے خوف و ہراس میں لپٹے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔یہ خوف وہراس اُن کی ذاتی زندگی کا حصہ بھی ہیں اور سماجی مسائل کا بھی۔انہوں نے اپنے افسانوں میں ہندوستانی سماج میں عورتوں کے مسائل اور پدر سری معاشرے میں ان کی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کو موضوع بنایا۔افسانہ ’’سنو! رضّو باجی‘‘ اس کی واضح مثال ہے۔شائستہ فاخری نے عورتوں کے مسائل کے علاوہ دوسرے معاشی و معاشرتی مسائل کو بھی موضوعِ خاص بنایا۔ہندوستان میں ہونے والے دہشت گردی پر بھی انہوں نے متعدد افسانے لکھے۔ان افسانوں میں ’’آفندی کا بیٹا‘‘،’’کلر بلائنڈ‘‘،’’آزاد قیدی‘‘ وغیرہ ایسے عمدہ افسانے ہیں جن میں کئی معنویتوں کا ایک نظام پوشیدہ ہے۔انہوں نے اِن موضوعات کے علاوہ جنسیات کی دنیا کی بھی سیر کی۔’’اداس لمحوں کی خود کلامی‘‘ہم جنسیت پر لکھا ہوا اچھا افسانہ ہے۔’’کنور فتح علی‘‘ اور ’’ریچھ‘‘ میں بھی جنسیات کی بھی کارفرمائی نظر آتی ہے۔
مندر جہ بالا خواتین افسانہ نگاروں کے علاوہ ایک لمبی فہرست ہے جن میں کہکشاں انجم،آشاپربھات،شمیم نکہت،قمر جہاں،ذکیہ ظفر،بانو سرتاج،صادقہ نواب سحر،مبینہ امام وغیرہ کے نام کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
***

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.