اوراق دل پر لکھی سلمیٰ صنم کی حکایتیں




شہاب ظفر اعظمی
11 Sep, 2017 | Total Views: 265

   

مجھے کسی کتاب کی کامیابی تین چیزوں میں نظر آتی ہے۔دلچسپی ،تاثر اور آگاہی۔یعنی لکھنے والے کا اسلوب دلچسپ ہو ، قارئین پر اس کتاب کا تاثر دیر پا ہو اور مصنف قاری کو نئے حقائق سے آگاہ کرے۔سلمیٰ صنم اپنے افسانوں کے ذریعہ قاری کو متوجہ کرنے،اُن پر اثر انداز ہونے کے علاوہ اُسے خود سر فطرتوں کی خفیہ وارداتوں سے،زوال پذیر معاشرتوں کی دو رُخی قدروں سے اور عورت کے ازلی ابدی دکھوں کی جدید جہات سے آگاہ بھی کرتی نظر آتی ہیں۔
طو رپر گیا ہو اشخص‘ سے ’ پانچویں سمت ‘ تک تین افسانوی مجموعوں میں سلمیٰ صنم کی کہانیاں گہرے سماجی شعور کی عکاس بھی ہیں اور قدروں کی پامالی کا آئینہ بھی۔ان میں جہیز،لاولدی اور طلاق جیسی بیماریوں کا کرب ہے اور کرپشن،رشوت خوری ،حرام کی کمائی جیسے جراثیم سے نفرت کا اظہار بھی۔مثال کے طور پر ’’میری‘‘ میں سیروگیسی اور خالی گود کا درد ملتاہے تو ’’مٹھی میں بند چڑیا‘‘ میں ایڈز جیسی بیماری کے علاوہ مرد کی بے اعتنائی ،ہوس پرستی اور عورت کی بے بسی کا اظہار ہوتاہے۔’’آرگن بازار ‘‘ جہیز جیسے مسئلے پر شعلہ انگیز فکر کا پرتو ہے تو ’’پانچویں سمت‘‘ خالی گود ،اولاد کی خواہش اور رشتوں کی خود غرضی کا المیہ ہے۔’’تھکی ہوئی ناری‘‘ ورکنگ وومن کے مسائل اور عورت کے وقار کا علامیہ ہے تو ’’یخ لمحوں کا فیصلہ‘‘ اولاد نرینہ کی خواہش اور اس سے پیدا ہونے والے حالات کا بہترین اظہاریہ۔گویا سلمیٰ کے افسانوں میں ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی سے متعلق مسائل ،فرد کی محرومیاں،محبت کا استحصال اور انسانی رویوں کے تضادات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا گیاہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں عورت کو مرکزیت حاصل ہے۔اور افسانہ نگار کی بنیادی کوشش عورتوں کے کرب اور ان کے حالات سے بدلتے ہوئے سماجی و تہذیبی مسائل کی عکاسی ہے۔ان کے افسانوں میں عورت کے مختلف روپ ابھر کر سامنے آئے ہیں،مگر ہر روپ بلند ہمتی اور بلند حوصلگی کے ساتھ درد کی ڈور میں بندھی ہوئی عورتوں اور آنسوؤں کے حجاب میں لپٹی ہوئی خواتین کے داخلی اور خارجی منظرنامے کو اجاگر کرتاہے۔’’یخ لمحوں کا فیصلہ‘‘ کی ثانیہ ہو یا ’’پانچویں سمت ‘‘ کی رجنی،’’میری ‘‘ کی میری ہو یا ’’بند مٹھی کی چڑیا ‘‘ کی شعاع یا ’’آرگن بازار‘‘ کی ثمین ،یہ سب عورتیں نسوانی ذہن کو ناقص اور ان کی حیثیت کو مرد کی کنیز کے طور پر متعین کرنے کی روایت کے خلاف احتجاج کر تی ہیں۔یہ کبھی شکست تسلیم کرنا پسند نہیں کرتیں خواہ راستہ کانٹوں بھرا کیوں نہ ہو۔اپنے منصب ،تشخص او ر مقصد کی حفاظت میں وہ کبھی حالات سے سمجھوتہ کرتی ہیں،کبھی زندگی سے مکالمہ بھی کرتی ہیں اور کبھی خوف کا شکار بھی ہوتی ہیں مگر اپنی بقا ،تشخص اور آزادی کے لئے احتجاج ضرور کرتی ہیں۔مثلاً ان کے ایک افسانہ ’’پانچویں سمت‘‘ کو ہی نگاہ میں رکھئے۔یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا شوہر اولاد پیدا کرنے کا اہل نہیں ہے۔عورت اپنے اندر ٹوٹتی رہتی ہے،طرح طرح کے خیالات ذہن میں آتے رہتے ہیں۔اسے لگتاہے وہ چاروں سمت کی بھٹکی ہوئی ہے اور پانچویں سمت سے اُسے کوئی بلا رہاہے،جہاں سے اس کی امیدیں پوری ہو جائیں گی۔ابھئے سے شادی ہونے کے بعد وہ ابھئے میں پانچویں سمت کی تلاش کرتی ہے ،مگریہاں اُسے ناکامی ہاتھ آتی ہے۔پانچویں سمت کی تلاش میں وہ اندر اندر گھلتی رہتی ہے۔ایک پودا،ننھا پودا ،پاؤں پسارنے کی تیاری سے محروم ہوتا رہتا ہے۔ساس کو بھی وارث چاہئے تھا۔وہ اسے ایک مہاراج کے پاس لے جاتی ہے۔دھرم کا ماحول ،پرارتھنا ،ہری اوم ہری اوم کی گوجتی آوازوں کے درمیان مہاراج نے اسے بند کمرے میں پانچویں سمت لے جانا شروع کر دیا۔شروع شروع میں تو وہ مدہوش ہو کر آگے بڑھتی گئی ،اُسے لگا وہ ڈوب رہی ہے۔کوئی اسے ڈبو رہا ہے۔لیکن جب اسے یہ سب دھوکا لگا تو اس کا احتجاج بہت خوفناک تھا
’’ اس نے ایک زناٹے دار تھپڑ مہاراج کے منہ پر دے مارا۔
’’یہ پاپ ہے‘‘ وہ زخمی شیر کی طرح دہاڑ اٹھی۔
’’نہیں دیوی‘‘ مہاراج پر جیسے کوئی اثر ہی نہ ہوا ہو۔وہی محسوساتی مسکراہٹ،وہی مقناطیسی
کشش لیے بولے’’ یہ پراچین کال سے چلی آ رہی پرتھا ہے جسے نیوگ کہتے ہیں۔دھرم 
گرنتھوں میں اس کے کئی اداہرن ہیں‘‘
’’
اپنی ہوس کو پرتھا کا نام دیتے ہوئے شرم آنی چاہئے تمہیں‘‘ وہ اور غضبناک ہو گئی۔(پانچویں سمت(
سلمیٰ عورتوں کے ساتھ عدم مساوات اور جانبدارانہ رویہ سے دلبرداشتہ ہیں ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تانیثی رجحان سے متاثرہیں اور مرد اساس معاشرہ سے بغاوت کرتے ہوئے بے باکی اور حوصلہ مندی کو اپنا شعار بنا چکی ہیں۔عورت کے حقوق منواتے ہوئے ان کے لہجے میں سہمناکی کے بجائے بلا خوفی ہے۔اسی لئے انہیں اُن مراعات سے کد ہے جن سے رحم اور ترس کی بو آتی ہے۔وہ معاشرہ جس کی کم و بیش نصف آبادی عوت پر مشتمل ہے محض اس لیے اسے آزادی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ عورت ہے۔اس کے لئے اختیارات و قوانین کا معیار جدا کیوں؟یہ سوال بار بار سلمیٰ صنم نے اپنی کہانیوں میں اٹھائے ہیں۔’’یخ لمحوں کا فیصلہ‘‘ کی ثانیہ اپنے فیصلے کا حق کھونا نہیں چاہتی۔اسی لئے شوہر منصور کی خواہش کہ ’’ لڑکی ہے اس لئے حمل ضایع کروادو‘‘ اور دھمکی کہ ’’ ایسا نہ کرنے پر وہ دوسری شادی کرلے گا‘‘ کے باوجود ثانیہ بیٹی کو جنم دینے کے اپنے حتمی فیصلے پر اٹل رہتی ہے۔
’’ یہ نہیں ہو سکتا۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔اس کے اندر ایک چنوتی سے ابھر آئی۔
میری بچی ،اس نے اپنی کوکھ کو سہلاتے ہوئے عز م سے پھر پور لہجے میں کہا’’ تم گھبراؤ مت ۔
شاید تمہارے ابو کو تمہاری وجہ سے جنت بدر کئے جانے کا خوف ہو ،لیکن میں تم سے خوف زدہ
نہیں ہوں۔تم تو میری جان ہو۔میں تمام مخالفت کے باوجود تمہں جنم دوں گی او ر اس زمین
پر پروان چڑھنے کا حق بھی۔اس کو لگا،بچی نے خوشی سے ایک کلکاری ماری ہو۔ثانیہ کے 
چہرے پر ممتا کا نور پھیل گیا۔‘‘( یخ لمحوں کا فیصلہ(
مرد اساس معاشرہ اور مرد حاوی سوچ کے خلاف سلمیٰ صنم کا یہ مزاحمتی رویہ ان کی بہت ساری کہانیوں میں،کہیں کھل کر اور کہیں زیریں لہروں کی طرح موجود ہے۔ان کی کہانیوں میں ایسے خواتین کردار کئی ہیں جنہوں نے حالات کا مقابلہ کر نا سیکھ لیاہے اور جو مظالم کو خاموش رہ کر اب اور نہیں سہ سکتیں۔محض عورت کے دکھ درد اور جذباتی پسپائیوں کو موضوع بنا کر افسانے لکھے جائیں تو ان کا حصار تنگ اور حلقۂ اثر محدود ہو جاتاہے۔سلمیٰ صنم نے اپنے موضوعات کو وسعت ہی نہیں دی بلکہ اپنے اسلوب ،لفظیات میں تداول اور روایت سے گریز کر کے اندر کی اپج اور ضمیر کی آواز پر اپنے تجربات کی بنیاد رکھی ہے۔بڑے انکسارانہ انداز میں وہ خود کہتی ہیں۔
’’ مجھے یہ گمان نہیں کہ میرے افسانے انقلاب لانے کا باعث بنیں گے،یا میرے افسانوں 
سے کسی نظریے اور ازم کا اشتہار ہوگا۔یا میرے افسانوں سے عورت ذات کا کوئی بڑا نفع 
ہونے والا ہے۔یہ افسانے تو میرے محسوسات ہیں،میرے دل کی آواز ہیں۔سماج کے 
رویوں پر میرا ردعمل ہیں‘‘( پانچویں سمت۔ص ۲۲(
عورت جب عورت کے معاملات دل کو اظہار دیتی ہے تو ماہر نفسیات سی ہو جاتی ہے۔اسی لئے وہ اچھی کہانی کار بھی ہوا کرتی ہے اور اچھی کہانیوں کا موضوع بھی کہ اپنی ہی ذات کے کئے حوالے کھوج ڈالتی ہے۔سلمیٰ صنم نے اپنی کہانیوں میں اپنے یعنی عورت کے بہت پرانے ،بہت گہرے ازلی اور ابدی دکھوں کی جدید جہات کا میزانیہ پیش کیاہے۔یہ کہانیاں علامیہ بن جاتی ہیں کہ عورت زر،زمین کی سرشت سے بغاوت کرتے ہوئے جان داروں کے قبیلوں میں ہونے کی جرأ ت کرتی ہے۔شاید اسی لئے سلمیٰ کے افسانوی مجموعے طور پر گیا ہو ا شخص،پت جھڑ کے لوگ اور پانچویں سمت محض علامیہ ہی نہیں اس کی مفصل شرح بھی نظر آتے ہیں۔
عورتوں کے موضوعات پر دل سے لکھی ہوئی کہانیوں کا اسلوب اک عمر کا تجربہ مانگتاہے۔کیوں کہ اوراق دل پر لکھی حکایتوں کو بیان کرنے کا منصب وہی نبھا سکتاہے جو اظہار کا سلیقہ اور اطلاع کا حوصلہ رکھتاہو۔سلمیٰ صنم اپنی کہانیوں کے حوالے سے ایسی جری قصہ گو کے طورپر سامنے آتی ہیں جو حقائق کی مخبری میں معاشرت او راخلاق کے غصے سے نہیں ڈرتیں اورجو اظہار کے قرینے میں دلچسپی کا تار پرونے کا ہنر خوب جانتی ہیں۔اور یہی وہ ہنر ہے جس کی بدولت کہانی قاری کو اپنا بناتے ہوئے کامیاب ہو جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ کہانی کہنا شاید مشکل نہیں ،موضوع کے فطری اسلوب کو پکڑ لینا اصل مشکل ہے۔سلمیٰ صنم کے ہر موضوع کا موزوں ترین اسلوب اُن کی گرفت میں ہوتاہے۔اس لیے قاری کہانی کی پرتوں اور جہتوں کا سراغ لگانے کے لئے پلٹ پلٹ کر تحریر کے حسن کو کھوجتاہے اور مڑ مڑ کے بازخوانی پر مجبور ہوتاہے۔شاید اسی لیے عبداللہ سلمان ریاض نے لکھا ہے کہ 
’’سلمیٰ صنم عام افسانہ نگاروں سے ہٹ کر اپنی الگ راہ بنانے میں کامیاب ہیں۔۔۔۔۔۔
ان کے افسانوں کی سب سے بڑ ی خوبی یہ ہے کہ ان کے جذباتی اسلوب میں بھی ان کے 
افسانوں کے تانے بانے ان کی گرفت میں رہتے ہیں۔ان کاقاری موضوعات کے ساتھ
ساتھ چلتا رہتاہے۔‘‘(پانچویں سمت۔ص۔۲۰(
اتنی ساری خوبیوں کے ساتھ سلمیٰ صنم کی افسانہ نگار ی میں ایک خرابی بھی ہے کہ وہ نہ تو کسی ازم کی نمائندگی کرتی ہیں اور نہ کسی تحریک سے وابستگی کا اظہار کرتی ہیں۔وہ نہ کسی رجحان کی قصیدہ گوئی میں مصروف ہیں اور نہ کسی امام نقد کی پیروی میں۔وہ صرف اور صرف افسانہ نگار ہیں اور بس۔سلمیٰ صنم نے کائنات،سماج اور اپنی ذات کو کہانی کار کی آنکھ میں سمیٹا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں پر تنقید کرتے ہوئے بڑا مشکل امر ہے کہ انہیں کس خانے میں رکھا جائے اور انہیں کس دبستان فکر و سیاست سے وابستہ کیا جائے۔اگر وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی کہانیاں جمہور یا عوام سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔بلکہ انہوں نے انسانی آبادی کے دکھوں ،غموں اور پریشانیوں کو بڑی فنکاری سے افسانوی قالب میں ڈھالاہے۔وہ اگر مصور فطرت نہیں تو ان معنوں میں کہ انہوں نے محض منظر نگاری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فطرت اور انسانی زندگی کے تعلق کو ان کی کہانیوں میں بہ آسانی تلاش کیا جاسکتاہے۔انہیں انقلابی افسانہ نگار اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے ماحول کے جبر کا نعرہ بازی اور پروپیگنڈے کے انداز میں تذکرہ نہیں کیا۔سماجی ناانصافیوں اور ماحول کے نامساعد ہونے کا فنکارانہ اظہار سلمیٰ کہ کہانیوں کا جزو خاص ہے۔سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اردو کا کاروبار نہیں کرتیں۔وہ سائنس کی طالبہ اور سائنس کی استاد ہیں۔افسانہ نگاری ان کاشوق اور جنون ہے۔لہذا وہ آرڈر پر کہانیاں لکھنے کا سطحی کا م نہیں کرتیں اورنہ ہی انہوں نے قلم کی تقدیس کو نیلام گھر کی زینت بنایاہے۔ان کے ذہن ودل کو جس واقعے یا مشاہدے نے متاثر کیا انہوں نے بغیر لگی لپٹی صفحۂ قرطاس پر سجا دیا۔یہی عمل ایک سچے فنکار کی شناخت کرواتاہے۔
آخر میں ایک بات کہ کسی افسانہ نگار کو پڑھنا،پسند کرنا ،اس سے زندگی کے رویّے سیکھنا اور چیز ہے اور کسی افسانہ نگار میں اس قوت کا ہونا کہ وہ پڑھنے والے کو اپنے لینڈ اسکیپ میں شامل کرلے اور اپنے خواب میں شریک کرلے ایک اور نوعیت کی بات ہے۔سلمیٰ صنم کی کہانیاں خود کو پڑھوا تو لیتی ہیں مگر یہ کہانیاں قاری کو اپنے لینڈاسکیپ اور خوابوں میں شامل نہیں کروا پاتی ہیں۔اس کی وجہ معروف ناقد ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے افسانہ نگار کی جلد بازی اور زبان پر کم توجہی قرار دیا ہے۔ میں اسے ٹریٹمنٹ اور کرافٹ مین شپ میں ایک آنچ کی کمی سمجھتاہوں۔مجھے توقع ہے کہ سلمیٰ صنم بہت جلد اس پر قابو پالیں گی ۔فی الحال اس ہلکی سی کمی کے باجود سلمیٰ صنم کی کہانیاں ہم سے (یعنی قاری سے) مکالمے کے لیے تیار ہیں،ہمیں پوری گرم جوشی کے ساتھ ان کا استقبال کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(غیر مطبوعہ(
Shahab Zafar Azmi
Street No.11.Sector D
New Azimabad Colony (west)
Near KIDZEE SCHOOL
P.O. Mahendru, PATNA 800006
Mob; 8863968168
shahabzafar.zmi@gmail.com

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.