30 Sep, 2017 | Total Views: 187

شوکت حیات کا افسانوی اختصاص

شہاب ظفر اعظمی

شوکت حیات ہمارے عہد کے اردو افسانے کی منفرد آواز ہیں۔ ان کے اسلوب، لہجے اور موضوعات کی انفرادیت کا یہ عالم ہے کہ ان کی افسانہ نگاری سب سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ بانگ، گنبد کے کبوتر، پھسینڈا، شکنجہ، سرخ اپارٹمنٹ، بھائی، کوا، کوبڑ، تفتیش، قرارداد، رحمت صاحب، ڈھلان پر رکے ہوئے قدم، ختم سفر کی ابتدا، ریپ، مادھو، سرپٹ گھوڑا، سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ، چیخیں، فارمولا اور مسٹر گلیڈ وغیرہ ان کے افسانوی شعور کی عظمتوں کی امین کہانیاں ہیں۔ ان کہانیوں کے مطالعے سے یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ ان کا خالق ایک زندہ، تو انااور متحرک فنکار ہے جس کی قوت متخیلہ نامیاتی، زرخیز اور کائنات گرد ہے۔
شوکت حیات خوشبوؤں، خوبصورتیوں، روشنیوں، رنگوں اور امن وآشتی کی متلاشی ایک بے چین وبے قرار شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ بے قراری اور بے چینی شاید اس لئے ہے کہ متعفن فضاؤں نے خوشبؤں کو جلا وطن کر دیا ہے، بدصورت کرداروں نے خوب صورتیوں کو نیست ونابود کر دیا ہے اور اندھیروں نے اجالوں کو مقفل کیا ہوا ہے۔ شوکت حیات امن وآشتی کی جلاوطنی اور خوب صورتی وروشنی کی قفل بندی پر پُرزور احتجاج کرتے ہیں۔ بہتر دنیا، بہتر معاشرہ اور بہتر انسانوں کی جستجو ان کے آؤٹ لک کا خصوصی خاصہ ہے اس لئے وہ اس تلاش کو اپنے فن کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ وہ ناہمواریوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے صرف گلہ نہیں کرتے بلکہ ان سے ہمہ وقت ٹکرانے کو تیار بھی رہتے ہیں۔ اسی لئے ممتاز نقاد پروفیسر وہاب اشرفی نے انہیں بجا طور پر ’’Protestکا فنکار‘‘ قرار دیا ہے۔
شوکت حیات موجودہ عہد کے ایک جنوین اور سچے فنکار بھی ہیں جو کسی تمنا اور صلے کی پروا کئے بغیر صرف اپنے فکروفن سے مطلب رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف تحریکوں اور رجحانوں کو دیکھا اور ان پر اپنی رائے بھی قائم کی مگر کبھی کسی تحریک ور جحان کے زیراثر نہیں رہے اس لئے ان کی افسانہ نگاری کو کسی دبستانی فکر وسیاست سے وابستہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے نام نہاد اصولوں نے ان کے فن پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ وہ ہر محفل میں آزادی سے اپنی بات کہتے ہیں اور ہر افسانے میں اپنا فنی اصول قائم رکھتے ہیں اسی لئے ان کے افسانوں میں سماجی ناہمواریوں اور ماحول کے جبر کا تذکرہ نعرہ بازی اور پروپگینڈے کے انداز میں نہیں ہے بلکہ سماجی بے انصافیوں اور ماحول کے نامساعد ہونے کا فنکارانہ اظہار ان کی افسانہ نگاری کا جزو خاص ہے۔ فن کے تعلق سے ان کا نقطۂ نظر خالص غیر کا روباری ہے۔ وہ آرڈر پر افسانے لکھنے کا سطحی کام نہیں کرتے نہ ہی انہوں نے قلم کی تقدیس کو نیلام گھر کی زینت بنایا ہے۔ ان کے ذہن وفکر پر جس واردات نے بھی اثر ڈالا انہوں نے اسے بغیر لگی پٹی صفحۂ قرطاس پر فنکارانہ انداز میں سجادیا ہے۔ یہی عمل ایک سچے فنکار کی شناخت کرواتا ہے۔
شوکت حیات افسانوی ادب میں ’’اَکہانی‘‘ کی آواز بلند کرتے ہوئے ساتویں دہائی میں داخل ہوئے۔ یہ اینٹی اسٹوری لکھنے کی تحریک تھی جس کے ڈانڈے بلراج مینرا کی ’’کمپوزیشن‘‘ سریز اور سریندر پرکاش کے ’’تلقارمس‘‘ سے ملتے تھے۔ شوکت حیات نے بھی ایسی کہانیاں بڑی تعداد میں لکھیں اور کمپوزیشن سریز کی طرح ’’سچویشن سریز‘‘ کی کہانیاں بھی لکھیں مگر ان کی شناخت احتجاج پر مبنی افسانے ’’بانگ‘‘ سے قائم ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب شوکت حیات نے محسوس کرلیا تھا کہ ’’اکہانی‘‘ مشرقی مزاج سے لگا نہیں کھاتی۔ لہذا ’’بانگ‘‘ شوکت حیات کے ساتھ ساتھ اردو افسانے کا بھی Turning Pointثابت ہوا جس میں علامت کا پردہ بہت باریک ہے اور احتجاج کی لئے دبیز۔ یہ افساد متشدد قسم کے علامتی اور Plotlessافسانوں کے خلاف بھی احتجاج تھا جس کے آرپار بڑی آسانی سے فن کے ساتھ افسانے کے مستقبل کو دیکھا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد شوکت حیات کے اکثر افسانے بیانیہ لہجہ لئے ہوئے سامنے آئے مگر ان کا بیانیہ بالکل برہنہ اور شفاف نہیں ہوتا۔ وہ ہلکے سے ابہام اور پردہ داری کے قائل ہیں جو تخلیق کے حسن کو بڑھاتی ہے اور تاثر کی شدت میں سرتا سراضافہ کر کے نیا رنگ پیدا کرتی ہے۔
’’بانگ‘‘ کے بعد جتنے افسانے ہمارے سامنے آئے ان میں کسی نہ کسی رویئے کے خلاف احتجاج کا پہلو نمایاں ہے اس لئے وہ سب زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سماجی زندگی سے ان کے گہرے تعہد اور وابستگی کا احساس پایا جا تا ہے اور سماجی احتجاج کی لئے شدت اختیار کرتی جاتی ہے۔ شوکت حیات تصورات کی حسین وادیوں میں وقت گزاری کے قائل نہیں۔ ان کے افسانوں میں عصری آگہی ہے، حادثات زمانہ کی دھمک ہے۔ وہ اپنی دنیا میں گم رہنے والے فنکار بھی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے دکھوں اور لوگوں کے جھمیلوں میں شامل ہوتے ہیں، ان کے کرب کو اپنا تے ہیں اور پھر اسے اپنے تجربے کا حصّہ بناتے ہیں۔ ان کی کہانیاں نادار، محنت کش، محروم اور بے روزگار لوگوں کی صدائیں 
۲
ہیں۔ جبرواستبداد، استحصال ودادا گیری اور تہذیب وسیاست کے نام پر مکاریوں کو اکسپوز کرتی ہیں۔ اس اکسپوزر میں ان کے اندر کا فنکار تمام واقعے حادثے اور المیے پر بہت خاموشی کے ساتھ اپنا احتجاج بھی درج کراتا رہتا ہے مگر یہ احتجاج نعرہ یا پروپگنڈہ نہیں بنتا کیونکہ فن کارانہ چابکدستی اور حسن کاری ان کی آواز کو پرتاثیر اور پرکشش بنا دیتی ہے۔
شوکت حیات کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ افسانوں کی تلاش میں ادھر ادھر نہیں بھٹکتے بلکہ اپنے ارد گرد اور آس پاس کے ان واقعات اور معاملات کو افسانوں میں ڈھالتے ہیں جو ہماری نظروں کے بالکل سامنے ہیں لیکن ہم ان سے سرسری گزر جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات اور موضوعات کو وسعت بخشنے کو بھی شوکت حیات نے اپنا خاصہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ موضوعاتی اعتبار سے ان کے افسانے دو حصوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔ اول ایسے افسانے جن میں مرکزیت کردار کو حاصل ہے۔ اس طرح کے بیشتر افسانے سماجی، معاشی اور سیاسی حقیقت نگاری کے زمرے میں آتے ہیں۔ دوسری طرح کے افسانوں میں اہمیت کردار کے بجائے ماحول کو ہے اور یہاں مخصوص انفرادی اور مرکزی کردار کے بجائے ایسے کردار پیش کئے گئے ہیں جو اپنے تجربات میں اجتماعی آہنگ کو پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کے افسانے عموماً معاشی اور نفسیاتی حقیقت نگاری کے مختلف عناصر سے مملو ہیں۔ مگر ہر افسانے کا موضوع الگ ہے اور موضوع کے لحاظ سے ہر افسانے کا الگ الگ ٹریٹمنٹ ہے۔ لیکن ہر افسانہ ا پنی انفرادیت قائم کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتا ہے۔ آئیے ذیل میں دونوں طرح کے چند منتخب افسانوں پر ایک نظر ڈالیں۔
’’بھائی‘‘ فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا ایک اہم افسانہ ہے۔ اس میں افسانہ نگار نے انسانی نفسیات کی خوب صورت عکاسی کی ہے۔ جب ماحول بگڑتا ہے تو اس طرح ایک فرقے کا دوسرے پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے کہ فریق مخالف کا ہر عمل اور ہر حرکت خوفزدہ کرتی رہتی ہے کہ وہ اس پر حملہ آور نہ ہوجائے۔ تذبذب کی اس فضا میں ہر منزل، گردوپیش کا ہر منظر، غرض کہ زمین اور آسمان نادیدہ اور نامعلوم خطروں سے بھرے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ دوسرے آدمیوں کی دھند میں مٹی مٹی شکلیں اتنی پراسرار اور غیر حقیقی معلوم ہوتی ہیں کہ ان سے خوف آتا ہے اور دشمنی کی بو۔
’’اس تندرست آدمی سے محتاط رہنا ضروری ہے.......اس نے سوچا اسے بے حد افسوس ہوا کہ آج اس کی جیب میں وہ کی رِنگ بھی نہیں تھی جس میں پھل کاٹنے والا ایک ننھا سا چاقو ہوتا تھا۔ اس کے حملہ آور ہونے کی صورت میں کچھ تو اپنا بچاؤ کر سکتا تھا۔ لیکن وہ تو نہتا تھا۔ اس تنومند آدمی کی جیب میں نہ جانے کون سا ہتھیار ہوگا۔ نہ بھی ہوا تو کیا اس کا مضبوط جسم ہی اسے زیر کرنے کے لئے کافی نہیں۔ اس نے غور کیا کہ تنومند آدمی مستقل اپنا ہاتھ جیب میں ڈالے ہوئے تھا‘‘ (بھائی)
یہ افسانہ ایک مخصوص فضا اور ماحول پر مبنی ہے جس میں ہر آدمی دوسرے کو خطرہ سمجھتا ہے۔ یہ وہ ماحول ہے جو ہمارے آس پاس ہر جگہ پیدا کر دیا گیا ہے۔ یہ اس صدی کی کڑوی سچائی ہے۔ مگر افسانہ اپنے خاتمے پر اِس کڑوی سچائی کو مٹھاس میں تبدیل کر کے امید کی فضا قائم کر دیتا ہے کہ اس ماحول اور فضا میں صداقت، دوستی بھائی چارگی اور زندگی بھی ہے جو ہمارے سماج کی بقاکی ضامن ہے اور جس کی وجہ سے یہ فضا دیر پا نہیں رہ سکتی۔ شوکت حیات کے کئی افسانے فرقہ وارانہ فسادات اور اس کے مضمرات کے تجزیے پر مبنی ہیں۔ مثلاً ’’تفتیش‘‘ فرقہ وارانہ فساد کے اسباب وعلل کی تفتیش پر مملو افسانہ ہے اور پلاٹ کے اعتبار سے ڈھیلا ڈھالا ہوتے ہوئے بھی کامیاب کہا جا سکتا ہے۔ ’’سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ‘‘ میں ہندو فرقہ پرستی کے مکر وہ چہرے کی شناخت کی کوشش کی گئی ہے اور نئی نسل کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ اب صرف احتجاج سے کام نہیں چلنے والا، انہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ متشدد صورت حال کا مقابلہ ایسی ہی جوابی کا روائی سے کیا جا سکتا ہے۔
بابری مسجد سانحے اور فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں لکھا جانے والا افسانہ ’’گنبد کے کبوتر‘‘ تو شوکت حیات کی شناخت ہی بن چکا ہے۔ ’’بانگ‘‘ کے بعد ان کا یہ دوسرا افسانہ ہے جسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اِس موضوع پر کئی افسانے لکھے گئے مگر دو افسانے ’’گنبد کے کبوتر‘‘ اور زاہدہ حنا کا افسانہ ’’منزل ہے کہاں تیری‘‘ زیادہ قابل اعتنا سمجھے گئے۔ اس کے باوجود دونوں میں کہانی پن، ٹریٹمنٹ اور زاویۂ نظر کا جو فرق ہے وہ شوکت حیات کے افسانے کو انفرادیت اور دائمی زندگی بخشتا ہے۔ افسانے کا آغاز یوں ہوتا ہے :
’’
بے ٹھکا نہ کبوتروں کا غول آسمان میں پرواز کررہا تھا۔ متواتر اڑتا جا رہا تھا۔ اوپر سے نیچے آتا، بے تابی اور بے چینی سے اپنا آشیانہ ڈھونڈتا اور پھر پرانے گنبد کو اپنی جگہ سے غائب دیکھ کر مایوسی کے عالم میں آسمان کی جانب اڑجاتا۔‘‘
یہ آغاز ہی بابری مسجد کی شہادت کے بعد کی فضا کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ شام کے وقت گنبد کے اوپر بسیرا کرنے والے کبوتر لوٹتے ہیں تو ان کا آشیانہ موجود نہیں ہوتا۔ ان کبوتروں پر کیا گزری؟ یہاں پر کبوتروں اور مسلمانوں کو یکجا کر کے افسانے کی نہج اور اثر پذیری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور پھر افسانہ اِن سطور پر ختم ہوتا ہے :
’’
بچے اپنے بستروں میں گہری نیند میں مبتلا تھے۔ سب کے چہرے پر ایسی اذیتیں جیسے کوئی بہت ڈراؤنا اور تکلیف دہ خواب دیکھ رہے ہوں۔ آخر وہی 
۳
ہوا جس کا ڈر تھا......اس کے جسم میں کاٹو تو لہو نہیں۔ بالکنی کے کھلتے ہی وہاں کے ٹوٹے پھوٹے منتشر حال زار نے اسی اپنی گرفت میں لے لیا۔ نچے ہوئے پھول، موزائک کے فرش پر مسلی کچلی بکھری ہوئی پھولوں کی پنکھڑیاں ٹوٹے ہوئے گملوں کی مٹیوں کے جابجا ڈھیر.....گوریوں کے گھونسلوں کے منتشر تنکے.......گوریوں کا کوئی پتہ نہیں تھا.......گلہری، تتلیاں اور بھنورے تو اب ایک مدت تک دکھائی نہیں دیں گے......اس کی بالکنی کا سارا حسن ملیامیٹ ہو چکا تھا۔ آخر بچوں نے اپنے کھیل میں میرا سب کچھ ......اس کا اندیشہ صحیح نکلا۔ اُس دن اپارٹمنٹ میں گھسے سانپ کو چند بچوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور اس سے کھیلنے کے خطرناک عمل کے عادی ہو گئے تھے۔ اسی لئے تو بچے اتنے زہریلے اور وحشی ہو گئے تھے۔‘‘
آسمان میں گنبد کے خون آلود کبوتروں کا غول مستقل جائے امان کی تلاش اور کچھ کر گزرنے کے جنون میں چکر کاٹ رہا تھا۔ بیوی سے اس کی نگاہیں ملیں تو اسے اچانک احساس ہوا کہ گھر میں میت پڑی ہے اور باہر کرفیو میں اس کی تدفین ایک سنگین مسئلہ ہے۔ (گنبد کے کبوتر)
افسانہ ختم کرنے کے بعد قاری تاثر کے بیکراں سمندر میں دیر تک غوطہ زن رہتا ہے۔ وہ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتا کیونکہ کہا نی کا تانابانا، واقعات اور کردار اسے پوری طرح گرفت میں لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بلاشبہ اس موضوع پر یہ ایک جاندار ویادگار کہانی ہے جس کی بنت میں شوکت حیات نے اپنی ارفع فنکاری کا ثبوت دیا ہے۔
ہندومسلم مشتر کہ کلچر کے زوال اور نکسلی آندولن کے مسائل پر مشتمل شوکت حیات کا افسانہ ’’پھسینڈا‘‘ بھی ایک کامیاب افسانہ ہے جو ایک طرف تو یہ دکھاتا ہے کہ عام معصوم انسان جو ہمیشہ امن وسکون کے حامی رہتے ہیں کس طرح دھیرے دھیرے تبدیل ہورہے ہیں؟ حالات کیسے ان کے ذہن وفکر میں آہستہ آہستہ مسموم ہوائیں داخل کررہے ہیں؟ دوسری طرف نکسلی آندولن جو مثبت اور اعلیٰ مقاصد کے ساتھ شروع ہوا تھا کس طرح پراگندگی کا شکار ہو کر احتجاج کے بجائے استحصال کی علامت بن گیا ہے۔ دو مختلف موضوعات کو ایک افسانے میں پیش کرنا آسان نہ تھا مگر شوکت حیات نے انہیں جس فنکاری سے پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ مزید یہ کہ محبت کی ایک کہانی بھی درمیان میں آہستہ روی کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ اس افسانے میں مرکزیت ایک کردار ٹیمپو ڈرائیور کو حاصل ہے جو تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے کے باوجود بے روزگاری کے سبب کرائے کا ٹیمپو (تھری وہیلر) چلانے پر مجبور ہے۔ یہ کردار بظاہر عام سا ہے مگر مضبوط وطاقتور ہونے کے سبب ذہن پر دائمی نقش ثبت کردیتا ہے۔ ایک دن اُسے پٹنہ شہر کے کُرجی موڑ سے گاندھی میدان کے درمیان سفر میں بدرالدین صاحب جیسا تعلیم یافتہ اور شریف آفیسر مل جاتا ہے اور وہ ’’بک بکوا‘‘ ڈرائیور شروع ہوجاتا ہے۔ ایک گھنٹے کے سفر میں وہ بے روزگاری، سیاست، نکسلی آندولن اور محبت جیسے موضوعات پر ایسی دانشورانہ وعالمانہ گفتگو کرتا ہے کہ بدرالدین صاحب حیران رہ جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ انتہائی فن کارانہ انداز میں ایک دوست کی کہانی بیان کرتا جاتا ہے مگر کہانی مکمل ہونے سے قبل ہی منزل آجاتی ہے۔ اور جب بدرالدین صاحب کہانی کا انجام جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے :
’’
ہمیشہ یہی ہوتا ہے جناب..........کہانی مکمل ہونے سے پہلے ہی گاندھی میدان آجاتا ہے اور کہانی درمیان میں ختم کرنی پڑتی ہے......یہی ٹریجڈی ہے اِس کہانی کی........اب تو واپسی کے لئے نمبر لگنا ہے جناب......پھر کبھی۔‘‘
دیکھتے دیکھتے وہ اپنے ٹیمپو کے ساتھ بھیڑ میں تحلیل ہو چکا تھا۔ 
اچانک گاندھی میدان کے آگے دھماکہ ہوا اور لوگ سرپٹ بھاگنے لگے اس نے دونوں ہاتھ جیب میں ڈال لئے۔ انگلیاں جیب میں پڑی سختیوں سے مس ہوئیں۔ چاروں طرف طائرانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے اطمینان کی سانس لی اور ایک جانب روانہ ہوگیا۔ ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ رینگ رہی تھی‘‘ (پھسینڈا)
افسانہ ختم ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ نامکمل کہانی بھی قاری کے ذہن میں تکمیل تک پہنچ جاتی ہے کیوں کہ افسانہ نگار نے اشاروں اشاروں میں اتنا کچھ کہ دیا ہے کہ قاری دیر تک سوچ وفکر میں متبلا رہنے پر مجبور ہے۔ لفظ ’’پھسینڈا‘‘ جو عنوان کے طور پر اُسے حیران کن لگا تھا اور جسے اس نے کسی ڈکشنری میں بھی نہیں پایا تھا کہانی کی قرأت کے بعد جہان معنی پیش کرتا ہے۔ یہ ایک کرداری افسانہ ہے مگر افسانہ نگارنے کردار کو اپنے عقائد واحتساب کا پابند نہیں بنایا۔ وہ کردار کے قاضی بھی نہیں صرف واقعہ نویس ہیں۔ انہوں نے اپنی ہمدردیوں کو تعطل میں ڈال کر قاری کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں جو رائے چاہے قائم کرے۔
فرقہ وارانہ فسادات اور مشترکہ کلچر کے زوال کے علاوہ پرانی تہذیبوں اور قدروں کی شکست وریخت بھی شوکت حیات کو بے چین کرتی ہے۔ صداقت وبصیرت اور روایات واقدار کی تلاش، انسان کے مقدر کی شدید جستجو، موت کی قطعیت اور حیات بعد الموت کی پیچیدگی اور زندگی کی معنویت سے محروم ہو جانے کے احساس کو انہوں نے اپنے کئی افسانوں میں خوب صورتی سے برتا ہے۔ ایسا ہی ایک افسانہ ’’گھونسلا‘‘ ہے جس میں ایک شخص برسوں بعد اپنے شہر لوٹ کر گھپ اندھیری رات میں اپنے گھر کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہ رکشے میں 
۴
سوار ہو کر پورے شہر کا چکر لگا تا ہے اور بار بار رکشے والے کو نئے راستوں سے چلنے کی ہدایت کرتا ہے لیکن ہر بار اسے مایوس ہونا پڑتا ہے۔ رکشے والا جو لوٹ کر آنے والے مسافر شخص کا باپ ہے اور جو خود بھی گھر سے محروم ہو چکا ہے ناکام تگ ودو کے بعد بالآ خراس مطلوبہ ٹھکانے کا انکشاف کرتا ہے جواب صاف اور چٹیل میدان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ رکشے پر سوار شخص اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے بے چین ہے۔ اس تمثیلی کہانی میں شناخت کے آثار سے محروم ہوجانے والا اصل ٹھکانہ (چٹیل میدان) پرانی روایت اور تہذیب کا امین ہے اور اس ٹھکانے سے سفر کرنے والے شخص کا روحانی اور جذباتی تعلق ہے۔ زندگی ایک سفر ہے اس لئے افسانہ بھی سفر سے شروع ہوتا ہے اور تاآخر سفر جاری رہتا ہے۔ وہ شخص بار بار راستے بدلتا ہے لیکن سارے راستے اسے اسی چٹیل میدان تک پہنچاتے ہیں۔ اس نے مندر، مسجد، چرچ اور گردوارے کا راستہ بھی اختیار کیا لیکن یہ بھی اسے وہیں تک پہنچا سکے یعنی مذہب جو روحانی اقدار وافکار کے تحفظ کا وسیلہ ہے وہ بھی مٹتی ہوئی تہذیبوں اور فناپذیر قدروں کو محفوظ نہ رکھ سکا اور نئی تہذیبیں ان پر حاوی ہو گئیں۔ افسانہ اِن سطور پر ختم ہوتا ہے جب روتے ہوئے رکشہ والا سفر کرنے والے شخص سے کہتا ہے۔
’’تم جس علاقے، جس بستی کو ڈھونڈ رہے ہو اسے عرصہ پہلے بلڈوزروں نے چٹیل میدان میں تبدیل کر دیا......میں بھی ہفتوں اسی طرح پورے شہر میں دیوانہ وار پاگلوں کی طرح چکر کاٹتا ہوا بار بار اسی چٹیل میدان تک پہنچا تھا......بلڈوزروں نے سب کچھ اجاڑدیا۔ بھری پری بستی کو ملبے میں تبدیل کیا اور پھر چٹیل میدان بنا دیا......میری دکان، میرا گھر اور تمام اہل وعیال زندہ درگور ہوگئے......بیٹے میں نے تو صبر کر لیا تھا لیکن آج بار بار اس چٹیل میدان کو دیکھ کر پرانے زخم ہرے ہوگئے‘‘ (گھونسلا)
افسانے کی آخری سطروں میں اس تمثیلی افسانے کو واضح کرنے والے چند معنی خیز اشارے موجود ہیں۔ بلڈوزروں (تہذیب نو) کے ذریعہ بستی (پرانی تہذیب) کو مٹا ڈالنا دراصل نظام اقدار کی کشمکش میں نئے نظام کے غلبے اور پرانے اقدار اور پرانی تہذیبوں کی شکست کا المناک منظر نامہ ہے۔ اس منظرنامے کی ترتیب میں دوسرے اجزا بھی معاون ہوتے ہیں مگر سب مل کر ایک ہی مفہوم تک پہنچاتے ہیں اور وہ مفہوم ہے ہماری روایتوں اور قدروں کا زوال......شوکت حیات نے اس افسانے کو بڑے اختصار اور جامعیت کے ساتھ پورا کیا ہے اور تمثیلوں کے وسیلے سے ایسی کہانی تخلیق کی ہے جو بیک وقت خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر چلتی ہے۔
جہاں مقامی سطح پر فرقہ پرستی، دہشت گردی، فرقہ وارانہ فساد اور قدروں کے زوال جیسے مسائل کو شوکت حیات نے اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے وہیں بین الاقوامی مسائل جیسے مغربی ملکوں کے ذریعہ نام نہاد امن عالم، مسلم ممالک میں بیداری کی لہریں، بوسنیا، عراق اور افغانستان کے مسائل اور دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کو بھی شوکت حیات نے اپنی فکر کا حصّہ بنایا ہے۔ ان کا افسانہ ’’فارمولا‘‘ ایک ایسے ہی موضوع پر مبنی ہے جو افغانستان کی جنگ کا پس منظر لئے ہوئے ہے۔ اس افسانے میں شوکت حیات نے بڑی فنکاری سے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح ایک غریب ملک جس کے سینے میں قدرتی دولتیں دفن ہیں اس پر دودہائی سے دنیا کی عظیم طاقتیں اپنے دانت گڑائے ہوئے ہیں۔ افسانہ ان طاقتوں کی سامراجی سازشوں سے پردہ اٹھاتا ہے کہ پہلے اس ملک پر قبضہ کرنے والی ایک سپر پاور کو بے دخل کرنے کے لئے دوسری سپر پاور وہاں کے عوام کو مسلح کرتی ہے اور جب عوام فتح حاصل کر لیتے ہیں تو بے خطر ہو کر دوسری طاقت سازشوں کا جال بن کر اس ملک پر جنگ تھوپ دیتی ہے۔ اس دوران ایک ’’طویل مدتی منصوبہ‘‘ بھی تیار ہوتا ہے اور جب اس کا نفاذ ہوتا ہے درختوں کی پتیاں زرد ہونے لگتی ہیں، جڑیں کھوکھلی ہوجاتی ہیں اور پھل کڑوے ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ملا محمد سالم اپنی تدبیر سے ایک حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔ وہ اپنی تقریر میں عہد حاضر کی مکروہ بین الاقوامی سیاست اور مغرب کے عیسائی ممالک کی سازشوں پر سے پردہ اٹھا کر اپنے ہم وطنوں کو ان سے نبرد آزما ہونے کی حکمت عملی پیش کرتے ہیں۔ افسانے کی اصل خوبی یہ ہے کہ بغیر افسانویت کو مجروح کئے ہوئے مغربی سازشوں اور عصرحاضر کی حقیقتوں کو افسانہ نگار نے نہایت رمزیت اور معنویت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
شوکت حیات کے یہاں موضوعات کا تنوع حیرت انگیز ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے مسائل اور تغیرات کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں، معمولی اور غیر اہم حادثوں کو بھی افسانے کا موضوع بنایا ہے جو بظاہر عام اور غیر اہم ہوتے ہیں مگر ان کے بطن سے انسانی ہمدردی، مساوات، قدروں کی پاسداری کی کرنیں پھوٹتی ہیں اور استحصال، بے بسی، غریبی، بھوک جیسے مسائل اور حالات کا جبر قاری کو فکر وعمل کی دعوت دیتے ہیں۔ شکنجہ، کوبڑ، مسٹر گلیڈ، چیخیں، رحمت صاحب، قرارداد اور کوّا جیسے افسانے اسی زمرے میں آتے ہیں۔
’’شکنجہ‘‘ ایک غریب قلی کی کہانی ہے جو پیٹ کی بھوک کے شکنجے میں پھنس کر بھی اپنی قدروں سے بے نیاز نہیں ہو سکا۔ اور بیٹے کو تعلیم دلانے کی خواہش رکھتے ہوئے لاچار ہے کہ اس سے مزدوری کرائے۔ بچہ بھی باپ سے شفقت ومحبت کے بجائے صرف محنت اور مزدوری کی باتوں کی ہی توقع رکھتا ہے۔ اسی لئے حادثے میں جان بچ جانے کے بعد اسے باپ کا پیار کرنا حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے (لیکن بس تھوڑی دیر کیونکہ فوراً باپ کی نگاہوں میں بھاگتی ہوئی ٹرین، اترتے ہوئے مسافر اور مزدوری کے پیسے آجاتے ہیں)
۵
’’پورا مجمع مسرت سے ہمکنار تھا۔ سب لوگ بیٹے کی جان بچ جانے پر خوش ہورہے تھے۔ باپ نے بیٹے کو دوبارہ گلے لگایا تو اسے گہری طمانیت اور سکون کا احساس ہوا۔ ساری دنیا جیسے اس کے چاروں طرف رقص کررہی تھی۔ باپ نے طرح طرح کے رنگ برنگے چہچہاتے ہوئے پرندے اپنے آس پاس دیکھے۔ اس کے سر اور کاندھوں پر پرندوں نے گیت گانا شروع کردیا۔ باپ ایسی کیفیت سے کبھی نہیں گزرا تھا۔ بیٹا خود متحیر تھا۔ اس کے باپ نے مدت کے بعد اسے اس طرح بھرپور شفقت سے گلے لگا یا تھا۔‘‘ (شکنجہ)
لیکن یہ مسرت تھوڑی ہی دیر قائم رہتی ہے کیونکہ فوراً باپ کی نگاہوں کے سامنے بھاگتی ہوئی ٹرین اترتے ہوئے مسافر اور مزدوری کے پیسے آجاتے ہیں۔
’’اچانک باپ کو کچھ یاد آگیا۔ چل بیٹے......دیر مت کر.......اگلی گاڑی یارڈ سے نکل کر پلیٹ فارم پر لگنے والی ہے، جلدی کر بیٹے......اس بار ٹھیک سے دیکھ کر بوجھ اٹھاؤں گا کوئی ناطے دار نہ ہو‘‘ بیٹے کی آنکھوں کے آگے پھر وہی کثیف دھواں تھا خوشنما پرندے کہیں غائب ہو چکے تھے‘‘
گویا پیٹ کی بھوک کے آگے موت سے بچ جانے کی خوشی بھی اتنی اہم نہیں کہ قلی اپنا کام بھول جائے۔ غربت اور انسانی بے بسی ومجبوری کی کتنی عجیب اثرانگیز تصویر ہے یہ۔
معاشی تنگدستی سے پیداشدہ المیے پر مبنی افسانہ ’’قرارداد‘‘ بھی ہے۔ جس میں دفتر کے ایک ایماندار کلرک ’’احمد بابو‘‘ کی زندگی پیش کی گئی ہے جو بے حد محنتی ایماندار تھے، گھر کی خوشحالی کے لئے دفتر کو وقت بھی زیادہ دیتے تھے مگر ایک زمانے سے انہیں کوئی پروموشن نہیں مل سکی تھی۔ ایک بیٹی شادی کے انتظار میں عمر کی حدیں پار کر چکی تھی۔ بیمار بیوی بستر علالت پر درد سے کراہتی رہتی۔ مگر انہوں نے دفتری ناانصافیوں کے لئے یونین کے بجائے ہمیشہ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کیا تھا۔ ایک دن ایک فائل دیکھتے ہوئے اچانک ان کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ دیر تک فائل کو گھورتے رہے اور پھر انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا اور ہنستے ہنستے چیخ کر منہ کے بل فائل پر گرے اور انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر کمپنی میں ہنگامہ ہوتا ہے اور فائل کو ’’قاتل فائل‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ دراصل وہ فائل منیجینگ ڈائرکٹر کے پاس سے آئی تھی جس میں ڈائرکٹر نے ان کی ترقی کی عرضداشت نہ صرف رد کردی تھی بلکہ کمپلسری رٹائرمنٹ کے تحت زد میں آنے والے ملازمین کی فہرست بھی فوراً طلب کی تھی۔
’’مسٹر گلیڈ‘‘ بھی ایسی ہی کیفیت کا افسانہ ہے جس کا مرکزی کردار ایک عام انسان ہے اور ہر طرح اپنی کوششوں سے سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پیسے کی ریل پیل ہو تو سبھی خوش رہتے ہیں ماں، باپ، بھائی، بہن، بچے وغیرہ۔ مگر حالات مختلف ہوں تو کیسی تصویر سامنے آئے گی؟ ایسی ہی تصویر ’’مسٹر گلیڈ‘‘ ہیں۔ معاشی تنگدستی دوسروں کی نظروں میں ہی نہیں اپنی بیوی بچوں کی نگاہ میں بھی اوچھا بنا ڈالتی ہے۔ ’’مسٹر گلیڈ‘‘ کا کردار اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ وہ اس صورت حال کو ہنستے ہوئے جھیل جاتا ہے اور قاری کو ناخوشگوار حالات میں بھی جینے کا درس دیتا ہے۔
مادیت پرستی کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان، دولت کی ہوس اور رشتوں کے ٹوٹنے بکھرنے کا المیہ ’’اپنا گوشت‘‘ ، ’’رحمت صاحب‘‘ اور ’’کوبڑ‘‘ میں انتہائی تاثر انگیزی کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ ’’رحمت صاحب‘‘ کی زندگی رٹائرمنٹ کے بعد عذاب بن جاتی ہے کیونکہ اکاؤنٹ سے دھیرے دھیرے تمام پیسے نکلوا لینے کے بعد سارے لڑکے اور بہوئیں انہیں بوجھ سمجھنے لگتی ہیں۔ چاروں بیٹوں کے یہاں سال میں تین تین مہینے قیام کا بٹوارا ہونے کے باوجود انہیں وقت پر کوئی لینے نہیں آتا اور جب وہ خود مجبور ہو کر چلے جاتے تو بہوؤں اور بیٹوں کے طعنے سے ان کے دل ودماغ میں عجیب عجیب سے سوال اٹھتے ہیں اور زندگی ایک عذاب محسوس ہونے لگتی ہے۔
’’اپنا گوشت‘‘ میں بھی یہی کیفیت ہے۔ بڑے ابو نے بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ جب تک بھائی بہنوں کی ذمہ داریاں پوری نہیں کرلیں گے اپنی شادی نہیں کریں گے۔ لیکن ذمہ داریوں کو ادا کرتے کرتے خود ان کی زندگی کی شام ڈھلنے لگی تو انہوں نے خود اپنی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ضرورت بھی نہیں تھی کہ گھر بھائی بہنوں اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا تھا۔ مگر جب جائیداد کی تقسیم ہوئی تو چونکہ وہ مجرد تھے انہیں حصّہ دینا بھائی بہنوں نے پسند نہیں کیا اور ایک خاص عمر کے بعد جب بڑے ابو کو بیکار محض، نٹھلا سمجھ کر یہ کہا گیا کہ ’’اس طرح بے کار افراد سے گھر کا ماحول بگڑتا ہے‘‘ بچوں پر برا اثر پڑتا ہے‘‘ تو انہوں نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ گھر چھوڑ دیا اور کسمپرسی کی حالت میں انتقال فرماگئے۔ المیے کی انتہایہ ہے کہ ان کی موت کی خبر سے بھی اہل خاندان پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور بڑے ابو کے چھوٹے بھائی مرغ کی ٹانگ چباتے ہوئے بڑے آرام سے اپنے بیٹے سے کھانے کے لئے اصرار کرتے ہیں۔ مگر ڈائننگ ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ’’میں اپنا گوشت کھارہا ہوں‘‘.....افسانے کا یہ آخری جملہ بے حد اثر انگیز ہے اور قاری پر دیر پانقش قائم کرتا ہے۔
’’کوبڑ‘‘ دوسگے بھائیوں کی کہانی ہے جس میں چھوٹا بھائی کسی طرح امریکہ نکل گیا اور خوش حال ہوگیا۔ اس کے مقابلے میں بڑا بھائی جو گھر پر رہتا ہے، سب کے لئے مخلص ہے مگر غریب ہے۔ اس کا اپنا بھائی پٹروڈالر کما کر گھر آتا ہے تو اس کی آن بان نرالی رہتی ہے۔ ہر شخص اس کے آگے بچھا جاتا ہے یہاں تک کہ غریب بھائی بھی اپنی اوقات 
۶ٍ
سے بڑھ کر محبت نچھاور کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے رخصت کرنے کے لئے بغیر ریزرویشن ٹرین سے دہلی جاتا ہے۔ امیر بھائی ہوائی جہاز سے جا چکا تھا غریب بھائی نے کبھی دہلی کا منہ بھی نہ دیکھا تھا اس لئے چالاکی سے کام لینے کے باوجود لٹ پٹ جاتا ہے۔ امیر بھائی اسے اچھی زندگی، اچھے کھانے اور صحت وغیرہ کی تلقین وتاکید تو کرتا رہتا ہے مگر اس کے تعاون کے لئے ایک لفظ بھی نہیں کہتا۔ اخیر میں جب رخصت ہونے کے لئے غریب بھائی سے بغلگیر ہوتا ہے تو غریب بھائی کی پُشت کا ’’کوبڑ‘‘ اس سے مس کرجاتا ہے اور وہ بجلی کی سرعت سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
’’اچانک چھوٹا بھائی چیخ مار کر الگ ہوگیا 
بھیا، یہ تمہاری پیٹھ پر کیسا ابھار ہے؟......مکر وہ خبیث کے سر جیسا......!‘‘
بڑے بھائی کو کاٹو تو لہو نہیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ بھائی کی اس بات کا کیا جواب دے۔ چھوٹا بھائی خوف ودہشت کا تاثر لے کر دور امریکہ چلا جاتا ہے اور جاتے جاتے اس خبیث سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تلقین کرتا جاتا ہے۔ وہ شروع سے آخر تک ہر مرض، ہر پریشانی سے نجات کی صرف تلقین ہی کرتا رہتا ہے۔ نجات کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہے اسکی طرف اشارہ بھی نہیں کرتا۔ دونوں بھائیوں میں جو دوری ہے وہ معاشی دوری ہے اور اسی نے چھوٹے بھائی کو بے گانہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ’’کوبڑ‘‘ معاشی عدم استحکام اور اقتصادی بوجھ کا استعارہ ہے جسے شوکت حیات نے نہایت فنکاری کے ساتھ افسانے کا حصّہ بنایا ہے۔
متذکرہ افسانوں کے تجزیے سے ایک بات تو ظاہر ہے کہ شوکت حیات کے یہاں موضوعات کی کمی نہیں۔ وہ ارد گرد کی زندگی کامشاہدہ بڑی گہرائی اور باریکی سے کرتے ہیں اور زندگی سے متعلق ہر مسئلے پر غوروفکر کرکے اسے اپنے افسانے کا حصّہ بناتے ہیں۔ یہ افسانے سیدھے سادے واقعہ کی شکل میں نہیں آتے بلکہ ان کی فنی گرفت انہیں بڑی خوبی سے ادبی تخلیق کی شکل دے دیتی ہے اور یہ افسانے اپنی رمزیت، ایمائیت، اشاریت اور تہہ داری کے سبب عام بیانیہ افسانوں سے مختلف اور منفرد ہو جاتے ہیں۔ ان کی زبان، ہیئت، بنت اور اسلوب بیان متاثر کرتے ہیں۔ ہر کہانی اپنے آغاز کا سرا اپنے ساتھ لاتی ہے۔ ایک فطری قصّہ گو کی طرح افسانہ نگار اس رمز سے واقف ہیں کہ نظم ہی کی طرح کہانی کہیں سے بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ آغاز، وسط اور اختتام کی حدبندی، درجہ بندی اور نوعیت کا سوال اس لحاظ سے قطعاً بے معنی ہے۔ منٹو نے جب کہا تھا کہ کہانی کا پہلا جملہ میں لکھتا ہوں بقیہ افسانہ وہ جملہ لکھتا ہے تو اس سے منٹو کی مراد یہی رہی ہو گی کہ لکھنے والے کا اصل مسئلہ کہانی لکھنا ہے، اس کے آغاز کا تعین کرنا نہیں۔ شوکت حیات کے افسانے اسی رویّے سے مربوط ہیں۔ ان کی زبان اور اسلوب بیان میں آورد اور تکلف کا کوئی عنصر شامل نہیں، ہر کہانی اپنی منطق کی تعمیر خود کرتی ہے۔ کہیں اس بات کا شائبہ تک نہیں ہوتا کہ افسانہ نگار کی طرف سے کسی طرح کی مداخلت ہو رہی ہے۔ جتنا فطری کہانی کا آغاز ہوتا ہے اس کا انجام بھی اتنا ہی فطری ہوتا ہے۔ موضوع کی پیچیدگی کے باوجود افسانے اپنے تاثر کی وحدت کو شروع سے آخر تک برقرار رکھتے ہیں، کہانی کا تاروپود کہیں بکھر تا نہیں۔ وہ اپنی بات کم سے کم لفظوں میں کہنے کا جادو جانتے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ نوجوان ناقد ڈاکٹر نسیم احمد نسیم شوکت حیات کے افسانوی اختصاص پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’’
اُن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ مرصع اور پرشکوہ زبان لکھ کر بھی اپنی کہانیوں کو فطری پن سے دور نہیں ہونے دیتے۔ جبکہ اُن کے کئی ہمنوں کے یہاں یہی مرصعے اور پرشکوہ زبان کہانی کا تاثر زائل کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اُن کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ کہانی مکمل کرنے کے مرصلے میں کسی عجلت یا افراتفری کا شکار نہیں ہوتے۔ اُن کے یہاں فن کارانہ ٹھہراؤ ہے جو اُنہیں بہت متانت اور سلیقے کے ساتھ کہانی کے فطری انجام تک لے جاتا ہے۔‘‘
شوکت حیات کا افسانوی سفر ابھی جوش وخروش کے ساتھ جاری ہے۔ یہ ان کی بے نیازی ہے کہ سینکڑوں افسانوں کی اشاعت اور جہان فکشن میں اعتبار قائم ہونے کے بعد بھی قارئین کے شدید اصرارپر انہوں نے صرف ایک افسانوی مجموعے کی اشاعت کو منظوری دی ہے حالانکہ ان کے افسانوں کی تعداد اتنی بڑی ہے کہ بڑی آسانی سے کم از کم تین یا چار افسانوی مجموعے منظرعام پر آسکتے ہیں۔تمام نگارشات سامنے ہوں تو فن کار کی تفہیم اور تجزیے کی صورتیں آسان اور کثیرالجہت ہوجاتی ہیں۔ اب جبکہ ناقدین اور قارئین ان کے افسانوں کی طرف سنجیدگی سے توجہ دے رہے ہیں امید کی جا تی ہے کہ وہ اپنی تمام تخلیقات کی اشاعت کی جانب ضرور توجہ مبذول کریں گے۔ اِس مختصر مضمون میں متفرق رسائل وجرائد اور ان کے واحد مجموعہ ’’گنبد کے کبوتر‘‘ سے افسانے اخذ کر کے شوکت حیات کے افسانوی رویّوں کی جو نامکمل تلخیص کی گئی ہے ظاہر ہے وہ ان کے افسانوی تجربات کی وسعتوں کو بس ایک حد تک ہی سمیٹ سکتی ہے۔ لیکن ان کے مطالعہ کے بعد اتنا تو یقیناً دعوے کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ افسانے ایک مخصوص اور منفرد مزاج کے آئینہ دار ہیں اور افسانوی زبان کی توانائی، اسلوب واظہار کی تہہ داری اور افسانوی تجربات کی نادرہ کاری کو بھرپور طریقے سے ظاہر کرتے ہیں۔
***

 مضامین دیگر 

Comment Form