ماضی اور مہاجرت کے کرب کا راوی:عبد اللہ حسین




محمد غالب نشتر
28 Apr, 2018 | Total Views: 292

   

تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ادبی منظر نامے پر جن فن کاروں نے دیر پا نقوش ثبت کیے اور اپنے فن پاروں کے ذریعہ ادبی فضا میں خوش حالی کی کیفیت پیدا کی اُن میں عبد اللہ حسین کا نام کافی اہمیت کا حامل ہے۔وہ ادبی دنیا میں مکمل طور پر متعارف اس وقت ہوئے جب ان کا پہلا ناول’’اداس نسلیں‘‘اشاعت سے ہم کنار ہوا اور مقبول خاص و عام ہواجب کہ اس سے قبل ان کے اکا دکا افسانے شائع ہو چکے تھے اور عبد اللہ حسین افسانے لکھ کر اپنی شناخت قائم کرنے میں سرگرداں تھے۔ 1962-63ء کا زمانہ تھا جب پاکستان دگر گوں حالات سے گزر رہا تھا۔تقسیم ہند کے سانحے کے بعد وہاں کی عوام سہمی سہمی سی زندگی گزار رہی تھی۔عوام کے دل و دماغ پر وہ منظر نامہ اوجھل نہ ہو سکا لیکن نئے ملک کے قیام کی خوشی سے وہ لبریز تھے لہٰذا یہ زخم مندمل ہوتا چلا گیا ۔عوام نے سکون کی سانس لی اور محسوس کیا کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔شؤمی قسمت کہ 1958ء کے مارشل لانے عوام کے جمع شدہ خواب کو چکنا چور کردیا۔انہی حالات کو مد نظر رکھ کر عبد اللہ حسین نے ’’اداس نسلیں‘‘رقم کیا۔یوں تو ناول نگار نے جون 1956 ء میں اس ناول کو لکھنے کی ابتدا کی تھی اور مئی 1961 ء تک اسے پاےۂ تکمیل تک پہنچایا تھا اور تقریباً دو سالوں بعد یعنی 1963 ء میں یہ ناول منظر عام پر آیا۔یہ ناول کل پندرہ ابواب اور چار حصوں میں منقسم ہے جس میں برٹش انڈیا سے لے کرتقسیم ہند اور بعد کی صورت حال کا احاطہ کیا گیا ہے۔پنجاب کی دیہی زندگی کی جیسی عمدہ عکاسی اس ناول میں کی گئی ہے ،دوسرے ہم عصروں کے ہاں خال خال ہی نظر آتی ہے۔’’اداس نسلیں‘‘ عبداللہ حسین کی پہلی باقاعدہ تصنیف ہے ۔اگر کہانیوں کی بات کی جائے تو ’’ندی‘‘کو پہلی مطبوعہ تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے جو کہ 1962 ء کے سویرا ،لاہور میں چھپی تھی اور ندی کی اشاعت کے بعد ایک سال کے دورانیے میں چار کہانیاں ’’سمندر‘‘،’’جلاوطن‘‘،’’دھوپ‘‘ اور’’ پھول کا بدن‘‘ چھپیں۔ان تمام افسانوں میں دیارِ غیر کے تجربات اور مہاجرت کے کرب کا بیان ہے۔اس ضمن میں پہلی کہانی ’’ندی‘‘ کواس اعتبار سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ اسی کہانی سے عبد اللہ حسین کی شناخت قائم ہوئی اور آج بھی جب ادب کی محفلوں میں عبد اللہ حسین کی افسانہ نگاری کا ذکر ہوتا ہے تو ’’ندی‘‘ کے حوالے سے ہی گفتگو کا آغاز ہوتا ہے۔کہانی’’ندی‘‘ عبد اللہ حسین کی ذاتی زندگی پر مبنی ہے جس کا انہوں نے ایک انٹرویو میں بھی اعتراف کیا ہے۔یہ ایک ایسے طالب علم کی کہانی ہے جو اپنا وطن ترک کرکے سات سمندر پار مغربی کینیڈا کی ایک چھوٹی سی پہاڑی یونی ورسٹی میں مختصر مدت کے لیے فزکس میں ریسرچ کرنے کے لیے جاتا ہے ۔ وہاں اُس کی ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوتی ہے جس کا نام ’’بلانکا ‘‘ہے جو ماہرِ لسانیات ہے ساتھ ہی اپنے اندر درد مند اور اداس دل رکھتی ہے۔ا س کی باتوں سے ایسی بُو آتی ہے کہ اسپین سے آئے ’’میرو‘‘نامی شخص نے اُس کا دل دکھایا ہے اور اُسے بے یار ومددگار تنہا چھوڑ کر اپنی دنیا میں گُم ہوگیا ہے۔بلانکا اور میرو میں ایک مشترکہ مماثلت یہ ہے کہ دونوں ہی اپنے والدین کی ناجائز اولاد ہیں۔بلانکا کے اندر کم گوئی کا وصف نہیں بلکہ وہ تیز بولنے والی دل چسپ لڑکی ہے جسے ماحول پر چھاجانا خوب آتا ہے۔وہ ہمیشہ اپنے چاہنے والوں میں گھری رہتی ہے پھر بھی وہ تنہا ہے۔اُسے فقط میرو کی شخصیت میں ہی مماثلت نظر آتی ہے۔بلانکا سے راوی کی ملاقات کے بعد وہ خوش دلی سے استقبال کرتی ہے اور مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال بھی کرتی ہے۔وہ بات بات پر موسم میں پھیلی اداسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’’میرو‘‘کا نام لیتی ہے۔راوی اس شہر کا تنہا اور اجنبی ہے اسی لیے وہ ترحّم کی نگاہ سے یوں مخاطب ہوتی ہے:’’چلو اچھا ہوا کہ تم ادھر آگئے اور مجھ سے ملاقات ہوگئی۔میں بڑے کام کی آدمی ہوں۔‘‘وہ پھر خوش دلی سے باتیں کرنے لگتی ہے اور کہتی ہے۔’’یونی ورسٹی کے ایک گروہ میں میں سخت غیر مقبول ہوں اور دوسرے گروہ میں بے حد ہر دل عزیز ہوں۔قصہ مختصر یہ کہ کیمپس بھر میں شیطان کی طرح مشہور ہوں۔سارا اسٹاف مجھ سے سخت نفرت کرتا ہے کیوں کہ میں بے حد ذہین ہوں۔تمہیں مجھ سے مل کر بے حد خوشی ہوگی۔میری شخصیت بڑی رنگا رنگ ہے۔‘‘
بلانکا ،راوی کو ’’سلطان آف دی ساؤتھ ایسٹ ایشیا‘‘کے نام سے پکارتی ہے۔اس کا یہ بھی خیال ہے کہ سلطان جذباتی مرد ہے جب کہ بلانکا کو جذباتی مردوں سے ڈر لگتا ہے۔میرو بھی جذباتی تھا لیکن وہ یعنی بلانکا اُسے پسند کرتی تھی۔میرو کے علاوہ کسی مرد نے اُسے متأ ثر نہیں کیا تھا۔میرو کے اُس پر ڈھیر سارے احسانات ہیں۔ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ بلانکا کو احساس کمتری کے سائے سے نکالتا ہے۔وہ احساس کمتری جسے دونوں یکساں طور پر جھیل رہے ہیں البتہ بلانکا کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ وہ اپنے والدین کی ایسی ناجائز اولاد ہے جس پر کسی نے خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ احساسِ ندامت اور احساسِ گناہ کی ملی جلی کیفیت نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ناجائز بچے سے چھٹکارا پاکر اپنی زندگی کو کرب سے بچالیں۔بلانکا کے تحت الشعور میں یہی بات ہمیشہ کھٹکتی ہے اور چاہتے ہوئے بھی اس کرب سے نجات نہیں پاتی لہٰذا ’’نیا گرا‘‘جھیل میں کود کر اپنی جان دے دیتی ہے۔اس کے نزدیک خود کشی ہی واحد وسیلہ ہے جس سے وہ زندگی کے جھمیلوں سے چھٹکارا پاسکے۔بائرن،سلطان حسین،ازابلا ،بلانکا اور میرو پر مشتمل اس کہانی میں احساسِ کمتری،مہاجرت کا کرب اور مغربی طرز معاشرت کی کامیاب مرقع کشی موجود ہے اور اس ابتدائی کاوش پر عبد اللہ حسین کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
مجموعہ’’نشیب‘‘کی ایک کہانی ’’سمندر‘‘بھی اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ اُس میں کہانی نگار نے سمندر کے حالات اور کینیڈا میں گزارے چودہ ماہ کی واپسی کے تجربات پر مبنی واقعات کو موضوع بنایا ہے۔مغربی ممالک کا ذکر اُن کی کہانیوں میں بار بار اس لیے بھی آتا ہے کہ انہوں نے بہ ذات خود اس کرب کو جھیلا ہے۔وہاں کے ماحول،تہذیب و ثقافت اور عادات و اطوار کو بہ ذات خود دیکھا ہے اسی لیے ان کی کہانیوں میں مہاجرت کا کرب زیادہ نمایاں ہے۔عبد اللہ حسین کے ہاں مہاجرت کی اصطلاح دوسرے معنوں میں اس لیے بھی ہیں کہ انہوں نے دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح ہندوستان، پاکستان،بنگلہ دیش اور اسی طرح کے برصغیر کے دوسرے چھوٹے موٹے ممالک کی مہاجرت کو موضوع نہ بنا کر مغربی دنیا کی مہاجرت کو بیان کیا ہے۔وہاں کی مہاجرت ہمارے لیے اجنبی اس لیے بھی ہیں کہ بر صغیر کی تہذیب سے اُن کا دور دور کا واسطہ نہیں ۔جب کوئی بنی آدم وہاں جاتا ہے تو زیادہ ہی اجنبیت کو محسوس کرتا ہے۔جیسا کہ مذکور ہوا کہ ’’سمندر‘‘واپسی کے سفر کے تجربات پر مبنی کہانی ہے۔’’احمد فیروز‘‘کہانی کا راوی ہے اور اسی کردار کے سہارے کہانی آگے بڑھتی ہے۔راوی کے لیے تمام مسافر اجنبی ہیں لہٰذا وہ جہاز ،جس کا نام کیلنڈونیا ہے،کو پہلی دوست سمجھتا ہے۔وہ پوری کہانی میں تنہائی کے لمحات میں سمندر سے باتیں کرتا رہتا ہے ۔جہاز میں اس کی سب سے پہلی ملاقات ’’ای نِڈ‘‘ سے ہوتی ہے جو ایک چھوٹی بچی ہے۔ باتوں ہی باتوں میں ہینگرین بیوی رومانی انداز میں راوی سے مخاطب ہوتی ہے اور مشورتاً کہتی ہے:’’کل صبح سے پہلے پہلے ساری لڑکیاں لگ جائیں گی،خیریت چاہتے ہو تو آج ہی کسی نہ کسی کو پھانس لو ورنہ ہاتھ ملتے رہ جاؤگے۔‘‘خیر اِس بات کا مسٹر فیروز پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ فیروز مکمل طور پر مشرقی مرد ہے جو مغربی تہذیب کو بری نظر سے دیکھتا ہے اور جا بہ جا نکتہ چینی بھی کرتا ہے۔جہاز میں سفر کرنے والوں میں ایک اینا ہیمبر گراہم بھی ہے۔جہاز میں موجود مسافروں میں یہ واحد کردار ہے جس میں فیروز دل چسپی لیتا ہے لیکن وہ گھاس نہیں ڈالتی بلکہ کنّی کاٹتی رہتی ہے۔
اس کہانی میں راوی اور کئی دوسرے مسافروں میں ایک مشابہت ضرور ہے کہ فیروز کی طرح دوسرے مسافر مہاجرت کے کرب کو جھیل رہے ہیں۔یہ کہانی اُس زمانے پر محیط ہے جب مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی میں جنگ چھڑی ہوئی تھی اور دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔دونوں خطوں کے لوگوں میں ملنے جلنے کی آزادی بھی نہیں تھی۔اینا کو چومنے والا نوجوان لڑکا ،ای نڈ اور اس کی ماں اسی کرب سے گزر رہے ہیں۔راوی کے لیے یہ خبر چونکادینے والی ہے کہ اِی نِڈ کی ماں ایک ’’سٹرپ ٹیز‘‘یعنی طوائف ہے ۔یہ ایک ستم رسیدہ عورت ہے جسے اپنے وطن سے محروم کر دیا گیا ہے اور مشرقی و مغربی جرمنی کی تقسیم نے لوگوں کے دلوں میں رخنہ پیدا کردیا ہے۔
اس مجموعے کی ایک اور کہانی’’جلاوطن‘‘ ہے جو ایسے شخص کی روداد ہے جو اپنی خاموش مزاجی اور پر اسرار شخصیت کی وجہ سے آفس کے دوسرے کلرکوں کے درمیان وجہِ تضحیک بنتا ہے۔وہ ایک ایسے دفتر کا ہیڈ کلرک ہے جہاں کل سات آدمی کام کرتے ہیں۔تین کلرک ،ایک ڈسپیچر،ایک ٹائپسٹ،ایک چپڑاسی اور ایک ہیڈ کلرک۔کہانی کا راوی ایک کلرک ہے اور وہ شروع میں آفس اور دوستوں کی کہانی سناتا ہے لیکن بعد میں وہ ہیڈ کلرک کی داستان شروع کردیتا ہے۔کلرک یعنی راوی مہاجر ہے ساتھ ہی ہیڈ کلرک بھی مہاجر ہے جس کا انکشاف راوی کو ایک مدت کے بعد ہوتا ہے۔دونوں مہاجروں میں کافی فرق ہے ایک خوش و خرم رہتا ہے تو دوسرا خاموش اور تنہا زندگی گزارتا ہے۔وہ تنہا ئی کی زندگی کیوں گزاررہا ہے کیوں کہ وہ بہت سے لوگوں میں رہنے کے باوجود شدید تنہائی پن کا شکار ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اُسے کوئی سمجھنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔اس کے بارے میں مشہور ہے کہ کسی نے بھی اسے آفس ٹائم پر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ وہ پیسے بچاتا ہے۔اگر پیسے بچاتا ہے تو اس کا مقصد کیا ہے،اس بات کا کسی کو علم نہیں۔اس کی معمولات زندگی کا انکشاف راوی یعنی جونیر کلرک کو اُس وقت ہوتا ہے جب اسے ہیڈ کلرک کے گھر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔مکان میں پہنچتے ہی سب سے پہلے اس کی نظر اُن جانوروں پر پڑتی ہے جو ڈیوڑھی سے لے کر صحن اور اس سے آگے بر آمدوں ،سیڑھیوں اور چوپاروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ہیڈ کلرک سب چرند پرند سے الگ الگ انداز میں باتیں کرتا ہے۔اس کے بعد راوی دھول میں اٹی ہوئی تین تصویروں کی طرف دیکھتا ہے جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی شخص کی تین تصویریں ہیں جو مختلف اوقات میں لی گئی ہیں۔راوی اپنے ارد گرد چرند پرند کے میلے سے تنگ آکر ہیڈ کلرک سے یہ سوال پوچھ بیٹھتا ہے کہ اِن کا کیا فائدہ؟تو وہ جواب دیتا ہے:’’فائدہ؟‘‘وہ پہلی بار ہنسا۔گہرا اور مختصر۔پھر اس نے جھک کر سفید کبوتروں کاایک جوڑا اٹھایا اور انہیں چہرے کے قریب لاکر پیار سے بولا۔’’جب چاہو انہیں بلا سکتے ہو،چھو سکتے ہو۔‘‘
کچھ دنوں کے بعد راوی کا تبادلہ دوسرے آفس میں ہوجاتا ہے اور وہ ملازمت سے سبک دوش ہو کر اپنے ملک واپس چلا جاتا ہے۔ایک عرصے کے بعد اُسے بیوی کے ہمراہ سرکاری کام کے سلسلے میں تہران جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔وہاں ریستوراں میں کھانا کھاتے ہوئے ایک بوڑھے شخص پر نظر پڑتی ہے جو اُسے ہی گھور گھور کر دیکھ رہا ہوتا ہے اور کچھ دیر کے بعد چلا جاتا ہے۔ریستوراں میں بیرے سے معلوم کرنے پر پتا چلتا ہے کہ وہ شہر لاہور کا رہنے والا ہے جو اپنی جوانی میں یہاں آیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں گیا۔یہ بوڑھا وہی شخص ہے جو راوی کے آفس میں ہیڈ کلرک تھا اور خاموش خاموش سا رہتا تھا۔تب راوی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ’’کیسی عجیب بات ہے کہ بعض دفعہ ایک چھوٹی سی بات کے جاننے میں ایک عمر لگ جاتی ہے کہ ’’جلاوطن اپنے قبیلے کی کشش سے کبھی چھٹکارا نہیں پا سکتا چاہے وہ اپنے قبلے سے مایوس ہی کیوں نہ ہو چکا ہو......۔‘‘
کہانی ’’دھوپ‘‘ یادِ ماضی کی طرف مراجعت اور ناسٹیلجیا کے کرب میں ڈوبتے ابھرتے رہنے کا استعارہ ہے۔جیسا کہ عبد اللہ حسین کے ناقدین کے مابین یہ بات مشہور ہے کہ عبداللہ حسین ماضی کے کرب کو اپنی کہانیوں میں نہایت سلیقے سے برتنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔اس قول کی صداقت کے لیے اس کہانی کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اس کہانی میں ’’دھوپ‘‘ استعارہ ہے وقت کے ڈھلنے اور دوبارہ طلوع ہونے کا۔بالکل یہی صورتِ حال اس کہانی کے کردار ’’سعید‘‘کے ساتھ ہے جو بیس سالوں کے بعد اپنے بیٹے کے ساتھ گاؤں لوٹ رہا ہے اور اپنے بچے کی جگہ خود کو رکھ کر اپنے باپ،خاندان اور گاؤں والوں کے حالات کا جائزہ لیتا ہے۔اس کہانی کا تجزیہ کرتے ہوئے محمد عاصم بٹ نے لکھا ہے کہ:’’اس کہانی کے حوالے سے ایک اہم بات ناسٹیلجیا ہے۔ناسٹیلجیا عبد اللہ حسین کے ہاں بہت طاقت ور انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے اور ان کی بیش تر تحریروں کی تفہیم میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اس کہانی کے حوالے سے ایک اور بات یہ کہی جا سکتی ہے کہ عبد اللہ حسین کے لیے مہاجرت کبھی ایک پسندیدہ عمل نہیں رہا۔وہ بار بار اپنے ناولوں اور کہانیوں میں ایسے کردار ہمارے سامنے لاتے ہیں جو مہاجرت کے کرب میں مبتلا ہیں اور ہمیشہ واپس اپنی جڑوں اور اپنی سر زمین کی طرف لوٹنے کی خواہش میں جلتے رہتے ہیں۔عبد اللہ حسین کے ہاں ناسٹیلجیا ایک طرح کی قوت کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔‘‘
پوری کہانی میں ناسٹیلجیا کی اداسی پھیلی ہوئی ہے۔سعید نئے گاؤں کا موازنہ پرانے گاؤں سے کرتا ہے۔کہیں وہ تبدیلی محسوس کرتا ہے تو کہیں کہیں اُسے لگتا ہے کہ وہ پرانے گاؤں میں موجود ہے اور وقت گھوم پھر کر اپنی اصل جگہ میں واپس آگیا ہے۔انہی باتوں کو سوچ کر وہ اندازہ لگاتا ہے کہ دنیا کی تمام اشیا گول ہیں اور انہیں گھوم پھر کر وہیں آنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سعید مہاجرت کے کرب کو جھیلتے ہوئے اپنے اصل مقا م یعنی آبائی وطن کو لوٹ آیا ہے۔کہانی کا اختتام اس اعلان پر ہوتا ہے کہ اب وہ (سعید)یہیں اسی گھر میں رہے گا جو اُس کا آبائی وطن ہے۔
کہانی’’مہاجرین‘‘کو اگر ’’دھوپ‘‘کا تسلسل قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔مذکورہ کہانی،سابقہ کہانی کی طرح دو کرداروں کے حوالے سے آگے بڑھتی ہے۔یہاں بھی باپ اور بیٹے موجود ہیں جو فلیش بیک میں جا کر پورا منظر نامہ بیان کرتے ہیں۔اس کہانی میں بھی مہاجرت کا کرب ہے اور یادِ ماضی کی اُداسی پھیلی ہوئی ہے۔باپ اور بیٹے کے مکالموں سے بنیادی کردار ’’شیخ عمر دراز‘‘کے متعلق بہت سی باتوں کا انکشاف ہوتا ہے اور انہی باتوں میں اس بات کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ وہ بچپن ہی میں بھاگ کر ممبئی چلا گیا تھا اور بہت سی فلموں میں کام بھی کیا تھا لیکن وہ اچانک اپنے گاؤں واپس آگیا اور تا عمر وہیں رہا۔کہانی،وجوہات کے بارے میں خاموش ہے کہ آخر کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر شیخ عمر دراز نے ممبئی کو ترک کیا اور آبائی وطن میں بود وباش اختیار کرلی۔کہانی’’دھوپ‘‘ اور ’’مہاجرین‘‘کے دونوں کردارزندگی کے ہارے ہوئے کردار ہیں جو اپنے مقصد میں کام یاب نہیں ہوتے اور باقی عمر دیہات میں گزار دیتے ہیں۔یہاں ایک بات عبد اللہ حسین کے حوالے سے کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنی کہانیوں میں دیہات کا منظر نامہ نہایت سلیقے سے بیان کیا ہے۔کہانی’’سمندر‘‘اور ’’بیوہ ‘‘کی طرح اس کہانی میں بھی انہوں نے یہ حسن بکھیرا ہے۔اس کہانی میں کہانی نگار نے آفتاب کے حوالے سے لکھا ہے کہ’’گرمیوں کی دو پہر وں میں صرف دو آوازیں ایسی تھیں جو آفتاب کے دل کو اچھی لگتی تھیں۔ایک اونچی اڑتی ہوئی چیل کی آواز اور دوسری گھگو کی آواز۔گھگو کی خواب آلود آواز کو سن کر اُس کادل کرتا تھا کہ وہ کہیں پر آرام سے بیٹھ جائے اور اسے سنتا رہے۔اس میں سنسان دوپہر کا مزا تھا اور اس آواز سے اس کے بدن کا تعلق تھا۔اس کے بر عکس آسمان سے چیل کی چلچلاتی ہوئی آواز سن کر اس کا دماغ بھٹکنے لگتا تھا۔اسے دور دور کے خیال آتے تھے۔‘‘اس طرح عبداللہ حسین کی اور بھی ایسی کہانیاں ہیں جن میں یہ عنصر غالب ہے۔
عبد اللہ حسین کے دوسرے مجموعے ’’فریب‘‘ میں بھی ایسے افسانے مل جاتے ہیں جن میں مہاجرت کے کرب کا احساس ہے البتہ پہلے مجموئے’’نشیب‘‘میں اُن کی نوعیت مختلف ہے۔’’فریب‘‘ میں کہانیوں کا بنیادی محور ’عورت‘ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ان کے تمام افسانوں میں موجود ہے۔اس ضمن میں پہلی کہانی’’بیوہ‘‘ہے جس میں شادی کا ایک جوڑاگاؤں سے خوابوں اور حسرتوں کا پلندہ اپنے سروں پر اٹھائے شہرکی جانب سرپٹ بھاگتاجاتاہے تاکہ گاؤں کی فرسودہ زندگی سے نجات حاصل کرے اور اپنے باپ داد اکاپیشہ نہ اختیار کرنا پڑے۔اکرم اور زہرہ تلاش معاش کے لیے شہر آتے ہیں لیکن انہیں کوئی ایسا روز گار نہیں ملتا جس سے وہ سکون کی زندگی گزرا سکیں۔شہر کی چکاچوند زندگی میں وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں اور اُن کی رہائش شہر کی حدود پر جھگیوں کی قطاروں میں سے گمنام جھگی میں ہے جہاں دھول اور مٹی اُن کا مقدر ہے۔ اکرم شہر کی سراب زدہ زندگی کے دام میں محض اس وجہ سے آتا ہے کہ وہ شہر میں رہ کر مزدوری کرے گا اور دبئی جائے گالیکن نہ اُسے کہیں مزدوری ملتی ہے اور نہ ہی اس کے دبئی جانے کا خواب پورا ہو تا ہے۔آخر کار ماحول سے تنگ آکر گھر میں ہی ڈیرہ جما لیتا ہے اور زہرہ کے لائے ہوئے زیورات کا صفایا کرنا شروع کرتا ہے اور ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ زہرہ مائکے کی آخری نشانی اکرم کے ہاتھ میں تھما دیتی ہے تاکہ بھوک کی شدت کو کم کر سکیں۔کہانی کے کلائمکس سے قطع نظر یہاں یہ بات زیادہ ضروری ہے کہ اکرم اور زہرہ دونوں کے خیالات میں تضاد ہے۔اکرم شہر کی تعریف کرتا ہے تو زہرہ برائی کرتے نہیں تھکتی، ساتھ ہی وہ یہ نیک مشورہ بھی دیتی ہے کہ شہر کو چھوڑ کر انہیں اپنے گاؤں جانا چاہیے تاکہ وہ باقی ماندہ زندگی سکون سے گزار سکیں۔اس کہانی میں عبد اللہ حسین نے گاؤں کی سادگی اور شہر کی چکاچوند زندگی،جو انسانی عقلوں پر پردہ ڈال دیتی ہے،کا نہایت خوب صورتی سے مشاہدہ کیاہے۔
اس ضمن میں دوسری کہانی ’’آنکھیں‘‘اس اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے کہ عبداللہ حسین نے اس کہانی میں فلیش بیک کی تکنیک کااستعمال کیا ہے جن کا تعلق ماضی سے پیوست ہے۔سید صاحب اور راوی کی اس کہانی میں محبت کو موضوع بنا کر افسانہ نگار نے ماضی سے پیوسہ واقعات کو طویل کہانی کی صورت میں پیش کیا ہے۔سید صاحب اور راوی بچپن ہی سے ساتھ میں پلے بڑھے ہیں۔کہانی سناتے ہوئے جب راوی اپنا موازنہ سید صاحب سے کرتا ہے تو یہ بتانا نہیں بھولتا کہ سید صاحب ثروت مند اور باکما ل شخص تھے،ابتدا ہی سے کم گو تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ اُن کی ولادت نے ہی اُن کی زبان گنگ کردی تھی کیوں کہ جس دن وہ پیدا ہوئے ،ان کی ماں کا انتقال ہو گیاتھا۔اس سانحے کا اثر سید صاحب کی زندگی پر کافی پڑا۔ان کے ہاں قالین کا کاروبار ہوتا تھا اور اسی کاروبار میں سید مستنصر اللہ بلگرامی یعنی سید صاحب لگے ہوئے تھے۔وہ تعلیم سے فارغ ہو کر اپنی ملازمت میں لگ گئے اور ہمیشہ گوشہ نشینی کی زندگی کو ترجیح دی جب کہ اس کہانی کا راوی ایک متوسط گھرانے کا لڑکا تھاجسے اپنے باپ سے بہت چڑ تھی۔ان کے بارے میں سنا گیا تھا کہ جب تک وہ ملازمت میں رہے،کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ ہمیشہ وہ اصول کی بات کیا کرتے تھے۔راوی کے ذہن ودل میں اپنے باپ کے تئیں شدید نفرت کا اظہار اس وقت ہوا جب اس کے باپ کا انتقال ہوا۔باپ کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں قید کرلیا اور یہ قسم کھائی کہ وہ اُس وقت تک گھر کی چوکھٹ سے قدم نہیں رکھیں گے جب تک ان کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں گے۔اس طرح سے وہ کئی دنوں تک ایک کمرے میں قید رہے لیکن ان کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہو سکے۔تعلیم سے فارغ ہوکر دونوں نے ملازمت سنبھال لی اور اپنی اپنی دنیا میں مگن ہوگئے۔سید صاحب فارغ البال تھے لہٰذا انہیں پیسوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی البتہ راوی کا دل پیسوں سے خالی اور حرص و ہوس سے مملو تھا،ان کے دل میں پیسوں کی لالچ اس قدر سرایت کرگئی کہ انہیں حلال و حرام کی تمیز ہی نہ رہی۔چوں کہ ان کا تعلق شعبۂ تعلیم سے تھا اسی لیے عورتوں سے بھی ان کا خوب واسطہ رہا۔شعبۂ تعلیم میں جو عورتیں صریحاً بہانے باز لگتیں تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ اُس کے اندر کا تانا بانا کمزور ہے اور وہ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مٹھی بند کر لیتے۔بعضوں کو دفتر ہی میں تصرف میں لے آتے۔ایسے موقعوں پر راوی کی خواہش ہوتی کہ سید صاحب بھی اُن کے ساتھ رنگ رلیوں میں شامل ہو جائیں لیکن وہ ان تمام چیزوں سے بے نیاز تھے۔راوی جب کبھی اپنے دوست یعنی سید صاحب سے محبت کی بابت سوال کرتے تو وہ خاموشی اختیار کر جاتے۔پارک میں ٹہلتے ہوئے ایک دن آخر کار انہوں نے بھی اپنی محبت کی کہانی بتاڈالی اور کہاکہ انہیں ایک ایسی لڑکی سے محبت ہوئی تھی جو ٹرین میں سفر کر رہی تھی اوروہ پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دیکھتے رہے اور ٹرین بنا رُکے آگے بڑھ گئی۔بہ قول سیدصاحب’’اُس نے دور ہی سے مجھے دیکھ لیا تھا اور اس وقت تک دیکھتی رہی تھی جب تک کہ میں اُس کی نظروں اور وہ میری نظروں سے اوجھل نہ ہوگئے‘‘۔اس کے بعد انہوں نے شادی نہ کی اور راوی اپنی بیوی کے علاوہ دوسروں کی عورتوں سے بھی محظوظ ہوتے رہے۔اس کہانی میں عبد اللہ حسین نے دو بوڑھوں کی عشقیہ کہانیوں کو ماضی کے طور پر دیکھا ہے کہ ایک عمر گزر جانے کے بعد واقعات کا سرا کس طرح سے اپنے حال میں پیوست ہو جاتا ہے۔
اس ضمن کی ایک کہانی ’’بہار‘‘ ہے جس میں عبد اللہ حسین نے بریگیڈیر عظمت رشید کے احوال کو قلم بندکیا ہے ۔ یہاں بھی افسانہ نگار نے کہانی کو ماضی کی یادوں کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔79 سال کا ایک ریٹائرڈ فوجی ،جس نے زندگی کے تمام نشیب و فراز دیکھے ہیں،سلیقے کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی زندگی میں خوش بھی ہے ۔وہ با اصول ہے اور اپنی زندگی کی تئیں وفادار بھی ہے ۔انہوں نے عہد جوانی میں ہی ان اطوار کو سیکھا ہے جب وہ فوج میں ملازم تھے۔آج اُن کی صورت حال مختلف ہے،ان پر ضعیفی طاری ہے،اس کے اعزہ داغِ مفارقت دے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ بس ایک ملازم محمد بخش باورچی ہے جو اُن کا ایک زمانے سے ساتھ دے رہا ہے۔ایک زمانہ ہوا جب عظمت رشید صاحب کی بیوی فوزیہ،بیٹی ناہید اور بیٹا جو فوجی زندگی اور وردی کی محبت میں شہید ہو گیا تھا،انہیں اس بھری دنیا میں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہی ان کا ثمرہ بھی تھے۔ان کے وارثین میں فقط بیٹی ناہید کا لڑکا بچا تھا جو کسی خلیج میں کسی اچھے عہدے پر فائز تھا لیکن یہ بات رشید صاحب کے لیے سنی سنائی تھی۔تنہائی میں زندگی گزارتے ہوئے بریگڈیر صاحب کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی اور یادِ ماضی میں بادل نا خواستہ اُن کا ذہن بھٹک ہی جاتا تھا اور ہفتوں اسی سوچ میں پریشان رہتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کے دماغ میں سختی آگئی تھی اور وہ ہر ایسے شخص کو ناپسند کرتے تھے جو اُن کی ضعیفی کی جانب ہلکا سا بھی اشارہ کرتا یعنی معذوری کا احساس دلانے والوں پر وہ سخت برہم ہوتے تھے جب کہ وہ اپنی زندگی کے اُناسی بہاریں دیکھ چکے تھے۔موسم کی خوش طبعی کیفیت پر وہ ایک دن صبح ہی سے خوش تھے۔وہ موسم کی خوب صورتی کو صاف طور پر محسوس کر رہے تھے کیوں کہ یہ ان کا پسندیدہ موسم تھا۔ان کی زندگی اسی حال میں گزرتی کہ سمندر کے کنارے ان کی ملاقات سلمان سے ہوتی ہے ۔اس بندے میں رشید صاحب کو اپنا بیٹا نظر آتا ہے۔وہ اسے اپنا رازداں بناتے ہیں اور شہر میں پھیلی بد امنی کا نوحہ بھی کرتے ہیں۔گھر واپس آکر وہ تھوڑے سے پریشان ہوتے ہیں اور خود کشی کرلیتے ہیں۔اس کہانی میں عظمت رشید کا کردار یوں تو خوش حال نظر آتا ہے لیکن وہ اپنے اعزہ و اقارب کے جدا ہونے سے ٹوٹ سے جاتے ہیں اور وہ اپنی زندگی کے ایک تاریک دن میں خود کشی کرلیتے ہیں۔
مجموعہ ’’فریب‘‘میں اس ضمن کی آخری کہانی ’’فریب‘‘ہے جس میں وراثت سے محرومی کا نوحہ دکھا یا گیا ہے۔اس کہانی میں سلطانہ گوجر اپنی ذاتی کوائف بیان کرتے ہوئے کوٹلی لوہاراں کے گاؤں کے لوگوں کو بیان کرتی ہے۔اس نے سولہ بہاریں ہی دیکھی ہیں لیکن تجربات کا ایک ہجوم اُس کے اندر موجزن ہے۔وہ کمسن ملازمہ ہے۔اس سے قبل وہ اپنے ہی گھر میں بھینس پالنے اور لوگوں کو دودھ بیچ کر گھر کا خرچ چلاتی ہے ۔ناگہانی مصیبت میں اس کی بھینسیں بیمار زدہ ہو جاتی ہیں اور وہ پیشے سے محروم ہوجاتے ہیں۔سلطانہ گوجر کا باپ کرم مغل اور اس کے بیٹے رحمت مغل کے قرض اور احسانات تلے دبا ہو ا ہے لہٰذا وہ اپنی بیٹی کو ان کے گھر کام پر لگوا دیتے ہیں ساتھ ہی یہ تاکید بھی فرماتے ہیں کہ وہ اپنی ٹانگوں کی حفاظت ضرور کرے،بھلے ہی وہ نمازی اور پر ہیز گار کیوں نہ ہوں اورایسا ہی ہوتا ہے۔دونوں باپ بیٹے جنس زدہ ہوتے ہیں اور سلطانہ گوجر سے ایسی ایسی حرکتیں کرواتے ہیں کہ شرم سے اُس کا براحال ہو جاتا ہے۔دونوں باپ بیٹے میں جنسی تسکین اُسی وقت حاصل ہوتی ہے جب دونوں باپ بیٹے’’اُس ‘‘پر ہاتھ رکھوا کر سہلواتے ہیں ۔
عبد اللہ حسین کے مندر جہ بالا افسانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ عبد اللہ حسین دونوں کہانیوں کے مجموعوں میں اپنے انداز بیان کے لحاظ سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔’’اداس نسلیں‘‘اور ’’باگھ‘‘کے اسلوب سے الگ ہٹ کر نئے موضوعات اور نئے اسلوب کی طرف گامزن دکھائی دیتے ہیں۔پہلے مجموعے میں پانچ کہانیاں شامل ہیں اور ان میں بیش تر کہانیوں کے موضوعات بیرون ممالک کے تجربات پر مبنی ہیں۔کہانیوں کے عنوانات سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں مہاجرت کے کرب کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ’’جلاوطن‘‘،’’سمندر‘‘ اور ’’مہاجرین‘‘کچھ اسی طرح کے عنوانات ہیں البتہ دوسرے مجموعے میں انہوں نے ماضی کی باز یافت کی ہے۔عظمت رشید،زہرہ اور سید صاحب جیسے کردار اپنے حال سے مطمئن نہ ہوکر ماضی کے دامن میں پناہ لینے پر مُصر ہیں۔عبد اللہ حسین کے حوالے سے یہ بات کہی جائے کہ وہ ماضی اور مہاجرت کے کرب کا راوی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
***

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.