احمد صغیر کی افسانہ نگاری




ڈاکٹر اقبال واجد
23 May, 2018 | Total Views: 358

   

احمد صغیر کی افسانہ نگاری اردو میں ایسے تخلیقی رویے کی ضامن ہے جو واقعات کی ترتیب و پیش کش میں تیز گام ‘ اور اپنے مقصد اور معانی کے حصول میں سبک رو ہے۔ اس طرح ان کا تحلیقی رویہ دو جہات پر اپنی اساس قائم کرتا ہے۔ ان کے ہاں جوپھرتی اور تیز رو ی ہے وہ انہیں بہت سے افسانہ نگاروں کے مقابلے میں زیادہ بے باک ‘ پھرتیلا اور علائق سے بے پرو ا بناتی ہے۔ یہ ہنر مندی افسانے کو اس کی ہیت اور فن پر قائم رکھنے کے لئے بہت مفید ہے۔ اس تخلیقی رجحان کی عدم موجودگی میں افسانہ افسانہ نہیں رہتا بلکہ اپنے مرکز سے ہٹ جاتا ہے۔ اس با ت کا پتہ خود افسانہ نگار کو بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس لمحے افسانہ کے فنی خطوط پر چلتے چلتے بے راہ وجاتا ہے اور کب غیر محسوس طریقے سے پھر ان ہی خطوط پر واپس آجا تا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ...... ع ....... 
            گاہے گاہے غلط أہنگ بھی ہوتا ہے سروش 
میں نے بہت سے موجودہ دور کے معروف افسانہ نگاروں کو دیکھا ہے کہ وہ افسانہ لکھتے لکھتے افسانے کے خطوط سے ہٹ جاتے ہیں پھر ٹھوڑی دیر میں اپنے خط پر واپس آجاتے ہیں مگر ایک احمد صغیر مجھے ایسے ملے جن کے یہاں افسانہ شروع سے أخر تک افسانہ ہی رہتا ہے۔ وہ اپنے راستے سے نہیں بھٹکتا۔ اس طرح کی پکڑ اردو میں بہت کم لوگوں کے پاس ہے جن میں غیاث احمد گدی‘ سلام بن رزاق ‘ عبدالصمد‘ ذکیہ مشہدی‘ اقبال حسن آزاد‘ کے علاو ہ اور بھی نام ہیں۔ ان افسانہ نگاروں کے یہاں دوسری اور بھی خوبیاں ہیں جو دوسرے افسانہ نگاروں میں نہیں ہیں مگر ......... کہتے ہیں کہ غالب ؔ کا ہے انداز بیاں اور 

احمد صغیر کی اس تخلیقی صفت نے ان کے افسانوں پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے اور اس وجہ سے ان کے قاری کا رشتہ افسانے سے کبھی بھی نہیں ٹوٹتا۔ ان کا افسانہ ہر آن تازہ رہتا ہے۔وہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ اس تخلیقی صفت کی وجہ سے افسانے میں قاری کی توجہ قائم رہتی ہے ساتھ ساتھ ایک طرح کی حرکت بھی قائم رہتی ہے۔افسانہ نگار اپنے افسانے کے ساتھ ساتھ ایک مساوی راستے پر ہلکے ہلکے دوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی آدمی اپنے پالتو جانور کے ساتھ ایک مساوی خط پر آہستہ آہستہ دوڑ لگا رہا ہو۔ 
اسی کے ساتھ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے ان کے افسانے اپنے مقاصد اور معنی کے حصول میں سبک رو معلوم ہوتے ہیں۔ یہ سبک روی اسیے کوائف اور ذوق پر محیط ہے جو احمد صغیر کو جلدی میں فیصلہ لینے سے روکتے ہیں۔ چنانچہ ان کے افسانے اپنے معانی کو سمیٹنے میں جلدی نہیں کرتے ۔ ان کا بیانیہ اتنا قوی ‘ تیز گام اور دلچسپ ہے کہ وہ معنی کی طرف دھیان لگانے کا موقعہ ہی نہیں دیتا ۔ قاری کو یہ خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ اگر قاری نے معانی کے اسرار کا عمل شروع کیا تو ڈر ہے کہیں افسانے کا ساتھ نہ چھوٹ جائے۔اس کامطلب یہ بھی نہیں معانی احمد صغیر کا کوئی ہدف نہیں ہے۔افسانوی بیان کے ساتھ معانی بھی ان کا ہدف ہے مگر ذرا ٹھراؤ کے ساتھ وہ اس کی خبر گیری کرنا چاہتے ہیں۔اب جب معانی کی تفہیم میں افسانہ نگار کسی عجلت کا شکار نہیں ہے تو ضرور ی ہے کہ اس آزادی کا فائدہ قاری کو بھی ہو‘ اس لئی قاری بھی معانی کی تفہیم کے لئے دی گئی آزادی کا خاطر خواہ فائدہ اٹھا لیتا ہے اور وہ ان کے افسانے کو معانی کے مختلف shades میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح غیر محسوس طریقے سے احمد صغیر کے افسانے اپنے معانی کی تہداریت میں سفر کرتے رہتے ہیں اور وہ اپنے آپ کثیر المعانی ہوتے چلے جاتے ہیں۔آپ ان کا کوئی بھی افسانہ دیکھ لیں اس میں معانی کا حصول اسی طرح نظر آئے گا۔

احمد صغیر کی افسانہ نگاری’ ہدف اساس’ افسانہ نگاری ہے۔ بغیر ہدف قائم کئے ہوئے وہ کوئی بات ہی نہیں کرناچاہتے ۔ افسانہ لکھنے سے پہلے وہ ایک ہدف قائم کرتے ہیں ‘ پھراپنے تخلیقی سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ہدف سے ذرا بھی غافل نہیں ہوتے ۔ ان کی نظر ہر وقت اپنے نشانے پر ہوتی ہے۔ اس تخلیقی جہت میں افسانہ نگاروں کے یہاں دو طریقہ کا ر پا یا جاتا ہے۔ کچھ لوگ مہارت حاصل ہونے کے بعد اس تکلف سے کام نہیں لیتے ۔ وہ کہانی بس شروع کر دیتے ہیں اور واقعات کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ ان کو اس بات کا عرفان نہیں ہوتا کہ کہانی کہاں ختم ہوگی۔ دوسرا طبقہ اپنی کہانی کے treatment سے آگاہ رہتا ہے۔ اس کے یہاں ساری باتیں پہلے سے pre-defined ہوا کرتی ہیں ۔ یہ طریقے پہلے طریقے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور آسا ن ہے ۔ احمد صغیر کا تعلق دوسرے طریقے سے ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں ایک جانب یکسو ہو کر چلتی ہیں۔ اس یکسوی کی وجہ سے اکثر وہ افسانوی ضوابط بھی جو کسی دباؤ کی وجہ سے اس نیرنگی میں گم ہوگئے تھے اپنے قرینے سے غیر معمولی تخلیقی اٹھان لے کرآتی ہیں کسی مصلحت کی بنیاد پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں ۔
احمد صغیر کا افسانہ ’ مسیحائی‘ ایک نہایت ہی کامیاب افسانہ ہے جس میں انسان کی اخلاقی پستی کا اظہار ہے۔ وہ یہ کہناچاہتے ہیں کہ آدمی اسقدر حیوان ہو گیاہے کہ اس کے اندر ان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ ایک امریکی فوجی جس کو گھر میں خطرہ مول لے کر پناہ دی جاتی ہے ‘ اس کے ساتھی اس کو تلاش کرتے ہوئے آتے ہیں تو صاحب خانہ کو دیکھتے ہی گولی مار دیتے ہیں۔یہی ان کے احسان کا بدلہ ہے۔ افسانہ قاری کو زمانے کی بصیرت عطا کرتاہے۔ واقعات اور پلاٹ اپنی جزیات میں ایک اس حسین طریقے پر یکے با دیگرے ایک دورے سے جڑتے چلے جاتے ہیں کہ ان کی پیش کش کا عمل اپنی طر ف کھینچتا ہے اور کہانی کاساتھ نہیں چھوٹتا۔ اپنی ترتیب و پیش کش میں یہ افسانہ ایسے احوال و مقامات کی طرف راجع ہے جواکثر انسانی جذبات کے افراط سے تفریط سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس تعلق سے احمد صغیر اپنے افسانوں میں کامیابی کے ساتھ گذرتے چلے جاتے ہیں۔ مگر اتنی بات ضرور ہے کہ یہ افسانہ thought provoking ضرورہے۔ اصل میں انسان خواہ کسی بھی سماج میں زندہ ہو وہ اپنی جبلّت سے ہٹ کر کوئی عمل نہیں کر سکتا ۔ خواہ کیسا بھی آدمی ہو اپنے نفسیاتی ڈھانچہ سے باہر نہیں نکل سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جہاں بے شمار صلاحیتیں ودیعت کی ہیں ان میں ایک رحم کا مادہ بھی ہے۔ ظالم سے ظالم انسان ہو مگر کسی نہ کسی مقام پر رحم ضرور کھاتا ہے۔ دوسری طرف ایسا نمونہ بھی سامنے ہے کہ جب آدمی شقاوت پر اترتا ہے تو شرافت اور انسانیت کی تمام حدود پار کر لیتا ہے۔ یہی اس افسانے ہوا ہے کہ ایک زخمی امریکی فوجی کو جس گھر میں پناہ دی گئی ہے ‘ اس امریکی فوجی کے ساتھی جب اس کی تلاش میں نکلتے ہیں تو سب سے پہلے بغیر کسی تامل کے اس گھر کے افراد کو گولی ماردیتے ہیں۔یہی اس مسیحائی کا پھل ہے جو گھر والو ں کو ان کے احسان کے بدلے میں ملا ہے۔ 
نوید کااقتل‘ بھی حالات حاضرہ ہی پر لکھی گئی کہانی ہے جس میں ممبئی کے فساد کے پس منظر میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مذہبی منافرت ے نتیجے میں انسانی جذبات کی جس قدر پامالی ہورہی ہے وہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ایک ایسا ہنستا چہکتا ہوا گھر اس فساد کی نذر ہوگیا ہے کہ انسانیت کا چہرہ شرم سے جھک جاتا ہے۔ ایک دل سے ایک دوسرے سے محبت کرنے وا لے جب ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہوجائیں تو حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔
کاہے کو بیاہی بدیس‘ میں یہ مقدمہ پیش ہوا ہے کہ انسانی زندگی اسی وقت خوش گوار ہوسکتی جب اس کے ایسے قوانین اختیار کئے جائیں جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہوں۔ اگر ذرا بھی انسانی فطرت سے انحراف کیا جائے گا تو زندگی بے اطمینانی کا شکار ہو جائے گی۔اس افسانے میں یہی ہوا ہے جب پانچ ہندو بھائیوں نے ایک ہی لڑکی کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کر لیا ہے۔ وہ بیوی تو سب سے چھوٹے بھائی کی ہے مگر اور چاروں بھائی بھی اپنی روایات کے مطابق اس سے زن و شو کا رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ وہ لڑکی پریشان ہوجاتی ہے ‘ یہاں تک کہ وہ حاملہ بھی ہوجاتی ہے مگر اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ بچہ کس کا ہے۔ آخر دونوں میاں بیوی اس غیر فطری زندگی سے عاجز آکر ایک دن چپکے سے گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ کہانی یہاں آکر ختم ہو جاتی ہے۔ بین السطور میں یہ بات جھلکتی ہے اسلام دین فطرت ہے اس لئے یہی تمام مسائل کاحل ہے۔ 
          احمد صغیر کے افسانوں کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ ان کے افسانے اپنا واضح ہدف قائم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اور اپنے اہداف کے قائم کرنے میں انہیں زیادہ مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان کا یہ ہدف گرچہ ان کے اپنے تخلیقی رویوں کی پیدا وار ہوتا ہے تا ہم اس ہدف تک پہنچنے کے لئیے وہ ایسے راستوں کو اختیار کرتے ہیں جو نامانوس بھی ہیں اور آشنا بھی۔ پھر وہ اچانک اپنے ہدف پر نہیں پہنچتے بلکہ کہیں قریب آکر اس کے آس پاس کے نشانات سمجنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ہدف کو دورے حوالوں اور ذرائع سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس عمل میں جلد بازی سے کام نہیں لیتے اور نہ ہی اکتاہٹ کا شکار ہوتے ہیں ۔گویا احمد صغیر اپنے ہدف کے آس پاس کی تخلیقی جہات سے غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہوئے یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے ہدف کیے آس پاس کی سرزمیں میں جو تخلیقیت ہے وہ ان کے افسانوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے اور اس تخلیقی سرزمین کی ان کے افسانوی اہداف سے کیا تعلق ہے؟ آخر کار وہ شک اور یقین کی منزل سے گذرتے ہوئے اپنے ہدف کوجا لیتے ہیں ۔اس تخلیقی سفر میں احمد صغیراپنے حواس پورا استعمال بھی کر لیتے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ صرف ایسے احوال سے متاثر ہوں جو کسی قرینے کے تحت محض سماعت تک محدود ہوں بلکہ وہ تمام حواس سے کام لیتے ہوئے اپنے ہدف کو مہمیز لگاتے ہیں۔ 
      احمد صغیر کا افسانوی ہدف جب ان کی تخلیقی سرزمیں میں اپنے معانی تلاش کرتا ہوامکمل ہوتا ہے تو وہ بے اختیار خوش ہوجاتے ہیں ۔ در اصل یہ تخلیقی سفر ہی وہ فنی سچائی ہے افسانہ نگارکوحاصل ہو تی ہے۔ ایسے میں افسا نہ نگار اخلاق کے اعلیٰ ظرف کا مشاہدہ کرتا ہے اور ایسی باتیں جو کسی قدر ناما نوس ہوں مکمل طور پر ان کے تخلیقی رویوں کی ضامن نہیں بنتیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نامانوس جہات میں افسانہ کسی ایسے نکتے پر آکر ٹھہر جاتا ہے جہا ں اس کا عروج ہو۔ اس طرح احمد صغیر اپنے افسانے کے اندر ونی سفر سے بھی اچھی طرح باخبر رہتے ہیں۔ اس اندونی سفر میں وہ عوامل بھی شریک ہو جاتے جو کسی تکلف کے سبب نقطہ عروج تک جا نا نہیں چاہتے اور اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔پھر کسی قسم کی اکتاہٹ سے پہلے ہی افسانے کی تمام نیرنگی‘ اس کا تمام اجالا‘ اس کی تمام توجیہات ‘ اس کے تمام اشارے احمد صغیر کی تخلیقی بساط پر پھیل جاتا ہے۔پھر وہ اطمینان کا سانس لینے لگتے ہیں اور نہیں جلد اس بات کا بھی احساس ہو جاتا ہے کہ اگر وہ اس لمحے میں درا بھی تاخیر کرتے ہیں تو افسانے کی مرکزیت قائم نہیں رہ پائے گی۔ظا ہر ہے کہ اس قدر احتیاط کے ساتھ جب کوئی افسانہ نگا ر اپنا تخلیقی سفر شروع کرتا ہے تو خود بخود غیر محسوس طریقے پر افسانے کے معیار کو چھوتاچلا جا تا ہے۔ احمد صغیرکے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ ان کے افسانوں نے ان راستوں پر چلنا شروع کر دیا ہے جومعیار کی طرف جاتے ہیں۔
         احمد صغیر کے افسانوی ہنر میں ایک magnifing factor بھی موجود ہے جو افسانے کے کسی بھی جز کو حسب ضرورت ہمیں بڑا کرکے دکھاتا ہے۔ وہ جہاں محسوس کرتے ہیں افسانوی اجزاء کو ہمارے سامنے بڑا کرکے پیش کرتے ہیں۔اس طرح گویا قراء ت کے عمل میں باریک بینی کے ساتھہ ان کا یہ اشتراک قاری کو ایک گونہ آسانی فراہم کرتا ہے۔ یہ magnifing factor ہمیں آسودگی تعلیم دیتا ہے اور قرا ء ت کے درمیان بھی ہمیں پر سکون رکھتا ہے۔احمد صغیرہر جگہ اس تکنیک سے کام نہیں لیتے بلکہ کسی کسی مقام پر جہاں ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ افسانے کا کوی پہلو ایسا رہ گیا ہے جہاں قاری وہ معنی اختیار کر سکتا جو افسانے میں درج نہیں ہے تو ایسی صورت میں وہ فوراّفسانے کے اس حصے کو بڑی سرعت کے ساتھ نمایاں کردیتے ہیں اور وہ منظر ‘ وقوعہ یا اضطرابیہ ایک نئی شان اور آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے اور قراء ت کا عمل مکمل کرتا ہوا آگے کی طرف نکل جاتا ہے۔
            'داغ داغ اجالا' میں احمد صغیر نے بہت کامیابی کے ساتھ یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح ماحول کے اثر سے ثقافت کسی individual میں خود کو کامیابی کے ساتھ transmit کر لیتی ہے اور یہ عمل اس قدر سرعت کے ساتھ انجان پاتا ہے کہ دوسرے سماجی اقدار حیران اور ششدر رہ جاتے ہیں۔ طوائف کے محلے ایک نئے شادی شدہ جوڑے کا کرائے کے مکان میں رہنا اور عورت کے اندر طوائف کی نفسیات کا پیدا ہونا ایک ایسا فطری عمل ہے جس کی طرف آسانی سے ہماری نگاہ نہیں جاتی ۔ یہ افسانہ نگار کا کمال ہے کہ وہ زندگی کے ایسے پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے جسے دیکھ کر ہم نئے تجربات سے گذرتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا یے کہ یہ کہانی Transmission Cultural کے موضوع پر ایک کامیاب کہانی ہے ۔ میرے ناقص علم میں شموئل احمد کا افسانہ 'سنگھار دان' اس موضوع ہر ایک کامیاب افسانہ ہے مگر احمد صغیر کے یہاں یہ موضوع ایک بالکل مختلف انداز سے اٹھایا گیا ہے۔ واقعاتی ترتیب بالکل عضویاتی طریقہ پر سامنے آتی ہے اور اس افسانے کا اختتام بہت انوکھا اور غیر متوقع ہے ۔ یہ کہانی احمد صغیر کی کہانیوں میں یادگار قائم کرتی ہے۔
                'سمندر جاگ رہا ہے' میں ایک بات سمجھانے کے لئے اس کی ضد کا سہارا لیا گیا ہے ۔ یہ بہت ہی موثر اور کار آمد تخلیقی جہت ہے جو اردو افسانے میں کہیں کہیں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ بسا اوقات کسی واقعہ یا صورت حال کو بالکل الٹا کرکے دکھایا جاتا ہے تاکہ افسانہ نگار اپنا ہدف آسانی کے ساتھ پورا کرسکے ۔ اس افسانے میں مرد اور عورت کے وجود کا لزوم ثابت کرنے کے اس خیال کی ضد مین ایک ایسا جزیرہ آباد کیا گیا ہے جس میں صرف عورتیں ہی رہتی مرد نہیں رہتا۔ اگر کوئی مرد اس جزیرے میں آجا تا ہے تو اسے پھانسی دے دی جاتی ہے ۔ اسی جزیرے میں ایک شخص حادثاتی طور پر پہنچ جا تاہے۔ وہ ایک عورت کی پناہ پکڑتا ہے۔ جب اس عورت سے اس مرد کا ہاتھ چھو جاتا ہے تو اسے عجیب سی لذت کا احساس ہوتا ہے ۔ہھر وہ عورت اسے جانے نہیں دیتی اور اس سے لطف اندوز ہوتی رہتی ہے ۔ اس عورت کے حمل قرار پانے کے بعد یہ راز فاش ہوجاتا ہے ۔پھر وہاں کی پولیس اس شخص کو پکڑ کر لے جاتی ہے۔ وہاں کی وزیر اعظم خود اس کا سر قلم کرنے کے لئے اسے اپنے محل میں لے آتی ہے پھر اس سے ہم بستر ہوکر اپنے آپ سے آگاہ ہوتی ہے اور پھر اس کی پھانسی کی سزا ٹل جاتی ہے ۔
       " مرد کو وزیر اعظم کی خواب گاہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم صاحبہ تلوار کے ساتھ خواب گاہ میں تشریف لے گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ تین دن کے بعد جب دروازہ کھلا تو وزیر اعظم کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ رہی تھی ۔ وہ ہنستی ہوئی باہر آئی ۔اس نے مرد کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔ اس نے ڈرائیور کو کار نکالنے کا حکم دیا اور اس مرد کے ساتھ شہر کی سیر کو نکل گئی ۔"اس کہانی میں جیسا کہ کہا گیا ہے کہ کسی بات کی ضد بیان کرکے اس کی اصل کی طرف رجوع کرنے کی تکنیک استعمال کی گئی ہے ۔ گویا ضد سے اصل کو پہچاننے کی کوشش کی گئی ہے۔اس افسانے میں احمدصغیر ہمیں یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورت کے بغیر مرد اور مرد کے بغیر عورت کا وجود ادھورا ہے ۔ کہانی بہت ہی کامیاب ہے ۔یہ اس حقیقت کی طرف دال ہے کہ مرد اور اور عورت کاوجود مل کر ہی انسان مکمل ہوتا ہے۔ انسان کے مفہوم میں آدم کے ساتھ ساتھ حو ا کا تصور بھی شامل ہے۔ شاید اسی لئے مرد عورت کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے ۔ گرچہ لباس میں انسان کی جنسی حیثیت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے مگر حقیقت حال یہ ہے کہ خلقی طور پر انسانی وجودکی تکمیل اسی طرح ان کے یہاں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں یکسانیت اور تکرار نظر نہیں آتی ۔ قاری جب کوی نئی کہانی شروع کرتا ہے تو اسے یہ امید پوری ہے کہ وہ اس کہانی کوی نئی چیز ضرور دیکھے گا۔اور واقعتا اسے ایسا یے پیش آتا ہے ۔ ان کی ہر کہانی ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہے ۔ اس لئے احمد صغیر کی کہانیوں میں ہمیں ہر جگہ تازگی محسوس ہوتی ہے۔ 
       ’تعفن‘ دلت دسکورس کی اعلیٰ سطحی کہانی ہے۔ اس کہانی میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ غریبوں اور سماج کے دبے ہوئے طبقو ں کو اعتدال پر لانا آسان نہیں ہے ۔ اس عمل میں ایک مسلسل جد و جہد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ کام چند منٹوں گھنٹوں کا کام نہیں ہے۔ اس کے لئے کافی وقت مطلوب ہے۔ یہ کام اچانک ہونے والا نہیں ہے۔ اور تبدیلی کا عمل بھی عضویاتی طریقے پر بہت آہستگی کے ساتھ انجام پاتا ہے۔اس افسانے میں کوڑے کے ڈھیر سے پلاسٹک کی تھیلیاں ‘ ٹن کے ڈبّے ‘ کاغذ کے ٹکڑے ‘ چن کر زندگی گذارنے والے ایک لڑکے کو جو تعفن کا عادی ہو چکا ہو تا ہے ‘ جب ایک مالدار عورت رحم کھا کر اسے نہلا دھلا کر جب کپڑے بدلواتی ہے اور اسے خوشبو لگاتی ہے تو وہ لڑکا خوشبو کی تاب نہ لاکر بے ہوش ہو جاتاہے۔یہی اس افسانے کا نقطہء عروج ہے۔ اس اختتام پر آکر ذہن سکتے کا شکار ہو جا تا ہے۔ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا سکتا ۔یہاں پپہنچ کر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ سماج کا وہ طبقہ جو پسماندگی کا شکارر ہے اس کو یکلخت نہیں بدلا جاسکتا۔یہ تبدیلی رفتہ رفتہ تعلیم اورتربیت کے ذریعہ آسکتی ہے‘ اور یہ تبدیلی ہمیشہ عضویاتی طریقے پر ہوگی۔احمدصغیر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ فطری طریقے کے خلاف کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس کے مقابل جو لوگ اپنے عمل میں لچک پیدا کرتے ہوئے مسائل کو سمجھنا چاہتے ہیں وہ یقیناًاپنی منزل پا لیتے ہیں۔ دلت ڈسکورس پر لکھا گیا ایک کامیا ب افسانہ ہے جو اپنے عہد کے نمائندہ افسانو ں میں شمار ہوگا ۔اسی طرح ’انّا کو آنے دو‘ احمد صغیر کے کامیاب افسانوں میں ایک ہے۔ یہ کہانی بھی دلت ڈسکورس کی ایک کامیاب کہانی ہے۔ 
    اس کہانی میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ظلم کے خاتمے کے لئے آواز اٹھانی ضروری ہے ۔ جب تک ظلم کے خلاف جد و جہد شروع نہیں کی جائے گی اس وقت تک ان کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس کہانی انّا کا کردار بہت اہم ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے مگر اس کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ مگر اس شخص کا نظریہ دلت گاؤں کے بچے بچے میں بھر چکا ہے ۔ اس لئے گاؤں والوں کو ایک امید سی بندھ گئی ہے کہ انّا ہمارے سارے مسائل کا حل ہے۔ اسی لئے جب گاؤں کی لڑکی ظلم کا شکار ہوتی ہے تو بے اختیار اس کی زبان سے نکل پڑتا ہے کہ انّا کو آنے دو .......... یہاں پر نّا ظلم اور جبر کے خلاف ایک علامت بن کر ابھرتا ہے۔ افسانے میں گاؤں کی فضا کو بڑی خوبصورتی اور کامیابی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔اس اظہار میں احمد صغیر اس قدر محطاط ہیں کہ کوئی منظر یا کوئی وقوعہ بھی اپنی اصل صورت سے متجاوز نہیں ہے۔ کہانی کار کا قلم اصل وقوعہ کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے ۔ یہ ماجرہ نگاری کااوہ خداداد حسن ہے جو ان اوراق میں جھلکتا ہے۔غرض ’ انّا کو آنے دو ‘ احمد صغیر کی کامیاب کہانیوں میں ایک ہے۔ایک جگہ انہوں نے کس طرح کامیاب تصویر کشی پیش کی ہے ‘ ملاحظہ فرمائیں
’’ سارا گاؤں دہشت گردی کا نشا نہ بن چکا تھا۔ آہستہ آہستہ گھروں سے اٹھتے ہوئے 
شعلے اب دھواں بن چکے تھے۔گلیاں ویران تھیں ...... لوگ اپنے اپنے میں یوں چھپے 
بیٹھے تھے جیسے مرغیاں اپنے اپنے دربوں میں دبکی رہتی ہیں۔آسمان کا کنارہ سیاہ مائل 
ہو چکا تھا اور ہر طرف خاموشی کی چادر بچھی ہوئی تھی۔پولیس جیپ کی گڑگڑاہت
سائرن اور سرچ لائٹ کی روشنی سے چند لمحوں میں سارا گاؤں روشن ہوگیا۔پولیس 
گواہی اور ثبوت اکٹھا کرنے لگ گئی اور ایک بار پھر ادھ جلے گھروں سے رونے اور 
چیخ پکار صدکی صدائیں بلند ہونے لگیں ......‘‘
( افسانہ ’انّا کو آنے دو‘(
’ڈوبتا ابھرتا ساحل‘ میں ایک غریب دلت لڑکی جو صبح صبح ریلوے اسٹیشن پر داتون بیچ کر دس بیس روپئے کماتی ہے وہ ایک سپاہی کی نظرمیں آجاتی ہے ۔ وہ اس دس سال کی بچی کا بار بارریپ کرتا ہے۔ وہ مظلوم اسے گوارہ کرلیتی ہے ۔ پھراچانک اس کی جھونپرہ پٹّی میں آگ لگ جاتی ہے اوراس کے ماں باپ دونو ں جل کر ختم ہوجاتے ہیں ۔ ہفتہ دس دن کے بعد جب وہ اسٹیشن پر نظر آتی تو وہ سپاہی اس کے حال پر ترس کھا کراسے اپنے گھر لے آتا ہے۔ سپاہی کی بیوی تھوڑی رد و قدح کے بعد اسے قبول کرلیتی ہے۔ پھر وہ دلت لڑکی اس گھر میں بیٹی کی طرح رہنے لگتی ہے۔ اس نے اسکول بھی جانا شروع دیا ہے اور اب جوان بھی لگنے لگی ہے۔ مگر گھر میں سپاہی کو اس کے ساتھ زنا کرنے کا موقع نہیں ملتا ہے۔ آخر ایک رات موقع نکال کر سپاہی اس کے کمرے میں چلاجاتا ہے۔ وہ لڑکی کوئی مزاحمت نہیں کرتی اورشمیض اتارنے کی کوشش کرتی ہے کہ اسی وقت اس سپاہی کے اندر شفقت پدری جاگ جاتی ہے اور وہ اس کی پیشا نی پر بوسہ دیتا ہے اوراسے ڈوپّٹہ اڑھا کر خاموشی سے کمرے سے نکل جاتا ہے
’’ ....... مختلف قسم کی کشمکش میں گھرا سپاہی اپنے کمرے سے باہر نکلتا ہے اور سگنی کے کمرے کی 
طرف چل پڑتا ہے۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ سگنی کمرے میں سوئی تھی۔نائٹ 
بلب میں وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی۔ڈوپٹہ ایک طرف سر ک گیا تھا اور جوانی کے نشیب و 
فراز سپاہی کے ضبط کے باندھ توڑے ڈال رہے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے اس کے پلنگ
پر بیٹھ جا تا ہے ۔ اس کے ہاتھوں میں کنپن شروع ہوجاتی ہے اور چہرے پر پسینے کی بے 
شمار بوندیں لرزنے لگتی ہیں۔ اسی کشمکش کے عالم میں اس کا ہاتھ سگنی کے بدن سے ٹکڑا بجاتا
ہے۔ سگنی کی آنکھ اچانک کھل جاتی ہے اوروہ چونک کر اٹھ بیٹھتی ہے۔ سپاہی کو اپنے قریب
بیٹھا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے بھبھک اٹھتے ہیں ۔وہ اسے نفرت سے دیکھتی
ہوئی اٹھ کھڑی ہوتی ہے ۔ ڈوپٹّہ دور پھینک دیتی ہے اور شمیض اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھاتی
ہاتھ بڑھاتی ہے ..... سپاہی کے اندر جیسے بجلی سی کوندتی ہے ۔ وہ لپک کر سگنی کا ہاتھ پکڑتا ہے ۔
اس کا ڈوپٹّہ اٹھا کر اسے قاعدے سے اوڑھاتا ہے ۔ اس کا ایک پلّو سر پر ڈالتا ہے اور بلکتے 
ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ ثبت کرتا ہے اور سر جھکائے دھیرے دھیرے کمرے سے باہر نکل
جاتا ہے ....... سگنی کے اندر بھڑکے ہوئے شعلے اچانک سرد ہوجاتے ہیں اور اسے ایسا
محسوس ہوتا ہے کہ آج سچ مچ اس کا کھویا ہوا باپ اس کو مل گیا ۔‘‘
( افسانہ : ڈوبتا ابھرتا ساحل (
ایسا یقیناً پیش آسکتا ہے ۔ انسان انسان سے کسی لمحہ اس پر بھی انسانی جذبات کا طاری ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔ یہ کہانی کار کا کمال ہے کہ وہ اگر کوئی شری کردار تراشتا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ خیر کا پہلو بھی باقی رکھتا ہے۔ یہ کردار نگاری کا اعجاز ہے کہ افسانہ نگار شری کردار میں بھی خیر کا عنصر تلاش کرلے ۔ اس افسانے میں بھی یہی ہوا ہے۔ افسانہ حددرجہ کامیاب د لت دس سالہ بچی کا ریلوے اسٹیشن پر داتون بیچ کی روزانہ دس بیس روپئے کمانا ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہے۔یہ تجربہ ہمیں آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ اس کے بعد سکنی کو جن تجربات سے گذرنا پڑا ہے یہ بھی ایک عام بات ہو کر رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مداوا کیا ہے؟میرے خیال میں دنیا کا کوئی نظام اس کو روک نہیں سکتا۔ ہاں ایک ہی چیز ہے جو اس طرح کے جرائم کو کم کر سکتی ہے اوروہ ہے اسلامی نظام سزا۔ اس کے بغیر اس قسم کے جرائم کو دنیا نہیں روک سکتی ہے۔ بہر حال جب کوئی مسئلہ سامنے آئے گا تو لامحالہ اس کے تدارک کی طرف بھی دھیان جائے گا۔
    ’پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں‘ کی کہانی بہت دلچپ ہے۔ اس میں ایک غریب دلت عورت ہے جو دوسرے کے گھر کام کاج کرکے زندگی گذار رہی ہے۔ اس کے ایک شیر خوار بچّہ اور ایک بیٹی ہے۔ شوہر شرابی آدمی ہے۔ روز رات کو شراب پی کر آتا ہے اور رات بھر جھگڑا لڑائی مارپیٹ کرتا رہتا ہے۔ اس وجہ سے اس عورت صبح کام پر آنے میں کبھی کبھی دیر بھی ہو جاتی ہے جس پر اس کی مالکن اسے ڈانٹ بھی پلایا کرتی ہے۔ و ہ نعورت جس کا نام منکی ہے اپنی مالکن سے معافی لیا کرتی ہے۔ ایک دن کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ دودھ والا نہیں آیا ۔ منکی کا شیر خوار بچہ کسی صورت چپ نہ ہوا تو منکی کی بیٹی اسے لے کر ماں کے پاس آگئی۔ منکی کچن میں کام کر رہی تھی۔ بچے کی آواز سن کر باہر آکئی۔ اس کے بیٹی پارو بچے کو پلے کر آئی تھی۔بچہ مسلسل روئے جا رہا تھا۔منکی اپنے مالکن سے تھوڑے سے دودھ کا سوال کرتی ہے ۔ مالکن انکار کردیتی ہے۔ منکی یہ کہ کر گھر چلی جاتی ہے کہ ببوا کے لئے دودھ کا انتظام کرنا ہے ‘ واپس آکر کام نبٹائیں گے۔ دوسرے دن صبح سویرے ایک شوراٹھتا ہے کہ بھگوان مندر میں دودھ پی رہے ہیں۔ عورت مرد چاروں طرف سے دودھ لے کر مندر کی طرف بھاگتے ہیں۔ منکی کی مالکن بھی صبح سویرے مندر میں دودھ چڑھا کر واپس آتی ہے تو اس کی نظر منکی پر پڑتی ہے۔ مالکن منکی کو دیکھتے ہی بول اتھتی ہے کہ تم کہاں تھیں ؟ بھگوان کو دودھ نہیں پلاؤ گی ؟ منکی جواب دیتی ہے کہ مالکن بچے کو پلانے کے لئے تو دودھ نہیں ہے ‘ آج بھی دودھ والا دودھ لے کر نہیں آیا ہے۔مالکن اسے دودھ لا کر دیتی ہے کہ وہ بھگوان کو جلدی سے پلاآئے۔ منکی دودھ لے کر مندر کی طرف چلتی ہے مگر بڑی کشمکش کے بعد وہ آخر کو وہ گھرکی طرف مڑ جاتی ہے۔ کہانی یہاں آکر ختم ہوجاتی ہے۔ اس کہانی میں ایک طرف تو اس غریب منکی کی زندگی دکھلائی گئی ہے جو تنگی میں زندگی گذار رہی ہے۔ اس کا بچہ دودھ کی کمی کی وجہ سے چیخ رہا ہے مگر مالکن اسے تھوڑا سا دودھ دینے کے لئے تیّار نہیں ہے۔ وہی مالکن بھگوان کے نام پر اس کے بغیر مانگے اسے دودھ دے دیتی ہے۔اس لئے کہ یہ عقیدہ کی بات ہے۔ مگر منکی اپنے عقیدے کو ضرورت پر ترجیح دیتی ہے۔ یہ افسانہ کئی اعتبار سے قابل قدر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے یہاں پرکسی نہ کسی زاویہ سے مذہبی جذبات کو بہ نگاہ کم دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اور ایک خیال کے مطابق آب اگر کسی کے مذہبی جذبات سے کھیل کریں گے توآپ اس معاشرے یا سماج کو کسی قیمت پر بدل نہیں سکتے۔ مگر اس کے بالمقابل ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ مذہبی جذبات کو چھیڑے بغیر اصلاح کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔احمد صغیرنے بھی اپنے طئے شدہ اہداف کے تحت ایک وار کرنے کی کوشش ہے۔ افسانہ کامیاب ہے:

’’ ......... منکی بھی گلاس لے کر تیزی سے نکل پڑی ۔ اس کے تیز قدم مندر کی
طرف اٹھ رہے رہے تھے مگر دھیان اپنے بچّے کی طرف تھا۔اگر آج بھی دودھ
والا نہیں اآیا تو پھر میرا بچّہ۔۔۔۔؟ اس کے تیز قدم رکنے لگے ۔۔۔۔۔۔‘‘
گنیش جی کو پلانے کے لئے مالکن کے بھی کچن میں دودھ نکل آتا ہے مگر میرے 
بچّے کے لئے ؟ منکی رک گئی ‘ اس نے ایک نظر مندر کی طرف جاتی ہوئی بھیڑ کو 
دیکھا ‘ کچھ سوچا اور پھر دھیرے سے اپنے گھر کی طرف مڑ گئی ....‘‘

( افسانہ : پیاسی ہے زمیں پیاسا آسماں : احمد صغیر(

           ’ پناہ گاہ‘ ایک اچھی کہانی ہے جس میں یہ دکھلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شہوت پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ ایک غریب عورت جو اپنے شوہر کے مر جانے کے بعد شوہر کی چائے کی دوکان چلانا شروع کرتی ہے اپنی جوان ہوتی ہوئی بیٹی کو اوباش قسم کے لڑکوں سے بچانے کے لئے ایک ماسٹر صاحب کے ذریعہ اسکول میں نام لکھوادیتی ہے اور ااسکول سے آنے کے بعد ماسٹر صاحب کے یہاں ٹیوشن کے لئے اپنی بیٹی کو بھیج کر بہت مطمئن اور خوش ہے جب دوسپاہیوں کی بری نیت سے بیٹی کو بچانے کے لئے ماسٹر صاحب ہی کے یہاں بیٹی کے ٹہرنے کا انتظام کرنے جاتی ہے تو ماسٹر صاحب کو اپنی بیٹی کے ساتھ ہم بستر پا کر حیران رہ جاتی ہے۔احمد صغیر شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سماج سے غربت کا خاتمہ ضروری ہے ۔ غربت بہت سے امراض کی جڑ ہے۔ غریب کی عزت سے کھیلنا بہت آسان ہے۔ بات پھر وہی سماجی ڈھانچہ اور نظام تک جا پہنچتی ہے کہ ہمارا سماجی نظا ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں ایسی یزیں پنپ نہ سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات کا سمجھنا بھی آسان نہیں ہے کہ انسانیت کے مفاد کی حفاظت کہاں ہے؟ ہمارا حال یہ ہے ہم وہاں سے اپنے مفادات کا تحفظ نہیں چاہتے ہیں جہاں وہ نظر آتے ہیں بلکہ ہم اسے ایسی جگہ تلاش کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ موجود نہیں ہیں۔ یہی ساری خرابی کی جڑہے۔ اگر ماسٹر صاحب کو اور ان دو سپاہیوں کو یہ معلوم ہوتا کہ پکڑے جانے کے بعد یقیناًان کی گردنیں مار دی جائیں گی تو کسی قیمت یہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن جب آپ زنا کی پاداش میں گردن مارنے کی بات کریں گے تو انسانیت کے کتنے بہی خواہ کھڑے ہوجائیں گے کہ یہ غلط ہے۔ اس طرح قصور ہمارا ہی ہے اور ہمارا ہی رہے گا جب تک ہم یہ سمجھنے کے اہل نہیں ہوجائیں گے ہمارا نفع کس میں ہے :
’’ ....... ماسٹر صاحب کا گھر باہر سے کھلا ہوا تھا۔لکھمنیاں ( چائے والی) اندر داخل ہوئی۔
صحن سے ہوتے ہوئے وہ ماسٹر صاحب کے کمرے تک پہنچ گئی۔کمرے کا دروازہ بھی کھلا 
ہوا تھا۔اس نے پردہ ہٹا کر جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو اس پر سکتا طاری ہوگیا ‘ گویا 
کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔ ذہن ماؤف اور ہاتھ پاؤں جیسے شل ہوگئے ہوں۔ اس نے دیکھا
سمتا ( اس کی بیٹی جو ماسٹر صاحب کے یہاں ٹیوشن پڑھنے جاتی تھی) اور ماسٹر صاحب ادھ 
ننگے ایک ہی بستر پر سوئے ہوئے ایک الگ پاٹھ پڑھ رہے ہیں۔‘‘
( افسانہ : پناہ گاہ : احمد صغیر
        ’شدھی کرن‘کا موضوع بھی دلت سماج کے لئے دوسری ذات کے لوگوں میں پائے جانے والی نفرت ہے۔ یہ نفرت اس قدر گہری ہے کہ اس کو دور کرنے یا اس کے خاتمے کا تصور بھی محال ہے۔ کسی گاؤں میں کرشنا چودھری کے ایک دلت ٹیچر ہیں جن کا لڑکا خوش قسمتی سے بہت ہی اچھا رزلٹ کر رہا ہے۔کرشنا چودھری بہت خوش ہیں ۔وہ اپنے بیٹے وکاس چودھری کو لے کر گاؤں کے مکھیا ہرندر سنگھ کے پاس آشرواد لینے جاتے ہیں۔ ہرندر سنگھ اس خبر سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوتے۔ کرشنا چودھری کے جانے کے بعد وہ چند حقارت آمیز جملوں سے اسے یاد کرتے ہیں۔ ایک بار گاؤں کے اسکول میں ۱۵ اگست کو جھنڈا پھہرانے کے لئے مکھیا جی کا وقت مقررہ سے دو گھنٹے بعد تک انتظار کیا جاتا ہے۔ جب مکھیا جی نہیں آتے ہیں تو لوگوں میں بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ کوئی صاحب ماسٹر صاحب سے کہتے ہیں کہ مکئیا جی اب نہیں آئیں گے بات دیر ہو رہی ہے ماسٹر صاحب آپ ہی آگے بڑھ جائیے۔ کرشنا سنگھ کچھ ہچکچاتے ہوئے اٹھے اور ابھی رسی پکڑ کر کھینچنے والے ہی تھے کہ ہرندر سنگھ کی گرجدار آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی :

’’ ........ کرشنا چودھری ٹھہر جاؤ !!! جھنڈا تولن کے لئے آگے بڑھنے 
کی تمھاری ہمت کسیے ہوئی؟ 
’’ ... آپ نہیں آئے اور لوگوں نے اسرار کیا تو میں آگے بڑھ گیا‘‘ ...........
’’ تمھاری اوقات نہیں ہے جھنڈا تولن کرنے کی ....آئیندہ ایسی غلطی نہ کرنا۔
’’ ہماری برادری کا ایک بچّہ جھنڈا تولن تو کر سکتا ہے مگر تم نہیں کر سکتے ‘‘ ۔
ہریندر سنکھ کی آانکھوں میں غصے کی جوالا بھڑک رہی تھی ۔‘‘

اس کے بعد قدرت کا کرنا کچھ ایسا ہوجاتا ہے کہ ماسٹر کرشنا چودھری کا لڑکا وکاس چودھری I.P.S. بن جاتا ہے اور S.P, بن کر اسی صوبے میں آجاتا ہے ۔پھر کیا تھا ایک روز گاؤں کے پنڈت جی اس سے ملنے آتے ہیں اور اسے نئے مندر کے افتتاح کی دعوت دیتے ہیں۔ وکاس چودھری ان کی دعوت قبول کر لیتا ہے۔ دھوم دھام سے گاؤں کے نئے تعمیر شدہ مندر کا افتتاح ہوتا ہے۔لیکن جیوں ہی وکاس چودھری افتتاح کر کے واپس جاتا ہے پنڈت جی پورے مندر کو دھلونا شروع کرتے ہیں ۔ اس طرح پورا مندر شدھ کیا جاتا ہے۔ کسی آدمی پوچھنے پر :
’’ پنڈت جی !!! یہ مندر دھلوائی کیوں جا رہی ہے؟ کل ہی تو پوجا ہوئی ہے؟‘‘
پنڈت جی جواب دیتے ہیں
’’ تم نہیں سمجھوگے .... مندر کا شدھی کرن ہو رہا ہے ۔ ‘‘

اب سوال یہ ہے چھوا چھوت کی یہ رویایت جو ہندوستانی معاشرے میں ناسور کی حیثیت رکھتی ہے ‘ ایک نہ ایک دن اس کو ختم کردے گی اور طبعا معاشرہ ایسی راہ اختیار کر لے گا جو اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے۔ تمام کے تمام انسان ایک انسان کی اولاد ہیں ‘ اس لئے تمام کے تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ لہذا احترام آدمیت اور مساوات آدمیت کی حقیقت کو پانا ہر معاشرے کا سماجی فریضہ ہے ۔ اور طبعی طور پر یہ دنیا اسی فریضہ کے حصول میں رواں دواں ہے ۔جواس فریضے کے حصول میں اپنی زندگی گنوائے گا وہ اپنے دور کاسب بڑا مجاہد ہوگا۔ ہم میں کا ہر ایک چھوٹا بڑا اسی ذمہ داری کو نبھانے لئے اس دنیا میں آیا ہے تاکہ انسانیت کا احترام ہوسکے اور انسانیت کو ذلت سے باہر نکالا جاسکے۔اگر ہم اس ذمہ داری کو نہیں نبھائیں گے تو یہ کام زمانہ خود کر لے گا لیکن ایسے میں وہ لوگ جو اس تبدیلی کے اہل تھے اور اس سے انہوں نے رو گردانی کی ہوگی انہیں زمانہ معاف نہیں کرسکتا۔ وہ کسی نہ کسی طور اس المناکی کا حصہ بنیں گے جو اس تبدیلی کا حصہ کہی جائے گی۔ہندوستانی سماج کے پس منظر میں اللہ کے وہ بندے جو دلت کہلاتے ہیں ۔ جو مختلف قسم کی سماجی ذلت آمیز تفریق کا شکار ہیں ۔ یقیناًذلت اور رسوائی سے تنگ آچکے ہیں ۔ حالانکہ اللہ نے انہیں آزاد اور اشرف پیدا کیا ہے ۔ وہ اگر اپنی حقیقت کو سمجھ لیں تو سماج کے ایک باعزت شہری بن کر زندگی گذار سکتے ہیں۔ کوئی سماج اٹھے اور ان اللہ کے بندوں کو گلے سے لگائے اور انہیں اس طرح عزت و احترام کی نظرسے دیکھے جیسے وہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام اسی سے ہوگا جو اس کا اہل ہوگا۔ 

بے پناہ جنگل اور وجود‘ اور ’سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘ میں طبقاتی جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ نگار یہ کہنا چاہتا ہے کہ جب تک معاشرے میں انصاف قائم نہیں ہوگا اور دولت کی برابر ی سے تقسیم نہیں ہوگی ‘ سماج میں طبقاتی لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی۔ حا لانکہ معاملہ صرف اتنی سی بات پر ختم نہیں ہوگا کہ دولت کی برابر برابر تقسیم ہونی چاہئیے ۔ بلکہ اصل مسئلہ انصاف ہے اور انصاف کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔عدل اور انصاف کا تعلق انسانی باطن سے ہے۔ جہاں عدل قائم ہوتاہے زندگی کو جینے میں اعتماد حاصل ہوتا ہے۔اپنے آپ پر بھروسہ بڑھتا ہے۔ خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ہمت ‘ برداشت‘ْ جرء ات ‘ اور مسرت کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح جہاں انصاف کا فقدان ہو وہاں زندگی میں پریشانی‘ انتشار‘ بے اعتمادی‘ بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے اور کسی قیمت پر بھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔اس لئے افسانہ نگار کے خیال میں جب تک معاشرہ عدل و مساوات کو حاصل نہیں کرلیتا اس وقت تک اس میں اضطراب قائم رہتا ہے۔ ’ سفر ابھی ختم نہیں ہوا‘ میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ ہے۔ 

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ احمد صغیرنے اپنے افسانوں کے ذریعہ اردو کی نویں دہائی میں سماجی اور طبقاتی کشمکش کی جو فضا قائم کی ہے وہ مستحم اور دیر پا ونظر آتی ہے۔ احمد صغیر بنیادی طور پر حقائق کے علم بردار نظر آتے ہیں ۔ مگر مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو انہوں نے دلت ڈسکورس کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے۔ اس تعلق میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ رفتہ رفتہ یہ تخلیقی جہت یاحمد صغیر کی شناخت بن گئی ہے۔ان کے وہ افسانے جو ؂ان کے افسانوی مجموعہ ’ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘ میں شامل ہیں وہ سب کا سب دلت ڈسکورس پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس مجموعہ کے تمام افسانے سماج کے دبے اور کچلے ہوئے طبقہ کی عکاسی کرتے ہیں جو مسلسل ظلم اور زیادتی کا شکارہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مجموعہ کی اشاعت کے بعد سے اردو افسانے میں احمد صغیر کا ایمیج زیادہ تواناں اور زیادہ قوی بن کر ابھرا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے ترقی پسند تحریک پھر سے انگڑائیاں لے رہی ہے اور اپنی نئی شناخت پیدا کر رہی ہے۔ ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ احمد صغیر نے اگر دلت دکورس کی بات کر رہے ہیں تو بڑی ہشیاری کے ساتھ وہ اپنی فنی ذمہ داری بھی نبھا لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مقصد پر فن کو مجروح ہونے نہیں دیتے۔افسانے کو اس کے فنی تقاضوں کے تحت لے چلتے ہیں اور افسانے کے demand, کے مطابق کام کرتے ہیں۔اس لئے فن اور نظریہ کے بیچ سے ان کی فن کار شخصیت ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ میں نے مقامات پر ٹحسوس کیا ہے کہ اگر احمد صغیر کو احساس ہوا ہے کہ کہانی کا فنی مطالبہ کچھاور ہے تو انہوں نے کہانی کو اسی طرف موڑ دیا ہے تاکہ وقتی طور پر اگر نظریہ بندی میں کوئی کمی رہ جائے گی تو وہ کسی دوسرے ذریعہ سے پوری کی جا سکتی ہے مگر افسانے کے فن میں اگر کمزوری باقی رہ گئی تو اس کہ دور کرنا مشکل ہوگاآ 

احمد صغیر کی بے شمار کہانیاں ہیں جو زندگی کی پھیلی ہوئی جہات میں ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ کہانیاں زمانے کے ساتھ سفر کرتی رہتی ہیں اور تقریبا ہر زمان میں پائی جاتی ہیں ۔ احمد صغیر کی ان کہانیوں کا تعلق خالص ہندوستانی سماج سے ہے۔ انہوں نے دلت ڈسکورس کے ضمن میں جو کہانیاں لکھی ہیں وہ ہندوستانی سماج کے پس ماندہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔اس کے ساتھ ان کے اندر مسلسل جد و جہد اور انقلاب کی دھمک بھی سنائی دیتی ہے۔ اسی لئے یہ کہانیاں ہر آن تازہ اور جاذب نظر بھی نظر آتی ہیں۔ ان کہانیوں کو بڑے ہیں عضویاتی طریقے پر پیش کیا گیا ہے۔ احمد صغیر نے جس طبقاتی کشمکش کو ہمارے سامے پیش کیا ہے وہ برس ہابرس سے ہندوتانی سماج کا مقدر ہے۔ اس کشمکش سے ہندوستانی سماج کا نکل آنا محال معلوم ہوتا ہے۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب ہندوستانی معاشرہ مکمل انقلاب کو اپنے اندر سمو سکے۔ یہ کام کسی ایسے تاریخی عمل کے ذریعہ ممکن ہو سکے گا جو صدیوں کے بعد ظاہر ہو اور اپنے آپ میں مکمل ہو۔ ’آگ ابھی باقی ہے‘ ’ اور ٹائم‘ ‘’داغ داغ زندگی‘ ’سمندر جاگ رہا ہے‘’ فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی‘ ’آتش فشاں‘ ’پھانس‘ ’ ہمسفر‘ ’شدّھی کرن‘ ان کی کامیاب کہانیاں ہیں۔ ا ن علاوہ ’یہ زندگی‘ ’آتگ ابھی باقی ہے ‘ ’سیاہ رات کی صبح‘ ’ یہ آگ کب بجھے گی‘ ’ داغ داغ زندگی‘ بھی ان کی نما ئندہ کہانیاں ہیں جس میں احمد صغیر ایک کامیاب افسانہ نگار کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ان کے تین افسانوی مجموعے ’ ’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘ اور ’درمیاں کوئیکے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا ہے جس کو عبور کرکے ہی ہم تخلیق کی اعلیٰ سطح کا ادراک کرسکتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی ساکھ نیدی اردو میں اثر و تاثر کی وہ فضا قائم کی جو ہمیں ایک طرف تو زندگی کے نادید ہ اسرار کی طرف لے چلتی ہے دوسری طرف اس کے ذریعہ افسانے کے فن کی بلندیوں کو سمجھنے میں بھی مد د ملتی ہے۔ امید ہے کہ ان کے افسانے آنے والے دنوں میں اپنی قدر دانی کے عروج پر پہنچ جائیں گے۔خصوصا دلت ڈسکورس کے موضوع پر لکھے گئے ان کے افسانے اردو میں اپنی نظیر نہیں رکھتے۔


 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.