بلراج بخشی اور ان کے افسانے




شہاب ظفر اعظمی
22 Jun, 2017 | Total Views: 8185

   

بلراج بخشی معاصر اردو افسانے کا ایک شناسا نام ہے۔بلراج اگرچہ بہت زیادہ نہیں لکھتے ہیں مگر جب بھی لکھتے ہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ موضوع اور کہانی میں ڈوب کر لکھتے ہیں۔وہ خاموش مزاج ،اور سادہ طبیعت کے حامل ہیں ۔زندگی اور معاشرے میں مثبت اقدار کی تلاش کرتے ہیں اور اس کے فروغ کو ادب کا بنیادی مقصد سمجھتے ہیں۔اس لئے نہ صرف یہ کہ قدروں کے زوال ،فکری تضادات اور سماجی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے نتائج بھی اخذ کر تے ہیں ۔وہ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو بڑی فنی مہارت سے تخلیق کا درجہ دیتے ہیں اور کبھی کبھی تو معمولی واقعے یا خبر کو بھی کہانی بنا دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن کی کہانیوں میں ہمارے آس پاس کی سیاست اور زندگی اپنے تمام تر حُسن و قُبح اور تضادات کے ساتھ نظر آتی ہے۔
سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ’’ کوئی واقعہ جو افسانہ نگار کو متاثر کرے ،اسے اسی اثر آفرینی کے ساتھ قاری تک ترسیل کردیا جائے ، یہی افسانہ ہے‘‘۔بلراج بخشی کے افسانے اسی نقطۂ نظر اور جذبے کے حامل نظر آتے ہیں۔ان کے افسانوں کا مطالعہ یہ باور کرادیتاہے کہ انہوں نے ا محض شوق یا نام و نمود کی خاطر نہیں لکھا بلکہ وہ زندگی اور معاشرے کے مسائل و مصائب سے دوچار رہے ہیں اور انہوں نے زندگی اور سماج کے مطالعے میں جب زبردست دباؤ محسوس کیاہے تو اس کے اظہار کے لئے افسانہ کو ایک ذریعہ کے طورپر استعمال کیاہے۔اس لئے ان کے افسانے سیدھے سادے ،اور کبھی کبھی تہداری کے باوجود سلیس و سادہ ہیں۔تمثیل و علامت ہے بھی تو مبہم اور پیچیدہ نہیں۔وہ سب ایک ہی نشست میں پڑھوا لینے کی قوت رکھتے ہیں۔افسانوں میں پلاٹ،کردار،مکالمے ہیں،انجام ہے،پیغام ہے۔یعنی افسانے کابنیادی ڈھانچہ پوری طرح موجود ہے۔مثال کے طور پر رسائل میں شایع ہونے والے افسانوں سے قطع نظر صرف مجموعہ ’’ایک بوند زندگی‘‘ کی کہانیوں کو سامنے رکھئے تو آپ کو حیرت ہوگی کہ بلراج بخشی نے صرف بارہ کہانیوں میں زندگی کے متنوع پہلوؤں کو پیش کرکے کینوس کی وسعت کا بے پناہ خوبصورت مظاہرہ کیاہے۔اس میں اگر ایک طرف فرد کی بے چارگی،معاشرے کا جبر اور قدروں کا زوال موضوع بنا ہے تو دوسری طرف اقتداری نظام کی بے بضاعتی،سماجی جکڑ بندی اورسیاست کی کراہت آمیز صورت حال بھی بڑی سچائی سے سامنے آتی ہے۔وہ ان مسائل کی تصویر کشی میں مہارت رکھتے ہیں ،انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کس موضوع کو کس تکنیک سے بہتر طور پر پیش کیا جاسکتاہے۔اس لیے وہ کہیں علامتی،کہیں استعاراتی اور کہیں واضح بیانیہ سے کام لے کر اپنی کہانیوں کو غیر معمولی تاثر عطا کرتے ہیں۔ان تمام تکنیکوں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی تحریروں میں طنز یعنی IRONY کا بڑا عنصر ہوتاہے۔ مگر وہ Irony تلخی اور ترشی میں تبدیل نہیں ہوتی۔ان کے جملوں کا طنز نشتر کی سی کاٹ رکھتاہے اور بہت دیر تک قاری کو فکر کے سمندر میں غوطہ زن رکھتاہے۔مشترکہ اعلامیہ،فیصلہ ،ڈیتھ سرٹیفیکٹ،زچ،ایک بوند زندگی،کیا نہیں ہو سکتا اور ہارا ہوا محاذ جیسے افسانوں میں طنزکی اس کاٹ کو بہ آ سانی محسوس کیا جاسکتاہے۔
افسانہ ’’کیا نہیں ہو سکتا‘‘ کو ہی لیجیے۔وزیر اعظم نے اعلان کردیا کہ کل صبح سے ملک میں مہنگائی ،کرپشن اور غریبی ختم ہو جائے گی۔ملک کے عوام تجسس میں مبتلا ہیں کہ کل اچانک کیسے یہ تین بیماریاں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔ہر طرف بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہے ۔مگر دوسرے دن ایک قانون بنا کر وزیر اعظم لغت سے ان تینوں الفاظ کونہ صرف غائب کروادیتے ہیں بلکہ ایسے الفاظ کے استعمال کو خلاف قانون قراردے دیتے ہیں۔کہانی کے آخری جملوں میں طنز کی کاٹ اس طرح محسو س کی جاتی ہے۔
’’جب یہ الفاظ کسی بھی ملکی زبان کی ڈکشنری میں ہی نہیں تو ان الفاظ کو بولنا۔۔یا لکھنا۔۔خلاف قانون
قراردے دیا گیاہے۔لہذا۔۔یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ۔۔قانون بنا گیاہے آج کے بعد کوئی آدمی یا 
عورت ۔۔۔چھوٹا یا بڑا۔۔۔عوامی طور پر ۔۔۔یا اپنے گھرمیں۔۔۔سنجیدگی سے ۔۔۔طعنے کے طور پر
یا مذاق میں بھی ۔۔۔غریبی ،مہنگائی اور کورپشن کے الفاظ منہ سے نہیں نکالے گا۔۔۔اور نہ ہی لکھے گا۔
ایسا کرنا قابل دست اندازی پولس ہوگا۔کوئی بھی آدمی اگر کسی کے خلاف تحریری شکایت کرے گا کہ 
اس نے اپنے منہ سے ان تینوں میں سے کسی لفظ کو نکالا ہے یا لکھا ہے تو ملزم کو خود ہی ثابت کرنا پڑے 
گا کہ اس نے ایسا نہیں کیا ہے۔۔۔۔ان تینوں الفاظ میں سے کسی کو بھی منہ سے نکالنا یا لکھنا ملک کے 
خلاف غداری ہو گی۔۔۔اور یہ جرم ۔۔۔ملک کوبدنام کرنے والا یہ گھناؤنا جرم ۔۔۔ایک سنگین جرم
سمجھا جائے گا۔‘‘
گویا وزیر اعظم نے جس طرح ریلوے کی تھرڈ کلاس کی جگہ سیکنڈ کلاس کے بورڈ لگواکر لوگوں کا معیار زندگی اچانک بلند کر دیا تھا اسی طرح ڈکشنری سے غریبی ،کرپشن اور مہنگائی کے الفاظ ہٹا کر ملک سے ان برائیوں کو جڑ سے مٹادیا۔ افسانے میں طنزیہ پیرایہ اپنا کر بڑی خوبصورتی سے بتایا گیا ہے کہ اس اندھیر نگر ی میں کچھ بھی ممکن ہے۔
’’مشترکہ اعلامیہ‘‘کا ٰIrony سے بھرپور متن بھی ہمیں ایسے ہی حیرت انگیز انجام سے چونکاتاہے۔یہاں کہانی ہندو پاک کی جیلوں میں بند عام انسانوں کو نگاہ میں رکھ کر بنی گئی ہے،جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ انسان خواہ کسی خطے کاہو اس کا درد یکساں ہے،اس کے مسائل یکساں ہیں،اور سیاست ہر جگہ انسان کا استحصال یکساں کرتی ہے۔ایک عالیشان ایرکنڈیشنڈ بلڈنگ میں ہندستان اور پاکستان کے اعلیٰ افسروں کی میٹنگ ہو رہی ہے۔ایک طرف راؤ رتن سنگھ اور دوسری طرف پیرزادہ نصرت یار خاں ۔دونوں انسانی حقوق ،انسانی اقدار اور عدل وانصاف پر اعلیٰ قسم کی گفتگو کرتے ہیں۔لیکن جب براہ راست قیدیوں کا جائزہ لیاجاتاہے تو قیدیوں کی کربناک حالت دیکھ کر انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے۔سب کے چہرے فق ہوجاتے ہیں اور کسی کو یقین نہیں آتا کہ کسی انسان کی یہ ہیئت بھی بن سکتی ہے۔صرف ہڈیوں کے ڈھانچے بھی شاید ان سے بہتر دکھائی دیتے ہوں گے۔یہ حال دونوں طرف کے قیدیوں کا تھا مگر دونوں ملکوں کے نمائندے ،یہ افسران راؤ اور خان ،بالکل شرمندہ نہیں ہوتے۔ان کے ممبران کو پہلے غصہ آتاہے مگر ایک مخصوص نظام کے زیر اثر غصہ اتنی ہی جلدی غائب بھی ہو جاتاہے ۔اور پھر دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں مشترکہ فیصلہ لیا جاتا ہے کہ ان معلومات اور حقائق کو صیغۂ راز میں رکھا جائے۔افسانے کا آخری حصہ دیکھیے جو طنز کی تیز دھار اپنے اندر سموئے ہوئے ہے
’’پیرزادہ نصر ت یا رخان نے خندہ پیشانی سے کہا۔’اس کے علاوہ آپ کے تعاون ،معاملہ فہمی اور
ملک کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینے کے آپ کے میلان کو ملحوظ رکھتے ہوئے ۔۔حضرات۔۔آپ
کی اپنی اپنی حکومت ۔۔۔شکرانے کے طور پر آپ کو حقیر سا تحفہ بھی دیتی ہے۔۔۔جو ۔۔ہوٹیل 
میں آپ کے کمروں میں رکھے ۔۔۔ایک بریف کیس میںآپ کا انتظار کر رہاہے۔۔سب کے 
چہرے کھلے ہوئے تھے۔‘‘
سارا کا سارا کاروبار ہے۔یہاں نہ حقوق انسانی سے کسی کو مطلب ہے اور نہ قیدیوں کی حالت زار میں سدھار کی فکر ۔یہاں ہندوستانی عدم تشدد بھی معدوم ہے اور اسلامی دردمندی و صلہ رحمی بھی۔یہ دونوں چیزیں یا یوں کہئے پوری انسانیت ایک ’بریف کیس‘ میں بند ہوچکی ہے۔
ایک اور کہانی ہے ’فیصلہ‘۔جو ایک مرغ کو دوڑا دوڑا کر پکڑنے اور پھر اسے چھوڑ دینے کی کہانی ہے۔یہاں مرغ اس عام آدمی کی علامت ہے جو سیاست،معاشرتی جبر اور کشمیر کے حالات میں قیدی کی طرح جینے پر مجبور ہے اور انتظار کررہاہے اس منصف کا جو اسے یہاں ان سب آزاد کرکے سکون سے جینے کا حق عطا کردے۔جج مظفر علی رانا امید کی کرن کے طور پر کہانی میں موجود ہیں جو یقین دلاتے ہیں کہ جب تک عدلیہ ہے انسان بہت حدتک محفوظ ہے۔مرغ کو موت سے بچانے کی جدوجہد موجودہ حالات میں بڑی معنویت رکھتی ہے۔مرغ کی چھٹپٹاہٹ در اصل عام آدمی کی چھٹپٹا ہٹ ہے جس کی چیخ سے آواز چھین لی گئی ہے،اور اسے زبردستی قید کرکے یقینی موت (خاتمے) کی طرف دھکیلنے میں اقتداری نظام مستعد ہے۔ایسے میں جج یعنی سرگرم عدلیہ کا یہ فیصلہ انسان کے لیے اندھیرے میں ایک روشن مینارہ ہی دکھائی دیتاہے ۔
’’ اور پھرجب سلیمان اس کے گلے پر چھری پھیرنے ہی والا تھا کہ رانا بے اختیار چیخ پڑا
ٹھہرو‘ سلیمان نے ہاتھ روک کر حیرت سے اس کی طرف دیکھا
اسے چھوڑ دو‘۔۔۔سب حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔۔’’اسے چھوڑدو،۔۔جج رانانے
پر سکون لہجے میں کہا ’یہ عدالت ہے ذبح خانہ نہیں
ظاہر ہے مرغ کے لئے رانا فرشت�ۂ رحمت ثابت ہوتا ہے۔یعنی انسان کی آخری امید اب عدلیہ ہی ہے۔اسی لیے تو مرغ جاتے ہوئے بار بار صرف رانا کو ہی دیکھ رہا ہوتا ہے۔
کیا یہ میری طرف دیکھ رہاہے۔رانا نے سوچا۔۔۔۔۔اوہ یہ تو واقعی میری طرف دیکھ 
رہاہے۔رانا نے حیرت سے سوچا۔
اور پھر کہانی کا انجام بہت معنی خیز طور پر ہوتا ہے جہاں ایک کیس ختم ہوتا ہے اور دوسرا شروع۔
’’وہ واپس مڑکر عدالت کے منبر پر آیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا ۔تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا
رہا اور پھر جب جب سبھی لوگ کمرۂ عدالت سے باہر چلے گئے تو کورٹ کلرک سے بولا
نیکسٹ کیس‘!‘‘
یہ کہانی بھی اپنے درون میں کشمیری صورت حال اور سیاسی تگ ودو پر طنز ہی ہے جہاں عام انسان اپنے ہی گھر میں قیدی کی طرح جینے پر مجبور ہے ۔اس کی نجات کا کوئی سامان نہیں۔وہ ہر طرف سے دوڑ دوڑ کر تھک چکاہے،سیاست،قانون اور اقتداری نظام کی بے بضاعتی سے بھی واقف ہو چکاہے۔اس لیے اب آخری امید کے طورپر حسرت سے عدلیہ کی طر ف دیکھ رہاہے۔شاید آئین کا یہ چوتھا ستون اسے اپنے گھر میں آزادی کے ساتھ جینے کا پروانہ عطا کردے۔
اقتداری نظام کی بے بضاعتی اور شناخت سے محروم آج کے انسان کی بے بسی پر ایک طنزیہ کہانی ’ڈیتھ سیرٹیفیکٹ ‘ بھی بڑی فن کاری سے بنی گئی ہے ۔یہ ایسی کہانی ہے جہاں انسان ایک کردار کے روپ میں شناخت سے بھی محروم ہے ۔وہ اس معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی محض ایک اکائی بن کر رہ گیاہے۔ایک ٹریولنگ سیلز مین یعنی عام آدمی اپنا شناختی کارڈ بنوانے کے لیے کمشنر کور درخواست دیتاہے لیکن دفتری ضابطوں میں وہ اس طرح الجھا دیا جاتاہے کہ اس کے لیے شناختی کارڈ حاصل کرنا ناممکن ہو جاتاہے۔وہ اپنی شناخت کا ثبوت مانگنے گیا تھا اور دفتری قانون اس سے ہی ’ہونے ‘ کا ثبوت مانگ بیٹھتاہے۔جسمانی وجود ہوتے ہوئے بھی سیلز مین کے ’ہونے‘ کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتااور اس لئے اس کا آئیڈنٹٹی کارڈ نہیں بن سکتا۔قانون شکنی ،قانون کے نام پر عام انسان کی دفتروں میں ذلت،اور فائلوں پر ٹکے انتظامیہ کی کریہ صورتیں افسانے میں جا بجا دکھائی دیتی ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اس ملک میں جینے ،کمانے اور اپنے ہونے کا ثبوت دینے کے لیے آئیڈنٹٹی کارڈ ضروری ہے۔اپنے ہی ملک میں ایک کارڈ کی عدم موجودگی کی وجہ سے شناخت سے محروم ہوجانے کا المیہ کتنا بڑا المیہ ہے اس کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔اور پھر تھک ہار کر جب وہ سیلزمین شناختی کارڈ نہ ملنے پر زندہ رہتے ہوئے اپنا ڈیتھ سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی استدعا کرتاہے تو اس نظام کا المیہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتاہے۔کہانی کے آخری جملے دیکھیے جس میں اس سسٹم پر طنزکی کاٹ تیز دھار کی طرح قاری کے سینے کو چھید جاتی ہے
’’میرے دو بچے بھی ہیں جناب۔۔۔کل انہیں بھی اسی قسم کی پریشانی کا سامنا کر نا پڑ سکتاہے۔
اس نے لجاجت سے کہا۔۔’میں نہیں چاہتاکہ انہیں بھی کبھی اس اذیت سے گزرنا پڑے۔چونکہ
مطلوبہ ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہنے پر یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ میں ۔۔ہوں۔۔۔اگر ڈیتھ
سرٹیفیکٹ مل جائے تو ۔۔۔بعد از مرگ تو میری آئیڈنٹٹی بہ آسانی ثابت ہو جائے گی۔۔کہ ۔۔
میں بھی۔۔۔تھا۔۔۔۔اور ڈیتھ سرٹیفیکٹ ۔۔ایک سرکاری دستاویز ۔۔۔۔ہو سکتاہے ان کے
کسی کام آجائے‘‘
یہ کہانی نہ صر ف مصنف کی فنکاری کا ثبوت دیتی ہے کہ کس طرح فن کار اشاروں کنایوں میں بھی حقیقت نگاری کا عمدہ مظاہرہ کر سکتاہے اور ساتھ ہی ہمارے سسٹم پر بھی کاری طنز ہے جہاں عام انسان اصول وضوابط کے نام پر اپنی پوری زندگی فائلوں کے گورکھ دھندے میں کھو دیتاہے اور اس سسٹم کے ذریعہ اس قدر ذلیل کیا جاتاہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے مرنے کی تصدیق چاہنے لگتاہے۔
بلراج بخشی نے سیاسی ،سماجی اور حقوق انسانی پر مبنی افسانوں کے علاوہ بھی کچھ ایسی کہانیاں لکھی ہیں جو ان کی فنکاری کی نئی جہتوں سے روشناس کراتی ہیں۔مثلاً مکلاوہ جس کی بنیاد اودھم پور کی ایک لوک کتھا پر رکھی گئی ہے۔یا ایک بوند زندگی ،جو زندگی کی خواہش اور فرار سے بھری کیفیت کی نفسیاتی عکاسی کرتی ہے۔یا ’مکتی‘ جہاں عورت کا کرب اپنی انتہا پرنظر آتاہے۔اور ایک اہم کہانی ’زچ‘ جس میں انسانی نفسیات کابڑا بھرپور مطالعہ سامنے آتاہے۔کمال یہ ہے کہ یہاں بھی افسانہ نگار بباطن انسان کی جبلت پر طنز ہی کرتا دکھائی دیتاہے کہ انسان خواہ کتنی کوشش کرلے وہ قدر ت اور مقدر سے نہیں لڑ سکتا۔وہ قدروں کی پامالی کے لیے جواز ڈھونڈ سکتاہے،اپنی خواہشات کی تکمیل کے راستے گڑھ سکتاہے،مگر ہوتا وہی ہے جو قدرت نے اس کی قسمت میں لکھ رکھاہے۔مرد اور عورت دونوں بچے کے خواہش مند ہیں ۔عورت تو صبر کر سکتی ہے مگر مرد خواہش کی تکمیل کے راستے ڈھونڈ ہی لیتاہے ۔وہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے مطمئن نہیں اس لیے چاہتاہے کہ اس کی بیوی خودسے ملتے جلتے کسی شخص سے رشتہ قائم کرے ۔بیوی راضی نہیں مگر مرد پانڈووں کا حوالہ دے کر اسے اساطیر کے دھاگے سے باندھنے کی کوشش کرتاہے ۔اس پر بھی بیوی تیار نہیں ہوتی تو اسے نیوگ کا قدیم سسٹم یاد دلاتاہے جس کے تحت حصول اولاد کے لیے عورت کو کسی دوسرے مرد کے پاس بھیجا جا سکتا تھا۔بالآخر بیوی راضی ہو جاتی ہے اور ایک مرد بھی مل جاتاہے جو اس کے شوہر سے ملتا جلتاہے۔ساگر کے ساتھ خوشبو اپنے پورے جذبات کے ساتھ ہم بستر ہوتی ہے ،مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ساگر کی تلاش ،اس کے ساتھ ہم بستری اور زن وشو دونوں کے جذبات کی قربانی اس وقت رائیگا ں ہو جاتی ہے جب کہانی کے بالکل آخر میں خوشبو کوپتہ چلتاہے کہ بظاہر نارمل دکھنے والے ساگر کے اندر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔بالکل اس کے شوہر کی طرح جوسیکس میں تو نارمل ہے مگر sperm پیدا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔افسانہ قاری کو اختتام میں چونکاتا ہی نہیں اسے کئی قسم کے احساسات اور سوالات سے بھی دوچار کرتاہے۔انجام پر ایک نظر آپ بھی ڈالیے
’’خوشبو نے حسب معمول وٹامن کی گولی منہ میں ڈال کر پانی کے دو گھونٹ پیے اور گلاس 
میز پر رکھا۔ 
یہ تم ہر بار کون سی ٹیبلیٹ لیتی ہ و‘۔۔۔ساگر نے دلچسپی سے پوچھا
کیوں ۔۔۔۔میں نے بتایا نہیں تھا کہ ابھی میں Pregnant نہیں ہونا چاہتی۔۔
خوشبو نے اسے بتایا کہ یہ مانع حمل گولی ہے۔
پھر تو تم بے کار ہی ڈر رہی ہو‘۔۔۔ساگر نے کپڑے پہنتے ہوئے ہنس کر کہا’مجھ سے 
پوچھ لیا ہوتا
کیا مطلب۔۔۔؟
ساحل نے گلاس ہونٹوں سے الگ کیا اور غورسے سننے لگا۔
یہ۔۔میرے ساتھ ۔۔۔ایک عجیب ٹریجڈی ہے نیلم‘۔۔۔ساگر اچانک اداس ہو گیا
اور غمناک لہجے میں کہنے لگا ’ میری سیکس لائف بالکل نارمل ہے۔۔مگر۔۔مجھ میں 
اسپرم پیدا کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔۔۔یہ ایک بہت Rare میڈیکل کنڈیشن
ہے ۔۔۔جسے ۔۔۔چھوڑو ۔۔تم نہیں سمجھوگی ۔۔بس یوں سمجھ لو ۔۔۔کہ ۔۔۔میں 
بچہ پیدا نہیں کر سکتا۔
کیا۔۔۔؟ خوشبو سکتے میں آ گئی۔وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔خوشبو کا 
چہرہ سفید پڑ گیاتھا۔‘‘
افسانے کا یہ المناک انجام انسان اور اس کی مصنوعی کوششوں پر طنز ہے کہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتاہے ۔انسان لاکھ کوششیں کرلے وہ قدر ت کی مرضی کے خلاف جا ہی نہیں سکتا۔انسان اپنے ہوس اور خواہشات کی تکمیل کے لیے خواہ مخواہ اخلاقی پیمانوں اور قدروں کو قربان کرتا رہتا ہے۔
انسانی ،سماجی اور معاشرتی نفسیات کا مطالعہ بلراج بخشی کے پاس زبر دست ہے اس لیے جب وہ اس نفسیات میں تھوڑی سی بھی کجی دیکھتے ہیں تو ان کے لبوں پر ایک طنز آمیز مسکراہٹ جاگ اٹھتی ہے اور پھر ان کا قلم اس طنز کو کہانی کے پیرائے میں پیش کرکے قاری تک بڑی خوبصورتی سے پہنچا دیتاہے۔مذکورہ افسانوں کے علاوہ بھی ان کے زیادہ تر افسانے قاری کو اپنے انجام پر نہ صرف چونکاتے ہیں بلکہ ایک طنزیہ اختتام سے اسے سحر میں لے لیتے ہیں۔ ہاراہوامحاذ ،مکلاوہ،گرفتہ،چور اور مکتی جیسے افسانے میری اس بات کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔
مذکورہ افسانوں پر مختصر گفتگو سے یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ بلراج بخشی گہرے سماجی مطالعے کے بعد اُن حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ہمارے معاشرے کو متاثر کر رہے ہیں۔یہ حقائق چھوٹے چھوٹے معمولی اور نظر انداز کرنے کے قابل واقعات یا خبروں کی نفسیات سے پیدا ہوتے ہیں۔کسی معمولی واقعے یا خبر کو کہانی بنانے کا فن ایک کہنہ مشق فنکار ہی کر سکتاہے۔بلراج بخشی نفسیاتی اور طنزیہ کہانیاں لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں اور کسی معمولی واقعے یا خبرکی نفسیات کو اِس طرح کہانی کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں کہ وہ دو آتشہ بن کر امر ہو جاتی ہے اور فنی شہ پارہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے کہ افسانے میں موضوع اہم مسئلہ ہے مگر اس سے بڑا اور اہم مسئلہ موضوع کے ساتھ افسانہ نگار کے برتاؤ اور ٹریٹمنٹ کا ہے ۔برتاؤ سے میری مراد کہانی کہنے کا فن ہے۔بلراج بخشی بہرحال کہانی کہنے کے فن سے واقف ہیں۔وہ موضوع کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ان کے افسانوں کا پلاٹ بہت مربوط ہوتا ہے۔وہ بے جا طوالت سے بھی گریز کرتے ہیں اور عبارت میں الجھاؤ پیدا نہیں ہونے دیتے۔زبان وبیان پر قدرت کا احسا س ہوتاہے ۔اس لئے ان کے افسانے اپنی شگفتگی،سلاست،روانی اور برجستگی کی وجہ سے ایک نشست میں پڑھوا لینے کی قوت رکھتے ہیں۔اور یہی ایک افسانہ نگار کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
shahabzafar.azmi@gmail.com
8863968168
Address
Department of Urdu
Patna University
Patna 800005

 مضامین دیگر 


Comment Form



اردو فکشن

© 2017 Urdu Fiction. All right reserved.

Developed By: Aytis Cloud Solutions Pvt. Ltd.