22 Jun, 2017 | Total Views: 318

بلونت سنگھ کے افسانے۔انفرادو اختصاص

شہاب ظفر اعظمی

بلونت سنگھ ہمارے عہد کے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے فن پر ان کی زندگی میں اور اس کے بعد بھی کم ہی لکھا گیاہے۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً ان کا گوشہ نشیں ہونا،ادبی مجلسوں اور مباحثوں سے لاتعلقی ظاہر کرنا یا مزاج کے اعتبار سے خاموش،متین اور اپنی دنیا میں کھویا ہو ا رہنا۔اس کے باوجود ان کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا وہ متفقہ طورپر اردو کا ایک منفرد اور ممتاز افسانہ نگار ثابت کرتا ہے۔وہ بلا شبہ باکمال افسانہ نگار تھے،جن کے قلم سے چند ایسے لا زوال افسانے خلق ہوئے کہ ان کے ذکر کے بغیر اردو افسانے کی کوئی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ان کے افسانے اس عہد کے سر بر آؤردہ ادیبوں کے علاوہ عام قاری کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے تھے اس لیے رسالوں میں انہیں کرشن چندر،منٹو اور عصمت کے ساتھ جگہ دی جاتی تھی۔
بلونت سنگھ نے ہندی اور اردو میں تقریباً ڈھائی تین سو کہانیاں لکھیں جن میں موضوعات کی رنگارنگی ملتی ہے اور ہیئت و تنکنیک کے تجربات بھی۔ڈکشن کی تلاش ہے اور اسلوب و اظہار کی نیرنگی بھی۔اس کے باوجود بالعموم بلونت سنگھ کو ایک رومانی افسانہ نگار سمجھا جاتا رہا ہے۔جبکہ بلونت سنگھ کے مشہور ومقبول افسانوں کی ہی ساخت کھولی جائے تو ثابت ہو جاتاہے کہ یہ بات جتنی صحیح ہے اتنی ہی غلط بھی۔بلونت سنگھ ایک سفاک حقیقت نگار بھی تھے اور سکھ نفسیات یا پنجابی تہذیب و ثقافت کے بہترین ترجمان بھی۔انہیں نہ صرف بیانیہ پر بے مثال قدرت حاصل تھی بلکہ ذخیرۂ الفاظ نہایت وسیع اور مشاہدہ بہت کھرا تھا۔وہ انسانی کائنات کو ایک ناقابل تقسیم وحدت کے طورپر دیکھنے کے عادی تھے اس لیے ان کے یہاں انسانی جذبوں اور تجربوں کا حیران کن تنوع ملتاہے۔میں نے ان کے صرف مشہور ومقبول افسانے مثلاً جگاّ،گرنتھی،دیمک،پنجاب کا البیلا،کالی تیتری،سزا،پہلا پتھر،چاند اور کمند،تین چور،پورا جوان،ویبلے۸۳،گمراہ،نہال چند اور کٹھن ڈگریا کا مطالعہ کیا تو پایا کہ بلونت سنگھ کی افسانہ نگاری کے تین زاویے ایسے ہیں جو ان کے فن کو قوس قزح کے رنگوں سے مزین کرتے ہیں۔
اول موضوعات کا تنوع
دوم کردارنگاری
سوم فضا سازی
جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے ،بلونت سنگھ کا مطالعہ و مشاہدہ بے حد وسیع ہے جس میں سکھ سائیکی،پنجاب کے متوسط طبقے کی معاشرتی زندگی،دیہات کے مسائل،معصومیت کا استحصال،اقدار کی تذلیل،عشق کی نیرنگی،پنجابیوں کی فطرت،مذہبی ریاکاری اور تصنع،تقسیم ہند اور فسادات اور مشترکہ تہذیب کی بقا وغیرہ اہم ہیں۔بنیادی طورپر بلونت سنگھ نے اردو افسانے کو سکھ قوم کے معاشرتی مزاج،سائیکی اور ان کی جمالیاتی حس کا ترجمان بنایاہے۔وہ مزاج جو برہمی،جلال،قوت،انانیت اور حقیقت پسندی جیسے رویوں سے تشکیل پاتاہے اور اس جمالیاتی حس کی تربیت کرتاہے جس میں نظریں حسن کو باطن کی گہرائیوں میں ڈھونڈنے کا سلیقہ رکھتی ہیں اور یہ احساسِ جمال بلونت سنگھ کے سیدھے سادے کرداروں کے توسط سے زندگی کی معنویت اور رعنائی کو آب وتاب عطا کرتا ہے۔جگاّ،پورا جوان،تین چور،چاند اور کمند ،چکوری اور سمجھوتہ وغیرہ اسی قبیل کی کہانیاں ہیں۔اِن میں ’جگا‘ ان کی سب سے مشہور کہانی ہے جو انسان کی فطری معصومیت ،حُسن کی طہارت اور عشق کی تاثیر کی معنی خیز دستاویز ہے۔پوری کہانی جگا ڈاکو کے گِرد بنی گئی ہے،اِس سے رومان الگ کرلیں تو کچھ نہیں رہ جاتا۔لیکن یہ رومان محض رومان نہیں بلکہ زندگی کی جڑوں سے وابستہ اور حقیقت کی سطح رکھتاہے۔ڈاکو جگا رات کو ایک گاؤں سے گزرتے ہوئے رہٹ پر پیاس بجھانے کے لیے رکتاہے تو ’گرنام‘ جیسی معصوم،الھڑ اور اپنی اداؤں سے بے خبر دوشیزہ پر فریفتہ ہو جاتاہے۔اجڈ او ر ہیبت ناک Out look والا جگاّ بات کرتاہو ا نہ صرف گرنام کے گھر جاتا ہے بلکہ رات بھی وہیں گزارتاہے۔گُرنام اس کے زیور اور موتیوں کے ہار دیکھ کر طفلانہ بھولپن سے چہکتی رہتی ہے۔صبح رخصت کرتے ہوئے باپو جب اس کا نام جاننا چاہتاہے تو وہ کہتاہے خبردار کسی کو مت بتانا کہ رات جگا ڈاکو تمہارا مہمان تھا۔جگا کا نام سن کر باپو لرز جاتاہے ،کیوں کہ اس نام سے بڑے بڑوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔اس واقعے کے بعد وہ اکثر رات میں آتاہے اور صبح چلا جاتاہے،یہاں تک کہ لوگوں نے سنا کہ اس نے ڈاکہ زنی ترک کردی ہے۔دراصل وہ خود کو نیک اور گرنام کے قابل بنانا چاہتاہے۔جب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ گرنام تو دلیپ سنگھ کو پسند کرتی ہے تو وہ دلیپ سنگھ کو ماردینا چاہتاہے۔مگر رفتہ رفتہ اسے احساس ہوتاہے کہ گرنام کا جذبہ صادق ہے۔بالآخر خود جگا دلیپ سنگھ کو لاکر گرنام سے شادی کے لیے پیش کردیتاہے اور جگا ایک بار پھر ایک خونخوار ڈاکو جگت سنگھ وِرک بن جاتاہے۔اس کہانی میں سارے عناصر کی تشکیل رومانی اجزا سے ہوئی ہے۔مردانگی،بہادری،تشدد،دلیری،ڈاکہ زنی،بے لوث محبت ،گرنام کا ملکوتی حسن،معصومیت ،الھڑ پن،جگا کی پر اسرار ،بد وضع ،بھیانک اجڈ شخصیت لیکن نیک دلی،قول پر جان قربان کردینے اور محبت کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جذبہ،غرض کہ پلاٹ ،کردار،منظرنگاری،مکالمے سب رومانی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔اِن رومانی عناصر نے کہانی کو شہکار کا درجہ دے دیاہے ۔جگا اور گرنا م کے وسیلے سے بلونت سنگھ نے انسانی فطرت کے نہایت معصوم اور معنی خیز رویوں کو آشکار کیاہے اور ساتھ ساتھ پنجاب کے تہذیبی عناصر کو بھی نہایت فنکارانہ انداز سے کہانی کا حصہ بنایاہے۔حُسن ، عشق ،معصومیت اور رومانی طرز احساس پہ مبنی ایسے موضوعات رنگ،چکوری،پتھر کے دیوتا،سکوت ،سمجھوتہ،گھر کا راستہ اور حورکی پوتی کا افسانۂ محبت جیسی کہانیوں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
افسانہ’’گرنتھی‘‘ انسان کی معصومیت ،مذہب کے نام پر استحصال اور طاقت و کمزوری کے تصادم جیسے خیالات کو مرکزی طور پر پیش کرتاہے۔اس میں کوئی غیر معمولی نفسیاتی نکتہ نہیں مگر سکھوں کی دیہاتی اور مذہبی زندگی کے ساتھ کردار نگاری پر مہارت کا جیسا اظہار ہوا ہے وہ منٹو کی کہانی منتر،کرشن چندر کی آنگی اور کالو بھنگی اور بیدی کی بھولا کی یاد دلاتاہے۔اس میں سادگی اور پرکاری کی ایسی خوبیاں ہیں جو کہانی کو پر اثر بنا دیتی ہیں۔
گرنتھی ایک سیدھا سادہ بھولا آدمی ہے،جس کا کام گردوارے میں پاٹھ کرنا اور پرشاد بانٹنا وغیرہ ہے۔گرنتھی پر الزام ہے کہ اس نے گردوارے میں رہنے والی گرہستن لاجو کا ہاتھ پکڑ لیااور اس سے چھیڑ چھاڑ کی۔چنانچہ فیصلہ کیا جاتاہے کہ کل شنکرات کا کام نپٹا کر پرسوں گرنتھی کو چلتا کر دیا جائے۔گرنتھی اور اس کی بیوی کو معلوم ہے کہ جو الزام لگایا گیاہے وہ بے بنیاد ہے،لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کریں۔لاجو کے لگائے گئے الزام کی وجہ سے گرنتھی کو گردوارہ چھوڑناپڑ رہاتھااور وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا۔کیونکہ یہی اس کی پناہ گاہ تھی۔ایک عرصے تک ٹھوکریں کھانے کے بعد وہ اس گردوارے میں گرنتھی مقرر ہوا تھا،یہاں ا س کو فراغت حاصل تھی۔کہانی کا محور گرنتھی کی ذات اور مستقبل کی تشویش ہے۔ساری کہانی اسی فکرمندی اور پریشانی کے گر د گھومتی ہے۔ایک کے بعد ایک کئی واقعا ت روزمرہ کے معمولات اور گاؤں کی فضا کے سہارے بڑی خوبصورتی سے کہانی ایک تجسس کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔مایوسی کے عالم میں وہ دن بھرسارے معمولات انجام دینے کے بعد آسمان کی طرف دیکھتاہے۔شاید کسی غیبی مدد کا طلب گار ہے۔
’’ گرنتھی کھوئی ہوئی نظروں سے افق کی طرف یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ کسی کا منتظر ہو ۔جیسے 
آسمان سے کوئی نورانی صورت نمودار ہوگی‘‘
اور سچ مچ صورت نمودار ہو جاتی ہے بنتا سنگھ کی۔جو کسی عورت کو اغوا کرنے کے جرم میں ڈیڑھ برس قید بامشقت بھگت کر کل ہی اپنے گاؤں واپس آیاتھا۔وہ گرنتھی کی بپتا سن کر اعلان کرتا ہے 
’’ میں دیکھ لوں گا۔کون مائی کا لا ل تم کو نکالنے کے لیے یہاں آتاہے‘‘
اور دوسرے روز یہ خبر صبح ہی صبح پھیل جاتی ہے کہ گرنتھی بیچارہ تومعصوم ہے ،ساری غلطی لاجو کی تھی۔اور پھر سب لاجو کو گالیاں دینے دینے لگتے ہیں ’حرام زادی،مفت میں بے چارے گرنتھی پر الزام لگایا‘۔
افسانہ نگار کہنا چاہتا ہے کہ طاقت کا مقابلہ طاقت سے ہی ممکن ہے۔بے چارے گرنتھی کے پاس نہ تو جسمانی طاقت ہے اور نہ روحانی۔کہانی میں طنز بھی ہے ان مذہبی اداروں پر جو طاقت کا ڈھونگ رچا کر عام انسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔
مذہب کو طاقت اور دولت کا ذریعہ بنانے والوں اور انسانی فطرت کے پست پہلؤوں کی عکاسی کرنے والی ایک بے مثال کہانی ’’ویبلے 38 ‘‘ بھی ہے۔در اصل ویبلے ۳۸ ایک پستول کا نام ہے۔تقسیم ملک کے وقت ہوئے فسادات اس افسانے کا پس منظر ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کا شہر پوری طرح اجڑ چکاہے۔ایک طرف ہجرت کرنے والوں کے مکانوں کے کھنڈر تباہی اور بربادی کی داستان کہتے ہیں تو دوسری طرف ٹوٹے پھوٹے مکان اور غیر آباد گلیاں پنجاب سے آئے ہوئے ہندو اور سکھ شرنارتھیوں کی پناہ گاہ ہیں۔انہیں میں سے ایک سردار بسا کھا سنگھ ہے جو مغربی پنجاب کا ایک دولت مند زمیندار تھا۔اس کے دو لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں،جن کی شادی کی اسے بڑی فکر ہے۔یہاں بساکھا سنگھ کی ملاقات سردار بدھ سنگھ سے ہوتی ہے جو صبح شام پاٹھ کرتے ،مالا جپتے اور سکھ منی صاحب پڑھتے تھے اور دوسروں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرتے تھے۔فسادات کے بعد جب پانسا پلٹا تو انہوں نے دہشت زدہ بھاگنے والے مسلمانوں کی جائدادیں کوڑیوں کے مول خرید لیں اور پھر شرنارتھیوں کے ہاتھوں زیادہ سے زیادہ داموں پر بیچ کر خوب منافع کمایا۔اسی کے ساتھ پاٹھ میں بھی شدت آئی اور سردار بدھ سنگھ کا چہرہ نورِ معرفت سے چمکنے لگا۔بسا کھا سنگھ دن رات محنت مزدوری کرتا لیکن کنبہ کا پیٹ بھرنا مشکل تھا۔سردار بدھ سنگھ کے پوجا پاٹھ سے وہ بہت متاثر تھا۔بساکھا سنگھ کی خواہش تھی کہ کہیں سے دوچار سو روپیہ مل جائے تو چھوٹی موٹی دکان ہی کھول لے۔لیکن مدد مانگنے پر بدھ سنگھ کہتے ’بساکھا سنگھ جی! گردوارے جایا کرو،پاٹھ کیا کرو،شردھا رکھو،گورو کے گھر میں کیا نہیں ہے جو مانگوگے ملے گا۔‘بساکھا سنگھ کے گھر میں کئی بار کھانا نہیں بنتا،بچے بلکتے،لیکن وہ بلا ناغہ بدھ سنگھ جی کے درشن کرتا،روز ان کی باتیں بڑے دھیان سے سنتا۔لیکن رفتہ رفتہ اسے یہ باتیں عجیب معلوم ہونے لگیں۔ایک شام گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش کیا گیا تھا۔پروگرام کے بعد سردار بدھ سنگھ نے بساکھا سنگھ کو بتایاکہ انہوں نے ایک پستول خریدی ہے ویبلے ۳۸۔آٹومیٹک۔وہ پستول کی خوب تعریف کرتے ہیں۔’چودہ سو میں تو سستا ہی مل گیا،آٹھ کارتوس اور ایک میگزین ہے۔‘دیکھنے کے لیے وہ پستول بساکھا سنگھ کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔اور یہیں سے افسانہ بدل جاتا ہے۔وہ سوچتا ہے ایک طر ف چودہ سو کا پستول ،وہ بھی بدھ سنگھ کے لیے سستا،اور دوسری طرف روٹیوں کے لالے۔بساکھا سنگھ کہتاہے’’جانے کون سے گیان دھیان کی آپ باتیں کرتے ہیں۔مذہب صرف دو ہیں۔ایک خون چوسنے اور لوٹنے والوں کا اور دوسرا اپنا خون دینے اور لٹنے والوں کا‘‘۔سردار بدھ سنگھ ہڑ بڑا کر چارپائی سے اٹھتے ہیں تو تپائی سے دھکا لگ کر لیمپ گر جاتا ہے اور غالیچے میں آگ لگ جاتی ہے۔سیڑھیوں کا راستہ بند ہے،سامنے بساکھا سنگھ کھڑا ہے۔بلونت سنگھ نے افسانے میں نہایت دلچسپ لیکن تلخ تضاد پیش کیا ہے۔بدھ سنگھ کالے کرتوتوں سے دولت کماتاہے اور سمجھتاہے کہ یہ اس کی پوجا پاٹھ کا پھل ہے۔دولت میں سے وہ بساکھا سنگھ کو کوڑی نہیں دیتا لیکن جاپ،پاٹھ اور دعاؤں پر اسے لگا دیتا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔بچے بھوکے رہتے ہیں،اور بیٹیاں بیاہ کے انتظار میں گھر میں بند ہیں۔بساکھا سنگھ کا رد عمل در اصل ریاکاری،مذہبی استحصال اور منافقت کے خلاف احتجاج ہی نہیں قدرت سے انصاف کی طلب کا علامیہ بھی ہے۔
بلونت سنگھ کے یہاں موضوعات کا تنوع حیرت انگیز ہے۔انہوں نے بڑے بڑے مسائل اور تغیرات کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں ،معمولی اور غیر اہم حادثوں کو بھی افسانے کا موضوع بنایاہے،جو بظاہر عام اور غیر اہم ہوتے ہیں مگر ان کے بطن سے انسانی ہمدردی،مساوات ،قدروں کی پاسداری کی کرنیں پھوٹتی ہیں اور استحصال ،بے بسی،غریبی،بھوک جیسے مسائل اور حالات کا جبر قاری کو دعوت فکر و عمل دیتے ہیں۔بیمار،کالی تیتری،تین چور،بابا مہنگا سنگھ،دیمک،بازگشت،اس کی بیوی،خوبصورت موڑ اور اعتراف جیسے افسانے اسی زمرے میں آتے ہیں۔
افسانہ ’بیمار‘ میں انہوں نے نچلے متوسط طبقہ کی بے رونق زندگی کا پُر تاثیر نقشہ کھینچا ہے۔ایساہی افسانہ ’دیمک‘ بھی ہے،جس میں مشترکہ خاندان کے بے حس لوگوں ،چڑچڑے بچوں اور کبھی ختم نہ ہونے والے گھریلو کاموں میں گھری عورت کی کھوکھلی زندگی کو پیش کیا گیاہے۔دیہات کے تعلق سے زمینداروں کی ذہنیت ،کھیتی باڑی ,جاگیردارانہ معیشت،مفلسی،جہالت اوران سے پیدا ہونے والے حالات بھی بلونت سنگھ کا موضوع بنے ہیں۔بابا مہنگا سنگھ،کالی تیتری،پنجاب کا البیلا،تین چور اور جگا جیسے افسانوں میں ان حالات کو محسوس کیا جاسکتاہے۔شہر کی طرف بلونت سنگھ نے رُخ کیا تو بے روزگاری،بے کاری کے بوجھ تلے دبا انسان،کلرک ،مزدور،بیوپاری،وکیل،افسر،لیڈر اور ان سب سے جڑی ہوئی طبقاتی کشکمش نے انہیں سوچنے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں دیمک ،کٹھن ڈگریا،بابو مانک لعل،سمجھوتہ،لمحے اور بازگشت جیسی کہانیاں وجود میں آئیں۔یہاں کچھ پالینے کی ہوس اور کچھ کرلینے کی آرزو نے انسانی رشتوں کو پیچھے ڈھکیل دیاہے۔اس کی بیوی،خوبصورت موڑ اور اعتراف جیسے افسانوں میں بلونت سنگھ نے شہر کی کھوکھلی ازدواجی زندگی کی ترجمانی کی ہے۔جبکہ معاشی اور سماجی مسائل سے پیدا ہونے والی الجھنوں کو بڑی معنی خیز ی کے ساتھ سہارا،کمپوزیشن ٹیچر اور بیمار وغیرہ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔خودداری کی بقا اور غیرت کو انہوں نے افسانہ خوددار،تلچھٹ اور بابو مانک لعل میں برتاہے تو شہر کی بھیڑ میں تنہائی کے المیے کو انہوں نے بے حد خوبصورتی سے پتھر کے دیوتا اور مہمان جیسے افسانوں میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
جنس اردو افسانے کا بڑا نازک مگر اہم موضوع رہاہے۔بلونت سنگھ نے اِس موضوع کو بھی دوسروں سے بالکل الگ مگر انسان کے لیے ایک زبر دست قوت کے طور پر برتاہے۔جنس اور نفسیاتی پیچیدگیاں انسانی شخصیت کو کیسے کیسے رنگ عطا کرتی ہیں اسے بلونت سنگھ کے افسانے نینا،چکوری،بازگشت ،سوماسنگھ اور کٹھن ڈگریا میں دیکھا جاسکتاہے۔چکوری کی مرکزی کردار ’نزہت‘ میں محض ایک اجنبی مردانہ آواز سن کر ہی جنسی بیداری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ زندگی کے انوکھے اور اچھوتے تجربے سے دوچار ہوتی ہے۔اسی طرح بازگشت کی عائشہ ،منیر احمد کی تمام دیکھ ریکھ اور پابندی کے باوجود اس کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے۔افسانہ سورما سنگھ بھی جنسی شعور کی انوکھی پیش کش ہے۔اس افسانے کا کردار نابینا ہونے کے باوجود اس احساس سے انجان نہیں اور کبھی کبھی تو صر ف لطیف اشاروں سے ہی وہ اس جذبے کی مہک کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔مگر اس سلسلے میں سب سے دلچسپ افسانہ ’کٹھن ڈگریا‘ ہے جس میں بلونت سنگھ نے مرد کے ساتھ عورت کی جنسی نفسیات اور کیف و نشاط کے حصول کی خواہش کو گٹھے ہوئے بیانیہ اور نئے اظہار واسلوب میں پیش کیاہے۔رکھی رام ادھیڑ عمر کا بزنس مین ہے۔شادی کو کئی برس گزر گئے ،تین بچوں کا باپ ہے ،بیوی شانتا خوبصورت ہے مگر پہلی سی کشش باقی نہیں رہی۔بیج ناتھ رکھی رام کا دوست ہے جس کی بیوی کا منی رفتہ رفتہ رکھی رام کے لیے باعث کشش بن جاتی ہے۔دونوں گھرانوں میں خاصے مراسم ہیں۔ایک دن رکھی رام کاروبار کے سلسلے میں ایک آدمی کے پاس دہلی جانے کے لیے تیار تھاکہ دہلی سے اُس آدمی کے آنے کی اطلاع مل جاتی ہے۔رکھی رام سفر ملتوی کر دیتا ہے اور نہا دھو کر تیار ہو کر یہ کہتے ہوئے باہر نکل جاتا ہے کہ وہ رات کا کھانا باہر ہی کھائے گا۔بیج ناتھ کے گھر پہنچتاہے تو خود بیج ناتھ کہیں جانے کی تیاری میں ہے۔رکھی رام کہتا ہے کہ میں تو یونہی ادھر چلا آیاتھا تم کہیں جارہے ہو تو چلو پھر سہی۔لیکن بیج ناتھ اس کو روکتے ہوئے کہتا ہے کہ اتنی دور سے آئے ہو تو تھوڑی دیر رکو ،میری کہیں دعوت ہے،ایک گھنٹے میں لوٹتا ہوں تو پھر تاش کی بازی جمے گی۔میری واپسی تک رکو اور کھانا یہیں کھالو۔رکھی رام کو تو منہ مانگی مرادمل گئی۔بیج ناتھ کے جانے کے بعد وہ سر تا پا نشے میں ڈوبتے ہوئے کامنی کی بانہوں میں سما گیا۔مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔کہانی کا آخری اور سب سے اہم موڑ وہاں آتاہے جب رکھی رام خوش خوش بیج ناتھ کے گھر سے لوٹتا ہے اور نکڑ کے پنواری کے پاس سگریٹ سلگانے کے لئے رک جاتاہے اور عادتاً پنواری سے پوچھتا ہے کہ مجھ سے ملنے کوئی آیا تو نہیں تھا۔پنواری کہتاہے
’’بیج ناتھ بابو آئے تھے،آپ کا انتجار کر کے چلے گئے‘‘۔
بیج ناتھ؟ 
’’ہاں،بیج ناتھ بابو‘‘ ۔
وہ سوچ میں پڑ جاتاہے ۔گھر کا راستہ وہ بہت دھیرے دھیرے طئے کرتاہے۔اندر داخل ہوتاہے تو شانتا تروتازہ اور اُجلی دکھائی دے رہی ہے۔صوفے پر بیٹھتے ہی پوچھتاہے ’’شنو آج تم بہت خوش دکھائی دے رہی ہو‘‘ وہ بلا کچھ کہے نرمی سے اس کے کندھے پر رخسار رکھ دیتی ہے ۔وہ کہتاہے’’ میں بھی بہت خوش ہوں‘‘۔
یہ ایک بے حد گٹھی ہوئی کہانی ہے،جس میں ایک لفظ بھی فاضل نہیں اور بیانیہ میں بہاؤ بھی غضب کاہے۔کہانی میں جو کیفیت ہے وہ افسانہ نگار کی ہنر مندی کی ایک اعلیٰ سطح سامنے لاتی ہے۔اخلاقی یاغیر اخلاقی تعبیر سے قطع نظر اِس کہانی کو نفسیاتی کہانی کے طور پر یا جمالیاتی کیف و نشاط کے متن کے طور پر پڑھا جائے تو ادب میں ندرت یا تازہ کاری کی ایک نئی شکل کا ظہور ہوتا ہے۔ایسی ہی کہانیوں کی وجہ سے بلونت سنگھ بطور افسانہ نگار نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ بار بار پڑھے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بلونت سنگھ کی دوسری بڑی خوبی ان کی کردار نگاری ہے۔ان کے اکثر کردار خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں بسنے والے فرضی کردار نہیں ہیں بلکہ پنجاب کی مٹی سے اُبھرے ہوئے سیدھ سادے ،دلیر،جانباز اور زندہ دل انسان ہیں،جن کے افعال نہ تو انہیں دیوتا کا روپ دے کر عقیدت اور پرستش کی شکل میں ابھارتے ہیں اور نہ ہی شیطان کی شکل دے کر انہیں نفرت کے قابل بناتے ہیں۔بلکہ تمام انسانی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ ان کی حقیقی شکل میں پیش کرتے ہیں۔یہ کردار اپنے وحشی مزاج ،دلیری اور کھرد رے پن کے باوجود دل میں اتر جاتے ہیں۔لمبے ،چوڑے اور چٹانوں جیسے مضبوط ،جنگجو،گرانڈیل ،سانڈنی سوار ، قدآورڈاکو،میلوں تک دوڑنے والے چور اور شوریدہ سر نوجوان بلونت سنگھ کے پسندیدہ کردار ہیں،جنہیں انہوں نے زندگی کی بھیڑ سے ڈ ھونڈ ڈھونڈ کر نکالا ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بلونت سنگھ کے نمائندہ کردار وں میں بیشتر کردار مردوں کے ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوں میں جس طرح ٹھاکروں ،ڈاکؤوں اور کسانوں کا کردار پیش کیاہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔لیکن ان کے نسوانی کردار حقیقی ہوتے ہوئے بھی زندگی کی اِس رمق اور شدت سے محروم ہیں اور اسی لیے وہ ان کے مردانہ کرداروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ہمیں جگاّ پہلے یاد آتاہے گرنام کور بعد میں۔’پہلا پتھر‘ کے واقعات ہم یاد نہیں بھی رکھ سکتے ہیں مگر باجے سنگھ ہمارے شعور کا حصہ بن جاتاہے۔جساّ سنگھ،بابا مہنگا سنگھ،بساکھا سنگھ،گاما،پھلورا سنگھ،بلاکا سنگھ اور نواب سنگھ جیسے کرداروں کو ہم نہیں بھولتے مگر ان کی محبوبہ پرسی،مہندری،لاجی یا کمہارن وغیرہ زیادہ دور تک ہمارے ساتھ نہیں چل پاتیں۔اگرچہ بلونت سنگھ نے سمجھوتہ ،دیمک،چکوری،مداوا اور لمس جیسے افسانے بھی لکھے جن کے نسوانی کردار اردو ادب کے بہترین کردار وں کی صف میں کھڑے کیے جاسکتے ہیں،لیکن ان کے اس نوعیت کے افسانوں کی تعداد ہی کتنی ہے،جن میں مرکزی عورت کاہو؟یا عورت ایک ناقابل فراموش کردار بن کر ابھری ہو۔بلونت سنگھ کے افسانوں میں ابھرنے والی عورت یا تو تشنہ کام بیوی ہے یا بلا کی حسین اور صحت مند محبوبہ۔لیکن ان کے مردانہ کردار وں کااجڈپن اور ان کے مزاج کی خونخواری کے نقش ذہن پر نسوانی کرداروں کی نزاکت و نفاست کے تاثر سے زیادہ دیرپا اور پر اثر ہوتے ہیں۔شاید اسی لیے بلونت سنگھ کے وہ افسانے زیادہ مشہور ہوئے جن میں غیر معمولی قدوقامت اور مردانہ خوبیوں کے حامل سکھ کردار سامنے آتے ہیں۔
کرداروں کے ذکر کے ساتھ ہی ان کی کہانیوں کی وہ ثقافتی فضا بھی اہمیت رکھتی ہے جو ان کے موضوعات اور کرداروں کو جمالیاتی طور پر اثر آفریں بناتی ہے۔بقول گوپی چند نارنگ
’’بلونت سنگھ کے یہاں کردار فقط کردار نہیں یا واقعات محض واقعات نہیں ،بلکہ سب کچھ اس وسیع منظرنامے سے پر تشکیل پاتاہے جس کو ثقافتی جغرافیہ کہنا چاہیے۔بلکہ اس میں قصبوں کی فضا،مٹی کی بو باس تو ہے ہی،لیکن فقط کھیت کھلیان یا سرسوں کا پھول ہی نہیں،طور طریقے ،رہن سہن،پوجا پاٹھ،شبد کیرتن،میلے ٹھیلے،تیج تیوہار،گانا بجانا،رسمیں عقیدے،جس سے پوری سائیکی عبارت ہے۔یہ کردار زندہ اس لیے لگتے ہیں کہ یہ اپنے ثقافتی خلقیے میں سانس لیتے ہیں اور ثقافتی خلقیہ اور سائیکی ان میں سانس لیتی ہے۔‘‘ہفکشن شعریات ص۱۵۳)
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بلونت سنگھ کے افسانوں میں فضا سازی خاصی اہمیت کی حامل ہے۔افسانوں کے مختلف اجزا چاہے وہ کردار ہوں یا ماحول ،موضوع ہو یا پلاٹ ،مواد ہو یا بیان سب کے سب ایک مخصوص فضا سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں،جو پنجابی ثقافت،سکھ تہذیب،مذہب،عقائد،اعمال،رسم ورواج اور ان کے احساس جمال پر مشتمل ہے۔وقار عظیم نے بلونت سنگھ کے افسانوں کی فضا کو پنجاب کی دیہی فضا قرار دیا تھا۔مگر میرا خیال یہ ہے کہ وہ بالخصوص پنجاب کے جاٹ سکھوں کی تہذیب و ثقافت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔کیونکہ جگاّ ،کالی تیتری،پنجاب کا البیلا،گرنتھی،سزا ،بابا مہنگا سنگھ اور تین چور وغیرہ افسانو ں میں انہوں نے جن کرداروں کو مرکزیت عطا کی ہے وہ جاٹ سکھ ہیں اور جو فضا تشکیل دی ہے وہ جاٹ قبیلے ،پنجاب کے دیہات اور اُس پنجابی ثقافت کی نشاندہی کرتی ہے ،جہاں ایمانداری ہے،امنگ ہے،بے خوفی ہے،بہادری ہے،ولولے ہیں ،جوش ہے۔جہاں نیکی اور بدی دونوں حوالوں سے انسان کی شناخت آسانی سے کی جا سکتی ہے۔بلونت سنگھ کے افسانوں میں سکھوں کی مذہبی اور معاشرتی زندگی کی جیسی ترجمانی ملتی ہے وہ بیدی کے یہاں نظر نہیں آتی۔بیدی کے یہاں ہندو دیوی دیوتاؤں پر خاص زور دیاگیاہے اور بیدی کا افسانہ تہذیبی فضا بندی سے بہت آگے تک جاتاہے۔جبکہ بلونت سنگھ کے یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔مثال کے طور پر ان کے افسانہ ’’گرنتھی ‘‘ میں سکھوں کی معاشرتی زندگی اور مذہبی زندگی کی جھلک پورے طور پر نمایاں ہے۔گرنتھی کی ساری معنویت گوردوارے کی زمینی اور روحانی فضا اور گوردوارے کے ثقافتی معمولات سے ہے۔تین چور،جگاّ،ہندستان ہمارا،سزا اور ویبلے ۳۸ میں بھی فضاسازی کے لیے اسی تہذیب و ثقافت کو کلید بنایا گیاہے،جس کے حوالے سے نہ صرف مضبوط بیانیہ متشکل ہو تا ہے بلکہ افسانے کو جمالیاتی ترفع بھی حاصل ہو جاتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ موضوعات کے تنوع،کرداروں کی رنگارنگی ،سکھ سائیکی اور تہذیبی فضاسازی کے حوالے سے بلونت سنگھ کے افسانے دنیائے افسانہ میں ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ان کے افسانے اپنی خوبصورت نثر ،صاف وشفاف رواں دواں بیانیہ ،زندہ منظرنگاری اور شگفتگی و شیفتگی کے باعث ہر لحظہ ہماری جمالیاتی حِس کو نہ صرف مسرت عطا کرتے ہیں بلکہ بلونت سنگھ کی فن افسانہ پر دسترس ،تکنیکی مہارت اور قصہ سازی کی صلاحیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔وارث علوی جیسے سخت اور محتاط ناقد کے اس قول سے شاید ہی کوئی اختلاف کرسکتاہے کہ ’’وہ اپنے وقت کے مقبول افسانہ نگاروں میں سے ایک تھے اور بلا شبہ وہ اردو کے صف اول کے افسانہ نگار ہیں‘‘۔
(غیر مطبوعہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہاب ظفر اعظمی
شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ۸۰۰۰۰۵،فون نمبر9431152912
shahabzafar.azmi@gmail.com 
 

 مضامین دیگر 

Comment Form